Explained with ayahs 84–90
اللہ تعالیٰ ہی معبود واحد ہے
اللہ تعالیٰ جل وعلا اپنے وحدانیت، خالقیت، تصرف اور ملکیت کا ثبوت دیتا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ معبود برحق صرف وہی ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے پس اپنے محترم رسول اللہ ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیں تو وہ سات لفظوں میں اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرے گے اور اس میں کسی کو شریک نہیں بتائیں گے۔ آپ انہیں کے جواب کو لے کر انہیں قائل کریں کہ جب خالق، مالک، صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر معبود بھی تنہا وہی کیوں نہ ہو ؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے ؟ واقعہ یہی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو بھی مخلوق الٰہی…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 81
اصل میں لفظ مَلَکُوْت استعمال ہوا ہے جس میں ملک (بادشاہی) اور ملک (مالکیت) ، دونوں مفہوم شامل ہیں، اور اس کے ساتھ یہ انتہائی مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اس تفصیل کے لحاظ سے آیت کے پیش کردہ سوال کا پورا مطلب یہ ہے کہ " ہر چیز پر کامل اقتدار کس کا ہے اور ہر چیز پر پورے پورے مالکانہ اختیارات کس کو حاصل ہیں " ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–92
معارف و مسائل
وَّهُوَ يُجِيْرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ ، یعنی اللہ تعالیٰ جس کو چاہے عذاب اور مصیبت رنج و تکلیف سے پناہ دیدے اور یہ کسی کی مجال نہیں کہ اس کے مقابلہ پر کسی کو پناہ دے کر اس کے عذاب و تکلیف سے بچا لے۔ یہ بات دنیا کے اعتبار سے بھی صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو کوئی نفع پہنچانا چاہے اس کو کوئی روک نہیں سکتا اور جس کو کوئی تکلیف و عذاب دینا چاہے اس سے کوئی بچا نہیں سکتا۔ اور آخرت کے اعتبار سے بھی یہ مضمون صحیح ہے کہ جس کو وہ عذاب میں مبتلا کرے گا اس کو کوئی بچا نہ سکے گا اور جس کو جنت اور راحت دے گا اس کو کوئی روک نہ سکے گا (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
آیت 89-88
مملکوت سے مراد
مملکوت یہاں زمام اختایر و اقتدار کے مفہوم میں ہے۔ یعنی ان سے پوچھو کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی زمام ہے اور اس کی شان یہ ہے کہ وہ تو جس کو چاہے پناہ دے سکتا ہے لیکن کسی دوسرے کی یہ شان نہیں ہے کہ اس کی پکڑ سے کسی کو چھڑا سکے ؟ فرمایا کہ اس کا جواب بھی لامحالہ وہ یہی دیں گے کہ یہ سارے اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ مشرکین عرب جن معبودوں کو پوجتے تھے ان کے متعلق ان کا یہ تصور نہیں تھا کہ وہ ایسا اختیار و اقتدار رکھتے ہیں کہ اپنے زور و اقتدار سے وہ کسی کو خدا کی پکڑ سے بچا سکیں بلکہ وہ فرشتوں کو خدا کی چہیتی بیٹیاں سمجھ کر ان کی پوجا محض اس امید پر کرتے تھے کہ…
Read the full tafseer →88-1یعنی جس کی حفاظت کرنا چاہے اسے اپنی پناہ میں لے لے، کیا اسے کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
88-2یعنی جس کو وہ نقصان پہنچانا چاہے، کیا کائنات میں اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی ہے کہ وہ اسے نقصان سے بچا لے اور اللہ کے مقابلے میں اپنی پناہ میں لے لے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–90
28: کفار عرب مانتے تھے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہے، اس کے باوجود مختلف خداؤں کے بھی قائل تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
قل لمن تسحرون (آیت نمبر 84 تا 89) ’ “۔
ان کے عقائد کے اندر جو اضطراب تھا وہ کسی عقلی دلیل پر مبنی نہ تھا نہ کسی منطق کا تقا ضا تھا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جزیرہ العرب کے اندر مشرکین کے عقائد اور افکار کس قدر بگڑ گئے تھے حالانکہ وہ دین ابراہیم پر ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔
قل لمن تعلمون (23 : 84) ” ان سے کہو ، اگر تم جانتے ہو تو زمین اور اس کی ساری آبادی کس کی ہے ؟ یعنی زمین کا مالک کون ہے اور زمین کے اندر موجود آبادی کا مالک کون ہے ؟
سیقولون للہ (23 : 85) ” یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ مالک ہے “ لیکن اپنے عمل میں وہ اس حقیقت ملحوظ نہیں رکھتے اور پھر بھی بندگی غیر اللہ کی کرتے ہیں ۔ لہذا ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
2 یعنی ہر چیز پر اسی کا اختیار چلتا ہے جس کو چاہے وہ پناہ دے سکتا ہے۔ لیکن کوئی دوسرا اس کے مجرم کو پناہ نہیں دے سکتا۔
3 جس سے مسحور ہو کر تم ہوش و حواس کھو بیٹھتے ہو کہ ایسی موٹی باتیں بھی نہیں سمجھ سکتے جب تمام زمین و آسمان کا مالک وہ ہی ہوا اور ہر چیز اسی کے زیر تصرف و اقتدار ہوئی، تو آخر تمہارے بدن کی ہڈیاں اور ریزے اس کے قبضہ اقتدار سے نکل کر کہاں چلے جائیں گے کہ ان پر وہ قادر مطلق اپنی مشیت نافذ نہ کرسکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
آیت 87 سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰہِ ط قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ ”
تم لوگ اللہ کو اس دنیا ومافیہا کا خالق بھی مانتے ہو اور اسے عرش و فرش کا مالک بھی تسلیم کرتے ہو ‘ لیکن اس کے ساتھ بتوں اور دیوی دیوتاؤں کو اس کا شریک بھی بناتے ہو ! کیا تمہیں یہ جسارت کرتے ہوئے ذرا بھی خوف محسوس نہیں ہوتا ؟
Read the full tafseer →85 اس آیت میں ملکوت کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جس میں ملک، ملک اور ملک تینوں معنی پائے جاتے ہیں۔ نیز یہ مبالغہ کا صیغہ ہے جس کا مطلب ہے ہر چیز پر مکمل حاکمیت یا بادشاہی۔ ہر چیز کی پوری کی پوری ملکیت اور ہر چیز پر پورے کا پورا اختیار و تصرف۔ لہذا وہ جونسی بھی چیز کو چاہے اسے اپنا پناہ میں لے سکتا ہے اور کوئی دوسرا اس کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔ مگر جس چیز کو وہ پکڑے تو اسے نہ کوئی اس سے چھڑ سکتا ہے اور نہ ہی پکڑنے سے پیشتر پناہ دے سکتا ہے۔
اس آیت میں مشرکین مکہ کے اعتراف سے معلوم ہوا کہ ان کا عقیدہ تھا کہ جس کو اللہ پکڑ لے اس کو نہ کوئی پناہ دے سکتا ہے اور نہ چھڑا سکتا ہے۔ مگر یہ معلوم ہوتا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
80۔ (کہ مقدمات توحید تو تمہیں سب تسلیم ہیں اور اس کے قدرتی اور پھر لازمی نتیجہ سے نکلے جاتے ہو ! ) (آیت) ” وھو یجیر “۔ یعنی وہ جسے چاہتا ہے اپنی پناہ میں لے آتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
آیت نمبر 78 تا 92
ترجمہ : وہ ایسی ذات ہے کہ جس نے تمہارے کان بنائے سمع بمعنی اسماع اور آنکھیں اور دل بنائے تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو ما، قلت کی تاکید کے لئے اور وہ ذات ہے کہ جس نے مٹی سے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم جمع کئے جاؤ گے، یعنی مرنے کے بعد زندہ کئے جاؤ گے اور وہ ایسی ذات کہ جو گوشت کے لوتھڑے میں روح پھونک کر تم کو حیات بخشتی ہے اور موت دیتی ہے اور موت دیتی ہے اور سیاہی اور سفیدی زیادتی اور نقصان کے ذریعہ رات اور دن کو بدلنا اسی کے اختیار میں ہے تو کیا تم اللہ تعالیٰ کی صنعت کو سمجھتے نہیں ہو کہ عبرت حاصل کرو، بلکہ یہ بھی ویسی ہی بات کہتے ہیں جو اگلے لوگ کہتے چلے آئے ہیں پہلے لوگوں نے…
Read the full tafseer →قل من بیدہ ملکوت کل شیء آپ ان سے پوچھئے کہ ہر چیز کا اختیار کس کے ہاتھ میں ہے۔
مَلَکُوْتُ کا معنی ہے حکومت ‘ عزت ‘ غلبہ ‘ مَلَکُوْت میں واؤ اور تا مبالغہ کی ہے۔ یعنی انتہائی غلبہ جتنا تصور کیا جاسکتا ہو ‘ اس لئے اس لفظ کا استعمال صرف اللہ کی حکومت و اقتدار کے لئے مخصوص ہے۔ بعض کے نزدیک مَلَکُوْتُ سے مراد ہیں خزانے اور (بےگنتی) ذخیرے۔
وہو یجیر ولا یجار علیہ ان کنتم تعلمون۔ اور وہی (جس کو چاہتا ہے) پناہ دیتا ہے اور اس کے
مقابلہ میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ۔
یُجِیْرُحفاظت کرتا ہے برائی سے بچاتا ہے ‘ جس کو چاہتا ہے پناہ دیتا ہے۔
وَلاَ یُجَارُ عَلَیْہِیعنی جس کو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
(88۔ 89) آپ ان سے یہ بھی فرمائیے اچھا وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں تمام چیزوں کا اختیار ہے اور وہ جو چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی بھی فیصلہ نہیں کرسکتا یہ مطلب ہے کہ وہ جس کو چاہتا ہے اپنے عذاب سے پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی کسی کو اس کے عذاب سے پناہ نہیں دے سکتا، اس بات کا جواب دو اگر تمہیں کچھ خبر ہے۔
البتہ وہ ضرور یہی کہیں گے کہ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں تو آپ ان سے اس وقت کہیے کہ پھر تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں کیوں تکذیب کر رہے ہو، یا یہ کہ آپ دیکھے یہ کیسے جھوٹ کی طرف جا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →قُلْ مَنْۢ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ : ”مُلْکٌ“ اور ”مِلْکٌ“ دونوں کے مفہوم میں مبالغہ پیدا کرنے کے لیے لفظ ”مَلَكُوْتُ“ استعمال کیا گیا ہے، یعنی ایسی کامل ملکیت اور کامل بادشاہی جس میں کوئی نقص نہ ہو۔ ”بِيَدِهٖ“ کو پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”کہہ کون ہے وہ کہ صرف اس کے ہاتھ میں ہر چیز کی مکمل بادشاہی ہے۔“
وَّهُوَ يُجِيْرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ : ”أَجَارَ یُجِیْرُ“ (افعال) پناہ دینا، کسی کو ہر ایک سے بچا کر اپنی حفاظت میں لے لینا۔ ابن کثیر فرماتے ہیں : ”عرب کا دستور تھا کہ ان کا سردار کسی کو پناہ دے دیتا تو اس کی پناہ کی خلاف ورزی نہیں کی جاتی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–89
آیت نمبر 80-89 ۔
اللہ کا ارشاد ہے : وھوا لذی یحیٖ ویمیت ولہ اختلاف الیل والنھار دن اور رات کو اس نے مختلف بنایا جیسے تیرا قول ہے لک الاجر والصلۃ تجھے اجر دیا جائے گا اور صلہ دیا جائے گا۔ یہ فراء کا قول ہے۔ بعض نے کہا : دن رات کے اختلاف سے مراد نور وظلمت میں مختلف ہونا ہے۔ بعض نے کہا : اس سے مراد اس کا تکرار ہے دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن آتا ہے۔ پانچواں احتمال یہ ہے کہ ان میں جو سعادت وشقاوت اور گمراہی وہدایت گزرچکی ہیں اس کا اختلاف مراد ہے۔ افلا تعقلون۔ کیا تم اس کی قدرت، ربوبیت اور وحدانیت کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ اس کی مخلوق سے اس کا شریک ہونا جائز نہیں وہ دوبارہ اٹھانے پر قادر ہے پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
1۔ ابو عبید وابن المنذر نے ہارون (رح) سے روایت کیا ابن ابی کعب ؓ کے مصحف میں آیت ” سیقولون للہ “ ہر جگہ الف کے بغیر ہے۔
2۔ ابو عبید وابن المنذر نے عاصم جحدری (رح) سے روایت کیا کہ عثمان بن عفان ؓ کے مصحف الامام میں جو لوگوں کے لیے لکھا گیا سب جگہ للہ بغیر الف کے ہے۔
3۔ ابن ابی داوٗد فی المصاحف اسید بن زید (رح) سے روایت کیا کہ عثمان بن عفان ؓ کے مصحف میں آیت ” سیقولون للہ “ تینوں جگہوں پر للہ بغیر الف کے ہے۔
4۔ عبد بن حمید نے یحییٰ بن عتیق (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حسن کے مصحف میں تین جگہ للہ بغیر الف کے لکھا ہوا دیکھا۔
5۔ عبد بن حمید نے عاصم سے روایت کیا کہ انہوں نے للہ کو بغیر الف کے…
Read the full tafseer →قُلْ (کہہ دیں) مَنْۢ (جس نے ) بِيَدِهٖ (ہاتھ " اختیار " میں ) مَلَكُوْتُ (بادشاہی ) كُلِّ شَيْءٍ (ہر چیز (کی) ) وَهُوَ (اور وہ) يُجِيْرُ ( وہ پناہ دیتا ہے) وَ (اور) لَا يُجَارُ (نہیں پناہ دی جاسکتی ) عَلَيْهِ (اس پر) اِنْ ( اگر ) كُنْتُمْ (ہو تم) تَعْلَمُوْنَ (تم سب جانتے ہو)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–90
اللہ کی تخلیق کے مظاہرے، منکرین بعث کی تردید
گزشتہ آیات میں منکرین کے کفر اور عناد کا ذکر تھا ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر اور امکان بعث پر دلائل قائم فرمائے ہیں اور مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور صفات جلیلہ کا اقرار کرایا ہے اور انہیں بار بار متوجہ فرمایا ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے اللہ کی توحید کے منکر ہو رہے ہیں۔
اول تو یوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں سننے کی قوت دی ہے آنکھیں عطا فرمائی ہیں تمہارے اندر دل پیدا فرمائے ہیں دیکھو یہ کتنی بڑی بڑی نعمتیں ہیں ان نعمتوں کی وجہ سے تم پر شکر واجب ہوتا ہے لیکن کم شکر ادا کرتے ہو یوں ہی چلتی ہوئی بات کی طرح کہہ دیتے ہو کہ اللہ کا شکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
تذکیر انعامات و ذکر دلائل قدرت برائے اثبات قیامت
قال اللہ تعالیٰ وھو الذی انشالکم السمع والابصار والافئدۃ .... الیٰ .... فتعلیٰ عما یشرکون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کے اسباب جہالت و ضلالت کا بیان تھا اور ان سب کا اصل منشاء حشر و نشر کا انکار تھا کہ یہ لوگ جزاء اور سزا اور قیامت کے قائل نہ تھے۔ اس لئے اب آئندہ آیات میں اپنی نعمتوں کو یاد دلاتے ہیں تاکہ اس کا شکر کریں اور اپنی قدرت کاملہ کے آثار کو ذکر کرتے ہیں تاکہ مردوں کو دوبارہ زندہ کیے جانے میں شک نہ کریں اور قیامت اور جزاء اور سزا پر ایمان لے آئیں کہ جس خدا کی قدرت کے یہ کرشمے ہیں اس کے نزدیک مردوں کا زندہ کرنا کیا بڑی بات ہے اس سلسلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
68:۔ ” قل لمن الارض الخ “ یہ دوسری عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ اس بات کو مانتے ہیں کہ زمین اور زمین میں رہنے والی ساری مخلوق کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ ” قل افلا تذکرون “ تعلموا ان من فطر الارض و من فیھا کان قادرا علی اعادۃ الخلق وکان حقیقا بان لایشرک بہ بعض خلقہ (مدارک ج 3 ص 96) ۔ ” قل من رب السموت الخ “ یہ تیسرے عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ مشرکین یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک بھی اللہ تعالیٰ ہے۔ ” قل افلا تتقون “ ظالمو ! کچھ تو خدا کا خوف کرو جب تم مانتے ہو کہ ساری کائنات کا خالق ومالک وہی ہے اس سے واضح ہوگیا کہ سب کا کارساز بھی وہی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–92
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے مشن کا ذکر کیا کہ انہوں نے کس طرح خدا کا پیغام تک پہنچایا اور ایمان و توحید کی دعوت دی۔ اللہ نے ساتھ ساتھ توحید کے مختلف دلائل بھی بیان فرمائے۔ چونکہ وہ لوگ قیامت کا بھی انکار کرتے تھے ، اس لئے اللہ نے توحید اور قیامت کے اکٹھے دلائل بھی دیے۔ گزشتہ آیات میں بعض ایسے دلائل کا ذکر تھا جو انسانی مشاہدے میں ہر وقت آتے رہتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر انسان کا فرض ہوجاتا ہے کہ وہ اللہ کی نعمتوں کی قدر کرے ، توحید اور قیامت کا انکار نہ کرے۔ اللہ نے مشرکین کے اس نظریہ کو بھی بیان کیا کہ وہ کہتے تھے کہ جب ہم مرکر مٹی میں رل مل جائیں…
Read the full tafseer →قُلْ مَنْۢ بِيَدِہٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّہُوَيُجِيْرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْہِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 88
يد
الْيَدُ : الجارحة، أصله : وقوله : فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] ،
( ی د ی ) الید
کے اصل معنی تو ہاتھ کے ہیں یہ اصل میں یدی ( ناقص یائی ) ہے کیونکہ اس کی جمع اید ویدی اور تثنیہ یدیان
اور آیت کریمہ : ۔ فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دئے ۔
ملك) بادشاه)
المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور
وَالمِلْكُ ضربان :
مِلْك هو التملک والتّولّي، ومِلْك هو القوّة علی ذلك، تولّى أو لم يتولّ. فمن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–92
1 ؎ یعنی یہ سب باتیں جانتے ہیں پھر عقل پر پتھر پڑے ہیں کہ اس کے سوا اور کو پوجتے ‘ حاجت روا جانتے۔ اس کو پکارتے ہیں 12 منہ۔
2 ؎ ملکوت بمعنی الملک والتار للمبالغۃ کما فی رحموت و رہبوت۔ 12 منہ
3 ؎ ھویجیر الخ یقال اجرت فلانا اذا انبعاث بک مخمیۃ واجرت علیہ اذاحمیت عنہ والمعنی یحمی ولایحمی علیہ۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
قُلْ مَنْ م بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْئٍ وَّھُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْہِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْن۔ سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰہِ ط قُلْ فَاَنّٰی تُسْحَرُوْنَ ۔ (المومنون : 88، 89)
(ان سے پوچھئے ! وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار ہے اور وہ (جسے چاہتا ہے) پناہ دیتا ہے لیکن اس کے مقابل میں پناہ نہیں دی جاسکتی، اگر تم جانتے ہو۔ وہ کہیں گے یہ اللہ تعالیٰ ہی کی شان ہے، کہہ دیجیے، پھر تمہاری مت کیوں ماری جاتی ہے۔ )
زمامِ اقتدار کس کے ہاتھ میں ہے
گزشتہ آیات میں مختلف سوالوں کے جواب میں مشرکین نے بار بار اعتراف کیا کہ کائنات میں کوئی ایسی چیز اور کوئی ایسا وجود نہیں جو اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–90
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکوں سے استفسار کا سلسلہ جاری ہے۔
سروردوعالم ﷺ کو پھر حکم ہوا کہ آپ مشرکین سے استفسار فرمائیں کہ کسے ہر چیز پر اختیار اور اقتدار حاصل ہے ؟ جو سب کو پناہ دینے والا ہے اسے کسی کی پناہ کی ضرورت نہیں اگر اس حقیقت کو جانتے ہو تو اس کا جواب دو ؟ وہ ضرور جواب دیں گے کہ ہر چیز پر صرف ایک اللہ کی بادشاہی ہے۔ انہیں فرمائیں کہ اس کے باوجود تم ” اللہ “ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہو کیا تمہیں جادو ہوگیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس عقیدہ توحید کے ٹھوس اور حقیقت پر مبنی دلائل پہنچ چکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود مشرک جھوٹ بولتے ہیں۔ عقیدہ توحید کے اس قدر ٹھوس اور مبنی برحقیقت دلائل ہیں…
Read the full tafseer →88: قُلْ مَنْ بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْئٍ (کہہ دیں کہ کس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے) ملکوت، الملک ایک معنی میں ہیں۔ وائو ؔ اور تاء ؔ مبالغہ کیلئے ہیں جو اس کی بادشاہت کی عظمت پر دلالت کرتے ہیں۔ وَّھُوَ یُجِیْرُ وَلَا یُجَارُ عَلَیْہِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (اور وہی پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کسی کو پناہ نہیں دی جاسکتی۔ اگر تم جانتے ہو تو بتائو) عرب کا محاورہ ہے : اجرت فلا نًا علی فلان۔ جب اس سے بچانے کیلئے تم اس کی فریاد رسی کرو اور اس کا دفاع کرو۔ مطلب یہ ہے وہ جس کی چاہتا ہے فریاد رسی کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے حفاظت کرتا ہے اور کوئی اس کے ضرر سے بچانے کیلئے اس کے خلاف…
Read the full tafseer →88۔ قل من بیدہ ملکوت کل شئی۔ ملکوت کا معنی ہے حکومت، عزت، غلبہ، ملکوت میں واؤ اور تاء مبالغہ کے لیے ہے وھویجیر ، وہ جس کو چاہتا ہے برائی سے بچاتا ہے۔ ولایجار علیہ، اور جس کو اللہ پناہ نہ دے اور اس کو کوئی پناہ نہیں دے سکتا، اللہ جس کو دکھ پہنچانا چاہے تو اس کو دکھ پہنچنے سے کوئی بچا نہیں سکتا، اور کوئی شخص اللہ کو ضرر پہنچانے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ان کنتم تعلمون، اس کا معنی یہ ہے کہ تم اگر جانتے ہو تو پھر جواب دو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–90
82۔ 90:۔ حشر کے منکر جو لوگ اب ہیں یا پچھلے زمانہ کے قصے سنتے آئے ہیں ‘ اسی طرح یہ بھی ایک قصہ ہے کہ ایک دفعہ مر کر پھر جینا ہے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں منکرین حشر سے یہ پوچھا ہے کہ آخر ایک دفعہ تمام جہاں نیست سے ہست جو ہوا ہے یہ کس نے پیدا کیا ہے ‘ نمرود ‘ فرعون ‘ ان لوگوں کی طرح حشر کا انکار اور خدائی دعویٰ کرتے کرتے مرگئے ‘ کیا انہوں نے کچھ پیدا کیا تھا یا ان منکرین حشر کے بتوں نے کچھ پیدا کیا ہے۔ جب مجبوری سے یہ لوگ یہی جواب دیں گے کہ جو کچھ پیدا کیا ہے وہ اللہ ہی نے پیدا کیا ہے تو اسی اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ جس طرح ایک دفعہ سارا جہان نیست سے ہست ہوا ہے ‘ اسی طرح نیک وبد کی جزا وسزا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
آیت نمبر 84
یعنی زندگی بعدالموت اور آخرت کی تکذیب کرنے والوں سے ‘ جو اللہ تعالیٰ کے ہم سر اور شریک ٹھہراتے ہیں ‘ توحید ربوبیت کو جس کا وہ اقرار اور اثبات کرتے ہیں ‘ توحید الوہیت اور توحید عبادت پر دیل بناتے ہوئے ‘ اسی طرح بڑی بڑی مخلوقات کی تخلیق کے اثبات کو ‘ مرنے کے بعد زندگی کے اعادہ پر ‘ جو کہ اس سے آسان تر ہے ‘ برہان ٹھہراتے ہوئے ‘ کہیے ! (لمن الارض ومن فیھا) یعنی زمین ‘ اور زمین کی تمام مخلوقات ‘ حیوانات ‘ نباتات ‘ جمادات ‘ سمندروں ‘ دریاؤں اور پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا ‘ ان کا مالک کون ہے اور کون ان کی تدبیر کرتا ہے ؟
اگر آپ ان سے اس بارے میں سوال کریں تو وہ یہیں جواب دیں گے ” صرف اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–118
قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
105 مشرکوں کے دل و دماغ پر ایک دستک : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پوچھو کہ کون ہے رب ساتوں آسمانوں کا ؟ اور کون ہے رب عرش عظیم کا ؟ تو اس کے جواب میں بھی انہوں نے ضرور یہی کہنا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کے لیے ہے۔ تو ان سے کہو کہ کیا پھر بھی تم لوگ ڈرتے نہیں نو ؟ سو اس ارشاد میں خدا سے ڈرنے اور اس کے عذاب سے بچنے کی دعوت وتحریک ہے۔ بہرکیف اس سے ان کے قلب و ضمیر پر دستک دیتے ہوئے اور ان کو جھنجھوڑتے ہوئے ان سے فرمایا گیا کہ " کیا تم لوگ پھر بھی ڈرتے نہیں ؟ "۔ اپنے اس خالق ومالک کے عذاب اور اس کی گرفت و پکڑ سے کہ اس کی کائنات میں رہتے بستے اور اس کی نعمتوں پر پلتے بڑھتے ہو اور پھر بھی اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–90
کفار کا توحید ربوبیت کا اقرار
تشریح : ” شروع سے لے کر اب تک اور شاید آئندہ بھی تمام کفارو مشرکین کا خیال اور باتیں ایک ہی جیسی ہوتی ہیں یعنی اللہ کے واحد ہونے اور آخرت سے انکار۔ کسی بڑے سے بڑے عالم فاضل مشرک سے یا انتہائی بےعلم جاہل مشرک سے جب یہ سوال کیا جاتا ہے تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ تمہیں رزق کون دیتا ہے ؟ یہ آسمان و زمین کس نے پیدا کیے ہیں تو جواب میں فوراً کہے گا اللہ نے۔ تو اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ” عہد الست “ ہر بندے کے لاشعور میں پکی طرح موجود ہے۔ اور پھر اللہ کا یہ کہنا کہ سب لوگ ایک ہی امت ہیں، یعنی انسان کو پیدا تو حق و صداقت کا علم دے کر ہی کیا گیا ہے۔ بعد میں کئی فرقے ‘ مذہب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
بھلا جس وجود تمہیں ناز ہے اور جس عقل وخرد سے بحث کرتے ہو یہ تم کہاں سے لائے ہو اللہ جل جلالہ ہی تو ہے جس نے تمہارے کان پیدا فرمائے یعنی تمہیں سننے کی قوت بخشی ، دیکھنے کی طاقت دی اور تمہارے سینے میں دل اور اس کے اندر اثرات و کیفیات پیدا کرنے کا جذبہ سمو دیا ، یہ اس کے کتنے بڑے بڑے احسانات تھے مگر اے انسانو تم میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جو اس کا شکر ادا کرتے ہوں یا اے بنی آدم تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو لیکن یہ یاد رکھو اسی ذات کریم نے تمہیں زمین پہ آباد کر رکھا ہے اپنی زندگی کو دیکھو تمہارے ہر لمحے پہ اس کی قدرت کاملہ کی گرفت تمہیں پتہ دیتی ہے کہ تمہیں واپس اس کی…
Read the full tafseer →2 ۔ یعنی کون ہر چیز پر کامل اقتدار رکھتا ہے۔ ” ملکوت “ کے لفظی معنی ملک (بادشاہی) کے ہیں ” و ء ت “ کا اضافہ مبالغہ کے لئے ہے۔ (شوکانی) 3 ۔ یعنی ہر ایک کو بچا سکتا اور پناہ دے سکتا ہے۔
Read the full tafseer →(23:88) یجیر۔ مضارع واحد مذکر غائب اجارۃ مصدر (باب افعال) ۔ جور مادہ۔ وہ پناہ دیتا ہے۔
لا یجار علیہ۔ مضارع مجہول منفی اجارۃ سے۔ اس کے خلاف پناہ نہیں دی جاسکتی۔ استجارۃ پناہ طلب کرنا۔ پناہ چاہنا۔
الجار۔ پڑوسی۔ ہمسایہ۔ جو پڑوس میں رہے ہمسایہ کہلاتا ہے یہ اسمائے متضائفہ سے ہے۔ یعنی ان الفاظ سے ہے جو ایک دوسرے کے تقابل سے اپنے معنی دیتے ہیں ۔ جیسا کہ اخ۔ صدیق۔ کہ اخوت و صداقت دونوں جانب سے ہوتی ہے کیونکہ کسی کا پڑوسی ہونا اسی وقت متصور ہوسکتا ہے جب دوسرا بھی اس کا پڑوسی ہو۔
چونکہ شرعا وعقلا ہمسائے کا حق بہت بڑا ہوتا ہے اس رعائت سے اس کو بمعنی حامی و مددگار بھی لیا جاتا ہے۔ مثلاً وانی جار لکم (8:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
لغات القرآن : آیت نمبر 78 تا 92 :
ذرأ(اس نے پیدا کیا۔ اس نے پھیلادیا) ‘ اساطیر (اسطورۃ) قصے کھانیا ‘ یجیر (پناہ دیتا ہے) ‘ السبع (سات) ‘ تسحرون ( تم جادو میں پھنس گئے) ما اتخذ (نہیں بنایا) ‘ لذھب (البتہ جاتا ( البتہ لے جاتا) ‘ لعلا ( البتہ چڑھ دوڑتا) ‘ یصفون (وہ بیان کرتے ہیں) ‘ الغیب ( بن دیکھی حقیقتیں۔ چھپی باتیں) ‘ الشھادۃ ( موجود۔ کھلی باتیں) ‘ تعلی ( وہ بلندو برتر) ۔
تشریح : آیت نمبر 78 تا 92 :
اگر انسان اللہ کی ان نعمتوں کو شمار کرنا چاہے جو اس پر اللہ نے کی ہیں تو شاید ان کو شمارنہ کرسکے ان بیشمار صالحیتوں میں سے انسان کو فکر و تدبر کے ساھ سننے ‘ دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتوں سے نوازا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–90
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ منکرین حشر نے کہا، کہ جب ہم مرجائیں گے اور خاک اور بوسیدہ ہڈیاں رہ جاویں گی تو کیا ہم پھر دوبارہ زندہ کیے جاویں گے۔ اے محمد ایسی باتوں کا وعدہ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے پہلے ہوتا چلا ایا ہے تو یہ صرف اگلے لوگوں کے قصہ ہیں وہ بھی ہمیشہ ایسی ہی بےاصل باتیں کرتے تھے تو اے محبوب ﷺ ان سے پوچھو کہ زمین اور اس کے عجائبات مخلوقات کس کی ہیں اگر عقل ہو تو بتلاؤ، تمہاری بات کے جواب میں بےاختیار ہوکر یہی کہیں گے کہ یہ سب اللہ کی ہے اسی نے بنایا اور پیدا کیا تو تم فرماؤ جب تمہارے نزدیک اللہ ان سب باتوں پر قادر ہے ارجس نے زمین اور تمام مخلوقات کو ایسی حالت میں پیدا کیا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
[36] یعنی کیوں یہ بات نہیں سمجھتے کہ جس کا قبضہ ساری زمین اور اس کی مخلوقات پر ہے اس کے سوا بندگی کا کوئی اور مستحق نہیں اور اس کے لئے زمین کی اس آبادی کو دوبارہ پیدا کرنا کچھ بھی مشکل نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–90
(ف 1) غرض یہ ہے کہ گو دل و دماغ شرک اور بت پرستی کے غبار سے اٹ جائے مگر توحید کے نقوش ان میں ضرور موجود رہتے ہیں ، کیونکہ توحید فطرت ہے توحید دل کی آواز ہے ، اور توحید انسانیت ہے چناچہ ارشاد ہے کہ اگر ان بت پرستوں سے آپ پوچھیں گے کہ اس زمین اور اس پر بسنے والے لوگوں کا مالک کون ہے ؟ سات آسمانوں اور عرش عظیم کا پروردگار کون ہے ؟ ہر چیز پر کس کی حکمرانی ہے ؟ اور کس کے ہاتھ میں ہر وقت تمام اختیارات ہیں کہ وہ جس کو چاہے پناہ دے اور جس کو چاہے محروم رکھے ، تو وہ بےاختیار پکار اٹھیں گے کہ اللہ ہی ان صفات سے متصف ہے ، قرآن پوچھتا ہے کہ اگر یہ جواب تمہاری نظروں میں صحیح ہے ، تو پھر تم کیوں غور وفکر…
Read the full tafseer →(88) اے پیغمبر ! آپ ان سے یہ بھی پوچھئے کہ اگر تم کو کچھ خبر ہے اور تم جانتے ہو تو یہ بتائو کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں اور جس کے قبضہ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے اور وہ ہر ایک کو پناہ دے سکتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔ یعنی وہ کون ہے جس کے قبضہ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے وہ ہر ایک کے مجرم کو پناہ دے سکتا ہے اور اس کی فریاد رسی کرسکتا ہے لیکن اس کے مجرم کو اس کے ہاتھ سے نہ کوئی بچا سکتا ہے نہ کوئی پناہ دے سکتا ہے نہ فریاد رس بن سکتا ہے اور نہ کوئی مدد کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
ف 2۔ کہ اس کی قدرت اور آیات بعث کا انکار کرتے ہو۔
Read the full tafseer →اچھا ! بتاؤ کہ زمام اقتدار واختیار کس کے قبضہ میں ہے ؟ :
88۔ (ملکوت) کا تعلق ملک سے بھی ہے اور ملک سے بھی ‘ پہلے معنوں میں مراد بادشاہی ہوگی اور دوسرے معنوں میں مالکیت اور دونوں مطلب اس سے مراد لئے جاسکتے ہیں اور پھر یہ بھی کہ یہ صیغہ مبالغہ کا ہے اس لئے گویا ان سے پوچھنے کا حکم ہوا کہ بتاؤ ” ہرچیز پر کامل اور مکمل اختیارات کس کو حاصل ہیں اور کون ہے جو ان سب کا حقیقی مالک ہے اور اقتدار کا اصل مالک کون ہے ؟ “ (آیت) ” وھو یجیر ولا یجار علیہ “۔ ” اور کون ہے وہ جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی دوسرا پناہ نہیں دے سکتا ؟ یعنی کون ہے جو اس کے پکڑے ہوؤں کو چھڑا سکے ؟ ہاں ! ہاں ! اگر تم جانتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
Commentary
وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ (And who gives protection and no protection can be given against him - 23:88) The meaning of the verse is that Allah alone can deliver a person from pain and suffering as He wills, but there is none who can save a person from divine punishment. This is true of this world because nobody can stop Allah from rewarding virtuous people nor can anyone protect someone whom He chooses to punish. And the same is true of the Hereafter also. (Qurtubi)
Read the full tafseer →81. The word malakut in the text is a strong word which combines both sovereignty and ownership. The verse therefore means: Whose is the Sovereignty and Who possesses the real ownership rights over everything?
Read the full tafseer →