Al-Muminoon 23:87

Al-Muminoon · from ayah 87

23:87

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ ؕ— قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ ۟سَيَقُوۡلُوۡنَ لِلّٰهِ‌ؕ قُلۡ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ‏

بےساختہ کہہ دیں گے کہ یہ (چیزیں) خدا ہی کی ہیں، کہو کہ پھر تم ڈرتے کیوں نہیں؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

They will say, "[They belong] to Allah." Say, "Then will you not fear Him?"

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:87

یہ ضرور کہیں گے اللہ کہو، پھر تم ڈرتے کیوں نہیں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بےساختہ کہہ دیں گے کہ یہ (چیزیں) خدا ہی کی ہیں، کہو کہ پھر تم ڈرتے کیوں نہیں؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه لوگ جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ کہہ دیجیئے کہ پھر تم کیوں نہیں ڈرتے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ ضرور یہی کہیں گے کہ : یہ سب کچھ اللہ کا ہے۔ کہو کہ : کیا پھر بھی تم اللہ سے نہیں ڈرتے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اب کہیں گے یہ اللہ ہی کی شان ہے، تم فرماؤ پھر کیوں نہیں ڈرتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ فوراً کہیں گے: یہ (سب کچھ) اللہ کا ہے (تو) آپ فرمائیں: پھر تم ڈرتے کیوں نہیں ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ضرور کہیں گے اللہ ہی کے لیے ہے۔ کہہ دے پھر کیا تم ڈرتے نہیں ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ فوراً کہہ دیں گے کہ یہ (سب کچھ) اللہ ہی کا ہے۔ آپ کہئے پھر تم اللہ سے ڈرتے کیوں نہیں ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہیں گے یہ سب اللہ کے ہیں۔ کہو تو کیا تم اس اللہ سے ڈرتے نہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو اس کے جواب میں بھی انہوں نے ضرور یہی کہنا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کے لیے ہے، کہو کہ کیا پھر بھی تم لوگ ڈرتے نہیں ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

تو ضرور وہ یہی جواب دیں گے کہ (یہ سب) اللہ کا ہے آپ کہیے کہ پھر تم کیوں نہیں ڈرتے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کہیں گے کہ (یہ سب کچھ بھی) اللہ ہی کا ہے ! آپ ﷺ کہیے تو کیا تم (اس اللہ سے) ڈرتے نہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

فوراً کہہ دیں گے یہ سب چیزیں اللہ ہی کی ہیں۔ کہو کہ پھر تم ڈرتے کیوں نہیں ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

They will surely say: "Allah." Say: "Will you not, then, fear (Allah)?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They will say, :(All this belongs) to Allah . Say, :Would you still not fear Allah?

— Muhammad Taqi Usmani

They will say, :(All this belongs) to Allah . Say, :Would you still not fear Allah?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They will say: "Allah." Say: "Will you not then have Taqwa"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They will say: Unto Allah (all that belongeth). Say: Will ye not then keep duty (unto Him)?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They will say, "[They belong] to Allah." Say, "Then will you not fear Him?"

— Saheeh International

They will quickly say, "It is God." Say, "Will you not then have fear of Him?"

— Muhammad Sarwar

They will say: (This is) Allah's. Say: Will you not then guard (against evil)?

— Muhammad Habib Shakir

They will surely say: God. Say thou: will ye not then fear?

— Abdul Majid Daryabadi

They will say, "(They belong) to Allah." Say: "Will ye not then be filled with awe?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:87

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 84–90

اللہ تعالیٰ ہی معبود واحد ہے اللہ تعالیٰ جل وعلا اپنے وحدانیت، خالقیت، تصرف اور ملکیت کا ثبوت دیتا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ معبود برحق صرف وہی ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے پس اپنے محترم رسول اللہ ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیں تو وہ سات لفظوں میں اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرے گے اور اس میں کسی کو شریک نہیں بتائیں گے۔ آپ انہیں کے جواب کو لے کر انہیں قائل کریں کہ جب خالق، مالک، صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر معبود بھی تنہا وہی کیوں نہ ہو ؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے ؟ واقعہ یہی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو بھی مخلوق الٰہی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِنُوْن 79 اصل میں لفظ للہ استعمال ہوا ہے، یعنی " یہ سب چیزیں بھی للہ کی ہیں "۔ ہم نے ترجمے میں محض اردو زبان کے حسن کلام کی خاطر وہ اسلوب اختیار کیا ہے۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 80 یعنی، پھر کیوں تمہیں اس سے بغاوت کرتے اور اس کے سوا دوسروں کی بندگی کرتے ہوئے ڈر نہیں لگتا ؟ اور کیوں تم کو یہ خوف لاحق نہیں ہوتا کہ آسمان و زمین کے فرمانروا نے اگر کبھی ہم سے حساب لیا تو ہم کیا جواب دیں گے ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 78–87

خلاصہ تفسیر اور وہ (اللہ) ایسا (قادر اور منعم) ہے جس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (کہ آرام بھی برتو اور دین کا بھی ادراک کرو لیکن) تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو (کیونکہ اصلی شکر یہ تھا کہ اس منعم کے پسندیدہ دین کو قبول کرتے اور دوبارہ قیامت میں زندہ کرنے کا انکار نہ کرتے) اور وہ ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلا رکھا ہے اور تم سب (قیامت میں) اسی کے پاس لائے جاؤ گے (اس وقت اس کفران نعمت کی حقیقت معلوم ہوگی) اور وہ ایسا ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کے اختیار میں ہے رات اور دن کا گھٹنا بڑھنا سو کیا تم (اتنی بات) نہیں سمجھتے (کہ یہ دلائل قدرت توحید اور قیامت میں دوسری زندگی،…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 86–87

آیت 87-86 فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ ساتوں آسمان اور عرش عظیم کا خداوند کون ہے ؟ اوپر کا سوال زمین اور اہل زمین سے متعلق تھا، یہ سوال ساتوں آسمان اور عرش عظیم سے متعلق ہے۔ عرش عظیم، اللہ تعالیٰ کے ہمہ گیر اقتدار مطلق کی تعبیر ہے۔ اہل عرب جس طرح زمین کو خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے اسی طرح ساتوں آسمان اور عرش عظیم کا مالک بھی اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے۔ وہ دنیا کی دوسری مشرک قوموں کی طرح آسمانوں اور زمین کے الگ دیوتائوں کے قائل نہیں تھے۔ فرمایا کہ وہ تمہارے اس سوال کا جواب بھی یہی دیں گے کہ یہ ساری چیزیں اللہ ہی کی اور اسی کے قبضہ و تصرف میں ہیں۔ چونکہ من رب السموت السبع کے سوال کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

87-1یعنی جب تمہیں تسلیم ہے کہ زمین کا اور اس میں موجود تمام اشیا کا خالق بھی ایک اللہ ہے آسمان اور عرش عظیم کا مالک بھی وہی ہے، تو پھر تمہیں یہ تسلیم کرنے میں تامل کیوں ہے کہ عبادت کے لائق بھی صرف وہی ایک اللہ ہے، پھر تم اس کی واحدانیت کو تسلیم کر کے اس کے عذاب سے بچنے کا اہتمام کیوں نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 85–90

28: کفار عرب مانتے تھے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہے، اس کے باوجود مختلف خداؤں کے بھی قائل تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 84–89

قل لمن تسحرون (آیت نمبر 84 تا 89) ’ “۔ ان کے عقائد کے اندر جو اضطراب تھا وہ کسی عقلی دلیل پر مبنی نہ تھا نہ کسی منطق کا تقا ضا تھا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جزیرہ العرب کے اندر مشرکین کے عقائد اور افکار کس قدر بگڑ گئے تھے حالانکہ وہ دین ابراہیم پر ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔ قل لمن تعلمون (23 : 84) ” ان سے کہو ، اگر تم جانتے ہو تو زمین اور اس کی ساری آبادی کس کی ہے ؟ یعنی زمین کا مالک کون ہے اور زمین کے اندر موجود آبادی کا مالک کون ہے ؟ سیقولون للہ (23 : 85) ” یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ مالک ہے “ لیکن اپنے عمل میں وہ اس حقیقت ملحوظ نہیں رکھتے اور پھر بھی بندگی غیر اللہ کی کرتے ہیں ۔ لہذا ان سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 86–87

1 کہ اتنا بڑا شہنشاہ مطلق تمہاری ان گستاخیوں اور نافرمانیوں پر تم کو دھر گھسیٹے۔ کیا یہ انتہائی گستاخی نہیں کہ اس شہنشاہ مطلق کو ایک ذرہ بےمقدار سے عاجز قرار دینے لگے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 87–88

آیت 87 سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰہِ ط قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ ” تم لوگ اللہ کو اس دنیا ومافیہا کا خالق بھی مانتے ہو اور اسے عرش و فرش کا مالک بھی تسلیم کرتے ہو ‘ لیکن اس کے ساتھ بتوں اور دیوی دیوتاؤں کو اس کا شریک بھی بناتے ہو ! کیا تمہیں یہ جسارت کرتے ہوئے ذرا بھی خوف محسوس نہیں ہوتا ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

84 پہلی آیت میں صرف زمین اور اس میں موجودات کی ملکیت کے متعلق سوال تھا۔ اس آیت میں پوری کائنات کی ملکیت کا سوال ہے۔ کفار مکہ کو یہ بھی اعتراف تھا کہ اس پوری کائنات کا مالک و مختار صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کے معبودوں کے اس کائنات میں تصرف کے اختیار کہاں سے آگئے ؟ انھیں اس بات سے ڈر نہیں لگتا کہ اللہ کے تصرف و اختیار میں ایسی چیزوں کو شریک بنا رہے ہیں۔ جو دوسروں کے تو کیا، اپنے بھی نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ ایسے صریح ظلم اور اس کے انجام سے انھیں ڈر نہیں لگتا ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 86–87

79۔ (اور اس کی قدرت کامل اور توحید کا انکار کیے جاتے ہو ! ) جاہلی مذہبوں میں ایک بڑی جہالت یہ پھیلی رہی ہے کہ توحید کے اجمالی اقرار واعتراف کے بعد بھی مقتضیات توحید ومطالبات توحید پر ذرا سا بھی غور و توجہ کیے بغیر شرک بھی ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 78–92

آیت نمبر 78 تا 92 ترجمہ : وہ ایسی ذات ہے کہ جس نے تمہارے کان بنائے سمع بمعنی اسماع اور آنکھیں اور دل بنائے تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو ما، قلت کی تاکید کے لئے اور وہ ذات ہے کہ جس نے مٹی سے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم جمع کئے جاؤ گے، یعنی مرنے کے بعد زندہ کئے جاؤ گے اور وہ ایسی ذات کہ جو گوشت کے لوتھڑے میں روح پھونک کر تم کو حیات بخشتی ہے اور موت دیتی ہے اور موت دیتی ہے اور سیاہی اور سفیدی زیادتی اور نقصان کے ذریعہ رات اور دن کو بدلنا اسی کے اختیار میں ہے تو کیا تم اللہ تعالیٰ کی صنعت کو سمجھتے نہیں ہو کہ عبرت حاصل کرو، بلکہ یہ بھی ویسی ہی بات کہتے ہیں جو اگلے لوگ کہتے چلے آئے ہیں پہلے لوگوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

سیقولون للہ قل افلا تتقون۔ وہ ضرور جواب میں کہیں گے کہ (یہ سب کچھ) اللہ کا ہے آپ کہئے تو پھر تم (اس سے) کیوں نہیں ڈرتے۔ یعنی جب تم اقرار کرتے ہو کہ آسمانوں اور عرش عظیم کا خالق اللہ ہی ہے اور کوئی نہیں تو پھر تم اس کے عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے کیوں دوسروں کو اس کا ساجھی قرار دیتے ہو اور وہ چیزیں جو اس کے دائرۂ قدرت میں داخل ہیں کیوں ان کو قدرت سے خارج سمجھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(87) اس کا بھی وہ یہی جواب دیں گے کہ ان سب کا خالق ومالک اللہ ہے تو آپ ان سے فرما دیجیے کہ پھر تم غیر اللہ کی پرستش سے کیوں نہیں ڈرتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 86–87

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ۔۔ : زمین کے بعد ان سے عالم بالا کے متعلق سوال کرنے کا حکم دیا، کیونکہ آسمان زمین سے کہیں بڑا ہے، پھر ہر آسمان نیچے والے سے بڑا ہے اور ان سے اوپر عرش ان سب کو محیط ہے، جسے رب تعالیٰ نے عظیم (بہت بڑی عظمت والا) فرمایا ہے اور جو زمین و آسمان اور ان میں موجود ہر چیز سے پہلے موجود تھا۔ فرمایا : ”پوچھو، ان کا رب کون ہے ؟“ فرمایا : ”وہ جواب میں کہیں گے، یہ سب کچھ اللہ کی ملکیت ہے۔“ فرمایا : ”تو پھر تم ڈرتے نہیں ؟“ پہلے فرمایا تھا : (اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ) (پھر کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے ؟) اب اس سے سخت الفاظ میں فرمایا : (اَفَلَا تَتَّقُوْنَ) (تو پھر کیا تم…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 80–89

آیت نمبر 80-89 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : وھوا لذی یحیٖ ویمیت ولہ اختلاف الیل والنھار دن اور رات کو اس نے مختلف بنایا جیسے تیرا قول ہے لک الاجر والصلۃ تجھے اجر دیا جائے گا اور صلہ دیا جائے گا۔ یہ فراء کا قول ہے۔ بعض نے کہا : دن رات کے اختلاف سے مراد نور وظلمت میں مختلف ہونا ہے۔ بعض نے کہا : اس سے مراد اس کا تکرار ہے دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن آتا ہے۔ پانچواں احتمال یہ ہے کہ ان میں جو سعادت وشقاوت اور گمراہی وہدایت گزرچکی ہیں اس کا اختلاف مراد ہے۔ افلا تعقلون۔ کیا تم اس کی قدرت، ربوبیت اور وحدانیت کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ اس کی مخلوق سے اس کا شریک ہونا جائز نہیں وہ دوبارہ اٹھانے پر قادر ہے پھر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 84–95

1۔ ابو عبید وابن المنذر نے ہارون (رح) سے روایت کیا ابن ابی کعب ؓ کے مصحف میں آیت ” سیقولون للہ “ ہر جگہ الف کے بغیر ہے۔ 2۔ ابو عبید وابن المنذر نے عاصم جحدری (رح) سے روایت کیا کہ عثمان بن عفان ؓ کے مصحف الامام میں جو لوگوں کے لیے لکھا گیا سب جگہ للہ بغیر الف کے ہے۔ 3۔ ابن ابی داوٗد فی المصاحف اسید بن زید (رح) سے روایت کیا کہ عثمان بن عفان ؓ کے مصحف میں آیت ” سیقولون للہ “ تینوں جگہوں پر للہ بغیر الف کے ہے۔ 4۔ عبد بن حمید نے یحییٰ بن عتیق (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حسن کے مصحف میں تین جگہ للہ بغیر الف کے لکھا ہوا دیکھا۔ 5۔ عبد بن حمید نے عاصم سے روایت کیا کہ انہوں نے للہ کو بغیر الف کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

سَيَقُوْلُوْنَ (ضرور وہ سب کہیں گے ) لِلّٰهِ (اللہ کے لیے) قُلْ (آپ کہہ دیں) اَفَلَا (تو کیا نہیں) تَتَّقُوْنَ (تم سب ڈرتے )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 78–90

اللہ کی تخلیق کے مظاہرے، منکرین بعث کی تردید گزشتہ آیات میں منکرین کے کفر اور عناد کا ذکر تھا ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر اور امکان بعث پر دلائل قائم فرمائے ہیں اور مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور صفات جلیلہ کا اقرار کرایا ہے اور انہیں بار بار متوجہ فرمایا ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے اللہ کی توحید کے منکر ہو رہے ہیں۔ اول تو یوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں سننے کی قوت دی ہے آنکھیں عطا فرمائی ہیں تمہارے اندر دل پیدا فرمائے ہیں دیکھو یہ کتنی بڑی بڑی نعمتیں ہیں ان نعمتوں کی وجہ سے تم پر شکر واجب ہوتا ہے لیکن کم شکر ادا کرتے ہو یوں ہی چلتی ہوئی بات کی طرح کہہ دیتے ہو کہ اللہ کا شکر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 78–92

تذکیر انعامات و ذکر دلائل قدرت برائے اثبات قیامت قال اللہ تعالیٰ وھو الذی انشالکم السمع والابصار والافئدۃ .... الیٰ .... فتعلیٰ عما یشرکون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں کفار کے اسباب جہالت و ضلالت کا بیان تھا اور ان سب کا اصل منشاء حشر و نشر کا انکار تھا کہ یہ لوگ جزاء اور سزا اور قیامت کے قائل نہ تھے۔ اس لئے اب آئندہ آیات میں اپنی نعمتوں کو یاد دلاتے ہیں تاکہ اس کا شکر کریں اور اپنی قدرت کاملہ کے آثار کو ذکر کرتے ہیں تاکہ مردوں کو دوبارہ زندہ کیے جانے میں شک نہ کریں اور قیامت اور جزاء اور سزا پر ایمان لے آئیں کہ جس خدا کی قدرت کے یہ کرشمے ہیں اس کے نزدیک مردوں کا زندہ کرنا کیا بڑی بات ہے اس سلسلہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 84–89

68:۔ ” قل لمن الارض الخ “ یہ دوسری عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ اس بات کو مانتے ہیں کہ زمین اور زمین میں رہنے والی ساری مخلوق کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ ” قل افلا تذکرون “ تعلموا ان من فطر الارض و من فیھا کان قادرا علی اعادۃ الخلق وکان حقیقا بان لایشرک بہ بعض خلقہ (مدارک ج 3 ص 96) ۔ ” قل من رب السموت الخ “ یہ تیسرے عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ مشرکین یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک بھی اللہ تعالیٰ ہے۔ ” قل افلا تتقون “ ظالمو ! کچھ تو خدا کا خوف کرو جب تم مانتے ہو کہ ساری کائنات کا خالق ومالک وہی ہے اس سے واضح ہوگیا کہ سب کا کارساز بھی وہی ہے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 84–92

ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے مشن کا ذکر کیا کہ انہوں نے کس طرح خدا کا پیغام تک پہنچایا اور ایمان و توحید کی دعوت دی۔ اللہ نے ساتھ ساتھ توحید کے مختلف دلائل بھی بیان فرمائے۔ چونکہ وہ لوگ قیامت کا بھی انکار کرتے تھے ، اس لئے اللہ نے توحید اور قیامت کے اکٹھے دلائل بھی دیے۔ گزشتہ آیات میں بعض ایسے دلائل کا ذکر تھا جو انسانی مشاہدے میں ہر وقت آتے رہتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر انسان کا فرض ہوجاتا ہے کہ وہ اللہ کی نعمتوں کی قدر کرے ، توحید اور قیامت کا انکار نہ کرے۔ اللہ نے مشرکین کے اس نظریہ کو بھی بیان کیا کہ وہ کہتے تھے کہ جب ہم مرکر مٹی میں رل مل جائیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

سَيَقُوْلُوْنَ لِلہِ۝ 0ۭ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۝ 87 وقی الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ( و ق ی ) وقی ( ض ) وقایتہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] تو خدا ان کو بچا لیگا ۔ التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 84–87

ترکیب : :۔ للہ قراۃ جمہور میں لام سے ہے اور یہ متن الارض کا جواب ہے اور اخیر دونوں سوالوں کے جواب میں اللہ واقع ہے اور للہ بھی۔ بغیر لام میں لفظ کی رعایت ہے اور لام میں معنی کی لان المعنی فی قولہ رب السموات من السموات، ملکوت میں ت مبالغہ کے لیے بمعنی ملک اذا جواب ہے شرط محذوف کا تقدیرہ لوکان معہ آلھۃ۔ تفسیر : :۔ مسئلہ حشر اور رسالت کو تمام کر کے پھر مسئلہ توحید شروع ہوتا ہے اور مشرکین کے مسلمات سے ہی ان پر الزام قائم کیا جاتا ہے فقال قل لمن الارض اے نبی ! ان سے پوچھو کہ زمین اور اس کے رہنے والے کس کے ہیں وہ یہی کہیں گے کہ اللہ کے۔ کس لیے کہ وہ اللہ کے قائل تھے تب کہو کہ تم پھر کیوں نہیں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 86–87

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ۔ سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰہِ ط قُلْ اَفَـلَا تَتَّـقُوْنَ ۔ (المومنون : 86 تا 87) (ان سے پوچھئے ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے ؟ وہ کہیں گے یہ سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، تو آپ کہئے تم اس سے کیوں نہیں ڈرتے۔ ) قریش کے تضادفکر کی مزید وضاحت سابقہ آیت کریمہ میں سوال زمین اور اہل زمین کے بارے میں تھا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں سوال کا تعلق ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم سے ہے۔ زمین اگرچہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ متعدد کُرُّوں میں سے سب سے چھوٹا کرہ بیان کی جاتی ہے، لیکن اس پر بسنے والی مخلوق چونکہ اشرف المخلوقات ہے اور اسی زمین…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 84–87

فہم القرآن ربط کلام : زمینی اور عقلی حقائق سے قیامت قائم ہونے کا ثبوت۔ اے پیغمبر ﷺ ! جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں ان سے استفسار فرمائیں کہ جس زمین پر تم رہ رہے ہو اور جو کچھ اس میں ہے وہ کس کی تخلیق اور ملکیت ہے اس کا یہی جواب دیں گے کہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب کچھ اللہ تعالیٰ کا ہے۔ اب فرمائیں کیا پھر تم حقیقت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ؟ ان سے پھر استفسار فرمائیں کہ سات آسمانوں اور عرش عظیم کا رب کون ہے ؟ ان کا جواب یہی ہوگا کہ سب کا سب اللہ ہی کا ہے۔ آپ فرمائیں پھر تم اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے سے کیوں نہیں ڈرتے۔ یہاں اہل مکہ کا عقیدہ بتلایا جا رہا ہے کہ اہل مکہ اس بات کے قائل تھے کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 86–87

86، 87: قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ۔ : سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰہِ قُلْ اَفَلاَ تَتَّقُوْنَ ۔ (آپ ان سے یہ کہیں کہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا رب کون ہے۔ وہ عنقریب کہیں گے اللہ تعالیٰ آپ فرما دیں پھر تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے) پھر تم اس سے کیوں نہیں ڈرتے کیونکر دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو۔ یا تم اس کی قدرت دوبارہ اٹھائے جانے کے سلسلہ میں کیوں نہیں مانتے حالانکہ تم ان تمام اشیاء کی تخلیق کے قائل ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

87۔ سیقولون للہ۔ عام قراء نے للہ پڑھا ہے اور اہل بصرہ نے اسکو اللہ پڑھا ہے۔ اس طرح اہل بصرہ اور دوسرے تمام مصاحف میں الف کے ساتھ لکھا ہے ، قل افلاتتقون، اور تم ڈرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 82–90

82۔ 90:۔ حشر کے منکر جو لوگ اب ہیں یا پچھلے زمانہ کے قصے سنتے آئے ہیں ‘ اسی طرح یہ بھی ایک قصہ ہے کہ ایک دفعہ مر کر پھر جینا ہے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں منکرین حشر سے یہ پوچھا ہے کہ آخر ایک دفعہ تمام جہاں نیست سے ہست جو ہوا ہے یہ کس نے پیدا کیا ہے ‘ نمرود ‘ فرعون ‘ ان لوگوں کی طرح حشر کا انکار اور خدائی دعویٰ کرتے کرتے مرگئے ‘ کیا انہوں نے کچھ پیدا کیا تھا یا ان منکرین حشر کے بتوں نے کچھ پیدا کیا ہے۔ جب مجبوری سے یہ لوگ یہی جواب دیں گے کہ جو کچھ پیدا کیا ہے وہ اللہ ہی نے پیدا کیا ہے تو اسی اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ جس طرح ایک دفعہ سارا جہان نیست سے ہست ہوا ہے ‘ اسی طرح نیک وبد کی جزا وسزا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 84–89

آیت نمبر 84 یعنی زندگی بعدالموت اور آخرت کی تکذیب کرنے والوں سے ‘ جو اللہ تعالیٰ کے ہم سر اور شریک ٹھہراتے ہیں ‘ توحید ربوبیت کو جس کا وہ اقرار اور اثبات کرتے ہیں ‘ توحید الوہیت اور توحید عبادت پر دیل بناتے ہوئے ‘ اسی طرح بڑی بڑی مخلوقات کی تخلیق کے اثبات کو ‘ مرنے کے بعد زندگی کے اعادہ پر ‘ جو کہ اس سے آسان تر ہے ‘ برہان ٹھہراتے ہوئے ‘ کہیے ! (لمن الارض ومن فیھا) یعنی زمین ‘ اور زمین کی تمام مخلوقات ‘ حیوانات ‘ نباتات ‘ جمادات ‘ سمندروں ‘ دریاؤں اور پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا ‘ ان کا مالک کون ہے اور کون ان کی تدبیر کرتا ہے ؟ اگر آپ ان سے اس بارے میں سوال کریں تو وہ یہیں جواب دیں گے ” صرف اللہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 67–118

قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 87–88

105 مشرکوں کے دل و دماغ پر ایک دستک : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پوچھو کہ کون ہے رب ساتوں آسمانوں کا ؟ اور کون ہے رب عرش عظیم کا ؟ تو اس کے جواب میں بھی انہوں نے ضرور یہی کہنا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کے لیے ہے۔ تو ان سے کہو کہ کیا پھر بھی تم لوگ ڈرتے نہیں نو ؟ سو اس ارشاد میں خدا سے ڈرنے اور اس کے عذاب سے بچنے کی دعوت وتحریک ہے۔ بہرکیف اس سے ان کے قلب و ضمیر پر دستک دیتے ہوئے اور ان کو جھنجھوڑتے ہوئے ان سے فرمایا گیا کہ " کیا تم لوگ پھر بھی ڈرتے نہیں ؟ "۔ اپنے اس خالق ومالک کے عذاب اور اس کی گرفت و پکڑ سے کہ اس کی کائنات میں رہتے بستے اور اس کی نعمتوں پر پلتے بڑھتے ہو اور پھر بھی اس کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 84–90

کفار کا توحید ربوبیت کا اقرار تشریح : ” شروع سے لے کر اب تک اور شاید آئندہ بھی تمام کفارو مشرکین کا خیال اور باتیں ایک ہی جیسی ہوتی ہیں یعنی اللہ کے واحد ہونے اور آخرت سے انکار۔ کسی بڑے سے بڑے عالم فاضل مشرک سے یا انتہائی بےعلم جاہل مشرک سے جب یہ سوال کیا جاتا ہے تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ تمہیں رزق کون دیتا ہے ؟ یہ آسمان و زمین کس نے پیدا کیے ہیں تو جواب میں فوراً کہے گا اللہ نے۔ تو اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ” عہد الست “ ہر بندے کے لاشعور میں پکی طرح موجود ہے۔ اور پھر اللہ کا یہ کہنا کہ سب لوگ ایک ہی امت ہیں، یعنی انسان کو پیدا تو حق و صداقت کا علم دے کر ہی کیا گیا ہے۔ بعد میں کئی فرقے ‘ مذہب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 78–92

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف بھلا جس وجود تمہیں ناز ہے اور جس عقل وخرد سے بحث کرتے ہو یہ تم کہاں سے لائے ہو اللہ جل جلالہ ہی تو ہے جس نے تمہارے کان پیدا فرمائے یعنی تمہیں سننے کی قوت بخشی ، دیکھنے کی طاقت دی اور تمہارے سینے میں دل اور اس کے اندر اثرات و کیفیات پیدا کرنے کا جذبہ سمو دیا ، یہ اس کے کتنے بڑے بڑے احسانات تھے مگر اے انسانو تم میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جو اس کا شکر ادا کرتے ہوں یا اے بنی آدم تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو لیکن یہ یاد رکھو اسی ذات کریم نے تمہیں زمین پہ آباد کر رکھا ہے اپنی زندگی کو دیکھو تمہارے ہر لمحے پہ اس کی قدرت کاملہ کی گرفت تمہیں پتہ دیتی ہے کہ تمہیں واپس اس کی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 86–87

1 ۔ اور اسے چھوڑ کر دوسروں کی بندگی کرتے ہو اور اس کے لئے ایسی چیزیں قرار دیتے ہو جنہیں اپنے لئے برا سمجھتے ہو۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 82–87

(23:82) لمبعوثون۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ قبروں سے اٹھائے جانے والے۔ دوبارہ زندہ کئے جانے والے۔ مرنے کے بعد اٹھا کر کھڑا کئے جانے والے۔ ان۔ نافیہ ہے۔ اساطیر۔ کہانیاں۔ من گھڑت لکھی ہوئی باتیں۔ وہ جھوٹی خبر جس کے متعلق یہ اعتقاد ہو کہ وہ جھوٹ گھڑ کر لکھ دی گئی ہے۔ سطور کہلاتی ہے۔ اساطیر الاولین۔ پہلے لوگون کی من گھڑت کہانیاں۔ (23:75) افلا تذکرون۔ پھر کیوں تم غور نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 78–92

لغات القرآن : آیت نمبر 78 تا 92 : ذرأ(اس نے پیدا کیا۔ اس نے پھیلادیا) ‘ اساطیر (اسطورۃ) قصے کھانیا ‘ یجیر (پناہ دیتا ہے) ‘ السبع (سات) ‘ تسحرون ( تم جادو میں پھنس گئے) ما اتخذ (نہیں بنایا) ‘ لذھب (البتہ جاتا ( البتہ لے جاتا) ‘ لعلا ( البتہ چڑھ دوڑتا) ‘ یصفون (وہ بیان کرتے ہیں) ‘ الغیب ( بن دیکھی حقیقتیں۔ چھپی باتیں) ‘ الشھادۃ ( موجود۔ کھلی باتیں) ‘ تعلی ( وہ بلندو برتر) ۔ تشریح : آیت نمبر 78 تا 92 : اگر انسان اللہ کی ان نعمتوں کو شمار کرنا چاہے جو اس پر اللہ نے کی ہیں تو شاید ان کو شمارنہ کرسکے ان بیشمار صالحیتوں میں سے انسان کو فکر و تدبر کے ساھ سننے ‘ دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتوں سے نوازا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 82–90

(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ منکرین حشر نے کہا، کہ جب ہم مرجائیں گے اور خاک اور بوسیدہ ہڈیاں رہ جاویں گی تو کیا ہم پھر دوبارہ زندہ کیے جاویں گے۔ اے محمد ایسی باتوں کا وعدہ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے پہلے ہوتا چلا ایا ہے تو یہ صرف اگلے لوگوں کے قصہ ہیں وہ بھی ہمیشہ ایسی ہی بےاصل باتیں کرتے تھے تو اے محبوب ﷺ ان سے پوچھو کہ زمین اور اس کے عجائبات مخلوقات کس کی ہیں اگر عقل ہو تو بتلاؤ، تمہاری بات کے جواب میں بےاختیار ہوکر یہی کہیں گے کہ یہ سب اللہ کی ہے اسی نے بنایا اور پیدا کیا تو تم فرماؤ جب تمہارے نزدیک اللہ ان سب باتوں پر قادر ہے ارجس نے زمین اور تمام مخلوقات کو ایسی حالت میں پیدا کیا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 85–88

[36] یعنی کیوں یہ بات نہیں سمجھتے کہ جس کا قبضہ ساری زمین اور اس کی مخلوقات پر ہے اس کے سوا بندگی کا کوئی اور مستحق نہیں اور اس کے لئے زمین کی اس آبادی کو دوبارہ پیدا کرنا کچھ بھی مشکل نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 80–87

(ف 2) خدا کی ذات اس درجہ ظاہر و باہر ہے کہ اس کا انکار عقلا محال ہے چناچہ ارشاد ہے کہ اس نے تمہیں زمین میں خلعت وجود دے کر بھیجا ، تمہیں کتم عدم سے نکالا ، اور منصہ شہود پر جلوہ گر کیا ، تم خارج میں کوئی حیثیت نہ رکھتے تھے ، اس نے اپنی نیابت کا پیراہن تمہیں بخشا ، کیا اس کے بعد بھی انکار والحاد کے لئے کوئی گنجائش باقی رہ جاتی ہے ؟ اس کے بعد تمہیں اس کے حضور ﷺ پیش ہونا ہے ، تاکہ وہ دریافت کرے ، کہ تم نے کیونکر اپنے فرائض منصبی کو ادا کیا حیات اور موت بھی اس کے اختیار میں ہے وہ جسے چاہے زندہ رکھے ، اور جس کو چاہے چشم زدن میں موت کے گھاٹ اتار دے ، اسی طرح کائنات میں جس قدر تبدیلیاں اور انقلابات…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(87) وہ ضرور یہی جواب دیں گے کہ اس سب کا مالک اللہ ہی ہے آپ فرمائیے پھر تم اس سے ڈرتے کیوں نہیں یعنی جواب میں حق تعالیٰ کے سوا کسی اور کا نام نہیں بتاسکتے تو اللہ ہی کا نام لیتے۔ ارشاد ہوا پھر اس سے ڈرتے کیوں نہیں اور اس کے فرمان بعث پر ایمان کیوں نہیں لاتے اور دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کیوں کرتے ہو۔ پہلے تذکرون فرمایا پھر تتقون فرمایا معلوم ہوا تذکرہ موصل الی التقویٰ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ پکار پکار کے کہیں گے کہ ان سب کا مالک ومختار تو اللہ ہی ہے : 87۔ ایک ہی بات کو بار بار مختلف رنگوں میں بیان کیا جارہا ہے تاکہ جاہلوں کے دماغ میں کسی نہ کسی طرح یہ بات داخل ہو سکے لیکن یہاں تو یہ بات علماء قوم کے دماغوں میں نہیں آتی عوام تو پہلے ہی کالانعام ہوتے ہیں ۔ بہرحال کسی کے ذہن و دماغ میں آئے یا نہ آئے کہنے والوں کا کام ہے کہ وہ حق بات کو کہتے رہیں منوانا ان کے ذمہ وحصہ کی بات نہیں ہے ۔ بہرحال ان کے منہ سے جو بات نکلتی ہے وہ یہی ہے کہ ان سب کا رب اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں فرمایا پھر آپ ﷺ بھی ان سے کہہ دیجئے کہ ” تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ ڈرتے نہیں ؟ “ کہ ہم کہتے کچھ ہیں اور کرتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 76–87

وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُم بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَ‌بِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّ‌عُونَ And We have already seized them with punishment, but they did not turn humble to their Lord, nor do they supplicate in humility. (23:76) In the preceding verse it has been stated that when the unbelievers are subjected to chastisement for their sins, they plead to Allah and the Holy Prophet ﷺ for mercy and when Allah who is Merciful relieves their suffering, they return to their evil practices and wicked deeds. This verse relates a similar instance when the unbelievers were punished for their misdeeds.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

79. See (E.N. 78 of this Surah). 80. That is, why are you not afraid of rebelling against Him and worshiping others besides Him? Why do you not dread that one day you shall have to give an account of all your deeds to the All-Powerful Sovereign of the universe?

Read the full tafseer →