Explained with ayahs 76–83
جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے
فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَلَوْلَآ اِذْ جَاۗءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 43) 6۔ الانعام :43) ہمارا عذاب دیکھ کر یہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے ؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہوگئے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
سورة الْمُؤْمِنُوْن 77
خیال رہے کہ انکا آخرت کو مستبعد سمجھنا صرف آخرت ہی کا انکار نہ تھا، خدا کی قدرت اور حکمت کا بھی انکار تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–87
خلاصہ تفسیر
اور وہ (اللہ) ایسا (قادر اور منعم) ہے جس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (کہ آرام بھی برتو اور دین کا بھی ادراک کرو لیکن) تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو (کیونکہ اصلی شکر یہ تھا کہ اس منعم کے پسندیدہ دین کو قبول کرتے اور دوبارہ قیامت میں زندہ کرنے کا انکار نہ کرتے) اور وہ ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلا رکھا ہے اور تم سب (قیامت میں) اسی کے پاس لائے جاؤ گے (اس وقت اس کفران نعمت کی حقیقت معلوم ہوگی) اور وہ ایسا ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کے اختیار میں ہے رات اور دن کا گھٹنا بڑھنا سو کیا تم (اتنی بات) نہیں سمجھتے (کہ یہ دلائل قدرت توحید اور قیامت میں دوسری زندگی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
آیت 83-81
وہی پرانا جواب
یعنی یہ ساری باتیں اپنی جگہ پر واضح اور ثابت ہیں لیکن یہ انکے دلوں میں کسی طرح نہیں اتر رہی ہیں۔ انہوں نے یہ سب کچھ سن کے وہی بات کہی جو ان کے اگلے ہم مشریوں نے کہی۔ انہوں نے کہا بھلا جب ہم مر کے مٹی اور ہڈی بن جائیں گے تو کیا دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ! یہ ان ہونی بات ہے ! یہی ڈراوا ہمیں سنایا جا رہا ہے اور اس سے پہلے یہی ڈراوا ہمارے اگلوں کو بھی سنایا گیا لیکن قیامت کو نہ آنا تھا نہ آئی نہ آئے گی۔ یہ سب پرانے فسانے ہیں جو بار بار دہرائے جا رہے ہیں۔ ہم ان دھمکیوں میں آنے والے نہیں ہیں !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
83-1یہ سب لکھی ہوئی حکایتیں، کہانیاں۔ یعنی دوبارہ جی اٹھنے کا وعدہ کب سے ہوتا چلا آ رہا ہے، ہمارے آباؤ اجداد سے، لیکن ابھی تک روبہ عمل نہیں ہوا، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ کہانیاں ہیں جو پہلے لوگوں نے اپنی کتابوں میں لکھ دی ہیں جو نقل در نقل ہوتی چلی آرہی ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
27: یہاں سے اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے مختلف مظاہر بیان فرما رہے ہیں جنہیں کفار مکہ بھی مانتے تھے۔ مقصد یہ ہے کہ جو ذات اتنے عظیم اور حیرت انگیز کام کرنے پر قادر ہے، وہ انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیوں نہیں کرسکتی ؟
Read the full tafseer →لقد الا ولین (23 : 83) ” ہم نے یہ بھی وعدے بہت سنے ہیں اور ہم سے پلے باپ دادا بھی سنتے رہے ہیں ۔ یہ محض افسانہ ہائے پارینہ ہیں ــ“۔ لیکن بعث بعد الموت کے لیے تو ایک وقت مقرر ہے۔ یہ اللہ نے اپنی تدبیر اور اپنی حکمت سے مقرر کیا ہے۔ اس میں کوئی تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی۔ یہ گھڑی وقت سے قبل نہیں آسکتی الا یہ کہ اللہ چاہے ، اگر چہ تمام مخلوق اس کا مطالبہ کردے یا غافلین کا کائی گروہ اس نظریہ سے مذاق ہی کرتا رہے۔
مشرکین عرب کے عقائد میں بڑا ہی اضطراب تھا۔ وہ اللہ کے وجود کا انکار نہ کرتے تھے۔ وہ اس بات کا انکار بھی نہ کرتے تھے کہ اللہ مالک سماوات والارض ہے۔ وہ مدبر سماوات ہے اور زمین اور آسمانوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
7 یعنی عقل و فہم کی بات کچھ نہیں محض پرانے لوگوں کی اندھی تقلید کیے چلے جا رہے ہیں، وہ ہی دقیانوسی شکوک پیش کرتے ہیں جو ان کے پیشرو کیا کرتے تھے۔ یعنی مٹی میں مل کر اور ریزہ ریزہ ہو کر ہم کیسے زندہ کیے جائیں گے ؟ ایسی دورازعقل باتیں جو ہم کو سنائی جا رہی ہیں پہلے ہمارے باپ دادوں سے بھی کہی گئی تھیں۔ لیکن ہم نے تو آج تک خاک کے ذروں اور ہڈیوں کے ریزوں کو آدمی بنتے نہ دیکھا۔ ہو نہ ہو یہ سب قصے کہانیاں ہیں جو پہلے لوگ گھڑ گئے تھے۔ اور اب ان ہی کی نقل کی جا رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–83
آیت 76 وَلَقَدْ اَخَذْنٰہُمْ بالْعَذَابِ ”
اس سے مراد شاید قحط اور خشک سالی کا وہ عذاب ہے جس میں اہل مکہ کئی سال تک مبتلا رہے اور جس کی وجہ سے ہر شخص کو جان کے لالے پڑگئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–84
82 کفار مکہ سے جب بدوی لوگ پوچھتے کہ تم میں جو نبی پیدا ہوا ہے اس کی تعلیم کیا ہے ؟ تو وہ کہہ دیتے کہ اس میں کوئی نئی بات تو ہے نہیں وہی پرانے لوگوں کی داستانیں اور قصے کہانیاں ہیں۔ جو ہم پہلے بھی سنتے آئے ہیں۔ اور یہ بات وہ اس لئے کہتے تھے کہ انبیاء کی بنیادی اور اصولی تعلیم ایک ہی جیسی رہی ہے۔ ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ خود بھی تو اپنے پیغمبر کو وہی بات کہہ رہے ہیں جو ان کے آباء و اجداد انبیاء کی مخالفت میں کہتے چلے آئے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا پھر ہمیں زندہ کرکے اٹھایا جائے گا ؟ یہ خود بھی تو وہی پرانی گھسی پٹی بات دہرا رہے ہیں۔ دلیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
77۔ جزاوسزا، حشر ونشر سے انکار کوئی بیسویں صدی کی نئی روشن خیالی نہیں یہ قدیم گمراہی تو اتنی بوڑھی ہے کہ خود ابلیس کی ہم سن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
آیت نمبر 78 تا 92
ترجمہ : وہ ایسی ذات ہے کہ جس نے تمہارے کان بنائے سمع بمعنی اسماع اور آنکھیں اور دل بنائے تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو ما، قلت کی تاکید کے لئے اور وہ ذات ہے کہ جس نے مٹی سے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم جمع کئے جاؤ گے، یعنی مرنے کے بعد زندہ کئے جاؤ گے اور وہ ایسی ذات کہ جو گوشت کے لوتھڑے میں روح پھونک کر تم کو حیات بخشتی ہے اور موت دیتی ہے اور موت دیتی ہے اور سیاہی اور سفیدی زیادتی اور نقصان کے ذریعہ رات اور دن کو بدلنا اسی کے اختیار میں ہے تو کیا تم اللہ تعالیٰ کی صنعت کو سمجھتے نہیں ہو کہ عبرت حاصل کرو، بلکہ یہ بھی ویسی ہی بات کہتے ہیں جو اگلے لوگ کہتے چلے آئے ہیں پہلے لوگوں نے…
Read the full tafseer →لقد وعدنا نحن وابآونا ہذا من قبل ان ہذا الا اساطیر الاولین۔ اس کا تو ہم سے اور ہم سے
پہلے ہمارے بڑوں سے وعدہ ہوتا چلا آیا ہے یہ کچھ نہیں محض بےسند باتیں ہیں جو اگلوں سے منقول ہوتی چلی آئی ہیں۔
یعنی مرنے کے بعد جی اٹھنے کا وعدہ تو ہمارے بڑوں سے وہ لوگ کرتے ہی چلے آئے ہیں جنہوں نے اللہ کے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ ہٰذَا یعنی مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا۔ اس کا وعدہ تمام مدعیان نبوت کرتے چلے آئے ہیں۔
مِنْ قَبْلُاب سے پہلے۔ لیکن اتنی طویل مدت گزرنے کے بعد بھی اب تک وہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔
اِنْ ہٰذَانہیں ہے یہ وعدۂ قیامت۔
اِلاَّ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَمگر اگلے لوگوں کی جھوٹی بنائی باتیں۔ سطر…
Read the full tafseer →(83) اے محمد ﷺ آپ جس کا ہم سے وعدہ کر رہے ہیں اس کا اس سے پہلے ہمارے بڑوں سے بھی وعدہ ہوتا چلا آیا ہے آپ جو بیان کرتے ہیں یہ کچھ بھی نہیں محض بےسند اگلوں کی منقول شدہ باتیں ہیں۔
Read the full tafseer →لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَاٰبَاۗؤُنَا ھٰذَا۔۔ :”اَسَاطِيْرُ“ ”أُسْطُوْرَۃٌ“ کی جمع ہے، دل لگی کے لیے لکھے جانے والے قصے کہانیاں اور افسانے۔ ”أُفْعُوْلَۃٌ“ کا وزن عموماً دل لگی کا مفہوم ادا کرنے والے الفاظ کے لیے آتا ہے، جیسے : ”أُضْحُوْکَۃٌ، أُرْجُوْحَۃٌ، أُعْجُوْبَۃٌ، أُحْدُوْثَۃٌ، أُغْلُوْطَۃٌ“ وغیرہ۔
3 پچھلی آیت میں ان کے قیامت کے انکار کی ایک وجہ بیان ہوئی ہے، یہ دوسری وجہ ہے کہ دوبارہ زندہ ہو کر پیش ہونے کا دعویٰ اس پیغمبر کی طرح پہلے انبیاء کی طرف سے بھی ہوتا چلا آ رہا ہے، مگر سیکڑوں ہزاروں برس گزرنے کے باوجود پورا نہیں ہوا، کوئی مرنے کے بعد واپس نہیں آیا، معلوم ہوا یہ سب قصے کہانیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–89
آیت نمبر 80-89 ۔
اللہ کا ارشاد ہے : وھوا لذی یحیٖ ویمیت ولہ اختلاف الیل والنھار دن اور رات کو اس نے مختلف بنایا جیسے تیرا قول ہے لک الاجر والصلۃ تجھے اجر دیا جائے گا اور صلہ دیا جائے گا۔ یہ فراء کا قول ہے۔ بعض نے کہا : دن رات کے اختلاف سے مراد نور وظلمت میں مختلف ہونا ہے۔ بعض نے کہا : اس سے مراد اس کا تکرار ہے دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن آتا ہے۔ پانچواں احتمال یہ ہے کہ ان میں جو سعادت وشقاوت اور گمراہی وہدایت گزرچکی ہیں اس کا اختلاف مراد ہے۔ افلا تعقلون۔ کیا تم اس کی قدرت، ربوبیت اور وحدانیت کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ اس کی مخلوق سے اس کا شریک ہونا جائز نہیں وہ دوبارہ اٹھانے پر قادر ہے پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–83
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے والنسائی والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابو سفیان نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا اے محمد ﷺ میں تجھ کو اللہ کی اور رحم کی قسم دیتا ہوں کہ ہم نے یعنی بالوں کو خون کے ساتھ کھایا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ” ولقد اخذناہم بالعذاب فما استکانوا لربہم وما یتضرعون “ نازل فرمائی۔
2۔ ابن جریر وابو نعیم فی المعرفۃ والبیہقی فی الدلائل نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ثمامہ اثال حنفی جب نبی ﷺ کے پاس لایا گیا تو وہ مسلمان ہوگیا جبکہ وہ قیدی تھا رسول اللہ ﷺ نے اس کا راستہ چھوڑدیا (یعنی اس کو آزاد کردیا گیا) وہ یمامہ چلا گیا اور…
Read the full tafseer →لَقَدْ (البتہ تحقیق) وُعِدْنَا (وعدہ دیے گئے ہم ) نَحْنُ (ہم) وَ (اور) اٰبَاۗؤُنَا ( ہمارے باپ دادا) ھٰذَا (یہ) مِنْ قَبْلُ (اس سے قبل) اِنْ ( اگر ) ھٰذَآ (اس کے ) اِلَّآ (مگر) اَسَاطِيْرُ (" یہ " افسانے ہیں ) الْاَوَّلِيْنَ (پہلے لوگوں کے )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–90
اللہ کی تخلیق کے مظاہرے، منکرین بعث کی تردید
گزشتہ آیات میں منکرین کے کفر اور عناد کا ذکر تھا ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر اور امکان بعث پر دلائل قائم فرمائے ہیں اور مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور صفات جلیلہ کا اقرار کرایا ہے اور انہیں بار بار متوجہ فرمایا ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے اللہ کی توحید کے منکر ہو رہے ہیں۔
اول تو یوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں سننے کی قوت دی ہے آنکھیں عطا فرمائی ہیں تمہارے اندر دل پیدا فرمائے ہیں دیکھو یہ کتنی بڑی بڑی نعمتیں ہیں ان نعمتوں کی وجہ سے تم پر شکر واجب ہوتا ہے لیکن کم شکر ادا کرتے ہو یوں ہی چلتی ہوئی بات کی طرح کہہ دیتے ہو کہ اللہ کا شکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
تذکیر انعامات و ذکر دلائل قدرت برائے اثبات قیامت
قال اللہ تعالیٰ وھو الذی انشالکم السمع والابصار والافئدۃ .... الیٰ .... فتعلیٰ عما یشرکون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کے اسباب جہالت و ضلالت کا بیان تھا اور ان سب کا اصل منشاء حشر و نشر کا انکار تھا کہ یہ لوگ جزاء اور سزا اور قیامت کے قائل نہ تھے۔ اس لئے اب آئندہ آیات میں اپنی نعمتوں کو یاد دلاتے ہیں تاکہ اس کا شکر کریں اور اپنی قدرت کاملہ کے آثار کو ذکر کرتے ہیں تاکہ مردوں کو دوبارہ زندہ کیے جانے میں شک نہ کریں اور قیامت اور جزاء اور سزا پر ایمان لے آئیں کہ جس خدا کی قدرت کے یہ کرشمے ہیں اس کے نزدیک مردوں کا زندہ کرنا کیا بڑی بات ہے اس سلسلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
67:۔ ” بل قالواء اذا متنا الخ “ کہتے ہیں ہم جب مر کر مٹی میں مل جائیں گے تو پھر دوبارہ کس طرح زندہ کردئیے جائیں گے۔ ” لقد وعدنا نحن الخ “ یہ بات صرف ہم ہی سے نہیں کہی جا رہی بلکہ ہمارے باپ دادا سے بھی یہی کہا گیا تھا کہ تم مرنے کے بعد قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے یہ تو سراسر باطل اور جھوٹ ہے جو پہلے لوگ سنتے سناتے چلے آرہے ہیں مشرکین کے اس قول کے بطلان پر اللہ تعالیٰ نے تین عقلی دلیلیں ذکر فرمائی ہیں اور ان میں ایسے حقائق کا ذکر کیا ہے جنہیں مشرکین بھی تسلیم کرتے ہیں ان تینوں دلیلوں سے جہاں شرک اعتقادی کی نفی ہوتی ہے وہاں اس سے حشر و نشر کا بھی ثبوت ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–83
ربط آیات :
اللہ نے نافرمانی کرنے والے لوگوں کا حال بیان کیا اور ان کی سرکشی کا ذکر کیا۔ انہوں نے اللہ کے عطا کردہ انعامات کی ناقدری کی۔ ان کو اللہ کی طرف سے مہلت ملتی رہی مگر وہ کفر وشرک پر ہی اصرار کرتے رہے۔ اللہ نے ان کو تنبیہ بھی کی ، مگر وہ برائیوں سے باز نہ آئے ، پھر اللہ نے ان پر عذاب کا ایک مستقل دروازہ کھول دیا۔ یعنی مسلمانوں کو کفار کے خلاف جہاد کرنے کا حکم دے دیا۔ ابتداء میں تو کفر واسلام کا بڑا مقابلہ ہوا لیکن آہستہ آہستہ کفار مغلوب ہوتے چلے گئے اور پھر آخر یہ بڑے بڑے سرداران کفر مارے گئے اور باقیوں نے اسلام قبول کرلیا ، اس طرح کفار مایوس ہو کر بیٹھ گئے۔
توحید اور معاد کا ذکر :
اب…
Read the full tafseer →لَقَدْ وُ عِدْنَا نَحْنُ وَاٰبَاۗؤُنَا ھٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ ھٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ 83
وعد
الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ
[ القصص/ 61] ،
( وع د ) الوعد
( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–83
ولقد اخذنہم بالعذاب الخ ہم نے ان کو اول ایک عذاب میں گرفتار کیا تو اس وقت بھی ما استکانوا لربہم اپنے رب کی طرف نہ جھکے۔ استکان استفعل من الکون ای انتقل من کون الی کون۔ ویجوزان یکون انقل من السکون کبیر اور نہ جھکنے والے تھے۔ حتی اذا فتحنا علیہم یہاں تک کہ اس مصیبت کا دروازہ کھولا تو بھی نہ جھکے بلکہ رب کی رحمت سے ناامید ہوگئے حالانکہ اللہ وہ منعم حقیقی ہے کہ جس نے تم کو کان اور آنکھیں اور دل عطا کئے پھر اس سے ناامیدی کرنا کیسی بری بات ہے۔ اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس نے سننے کو کان ‘ دیکھنے کو آنکھ ‘ سمجھنے کو دل عطا کئے پھر خود دلائلِ الٰہی میں کیوں غور نہیں کرتے تاکہ ان کو خود معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ ۔ قَالُوْٓائَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًائَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْن۔ َ لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَاٰبَآؤُ نَا ھٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ ھٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ (المومنون : 81، 83)
(بلکہ انھوں نے وہی بات کہی جو پہلے کفار کہا کرتے تھے۔ کہتے ہیں کیا جب ہم مرجائیں گے اور خاک اور ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا ہمیں پھر اٹھایا جائے گا۔ بلاشبہ ہم سے اور ہمارے آبائواجداد کے ساتھ بھی آج سے پہلے یہی وعدہ کیا گیا، یہ محض اگلوں کے افسانے ہیں۔ )
قریش کا فسادِ عقیدہ اپنے جاہل آباء کا تسلسل ہے
اللہ تعالیٰ کی ان بےپناہ قدرتوں اور کائنات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
فہم القرآن
ربط کلام : آیت 70 میں فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس رسول کو پاگل پن ہوگیا ہے اس کے بعد نبی ﷺ کو تسلّی دیتے ہوئے ارشاد ہوا کہ آپ ان سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتے جس کو یہ بوجھ سمجھتے ہوں لہٰذا آپ دعوت توحید کا کام جاری رکھیں یہ لوگ وہی کچھ کہہ رہیں جو ان سے پہلے لوگ کہا کرتے تھے۔
انسان موت وحیات اور لیل ونہار کی گردش پر غور کرے تو اسے خود ہی معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہر صورت انسان کو اس کی موت کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔ کیونکہ جو رب رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات لاتا ہے وہی انسان کو قیامت کے دن زندہ کرے گا جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں وہ وہی بات کرتے ہیں جو ان سے…
Read the full tafseer →قراءت : مِتْنَا نافع، حمزہ، علی، حفص نے پڑھا ہے۔
83: لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَاٰبَآ ؤُنَا ھٰذَا (اس کا ہم سے اور ہمارے آباء و اجداد سے وعدہ ہوا) ھٰذا کا مشار الیہ البعث ہے : مِنْ قَبْلُ (اس سے قبل) محمد ﷺ کی آمد سے قبل : اِنْ ھٰذَآ اِلَّا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ (یہ پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں) ۔
نحو : اساطیر جمع اسطار، اسطار جمع سطر، وہ کہانی جس کی کوئی حقیقت نہ ہو۔ اور اسطورۃ کی جمع قرار دینا زیادہ مناسب ہے پھر اپنے پیغمبر ﷺ کو حکم دیا کہ مشرکین پر اتمام ِحجت کریں چناچہ فرمایا۔
Read the full tafseer →83۔ لقد وعدنا نحن وآباء نا ھذا۔ وعدہ جو ہم نے تم سے پہلے اگلوں سے کیا تھا۔ من قبل ، ان لوگوں کے وہم کے مطابق یہ کہتے تھے کہ ہم سے پہلے ہمارے بڑوں سے بھی یہ وعدہ چلاآرہا ہے یہ کچھ نہیں محض بےسند باتیں ہیں اس کی کوئی حقیقت نہیں ، ان ھذا الااساطیرالاولین، پہلوں کی من گھڑت کہانیاں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–90
82۔ 90:۔ حشر کے منکر جو لوگ اب ہیں یا پچھلے زمانہ کے قصے سنتے آئے ہیں ‘ اسی طرح یہ بھی ایک قصہ ہے کہ ایک دفعہ مر کر پھر جینا ہے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں منکرین حشر سے یہ پوچھا ہے کہ آخر ایک دفعہ تمام جہاں نیست سے ہست جو ہوا ہے یہ کس نے پیدا کیا ہے ‘ نمرود ‘ فرعون ‘ ان لوگوں کی طرح حشر کا انکار اور خدائی دعویٰ کرتے کرتے مرگئے ‘ کیا انہوں نے کچھ پیدا کیا تھا یا ان منکرین حشر کے بتوں نے کچھ پیدا کیا ہے۔ جب مجبوری سے یہ لوگ یہی جواب دیں گے کہ جو کچھ پیدا کیا ہے وہ اللہ ہی نے پیدا کیا ہے تو اسی اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ جس طرح ایک دفعہ سارا جہان نیست سے ہست ہوا ہے ‘ اسی طرح نیک وبد کی جزا وسزا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
آیت نمبر (81
(بل قالو مثل ما قال الاولون) ” بلکہ انہوں نے بھی ایسی ہی بات کہی جو پہلوں نے کہی تھی۔ “ یعنی یہ مکذبین بھی انہیں راہوں پر چل پڑے جن پر ان سے پہلے زندگی بعد موت کی تکذیب کرنے والے گامزن تھے ‘ زندگی بعد موت کو بہت بعید سمجھتے تھے اور کہا کرتے تھے : (ع اذا متنا و کنا ترابا و عظاما عء انا لمبعوثن) ” کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے ‘ تو کیا ہم زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ؟ “ یعنی ان کے زعم باطل کے مطابق اس کا تصور کیا جاسکتا ہے نہ یہ بات عقل میں آسکتی ہے۔
(لقد وعدنا نحن و آباء نا ھذا من قبل) یعنی ہمارے ساتھ ہمیشہ سے یہ وعدہ کیا جاتا رہا ہے کہ قیامت آئے گی ‘ ہمیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–118
قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
103 منکرین کا بعث بعد الموت پر اچنبھا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ تو اس سے پہلے ہمارے باپ دادا سے بھی ہوتا چلا آیا ہے مگر اب تک یہ پورا نہیں ہوا۔ سو یہ انسان کی تنگ نظری اور کوتاہ ظرفی کا ایک قدیم اور مشترکہ مظہر ہے۔ اسے یہ خبر نہیں کہ جس اللہ پاک کے یہاں ایک دن ایک ہزار سال یا پچاس ہزار سال کے برابر ہے اس کے یہاں ماضی کے ان سالوں کی حقیقت اور حیثیت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ نیز آخرت کی لامتناہی زندگی جس نے کبھی ختم نہیں ہونا اس کے مقابلے میں ماضی کی اس مدت کی کیا حیثیت ہے ؟ کیونکہ یہ اگرچہ ہزاروں لاکھوں سالوں پر بھی محیط ہو تو بھی یہ محدود ہے۔ جبکہ آخرت کی وہ زندگی غیر متناہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
کفار کا عقیدہ آخرت سے انکار
تشریح : کفار کی شروع دن سے بس ایک ہی رٹ ہے نہ اللہ کو مانیں نہ رسول کو نہ کتاب کو اور نہ آخرت کو لہٰذا اللہ نے فرمایا : ملاحظہ ہوں اگلی آیات۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
بھلا جس وجود تمہیں ناز ہے اور جس عقل وخرد سے بحث کرتے ہو یہ تم کہاں سے لائے ہو اللہ جل جلالہ ہی تو ہے جس نے تمہارے کان پیدا فرمائے یعنی تمہیں سننے کی قوت بخشی ، دیکھنے کی طاقت دی اور تمہارے سینے میں دل اور اس کے اندر اثرات و کیفیات پیدا کرنے کا جذبہ سمو دیا ، یہ اس کے کتنے بڑے بڑے احسانات تھے مگر اے انسانو تم میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جو اس کا شکر ادا کرتے ہوں یا اے بنی آدم تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو لیکن یہ یاد رکھو اسی ذات کریم نے تمہیں زمین پہ آباد کر رکھا ہے اپنی زندگی کو دیکھو تمہارے ہر لمحے پہ اس کی قدرت کاملہ کی گرفت تمہیں پتہ دیتی ہے کہ تمہیں واپس اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
11 ۔ یعنی پیغمبر ﷺ اور ان کے ماننے والے پہلے بھی اس کا دعویٰ کرتے چلے آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–87
(23:82) لمبعوثون۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ قبروں سے اٹھائے جانے والے۔ دوبارہ زندہ کئے جانے والے۔ مرنے کے بعد اٹھا کر کھڑا کئے جانے والے۔ ان۔ نافیہ ہے۔ اساطیر۔ کہانیاں۔ من گھڑت لکھی ہوئی باتیں۔ وہ جھوٹی خبر جس کے متعلق یہ اعتقاد ہو کہ وہ جھوٹ گھڑ کر لکھ دی گئی ہے۔ سطور کہلاتی ہے۔ اساطیر الاولین۔ پہلے لوگون کی من گھڑت کہانیاں۔
(23:75) افلا تذکرون۔ پھر کیوں تم غور نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
لغات القرآن : آیت نمبر 78 تا 92 :
ذرأ(اس نے پیدا کیا۔ اس نے پھیلادیا) ‘ اساطیر (اسطورۃ) قصے کھانیا ‘ یجیر (پناہ دیتا ہے) ‘ السبع (سات) ‘ تسحرون ( تم جادو میں پھنس گئے) ما اتخذ (نہیں بنایا) ‘ لذھب (البتہ جاتا ( البتہ لے جاتا) ‘ لعلا ( البتہ چڑھ دوڑتا) ‘ یصفون (وہ بیان کرتے ہیں) ‘ الغیب ( بن دیکھی حقیقتیں۔ چھپی باتیں) ‘ الشھادۃ ( موجود۔ کھلی باتیں) ‘ تعلی ( وہ بلندو برتر) ۔
تشریح : آیت نمبر 78 تا 92 :
اگر انسان اللہ کی ان نعمتوں کو شمار کرنا چاہے جو اس پر اللہ نے کی ہیں تو شاید ان کو شمارنہ کرسکے ان بیشمار صالحیتوں میں سے انسان کو فکر و تدبر کے ساھ سننے ‘ دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتوں سے نوازا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–90
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ منکرین حشر نے کہا، کہ جب ہم مرجائیں گے اور خاک اور بوسیدہ ہڈیاں رہ جاویں گی تو کیا ہم پھر دوبارہ زندہ کیے جاویں گے۔ اے محمد ایسی باتوں کا وعدہ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے پہلے ہوتا چلا ایا ہے تو یہ صرف اگلے لوگوں کے قصہ ہیں وہ بھی ہمیشہ ایسی ہی بےاصل باتیں کرتے تھے تو اے محبوب ﷺ ان سے پوچھو کہ زمین اور اس کے عجائبات مخلوقات کس کی ہیں اگر عقل ہو تو بتلاؤ، تمہاری بات کے جواب میں بےاختیار ہوکر یہی کہیں گے کہ یہ سب اللہ کی ہے اسی نے بنایا اور پیدا کیا تو تم فرماؤ جب تمہارے نزدیک اللہ ان سب باتوں پر قادر ہے ارجس نے زمین اور تمام مخلوقات کو ایسی حالت میں پیدا کیا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
[35] مطلب یہ ہے کہ جب ساری قوتوں کا مرجع و منبع وہی ایک ذات ہے تو اس کے قبضہ قدرت کے سامنے کیا مشکل ہے کہ تم کو دوبارہ زندہ کر دے۔ واضح رہے کہ یہاں اور اگلی آیات میں توحید اور بعث بعد الموت دونوں پر ایک ساتھ استدلال کیا جا رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–87
(ف 2) خدا کی ذات اس درجہ ظاہر و باہر ہے کہ اس کا انکار عقلا محال ہے چناچہ ارشاد ہے کہ اس نے تمہیں زمین میں خلعت وجود دے کر بھیجا ، تمہیں کتم عدم سے نکالا ، اور منصہ شہود پر جلوہ گر کیا ، تم خارج میں کوئی حیثیت نہ رکھتے تھے ، اس نے اپنی نیابت کا پیراہن تمہیں بخشا ، کیا اس کے بعد بھی انکار والحاد کے لئے کوئی گنجائش باقی رہ جاتی ہے ؟
اس کے بعد تمہیں اس کے حضور ﷺ پیش ہونا ہے ، تاکہ وہ دریافت کرے ، کہ تم نے کیونکر اپنے فرائض منصبی کو ادا کیا حیات اور موت بھی اس کے اختیار میں ہے وہ جسے چاہے زندہ رکھے ، اور جس کو چاہے چشم زدن میں موت کے گھاٹ اتار دے ، اسی طرح کائنات میں جس قدر تبدیلیاں اور انقلابات…
Read the full tafseer →(83) اور یہ بھی کہتے ہیں کہ بلاشبہ یہ وعدہ ہم سے اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادوں سے ہوتا چلا آیا ہے۔ مگر یہ وعدہ سوائے اس کے نہیں کہ محض پہلے لوگوں کی بےسروپاکہانیاں اور قصے ہیں یعنی یہ دوبارہ زندہ ہونے کا وعدہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ ہم سے پہلے ہمارے بزرگوں سے بھی اس قسم کا وعدہ ہوتا چلا آیا ہے جو آج تک تو شرمندئہ ایفاء ہوا نہیں اس سے کیا سمجھا جائے یہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا کچھ نہیں مگر پہلے لوگوں کی بےسروپا کہانیاں ہیں جو یہ شخص بھی کہتا ہے یعنی ان باتوں کا کوئی وجود نہیں کہنے کو تو پہلے پیغمبر بھی یہی کہتے چلے آئے ہیں اور ہمارے بزرگوں کو یہی وعدہ دیتے آئے ہیں لیکن اس وعدے کی اصلیت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
ف 9۔ یہ دلائل قدرت توحید اور صحت بعثت دونوں پر دال ہیں، مگر پھر بھی نہیں مانتے۔
Read the full tafseer →ان باتوں کا وعدہ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے کیا جا چکا ہے جن کی کوئی حقیقت نہیں :
83۔ منکرین نے اپنے خیال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی باتیں جو یہ رسول کر رہا ہے کوئی آج کی ہیں ؟ نہیں نہیں ! یہ تو بہت پرانی باتیں ہیں جو ہم پیچھے سے سنتے چلے آرہے ہیں اور یہ ان ہونی باتیں آج تک تو پوری نہ ہوئیں اور یقینا کبھی پوری نہیں ہوں گی اس لئے دراصل ان کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ یہ بھی سنی سنائی باتیں ہیں جو ایسے ہی گھڑی گئی ہیں قیامت ویامت کچھ نہیں آئے گی اور اب ہم ایس دھمکیوں میں آنے والے نہیں ہیں جن کو سنتے سنتے ہمارے کان پک چکے ہیں ۔ گویا یہ وہی بات ہے کہ لاتوں کے بھوت کبھی باتوں سے نہیں مانتے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–87
وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُم بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ
And We have already seized them with punishment, but they did not turn humble to their Lord, nor do they supplicate in humility. (23:76)
In the preceding verse it has been stated that when the unbelievers are subjected to chastisement for their sins, they plead to Allah and the Holy Prophet ﷺ for mercy and when Allah who is Merciful relieves their suffering, they return to their evil practices and wicked deeds. This verse relates a similar instance when the unbelievers were punished for their misdeeds.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
77. Their denial of the life after death implied the denial of the powers and wisdom of Allah as well.
Read the full tafseer →