Al-Muminoon 23:82

Al-Muminoon · from ayah 82

23:82

قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ ۟قَالُوۡۤا ءَاِذَا مِتۡنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ

کہتے ہیں کہ جب ہم مر جائیں گے اور مٹی ہو جائیں گے اور استخوان (بوسیدہ کے سوا کچھ) نہ رہے گا تو کیا ہم پھر اٹھائے جائیں گے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "When we have died and become dust and bones, are we indeed to be resurrected?

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:82

یہ کہتے ہیں "کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائیں گے تو ہم کو پھر زندہ کر کے اٹھایا جائے گا؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہتے ہیں کہ جب ہم مر جائیں گے اور مٹی ہو جائیں گے اور استخوان (بوسیدہ کے سوا کچھ) نہ رہے گا تو کیا ہم پھر اٹھائے جائیں گے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہ کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے کیا پھر بھی ہم ضرور اٹھائے جائیں گے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہتے ہیں کہ : کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیوں میں تبدیل ہوجائیں گے تو کیا واقعی ہمیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے کیا جب ہم مرجائیں اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں کیا پھر نکالے جائیں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ کہتے ہیں کہ جب ہم مر جائیں گے اور ہم خاک اور (بوسیدہ) ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہم (پھر زندہ کر کے) اٹھائے جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے، کیا واقعی ہم ضرور اٹھائے جانے والے ہیں ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کہ : جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو ہمیں پھر زندہ کرکے اٹھایا جائے گا ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مر جائیں گے اور خاک اور ہڈیاں بن جائیں گے تو از سر نو اٹھائے جائیں گے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یعنی یوں کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہمیں واقعی پھر زندہ کر کے اٹھایا جائے گا ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کہتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا ہم پھر سے اٹھائے جائیں گے ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے کہا تھا کہ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے اور ہماری ہڈیاں ہی رہ جائیں گی تو کیا ہمیں پھر اٹھا لیا جائے گا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم پھر اٹھائے جائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They say: "Is it that when we are dead and have been reduced to dust and bones, shall we then be raised up again?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :Is it that, when we will die and become dust and bones – is it that we will be raised again?

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :Is it that, when we will die and become dust and bones – is it that we will be raised again?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "When we are dead and have become dust and bones, shall we be resurrected indeed"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They say: When we are dead and have become (mere) dust and bones, shall we then, forsooth, be raised again?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "When we have died and become dust and bones, are we indeed to be resurrected?

— Saheeh International

They say, "When we die and become dust and bones, shall we then be raised up again?

— Muhammad Sarwar

They say: What! When we are dead and become dust and bones, shall we then be raised?

— Muhammad Habib Shakir

They say: when we are dead, and have become dust and bones, shall we verily be raised up?

— Abdul Majid Daryabadi

They say: "What! when we die and become dust and bones, could we really be raised up again?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:82

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 76–83

جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَلَوْلَآ اِذْ جَاۗءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 43؀) 6۔ الانعام :43) ہمارا عذاب دیکھ کر یہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے ؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہوگئے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس آیت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 80–82

سورة الْمُؤْمِنُوْن 75 علم کے ذرائع (حواس اور قوت فکر) اور ان کے مصرف صحیح سے انسان کی غفلت پر متنبہ کرنے کے بعد اب ان نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جن کا مشاہدہ اگر کھلی آنکھوں سے کیا جائے اور جن کی نشان دہی سے اگر صحیح طور پر استدلال کیا جائے، یا کھلے کانوں سے کسی معقول استدلال کو سنا جائے، تو آدمی حق تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ بھی معلوم کرسکتا ہے کہ یہ کار خانہ ہستی بے خدا، یا بہت سے خداؤں کا ساختہ و پرداختہ نہیں ہے، بلکہ توحید کی اساس پر قائم ہے۔ اور یہ بھی جان سکتا ہے کہ یہ بےمقصد نہیں ہے، نرا کھیل اور محض ایک بےمعنی طلسم نہیں ہے، بلکہ ایک مبنی بر حکمت نظام ہے جس میں انسان جیسی ذی اختیار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 78–87

خلاصہ تفسیر اور وہ (اللہ) ایسا (قادر اور منعم) ہے جس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (کہ آرام بھی برتو اور دین کا بھی ادراک کرو لیکن) تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو (کیونکہ اصلی شکر یہ تھا کہ اس منعم کے پسندیدہ دین کو قبول کرتے اور دوبارہ قیامت میں زندہ کرنے کا انکار نہ کرتے) اور وہ ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلا رکھا ہے اور تم سب (قیامت میں) اسی کے پاس لائے جاؤ گے (اس وقت اس کفران نعمت کی حقیقت معلوم ہوگی) اور وہ ایسا ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کے اختیار میں ہے رات اور دن کا گھٹنا بڑھنا سو کیا تم (اتنی بات) نہیں سمجھتے (کہ یہ دلائل قدرت توحید اور قیامت میں دوسری زندگی،…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 81–83

آیت 83-81 وہی پرانا جواب یعنی یہ ساری باتیں اپنی جگہ پر واضح اور ثابت ہیں لیکن یہ انکے دلوں میں کسی طرح نہیں اتر رہی ہیں۔ انہوں نے یہ سب کچھ سن کے وہی بات کہی جو ان کے اگلے ہم مشریوں نے کہی۔ انہوں نے کہا بھلا جب ہم مر کے مٹی اور ہڈی بن جائیں گے تو کیا دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ! یہ ان ہونی بات ہے ! یہی ڈراوا ہمیں سنایا جا رہا ہے اور اس سے پہلے یہی ڈراوا ہمارے اگلوں کو بھی سنایا گیا لیکن قیامت کو نہ آنا تھا نہ آئی نہ آئے گی۔ یہ سب پرانے فسانے ہیں جو بار بار دہرائے جا رہے ہیں۔ ہم ان دھمکیوں میں آنے والے نہیں ہیں !

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 80–82

80-1یعنی رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات کا آنا، پھر رات اور دن کا چھوٹا بڑا ہونا۔ 80-2جس سے تم یہ سمجھ سکو کہ یہ سب کچھ اس ایک اللہ کی طرف سے ہے جو ہر چیز پر غالب ہے اور اس کے سامنے ہر چیز جھکی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 78–84

27: یہاں سے اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے مختلف مظاہر بیان فرما رہے ہیں جنہیں کفار مکہ بھی مانتے تھے۔ مقصد یہ ہے کہ جو ذات اتنے عظیم اور حیرت انگیز کام کرنے پر قادر ہے، وہ انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیوں نہیں کرسکتی ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 81–82

اب ان کے ساتھ سلسلہ کلام ختم کرکے اس پر ایک مثبت تبصرہ کیا جاتا ہے کہ بعث بعد الموت اور حساب و کتاب کے بارے میں ان لوگوں کے جو اقوال ہیں ایسے ہی مقولات سابقہ لوگوں کے بھی رہے ہیں ۔ بل قالو مثل اساطیر الا ولین (آیت نمبر 81 تا 82) بادی النظر میں یہ بات نہایت مکروہ ہے ، اس لیے کہ ان آیات بینات اور ان دلائل اور دلائل کائنات کے باوجود لوگ جو ایسی باتیں کرتے ہیں وہ مکروہ باتیں ہیں۔ خود انسانی قوتیں ، انسان کی قوت سماعت ، اس کی قوت بینائی اور اس کی قوت غور و فکر اسے اس لیے دی گئی ہیں کہ وہ ایک ذمہ دار اور مسئول ہستی ہے ۔ وہ اپنے اعمال و افکار کے بارے میں ذمہ دار ہے۔ اگر وہ اچھے کام کرے گا تو اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 81–83

7 یعنی عقل و فہم کی بات کچھ نہیں محض پرانے لوگوں کی اندھی تقلید کیے چلے جا رہے ہیں، وہ ہی دقیانوسی شکوک پیش کرتے ہیں جو ان کے پیشرو کیا کرتے تھے۔ یعنی مٹی میں مل کر اور ریزہ ریزہ ہو کر ہم کیسے زندہ کیے جائیں گے ؟ ایسی دورازعقل باتیں جو ہم کو سنائی جا رہی ہیں پہلے ہمارے باپ دادوں سے بھی کہی گئی تھیں۔ لیکن ہم نے تو آج تک خاک کے ذروں اور ہڈیوں کے ریزوں کو آدمی بنتے نہ دیکھا۔ ہو نہ ہو یہ سب قصے کہانیاں ہیں جو پہلے لوگ گھڑ گئے تھے۔ اور اب ان ہی کی نقل کی جا رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 76–83

آیت 76 وَلَقَدْ اَخَذْنٰہُمْ بالْعَذَابِ ” اس سے مراد شاید قحط اور خشک سالی کا وہ عذاب ہے جس میں اہل مکہ کئی سال تک مبتلا رہے اور جس کی وجہ سے ہر شخص کو جان کے لالے پڑگئے تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 82–84

82 کفار مکہ سے جب بدوی لوگ پوچھتے کہ تم میں جو نبی پیدا ہوا ہے اس کی تعلیم کیا ہے ؟ تو وہ کہہ دیتے کہ اس میں کوئی نئی بات تو ہے نہیں وہی پرانے لوگوں کی داستانیں اور قصے کہانیاں ہیں۔ جو ہم پہلے بھی سنتے آئے ہیں۔ اور یہ بات وہ اس لئے کہتے تھے کہ انبیاء کی بنیادی اور اصولی تعلیم ایک ہی جیسی رہی ہے۔ ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ خود بھی تو اپنے پیغمبر کو وہی بات کہہ رہے ہیں جو ان کے آباء و اجداد انبیاء کی مخالفت میں کہتے چلے آئے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا پھر ہمیں زندہ کرکے اٹھایا جائے گا ؟ یہ خود بھی تو وہی پرانی گھسی پٹی بات دہرا رہے ہیں۔ دلیل کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 81–83

77۔ جزاوسزا، حشر ونشر سے انکار کوئی بیسویں صدی کی نئی روشن خیالی نہیں یہ قدیم گمراہی تو اتنی بوڑھی ہے کہ خود ابلیس کی ہم سن ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 78–92

آیت نمبر 78 تا 92 ترجمہ : وہ ایسی ذات ہے کہ جس نے تمہارے کان بنائے سمع بمعنی اسماع اور آنکھیں اور دل بنائے تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو ما، قلت کی تاکید کے لئے اور وہ ذات ہے کہ جس نے مٹی سے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم جمع کئے جاؤ گے، یعنی مرنے کے بعد زندہ کئے جاؤ گے اور وہ ایسی ذات کہ جو گوشت کے لوتھڑے میں روح پھونک کر تم کو حیات بخشتی ہے اور موت دیتی ہے اور موت دیتی ہے اور سیاہی اور سفیدی زیادتی اور نقصان کے ذریعہ رات اور دن کو بدلنا اسی کے اختیار میں ہے تو کیا تم اللہ تعالیٰ کی صنعت کو سمجھتے نہیں ہو کہ عبرت حاصل کرو، بلکہ یہ بھی ویسی ہی بات کہتے ہیں جو اگلے لوگ کہتے چلے آئے ہیں پہلے لوگوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالواء اذا متنا وکنا ترابا وعظاماء انا لمبعوثون۔ (کافروں) نے کہی تھی یہ کہتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور خاک اور ہڈیاں بن کر رہ جائیں گے تو کیا (دوبارہ) زندہ کر کے ہم اٹھائے جائیں گے۔ یعنی کفار مکہ وہی بات کہہ رہے ہیں جو ان سے پہلے گزشتہ اقوام کے کافروں نے کہی تھی۔ ءَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَمیں سوال انکاری ہے یعنی ایسا ہو نہیں سکتا کہ ہم دوبارہ اٹھائے جائیں۔ کافروں نے اپنی ابتدائی پیدائش پر غور نہیں کیا اور اتنا نہ سوچا کہ اس زندگی سے پہلے وہ مٹی تھے اور اس سے پہلے کچھ بھی نہ تھے (معدوم محض تھے عدم سے نکل کر مٹی کی شکل میں پھر غذائی شکل میں پھر خون اور نطفہ کی شکل میں زندہ انسان کی شکل میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 81–82

(81۔ 82) بلکہ یہ کفار مکہ بھی بعث بعد الموت کی اسی طرح تکذیب کرتے ہیں، جیسا کہ پہلے کافر لوگ تکذیب کرتے چلے آتے ہیں یعنی یوں کہتے ہیں کہ کیا ہم جب مرجائیں گے اور ہم مٹی اور بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 81–82

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ : یہاں پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ناراضی کے اظہار کے لیے انھیں مخاطب کرنا چھوڑ کر ان کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ کرنا شروع کردیا، گویا اتنی واضح دلیلوں کے بعد بھی انکار پر اڑے رہنے کی وجہ سے وہ اس قابل نہیں کہ انھیں مخاطب کیا جائے۔ 3 مرنے کے بعد زندگی کا انکار صرف قیامت کا انکار نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا بھی انکار ہے اور شرک ہی کا شاخسانہ ہے۔ جو شخص رب تعالیٰ کو ایک مانتا ہو اور اس کی قدرت و حکمت پر ایمان رکھتا ہو وہ کبھی قیامت کا انکار نہیں کرسکتا۔ 3 یعنی ان لوگوں کے پاس اپنے آباء کی تقلید کے سوا قیامت کے انکار اور دوسرے غلط عقائد و…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 80–89

آیت نمبر 80-89 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : وھوا لذی یحیٖ ویمیت ولہ اختلاف الیل والنھار دن اور رات کو اس نے مختلف بنایا جیسے تیرا قول ہے لک الاجر والصلۃ تجھے اجر دیا جائے گا اور صلہ دیا جائے گا۔ یہ فراء کا قول ہے۔ بعض نے کہا : دن رات کے اختلاف سے مراد نور وظلمت میں مختلف ہونا ہے۔ بعض نے کہا : اس سے مراد اس کا تکرار ہے دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن آتا ہے۔ پانچواں احتمال یہ ہے کہ ان میں جو سعادت وشقاوت اور گمراہی وہدایت گزرچکی ہیں اس کا اختلاف مراد ہے۔ افلا تعقلون۔ کیا تم اس کی قدرت، ربوبیت اور وحدانیت کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ اس کی مخلوق سے اس کا شریک ہونا جائز نہیں وہ دوبارہ اٹھانے پر قادر ہے پھر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 76–83

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے والنسائی والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابو سفیان نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا اے محمد ﷺ میں تجھ کو اللہ کی اور رحم کی قسم دیتا ہوں کہ ہم نے یعنی بالوں کو خون کے ساتھ کھایا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ” ولقد اخذناہم بالعذاب فما استکانوا لربہم وما یتضرعون “ نازل فرمائی۔ 2۔ ابن جریر وابو نعیم فی المعرفۃ والبیہقی فی الدلائل نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ثمامہ اثال حنفی جب نبی ﷺ کے پاس لایا گیا تو وہ مسلمان ہوگیا جبکہ وہ قیدی تھا رسول اللہ ﷺ نے اس کا راستہ چھوڑدیا (یعنی اس کو آزاد کردیا گیا) وہ یمامہ چلا گیا اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالُوْٓا (ان سب نے کہا ) ءَاِذَا (کیا جب ) مِتْنَا (ہم مرجائیں گے ) وَكُنَّا ( اور ہم ہوجائیں گے) تُرَابًا (مٹی ) وَّعِظَامًا ( اور ہڈیاں) ءَ (کیا ) اِنَّا (بیشک ہم) لَمَبْعُوْثُوْنَ (ضرور سب اٹھائے جانے والے )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 78–90

اللہ کی تخلیق کے مظاہرے، منکرین بعث کی تردید گزشتہ آیات میں منکرین کے کفر اور عناد کا ذکر تھا ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر اور امکان بعث پر دلائل قائم فرمائے ہیں اور مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور صفات جلیلہ کا اقرار کرایا ہے اور انہیں بار بار متوجہ فرمایا ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے اللہ کی توحید کے منکر ہو رہے ہیں۔ اول تو یوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں سننے کی قوت دی ہے آنکھیں عطا فرمائی ہیں تمہارے اندر دل پیدا فرمائے ہیں دیکھو یہ کتنی بڑی بڑی نعمتیں ہیں ان نعمتوں کی وجہ سے تم پر شکر واجب ہوتا ہے لیکن کم شکر ادا کرتے ہو یوں ہی چلتی ہوئی بات کی طرح کہہ دیتے ہو کہ اللہ کا شکر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 78–92

تذکیر انعامات و ذکر دلائل قدرت برائے اثبات قیامت قال اللہ تعالیٰ وھو الذی انشالکم السمع والابصار والافئدۃ .... الیٰ .... فتعلیٰ عما یشرکون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں کفار کے اسباب جہالت و ضلالت کا بیان تھا اور ان سب کا اصل منشاء حشر و نشر کا انکار تھا کہ یہ لوگ جزاء اور سزا اور قیامت کے قائل نہ تھے۔ اس لئے اب آئندہ آیات میں اپنی نعمتوں کو یاد دلاتے ہیں تاکہ اس کا شکر کریں اور اپنی قدرت کاملہ کے آثار کو ذکر کرتے ہیں تاکہ مردوں کو دوبارہ زندہ کیے جانے میں شک نہ کریں اور قیامت اور جزاء اور سزا پر ایمان لے آئیں کہ جس خدا کی قدرت کے یہ کرشمے ہیں اس کے نزدیک مردوں کا زندہ کرنا کیا بڑی بات ہے اس سلسلہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 81–83

67:۔ ” بل قالواء اذا متنا الخ “ کہتے ہیں ہم جب مر کر مٹی میں مل جائیں گے تو پھر دوبارہ کس طرح زندہ کردئیے جائیں گے۔ ” لقد وعدنا نحن الخ “ یہ بات صرف ہم ہی سے نہیں کہی جا رہی بلکہ ہمارے باپ دادا سے بھی یہی کہا گیا تھا کہ تم مرنے کے بعد قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے یہ تو سراسر باطل اور جھوٹ ہے جو پہلے لوگ سنتے سناتے چلے آرہے ہیں مشرکین کے اس قول کے بطلان پر اللہ تعالیٰ نے تین عقلی دلیلیں ذکر فرمائی ہیں اور ان میں ایسے حقائق کا ذکر کیا ہے جنہیں مشرکین بھی تسلیم کرتے ہیں ان تینوں دلیلوں سے جہاں شرک اعتقادی کی نفی ہوتی ہے وہاں اس سے حشر و نشر کا بھی ثبوت ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 78–83

ربط آیات : اللہ نے نافرمانی کرنے والے لوگوں کا حال بیان کیا اور ان کی سرکشی کا ذکر کیا۔ انہوں نے اللہ کے عطا کردہ انعامات کی ناقدری کی۔ ان کو اللہ کی طرف سے مہلت ملتی رہی مگر وہ کفر وشرک پر ہی اصرار کرتے رہے۔ اللہ نے ان کو تنبیہ بھی کی ، مگر وہ برائیوں سے باز نہ آئے ، پھر اللہ نے ان پر عذاب کا ایک مستقل دروازہ کھول دیا۔ یعنی مسلمانوں کو کفار کے خلاف جہاد کرنے کا حکم دے دیا۔ ابتداء میں تو کفر واسلام کا بڑا مقابلہ ہوا لیکن آہستہ آہستہ کفار مغلوب ہوتے چلے گئے اور پھر آخر یہ بڑے بڑے سرداران کفر مارے گئے اور باقیوں نے اسلام قبول کرلیا ، اس طرح کفار مایوس ہو کر بیٹھ گئے۔ توحید اور معاد کا ذکر : اب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْٓا ءَ اِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ۝ 82 ترب التُّرَاب معروف، قال تعالی: أَإِذا كُنَّا تُراباً [ الرعد/ 5] ، وقال تعالی: خَلَقَكُمْ مِنْ تُرابٍ [ فاطر/ 11] ، یالَيْتَنِي كُنْتُ تُراباً [ النبأ/ 40] . ( ت ر ب ) التراب کے معنی مٹی کے ہیں ۔ قرآن میں ہے خَلَقَكُمْ مِنْ تُرابٍ [ فاطر/ 11] کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ۔ یالَيْتَنِي كُنْتُ تُراباً [ النبأ/ 40] کہ اے کاش کے میں مٹی ہوتا ۔ عظم العَظْمُ جمعه : عِظَام . قال تعالی: عِظاماً فَكَسَوْنَا الْعِظامَ لَحْماً [ المؤمنون/ 14] ، وقرئ : عظاما «1» فيهما، ومنه قيل : عَظْمَة الذّراع لمستغلظها، ( ع ظ م…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 76–83

ولقد اخذنہم بالعذاب الخ ہم نے ان کو اول ایک عذاب میں گرفتار کیا تو اس وقت بھی ما استکانوا لربہم اپنے رب کی طرف نہ جھکے۔ استکان استفعل من الکون ای انتقل من کون الی کون۔ ویجوزان یکون انقل من السکون کبیر اور نہ جھکنے والے تھے۔ حتی اذا فتحنا علیہم یہاں تک کہ اس مصیبت کا دروازہ کھولا تو بھی نہ جھکے بلکہ رب کی رحمت سے ناامید ہوگئے حالانکہ اللہ وہ منعم حقیقی ہے کہ جس نے تم کو کان اور آنکھیں اور دل عطا کئے پھر اس سے ناامیدی کرنا کیسی بری بات ہے۔ اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس نے سننے کو کان ‘ دیکھنے کو آنکھ ‘ سمجھنے کو دل عطا کئے پھر خود دلائلِ الٰہی میں کیوں غور نہیں کرتے تاکہ ان کو خود معلوم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 81–83

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ ۔ قَالُوْٓائَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًائَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْن۔ َ لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَاٰبَآؤُ نَا ھٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ ھٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ (المومنون : 81، 83) (بلکہ انھوں نے وہی بات کہی جو پہلے کفار کہا کرتے تھے۔ کہتے ہیں کیا جب ہم مرجائیں گے اور خاک اور ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا ہمیں پھر اٹھایا جائے گا۔ بلاشبہ ہم سے اور ہمارے آبائواجداد کے ساتھ بھی آج سے پہلے یہی وعدہ کیا گیا، یہ محض اگلوں کے افسانے ہیں۔ ) قریش کا فسادِ عقیدہ اپنے جاہل آباء کا تسلسل ہے اللہ تعالیٰ کی ان بےپناہ قدرتوں اور کائنات کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 81–83

فہم القرآن ربط کلام : آیت 70 میں فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس رسول کو پاگل پن ہوگیا ہے اس کے بعد نبی ﷺ کو تسلّی دیتے ہوئے ارشاد ہوا کہ آپ ان سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتے جس کو یہ بوجھ سمجھتے ہوں لہٰذا آپ دعوت توحید کا کام جاری رکھیں یہ لوگ وہی کچھ کہہ رہیں جو ان سے پہلے لوگ کہا کرتے تھے۔ انسان موت وحیات اور لیل ونہار کی گردش پر غور کرے تو اسے خود ہی معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہر صورت انسان کو اس کی موت کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔ کیونکہ جو رب رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات لاتا ہے وہی انسان کو قیامت کے دن زندہ کرے گا جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں وہ وہی بات کرتے ہیں جو ان سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

82: قَالُوْا ئَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًاوَّ عِظَامًا ئَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ (وہ کہتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور خاک اور ہڈیاں بن کر رہ جائیں گے تو کیا زندہ کر کے ہم اٹھائے جائیں گے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

82۔ قالواء اذامتنا وکناترابا وعظاماء انا لمبعوثون۔ ہم ان کو جمع کریں گے یہ سوال انکاری بطور تعجب کے ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 82–90

82۔ 90:۔ حشر کے منکر جو لوگ اب ہیں یا پچھلے زمانہ کے قصے سنتے آئے ہیں ‘ اسی طرح یہ بھی ایک قصہ ہے کہ ایک دفعہ مر کر پھر جینا ہے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں منکرین حشر سے یہ پوچھا ہے کہ آخر ایک دفعہ تمام جہاں نیست سے ہست جو ہوا ہے یہ کس نے پیدا کیا ہے ‘ نمرود ‘ فرعون ‘ ان لوگوں کی طرح حشر کا انکار اور خدائی دعویٰ کرتے کرتے مرگئے ‘ کیا انہوں نے کچھ پیدا کیا تھا یا ان منکرین حشر کے بتوں نے کچھ پیدا کیا ہے۔ جب مجبوری سے یہ لوگ یہی جواب دیں گے کہ جو کچھ پیدا کیا ہے وہ اللہ ہی نے پیدا کیا ہے تو اسی اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ جس طرح ایک دفعہ سارا جہان نیست سے ہست ہوا ہے ‘ اسی طرح نیک وبد کی جزا وسزا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 81–83

آیت نمبر (81 (بل قالو مثل ما قال الاولون) ” بلکہ انہوں نے بھی ایسی ہی بات کہی جو پہلوں نے کہی تھی۔ “ یعنی یہ مکذبین بھی انہیں راہوں پر چل پڑے جن پر ان سے پہلے زندگی بعد موت کی تکذیب کرنے والے گامزن تھے ‘ زندگی بعد موت کو بہت بعید سمجھتے تھے اور کہا کرتے تھے : (ع اذا متنا و کنا ترابا و عظاما عء انا لمبعوثن) ” کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے ‘ تو کیا ہم زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ؟ “ یعنی ان کے زعم باطل کے مطابق اس کا تصور کیا جاسکتا ہے نہ یہ بات عقل میں آسکتی ہے۔ (لقد وعدنا نحن و آباء نا ھذا من قبل) یعنی ہمارے ساتھ ہمیشہ سے یہ وعدہ کیا جاتا رہا ہے کہ قیامت آئے گی ‘ ہمیں اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 67–118

قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 80–82

100 زندگی بخشنا اللہ ہی کا کام اور اسی کی شان ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہی زندگی بخشتا ہے۔ جو اس دنیا کی ایک عظیم الشان نعمت بلکہ سب نعمتوں کی اساس و بنیاد ہے۔ سو احیاء واماتت ۔ زندگی بخشنے اور موت دینے کی ۔ یہ صفت اسی وحدہ لاشریک کی صفت ہے۔ اس میں کسی بھی اور ہستی کو حصہ دار ماننا شرک ہوگا جو کہ ظلم عظیم ہے۔ جیسا کہ بعض جاہل لوگوں کا کہنا ہوتا ہے کہ فلاں بزرگ یا پیر صاحب نے فلاں شخص کو یا اس کی کسی گائے بھینس وغیرہ کو مار دیا وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو مارنا اور جلانا اللہ پاک ہی کی صفت و شان ہے۔ وہ جس کو چاہے زندگی بخشے اور جب تک چاہے زندہ رکھے۔ اور جب چاہے موت طاری کر دے کہ یہ سب کچھ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 81–83

کفار کا عقیدہ آخرت سے انکار تشریح : کفار کی شروع دن سے بس ایک ہی رٹ ہے نہ اللہ کو مانیں نہ رسول کو نہ کتاب کو اور نہ آخرت کو لہٰذا اللہ نے فرمایا : ملاحظہ ہوں اگلی آیات۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 78–92

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف بھلا جس وجود تمہیں ناز ہے اور جس عقل وخرد سے بحث کرتے ہو یہ تم کہاں سے لائے ہو اللہ جل جلالہ ہی تو ہے جس نے تمہارے کان پیدا فرمائے یعنی تمہیں سننے کی قوت بخشی ، دیکھنے کی طاقت دی اور تمہارے سینے میں دل اور اس کے اندر اثرات و کیفیات پیدا کرنے کا جذبہ سمو دیا ، یہ اس کے کتنے بڑے بڑے احسانات تھے مگر اے انسانو تم میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جو اس کا شکر ادا کرتے ہوں یا اے بنی آدم تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو لیکن یہ یاد رکھو اسی ذات کریم نے تمہیں زمین پہ آباد کر رکھا ہے اپنی زندگی کو دیکھو تمہارے ہر لمحے پہ اس کی قدرت کاملہ کی گرفت تمہیں پتہ دیتی ہے کہ تمہیں واپس اس کی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 82–83

11 ۔ یعنی پیغمبر ﷺ اور ان کے ماننے والے پہلے بھی اس کا دعویٰ کرتے چلے آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 82–87

(23:82) لمبعوثون۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ قبروں سے اٹھائے جانے والے۔ دوبارہ زندہ کئے جانے والے۔ مرنے کے بعد اٹھا کر کھڑا کئے جانے والے۔ ان۔ نافیہ ہے۔ اساطیر۔ کہانیاں۔ من گھڑت لکھی ہوئی باتیں۔ وہ جھوٹی خبر جس کے متعلق یہ اعتقاد ہو کہ وہ جھوٹ گھڑ کر لکھ دی گئی ہے۔ سطور کہلاتی ہے۔ اساطیر الاولین۔ پہلے لوگون کی من گھڑت کہانیاں۔ (23:75) افلا تذکرون۔ پھر کیوں تم غور نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 78–92

لغات القرآن : آیت نمبر 78 تا 92 : ذرأ(اس نے پیدا کیا۔ اس نے پھیلادیا) ‘ اساطیر (اسطورۃ) قصے کھانیا ‘ یجیر (پناہ دیتا ہے) ‘ السبع (سات) ‘ تسحرون ( تم جادو میں پھنس گئے) ما اتخذ (نہیں بنایا) ‘ لذھب (البتہ جاتا ( البتہ لے جاتا) ‘ لعلا ( البتہ چڑھ دوڑتا) ‘ یصفون (وہ بیان کرتے ہیں) ‘ الغیب ( بن دیکھی حقیقتیں۔ چھپی باتیں) ‘ الشھادۃ ( موجود۔ کھلی باتیں) ‘ تعلی ( وہ بلندو برتر) ۔ تشریح : آیت نمبر 78 تا 92 : اگر انسان اللہ کی ان نعمتوں کو شمار کرنا چاہے جو اس پر اللہ نے کی ہیں تو شاید ان کو شمارنہ کرسکے ان بیشمار صالحیتوں میں سے انسان کو فکر و تدبر کے ساھ سننے ‘ دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتوں سے نوازا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 82–90

(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ منکرین حشر نے کہا، کہ جب ہم مرجائیں گے اور خاک اور بوسیدہ ہڈیاں رہ جاویں گی تو کیا ہم پھر دوبارہ زندہ کیے جاویں گے۔ اے محمد ایسی باتوں کا وعدہ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے پہلے ہوتا چلا ایا ہے تو یہ صرف اگلے لوگوں کے قصہ ہیں وہ بھی ہمیشہ ایسی ہی بےاصل باتیں کرتے تھے تو اے محبوب ﷺ ان سے پوچھو کہ زمین اور اس کے عجائبات مخلوقات کس کی ہیں اگر عقل ہو تو بتلاؤ، تمہاری بات کے جواب میں بےاختیار ہوکر یہی کہیں گے کہ یہ سب اللہ کی ہے اسی نے بنایا اور پیدا کیا تو تم فرماؤ جب تمہارے نزدیک اللہ ان سب باتوں پر قادر ہے ارجس نے زمین اور تمام مخلوقات کو ایسی حالت میں پیدا کیا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 80–84

[35] مطلب یہ ہے کہ جب ساری قوتوں کا مرجع و منبع وہی ایک ذات ہے تو اس کے قبضہ قدرت کے سامنے کیا مشکل ہے کہ تم کو دوبارہ زندہ کر دے۔ واضح رہے کہ یہاں اور اگلی آیات میں توحید اور بعث بعد الموت دونوں پر ایک ساتھ استدلال کیا جا رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 80–87

(ف 2) خدا کی ذات اس درجہ ظاہر و باہر ہے کہ اس کا انکار عقلا محال ہے چناچہ ارشاد ہے کہ اس نے تمہیں زمین میں خلعت وجود دے کر بھیجا ، تمہیں کتم عدم سے نکالا ، اور منصہ شہود پر جلوہ گر کیا ، تم خارج میں کوئی حیثیت نہ رکھتے تھے ، اس نے اپنی نیابت کا پیراہن تمہیں بخشا ، کیا اس کے بعد بھی انکار والحاد کے لئے کوئی گنجائش باقی رہ جاتی ہے ؟ اس کے بعد تمہیں اس کے حضور ﷺ پیش ہونا ہے ، تاکہ وہ دریافت کرے ، کہ تم نے کیونکر اپنے فرائض منصبی کو ادا کیا حیات اور موت بھی اس کے اختیار میں ہے وہ جسے چاہے زندہ رکھے ، اور جس کو چاہے چشم زدن میں موت کے گھاٹ اتار دے ، اسی طرح کائنات میں جس قدر تبدیلیاں اور انقلابات…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(72) یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مرگئے اور مرکر مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا ہم دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے یعنی جو پہلے منکر کہا کرتے تھے کہ جب ہم مرکر خاک ہوجائیں گے تو پھر ہم دوبارہ کیسے زندہ ہوجائیں گے یہی یہ سب بھی کہتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ جس نے پہلی مرتبہ ان کو زندگی بخشی ہے اس کو دوبارہ زندہ کرلینا کیا مشکل ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 80–84

ف 9۔ یہ دلائل قدرت توحید اور صحت بعثت دونوں پر دال ہیں، مگر پھر بھی نہیں مانتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انہوں نے کہا کہ جب ہم مر کر ہڈیاں اور مٹی ہوجائیں گے دوبارہ کیسے پیدا ہوں گے ؟ 82۔ منکرین قیامت نے آج تک اس کے انکار میں زیادہ سے زیادہ جو کچھ کہا ہے وہ یہی ہے کہ ” کون ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا جب کہ یہ بوسیدہ ہوجائیں گی ؟ “ اور قرآن کریم نے ان کو ہمیشہ یہی جواب دیا ہے کہ ان ہڈیوں کو وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا تھا وہ تخلیق کا ہر کام جانتا ہے اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کردی جس سے تم اپنے چولہے روشن کرتے ہو ‘ وہ وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ تم کو دوبارہ پیدا کرسکے ؟ جبکہ وہ ماہر خلاق ہے ۔ “ (یس 36 : 79 تا 81) ” کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 76–87

وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُم بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَ‌بِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّ‌عُونَ And We have already seized them with punishment, but they did not turn humble to their Lord, nor do they supplicate in humility. (23:76) In the preceding verse it has been stated that when the unbelievers are subjected to chastisement for their sins, they plead to Allah and the Holy Prophet ﷺ for mercy and when Allah who is Merciful relieves their suffering, they return to their evil practices and wicked deeds. This verse relates a similar instance when the unbelievers were punished for their misdeeds.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 80–82

75. If one makes the right use of his faculties and observes these things properly, he can find the truth, for it is obvious that the great mechanism of the universe could not have come into existence by a mere accident. There must be its Creator who need not have any associates or partners and that the universe could not have been created without a purpose as a mere sport. The very existence of a wonderful, rational thinking and feeling creature, man, who has been delegated with powers, is a clear proof that his real life will not come to an end at death. 76. Here attention is being drawn to…

Read the full tafseer →