Explained with ayahs 62–67
آسان شریعت
اللہ تعالیٰ نے شریعت آسان رکھی ہے۔ ایسے احکام نہیں دئیے جو انسانی طاقت سے خارج ہوں۔ پھر قیامت کے دن وہ اعمال کا حساب لے گا جو سب کے سب کتابی صورت میں لکھے ہوئے موجود ہوں گے۔ یہ نامہ اعمال صحیح صحیح طور پر ان کا ایک ایک عمل بتادے گا۔ کسی طرح کا ظلم کسی پر نہ کیا جائے گا کوئی نیکی کم نہ ہوگی ہاں اکثر مومنوں کی برائیاں معاف کردی جائیں گی۔ لیکن مشرکوں کے دل قرآن سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا بھی ان کی اور بد اعمالیاں بھی ہیں جیسے شرک وغیرہ جسے یہ دھڑلے سے کررہے ہیں۔ تاکہ ان کی برائیاں انہیں جہنم سے دور نہ رہنے دیں۔ چناچہ وہ حدیث گزر چکی جس میں فرمان ہے کہ انسان نیکی کے کام کرتے…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 63
اصل میں لفظ " سٰمِراً " استعمال کیا گیا ہے۔ سمر کے معنی ہیں رات کے وقت بات چیت کرنا، گپیں ہانکنا، قصے کہانیاں کہنا۔ دیہاتی اور قصباتی زندگی میں یہ راتوں کی گپیں عموماً چوپالوں میں ہوا کرتی ہیں، اور یہی اہل مکہ کا بھی دستور تھا۔
Read the full tafseer →مُسْتَكْبِرِيْنَ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ ، اس میں لفظ بہ کی ضمیر اکثر مفسرین نے حرم کی طرف راجع قرار دی جو اگرچہ اوپر کہیں مذکور نہیں مگر حرم سے قریش مکہ کا گہرا تعلق اور ان پر ان کا ناز اتنا معروف و مشہور تھا کہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں اور معنے اس کے یہ ہیں کہ قریش مکہ کا اللہ کی آیتیں سن کر پچھلے پاؤں بھاگنے اور نہ ماننے کا سبب حرم مکہ کی نسبت اور اس کی خدمت پر ان کا تکبر اور ناز تھا۔ اور سامراً ، سمر سے مشتق ہے جس کے اصل معنے چاندنی رات کے ہیں۔ عرب کی عادت تھی کہ چاندنی رات میں بیٹھ کر قصے کہانیاں کہا کرتے تھے اس لئے لفظ سمر قصہ کہانی کے معنے میں استعمال ہونے لگا اور سامر قصہ گو کو کہا…
Read the full tafseer →متکبرین بہ سمراتھجرون (67)
آیت 67 کی تالف اور اس کی تاویل
اس آیت کی تالیف کلام اور اس کی تاویل میں ہمارے مفسرین کو بڑا اضطراب پیش آیا ہے۔ ان کے اقوال نقل کرنے اور ان پر تنقید کرنے میں بڑی طوالت ہوگی اس وجہ سے ہم صرف اپنی رائے پیش کرتے ہیں۔
استکبار کے بعد اب اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ لفظ یہاں استہزاء کے مفہوم پر مضمن ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
بہ کی ضمیر مجرور کا مرجع مفسرین کے ایک گروہ نے لفظ آیات کو قرار دیا ہے جو اوپر والی آیت میں مذکور ہے اور اس کو علی سبیل التاویل ذکر اور کتاب کے مفہوم میں لیا ہے۔ اگرچہ یہ بات عربیت کے خلاف نہیں ہے۔ آیت، کتاب، ذکر اور رسول متبادل الفاظ کی حیثیت سے…
Read the full tafseer →67-1یعنی انھیں اپنی تولیت خانہ کعبہ اور اس کا خادم و نگران ہونے کا جو غرور تھا، اس کی بنا پر آیات الٰہی کا انکار کیا اور بعض نے اس کا مرجع قرآن کو بنایا ہے اور مطلب یہ ہے کہ قرآن سن کر ان کے دل میں کھلبلی پیدا ہوجاتی جو انھیں قرآن پر ایمان لانے سے روک دیتی۔
67-2سَمَر کے معنی ہیں رات کی گفتگو یہاں اس کے معنی خاص طور پر ان باتوں کے ہیں جو قرآن کریم اور نبی ﷺ کے بارے میں وہ کرتے تھے اور اس کی بنا پر وہ حق کی بات سننے اور قبول کرنے سے انکار کردیتے۔ یعنی چھوڑ دیتے۔ اور بعض نے ہجر کے معنی فحش گوئی کے کئے ہیں۔ یعنی راتوں کی گفتگو میں تم قرآن کی شان میں بےہودہ اور فحش باتیں کرتے ہو، جن میں کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
23: یعنی کفر اور شرک کے علاوہ ان لوگوں کے اور بھی بہت سے برے کام ہیں جو وہ کرتے رہتے ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
بل قلو بھم تھجرون (آیت نمبر 62 تا 67)
یعنی یہ لوگ جن حالات میں مشغول ہیں ان میں وہ اس لیے غرق نہیں ہیں کہ پیغبران کوا ان کی طاقت سے زیادہ احکام دیتے ہیں بلکہ اصل سبب یہ ہے کہ یہ لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اس سچائی کی طرف متوجہ ہی نہیں ہیں جسے قرآن کریم پیش کرتا ہے بلکہ وہ ان دوسری راہوں پر بہتے چلے جاتے ہیں ۔ اور یہ راہیں اسلام سے متضادرا ہیں ہیں۔
ولھم اعمال من دون ذلک ھم لھا عملون (23 : 63) ” اور ان کے اعمال اس طریقے سے مختلف ہیں اور یہ لوگ وہ اعمال کرتے دلے جاتے ہیں “۔ اب اس منظر کو پیش کیا جاتا ہے کہ جب اللہ کا عذاب ان کو آلیتا ہے ۔ یہ عذاب بہت ہی تباہ کن ہے ، اچانک ہے دفعتہ ان کو گھیر…
Read the full tafseer →3 یعنی پیغمبر کی مجلس سے ایسے بھاگتے تھے گویا کسی فضول قصہ گو کو چھوڑ کر چلے گئے یا سامِرًا تَہْجُرُوْنَ کا مطلب یہ ہے کہ رات کے وقت حرم میں بیٹھ کر پیغمبر ﷺ اور قرآن کریم کی نسبت باتیں بناتے اور طرح طرح کے قصے گھڑتے تھے، کوئی جادو کہتا تھا، کوئی شاعری، کوئی کہانت، کوئی کچھ اور۔ اسی طرح کی بکواس اور بیہودہ ہذیان کیا کرتے تھے۔ آج اس کا مزہ چکھو۔ چیخنے چلانے سے کچھ حاصل نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 67 مُسْتَکْبِرِیْنَق بِہٖ سٰمِرًا تَہْجُرُوْنَ ”
اس زمانے میں عربوں کے ہاں قصہ گوئی کا بہت رواج تھا۔ پیشہ ور قصہ گو راتوں کو مجمع جما کر قصے سنایا کرتے تھے۔ یہ عام لوگوں کے لیے تفریح کا ذریعہ تھا اور قصہ گو کے لیے کمائی کا وسیلہ۔ اسی طرح کے قصہ گو ہندوستان میں راجپوتوں کے ہاں بھی پائے جاتے تھے جو ان کے لیے راتوں کو محفلیں سجاتے تھے۔ چناچہ اس پس منظر میں مشرکین مکہ کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ کیا تم لوگوں نے ہمارے رسول ﷺ کو بھی قصہ گو سمجھ رکھا ہے کہ آپ ﷺ کی بات سننا یا نہ سننا تمہارے لیے برابر ہے ؟ اور تم سمجھتے ہو کہ آپ ﷺ کی بات ماننے یا نہ ماننے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ؟ تم لوگوں کو…
Read the full tafseer →67 سمر کے معنی رات کے وقت سونے سے پیشتر ایک دوسرے سے قصے کہانیاں بیان کرنا۔ تاکہ ان قصے کہانیوں میں محو ہو کر نیند آجائے۔ یہ قصے یا افسانے یا کہانیاں محض دفع الوقتی یا خوش وقتی کے لئے سنے سنائے جاتے ہیں۔ ان کا اور کچھ مقصد نہیں ہوتا۔ دیہاتوں میں آج بھی یہ دستور ہے کہ بڑے لوگ چھوٹوں کو کوئی بھوت پریت یا ایسی ہی دوسری کہانیاں سناتے ہیں اور مکہ میں بھی یہی دستور تھا۔ اور مجر کے معنی بیماری، نیم بےہوشی یا نیم خفتگی کی حالت میں مہمل سی باتیں کرنا یا بڑبڑانا۔
گویا مترفین یا ان عیاش لوگوں کا جرم یہ تھا کہ اللہ کی آیات کو سننا بھی گوارا نہ کرتے تھے اور راہ تکبر منہ موڑتے ہوئے واپس چلے جاتے تھے۔ مزید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
60۔ جو دارالعمل تھا اس میں تو تمہاری یہ حالت تھی۔ شان نزول کی روایتوں میں آتا ہے کہ یہ فخر وناز کرنے والے قریش تھے۔ جنہیں فخر تولیت و خدمت کعبہ پر تھا۔ مشائخ محققین نے اس سے اخذ کرکے کہا ہے کہ اپنی کسی نسبت یا فضیلت اضافی پر، مثلا یہ کہ ہم فلاں بزرگ کی اولاد ہیں، فلاں فلاں برکات کے حامل ہیں فخر کرنا مذموم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
آیت نمبر 51 تا 77
ترجمہ : اے پیغمبرو ! پاکیزہ حلال چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو وہ فرض اور نفل ہیں بلاشبہ میں تمہارے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں تو میں ان کاموں پر تم کو جزاء دوں گا اور یہ بات جان لو کہ یہ یعنی ملت اسلام اے مخاطبو تمہارا دین ہے یعنی تمہارے لئے واجب ہے کہ تم اس پر قائم رہو حال یہ ہے کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے یہ حال لازمہ ہے اور ایک قرأت میں اَنْ کے نون کی تخفیف کے ساتھ ہے اور دوسری قرأت میں ہمزہ کے کسرہ اور نون کی تشدید کے ساتھ ہے اور یہ استیناف کے اعتبار سے ہے میں تمہارا رب ہوں تم مجھ سے ڈرتے رہو پھر وہ متبعین اپنے دینی معاملہ میں آپس میں مختلف ہوگئے زُبُرًا تقطعوا کے فاعل سے…
Read the full tafseer →مستکبرین بہ سمرا تہجرون۔ تکبر کرتے ہوئے قرآن کا مشغلہ
بناتے ہوئے (اس قرآن کی شان میں) بےہودہ بکتے ہوئے۔ نکوص الٹے پاؤں پلٹنا ‘ یعنی تم پشت پھیر کر منہ موڑ کر چل دیتے تھے۔ عمل تو کیا اس کو مانتے بھی نہ تھے سنتے بھی نہ تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرنے سے اور ان پر ایمان لانے سے تمہارا غرور روکتا تھا تم دوسرے لوگوں کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے۔
بِہٖحرم کی وجہ سے بِہٖ کی ضمیر حرم کی طرف راجع ہے اگرچہ حرم کا لفظ مذکور نہیں ہے کیونکہ حرم والے ہونے کی وجہ سے ان کا غرور مشہور تھا۔ اس لئے مرجع کو ذکر کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ قریش کہا کرتے تھے ہم اہل حرم ہیں ‘ خانۂ خدا کے پڑوسی ہیں ‘ ہم کسی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
(66۔ 67) قرآن حکیم تمہیں پڑھ کر سنایا جایا کرتا تھا اور تمہارے سامنے پیش کیا جاتا تھا تو تم اپنے پہلے دین کی طرف لوٹتے تھے اور بیت اللہ شریف کی وجہ سے خود کو بڑا سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اس کے زیادہ حق دار ہیں اور کہتے تھے مشغلہ اس کے چاروں طرف ہے اور رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ اور قرآن کریم کی شان میں تم لوگ بیہودہ باتیں بکتے تھے۔
شان نزول : (آیت) ”۔ مستکبرین بہ“۔ (الخ)
اب ابی حاتم ؒ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ قریش قوم بیت اللہ کے گرد قصے کہانیاں کہا کرتی تھی اور طواف نہیں کرتی تھی اور پھر اس پر فخر کرتے چناچہ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Read the full tafseer →”ۙمُسْتَكْبِرِيْنَ“ یہ ”تَنْكِصُوْن“ کی ضمیر سے حال ہے، یعنی ہماری آیات کی تلاوت کے وقت تمہارا الٹے پاؤں پھرجانا کسی خوف یا مصروفیت یا کسی اور وجہ سے نہیں تھا، بلکہ تم محض تکبر کرتے ہوئے سننے سے اجتناب کے لیے ایڑیوں پر پھرجاتے تھے۔
بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ : ”سَمَرَ یَسْمُرُ سَمْرًا وَ سُمُوْرًا فَھُوَ سَامِرٌ“ (ن) رات کو دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنا اور قصے کہانیاں سنانا۔ ”ھَجَرَ یَھْجُرُ ھَجْرًا وَ ھِجْرَۃً“ چھوڑنا اور ”ھُجْرًا“ بےہودہ، لغو اور فضول باتیں کرنا، بکواس کرنا۔ ”بِهٖ“ کی ضمیر قرآن کی طرف جاتی ہے، جو آیات کے ضمن میں مذکور ہے، یعنی رات کو باتیں کرتے ہوئے تم اس قرآن کے متعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
آیت نمبر 66-67
اللہ کا ارشاد ہے : تتلیٰ علیکم تم پر پڑھی جاتی ہیں۔ ضحاک نے کہا قتل کے ساتھ عذاب دینے سے پہلے۔ تنکصون۔ تم پیچھے کی طرف لوٹتے ہو (احکام القرآن للطبری، جز 17-18، صفحہ 48) مجاہد نے کہا : اس کا معنی پیچھے ہٹتے ہو۔ اس کی اصل الٹے پائوں پیچھے ہٹنا ہے، شاعر نے کہا :
زعمو بانھم علی سبل النجا وانما نکص علی الاعقاب
یہاں حق سے اعراض سے استعارہ ہے۔ حضرت علی نے علی ادبارکم پڑھا ہے۔ تنکصون کاف کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ مستکبرین بہ کی ضمیر سے حال ہے۔ جمہور نے کہا : یہ ضمیر حرم یا مسجد یا البلد کی طرف لوٹ رہی ہے، البلد سے مراد مکہ ہے اگرچہ اس کا پہلے ذکر نہیں لیکن معاملہ میں اس کی شہرت کی وجہ سے ضمیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–67
1۔ نسائی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” حتی اذا اخذنا مترفیہم بالعذاب “ سے مراد ہے بدر کے مقتول یعنی وہ کافر جو جنگ بدر میں مقتول ہوئے۔
2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” حتی اذا اخذنا مترفیہم بالعذاب “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جن کو اللہ تعالیٰ نے بدر کے دن قتل کیا۔
3۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” حتی اذا اخذنا مترفیہم بالعذاب “ سے وہ کافر مراد ہیں جو بدر کے دن تلوار کے ساتھ قتل کیے گئے آیت ” اذا ہم یجئرون “ جبکہ یہ لوگ مکہ میں گڑ…
Read the full tafseer →[ مُسْتَكْبِرِيْنَ : سب تکبر کرنے والے ] [ بِهٖ : اس کو ] [ سٰمِرًا : افسانہ گوئی کرتے ہوئے ] [ تَهْجُرُوْنَ : تم سب بےہودہ گوئی کرتے (تھے) ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–70
کافروں کا حق سے منہ موڑنا، تکبر کرنا، اور تدبر سے دوررہنا
اوپر اہل ایمان کا تذکرہ فرمایا اب ان آیات میں منکرین کے احوال اور اعمال بیان فرمائے اول تو یہ فرمایا کہ ان لوگوں کے دل میں جہالت نے جگہ پکڑ رکھی ہے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے دین کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ان کے دل جہالت سے بھرے ہوئے ہیں تکذیب و انکار کے علاوہ دیگر اعمال خبیثہ کا بھی ارتکاب کرتے ہیں یہ لوگ اسی حال میں رہیں گے یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوش حال لوگوں کو پکڑ لیں گے اور ان پر عذاب بھیج دیں گے تو فوراً چلا اٹھیں گے، جب پہلے حق کی دعوت دی گئی تبلیغ کی گئی تو حق کو ٹھکرایا اور بات نہ مانی اب جب عذاب آگیا تو چلانے لگے، ان سے کہا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–67
ترغیب بر اعمال خیر وبیان حال و مآل اہل طغیان
قال اللہ تعالیٰ ولا نکلف نفسا الا وسعھا .... الیٰ .... سمرا تھجرون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں جن اعمال خیر کی مدح فرمائی تھی اب ان آیات میں ان کی ترغیب دیتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ وہ افعال و اعمال جو خدا کے نزدیک پسندیدہ ہیں کچھ دشوار نہیں بلکہ آسان ہیں اور جن لوگوں کو ان نیکیوں کی طرف رغبت نہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ احکام اسلام سخت اور دشوار ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ تکبر اور غرور کی وجہ سے ان کے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں جب خدا کا عذاب دیکھتے ہیں تب ہوش آتا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور جن اعمال خیر میں اہل ایمان مسارعت اور مسابقت کر رہے ہیں، یہ اعمال کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
57:۔ ” قَدْکَانَتْ الخ “ یہ ماقبل کی علت ہے تنکصون ای ترجعون، مستکبرین، تنکصون کے فاعل سے حال ہے۔ بہ کی ضمیر قرآن مجید سے کنایہ ہے جو ” آیاتی “ سے مفہوم ہورہا ہے۔ ” سٰمرًا “ ، ” تَھجرون “ کا مفعول بہ مقدم ہے۔ ” سامر “ سے واعظ اور قاری قرآن مراد ہے جو قرآن پڑھ کر تمہیں سناتا اور توحید کی تبلیغ کرتا ہے یعنی آج تمہاری مدد نہیں کی جائے گی کیونکہ پہلے تمہارا یہ حال تھا کہ ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو تم استکبار کرتے تھے اور آیتیں سنانے والے کو چھوڑ کر اور پیٹھ پھیر کر چلے جاتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دلائل توحید ذکر کرنے کے بعد نافرمان لوگوں کا حال بیان کیا اور اس سلسلے میں بہت سے نبیوں کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا مگر انہوں نے انکار کیا۔ آخر میں موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر آیا۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ کا بھی مختصر تذکرہ ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے تمام نبیوں کی مشترک تعلیم کا ذکر کیا۔ اللہ نے تمام رسولوں کو یہی اصول سمجھایا کلوا من الطیبت واعملوا صالحا ہمیشہ حلال اور طیب چیز کھائو اور نیک اعمال انجام دو ۔ اسی اصول ملت کی تعلیم انبیاء (علیہم السلام) نے عام لوگوں کو بھی دی ۔ پھر بعد میں لوگوں میں…
Read the full tafseer →مُسْتَكْبِرِيْنَ 0ۤۖ بِہٖ سٰمِرًا تَہْجُرُوْنَ 67
الاسْتِكْبارُ
والْكِبْرُ والتَّكَبُّرُ والِاسْتِكْبَارُ تتقارب، فالکبر الحالة التي يتخصّص بها الإنسان من إعجابه بنفسه، وذلک أن يرى الإنسان نفسه أكبر من غيره . وأعظم التّكبّر التّكبّر علی اللہ بالامتناع من قبول الحقّ والإذعان له بالعبادة .
والاسْتِكْبارُ يقال علی وجهين :
أحدهما :
أن يتحرّى الإنسان ويطلب أن يصير كبيرا، وذلک متی کان علی ما يجب، وفي المکان الذي يجب، وفي الوقت الذي يجب فمحمود .
والثاني :
أن يتشبّع فيظهر من نفسه ما ليس له، وهذا هو المذموم، وعلی هذا ما ورد في القرآن . وهو ما قال تعالی: أَبى وَاسْتَكْبَرَ
[ البقرة/ 34] .
( ک ب ر )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–75
اہل ایمان کے چند اوصاف حمیدہ ذکر کرکے فرمایا تھا کہ یہی لوگ نیکیوں میں سبقت کر رہے ہیں۔ اب مخالفوں کو رغبت دلاتا ہے کہ لانکلف نفسا الا وسعہا ہم کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے یعنی احکام سخت پر مامور نہیں کرتے آسان اور سہل حکم دیا کرتے ہیں پھر اے کم بخت منکرو ! تم کیوں ان نیکیوں میں پیچھے رہے جاتے ہو ؟ اور یہ خیال کرنا کہ ان نیکیوں میں سعی کرنا بےفائدہ ہے ان کو آخرت میں کون یاد رکھے گا ؟ غلط خیال ہے کس لیے کہ ولدنیا کتاب ینطق بالحق وھم لایظلمون۔ ہمارے پاس ایک کتاب ہے اس میں یہ سب کچھ لکھا جاتا ہے ہر فرد و بشر کے اعمال کراماً کاتبین لکھا کرتے ہیں یہ کتاب ہر ایک بات ٹھیک ٹھیک بیان کر دے گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
قَدْ کَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ فَکُنْتُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ تَنْکِصُوْن۔ مُسْتَکْبِرِیْنَ صلے ق بِہٖ سٰمِرًا تَھْجُرُوْن۔ (المومنون : 66، 67)
(وہ وقت یا دکرو) جب ہماری آیتیں تمہارے سامنے پڑھی جاتی تھیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جایا کرتے تھے۔ غرور وتکبر کرتے ہوئے۔ گویا کسی افسانہ گو کو چھوڑ رہے ہو۔ )
جب ان کے مترفین پر عذاب آئے گا تو وہ چیختے چلاتے ہوئے اللہ کو مدد کے لیے پکاریں گے۔ تو ان سے کہا جائے گا کہ مدد مانگنے کا تو وہ وقت تھا جب تم پر اللہ کا رسول اللہ کی کتاب کی آیات پڑھ کر سناتا تھا اور تمہارے عقائد و اعمال پر نہایت مخلصانہ تنقید کے ساتھ تم پر تمہاری کو تاہیاں واضح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
فہم القرآن
ربط کلام : جہنم میں داخل کیے جانے والوں کے دیگر جرائم۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اس لیے نازل فرمایا ہے تاکہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور تباہ ہونے والی اقوام کے انجام سے ڈریں۔ لیکن جہنم میں داخل کیے جانے والوں کا یہ جرم ہوگا کہ وہ قرآن مجید کی آیات پر غور اور اپنے سے پہلی اقوام کے انجام سے عبرت نہیں سیکھتے تھے یہاں سوالیہ انداز میں ان سے چند استفسار کیے گئے ہیں کیا یہ لوگ قرآن مجید کو غور کے قابل نہیں سمجھتے یا جس بات پر تعجب کر رہے ہیں یہ دعوت ان کے آباؤ اجداد کو نہیں پہنچی یا پھر اپنے رسول کو نہیں پہنچانتے ظاہر بات ہے کہ ان باتوں میں ان کی کوئی بات بھی سچ نہ تھی۔ اگر یہ قرآن…
Read the full tafseer →67: مُسْتَکْبِرِیْنَ (تکبر کرتے ہوئے) مسلمان پر بڑھائی ظاہر کرتے ہوئے۔
نحو : یہ تنکصون سے حال ہے۔
بِہٖ (بیت اللہ پر یا حرم پر۔ ) کفار یہ کہا کرتے تھے کہ ہم اہل حرم ہیں۔ اس لئے ہم پر کوئی غالب نہ آئے گا۔ یہ مفہوم اس قول کے مطابق ہے۔ جنہوں نے ضمیر کا مرجع بیت کو قرار دیکر استکبار بالبیت مراد لیا۔ نمبر 2۔ ہٖ کا مرجع آیات قرار دیا۔ انہوں نے آیات کو کتاب کے معنی میں لیا اور استکبار بالقرآن کا مطلب تکذیب ہے۔
نحو : مستکبرین میں ضمناً مکذبینؔ کا معنی پایا جاتا ہے اسی لئے اس کے متعدی بنانے کیلئے کذب فعل والاحرف تعدیہ استعمال کرلیا گیا ہے۔
نمبر 3۔ یاؔ سامرًا سے متعلق ہے : ای تسمرون بذکر القرآن و بالطعن…
Read the full tafseer →67۔ مستکبرین بہ۔ اس کنایہ میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ ان کے قصے واضح ہیں۔ ان کامرجع بیت الحرام قرار دیا ہے اور کنایہ مذکور نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اس بات سے تکبر کرتے ہیں کہ ہم ہی بیت اللہ کی تعظیم کرنے والے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ہی اہل ہیں اسکے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم پر کوئی خوف نہیں اور تمام لوگوں میں سے وہ اپنے آپ کو امن میں سمجھتے تھے۔
بعض نے کہا کہ وہ قرآن سے تکبر کرتے تھے اس پر ایمان نہیں لاتے تھے پہلاقول واضح اور ظاہر ہے ۔ سامرا، منصوب ہے حال ہونے کی وجہ سے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ رات کے وقت داستانیں ، قصے ، کہانیاں کرتے کعبہ کے اردگرد حلقے بناتے اور اس میں یہ قصے گوئیاں کرتے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
63۔ 67:۔ اوپر کی آیتوں میں ان کا ذکر تھا ‘ جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک قرار پاچکے ہیں ‘ ان آیتوں میں ان بدلوگوں کا ذکر فرمایا گیا ہے جو علم ازلی الٰہی میں بد قرار پاچکے ہیں اور ہر وقت دین کے کاموں کی طرف سے ان کے دل غافل ہیں ‘ ان آیتوں کی تفسیر بہت سی صحیح حدیثوں میں آئی ہے چناچہ صحیح بخاری میں جو روایتیں ہیں ‘ ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جس وقت فرمایا دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جنتی ہر شخص کا نام اہل جنت میں اور دوزخی ہر شخص کا نام اہل دوزخ میں لکھ لیا ہے تو یہ بات سن کر صحابہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت پھر نیک عمل کی کیا ضرورت ہے ہم لوگ اپنی تقدیر پر شاکر ہو نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
آیت (63
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ جھٹلانے والے ‘ اس بارے میں جہالت میں مبتلا ہیں یعنی جہالت ‘ ظلم ‘ غفلت اور روگردانی میں غلطاں ہیں یہ جہالت اور غفلت انہیں قرآن تک نہیں پہنچنے دیتی۔ پس یہ قرآن سے راہنمائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں اور قرآن سے ان کے دلوں تک کچھ نہیں پہنچتا۔ فرمایا : ( آیت واذا قراتن القران) (بنی اسرآئیل : (49, 45/7” جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو آپ کے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم ایک پردہ حائل کردیتے ہیں اور دلوں پر غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دیتے ہیں۔ “ اور جب ان کے دل غفلت اور جہالت میں مستغرق ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–118
قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
82 اللہ کی آیتوں سے الٹے پاؤں پھرنا محرومیوں کی محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں سے کہا جائے گا کہ ہماری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی جانی چاہیے تھیں مگر تم لوگ ہماری آیتوں سے الٹے پاؤں پھر جایا کرتے تھے اور ان پر کان نہیں دھرتے تھے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اس کتاب حکیم سے منہ موڑنا دراصل عذاب الہٰی کو دعوت دینا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور طرح طرح کے ان عذابوں سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان دنیاوی زندگی کی اس فرصت محدود میں قرآن پاک کی طرف سچے دل سے رجوع ہوجائے۔ اس پر صحیح و سچا ایمان لے آئے اور اس کے ارشادات و ہدایات کے مطابق اپنا عقیدئہ اور عمل درست کرلے۔ سو یہ کتاب حکیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–77
اللہ رحیم بھی ہے اور حساب لینے والا بھی ہے
تشریح : یہ آیات بڑی معنی خیز ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ احکامات انسان کے لیے نازل کیے گئے ہیں چاہے وہ دین سے تعلق رکھتے ہوں ایمان سے ‘ وحی سے انسانی زندگی سے ‘ عبادات اور عملیات سے تعلق رکھتے ہوں سب ہی بےحد آسان فائدہ مند اور معمولات انسانی سے مطابقت رکھنے والے ہیں۔ کوئی بھی ایسا فریضہ یا اصول نافذ نہیں کیا گیا جس کو پورا کرنا انسان کے لیے مشکل یا ناممکن ہو یا نقصان دہ ہو۔ اسی لیے بار بار کہا گیا ہے کہ تمام مذاہب سے زیادہ آسان اور معقول مذہب اسلام ہے۔ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس بات کا ثبوت ہر جگہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اور تمام رسولوں کو اللہ جل جلالہ نے ایک طریق حیات عطا فرما کر حکم دیا کہ پاکیزہ اور نفیس چیزیں کھاؤ اور اللہ جل جلالہ کے بتائے ہوئے قواعد پر عمل کرو کہ می تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں یہ قوم جس کی طرف تم مبعوث ہوئے ہو تمہاری جماعت ہے جو ایک ہے اور متفق ومتحد ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری عظمت کو ہر حال میں پیش نظر رکھو۔
(غذا اور عمل)
یہاں انبیاء کرام (علیہ السلام) ورسل کو ارشاد فرما کر تمام قوموں کو ایک اصولی ضابطہ بتایا گیا ہے کہ حلال اور پاکیزہ غذا سے توفیق عمل نصیب ہوتی ہے اور اگر غذا ہی حلال نہ ہو تو نیک عمل کی توفیق بھی نہیں ہوتی ، اگر کر بھی لے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
6 ۔ پس یہاں ” القول “ سے مراد قرآن ہے جیسا کہ دوسری آیت میں ہے : افلا یتدبرون القران۔ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے۔ (نساء :82) یعنی اگر غور کرتے تو صاف معلوم ہوجاتا کہ قرآن سچی کتاب۔ 7 ۔ یعنی قرآن میں کوئی ایسی بات نہیں ہے بلکہ اس میں وہی باتیں ہیں جو اللہ کے پیغمبر ﷺ ہر زمانہ میں لاتے رہے ہیں۔ یہاں ” اباء ھم الاولین “ سے مراد پہلی امتیں ہیں۔ کیونکہ عربوں کے آباء کے متعلق تو تصریح موجود ہے کہ ان کے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ (یٰٓس :6)
Read the full tafseer →(23:27) مستکبرین۔ تنکصون سے حال ہے۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ باب استفعال ۔ اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والے۔ مغرور۔
بہ۔ میں ب سببیہ ہے اور ضمیر ہ بیت العتیق یا حرم کے لئے ہے۔ مستکبرین بہ۔ کعبہ شریف کی تولیت و خدمت کی وجہ سے فخرو تکبر کرنے والے (یہ اہل قریش تھے) ۔
سمرا۔ السمر۔ اصل میں رات کی تاریکی کو کہتے ہیں اور اسی سے محاورہ ہے لا اتیک السمر والقمر۔ کہ میں تیرے پاس کبھی نہیں آئوں گا (رات کی تاریکی ہو یا چاند کی چاندنی) پھر رات کو باتیں کرنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اور سمر فلان کے معنی ہیں اس نے رات کو باتیں کیں۔
سامرا۔ کہانی سنانے والا۔ افسانہ گو ! دستاں سرا۔ سمر مصدر۔ سمر یسمر (نصر) (رات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–77
لانکلف ‘ ہم بوجھ نہیں ڈالتے۔ ہم تکلیف نہیں دیتے (لدینا) ہمارے پاس ‘ (ینطق) بولتا ہے ‘(غمرۃ) بیخبر ی۔ غفلت۔ جہالت۔ سختی ‘(مترفی (مترفین) عیش پسند و خوشحال لوگ ‘ (یجئرون) وہ چیختے چلاتے ہیں ‘ (اعقاب (عقب) ایڑیاں ‘(تنکصون) تم الٹے پاؤں پھرجاتے ہو۔ (سامر) رات کو قصے گھڑ گھڑ کر سنانے والا ‘ (تھجرون) برے الفاظ سے یاد کرتے ہو ‘ لم یدبرو (غور نہیں کیا) (کارھون (ناپسند کرنے والے) ‘ خرج (معاوضہ ۔ بدلہ) ‘ لجوا (منہمک رہے۔ وہ اڑے رہے) مایتضرعون (وہ گڑ گراتے نہیں ہیں) ‘ مبلسون (حیران رہ جانے والے)
تشریح : آیت نمبر 62 تا 77 :
تمام انسانوں پر اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ وہ کسی پر اتنا بوجھ نہیں ڈالتا جسے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
منکرین قرآن کا ذکر۔
(ف 2) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ شرک کے وبال میں ان لوگوں سے بڑھ کر خوش حال پچھلی قومیں جب طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئیں۔ جس کے قصے کئی دفعہ ان کو سنادیے گئے تو ان مشرکوں کا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ ان کے مال واولاد کی ترقی اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور خوش ہے بلکہ ان لوگوں کے اس غلط خیال پر جمے رہنے کا سبب یہی ہے کہ یہ لوگ قرآن کی نصیحت کو دھیان سے نہیں سنتے۔ اور نیک لوگوں کے جو کام ان کو اوپر کی آیتوں میں بتلائے گئے ہیں رات دن ان کاموں کے برخلاف کام کرتے ہیں لیکن ان میں بڑے بڑے خوش حال وقت مقررہ پر جب عذاب آخرت میں گرفتار ہوجاویں گے تو عذاب کی تکلیف سے بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
[31] اصل میں لفظ '' مترفین '' استعمال کیا گیا ہے۔ مترفین ان لوگوں کو کہتے ہیں جو مال و دولت پا کر عیش کر رہے ہوں اور اللہ کی مخلوق کے حقوق سے غافل ہوں۔
[32] عذاب سے مراد یہاں آخرت کا عذاب نہیں بلکہ دنیا کا عذاب ہے۔ چناچہ اس عذاب کا ایک نمونہ کفار کو بدر میں دکھایا گیا جہاں ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے یا قید ہوگئے اور عورتیں مہینوں تک ان کا نوحہ کرتی رہیں۔ ایک مرتبہ جب رسول اکرم ﷺ نے کفار کے مظالم سے تنگ کر آ کر بددعا فرمائی تو سات سال کا قحط مسلط ہوا اور مردار، ہڈیاں اور چمڑے کھانے کی نوبت آگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
آج نہ چلاؤ:
(ف 1) ارشاد ہے کہ سرمایہ دار اور خوشحال لوگ جو ازراہ غرور وکبر اسلام کی صداقتوں اور سچائیوں کو ٹھکرا رہے ہیں ، ایک وقت آئے گا جب نہایت بیچارگی کے ساتھ ہمارے سامنے پیش کئے جائیں گے ، اور ان کے عذاب کا فیصلہ ہوگا ، اس وقت یہ چیخیں گے اور چلائیں گے ، اور فریاد کریں گے ، تب ہم کہیں گے آج چیخنا اور چلانا بالکل بےسود ہے ، تمہیں ہم سے کوئی مدد نہیں ملے گی ، جانتے ہو ، دنیا میں تمہارا وتیرہ کیا تھا تمہارے پاس میرے احکام آنے اور تم نے انکار کردیا ، میری آیتیں پڑھی گئیں ، اور تم انہیں سن کر بھاگ کھڑے ہوئے تم نے تکبر اور غرور کا اظہار کیا ، تم نے راتوں کو قرآن کو ہجو ومذمت کے افسانوں میں…
Read the full tafseer →(67) کہ اس قرآن کریم سے تکبر کرتے ہوئے اور اس کو افسانہ گوئی کا مشغلہ بناتے ہوئے اور بیہودہ بکواس کرتے ہوئے یعنی قرآن کریم کی آیتیں سن کر الٹے پائوں لوٹ جاتے تھے اور حالت یہ ہوتی تھی کہ تکبر کا اظہار کرتے تھے قرآن کریم کے ساتھ اور اس کو افسانہ گوئی اور قہق ہے کہانیاں کہتے ہوئے اور فحش گوئی کرتے ہوئے لوٹا کرتے تھے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ رات کو مسجد حرام میں بیٹھ کر قصے اور کہانیاں بیان کیا کرتے تھے اور اس میں قرآن کریم اور پیغمبر اسلام کی ہجو کرتے تھے اور آپ کو کاہن اور شاعر اور قرآن کریم کو پچھلوں کی کہانیاں کہتے تھے ۔ اب آگے پھر قرآن کریم اور رسول کے متعلق غور و فکر کا حکم ہے۔
Read the full tafseer →ف 1۔ کوئی اس کو سحر کہتا تھا کوئی شعر کہتا تھا، اور مشغلہ کا یہی مطلب ہے۔
Read the full tafseer →تم ہماری آیتوں کو سن کر ان کے خلاف ہذیان بکتے تھے اور تمہارا مشغلہ عجیب تھا :
67۔ (سامرا) کہانی بیان کرنے والا ’ قصہ گو ‘ داستان سرا (سمر) سے جس کے معنی رات کے وقت قصہ گوئی کے ہیں ۔ جاڑے کی لمبی راتوں میں وقت گزاری کرنے اور تفریح طبع کے لئے مختلف زمانوں میں مختلف طور طریقے رائج رہے ہیں ۔ قرآن کریم کے نزول کے وقت اور اس سے پہلے بلکہ بہت عرصہ بعد تک یہ رسم جاری تھی کہ کچھ لوگ بات سے بات نکالتے اور فرضی قصے اور کہانیاں بیان کرکے راتوں کو گزارتے تھے ان قصہ گوؤں کو ” سمر “ کہا جاتا تھا ، نزول قرآن کریم کے وقت کچھ لوگوں کا مشغلہ یہ تھا کہ رات کے وقت مجلسیں قائم کرتے اور ان مجلسوں میں قرآن کریم کے…
Read the full tafseer →(1). Another possible translation of this verse may be as follows: 'but you used to turn back on your heels, being over-proud of it (the Karam being looked after by you), indulging in tales at night, talking nonsense." It is this second translation on which the forthcoming explanation is based.
مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَامِرًا تَهْجُرُونَ (Being over-proud of it (the haram), indulging in tales at night talking non-sense). According to many commentators the word (on it) in this verse has a reference to the Haram (the sanctuary of Makkah). Although there is no specific mention of the Haram in…
Read the full tafseer →63. The meeting places where the people of Makkah gathered together at night to hold consultations, to gossip and tell tales, etc.
Read the full tafseer →