Explained with ayahs 62–67
آسان شریعت
اللہ تعالیٰ نے شریعت آسان رکھی ہے۔ ایسے احکام نہیں دئیے جو انسانی طاقت سے خارج ہوں۔ پھر قیامت کے دن وہ اعمال کا حساب لے گا جو سب کے سب کتابی صورت میں لکھے ہوئے موجود ہوں گے۔ یہ نامہ اعمال صحیح صحیح طور پر ان کا ایک ایک عمل بتادے گا۔ کسی طرح کا ظلم کسی پر نہ کیا جائے گا کوئی نیکی کم نہ ہوگی ہاں اکثر مومنوں کی برائیاں معاف کردی جائیں گی۔ لیکن مشرکوں کے دل قرآن سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا بھی ان کی اور بد اعمالیاں بھی ہیں جیسے شرک وغیرہ جسے یہ دھڑلے سے کررہے ہیں۔ تاکہ ان کی برائیاں انہیں جہنم سے دور نہ رہنے دیں۔ چناچہ وہ حدیث گزر چکی جس میں فرمان ہے کہ انسان نیکی کے کام کرتے…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 62
یعنی اس کی بات سننا تک تمہیں گوارا نہ تھا۔ یہ تک برداشت نہ کرتے تھے کہ اس کی آواز کان میں پڑے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
مُتْرَفِيْهِمْ ، مترف، ترف سے مشتق ہے جس کے معنے تنعم اور خوشحالی کے ہیں۔ اس جگہ اس قوم کو عذاب میں پکڑنے کا ذکر ہے جس میں امیر غریب خوشحال بدحال سبھی داخل ہوں گے مگر مترفین اور خوشحالوں کا ذکر خاص طور پر اس لئے کیا کہ ایسے ہی لوگ دنیا کے مصائب سے اپنے بچاؤ کا کچھ سامان کرلیا کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کا عذاب جب آتا ہے تو سب سے پہلے یہی لوگ بےبس ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس آیت میں جس عذاب کے اندر ان کے پکڑے جانے کا ذکر ہے حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو غزوہ بدر میں مسلمانوں کی تلوار سے ان کے سرداروں پر پڑا تھا۔ اور بعض حضرات نے اس عذاب سے مراد قحط کا عذاب لیا ہے جو رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
آیت 66-65
یعن اس وقت ان کی فریاد کا جواب ہماری طرف سے یہ ہوگا کہ اب ہمارے آگے رونے گڑ گڑانے کا وقت گزر چکا۔ اس کا موقع پہلے تھا لیکن وقت تو تمہاری رعونت کا حال یہ رہا کہ جب ہماری آیات انذار تم کو سنائی جاتیں تو تم پیٹھ پیچھے جاگتے اور ہمارے رسول کی کوئی بات سننے کے لئے تایر نہ ہوتے تو اب اپنی ضد کا انجام بھگتو ! اب ہماری طرف سے اپنے لئے کسی خیر کی امید نہ رکھو اور کوئی دوسرا بھی آج ہمارے مقابل میں تمہاری کوئی مدد نہ کرسکے گا۔ فرعون کی سرگزشت میں بھی بعینیہ یہی بات مذکور ہوئی ہے۔ وہ جب طوفان کی لپیٹ میں آگیا تو چلایا کہ میں موسیٰ و ہارون کے رب پر ایمان لایا۔ لیکن اس کا یہ اقرار ایمان درخور…
Read the full tafseer →66-1یعنی قرآن مجید یا کلام الٰہی، جن میں پیغمبر کے فرمودات بھی شامل ہیں۔
66-2یعنی آیا احکام الٰہی سن کر تم منہ پھیر لیتے تھے اور ان سے بھا گتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
23: یعنی کفر اور شرک کے علاوہ ان لوگوں کے اور بھی بہت سے برے کام ہیں جو وہ کرتے رہتے ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
بل قلو بھم تھجرون (آیت نمبر 62 تا 67)
یعنی یہ لوگ جن حالات میں مشغول ہیں ان میں وہ اس لیے غرق نہیں ہیں کہ پیغبران کوا ان کی طاقت سے زیادہ احکام دیتے ہیں بلکہ اصل سبب یہ ہے کہ یہ لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اس سچائی کی طرف متوجہ ہی نہیں ہیں جسے قرآن کریم پیش کرتا ہے بلکہ وہ ان دوسری راہوں پر بہتے چلے جاتے ہیں ۔ اور یہ راہیں اسلام سے متضادرا ہیں ہیں۔
ولھم اعمال من دون ذلک ھم لھا عملون (23 : 63) ” اور ان کے اعمال اس طریقے سے مختلف ہیں اور یہ لوگ وہ اعمال کرتے دلے جاتے ہیں “۔ اب اس منظر کو پیش کیا جاتا ہے کہ جب اللہ کا عذاب ان کو آلیتا ہے ۔ یہ عذاب بہت ہی تباہ کن ہے ، اچانک ہے دفعتہ ان کو گھیر…
Read the full tafseer →2 یعنی اب کیوں شور مچاتے ہو، وہ وقت یاد کرو جب خدا کے پیغمبر آیات پڑھ کر سناتے تھے تو تم الٹے پاؤں بھاگتے تھے، سننا بھی گوارا نہ تھا۔ تمہاری شیخی اور تکبر اجازت نہ دیتا تھا کہ حق کو قبول کرو اور پیغمبروں کی بات پر کان دھرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
آیت 65 لَا تَجْءَرُوا الْیَوْمَقف اِنَّکُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ ”
آج تمہاری اس چیخ و پکار اور آہ و فریاد کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ تمہاری فریاد سن کر آج کوئی تمہاری مدد کو نہیں آئے گا۔
Read the full tafseer →66 یہ عذاب دراصل ان کے اپنے ہی اعمال کی شامت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ انھیں جب اللہ کی آیات سے نصیحت کی جاتیتھی اور برے انجام سے ڈرایا جاتا تھا تب تو وہ ایسی باتوں کو سننا بھی گوارا نہ کرتے تھے اور اب جب سر سے پانی چرھ گیا تو پھر چیخنے چلانے کا کیا فائدہ ہوسکتا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
60۔ جو دارالعمل تھا اس میں تو تمہاری یہ حالت تھی۔ شان نزول کی روایتوں میں آتا ہے کہ یہ فخر وناز کرنے والے قریش تھے۔ جنہیں فخر تولیت و خدمت کعبہ پر تھا۔ مشائخ محققین نے اس سے اخذ کرکے کہا ہے کہ اپنی کسی نسبت یا فضیلت اضافی پر، مثلا یہ کہ ہم فلاں بزرگ کی اولاد ہیں، فلاں فلاں برکات کے حامل ہیں فخر کرنا مذموم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
آیت نمبر 51 تا 77
ترجمہ : اے پیغمبرو ! پاکیزہ حلال چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو وہ فرض اور نفل ہیں بلاشبہ میں تمہارے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں تو میں ان کاموں پر تم کو جزاء دوں گا اور یہ بات جان لو کہ یہ یعنی ملت اسلام اے مخاطبو تمہارا دین ہے یعنی تمہارے لئے واجب ہے کہ تم اس پر قائم رہو حال یہ ہے کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے یہ حال لازمہ ہے اور ایک قرأت میں اَنْ کے نون کی تخفیف کے ساتھ ہے اور دوسری قرأت میں ہمزہ کے کسرہ اور نون کی تشدید کے ساتھ ہے اور یہ استیناف کے اعتبار سے ہے میں تمہارا رب ہوں تم مجھ سے ڈرتے رہو پھر وہ متبعین اپنے دینی معاملہ میں آپس میں مختلف ہوگئے زُبُرًا تقطعوا کے فاعل سے…
Read the full tafseer →قد کانت ایتی تتلی علیکم فکنتم علی اعقابکم تنکصون۔ میری آیات تم کو پڑھ پڑھ سنائی جایا کرتی تھیں تو تم الٹے پاؤں بھاگتے تھے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
(66۔ 67) قرآن حکیم تمہیں پڑھ کر سنایا جایا کرتا تھا اور تمہارے سامنے پیش کیا جاتا تھا تو تم اپنے پہلے دین کی طرف لوٹتے تھے اور بیت اللہ شریف کی وجہ سے خود کو بڑا سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اس کے زیادہ حق دار ہیں اور کہتے تھے مشغلہ اس کے چاروں طرف ہے اور رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ اور قرآن کریم کی شان میں تم لوگ بیہودہ باتیں بکتے تھے۔
شان نزول : (آیت) ”۔ مستکبرین بہ“۔ (الخ)
اب ابی حاتم ؒ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ قریش قوم بیت اللہ کے گرد قصے کہانیاں کہا کرتی تھی اور طواف نہیں کرتی تھی اور پھر اس پر فخر کرتے چناچہ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Read the full tafseer →قَدْ كَانَتْ اٰيٰتِيْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ۔۔ : ”نَکَصَ“ (ض، ن) عموماً کسی خیر کے کام سے پیچھے ہٹنے کو کہتے ہیں۔ ابن عباس ؓ نے ”تَنْكِصُوْنَ“ کا معنی ”تُدْبِرُوْنَ“ (پلٹتے تھے) بیان فرمایا ہے۔ (طبری) یعنی یہ عذاب تمہارے اپنے اعمالِ بد ہی کا نتیجہ ہے کہ میری آیات جب تمہارے سامنے پڑھی جاتی تھیں تو تم ایڑیوں کے بل پھرجاتے تھے، تمہیں سننا تک گوارا نہ تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
آیت نمبر 66-67
اللہ کا ارشاد ہے : تتلیٰ علیکم تم پر پڑھی جاتی ہیں۔ ضحاک نے کہا قتل کے ساتھ عذاب دینے سے پہلے۔ تنکصون۔ تم پیچھے کی طرف لوٹتے ہو (احکام القرآن للطبری، جز 17-18، صفحہ 48) مجاہد نے کہا : اس کا معنی پیچھے ہٹتے ہو۔ اس کی اصل الٹے پائوں پیچھے ہٹنا ہے، شاعر نے کہا :
زعمو بانھم علی سبل النجا وانما نکص علی الاعقاب
یہاں حق سے اعراض سے استعارہ ہے۔ حضرت علی نے علی ادبارکم پڑھا ہے۔ تنکصون کاف کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ مستکبرین بہ کی ضمیر سے حال ہے۔ جمہور نے کہا : یہ ضمیر حرم یا مسجد یا البلد کی طرف لوٹ رہی ہے، البلد سے مراد مکہ ہے اگرچہ اس کا پہلے ذکر نہیں لیکن معاملہ میں اس کی شہرت کی وجہ سے ضمیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–67
1۔ نسائی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” حتی اذا اخذنا مترفیہم بالعذاب “ سے مراد ہے بدر کے مقتول یعنی وہ کافر جو جنگ بدر میں مقتول ہوئے۔
2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” حتی اذا اخذنا مترفیہم بالعذاب “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جن کو اللہ تعالیٰ نے بدر کے دن قتل کیا۔
3۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” حتی اذا اخذنا مترفیہم بالعذاب “ سے وہ کافر مراد ہیں جو بدر کے دن تلوار کے ساتھ قتل کیے گئے آیت ” اذا ہم یجئرون “ جبکہ یہ لوگ مکہ میں گڑ…
Read the full tafseer →[ قَدْ : یقیناً ] [ كَانَتْ : ہے ] [ اٰيٰتِيْ ؛میری آیتیں ] [ تُتْلٰى : تلاوت کی جاتی ہیں ] [ عَلَيْكُمْ : تم پر ] [ فَ كُنْتُمْ : ہو تم ] [ عَلٰٓي : اس بات پر ] [ اَعْقَابِكُمْ : تمہاری ایڑھیوں ] [ تَنْكِصُوْنَ : تم سب پھر جایا کرتے (تھے) ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–70
کافروں کا حق سے منہ موڑنا، تکبر کرنا، اور تدبر سے دوررہنا
اوپر اہل ایمان کا تذکرہ فرمایا اب ان آیات میں منکرین کے احوال اور اعمال بیان فرمائے اول تو یہ فرمایا کہ ان لوگوں کے دل میں جہالت نے جگہ پکڑ رکھی ہے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے دین کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ان کے دل جہالت سے بھرے ہوئے ہیں تکذیب و انکار کے علاوہ دیگر اعمال خبیثہ کا بھی ارتکاب کرتے ہیں یہ لوگ اسی حال میں رہیں گے یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوش حال لوگوں کو پکڑ لیں گے اور ان پر عذاب بھیج دیں گے تو فوراً چلا اٹھیں گے، جب پہلے حق کی دعوت دی گئی تبلیغ کی گئی تو حق کو ٹھکرایا اور بات نہ مانی اب جب عذاب آگیا تو چلانے لگے، ان سے کہا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–67
ترغیب بر اعمال خیر وبیان حال و مآل اہل طغیان
قال اللہ تعالیٰ ولا نکلف نفسا الا وسعھا .... الیٰ .... سمرا تھجرون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں جن اعمال خیر کی مدح فرمائی تھی اب ان آیات میں ان کی ترغیب دیتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ وہ افعال و اعمال جو خدا کے نزدیک پسندیدہ ہیں کچھ دشوار نہیں بلکہ آسان ہیں اور جن لوگوں کو ان نیکیوں کی طرف رغبت نہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ احکام اسلام سخت اور دشوار ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ تکبر اور غرور کی وجہ سے ان کے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں جب خدا کا عذاب دیکھتے ہیں تب ہوش آتا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور جن اعمال خیر میں اہل ایمان مسارعت اور مسابقت کر رہے ہیں، یہ اعمال کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
57:۔ ” قَدْکَانَتْ الخ “ یہ ماقبل کی علت ہے تنکصون ای ترجعون، مستکبرین، تنکصون کے فاعل سے حال ہے۔ بہ کی ضمیر قرآن مجید سے کنایہ ہے جو ” آیاتی “ سے مفہوم ہورہا ہے۔ ” سٰمرًا “ ، ” تَھجرون “ کا مفعول بہ مقدم ہے۔ ” سامر “ سے واعظ اور قاری قرآن مراد ہے جو قرآن پڑھ کر تمہیں سناتا اور توحید کی تبلیغ کرتا ہے یعنی آج تمہاری مدد نہیں کی جائے گی کیونکہ پہلے تمہارا یہ حال تھا کہ ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو تم استکبار کرتے تھے اور آیتیں سنانے والے کو چھوڑ کر اور پیٹھ پھیر کر چلے جاتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–67
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دلائل توحید ذکر کرنے کے بعد نافرمان لوگوں کا حال بیان کیا اور اس سلسلے میں بہت سے نبیوں کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا مگر انہوں نے انکار کیا۔ آخر میں موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر آیا۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ کا بھی مختصر تذکرہ ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے تمام نبیوں کی مشترک تعلیم کا ذکر کیا۔ اللہ نے تمام رسولوں کو یہی اصول سمجھایا کلوا من الطیبت واعملوا صالحا ہمیشہ حلال اور طیب چیز کھائو اور نیک اعمال انجام دو ۔ اسی اصول ملت کی تعلیم انبیاء (علیہم السلام) نے عام لوگوں کو بھی دی ۔ پھر بعد میں لوگوں میں…
Read the full tafseer →قَدْ كَانَتْ اٰيٰتِيْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰٓي اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَ 66ۙ
الآية
والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع .
الایۃ ۔
اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–75
اہل ایمان کے چند اوصاف حمیدہ ذکر کرکے فرمایا تھا کہ یہی لوگ نیکیوں میں سبقت کر رہے ہیں۔ اب مخالفوں کو رغبت دلاتا ہے کہ لانکلف نفسا الا وسعہا ہم کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے یعنی احکام سخت پر مامور نہیں کرتے آسان اور سہل حکم دیا کرتے ہیں پھر اے کم بخت منکرو ! تم کیوں ان نیکیوں میں پیچھے رہے جاتے ہو ؟ اور یہ خیال کرنا کہ ان نیکیوں میں سعی کرنا بےفائدہ ہے ان کو آخرت میں کون یاد رکھے گا ؟ غلط خیال ہے کس لیے کہ ولدنیا کتاب ینطق بالحق وھم لایظلمون۔ ہمارے پاس ایک کتاب ہے اس میں یہ سب کچھ لکھا جاتا ہے ہر فرد و بشر کے اعمال کراماً کاتبین لکھا کرتے ہیں یہ کتاب ہر ایک بات ٹھیک ٹھیک بیان کر دے گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
قَدْ کَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ فَکُنْتُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ تَنْکِصُوْن۔ مُسْتَکْبِرِیْنَ صلے ق بِہٖ سٰمِرًا تَھْجُرُوْن۔ (المومنون : 66، 67)
(وہ وقت یا دکرو) جب ہماری آیتیں تمہارے سامنے پڑھی جاتی تھیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جایا کرتے تھے۔ غرور وتکبر کرتے ہوئے۔ گویا کسی افسانہ گو کو چھوڑ رہے ہو۔ )
جب ان کے مترفین پر عذاب آئے گا تو وہ چیختے چلاتے ہوئے اللہ کو مدد کے لیے پکاریں گے۔ تو ان سے کہا جائے گا کہ مدد مانگنے کا تو وہ وقت تھا جب تم پر اللہ کا رسول اللہ کی کتاب کی آیات پڑھ کر سناتا تھا اور تمہارے عقائد و اعمال پر نہایت مخلصانہ تنقید کے ساتھ تم پر تمہاری کو تاہیاں واضح…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جہنم میں داخل کیے جانے والے مجرموں کے جرائم۔
جہنم میں داخل کیے جانے والے لوگ چلائیں اور چیخ و پکار کریں گے لیکن ان کی کوئی مدد کرنے والا نہیں ہوگا۔ کیونکہ دنیا میں جب ان لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کے فرامین پڑھے جاتے تھے تو یہ تکبر کی وجہ سے الٹے منہ پھرجاتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات کو داستان گوئی اور بےہودگی کے انداز میں لیتے تھے ” سامراً “ کا معنٰی ہے کہ ” رات کے وقت سوتے ہوئے قصہ کہانیاں اور داستان گوئی کرنا “ گویا کہ منکرین حق اللہ تعالیٰ کے ارشادات اور فرامین کو قصے کہانیوں سے بڑھ کر اہمیت نہیں دیتے۔ تکبر اور یاواگوئی کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کے ارشادات سے اعراض…
Read the full tafseer →66: قَدْ کَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ (میری آیات تم پر پڑھی جاتی تھیں) یعنی قرآن : فَکُنْتُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ تَنْکِصُوْنَ (تم اپنی ایڑیوں کے بل مڑتے تھے) تم الٹے قدموں لوٹتے النکو ص : الٹے پائوں مڑنا۔ یہ سب سے بدترین چال ہے کیونکہ وہ اپنے پیچھے دیکھتا نہیں۔
Read the full tafseer →تفسیر۔
66۔ قد کانت آیاتی تتلی علیکم، اس سے مراد قرآن ہے۔ فکنتم علی اعقابکم تنکصون، وہ الٹے پاؤں واپس لوتے جاتے ہیں۔ قہقری کہتے ہیں کہ وہ ایمان سے پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
63۔ 67:۔ اوپر کی آیتوں میں ان کا ذکر تھا ‘ جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک قرار پاچکے ہیں ‘ ان آیتوں میں ان بدلوگوں کا ذکر فرمایا گیا ہے جو علم ازلی الٰہی میں بد قرار پاچکے ہیں اور ہر وقت دین کے کاموں کی طرف سے ان کے دل غافل ہیں ‘ ان آیتوں کی تفسیر بہت سی صحیح حدیثوں میں آئی ہے چناچہ صحیح بخاری میں جو روایتیں ہیں ‘ ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جس وقت فرمایا دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جنتی ہر شخص کا نام اہل جنت میں اور دوزخی ہر شخص کا نام اہل دوزخ میں لکھ لیا ہے تو یہ بات سن کر صحابہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت پھر نیک عمل کی کیا ضرورت ہے ہم لوگ اپنی تقدیر پر شاکر ہو نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
آیت (63
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ جھٹلانے والے ‘ اس بارے میں جہالت میں مبتلا ہیں یعنی جہالت ‘ ظلم ‘ غفلت اور روگردانی میں غلطاں ہیں یہ جہالت اور غفلت انہیں قرآن تک نہیں پہنچنے دیتی۔ پس یہ قرآن سے راہنمائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں اور قرآن سے ان کے دلوں تک کچھ نہیں پہنچتا۔ فرمایا : ( آیت واذا قراتن القران) (بنی اسرآئیل : (49, 45/7” جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو آپ کے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم ایک پردہ حائل کردیتے ہیں اور دلوں پر غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دیتے ہیں۔ “ اور جب ان کے دل غفلت اور جہالت میں مستغرق ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
قول باری ہے (ولھم اعمال من دون ذلک ھم لھا عاملون اور ان کے اعمال بھی اس طریقے سے مختلف ہیں (جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے) وہ اپنے یہ کرتوت کئے چلے جائیں گے) قتادہ اور ابوالعالیہ کا قول ہے کہ اعمال سے مراد ایسی خطائیں ہیں جو حق کو نظر انداز کر کے کی جائیں حسن اور مجاہد سے منقول ہے۔” جو برے اعمال وہ ابھی کر رہے ہیں ان کے علاوہ بھی ایسے اعمال ہیں جنہیں یہ لازماً کر کے رہیں گے۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
82 اللہ کی آیتوں سے الٹے پاؤں پھرنا محرومیوں کی محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں سے کہا جائے گا کہ ہماری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی جانی چاہیے تھیں مگر تم لوگ ہماری آیتوں سے الٹے پاؤں پھر جایا کرتے تھے اور ان پر کان نہیں دھرتے تھے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اس کتاب حکیم سے منہ موڑنا دراصل عذاب الہٰی کو دعوت دینا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور طرح طرح کے ان عذابوں سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان دنیاوی زندگی کی اس فرصت محدود میں قرآن پاک کی طرف سچے دل سے رجوع ہوجائے۔ اس پر صحیح و سچا ایمان لے آئے اور اس کے ارشادات و ہدایات کے مطابق اپنا عقیدئہ اور عمل درست کرلے۔ سو یہ کتاب حکیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–77
اللہ رحیم بھی ہے اور حساب لینے والا بھی ہے
تشریح : یہ آیات بڑی معنی خیز ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ احکامات انسان کے لیے نازل کیے گئے ہیں چاہے وہ دین سے تعلق رکھتے ہوں ایمان سے ‘ وحی سے انسانی زندگی سے ‘ عبادات اور عملیات سے تعلق رکھتے ہوں سب ہی بےحد آسان فائدہ مند اور معمولات انسانی سے مطابقت رکھنے والے ہیں۔ کوئی بھی ایسا فریضہ یا اصول نافذ نہیں کیا گیا جس کو پورا کرنا انسان کے لیے مشکل یا ناممکن ہو یا نقصان دہ ہو۔ اسی لیے بار بار کہا گیا ہے کہ تمام مذاہب سے زیادہ آسان اور معقول مذہب اسلام ہے۔ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس بات کا ثبوت ہر جگہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اور تمام رسولوں کو اللہ جل جلالہ نے ایک طریق حیات عطا فرما کر حکم دیا کہ پاکیزہ اور نفیس چیزیں کھاؤ اور اللہ جل جلالہ کے بتائے ہوئے قواعد پر عمل کرو کہ می تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں یہ قوم جس کی طرف تم مبعوث ہوئے ہو تمہاری جماعت ہے جو ایک ہے اور متفق ومتحد ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری عظمت کو ہر حال میں پیش نظر رکھو۔
(غذا اور عمل)
یہاں انبیاء کرام (علیہ السلام) ورسل کو ارشاد فرما کر تمام قوموں کو ایک اصولی ضابطہ بتایا گیا ہے کہ حلال اور پاکیزہ غذا سے توفیق عمل نصیب ہوتی ہے اور اگر غذا ہی حلال نہ ہو تو نیک عمل کی توفیق بھی نہیں ہوتی ، اگر کر بھی لے تو…
Read the full tafseer →5 ۔ اب یہاں پر ان کا سب سے بڑا گناہ بیان کیا ہے (ابن کثیر) یہ ترجمہ اس صورت میں ہے کہ ” بہ “ کی ضمیر قرآن یا آنحضرت ﷺ کے لئے قرار دی جائے اور ” ھجر “ کے معنی بکواس کرنا اور ” سامرا “ کے معنی گپ شپ کرنے والے لوگ (جمع) لئے جائیں اور اگر ” سامرا “ کے معنی افسانہ گو (واحد) اور ” ھجر “ کے معنی چھوڑنا کئے جائیں (جیسا کہ شاہ عبد القادر (رح) نے لئے ہیں) تو ترجمہ یوں ہوگا۔ ” تو تم اس (پیغمبر) سے (یا حرم کی مج اوری پر) اکڑ کر ایک افسانہ گو کو چھوڑتے ہوئے اپنی ایڑیوں کے بل الٹے بھاگتے تھے “۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : ” قریش کی عادت تھی کہ رات کے وقت خانہ کعبہ کے پاس حلقے بنا کر بیٹھتے اور…
Read the full tafseer →(23:66) تتلی۔ مضارع مجہول واحد مؤنث غائب۔ تلاوۃ سے۔ تلو مادہ یہاں واحد بمعنی جمع آیا ہے۔ یعنی جب ہماری آیتیں تمہاری سامنے پڑھی جاتی تھیں۔
تنکصون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم بھاگتے ہو۔ تم پھرے جاتے ہو۔ نکوص ہے باب ضرب) النکوض (باب ضرب ونصر) کسی چیز سے پیچھے ہٹنا۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے نکص علی عقبیہ (8 ۔ 48) تو پسپا ہو کر چل دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–77
لانکلف ‘ ہم بوجھ نہیں ڈالتے۔ ہم تکلیف نہیں دیتے (لدینا) ہمارے پاس ‘ (ینطق) بولتا ہے ‘(غمرۃ) بیخبر ی۔ غفلت۔ جہالت۔ سختی ‘(مترفی (مترفین) عیش پسند و خوشحال لوگ ‘ (یجئرون) وہ چیختے چلاتے ہیں ‘ (اعقاب (عقب) ایڑیاں ‘(تنکصون) تم الٹے پاؤں پھرجاتے ہو۔ (سامر) رات کو قصے گھڑ گھڑ کر سنانے والا ‘ (تھجرون) برے الفاظ سے یاد کرتے ہو ‘ لم یدبرو (غور نہیں کیا) (کارھون (ناپسند کرنے والے) ‘ خرج (معاوضہ ۔ بدلہ) ‘ لجوا (منہمک رہے۔ وہ اڑے رہے) مایتضرعون (وہ گڑ گراتے نہیں ہیں) ‘ مبلسون (حیران رہ جانے والے)
تشریح : آیت نمبر 62 تا 77 :
تمام انسانوں پر اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ وہ کسی پر اتنا بوجھ نہیں ڈالتا جسے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
منکرین قرآن کا ذکر۔
(ف 2) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ شرک کے وبال میں ان لوگوں سے بڑھ کر خوش حال پچھلی قومیں جب طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئیں۔ جس کے قصے کئی دفعہ ان کو سنادیے گئے تو ان مشرکوں کا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ ان کے مال واولاد کی ترقی اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور خوش ہے بلکہ ان لوگوں کے اس غلط خیال پر جمے رہنے کا سبب یہی ہے کہ یہ لوگ قرآن کی نصیحت کو دھیان سے نہیں سنتے۔ اور نیک لوگوں کے جو کام ان کو اوپر کی آیتوں میں بتلائے گئے ہیں رات دن ان کاموں کے برخلاف کام کرتے ہیں لیکن ان میں بڑے بڑے خوش حال وقت مقررہ پر جب عذاب آخرت میں گرفتار ہوجاویں گے تو عذاب کی تکلیف سے بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
[31] اصل میں لفظ '' مترفین '' استعمال کیا گیا ہے۔ مترفین ان لوگوں کو کہتے ہیں جو مال و دولت پا کر عیش کر رہے ہوں اور اللہ کی مخلوق کے حقوق سے غافل ہوں۔
[32] عذاب سے مراد یہاں آخرت کا عذاب نہیں بلکہ دنیا کا عذاب ہے۔ چناچہ اس عذاب کا ایک نمونہ کفار کو بدر میں دکھایا گیا جہاں ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے یا قید ہوگئے اور عورتیں مہینوں تک ان کا نوحہ کرتی رہیں۔ ایک مرتبہ جب رسول اکرم ﷺ نے کفار کے مظالم سے تنگ کر آ کر بددعا فرمائی تو سات سال کا قحط مسلط ہوا اور مردار، ہڈیاں اور چمڑے کھانے کی نوبت آگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
آج نہ چلاؤ:
(ف 1) ارشاد ہے کہ سرمایہ دار اور خوشحال لوگ جو ازراہ غرور وکبر اسلام کی صداقتوں اور سچائیوں کو ٹھکرا رہے ہیں ، ایک وقت آئے گا جب نہایت بیچارگی کے ساتھ ہمارے سامنے پیش کئے جائیں گے ، اور ان کے عذاب کا فیصلہ ہوگا ، اس وقت یہ چیخیں گے اور چلائیں گے ، اور فریاد کریں گے ، تب ہم کہیں گے آج چیخنا اور چلانا بالکل بےسود ہے ، تمہیں ہم سے کوئی مدد نہیں ملے گی ، جانتے ہو ، دنیا میں تمہارا وتیرہ کیا تھا تمہارے پاس میرے احکام آنے اور تم نے انکار کردیا ، میری آیتیں پڑھی گئیں ، اور تم انہیں سن کر بھاگ کھڑے ہوئے تم نے تکبر اور غرور کا اظہار کیا ، تم نے راتوں کو قرآن کو ہجو ومذمت کے افسانوں میں…
Read the full tafseer →(66) بلاشبہ میری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی جاتی تھیں اور میری آیتیں تم پر تلاوت کی جاتی تھیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل اس طرح لوٹ جاتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
ف 8۔ کیونکہ یہ دار الجزاء ہے، دار العمل نہیں کہ چلانا اور عاجزی کرنا مفید ہو۔
Read the full tafseer →تمہارے سامنے تو میری آیات پڑھی گئی تھیں لیکن تم دھیان دینے کے لئے تیار ہی نہ تھے :
66۔ ہماری ہر بات جو ہم کہہ دیتے ہیں بلاشبہ وہ بطور وعدہ ہی ہوتی ہے غور کرو کہ ہم نے فرعون کو کتنی مدت تک ڈھیل دی اور اس کو سمجھانے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا گیا لیکن وہ ذرا بھی ٹس سے مس نہ ہوا ؟ وقت گزرتا رہا اور وہ اپنے تکبر و غرور میں بڑھتا ہی چلا گیا پھر وہ وقت مقرر آگیا جس کا ہم نے اعلان کردیا ہوا تھا اس کا نتیجہ کیا رہا ؟ یہی کہ اس کی پکڑ کا وقت آیا تو وہ لگا گڑگڑانے اور چلا چلا کر کہنے کہ میں بنی اسرائیل کے رب پر ایمان لایا اور ہم نے اس کو صاف صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ اب ایمان لانے کا وقت جاتا رہا جب ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
مُتْرَفِيهِم (their affluent ones - 23:64). The word مُتْرَفِ is derived from تْرَفِ meaning comfort and prosperity. This verse mentions the Divine punishment which will descend upon the unbelievers whether rich or poor. The rich people have been specially mentioned here because they are the ones who make adequate arrangements to protect themselves against disasters and misfortunes. But when retribution comes from Allah, they find themselves totally helpless. According to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ the punishment which is mentioned in this verse is an allusion to the crushing defeat which the…
Read the full tafseer →62. That is to say, in the worldly life you did not pay any heed to what the Messenger said. Nay, you did not even like to hear his voice.
Read the full tafseer →