Al-Muminoon 23:64

Al-Muminoon · from ayah 64

23:64

حَتّٰۤی اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْـَٔرُوْنَ ۟ؕحَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذۡنَا مُتۡـرَفِيۡهِمۡ بِالۡعَذَابِ اِذَا هُمۡ يَجۡــئَرُوۡنَؕ

یہاں تک کہ جب ہم نے ان میں سے آسودہ حال لوگوں کو پکڑ لیا تو وہ اس وقت چلاّئیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Until when We seize their affluent ones with punishment, at once they are crying [to Allah] for help.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:64

یہاں تک کہ جب ہم ان کے عیاشوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے تو پھر وہ ڈکرانا شروع کر دیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہاں تک کہ جب ہم نے ان میں سے آسودہ حال لوگوں کو پکڑ لیا تو وہ اس وقت چلاّئیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہاں تک کہ جب ہم نے ان کے آسوده حال لوگوں کو عذاب میں پکڑ لیا تو وه بلبلانے لگے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہاں تک کہ جب ہم ان کے دولت مند لوگوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے تو وہ ایک دم بلبلا اٹھیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہاں تک کہ جب ہم نے ان کے امیروں کو عذاب میں پکڑا تو جبھی وہ فریاد کرنے لگے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہاں تک کہ جب ہم ان کے امیر اور آسودہ حال لوگوں کو عذاب کی گرفت میں لیں گے تو اس وقت وہ چیخ اٹھیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوش حال لوگوں کو عذاب میں پکڑیں گے اچانک وہ بلبلا رہے ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہاں تک کہ جب ہم ان کے عیاش لوگوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے تو اس وقت وہ چیخنا چلانا شروع کردیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہی انہی میں پڑے رہیں گے۔ یہاں تک کہ جب ہم ان کے مترفین کو عذاب میں پکڑیں گے تو وہ آہ و فریاد کریں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یہ لوگ ایسے ہی غفلت و مدہوشی میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ جب ہم عذاب میں پکڑیں گے ان کے خوشحال اور عیش پرست لوگوں کو تو ان کا سب نشہ ہرن ہوجائے گا اور یہ چلانے لگیں گے،

— مولانا اسحاق مدنی

یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوشحال لوگوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے تو یہ فورا چلا اٹھیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوشحال لوگوں کو عذاب میں پکڑیں گے تو اس وقت وہ چیخیں چلائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہاں تک کہ جب ہم نے ان میں سے آسودہ حال لوگوں کو پکڑ لیا تو وہ اس وقت تلملا اٹھیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

until We seize with Our chastisement those of them that are given to luxuriant ways. They will then begin to groan.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Until when We will seize their affluent ones with punishment, they will suddenly start crying.

— Muhammad Taqi Usmani

Until when We will seize their affluent ones with punishment, they will suddenly start crying.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Until when We seize those of them who lead a luxurious life with punishment; behold, they make humble invocation with a loud voice.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Till when We grasp their luxurious ones with the punishment, behold! they supplicate.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Until when We seize their affluent ones with punishment, at once they are crying [to Allah] for help.

— Saheeh International

But when We will strike with torment those (unbelievers) who are rich, they will start to cry for help.

— Muhammad Sarwar

Until when We overtake those who lead easy lives among them with punishment, lo! they cry for succor.

— Muhammad Habib Shakir

Until when We lay hold of the luxuriant ones of them with the torment, and lo! then they are imploring!

— Abdul Majid Daryabadi

Until, when We seize in Punishment those of them who received the good things of this world, behold, they will groan in supplication!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:64

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 62–67

آسان شریعت اللہ تعالیٰ نے شریعت آسان رکھی ہے۔ ایسے احکام نہیں دئیے جو انسانی طاقت سے خارج ہوں۔ پھر قیامت کے دن وہ اعمال کا حساب لے گا جو سب کے سب کتابی صورت میں لکھے ہوئے موجود ہوں گے۔ یہ نامہ اعمال صحیح صحیح طور پر ان کا ایک ایک عمل بتادے گا۔ کسی طرح کا ظلم کسی پر نہ کیا جائے گا کوئی نیکی کم نہ ہوگی ہاں اکثر مومنوں کی برائیاں معاف کردی جائیں گی۔ لیکن مشرکوں کے دل قرآن سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا بھی ان کی اور بد اعمالیاں بھی ہیں جیسے شرک وغیرہ جسے یہ دھڑلے سے کررہے ہیں۔ تاکہ ان کی برائیاں انہیں جہنم سے دور نہ رہنے دیں۔ چناچہ وہ حدیث گزر چکی جس میں فرمان ہے کہ انسان نیکی کے کام کرتے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِنُوْن 59 " عیاش " یہاں " مُتْرَفِیْن " کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ " مترفین " اصل میں ان لوگوں کو کہتے ہیں جو دنیوی مال و دولت کو پا کر مزے کر رہے ہوں اور خدا و خلق کے حقوق سے غافل ہوں۔ اس لفظ کا صحیح مفہوم لفظ عیاش سے ادا ہوجاتا ہے، بشرطیکہ اسے صرف شہوت رانی کے معنی میں نہ لیا جائے بلکہ عیش کوشی کے وسیع تر معنوں میں لیا جائے۔ عذاب سے مراد یہاں غالباً آخرت کا عذاب نہیں بلکہ دنیا کا عذاب ہے جو اسی زندگی میں ظالموں کو دیکھنا پڑے۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 60 اصل میں لفظ " جُؤَار " استعمال کیا گیا ہے جو بیل کی اس آواز کو کہتے ہیں جو سخت تکلیف کے وقت وہ نکالتا ہے۔ یہ لفظ یہاں محض فریاد و فغان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 64–66

مُتْرَفِيْهِمْ ، مترف، ترف سے مشتق ہے جس کے معنے تنعم اور خوشحالی کے ہیں۔ اس جگہ اس قوم کو عذاب میں پکڑنے کا ذکر ہے جس میں امیر غریب خوشحال بدحال سبھی داخل ہوں گے مگر مترفین اور خوشحالوں کا ذکر خاص طور پر اس لئے کیا کہ ایسے ہی لوگ دنیا کے مصائب سے اپنے بچاؤ کا کچھ سامان کرلیا کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کا عذاب جب آتا ہے تو سب سے پہلے یہی لوگ بےبس ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس آیت میں جس عذاب کے اندر ان کے پکڑے جانے کا ذکر ہے حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو غزوہ بدر میں مسلمانوں کی تلوار سے ان کے سرداروں پر پڑا تھا۔ اور بعض حضرات نے اس عذاب سے مراد قحط کا عذاب لیا ہے جو رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 63–64

آیت 64-63 مترفین اور ان کے پیروئوں کا انجام اس اضراب کا تعلق متکبرین کے اسی مغالطہ سے ہے جو اوپر مذکور ہوا کہ وہ اپنی رفاہیت و خوش حالی کو اپنی نیک اعمالی و نیک مآلی کی دلیل بنائے بیٹھے ہیں۔ وہاں صرف ان کے مغالطہ کی طرف اشارہ کر کے کلام اہل ایمان کے ذکر کی طرف مڑ گیا تھا۔ اب پھر وہی سلسلہ کلام عود کر آیا۔ فرمایا کہ ان لوگوں کے دل، اس انذار سے جو خدا کا رسول ان کو سنا رہا ہے، غفلت کے پردوں میں ہیں اور یہ اسی طرح سرمستیوں میں کھوئے رہیں گے۔ اہل ایمان کے جو اعمال، آیات 60-57 میں مذکور ہوئے ان کے اندر ان کے لئے کوئی کشش نہیں۔ انکی دلچسپی کے اعمال کچھ اور ہیں اور وہ انہی میں منہمک رہیں گے۔ یہاں تک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

64-1عذاب تو آسودہ اور غیر آسودہ حال دونوں کو ہی ہوتا ہے۔ لیکن آسودہ حال لوگوں کا نام خصوصی طور پر شاید اس لئے لیا گیا کہ قوم کی قیادت بالعموم انہی کے ہاتھوں میں ہوتی ہے، وہ جس طرف چاہیں قوم کا رخ پھیر سکتے ہیں۔ اگر وہ اللہ کی نافرمانی کا راستۃ اختیار کریں اور اس پر ڈٹے رہیں تو انہی کی دیکھا دیکھی قوم بھی ٹس سے مس نہیں ہوتی۔ یا مراد چوہدری اور سردار قسم کے لوگ ہیں۔ اور عذاب سے مراد اگر دنیاوی ہے، تو جنگ بدر میں کفار مکہ مارے گئے بلکہ نبی ﷺ کی بد دعا کے نتیجے میں بھوک اور قحط سالی کا عذاب مسلط ہوا، وہ مراد ہے یا پھر مراد آخرت کا عذاب ہے۔ مگر یہ سیاق سے بعید ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 63–68

23: یعنی کفر اور شرک کے علاوہ ان لوگوں کے اور بھی بہت سے برے کام ہیں جو وہ کرتے رہتے ہیں

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 63–67

بل قلو بھم تھجرون (آیت نمبر 62 تا 67) یعنی یہ لوگ جن حالات میں مشغول ہیں ان میں وہ اس لیے غرق نہیں ہیں کہ پیغبران کوا ان کی طاقت سے زیادہ احکام دیتے ہیں بلکہ اصل سبب یہ ہے کہ یہ لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اس سچائی کی طرف متوجہ ہی نہیں ہیں جسے قرآن کریم پیش کرتا ہے بلکہ وہ ان دوسری راہوں پر بہتے چلے جاتے ہیں ۔ اور یہ راہیں اسلام سے متضادرا ہیں ہیں۔ ولھم اعمال من دون ذلک ھم لھا عملون (23 : 63) ” اور ان کے اعمال اس طریقے سے مختلف ہیں اور یہ لوگ وہ اعمال کرتے دلے جاتے ہیں “۔ اب اس منظر کو پیش کیا جاتا ہے کہ جب اللہ کا عذاب ان کو آلیتا ہے ۔ یہ عذاب بہت ہی تباہ کن ہے ، اچانک ہے دفعتہ ان کو گھیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 64–65

1 یعنی جب دنیاوی یا اخروی عذاب میں پکڑے جائیں گے تو چلائیں گے اور شور مچائیں گے کہ ہمیں اس آفت سے بچاؤ۔ بھلا وہاں بچانے والا کون ؟ حکم ہوگا کہ چلاؤ نہیں، یہ سب چیخ پکار بیکار ہے۔ آج کوئی تمہاری مدد کو نہیں پہنچ سکتا نہ ہمارے عذاب سے چھڑا سکتا ہے۔ چناچہ اس عذاب کا ایک نمونہ کفار مکہ کو بدر میں دکھلایا گیا جہاں ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے یا قید ہوگئے۔ عورتیں مہینوں تک ان کا نوحہ کرتی رہیں، سر کے بال کٹوا کر ماتم کیے گئے، روئے پیٹے، چیخے چلائے، کچھ بن نہ پڑا۔ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے مظالم سے تنگ آکر بددعا فرمائی تو سات سال کا قحط مسلط ہوا مردار کی ہڈیاں اور چمڑے کھانے اور خون پینے کی نوبت آگئی،…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 63–64

وَلَہُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِکَ ہُمْ لَہَا عٰمِلُوْنَ ” اوپر اہل ایمان کے جن اعمال کا تذکرہ کیا گیا ہے ‘ ان کے مشاغل اور سرگرمیاں ان سے یکسر مختلف ہیں۔ ایسے لوگوں کے پاس دین کی خدمت اور بھلائی کے کاموں کے لیے وقت ہی نہیں ہے۔ انہیں دن رات اپنی دنیا کمانے کی فکر ہے۔ وہ اپنے وقت کاُ کل سرمایہ اپنی ساری توانائیوں سمیت خود ساختہ جھوٹے معیارات کو برقرار رکھنے اور زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کے لیے کھپا رہے ہیں۔ اس آیت کے مضمون کی روشنی میں ہر شخص کو اپنی مصروفیات کا جائزہ لینا چاہیے کہ اس کی شبانہ روز تگ و دو اور بھاگ دوڑ کا کتنا حصہ دین کے لیے ہے اور کتنا حصہ دنیا کے لیے۔ اگر کسی شخص کی تمام…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 64–65

65 یعنی جب عذاب الٰہی آتا ہے تو واویلا اور چیخ پکار کرنے والے بھی وہی لوگ ہوتے ہیں جو آسودہ حال اور چودھری ٹائپ ہوتے ہیں۔ یہی لوگ نبیوں کی تکذیب، انھیں ایذائیں پہنچانے اور عوام کو اللہ کی راہ سے روکنے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ اور عذاب نازل ہونے پر چیخنے چلانے والے بھی یہی ہوتے ہیں۔ حالانکہ جب عذاب آجاتا ہے تو پھر چیخنے چلانے یا فریادیں کرنے کا کوئی موقع باقی نہیں رہتا۔ نہ ہی کوئی طاقت انھیں اللہ کے عذاب سے بچاسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

58۔ (اور اپنا کبر و استکبار بھول بھال، بےاختیار فریاد برپا کرنے لگیں گے اور عاجزی کے ساتھ رحم کی درخواست کرنے لگیں گے) (آیت) ’ ’ مترفیھم “۔ یعنی ان کے بڑے بڑے لیڈر، سردار اور پیشوا جو اس وقت ہر طرح کا سامان جاہ وحشم رکھتے ہیں۔ (آیت) ” بالعذاب “۔ عذاب سے یہاں مراد عذاب بعد الموت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–77

آیت نمبر 51 تا 77 ترجمہ : اے پیغمبرو ! پاکیزہ حلال چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو وہ فرض اور نفل ہیں بلاشبہ میں تمہارے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں تو میں ان کاموں پر تم کو جزاء دوں گا اور یہ بات جان لو کہ یہ یعنی ملت اسلام اے مخاطبو تمہارا دین ہے یعنی تمہارے لئے واجب ہے کہ تم اس پر قائم رہو حال یہ ہے کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے یہ حال لازمہ ہے اور ایک قرأت میں اَنْ کے نون کی تخفیف کے ساتھ ہے اور دوسری قرأت میں ہمزہ کے کسرہ اور نون کی تشدید کے ساتھ ہے اور یہ استیناف کے اعتبار سے ہے میں تمہارا رب ہوں تم مجھ سے ڈرتے رہو پھر وہ متبعین اپنے دینی معاملہ میں آپس میں مختلف ہوگئے زُبُرًا تقطعوا کے فاعل سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

حتی اذا اخذنا مترفیہم بالعذاب اذا ہم یجرون۔ یہاں تک کہ جب ان کے خوش حال لوگوں کو (مرنے کے بعد) ہم عذاب میں دھر پکڑیں گے تو فوراً وہ چلا اٹھیں گے۔ مُتْرَفِیِہِمْان میں کے خوش عیش ‘ آرام میں پڑے ہوئے لوگ۔ بِالْعَذَابِابن جریر نے بوساطت ابن جریج حضرت ابن عباس ؓ کا قول بیان کیا ہے کہ العذاب سے مراد ہے بدر کی لڑائی میں قتل ہونا۔ ضحاک نے کہا وہ قحط مراد ہے جو رسول اللہ ﷺ کی بددعا سے ان پر پڑا تھا۔ حضور نے بددعا میں فرمایا تھا اے اللہ اپنی روندھ مضر (قریش کنانہ وغیرہ) پر سخت کر دے اور ان پر یوسف کے زمانہ کے کال کی طرح (سات سال کا) قحط ڈال دے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قحط کی مصیبت میں مبتلا ہوگئے یہاں تک کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(64) یہاں تک کہ جب ہم ان کے سرکشوں اور امراء و رؤسا ہشام، ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل، عتبہ شیبہ، وغیرہ پر سات سالہ قحط سالی کا عذاب نازل کریں گے تو یہ چیخ و پکار شروع کردیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

حَتّيٰٓ اِذَآ اَخَذْنَا مُتْرَفِيْهِمْ۔۔ : ”يَجْــــَٔــرُوْنَ“ ”جُؤَارٌ“ درحقیقت گائے یا بیل کے سخت تکلیف میں بلبلانے کو کہتے ہیں۔ عذاب سے مراد بظاہر دنیا میں آنے والا عذاب ہے، خواہ کسی آفت کی صورت میں ہو یا موت کی صورت میں، کیونکہ آسودگی اور خوش حالی کی موجودگی میں وہی آتا ہے۔ عذاب خواہ خوش حال کفار پر آئے یا بدحال کفار پر، چیخنے چلانے اور بلبلانے میں دونوں یکساں ہوتے ہیں، مگر ”مُتْرَفِیْنَ“ (خوش حال) کا ذکر خاص طور پر اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ یہی لوگ حق کی مخالفت میں پیش پیش ہوتے ہیں اور اپنی سرداری کی وجہ سے بدحال لوگوں کے کفر پر قائم رہنے کا باعث بنتے ہیں۔ (دیکھیے سورة سبا : 31 تا 33) اس…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 63–65

آیت نمبر 63-65 اللہ کا ارشاد ہے۔ بل قلوبھم فی غمرۃ من ھذا مجاہد نے کہا : وہ پردے اور غفلت میں ہیں اور قرآن سے اندھے ہوچکے ہیں کہا جاتا ہے۔ غمرۃ الماء جب پانی ڈھانپ لے۔ نہر غمر ایسی نہر کہ جو اس میں داخل ہو اس کو ڈھانپ دیتی ہے۔ رجل غمر یغمرہ آراء الناس۔ ایسا شخص جس کو لوگوں کی آراء ڈھانپ لیں۔ بعض علماء نے کہا غمرۃ کیونکہ وہ چہرے کو ڈھانپ لیتی ہے اسی سے ہے دخل فی غمار الناس وخمارھم یعنی لوگوں کے مجمع نے اسے ڈھانپ لیا۔ بعض نے کہا : بل قلوبھم فی غمرۃ یعنی وہ حیرت اور اندھے پن میں ہیں یعنی اس سے وہ اندھے ہیں جو پہلی آیات میں اعمال خیر بیان کیے گئے ہیں ؛ یہ قتادہ کا قول ہے یا اس کتاب سے اندھے ہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 64–67

1۔ نسائی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” حتی اذا اخذنا مترفیہم بالعذاب “ سے مراد ہے بدر کے مقتول یعنی وہ کافر جو جنگ بدر میں مقتول ہوئے۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” حتی اذا اخذنا مترفیہم بالعذاب “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جن کو اللہ تعالیٰ نے بدر کے دن قتل کیا۔ 3۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” حتی اذا اخذنا مترفیہم بالعذاب “ سے وہ کافر مراد ہیں جو بدر کے دن تلوار کے ساتھ قتل کیے گئے آیت ” اذا ہم یجئرون “ جبکہ یہ لوگ مکہ میں گڑ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ حَتّيٰٓ : یہاں تک کہ ] [ اِذَآ : جب (کہ)] [ اَخَذْنَا : ہم نے لیا ] [ مُتْرَفِيْهِمْ : ان کے سب خوشحال لوگوں کو ] [ بِالْعَذَابِ : عذاب کے ساتھ ] [ اِذَا : جب ] [ هُمْ : وہ ] [ يَجْــــَٔــرُوْنَ : وہ سب چیخ و پکار کریں گے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 63–70

کافروں کا حق سے منہ موڑنا، تکبر کرنا، اور تدبر سے دوررہنا اوپر اہل ایمان کا تذکرہ فرمایا اب ان آیات میں منکرین کے احوال اور اعمال بیان فرمائے اول تو یہ فرمایا کہ ان لوگوں کے دل میں جہالت نے جگہ پکڑ رکھی ہے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے دین کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ان کے دل جہالت سے بھرے ہوئے ہیں تکذیب و انکار کے علاوہ دیگر اعمال خبیثہ کا بھی ارتکاب کرتے ہیں یہ لوگ اسی حال میں رہیں گے یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوش حال لوگوں کو پکڑ لیں گے اور ان پر عذاب بھیج دیں گے تو فوراً چلا اٹھیں گے، جب پہلے حق کی دعوت دی گئی تبلیغ کی گئی تو حق کو ٹھکرایا اور بات نہ مانی اب جب عذاب آگیا تو چلانے لگے، ان سے کہا جائے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 62–67

ترغیب بر اعمال خیر وبیان حال و مآل اہل طغیان قال اللہ تعالیٰ ولا نکلف نفسا الا وسعھا .... الیٰ .... سمرا تھجرون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں جن اعمال خیر کی مدح فرمائی تھی اب ان آیات میں ان کی ترغیب دیتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ وہ افعال و اعمال جو خدا کے نزدیک پسندیدہ ہیں کچھ دشوار نہیں بلکہ آسان ہیں اور جن لوگوں کو ان نیکیوں کی طرف رغبت نہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ احکام اسلام سخت اور دشوار ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ تکبر اور غرور کی وجہ سے ان کے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں جب خدا کا عذاب دیکھتے ہیں تب ہوش آتا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور جن اعمال خیر میں اہل ایمان مسارعت اور مسابقت کر رہے ہیں، یہ اعمال کچھ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 64–65

56:۔ ” حَتّی اذا الخ “ یہاں سے لے کر ” اِذَا ھُمْ فِیهِ مُبْلِسُوْنَ “ تک تخویفیں شکوے اور زجریں ہیں۔ ” حَتّٰی اِذَا اخَذَنَا الخ “ یہ تخویف دنیوی اور ماقبل کے لیے غایت ہے یہ مشرکین مسلسل غفلت میں ڈوبے رہیں گے یہاں تک کہ ہم ان کے رئیسوں اور سرداروں کو رسوا کن عذاب میں مبتلا کردیں گے اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں گی اور وہ دوریں گے اور عاجزی وزاری کریں گے مگر اس وقت اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے عذاب سے یوم بدر میں قتل اور قید و بند کا عذاب مراد ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ اور دیگر ائمہ سے منقول ہے۔ والمراد بالعذاب ما اصابھم یوم بدر من القتل والاسر کما روی عن ابن عباس و مجاھد وابن جبیر وقتادۃ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 57–67

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دلائل توحید ذکر کرنے کے بعد نافرمان لوگوں کا حال بیان کیا اور اس سلسلے میں بہت سے نبیوں کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا مگر انہوں نے انکار کیا۔ آخر میں موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر آیا۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ کا بھی مختصر تذکرہ ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے تمام نبیوں کی مشترک تعلیم کا ذکر کیا۔ اللہ نے تمام رسولوں کو یہی اصول سمجھایا کلوا من الطیبت واعملوا صالحا ہمیشہ حلال اور طیب چیز کھائو اور نیک اعمال انجام دو ۔ اسی اصول ملت کی تعلیم انبیاء (علیہم السلام) نے عام لوگوں کو بھی دی ۔ پھر بعد میں لوگوں میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

حَتّٰٓي اِذَآ اَخَذْنَا مُتْرَفِيْہِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا ہُمْ يَجْــــَٔــرُوْنَ۝ 64ۭ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 62–75

اہل ایمان کے چند اوصاف حمیدہ ذکر کرکے فرمایا تھا کہ یہی لوگ نیکیوں میں سبقت کر رہے ہیں۔ اب مخالفوں کو رغبت دلاتا ہے کہ لانکلف نفسا الا وسعہا ہم کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے یعنی احکام سخت پر مامور نہیں کرتے آسان اور سہل حکم دیا کرتے ہیں پھر اے کم بخت منکرو ! تم کیوں ان نیکیوں میں پیچھے رہے جاتے ہو ؟ اور یہ خیال کرنا کہ ان نیکیوں میں سعی کرنا بےفائدہ ہے ان کو آخرت میں کون یاد رکھے گا ؟ غلط خیال ہے کس لیے کہ ولدنیا کتاب ینطق بالحق وھم لایظلمون۔ ہمارے پاس ایک کتاب ہے اس میں یہ سب کچھ لکھا جاتا ہے ہر فرد و بشر کے اعمال کراماً کاتبین لکھا کرتے ہیں یہ کتاب ہر ایک بات ٹھیک ٹھیک بیان کر دے گی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 64–65

حَتّٰیٓ اِذَآ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْھِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا ھُمْ یَجْئَرُوْنَ ۔ لَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ اِِنَّکُمْ مِّنَّا لَا تُنصَرُوْنَ ۔ (المومنون : 64، 65) یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوشحال لوگوں کو عذاب میں پکڑیں گے تو اس وقت وہ چِلّائیں گے۔ آج نہ چِلّائو اب ہماری طرف سے تمہاری کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔ ) مترفین کا انجام اللہ کے سامنے جوابدہی سے بےنیاز ہو کر چونکہ ان کی ترجیحات بدل گئی ہیں اور ان کے اعمال بالکل دوسری روش اختیار کرچکے ہیں۔ ان کی ذہنی اور عملی حالت اس حال کو پہنچ گئی ہے کہ وہ اپنے رویے سے مختلف بات سننا بھی گوارا نہیں کرتے اور یہ لوگ اپنے معاشرے کی جو صورت آرائی کرچکے ہیں اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 63–65

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے بندوں کے دل ہر وقت اپنے رب اور قیامت کے خوف سے لرزاں رہتے ہیں ان کے مقابلے میں مشرک اور متکبر لوگوں کے دل غفلت کا شکار ہوتے ہیں۔ انسان کے دل سے اپنے رب کا خوف اور آخرت کی جواب دہی کا تصور ختم ہوجائے تو وہ غفلت کا شکار ہوجاتا ہے۔ غفلت کا شکار شخص نیک کاموں میں دلچسپی نہیں لیتا۔ غفلت کا بنیادی سبب دنیا کی عیش و عشرت اور مال کی ہوس ہوتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کے خوف سے عاری اور فکر آخرت سے لاپرواہ طبقہ معاشرے میں ترقی اور فیشن کے نام پر ہر قسم کی برائی پھیلانے کا موجب بنتا ہے۔ اکثر اوقات یہ طبقہ اس وقت تک ہوش کے ناخن نہیں لیتا جب تک ان پر عذاب نہیں آتا یا کسی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

64: حَتّٰی اِذَآ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْہِمْ (یہاں تک کہ جب ہم ان کے مالداروں کو پکڑیں گے) خوشحال لوگوں کو بِالْعَذَابِ (دنیا کے عذاب میں) اور وہ سات سال کا قحط ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کی بددعا سے مسلط فرمایا یا بدر کے دن قتل ہونا۔ حتی ابتدائیہ اور جمل شرطیہ ہے : اِذَا ھُمْ یَجْئَرُوْنَ (اسی وقت چیخنے لگیں گے) فریاد کرتے ہوئے چیخیں گے۔ الجؤار مدد کیلئے پکارنا۔ اس کے جواب میں ان کو کہا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 64–65

64۔ حتی اذا اخذنا مترفیھم، کہ ہم انکوپکڑ لیتے ہیں ان کے اغنیاء اور ان کے سرداروں کو۔ بالعذاب۔ مترفیھم بالعذاب سے کون سا عذاب مراد ہے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد بدر کا دن ہے۔ ضحاک کا قول ہے کہ وہ قحط مراد ہے جو رسول اللہ کی بددعا سے ان پر پڑا تھا۔ حضور نے فرمایا تھا اے اللہ قبیلہ مضر سخت قحط نازل فرما، اور ان پر حضرت یوسف کے زمانے کے قحط کی طرح قحط ڈال دے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قحط کی مصیبت میں مبتلا ہوگئے۔ یہاں تک کہ کتوں کو اورمردار کو اورجلی ہوئی ہڈیوں کو بھی کھاگئے۔ اذاھم یجئرون وہ جزع فزع کرنے لگے اور مدد طلب کرنے لگے جاراصل میں عاجزی کے ساتھ آواز کو بلند کرنے کو کہتے ہیں۔ ”…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 63–67

63۔ 67:۔ اوپر کی آیتوں میں ان کا ذکر تھا ‘ جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک قرار پاچکے ہیں ‘ ان آیتوں میں ان بدلوگوں کا ذکر فرمایا گیا ہے جو علم ازلی الٰہی میں بد قرار پاچکے ہیں اور ہر وقت دین کے کاموں کی طرف سے ان کے دل غافل ہیں ‘ ان آیتوں کی تفسیر بہت سی صحیح حدیثوں میں آئی ہے چناچہ صحیح بخاری میں جو روایتیں ہیں ‘ ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جس وقت فرمایا دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جنتی ہر شخص کا نام اہل جنت میں اور دوزخی ہر شخص کا نام اہل دوزخ میں لکھ لیا ہے تو یہ بات سن کر صحابہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت پھر نیک عمل کی کیا ضرورت ہے ہم لوگ اپنی تقدیر پر شاکر ہو نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 63–67

آیت (63 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ جھٹلانے والے ‘ اس بارے میں جہالت میں مبتلا ہیں یعنی جہالت ‘ ظلم ‘ غفلت اور روگردانی میں غلطاں ہیں یہ جہالت اور غفلت انہیں قرآن تک نہیں پہنچنے دیتی۔ پس یہ قرآن سے راہنمائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں اور قرآن سے ان کے دلوں تک کچھ نہیں پہنچتا۔ فرمایا : ( آیت واذا قراتن القران) (بنی اسرآئیل : (49, 45/7” جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو آپ کے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم ایک پردہ حائل کردیتے ہیں اور دلوں پر غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دیتے ہیں۔ “ اور جب ان کے دل غفلت اور جہالت میں مستغرق ہیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 63–66

قول باری ہے (ولھم اعمال من دون ذلک ھم لھا عاملون اور ان کے اعمال بھی اس طریقے سے مختلف ہیں (جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے) وہ اپنے یہ کرتوت کئے چلے جائیں گے) قتادہ اور ابوالعالیہ کا قول ہے کہ اعمال سے مراد ایسی خطائیں ہیں جو حق کو نظر انداز کر کے کی جائیں حسن اور مجاہد سے منقول ہے۔” جو برے اعمال وہ ابھی کر رہے ہیں ان کے علاوہ بھی ایسے اعمال ہیں جنہیں یہ لازماً کر کے رہیں گے۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 64–65

81 منکرین و مستکبرین پر اللہ کا عذاب اور اس کی مختلف شکلیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے منکر اور مستکبر ایسے ہی غفلت اور مدہوشی میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ اچانک آپکڑے گا ان کو ہمارا عذاب۔ اگرچہ بعض حضرات نے اس سے مابعد الموت کا عذاب مراد لیا ہے لیکن اکثر حضرات اہل علم اور جمہور مفسرین کرام کے نزدیک اس سے مراد دنیا ہی کا کوئی عذاب ہے۔ جیسے عذاب بدر وغیرہ۔ (ابن جریر، ابن کثیر، روح، قرطبی، مدارک، خازن، صفوۃ البیان، اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ اور ایسے عذاب اس دنیا میں طرح طرح کی صورتوں اور شکلوں میں آتے رہتے ہیں تاکہ منکر اور باغی لوگ اپنے کئے کا بھگتان بھگتیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور جس نے سنبھلنا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 62–77

اللہ رحیم بھی ہے اور حساب لینے والا بھی ہے تشریح : یہ آیات بڑی معنی خیز ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ احکامات انسان کے لیے نازل کیے گئے ہیں چاہے وہ دین سے تعلق رکھتے ہوں ایمان سے ‘ وحی سے انسانی زندگی سے ‘ عبادات اور عملیات سے تعلق رکھتے ہوں سب ہی بےحد آسان فائدہ مند اور معمولات انسانی سے مطابقت رکھنے والے ہیں۔ کوئی بھی ایسا فریضہ یا اصول نافذ نہیں کیا گیا جس کو پورا کرنا انسان کے لیے مشکل یا ناممکن ہو یا نقصان دہ ہو۔ اسی لیے بار بار کہا گیا ہے کہ تمام مذاہب سے زیادہ آسان اور معقول مذہب اسلام ہے۔ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس بات کا ثبوت ہر جگہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–77

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف اور تمام رسولوں کو اللہ جل جلالہ نے ایک طریق حیات عطا فرما کر حکم دیا کہ پاکیزہ اور نفیس چیزیں کھاؤ اور اللہ جل جلالہ کے بتائے ہوئے قواعد پر عمل کرو کہ می تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں یہ قوم جس کی طرف تم مبعوث ہوئے ہو تمہاری جماعت ہے جو ایک ہے اور متفق ومتحد ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری عظمت کو ہر حال میں پیش نظر رکھو۔ (غذا اور عمل) یہاں انبیاء کرام (علیہ السلام) ورسل کو ارشاد فرما کر تمام قوموں کو ایک اصولی ضابطہ بتایا گیا ہے کہ حلال اور پاکیزہ غذا سے توفیق عمل نصیب ہوتی ہے اور اگر غذا ہی حلال نہ ہو تو نیک عمل کی توفیق بھی نہیں ہوتی ، اگر کر بھی لے تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 64–65

4 ۔ کیونکہ یہ جزا و سزا کا وقت ہے، عمل و توبہ کا وقت ختم ہوگیا۔ اب تمہاری چیخ پکار بےکار ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(23:64) مترفیہم۔ مترفی مضاف ہم مضاف الیہ۔ اصل میں مترفین تھا اضافت کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ ان کے عیش پرست۔ دولت مند اور خوش حال لوگ۔ الترفۃ۔ عیش و عشرت میں فراخی اور وسعت کو کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے اترف فلان فھو مترف۔ وہ آسودہ حال اور کثرت دولت کی وجہ سے بدمست ہے۔ جیسے قرآن مجید میں ہے وارجعوا الی ما اترفتم فیہ (21:13) اور جن نعمتوں میں تم عیش و آسائش کرتے تھے ان کی طرف لوٹ جائو۔ اذاہم۔ اذا مفاجاتیہ ہے۔ یجئرون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ جئر وجؤار مصدر (باب فتح) الجوار کے اصل معنی وحشت کے ہیں (جیسے ہرن ۔ بیل وغیرہ) کے گھبراہٹ کے وقت زور سے آواز نکالنے اور چیخنے کے ہیں۔ پھر تشبیہ کے طور پر دعا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 62–77

لانکلف ‘ ہم بوجھ نہیں ڈالتے۔ ہم تکلیف نہیں دیتے (لدینا) ہمارے پاس ‘ (ینطق) بولتا ہے ‘(غمرۃ) بیخبر ی۔ غفلت۔ جہالت۔ سختی ‘(مترفی (مترفین) عیش پسند و خوشحال لوگ ‘ (یجئرون) وہ چیختے چلاتے ہیں ‘ (اعقاب (عقب) ایڑیاں ‘(تنکصون) تم الٹے پاؤں پھرجاتے ہو۔ (سامر) رات کو قصے گھڑ گھڑ کر سنانے والا ‘ (تھجرون) برے الفاظ سے یاد کرتے ہو ‘ لم یدبرو (غور نہیں کیا) (کارھون (ناپسند کرنے والے) ‘ خرج (معاوضہ ۔ بدلہ) ‘ لجوا (منہمک رہے۔ وہ اڑے رہے) مایتضرعون (وہ گڑ گراتے نہیں ہیں) ‘ مبلسون (حیران رہ جانے والے) تشریح : آیت نمبر 62 تا 77 : تمام انسانوں پر اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ وہ کسی پر اتنا بوجھ نہیں ڈالتا جسے وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 63–67

منکرین قرآن کا ذکر۔ (ف 2) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ شرک کے وبال میں ان لوگوں سے بڑھ کر خوش حال پچھلی قومیں جب طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئیں۔ جس کے قصے کئی دفعہ ان کو سنادیے گئے تو ان مشرکوں کا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ ان کے مال واولاد کی ترقی اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور خوش ہے بلکہ ان لوگوں کے اس غلط خیال پر جمے رہنے کا سبب یہی ہے کہ یہ لوگ قرآن کی نصیحت کو دھیان سے نہیں سنتے۔ اور نیک لوگوں کے جو کام ان کو اوپر کی آیتوں میں بتلائے گئے ہیں رات دن ان کاموں کے برخلاف کام کرتے ہیں لیکن ان میں بڑے بڑے خوش حال وقت مقررہ پر جب عذاب آخرت میں گرفتار ہوجاویں گے تو عذاب کی تکلیف سے بہت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 64–70

[31] اصل میں لفظ '' مترفین '' استعمال کیا گیا ہے۔ مترفین ان لوگوں کو کہتے ہیں جو مال و دولت پا کر عیش کر رہے ہوں اور اللہ کی مخلوق کے حقوق سے غافل ہوں۔ [32] عذاب سے مراد یہاں آخرت کا عذاب نہیں بلکہ دنیا کا عذاب ہے۔ چناچہ اس عذاب کا ایک نمونہ کفار کو بدر میں دکھایا گیا جہاں ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے یا قید ہوگئے اور عورتیں مہینوں تک ان کا نوحہ کرتی رہیں۔ ایک مرتبہ جب رسول اکرم ﷺ نے کفار کے مظالم سے تنگ کر آ کر بددعا فرمائی تو سات سال کا قحط مسلط ہوا اور مردار، ہڈیاں اور چمڑے کھانے کی نوبت آگئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 62–64

(ف 2) اس آیت میں اسلامی اصول فقہ وتشریح کی فضیلت بیان فرمائی ہے کہ یہ بہت آسان اور سہل ہے ، اور اس میں کوئی بات ایسی نہیں جو انسانی طاقت اور وسعت سے باہر ہو ، بات یہ ہے کہ اسلام سے قبل جس قدر مذاہب موجود تھے سب ہیں ریاضات شاقہ کو عبادت قرار دیا گیا تھا ، اور یہ بتایا دیا تھا کہ تم جس قدر تکلیف اٹھاؤ گے اسی قدر اللہ تعالیٰ کو اپنے قریب پاؤ گے اسلام کہتا ہے یہ اصول غلط ہے ، عبادات اور اس کے قدر ہلکا پھلکا اور آسان ہونا چاہئے ، کہ ہر شخص برداشت کرینگے ، چنانچہ اسلام ایسا ہی آسان مذہب ہے جو رہبانیت اور شکر پسندی کو ناجائز قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو خوش اور مسرت کی عبادت زیادہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(64) یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوش عیش لوگوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے اور گرفتار کردیں گے تو تب ہی چلا اٹھیں گے یعنی قحط میں یا بدر کی جنگ میں مرنے کے بعد برزخ میں۔ ان کے خوش حال لوگ اس قسم کے عذابوں میں سے کسی عذاب کی لپیٹ میں آجائیں گے تو چلانے لگیں گے اور جب عذاب کے وقت بڑے بڑے لوگوں کا یہ حال ہوجائے گا تو چھوٹے لوگوں کا تو کہنا ہی کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کی پکڑ کا جب وقت آئے گا تو وہ چیخیں مارتے رہ جائیں گے : 64۔ یہاں تک کہ جب ہم ان خوشحال لوگوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے تو پھر وہ آہ زاری کریں گے ۔ “ قرآن کریم نے جگہ جگہ ان صاحب مال واولاد لوگوں کا ذکر کیا ہے جو قوم کے دولت مند طبقہ میں سے ہوتے ہیں ہم نے ان کو تفصیل کے ساتھ سورة بنی اسرائیل کی آیت 16 کے تحت بیان کیا ہے وہاں سے ملاحظہ کریں ۔ اس سے اتنی بات تو سب کو معلوم ہوجانا چاہئے کہ انفرادی زندگی میں بدعملی کا بڑا مرکز دنیوی خوش حالی کی زندگی ہوجاتی ہے اور ہمیشہ حق وصداقت کی مخالفت وہیں سے شروع ہوتی ہے اور اس کا سبب واضح ہے کہ خوش حالی و ثروت کی حالت ایک ایسی حالت ہے کہ اگر کسی جماعت میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 64–66

مُتْرَ‌فِيهِم (their affluent ones - 23:64). The word مُتْرَ‌فِ is derived from تْرَ‌فِ meaning comfort and prosperity. This verse mentions the Divine punishment which will descend upon the unbelievers whether rich or poor. The rich people have been specially mentioned here because they are the ones who make adequate arrangements to protect themselves against disasters and misfortunes. But when retribution comes from Allah, they find themselves totally helpless. According to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ the punishment which is mentioned in this verse is an allusion to the crushing defeat which the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

59. The epicureans will probably be punished in this worldly life because in the enjoyment of luxury and pleasure they forgot the rights of the other people and transgressed the prescribed limits. 60. Juar is bellowing by a bull painfully. Here the word has been used tauntingly for a groaning person who does not deserve any mercy, as if to say: Now that you are going to be punished for your misdeeds, you have started bellowing.

Read the full tafseer →