Al-Muminoon 23:63

Al-Muminoon · from ayah 63

23:63

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَلَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ ۟بَلۡ قُلُوۡبُهُمۡ فِىۡ غَمۡرَةٍ مِّنۡ هٰذَا وَلَهُمۡ اَعۡمَالٌ مِّنۡ دُوۡنِ ذٰلِكَ هُمۡ لَهَا عٰمِلُوۡنَ

مگر ان کے دل ان (باتوں) کی طرف سے غفلت میں (پڑے ہوئے) ہیں، اور ان کے سوا اور اعمال بھی ہیں جو یہ کرتے رہتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

But their hearts are covered with confusion over this, and they have [evil] deeds besides disbelief which they are doing,

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:63

مگر یہ لوگ اس معاملے سے بے خبر ہیں اور ان کے اعمال بھی اس طریقے سے (جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے) مختلف ہیں وہ اپنے یہ کرتوت کیے چلے جائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مگر ان کے دل ان (باتوں) کی طرف سے غفلت میں (پڑے ہوئے) ہیں، اور ان کے سوا اور اعمال بھی ہیں جو یہ کرتے رہتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

بلکہ ان کے دل اس طرف سے غفلت میں ہیں اور ان کے لئے اس کے سوا بھی بہت سے اعمال ہیں جنہیں وه کرنے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

لیکن ان کے دل اس بات سے غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں، اور اس کے علاوہ ان کی اور بھی کارستانیاں ہیں جو وہ کرتے رہتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بلکہ ان کے دل اس سے غفلت میں ہیں اور ان کے کام ان کاموں سے جدا ہیں جنہیں وہ کررہے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بلکہ ان کے دل اس (قرآن کے پیغام) سے غفلت میں (پڑے) ہیں اور اس کے سوا (بھی) ان کے کئی اور (برے) اعمال ہیں جن پر وہ عمل پیرا ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلکہ ان کے دل اس سے غفلت میں ہیں اور ان کے لیے اس کے سوا کئی کام ہیں، وہ انھی کو کرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلکہ اس بات سے تو ان کے دل سخت غافل ہیں اور اس غفلت کے علاوہ ان کے اور بھی کئی (برے) اعمال ہیں جو وہ کر رہے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بلکہ ان لوگوں کے دل اس چیز سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے کچھ اور مشاغل ان کے ماسوا ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر یہ لوگ ہیں کہ ان کے دل اس سے غفلت اور مدہوشی میں پڑے ہیں اور اس فساد عقیدہ کے علاوہ ان کے کچھ اور اعمال بھی ایسے ہیں جن کو یہ لوگ کرتے رہتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

لیکن ان (کافروں) کے قلوب اس (دین) کی طرف سے غفلت (وجہالت) میں پڑے ہیں اور اس کے علاوہ بھی ان کے (برے) عمل ہیں جو یہ کرتے رہتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

لیکن ان کے دل اس سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے اور بہت سے مشاغل ہیں ان کے سوا جن کے لیے وہ بھاگ دوڑ کر رہے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مگر ان کے دل ان باتوں کی طرف سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے سوا اور اعمال بھی ہیں جو یہ کرتے رہتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Nay, their hearts are lost in ignorance of all this; and their deeds too vary from the way (mentioned above). They will persist in these deeds

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

But their hearts are in ignorance about this, and they have deeds, other than that, which they are continuously doing.

— Muhammad Taqi Usmani

But their hearts are in ignorance about this, and they have deeds, other than that, which they are continuously doing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nay, but their hearts are covered from this, and they have other deeds, besides which they are doing.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Nay, but their hearts are in ignorance of this (Qur'an), and they have other works, besides, which they are doing;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But their hearts are covered with confusion over this, and they have [evil] deeds besides disbelief which they are doing,

— Saheeh International

In fact, the hearts of the unbelievers are in the dark because of their ignorance of real virtue; they act against it.

— Muhammad Sarwar

Nay, their hearts are in overwhelming ignorance with respect to it and they have besides this other deeds which they do.

— Muhammad Habib Shakir

Aye! their hearts are in bewilderment in respect thereof, and they have works beside that, of which they are workers.

— Abdul Majid Daryabadi

But their hearts are in confused ignorance of this; and there are, besides that, deeds of theirs, which they will (continue) to do,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:63

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 62–67

آسان شریعت اللہ تعالیٰ نے شریعت آسان رکھی ہے۔ ایسے احکام نہیں دئیے جو انسانی طاقت سے خارج ہوں۔ پھر قیامت کے دن وہ اعمال کا حساب لے گا جو سب کے سب کتابی صورت میں لکھے ہوئے موجود ہوں گے۔ یہ نامہ اعمال صحیح صحیح طور پر ان کا ایک ایک عمل بتادے گا۔ کسی طرح کا ظلم کسی پر نہ کیا جائے گا کوئی نیکی کم نہ ہوگی ہاں اکثر مومنوں کی برائیاں معاف کردی جائیں گی۔ لیکن مشرکوں کے دل قرآن سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا بھی ان کی اور بد اعمالیاں بھی ہیں جیسے شرک وغیرہ جسے یہ دھڑلے سے کررہے ہیں۔ تاکہ ان کی برائیاں انہیں جہنم سے دور نہ رہنے دیں۔ چناچہ وہ حدیث گزر چکی جس میں فرمان ہے کہ انسان نیکی کے کام کرتے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِنُوْن 58 یعنی اس امر سے کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں، کہہ رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں، یہ سب کچھ کہیں درج ہو رہا ہے، اور کبھی اس کا حساب ہونے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (یہ تو اوپر مومنین کی حالت سنی مگر کفار ایسے نہیں ہیں) بلکہ (برعکس) ان کفار کے قلوب اس دین کی طرف سے (جس کا ذکر بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ میں ہے) جہالت (اور شک) میں (ڈوبے ہوئے ہیں (جن کا حال اوپر بھی معلوم ہوچکا فَذَرْهُمْ فِيْ غَمْرَتِهِمْ) اور اس (جہالت و انکار) کے علاوہ ان لوگوں کے اور بھی (برے برے خبیث) عمل ہیں جن کو یہ (مسلسل) کرتے رہتے ہیں (یہ لوگ شرک اور اعمال سیہ کے برابر خوگر رہیں گے) یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوشحال لوگوں کو (جن کے پاس مال و دولت اور نوکر چاکر سب کچھ ہے) عذاب (بعد الموت) میں دھر پکڑیں گے (اور غریب غرباء تو کس گنتی میں ہیں اور وہ تو عذاب سے کیا بچاؤ کرسکتے ہیں، غرض…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 63–64

آیت 64-63 مترفین اور ان کے پیروئوں کا انجام اس اضراب کا تعلق متکبرین کے اسی مغالطہ سے ہے جو اوپر مذکور ہوا کہ وہ اپنی رفاہیت و خوش حالی کو اپنی نیک اعمالی و نیک مآلی کی دلیل بنائے بیٹھے ہیں۔ وہاں صرف ان کے مغالطہ کی طرف اشارہ کر کے کلام اہل ایمان کے ذکر کی طرف مڑ گیا تھا۔ اب پھر وہی سلسلہ کلام عود کر آیا۔ فرمایا کہ ان لوگوں کے دل، اس انذار سے جو خدا کا رسول ان کو سنا رہا ہے، غفلت کے پردوں میں ہیں اور یہ اسی طرح سرمستیوں میں کھوئے رہیں گے۔ اہل ایمان کے جو اعمال، آیات 60-57 میں مذکور ہوئے ان کے اندر ان کے لئے کوئی کشش نہیں۔ انکی دلچسپی کے اعمال کچھ اور ہیں اور وہ انہی میں منہمک رہیں گے۔ یہاں تک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

63-1یعنی شرک کے علاوہ دیگر برائیاں یا اعمال مراد ہیں، جو مومنوں کے اعمال (خشیت الٰہی، ایمان با توحید وغیرہ) کے برعکس ہیں۔ تاہم مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 63–68

23: یعنی کفر اور شرک کے علاوہ ان لوگوں کے اور بھی بہت سے برے کام ہیں جو وہ کرتے رہتے ہیں

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 63–67

بل قلو بھم تھجرون (آیت نمبر 62 تا 67) یعنی یہ لوگ جن حالات میں مشغول ہیں ان میں وہ اس لیے غرق نہیں ہیں کہ پیغبران کوا ان کی طاقت سے زیادہ احکام دیتے ہیں بلکہ اصل سبب یہ ہے کہ یہ لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اس سچائی کی طرف متوجہ ہی نہیں ہیں جسے قرآن کریم پیش کرتا ہے بلکہ وہ ان دوسری راہوں پر بہتے چلے جاتے ہیں ۔ اور یہ راہیں اسلام سے متضادرا ہیں ہیں۔ ولھم اعمال من دون ذلک ھم لھا عملون (23 : 63) ” اور ان کے اعمال اس طریقے سے مختلف ہیں اور یہ لوگ وہ اعمال کرتے دلے جاتے ہیں “۔ اب اس منظر کو پیش کیا جاتا ہے کہ جب اللہ کا عذاب ان کو آلیتا ہے ۔ یہ عذاب بہت ہی تباہ کن ہے ، اچانک ہے دفعتہ ان کو گھیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

14 یعنی آخرت کے حساب کتاب سے یہ لوگ غافل ہیں اور دنیا کے دوسرے دھندوں میں پڑے ہیں جن سے نکلنے کی فرصت ہی نہیں ہوتی جو آخرت کی طرف توجہ کریں۔ یا یہ مطلب ہے کہ ان کے دل شک و تردد اور غفلت و جہالت کی تاریک موجوں میں غرقاب ہیں۔ بڑا گناہ تو یہ ہوا، باقی اس سے ورے اور بہت سے گناہ ہیں جن کو وہ سمیٹ رہے ہیں۔ ایک دم کو ان سے جدا نہیں ہوتے، اور جدا بھی کیونکر ہوں، جو کام ان کی سوء استعداد کی بدولت مقدر ہوچکے ہیں وہ کر کے رہیں گے اور لامحالہ ان کا خمیازہ بھی اٹھانا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 63–64

وَلَہُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِکَ ہُمْ لَہَا عٰمِلُوْنَ ” اوپر اہل ایمان کے جن اعمال کا تذکرہ کیا گیا ہے ‘ ان کے مشاغل اور سرگرمیاں ان سے یکسر مختلف ہیں۔ ایسے لوگوں کے پاس دین کی خدمت اور بھلائی کے کاموں کے لیے وقت ہی نہیں ہے۔ انہیں دن رات اپنی دنیا کمانے کی فکر ہے۔ وہ اپنے وقت کاُ کل سرمایہ اپنی ساری توانائیوں سمیت خود ساختہ جھوٹے معیارات کو برقرار رکھنے اور زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کے لیے کھپا رہے ہیں۔ اس آیت کے مضمون کی روشنی میں ہر شخص کو اپنی مصروفیات کا جائزہ لینا چاہیے کہ اس کی شبانہ روز تگ و دو اور بھاگ دوڑ کا کتنا حصہ دین کے لیے ہے اور کتنا حصہ دنیا کے لیے۔ اگر کسی شخص کی تمام…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

64 یعنی یہ بات ان کے ذہن میں آتی ہی نہیں کہ ان کی پوری ہسٹری شیٹ ساتھ ہی ساتھ تیار ہو رہی ہے۔ لہذا وہ اپنے دنیا کے دوسرے کاموں میں ہی ایسے منہمک اور مگن ہیں کہ انھیں اس نامہ اعمال اور اس کی بنا پر آخرت کی بازپرس کا خیال تک نہیں آتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

57۔ جس طرح مومینن کا سرمایہ، علاوہ ان کے ایمان کے اعمال حسنہ وصالحہ ہوں گے، اسی طرح کافر علاوہ کفر کے طرح طرح کے اعمال بد میں بھی مبتلا رہا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–77

آیت نمبر 51 تا 77 ترجمہ : اے پیغمبرو ! پاکیزہ حلال چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو وہ فرض اور نفل ہیں بلاشبہ میں تمہارے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں تو میں ان کاموں پر تم کو جزاء دوں گا اور یہ بات جان لو کہ یہ یعنی ملت اسلام اے مخاطبو تمہارا دین ہے یعنی تمہارے لئے واجب ہے کہ تم اس پر قائم رہو حال یہ ہے کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے یہ حال لازمہ ہے اور ایک قرأت میں اَنْ کے نون کی تخفیف کے ساتھ ہے اور دوسری قرأت میں ہمزہ کے کسرہ اور نون کی تشدید کے ساتھ ہے اور یہ استیناف کے اعتبار سے ہے میں تمہارا رب ہوں تم مجھ سے ڈرتے رہو پھر وہ متبعین اپنے دینی معاملہ میں آپس میں مختلف ہوگئے زُبُرًا تقطعوا کے فاعل سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

بل قلوبہم فی غمرۃ من ہذا بلکہ ان کے دل اس (دین) کی طرف سے جہالت (اور شک) میں پڑے ہوئے ہیں۔ غَمْرَۃٍ چھا جانے والی غفلت۔ مِنْ ہٰذَا یعنی عدم شعور سے بھی پس وہ دین کا شعور نہیں رکھتے اور یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ شعور نہیں رکھتے (جاہل مرکب ہیں) یا یہ مطلب ہے کہ نفس شعور سے غافل ہیں نہ اب جانتے ہیں نہ آئندہ سمجھیں گے چھا جانے والی غفلت کی وجہ سے ان میں شعور کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ اس امر سے بالکل غافل ہیں کہ انہوں نے اللہ کے پسندیدہ دین کو چھوڑ دیا ہے اور دین کو بدل کر فرقے فرقے بن گئے ہیں اور اپنی خواہش کے موافق دین اختیار کر رکھا ہے یا یہ مطلب ہے کہ وہ اس قرآن سے غافل ہیں یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(63) بلکہ ان مکہ والوں یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کے دل اس قرآن کریم کی طرف سے جہالت اور غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور جن نیکیوں کا آپ ان کو حکم دیتے ہیں ان کے علاوہ برائیاں ان کے مقدر میں لکھی ہوئی ہیں جن کو یہ دنیا میں اپنے وقت آنے تک کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِيْ غَمْرَةٍ مِّنْ ھٰذَا۔۔ : ”غَمْرَةٍ“ میں تنوین تہویل کی ہے، اس لیے ترجمہ ”سخت غفلت“ کیا ہے۔ ”ھذا“ کا اشارہ ان چیزوں کی طرف ہے جو اس سے پہلے مذکور ہیں، یعنی بات وہ نہیں جو کفار نے سمجھ رکھی ہے کہ اموال و اولاد کی صورت میں انھیں اللہ کی طرف سے بھلائیاں مل رہی ہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کے دل بھلائیوں کے حصول کا سبب بننے والی صفات سے (یعنی خشیت الٰہی، آیات پر ایمان، شرک سے اجتناب اور کوئی بھی عمل کرتے ہوئے اس کے قبول نہ ہونے کا خوف رہنا) اور قیامت کے دن کتاب اعمال کے پیش ہونے سے سخت غفلت میں ہیں۔ پھر ان کا جرم یہی نہیں بلکہ ان کے علاوہ اور بھی کئی اعمال ہیں جنھیں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 63–65

آیت نمبر 63-65 اللہ کا ارشاد ہے۔ بل قلوبھم فی غمرۃ من ھذا مجاہد نے کہا : وہ پردے اور غفلت میں ہیں اور قرآن سے اندھے ہوچکے ہیں کہا جاتا ہے۔ غمرۃ الماء جب پانی ڈھانپ لے۔ نہر غمر ایسی نہر کہ جو اس میں داخل ہو اس کو ڈھانپ دیتی ہے۔ رجل غمر یغمرہ آراء الناس۔ ایسا شخص جس کو لوگوں کی آراء ڈھانپ لیں۔ بعض علماء نے کہا غمرۃ کیونکہ وہ چہرے کو ڈھانپ لیتی ہے اسی سے ہے دخل فی غمار الناس وخمارھم یعنی لوگوں کے مجمع نے اسے ڈھانپ لیا۔ بعض نے کہا : بل قلوبھم فی غمرۃ یعنی وہ حیرت اور اندھے پن میں ہیں یعنی اس سے وہ اندھے ہیں جو پہلی آیات میں اعمال خیر بیان کیے گئے ہیں ؛ یہ قتادہ کا قول ہے یا اس کتاب سے اندھے ہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” بل قلوبہم فی غمرۃ من ہذا “ میں غمرہ سے مراد ہے کفر اور شک۔ آیت ” ولہم اعمال من دون ذلک “ یعنی شرک کے علاوہ اور بی ان کے برے اعمال ہیں۔ آیت ہم لھا عملون “ کہ جن پر عمل کرنا ان کے لیے ضرور ہے۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” بل قلوبہم فی غمرۃ من ہذا “ یعنی وہ اس قرآن سے اندھے ہیں آیت ” ولہم اعمال “ یعنی ان کے بھی برے اعمال ہیں ” من دون ذلک ہم لہا عملون “ یعنی وہ ان برے کاموں کو لازمی طور پر کرتے ہیں۔ 3۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ بَلْ : بلکہ ] [ قُلُوْبُهُمْ : ان کے دل ] [ فِي غَمْرَةٍ : غفلت میں ] [ مِّنْ : سے ] [ ھٰذَا : یہ ] [ وَ : اور ] [ لَهُمْ : ان کے لیے ] [ اَعْمَالٌ : اعمال ] [ مِّنْ : سے ] [ دُوْنِ : سوا ] [ ذٰلِكَ : وہ ] [ هُمْ : وہ ] [ لَهَا : اس کیلیے ] [ عٰمِلُوْنَ : سب کرنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 63–70

کافروں کا حق سے منہ موڑنا، تکبر کرنا، اور تدبر سے دوررہنا اوپر اہل ایمان کا تذکرہ فرمایا اب ان آیات میں منکرین کے احوال اور اعمال بیان فرمائے اول تو یہ فرمایا کہ ان لوگوں کے دل میں جہالت نے جگہ پکڑ رکھی ہے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے دین کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ان کے دل جہالت سے بھرے ہوئے ہیں تکذیب و انکار کے علاوہ دیگر اعمال خبیثہ کا بھی ارتکاب کرتے ہیں یہ لوگ اسی حال میں رہیں گے یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوش حال لوگوں کو پکڑ لیں گے اور ان پر عذاب بھیج دیں گے تو فوراً چلا اٹھیں گے، جب پہلے حق کی دعوت دی گئی تبلیغ کی گئی تو حق کو ٹھکرایا اور بات نہ مانی اب جب عذاب آگیا تو چلانے لگے، ان سے کہا جائے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 62–67

ترغیب بر اعمال خیر وبیان حال و مآل اہل طغیان قال اللہ تعالیٰ ولا نکلف نفسا الا وسعھا .... الیٰ .... سمرا تھجرون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں جن اعمال خیر کی مدح فرمائی تھی اب ان آیات میں ان کی ترغیب دیتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ وہ افعال و اعمال جو خدا کے نزدیک پسندیدہ ہیں کچھ دشوار نہیں بلکہ آسان ہیں اور جن لوگوں کو ان نیکیوں کی طرف رغبت نہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ احکام اسلام سخت اور دشوار ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ تکبر اور غرور کی وجہ سے ان کے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں جب خدا کا عذاب دیکھتے ہیں تب ہوش آتا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور جن اعمال خیر میں اہل ایمان مسارعت اور مسابقت کر رہے ہیں، یہ اعمال کچھ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

55:۔ ” بَلْ قُلُوْبُھُمْ الخ “ یہ بل لا یشعرون سے بھی ترقی ہے اور ” ان الذین ھم من خشیۃ ربھم مشفقون “ سے متعلق ہے۔ یعنی یہ بات نہیں کہ وہ سمجھتے نہیں۔ سمجھتے خوب ہیں لیکن اس کے باوجود غفلت میں پڑے ہیں۔ اور شرک کی نئی نئی راہیں کھول رہے ہیں۔ مومنین تو اللہ تعالیٰ سے ہر وقت ترسان و لرزاں رہتے اور تمام معاصی سے حتی الوسع اجتناب کرتے اور ہر قسم کے شرک سے بچتے ہیں۔ مشرکین غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور مذکورہ بالا اعمال خیر سے دور بھاگتے ہیں انہیں چاہئے تھا کہ وہ اللہ سے ڈرتے اس کے ساتھ شرک نہ کرتے اور تمام دیگر اعمال شر سے اجتناب کرتے۔ ” وَلَھُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِکَ الخ “۔ لیکن بجائے اس کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 57–67

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دلائل توحید ذکر کرنے کے بعد نافرمان لوگوں کا حال بیان کیا اور اس سلسلے میں بہت سے نبیوں کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا مگر انہوں نے انکار کیا۔ آخر میں موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر آیا۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ کا بھی مختصر تذکرہ ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے تمام نبیوں کی مشترک تعلیم کا ذکر کیا۔ اللہ نے تمام رسولوں کو یہی اصول سمجھایا کلوا من الطیبت واعملوا صالحا ہمیشہ حلال اور طیب چیز کھائو اور نیک اعمال انجام دو ۔ اسی اصول ملت کی تعلیم انبیاء (علیہم السلام) نے عام لوگوں کو بھی دی ۔ پھر بعد میں لوگوں میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

بَلْ قُلُوْبُہُمْ فِيْ غَمْرَۃٍ مِّنْ ھٰذَا وَلَہُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ ہُمْ لَہَا عٰمِلُوْنَ۝ 63 غمر أصل الغَمْرِ : إزالة أثر الشیء، ومنه قيل للماء الکثير الذي يزيل أثر سيله، غَمْرٌ وغَامِرٌ ، قال الشاعر : 342- والماء غَامِرُ جدّادها «1» . وبه شبّه الرّجل السّخيّ ، والفرس الشّديد العدو، فقیل لهما : غَمْرٌ كما شبّها بالبحر، والغَمْرَةُ : معظم الماء الساترة لمقرّها، وجعل مثلا للجهالة التي تَغْمُرُ صاحبها، وإلى نحوه أشار بقوله : فَأَغْشَيْناهُمْ [يس/ 9] ، ونحو ذلک من الألفاظ قال : فَذَرْهُمْ فِي غَمْرَتِهِمْ [ المؤمنون/ 54] ، الَّذِينَ هُمْ فِي غَمْرَةٍ ساهُونَ [ الذاریات/ 11] ، وقیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 62–75

اہل ایمان کے چند اوصاف حمیدہ ذکر کرکے فرمایا تھا کہ یہی لوگ نیکیوں میں سبقت کر رہے ہیں۔ اب مخالفوں کو رغبت دلاتا ہے کہ لانکلف نفسا الا وسعہا ہم کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے یعنی احکام سخت پر مامور نہیں کرتے آسان اور سہل حکم دیا کرتے ہیں پھر اے کم بخت منکرو ! تم کیوں ان نیکیوں میں پیچھے رہے جاتے ہو ؟ اور یہ خیال کرنا کہ ان نیکیوں میں سعی کرنا بےفائدہ ہے ان کو آخرت میں کون یاد رکھے گا ؟ غلط خیال ہے کس لیے کہ ولدنیا کتاب ینطق بالحق وھم لایظلمون۔ ہمارے پاس ایک کتاب ہے اس میں یہ سب کچھ لکھا جاتا ہے ہر فرد و بشر کے اعمال کراماً کاتبین لکھا کرتے ہیں یہ کتاب ہر ایک بات ٹھیک ٹھیک بیان کر دے گی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

بَلْ قُلُوْبُھُمْ فِیْ غَمْرَۃٍ مِّنْ ھٰذَا وَلَھُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِکَ ھُمْ لَھَا عٰمِلُوْنَ ۔ (المومنون : 63) (بلکہ ان لوگوں کے دل اس چیز سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے اعمال ان کے ماسوا ہیں وہ انھیں کاموں کو کرتے رہیں گے۔ ) مترفین کی گمراہی اور تباہی کا سبب آیت نمبر 54 اور 55 میں متکبرین اور متمردین کے ایک مغالطہ کا ذکر کیا گیا تھا۔ جس نے ان کی فکری اور عملی زندگی کو تلپٹ کرکے رکھ دیا اور وہ اپنے مغالطہ میں اس حدتک جکڑے ہوئے تھے کہ اس سے مختلف کسی بہتر سے بہتر بات کو بھی سننے کے روادار نہ تھے۔ اس مغالطہ کے تحت ان میں جو سب سے بڑی خرابی پیدا ہوئی وہ یہ تھی کہ انھوں نے اپنی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 63–65

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے بندوں کے دل ہر وقت اپنے رب اور قیامت کے خوف سے لرزاں رہتے ہیں ان کے مقابلے میں مشرک اور متکبر لوگوں کے دل غفلت کا شکار ہوتے ہیں۔ انسان کے دل سے اپنے رب کا خوف اور آخرت کی جواب دہی کا تصور ختم ہوجائے تو وہ غفلت کا شکار ہوجاتا ہے۔ غفلت کا شکار شخص نیک کاموں میں دلچسپی نہیں لیتا۔ غفلت کا بنیادی سبب دنیا کی عیش و عشرت اور مال کی ہوس ہوتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کے خوف سے عاری اور فکر آخرت سے لاپرواہ طبقہ معاشرے میں ترقی اور فیشن کے نام پر ہر قسم کی برائی پھیلانے کا موجب بنتا ہے۔ اکثر اوقات یہ طبقہ اس وقت تک ہوش کے ناخن نہیں لیتا جب تک ان پر عذاب نہیں آتا یا کسی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کفار شکار غفلت : 63: بَلْ قُلُوْبُہُمْ فِیْ غَمْرَۃٍ مِّنْ ھٰذَا (بلکہ ان کے دل اس دین کے متعلق شک میں پڑے ہیں) بلکہ کفار کے قلوب ایسی غفلت کا شکار ہیں جو ان کو اس چیز سے ڈھانپنے والی ہے جس پر یہ ایمان والے قائم ہیں۔ وَلَھُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِکَ (اور ان کے اس کے علاوہ بھی اعمال ہیں) ان کے مخفی اعمال تو اس بات سے تجاوز کرنے والے ہیں جس سے مومن موصوف ہیں۔ ھُمْ لَہَا عٰمِلُوْنَ (اور وہ ان کو کئے جارہے ہیں) اور اس پر قائم رہنے والے ہیں اور ان کو اسوقت تک چھوڑنے کیلئے تیار نہیں یہاں تک کہ ان کو عذاب آپکڑے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

63۔ بل قلوبھم فی غمرۃ، چھاجانے والی غفلت۔ اور جہالت۔ من ھذا، اس قرآن سے ، ولھم اعمال من دون ذالک، کفار کے اعمال خبیثہ جوان مومنین کے اعمال سے ہٹ کر ہیں۔ وہ اعمال جو اللہ نے پہلے ذکر کیے ہیں۔ ان الذین ھم من خشیہ ربھم مشفقون، ھم لھاعاملون۔ ان کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ جو وہ اعمال بد کرتے ہیں ان کے بسبب وہ دوزخ میں چلے جائیں گے کیونکہ ان پر شقاوت اور بدبختی غالب آگئی یہی قول اکثر مفسرین کا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 63–67

63۔ 67:۔ اوپر کی آیتوں میں ان کا ذکر تھا ‘ جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک قرار پاچکے ہیں ‘ ان آیتوں میں ان بدلوگوں کا ذکر فرمایا گیا ہے جو علم ازلی الٰہی میں بد قرار پاچکے ہیں اور ہر وقت دین کے کاموں کی طرف سے ان کے دل غافل ہیں ‘ ان آیتوں کی تفسیر بہت سی صحیح حدیثوں میں آئی ہے چناچہ صحیح بخاری میں جو روایتیں ہیں ‘ ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جس وقت فرمایا دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جنتی ہر شخص کا نام اہل جنت میں اور دوزخی ہر شخص کا نام اہل دوزخ میں لکھ لیا ہے تو یہ بات سن کر صحابہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت پھر نیک عمل کی کیا ضرورت ہے ہم لوگ اپنی تقدیر پر شاکر ہو نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 63–67

آیت (63 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ جھٹلانے والے ‘ اس بارے میں جہالت میں مبتلا ہیں یعنی جہالت ‘ ظلم ‘ غفلت اور روگردانی میں غلطاں ہیں یہ جہالت اور غفلت انہیں قرآن تک نہیں پہنچنے دیتی۔ پس یہ قرآن سے راہنمائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں اور قرآن سے ان کے دلوں تک کچھ نہیں پہنچتا۔ فرمایا : ( آیت واذا قراتن القران) (بنی اسرآئیل : (49, 45/7” جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو آپ کے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم ایک پردہ حائل کردیتے ہیں اور دلوں پر غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دیتے ہیں۔ “ اور جب ان کے دل غفلت اور جہالت میں مستغرق ہیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 63–66

قول باری ہے (ولھم اعمال من دون ذلک ھم لھا عاملون اور ان کے اعمال بھی اس طریقے سے مختلف ہیں (جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے) وہ اپنے یہ کرتوت کئے چلے جائیں گے) قتادہ اور ابوالعالیہ کا قول ہے کہ اعمال سے مراد ایسی خطائیں ہیں جو حق کو نظر انداز کر کے کی جائیں حسن اور مجاہد سے منقول ہے۔” جو برے اعمال وہ ابھی کر رہے ہیں ان کے علاوہ بھی ایسے اعمال ہیں جنہیں یہ لازماً کر کے رہیں گے۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

80 منکروں کے دل غفلت میں ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے دل اس سے غفلت میں پڑے ہیں۔ اور ان کو خیال و احساس تک نہیں کہ جو کچھ یہ کہہ اور کر رہے ہیں وہ کہیں درج ہو رہا ہے۔ اور یہ پورا ریکارڈ کل قیامت کے روز ان کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ پس یہ مشرک اور محروم لوگوں کا حال اور ان کا وصف ہے نہ کہ ان سچے اہل ایمان کا جن کی صفات اوپر بیان ہوئیں۔ جیسا کہ بعض حضرات نے ایسے کہا کہ یہ قرآن پاک کے دوسرے نظائر کے خلاف اور ذوق سلیم کے بھی منافی ہے۔ (تفسیر القاسمی (رح) وغیرہ) ۔ بہرکیف ارشاد ربانی سے واضح فرما دیا گیا کہ ان منکر اور متکبر لوگوں کا اصل مرض غفلت اور لاپرواہی ہے۔ سو یہ غافل ہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 62–77

اللہ رحیم بھی ہے اور حساب لینے والا بھی ہے تشریح : یہ آیات بڑی معنی خیز ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ احکامات انسان کے لیے نازل کیے گئے ہیں چاہے وہ دین سے تعلق رکھتے ہوں ایمان سے ‘ وحی سے انسانی زندگی سے ‘ عبادات اور عملیات سے تعلق رکھتے ہوں سب ہی بےحد آسان فائدہ مند اور معمولات انسانی سے مطابقت رکھنے والے ہیں۔ کوئی بھی ایسا فریضہ یا اصول نافذ نہیں کیا گیا جس کو پورا کرنا انسان کے لیے مشکل یا ناممکن ہو یا نقصان دہ ہو۔ اسی لیے بار بار کہا گیا ہے کہ تمام مذاہب سے زیادہ آسان اور معقول مذہب اسلام ہے۔ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس بات کا ثبوت ہر جگہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–77

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف اور تمام رسولوں کو اللہ جل جلالہ نے ایک طریق حیات عطا فرما کر حکم دیا کہ پاکیزہ اور نفیس چیزیں کھاؤ اور اللہ جل جلالہ کے بتائے ہوئے قواعد پر عمل کرو کہ می تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں یہ قوم جس کی طرف تم مبعوث ہوئے ہو تمہاری جماعت ہے جو ایک ہے اور متفق ومتحد ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری عظمت کو ہر حال میں پیش نظر رکھو۔ (غذا اور عمل) یہاں انبیاء کرام (علیہ السلام) ورسل کو ارشاد فرما کر تمام قوموں کو ایک اصولی ضابطہ بتایا گیا ہے کہ حلال اور پاکیزہ غذا سے توفیق عمل نصیب ہوتی ہے اور اگر غذا ہی حلال نہ ہو تو نیک عمل کی توفیق بھی نہیں ہوتی ، اگر کر بھی لے تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

2 ۔ کہ جو کچھ یہ کر رہے ہیں، یا بول رہے ہیں، سب ان کے نامہ اعمال میں درج ہو رہا ہے اور ایک دن انہیں ان کا حساب دینا پڑے گا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” ھذا “ سے اشارہ قرآن کی طرف ہو اور یہ کفار اور مشرکین قریش کو تنبیہ ہو۔ (قرطبی۔ ابن کثیر) 3 ۔ یا وہ ” انہیں آئندہ کرنے والے ہیں “۔ واحدی کہتے ہیں کہ اس آیت میں ان کے آئندہ اعمال کی خبر دی گئی ہے۔ یہی اکثر علمائے تفسیر نے بیان کی ہے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(23:63) بل۔ بلکہ۔ لیکن۔ قلوبہم۔ مضاف مضاف الیہ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع کفار ہیں جن کا ذکر اوپر آیات 53 تا 56 میں آیا ہے۔ غمرۃ۔ ملاحظہ ہو اوپر آیت 54 ۔ من ھذا۔ ای من القران۔ یا اس حقیقت سے کہ ان کے جملہ احوال و افعال واقوال درج کئے جا رہے ہیں۔ من ھذا۔ ای من ھذا الدین۔ من دون ذلک۔ دون۔ بمعنی ورے۔ سوائے۔ غیر۔ جو کسی کے نیچے ہوں وہ بھی دون کہلاتا ہے۔ علامہ سیوطی کے نزدیک دون ظرف ہو کر استعمال ہوتا ہے اور فوق کی تقیض ہے ذلک کا مشار الیہ کیا ہے اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں۔ (1) اس کا اشارہ اوپر بیان کردہ مومنین کے اعمال صالحہ ہیں۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ ان کے اعمال مومنوں کے اعمال سے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 62–77

لانکلف ‘ ہم بوجھ نہیں ڈالتے۔ ہم تکلیف نہیں دیتے (لدینا) ہمارے پاس ‘ (ینطق) بولتا ہے ‘(غمرۃ) بیخبر ی۔ غفلت۔ جہالت۔ سختی ‘(مترفی (مترفین) عیش پسند و خوشحال لوگ ‘ (یجئرون) وہ چیختے چلاتے ہیں ‘ (اعقاب (عقب) ایڑیاں ‘(تنکصون) تم الٹے پاؤں پھرجاتے ہو۔ (سامر) رات کو قصے گھڑ گھڑ کر سنانے والا ‘ (تھجرون) برے الفاظ سے یاد کرتے ہو ‘ لم یدبرو (غور نہیں کیا) (کارھون (ناپسند کرنے والے) ‘ خرج (معاوضہ ۔ بدلہ) ‘ لجوا (منہمک رہے۔ وہ اڑے رہے) مایتضرعون (وہ گڑ گراتے نہیں ہیں) ‘ مبلسون (حیران رہ جانے والے) تشریح : آیت نمبر 62 تا 77 : تمام انسانوں پر اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ وہ کسی پر اتنا بوجھ نہیں ڈالتا جسے وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 63–67

منکرین قرآن کا ذکر۔ (ف 2) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ شرک کے وبال میں ان لوگوں سے بڑھ کر خوش حال پچھلی قومیں جب طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئیں۔ جس کے قصے کئی دفعہ ان کو سنادیے گئے تو ان مشرکوں کا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ ان کے مال واولاد کی ترقی اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور خوش ہے بلکہ ان لوگوں کے اس غلط خیال پر جمے رہنے کا سبب یہی ہے کہ یہ لوگ قرآن کی نصیحت کو دھیان سے نہیں سنتے۔ اور نیک لوگوں کے جو کام ان کو اوپر کی آیتوں میں بتلائے گئے ہیں رات دن ان کاموں کے برخلاف کام کرتے ہیں لیکن ان میں بڑے بڑے خوش حال وقت مقررہ پر جب عذاب آخرت میں گرفتار ہوجاویں گے تو عذاب کی تکلیف سے بہت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[30] جس طرح مومنین کا سرمایہ علاوہ ان کے ایمان کے اعمال حسنہ ہیں اسی طرح کافر علاوہ کفر کے طرح طرح کے اعمال بد میں مبتلا رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 62–64

(ف 2) اس آیت میں اسلامی اصول فقہ وتشریح کی فضیلت بیان فرمائی ہے کہ یہ بہت آسان اور سہل ہے ، اور اس میں کوئی بات ایسی نہیں جو انسانی طاقت اور وسعت سے باہر ہو ، بات یہ ہے کہ اسلام سے قبل جس قدر مذاہب موجود تھے سب ہیں ریاضات شاقہ کو عبادت قرار دیا گیا تھا ، اور یہ بتایا دیا تھا کہ تم جس قدر تکلیف اٹھاؤ گے اسی قدر اللہ تعالیٰ کو اپنے قریب پاؤ گے اسلام کہتا ہے یہ اصول غلط ہے ، عبادات اور اس کے قدر ہلکا پھلکا اور آسان ہونا چاہئے ، کہ ہر شخص برداشت کرینگے ، چنانچہ اسلام ایسا ہی آسان مذہب ہے جو رہبانیت اور شکر پسندی کو ناجائز قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو خوش اور مسرت کی عبادت زیادہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(63) بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ان کفار کے قلوب اس دین سے غفلت اور جہالت اور بیہوشی میں مبتلا ہیں اور اس جہالت اور انکار کے علاوہ اور بھی ان کے اعمال بد اور برے برے اعمال ہیں جن کو یہ کرتے رہتے ہیں یعنی دین حق کی جانب سے بالکل غفلت اور جہالت کا برتائو کررہے ہیں اور غفلت میں ڈوب رہے ہیں اور فساد عقیدہ کے ساتھ ساتھ اور بہت سے برے اعمال ہیں جن کا یہ ارتکاب کرتے رہتے ہیں اور جس طرح مسلمان ایمان صحیحہ کے ساتھ نیک اعمال بھی بجا لاتے ہیں اسی طرح یہ شرک کے ساتھ اور اعمال سیئہ کے بھی مرتکب ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 60–63

ف 6۔ یعنی باوجود دینے کے ان کے دل خوفزدہ رہتے ہیں کہ دیکھئے وہاں جاکر ان صدقات کا کیا ثمرہ ظاہر ہو، ایسا نہ ہو کہ موافق حکم کے نہ دیا گیا ہو مثلا مال حلال نہ ہو یا نیت خالص نہ ہو تو الٹا مواخزہ ہونے لگے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حقیقت حال کا بیان کہ لوگوں کے دل غفلت و سرشاری میں پڑے ہیں : 63۔ (غمرۃ) کا مفہوم پیچھے آیت 54 میں بیان کیا جا چکا ہے جہاں (غمرتھم) کا لفظ استعمال ہوا ہے اور یہاں سے مضمون پھر ایک بار ان متکبرین کی طرف پھر رہا ہے جن کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے جو اپنی خوشحالی و فارغ البالی کو نیک اعمال اور نیک مالی کی دلیل بنائے بیٹھے ہیں وہاں چونکہ ان کی طرف اشارہ کرکے موضوع اہل ایمان کی طرف پھر گیا تھا اور اب دوبارہ ان کا ذکر کیا جا رہا ہے فرمایا ان لوگوں کے دل اس تعلیم سے جو اللہ کا رسول ان کو دے رہا ہے غفلت کے پروں میں دبے ہوئے ہیں اور یہ لوگ اس طرح اس دنیوی زندگی میں مگن ہیں کہ اہل ایمان کے اعمال کی طف ان کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary بَلْ قُلُوبُهُمْ فِي غَمْرَ‌ةٍ (But their hearts are in ignorance) Lexically غَمْرَ‌ةٍ means deep water where a person may drown or be overwhelmed. For this reason the word is also used to signify a covering or something that conceals an object. In this verse the word means the ignorance in which the hearts of the infidels are submerged and hidden so that no light can reach them. وَلَهُمْ أَعْمَالٌ مِّن دُونِ ذَٰلِكَ And they have deeds, other than that - 23:63 It means that in addition to their rejection of the Oneness of Allah, and their denial of the true faith, they engage…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

58. They are heedless that everything they are saying and doing, is being recorded in some book and that they shall have to render an account of everything.

Read the full tafseer →