Al-Muminoon 23:61

Al-Muminoon · from ayah 61

23:61

اُولٰٓىِٕكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَهُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ ۟اُولٰٓئِكَ يُسَارِعُوۡنَ فِىۡ الۡخَيۡـرٰتِ وَهُمۡ لَهَا سٰبِقُوۡنَ

یہی لوگ نیکیوں میں جلدی کرے اور یہی اُن کے لئے آگے نکل جاتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

It is those who hasten to good deeds, and they outstrip [others] therein.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:61

بھلائیوں کی طرف دَوڑنے والے اور سبقت کر کے انہیں پا لینے والے تو درحقیقت یہ لوگ ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہی لوگ نیکیوں میں جلدی کرے اور یہی اُن کے لئے آگے نکل جاتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہی ہیں جو جلدی جلدی بھلائیاں حاصل کر رہے ہیں اور یہی ہیں جو ان کی طرف دوڑ جانے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ ہیں جو بھلائیاں حاصل کرنے میں جلدی دکھا رہے ہیں، اور وہ ہیں جو ان کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ لوگ بھلائیوں میں جلدی کرتے ہیں اور یہی سب سے پہلے انہیں پہنچے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہی لوگ بھلائیوں (کے سمیٹنے میں) جلدی کر رہے ہیں اور وہی اس میں آگے نکل جانے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ لوگ ہیں جو نیک کاموں میں جلدی کرتے ہیں اور یہی ان کی طرف آگے نکلنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہی لوگ ہیں جو نیک کاموں میں جلدی کرنے اور ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ لوگ ہیں جو بھلائیوں کی راہ میں سبقت کر رہے ہیں اور وہ ان کو پا کر رہیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہی لوگ ہیں جو دوڑتے ہیں بھلائیوں کی طرف اور یہی ہیں سبقت کر کے انکو پالینے والے

— مولانا اسحاق مدنی

یہ لوگ البتہ فائدے جلدی جلدی حاصل کررہے ہیں اور وہی ان کی طرف دوڑ رہے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ وہ لوگ ہیں جو بھلائیوں میں کوشاں ہیں اور ان کے لیے سبقت کرنے والے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہی لوگ نیکیوں میں جلدی کرتے اور یہی ان سب پر آگے بڑھنے والے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

it is these who hasten to do good works and vie in so doing with one another.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

– those people are accelerating towards the (real) good things, and they are the foremost to attain them.

— Muhammad Taqi Usmani

– those people are accelerating towards the (real) good things, and they are the foremost to attain them.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It is these who hasten in the good deeds, and they are foremost in them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

These race for the good things, and they shall win them in the race.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It is those who hasten to good deeds, and they outstrip [others] therein.

— Saheeh International

to God, these are the ones who really compete with each other in virtuous deeds and are the foremost ones in the task.

— Muhammad Sarwar

These hasten to good things and they are foremost in (attaining) them.

— Muhammad Habib Shakir

These are hastening on to good, and they are therein foremost.

— Abdul Majid Daryabadi

It is these who hasten in every good work, and these who are foremost in them.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:61

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 57–61

مؤمن کی تعریف فرمان ہے کہ احسان اور ایمان کے ساتھ ہی ساتھ نیک اعمال اور پھر اللہ کی ہیبت سے تھرتھرانا اور کانپتے رہنا یہ ان کی صفت ہے۔ یہ ان کی صفت ہے حسن ؒ فرماتے ہیں کہ مومن نیکی اور خوف الٰہی کا مجموعہ ہوتا ہے۔ منافق برائی کے ساتھ نڈر اور بےخوف ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی شرعی اور فطری آیات اور نشانیوں پر یقین رکھتے ہیں جیسے حضرت مریم (علیہا السلام) کا وصف بیان ہوا ہے کہ وہ اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کا یقین رکھتی تھیں اللہ کی قدرت قضا اور شرع کا انہیں کامل یقین تھا۔ اللہ کے ہر امر کو وہ محبوب رکھتے ہیں اللہ کے منع کردہ ہر کام کو وہ ناپسند رکھتے ہیں، ہر خبر کو وہ سچ مانتے ہیں وہ موحد…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِنُوْن 54 (الف) واضح رہے کہ آیت 61 کا ترجمہ آیات 57 سے پہلے کیا جاچکا ہے۔ یہاں سے آیت 62 کا ترجمہ شروع ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–62

اُولٰۗىِٕكَ يُسٰرِعُوْنَ فِي الْخَــيْرٰتِ وَهُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ ، مسارعت فی الخیرات سے مراد یہ ہے کہ جیسے عام لوگ دنیا کے منافع کے پیچھے دوڑتے اور دوسروں سے آگے بڑھنے کی فکر میں رہتے ہیں یہ حضرات دین کے فوائد میں ایسا ہی عمل کرتے ہیں اسی لئے وہ دین کے کاموں میں دوسروں سے آگے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 57–61

آیت 61-57 بازی جیتنے والوں کی صفات یہاں سورة کی ابتدائی دس آیات پر ایک نظر پھر ڈال لیجیے۔ وہاں جن اہل ایمان کو فوز و فلاح کی بشارت دی ہے۔ انہی کا ذکر ذرا مختلف الفاظ میں پھر فرمایا کہ البتہ یہ لوگ، جن کی صفات یہ یہ ہیں، حقیقی کامیابیوں کی راہ میں سبقت کر رہے ہیں اور بیشک یہ لوگ اپنی منزل مقصود کو پہنچ کے رہیں گے۔ ان لوگوں کی مندرجہ ذیل صفات یہاں گنائی ہیں اور یہ صفات ان مسلمانوں کی ہیں جو اس دور میں دنیا کی تمام مرغوبات سے منہ موڑ کر رضائے الٰہی کی طلب کی راہ میں سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے تھے۔ ان کی پہلی صفت یہ ہے کہ یہ اپنے رب کی خشیت سے ہر وقت لرزاں و ترساں ہیں۔ اس کی شہادت ان کی نمازوں سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 60–61

60-1یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں لیکن اللہ سے ڈرتے ہیں کہ کسی کوتاہی کی وجہ سے ہمارا عمل یا صدقہ نامقبول قرار نہ پائے۔ حدیث میں آتا ہے۔ حضرت عائشہ نے پوچھا ' ڈرنے والے کون ہیں ؟ وہ جو شراب پیتے، بدکاری کرتے اور چوریاں کرتے ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا، نہیں، بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز پڑھتے، روزہ رکھتے اور صدقہ و خیرات کرتے ہیں لیکن ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں یہ نامقبول نہ ٹھہریں ' (ترمذی تفسیر سورة المومنون۔ مسند احمد-6195160۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 60–62

22: یعنی نیک عمل کرتے ہوئے بھی ان کے دل میں کوئی بڑائی نہیں آتی، بلکہ وہ سہمے رہتے ہیں کہ اس عمل میں کوئی ایسی کوتاہی نہ رہ گئی ہو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بن جائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 57–61

ان الذین سبقون (آیت نمبر 57 تا 61) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی دل پر ایمان کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اس کا احساس تیز ہوجاتا ہے ۔ انتہائی خوف اور حد درجہ احتیاط اس کے دل میں پیدا ہوجاتی ہے اور اس دنیا میں انسان کمال اور بلندیوں کے بارے میں سوچتا ہے۔ آخرت کی فکر کرتا ہے اگر چہ وہ اس دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ فرائض و واجبات پر عمل پیرا ہوتا ہے یعنی یہاں رجانیت اختیار نہیں کرتا۔ ذرا ملاحظہ کیجئے۔۔ یہ مومن اللہ کے خوف کے مارے میں کانپ رہے ہیں ۔ نہایت احتیاط سے زندگی بسر کررہے ہیں۔ اللہ کی آیات پر ایمان لائے ہوئے ہیں ۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کررہے۔ اللہ کی طرف سے عائد شدہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ کما قال تعالیٰ ۔ (فَاٰتٰىھُمُ اللّٰهُ ثَوَاب الدُّنْيَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ ) 3 ۔ آل عمران :148) تو درحقیقت اصلی بھلائی اعمال صالحہ، اخلاق حمیدہ اور ملکات فاضلہ میں ہوئی نہ کہ اموال و اولاد میں، جیسے کفار کا گمان تھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 61 اُولٰٓءِکَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْْخَیْرٰتِ وَہُمْ لَہَا سٰبِقُوْنَ ” زندگی میں ان کی بھاگ دوڑ نیکیوں اور بھلائیوں کے لیے ہوتی ہے اور اس میدان میں وہ ہمیشہ دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

60 ان لوگوں کے مقابلہ میں اب اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلص بندوں کی چند صفات بیان فرمائیں سب سے پہلی بات یہ کہ ان میں نیک کام کرتے رہنے کے باوجود ان میں نیکی کا غرور اور گھمنڈ پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اس بات سے اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کے یہ اعمال شاید اللہ کی بارگاہ میں قبول ہونے کے لائق تھے یا نہیں یا ان میں کچھ تقصیر تو نہیں ہوگئی۔ دوسری صفت یہ ہے کہ وہ منزل من اللہ آیات پر ہی ایمان لاتے ہیں اور کائنات میں ہر طرف اللہ کی بکھری ہوئی آیات میں غور کرکے ان سے معرفت حاصل کرتے ہیں جن سے ان دلوں میں اللہ کی عظمت اور جلال کا سکہ بیٹھتا ہے تیسری صفت یہ ہے کہ وہ شرک کی ہر چھوٹی بڑی قسم سے بچنے کی کوشش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

54۔ یعنی یہ اہل ایمان واہل تقوی ہی نفع حاصل کرتے ہیں، نہ کہ وہ کافر بےدین جو اپنی دنیوی کامیابیوں اور کامرانیوں پر مغرور ہو کر اپنے کو برسرحق سمجھ رہے ہیں۔ نسارع لھم فی الخیرات کا گمان رکھنے والوں کی تردید میں الفاظ بھی انہی کے الٹ کرلے آئے گئے ہیں۔ (آیت) ” الخیرت “۔ یہاں طاعات کے معنی میں ہے، اور ان کی طرف اہل ایمان ہی سبقت کرتے ہیں۔ الخیرات ھنا الطاعات یسارع الیھا اھل الایمان باللہ ویجتھدون فی السبق الیھا رغبۃ فیھا علما بمالھم بھامن حسن الجزاء (جصاص)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–77

آیت نمبر 51 تا 77 ترجمہ : اے پیغمبرو ! پاکیزہ حلال چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو وہ فرض اور نفل ہیں بلاشبہ میں تمہارے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں تو میں ان کاموں پر تم کو جزاء دوں گا اور یہ بات جان لو کہ یہ یعنی ملت اسلام اے مخاطبو تمہارا دین ہے یعنی تمہارے لئے واجب ہے کہ تم اس پر قائم رہو حال یہ ہے کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے یہ حال لازمہ ہے اور ایک قرأت میں اَنْ کے نون کی تخفیف کے ساتھ ہے اور دوسری قرأت میں ہمزہ کے کسرہ اور نون کی تشدید کے ساتھ ہے اور یہ استیناف کے اعتبار سے ہے میں تمہارا رب ہوں تم مجھ سے ڈرتے رہو پھر وہ متبعین اپنے دینی معاملہ میں آپس میں مختلف ہوگئے زُبُرًا تقطعوا کے فاعل سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اولئک یسارعون فی الخیرت وہم لہا سبقون۔ یہ لوگ (البتہ) اپنے فائدے جلدی جلدی حاصل کر رہے ہیں اور بھلائیوں کی طرف تیزی سے جا رہے ہیں۔ آیت کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ طاعتوں کی بہت زیادہ رغبت رکھتے ہیں اس لئے جلدی جلدی طاعتیں کرتے ہیں تاکہ کوئی طاعت فوت نہ ہوجائے۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ طاعتوں میں پیش قدمی کرنے پر جن اخروی بھلائیوں کا وعدہ کیا گیا ہے اور نیک اعمال میں تیزی کرنے سے جن دنیوی فوائد کو وابستہ کیا گیا ہے سب فائدوں کے حاصل کرنے کے لئے وہ تیزی سے کام لیتے ہیں اور جلدی جلدی حاصل کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مصیبت کو کوئی چیز رد نہیں کرتی سوائے دعا کے اور عمر میں کوئی چیز…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 57–61

(57۔ 61) اب اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے جنھیں حقیقی طور پر دنیا میں جلدی جلدی فائدے پہنچائے جاتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں۔ اور جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں اور جو لوگ اس ایمان میں اپنے رب کے ساتھ ان بتوں کو شریک نہیں کرتے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں دیتے ہیں اور جو کچھ صدقہ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو کچھ مال خرچ کرتے ہیں، سو کرتے ہیں یا یہ کہ جو کچھ نیک اعمال کرتے ہیں سو کرتے ہیں اور باوجود اس دینے کے ان کے دل اس بات سے خوف زدہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے پاس جانے والے ہیں کہیں ایسا نہ کہ وہاں آخرت میں یہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۙاُولٰۗىِٕكَ يُسٰرِعُوْنَ فِي الْخَــيْرٰتِ۔۔ : یعنی یہ لوگ جن میں یہ چاروں خوبیاں ہیں یہی نیک کاموں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر جلدی کرتے ہیں اور یہی لوگ انھیں حاصل کرنے میں سبقت لے جانے والے ہیں۔ (دیکھیے سورة واقعہ : 10 تا 26) طبری نے ”وَهُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ“ کے متعلق ابن عباس ؓ کا قول حسن سند کے ساتھ نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں : ”سَبَقَتْ لَھُمُ السَّعَادَۃُ“ ”یعنی ان کی ان چاروں صفات کی وجہ سے (جو پہلے ہی اللہ کے علم میں ہیں) ان کے لیے پہلے ہی (جلدی بھلائیاں حاصل ہونے کی) سعادت طے ہوچکی ہے۔“ گویا یہ اس آیت کے ہم معنی ہے : (اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى ۙ اُولٰۗىِٕكَ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 61 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : اولئک یسرعون فی الخیرات : خیرات سے مراد نیکیاں ہیں وہ نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں تاکہ اعلیٰ درجات اور بالا خانوں کو حاصل کرلیں یہ یسرعون بھی پڑھا گیا ہے یعنی وہ نیکیوں کی طرف جلدی کرنے والے ہوتے ہیں۔ یسرعون کا مطلب ہے وہ اس سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں جو ان سے نیکیوں میں سبقت لے جاتا ہے مفعول محذوف ہے۔ زجاج نے کہا : جو جلدی کرتے ہیں وہ اس سے زیادہ جلدی کرتے ہیں (زاد المسیر، جلد 3، صفحہ 348) ۔ وھم لھا سبقون۔ اس میں جو خوبصورت قول ہے وہ یہ ہے کہ وہ نیکیوں کو ان کے اوقات میں ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ دلیل ہے کہ نیکیوں کو ان کے اوقات میں ادا کرنا افضل ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 57–62

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ مومن جمع کرتا ہے احسان کو اور شفقت کو اور منافق جمع کرتا ہے گناہ کو اور بےخوفی کو۔ پھر (یہ آیت) آیت ” ان الذین ہم من خشیۃ ربہم مشفقون “ سے لے کر آیت ” انہم الی ربہم رجعون “ تک تلاوت کی اور منافق نے کہا آیت ” انما اوتیتہ علی علم عندی “ (القصص آیت 7) (یعنی میں اپنے علم کے ذریعہ مال دیا گیا اللہ کی طرف سے نہیں ملا) ۔ 2۔ الفریابی واحمد وعبد بن حمید والترمذی وابن ماجہ وابن ابی الدنیا فی نعت الخائفین وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اُولٰۗىِٕكَ : وہی لوگ ] [ يُسٰرِعُوْنَ : وہ سب جلدی کرتے ہیں ] [ فِي : میں ] [ الْخَيْرٰتِ : بھلائی " کے کاموں " میں ] [ وَهُمْ : اور وہ ] [ لَهَا : اس کیلیے ] [ سٰبِقُوْنَ : سب سبقت کرنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 57–62

نیک بندوں کی صفات ان آیات میں نیک بندوں کی مزید صفات بیان فرمائی ہیں۔ اولا تو یہ فرمایا کہ یہ لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں دوسرے یہ فرمایا کہ وہ اپنے رب کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں۔ تیسرے یہ فرمایا کہ اپنے رب کے ساتھ شریک نہیں ٹھہراتے چوتھے یہ فرمایا کہ وہ جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس خرچ کرنے پر انہیں کوئی سخاوت کا گھمنڈ اور غرور نہیں ہوتا بلکہ وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ہمیں اللہ کی بار گاہ میں جانا ہے وہاں یہ مال خرچ کرنا قبول ہوتا ہے یا نہیں وہاں پہنچ کر کیا صورت حال ہو یہاں کچھ نہیں کہہ سکتے، مال پوری طرح حلال تھا یا نہیں، نیت خالص اللہ کی رضا کے لیے تھی یا اس میں کچھ ریا کاری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 57–61

ذکر صفات اہل صدق و ایمان قال اللہ تعالیٰ ان الذین ہم من خشیۃ ربھم مشفقون .... الیٰ .... وھم لہا سبقون۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں ان اہل جہالت و ضلالت کا ذکر تھا کہ جو شرور اور معاصی میں مسارعت کرنے والے تھے اب ان آیات میں ان اہل صدق اور اہل ایمان کی صفات بیان کرتے ہیں کہ جو خیرات اور اعمال صالحہ میں مسارعت کرنے والے ہیں ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان کی پانچ صفتیں بیان فرمائیں۔ (1) اللہ سے ڈرتے ہیں۔ (2) اللہ کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں۔ (3) شرک نہیں کرتے۔ (4) نیکیاں کرتے ہیں مگر باوجود اس کے ان کو اپنے ایمان اور عمل پر ناز نہیں بلکہ ان کو ہر وقت اس بات کا خوف لگا رہتا ہے کہ معلوم نہیں کہ ہمارا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

53:۔ ” اُلئِکَ یُسَارِعُوْنَ الخ “ یہ مذکورہ بالا صفات سے متصف لوگوں کی طرف اشارہ ہے اور یہ ان کے لیے بشارت ہے یعنی یہ لوگ بیشک دنیا اور آخرت کی برکات حاصل کر رہے ہیں اور ان کے اعمال صالحہ رائیگاں نہیں جائیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں شرف قبول عطا فرمائے گا۔ کیونکہ وہ شرک جلی اور شرک خفی کی آمیزش سے پاک ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 57–67

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دلائل توحید ذکر کرنے کے بعد نافرمان لوگوں کا حال بیان کیا اور اس سلسلے میں بہت سے نبیوں کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا مگر انہوں نے انکار کیا۔ آخر میں موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر آیا۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ کا بھی مختصر تذکرہ ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے تمام نبیوں کی مشترک تعلیم کا ذکر کیا۔ اللہ نے تمام رسولوں کو یہی اصول سمجھایا کلوا من الطیبت واعملوا صالحا ہمیشہ حلال اور طیب چیز کھائو اور نیک اعمال انجام دو ۔ اسی اصول ملت کی تعلیم انبیاء (علیہم السلام) نے عام لوگوں کو بھی دی ۔ پھر بعد میں لوگوں میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اُولٰۗىِٕكَ يُسٰرِعُوْنَ فِي الْخَــيْرٰتِ وَہُمْ لَہَا سٰبِقُوْنَ۝ 61 سرع السُّرْعَةُ : ضدّ البطء، ويستعمل في الأجسام، والأفعال، يقال : سَرُعَ ، فهو سَرِيعٌ ، وأَسْرَعَ فهو مُسْرِعٌ ، وأَسْرَعُوا : صارت إبلهم سِرَاعاً ، نحو : أبلدوا، وسَارَعُوا، وتَسَارَعُوا . قال تعالی: وَسارِعُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ [ آل عمران/ 133] ، وَيُسارِعُونَ فِي الْخَيْراتِ [ آل عمران/ 114] ، يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِراعاً [ ق/ 44] ( س ر ع ) السرعۃ اس کے معنی جلدی کرنے کے ہیں اور یہ بطا ( ورنگ گردن ) کی ضد ہے ۔ اجسام اور افعال دونوں کے ( ان کے اونٹ تیز رفتاری سے چلے گئے ) آتے ہں ۔ جیسا کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 52–61

1 ؎ سب حضرات انبیاء (علیہم السلام) بلحاظ اصول وایں اور خدا پرستی کے ایک ہی گروہ ہی سب کا ایک ہی خدائے واحد ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اُولٰٓئِکَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَھُمْ لَھَا سٰبِقُوْنَ ۔ (المومنون : 61) (یہی لوگ بھلائیاں کرنے میں جلدی کرتے ہیں اور وہ بھلائیوں کی طرف سبقت کرنے والے ہیں۔ ) ان آیات سے پہلے فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کی مال واولاد میں اضافہ فرماتے ہیں اور روزبروز ان کی دولت بڑھتی چلی جاتی ہے تو وہ بجائے اسے آزمائش سمجھنے کے اللہ کا انعام سمجھنے لگتے ہیں اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ اس طرح سے اللہ تعالیٰ ان کے لیے خیر میں اضافہ فرما رہے ہیں۔ ان کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ خیر اور بھلائی میں اضافہ مال واولاد میں اضافے سے نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے تو دل و دماغ میں تبدیلی کا برپا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 57–61

فہم القرآن ربط کلام : آخرت سے غافل لوگوں کے مقابلے میں فکر آخرت رکھنے والے لوگوں کے اوصاف۔ اس جہان رنگ و بو میں کردار کے اعتبار سے دو قسم کے انسان ہوا کرتے ہیں ایک وہ ہیں جو اپنے رب سے بےخوف ہو کر زندگی گزارتے ہیں دوسرے وہ ہیں جو قدم قدم پر سوچتے ہیں اور ہر وقت اپنے رب سے لرزاں وترساں رہتے ہیں کیونکہ ان کا اپنے رب کی ذات اور اس کے ارشادات پر پوری طرح ایمان ہوتا ہے اور وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتے۔ جب وہ صدقہ و خیرات کرتے ہیں تو ان کے دل فخرو غرور اور نمودونمائش سے بچتے اور ڈرتے ہیں۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ہم نے ہر صورت اپنے رب کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کا جواب دینا ہے یہی لوگ ہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

61: اُولٰٓئِکَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ (وہی لوگ بھلائی کے کاموں میں جلدی کرنیوالے ہیں) وہ طاعات کی رغبت رکھتے ہیں اور ان کو جلد انجام دیتے ہیں۔ وَھُمْ لَھَا سٰبِقُوْنَ (اور وہ ان کی طرف تیزی سے جانے والے ہیں) یعنی نیک کاموں کی وجہ سے جنتوں کی طرف تیزی سے رواں دواں ہیں۔ یا ان بھلائیوں کی وجہ سے وہ لوگ نیکی میں آگے بڑھ گئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 61۔ اولئک یسارعون فی الخیرات۔ جو نیک اعمال میں آگے بڑھتے ہیں۔ وھم لھاسابقون، اور وہ اس کی طرف سبقت کرنے والے ہیں۔ جیسا ک اللہ کا فرمان ہے، لمانھوا، ابن عباس کا قول ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے سعادت پہلے ہی سے مقدر ہوچکی ہے کلبی کا بیان ہے یہ تمام امتوں پر اعمال صالحہ کے لحاظ سے سبقت کرگئی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 58–61

58۔ 61:۔ اوپر کی آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر تھا جو اللہ تعالیٰ کی خلاف مرضی کام کرتے ہیں ‘ ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق کاموں میں لگے رہتے ہیں ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جو لوگ نیک ٹھہر چکے ہیں وہ ایسے لوگ ہیں کہ نیک کام کرنے کے بعد بھی عذاب آخرت کا اندیشہ ان کو لگا رہتا ہے ‘ احکام الٰہی کی آیتوں کا ان کے دل میں کلام الٰہی ہونے کا پورا یقین ہے اس لیے وہ ان احکام کے موافق خالص دل سے عمل کرتے ہیں ‘ شرک یا ریاکاری کے طور پر اپنے اس دینی عمل میں کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتے ‘ صدقہ ‘ خیرات اور ہر طرح کا نیک کام کرتے ہیں اور پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 57–62

(آیت (57 اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنہوں نے برائی اور امن کو جمع کیا اور سمجھتے رہے کہ دنیا میں ان پر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر بھی فرمایا جنہوں نے بھلائی اور خوف کو یکجا کیا ‘ چناچہ فرمایا : ( ان الذین ھم من خشیۃ ربھم مشفقو ون) ” بیشک جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں۔ “ یعنی ان کے دل اپنے رب کے خوف سے لرزاں ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے عدل کیا تو ان کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی اور انہیں اپنے بارے میں سوء ظن ہے کہ انہوں نے اللہ کے حق کو ادا نہیں کیا اور ایمان کے زوال کا خوف رہتا ہے ‘ انہیں اپنے رب کے بارے میں معرفت حاصل ہے کہ وہ کس اجلال و اکرام کا مستحق ہے ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 61–62

قول باری ہے (اولئک یسارعون فی الخیرات وھم لھا سابقون) یہی لوگ طاعات میں جلدی کرتے ہیں اور یہی ان کی طرف لپک رہے ہیں) یہاں خیرات سے مراد طاعات ہیں جن کی طرف اللہ پر ایمان رکھنے والے لپکتے ہیں اور ان کی طرف سبقت کرنے میں پوری کوشش کرتے ہیں اس لئے کہ انہیں ان کی رغبت ہوتی ہے اور ان پر ملنے والی جزا کا انہیں علم ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس سے قول باری (وھم لھا سابقون) کی تفسیر میں فرمایا۔ سعادت یعنی خوش بختی ان کی طرف سبقت کرگئی ہے۔ “ دوسرے حضرات کا قول ہے۔” یہ لوگ اہل طاعات ہیں اور جنت کی طرف سبقت کرنے والے ہیں۔ “ کچھ اور حضرات کا قول ہے۔ ” یہ لوگ نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے ہیں۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 60–62

77 اللہ والوں کی شان انفاق کا خاص اور امتیازی پہلو : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ اللہ کی راہ میں دیتے ہوئے بھی ڈرتے رہتے ہیں " خواہ ان کا وہ خرچ و انفاق فرض زکوٰۃ ہو یا کوئی نفلی صدقہ و خیرات کہ کلمہ { ٔما } کا عموم ان سب کو شامل ہے۔ سو وہ اللہ کی راہ میں دیتے ہوئے بھی ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کا یہ دیا اللہ کی راہ میں قبول ہوگا یا نہیں۔ اور یہ اس کی شان اور اس کی رضا کے لائق ہے کہ نہیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ آپ ؓ نے حضور ﷺ سے اس آیت کریمہ کے مصداق کے بارے میں پوچھا کہ اس سے کون لوگ مراد ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے ایسے لوگوں کی نشاندہی فرمائی۔ جیسا کہ اگلے حاشیے میں آرہا ہے۔ سو مومن صادق کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 57–61

نیک لوگوں کی صفات تشریح : مومن ‘ نیک اور مسلمان کی تعریف میں چھ صفتیں بتائی ہیں۔ اور خوف کی تعریف یہ ہے کہ ایک خوف ہوتا ہے سانپ ‘ بچھو ‘ چور ‘ ڈاکو سے مگر اللہ سے ڈرنا ایسا کہ جیسے مہربان ماں سے ڈرنا۔ ایسے ہی لوگوں کا ہر سانس ہر قدم اور ہر عمل نیکیوں میں لکھا جاتا ہے اور یہ بھلائیاں حاصل کرنے میں سستی نہیں کرتے۔ اسی لیے وہ دین کے کاموں میں سب سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–77

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف اور تمام رسولوں کو اللہ جل جلالہ نے ایک طریق حیات عطا فرما کر حکم دیا کہ پاکیزہ اور نفیس چیزیں کھاؤ اور اللہ جل جلالہ کے بتائے ہوئے قواعد پر عمل کرو کہ می تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں یہ قوم جس کی طرف تم مبعوث ہوئے ہو تمہاری جماعت ہے جو ایک ہے اور متفق ومتحد ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری عظمت کو ہر حال میں پیش نظر رکھو۔ (غذا اور عمل) یہاں انبیاء کرام (علیہ السلام) ورسل کو ارشاد فرما کر تمام قوموں کو ایک اصولی ضابطہ بتایا گیا ہے کہ حلال اور پاکیزہ غذا سے توفیق عمل نصیب ہوتی ہے اور اگر غذا ہی حلال نہ ہو تو نیک عمل کی توفیق بھی نہیں ہوتی ، اگر کر بھی لے تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

14 ۔ یعنی جن میں یہ بیان کردہ چار صفات پائی جاتی ہیں۔ 15 ۔ معلوم ہوا کہ مسابقت کی چیزیں نیک اعمال اور نیک اخلاق ہیں نہ کہ مال واولاد۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(23:61) اولئک۔ وہ لوگ جن کا ذکر آیات 57 ۔ 60 مذکورہ بالا میں ہوا ہے۔ سبقون۔ سبقت لے جانے والے۔ آگے بڑھنے والے۔ سبق سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ لھا میں ضمیر ھا کا مرجع الخیرات ہے۔ وہم لھا سبقون۔ اور وہ بھلائیوں کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں۔ بعض کے نزدیک لام تعلیل کا ہے اور لھا بمعنی لاجلہا ہے۔ یعنی ان بھلائیوں ہی کی وجہ سے وہ دوسرے لوگوں پر (قیامت کے روز) ثواب حاصل کرنے یا جنت پانے میں سبقت لے جانے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–61

لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 61 : الرسول (رسول) (پیغمبر) ‘ الطیبات (طیبۃ) پاکیزہ۔ ستھری چیزیں ‘ امۃ (امت۔ جماعت) ‘ تقطعوا (تم کاٹتے ہو) ‘ زبر (زبرۃ) کسی چیز کو ٹکڑے ٹکڑے کردینا ‘(حزب) جماعت۔ فرقہ ‘(فرحون) خوش ہونے والے ‘(غمرۃ) گہرا پانی۔ غفلت ‘(نمد) ہم دیتے ہیں ‘(نسارع) ہم دوڑتے ہیں۔ ہم جلدی کرتے ہیں ‘(مشفقون) لڑنے والے۔ اندیشہ رکھنے والے ‘(وجلۃ) ڈرانے والے ‘(سابقون) سب سے آگے پہنچنے والے۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 61 : خاتم الا نبی اء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات پر جس نظام زندگی کی تکمیل فرمائی گئی ہے اس کی سب سے بڑی عظمت یہ ہے کہ وہ نظام زندگی صرف وہی راستے نہیں بتاتا جس سے انسان کی آخرت کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 57–61

(ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ بیشک جو اللہ تعالیٰ کے علم میں نیک لوگ ٹھہرچکے ہیں وہ ایسے لوگ ہیں کہ نیک کام کرنے کے بعد بھی عذاب آخرت کا اندیشہ ان کو لگارہتا ہے احکام الٰہی کی آیتوں کا ان کے دل میں کلام الٰہی ہونے کا پورا یقین ہے اس لیے وہ ان احکام کے موافق خالص دل سے عمل کرت ہیں صدقہ خیرات اور ہر طرح کا نیک کام کرتے ہیں اور پھر بھی اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کا وقت کا کھٹکا ان کے دل میں لگا ہوا ہے یہی وہ لوگ ہیں کہ جو ہر طرح کی بھلائی کی طرف پیش قدمی کرکے دوڑتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 56–62

[29] یعنی اس دنیا میں مہلت کا قانون کام کر رہا ہے۔ یہاں مہلت سب کے لئے ہے، اچھوں کے لئے بھی اور بروں کے لئے بھی، اہل ایمان کے لئے بھی اور فساق و فجار کے لئے بھی۔ پس اگر کفار کو دنیوی زندگی کی خوشحالیاں مل رہی ہیں تو اس لئے نہیں کہ اللہ کا قانون مجازات معطل ہوگیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ بدعملیوں پر بھی انھیں فوائد سے بہرہ اندوز کرے بلکہ اس لئے کہ مقررہ وقت ابھی آیا نہیں۔ اس ضمن میں یہ بات جان لینی چاہئے کہ یہ دنیا دراصل دارالجزا نہیں بلکہ دارالامتحان ہے۔ یہاں جزاو سزا اگر ہے بھی تو بہت محدود پیمانے پر اور ناقص صورت میں ہے اور امتحان کا پہلو خود اس میں بھی موجود ہے۔ اس حقیقت کو نظرانداز کر کے یہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے ، جو نیکیوں کے حصول میں سبقت کرتے ہیں ، اور چاہتے ہیں کہ جلدی جلدی دامن مراد کو نیکیوں اور فضیلتوں سے بھر لیں ، یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ کی محبت ہے اور وہ ہر وقت اس کی نافرمانی سے ڈرتے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ ان کا محبوب خدا انکی کسی حرکت سے ناراض ہوجائے ، وہ اللہ کی آیتوں پر مضبوط ایمان رکھتے ہیں ، اور اس کے حکموں کو مانتے ہیں ، وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے وہ جانتے ہیں کہ اللہ کی ذات بےمثل اور بےہمتا ہے اور اس قابل ہے کہ پوری توجہ کے ساتھ اس کی عبادت کی جائے ، وہ اللہ کی راہ میں اپنے مال و دولت کو خرچ کرتے ہیں اور دل میں ڈرتے بھی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(61) یہی وہ لوگ ہیں جو دوڑ دوڑ کر بھلائیاں اور فائدے حاصل کررہے ہیں اور یہی لوگ ان بھلائیوں کی طرف بڑھ جانے والے ہیں۔ یعنی حقیقی فائدے تو وہ لوگ حاصل کررہے ہیں جو دین حق کے پیرو ہیں اپنے پروردگار کی ہیبت و جلالت سے ڈرتے ہیں۔ قرآن کریم کی صداقت پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتے اور خیرات و صدقات بھی اپنی توفیق کے موافق کرتے ہیں اور باوجود صدقات و خیرات کے ان کے دل اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں یہی لوگ جلدی جلدی منافع حاصل کررہے ہیں اور یہی لوگ بھلائیوں کی طرف بڑھ جانے والے ہیں یعنی بھلائیوں کے یہ اہل حق ہی مالک ہیں نہ یہ کہ یہ کافر جن کے سامنے دنیا ہی دنیا ہے۔ یعلمون…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 60–63

ف 6۔ یعنی باوجود دینے کے ان کے دل خوفزدہ رہتے ہیں کہ دیکھئے وہاں جاکر ان صدقات کا کیا ثمرہ ظاہر ہو، ایسا نہ ہو کہ موافق حکم کے نہ دیا گیا ہو مثلا مال حلال نہ ہو یا نیت خالص نہ ہو تو الٹا مواخزہ ہونے لگے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ بھلائیاں حاصل کرنے میں بہت جلدی کرتے ہیں تاکہ سبقت لے جائیں : 61۔ ان لوگوں کی گیارہویں نشانی یہ بتائی جا رہی ہے کہ جہاں دوسرے لوگ مال و دولت جمع کرنے اور گن گن کرے رکھنے میں جلدی کرتے ہیں کہ وہ دوسروں سے کہیں پیچھے نہ رہ جائیں لیکن یہ اللہ کے بندے صبح وشام اس فکر میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں اعمال صالحہ میں کوئی دوسرا ان سے آگے نہ بڑھ جائے وہ خود پیٹ سے بھوکے رہ کر بھی دوسروں کے پیٹ کو بھرنے کی سعی کرتے ہیں جہاں لوگ کھا کر خوش ہوتے ہیں وہاں یہ کھلا کر خوشی محسوس کرتے ہیں اور بھلائیوں کی تلاش میں رہتے ہیں اور بلاشبہ وہ کسی بھلائی کو بھی ہلکی بھلائی سمجھ کر ترک نہیں کرتے بلکہ دوسروں پر سبقت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 61–62

أُولَـٰئِكَ يُسَارِ‌عُونَ فِي الْخَيْرَ‌اتِ وَهُمْ لَهَا سَابِقُونَ Those people are accelerating towards the (real) good things, and they are the foremost to attain them. - 23:61 The meaning of مُسَارَعَت فِی الخَیرَات is that just as ordinary human beings run after worldly gains and try to leave other competitors behind, these good and virtuous people strive to gain spiritual reward and try to excel others in their efforts to fulfill their religious obligations.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 60–61

54. This verse (60) may be elaborated like this: They serve their Lord and try their best to obey Him and do righteous deeds, but all along they remain humble in their hearts and are not puffed up with the pride of their piety. Nay, in spite of all their good deeds, their hearts are always filled with awe that they shall have to render an account to their Lord, and they are not sure whether they will come out successful in the judgment of their Lord or not. A concrete interpretation of this verse is afforded by Umar. Although he served his Allah in a way that was exemplary, yet he was so…

Read the full tafseer →