Al-Muminoon 23:60

Al-Muminoon · from ayah 60

23:60

وَالَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰی رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ ۟ۙوَالَّذِيۡنَ يُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوۡبُهُمۡ وَجِلَةٌ اَنَّهُمۡ اِلٰى رَبِّهِمۡ رٰجِعُوۡنَ

اور جو دے سکتے ہیں دیتے ہیں اور ان کے دل اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کو اپنے پروردگار کی لوٹ کر جانا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they who give what they give while their hearts are fearful because they will be returning to their Lord -

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:60

اور جن کا حال یہ ہے کہ دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل اُن کے اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو دے سکتے ہیں دیتے ہیں اور ان کے دل اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کو اپنے پروردگار کی لوٹ کر جانا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل کپکپاتے ہیں کہ وه اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ جو عمل بھی کرتے ہیں، اسے کرتے وقت ان کے دل اس بات سے سہمے ہوتے ہیں کہ انہیں اپنے پروردگار کے پاس واپس جانا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ جو دیتے ہیں جو کچھ دیں اور ان کے دل ڈر رہے ہیں یوں کہ ان کو اپنے رب کی طرف پھرنا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو لوگ (اللہ کی راہ میں اتنا کچھ) دیتے ہیں جتنا وہ دے سکتے ہیں اور (اس کے باوجود) ان کے دل خائف رہتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں (کہیں یہ نامقبول نہ ہو جائے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ کہ انھوں نے جو کچھ دیا اس حال میں دیتے ہیں کہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں کہ یقینا وہ اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور وہ (اللہ کی راہ میں) دیتے ہیں جو بھی دیں اور ان کے دلوں کو دھڑکا لگا رہتا تھا کہ وہ اپنے پروردگار کے پاس لوٹ کر جانے والے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ لوگ جو دیتے ہیں تو جو کچھ دیتے ہیں اس طرح دیتے ہیں کہ ان کے دل ڈرتے ہونے ہوتے ہیں کہ انہیں خدا کی طرف پلٹنا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جن کا حال یہ ہے کہ جب وہ دیتے ہیں اللہ کی راہ میں جو کچھ کہ ان کو دینا ہوتا ہے تو ان کے دل ڈر رہے ہوتے ہیں، اس عقیدہ و احساس کی بناء پر کہ ان کو بہرحال اپنے رب کے پاس ہی لوٹ کر جانا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو لوگ دیتے رہتے ہیں جو کچھ دیتے رہتے ہیں اور ان کے دل اس سے ڈرتے رہتے ہیں کہ انہیں پروردگار کے پاس واپس جانا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ جو دیتے ہیں (اللہ کی راہ میں) تو جو کچھ دیتے ہیں اس طرح دیتے ہیں کہ ان کے دل ڈرتے رہتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو دے سکتے ہیں دیتے ہیں اور ان کے دل اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

who give, whatever they give in charity, with their hearts trembling at the thought that they are destined to return to their Lord;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And those who give whatever they give, with their hearts full of fear that to their Lord they are to return

— Muhammad Taqi Usmani

And those who give whatever they give, with their hearts full of fear that to their Lord they are to return

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those who give that which they give with their hearts full of fear, because they are sure to return to their Lord.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And those who give that which they give with hearts afraid because they are about to return unto their Lord,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they who give what they give while their hearts are fearful because they will be returning to their Lord -

— Saheeh International

who spend their property for the cause of God, and whose hearts are afraid of their return

— Muhammad Sarwar

And those who give what they give (in alms) while their hearts are full of fear that to their Lord they must return,

— Muhammad Habib Shakir

And those who give whatsoever they give, while their hearts are anxious that unto their Lord they are to be retutners

— Abdul Majid Daryabadi

And those who dispense their charity with their hearts full of fear, because they will return to their Lord;-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:60

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 57–61

مؤمن کی تعریف فرمان ہے کہ احسان اور ایمان کے ساتھ ہی ساتھ نیک اعمال اور پھر اللہ کی ہیبت سے تھرتھرانا اور کانپتے رہنا یہ ان کی صفت ہے۔ یہ ان کی صفت ہے حسن ؒ فرماتے ہیں کہ مومن نیکی اور خوف الٰہی کا مجموعہ ہوتا ہے۔ منافق برائی کے ساتھ نڈر اور بےخوف ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی شرعی اور فطری آیات اور نشانیوں پر یقین رکھتے ہیں جیسے حضرت مریم (علیہا السلام) کا وصف بیان ہوا ہے کہ وہ اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کا یقین رکھتی تھیں اللہ کی قدرت قضا اور شرع کا انہیں کامل یقین تھا۔ اللہ کے ہر امر کو وہ محبوب رکھتے ہیں اللہ کے منع کردہ ہر کام کو وہ ناپسند رکھتے ہیں، ہر خبر کو وہ سچ مانتے ہیں وہ موحد…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِنُوْن 54 عربی زبان میں " دینے " (ایتاء) کا لفظ صرف مال یا کوئی مادی چیز دینے ہی کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ معنوی چیزیں دینے کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے، مثلاً کسی شخص کی اطاعت قبول کرلینے کے لیے کہتے ہیں کہ اٰتیتہ من نفسی القبول کسی شخص کی اطاعت سے انکار کردینے کے لیے کہتے ہیں اٰتیتہ من نفسی الابائۃ۔ پس اس دینے کا مطلب صرف یہی نہیں ہے کہ وہ راہ خدا میں مال دیتے ہیں، بلکہ اس کا مطلب اللہ کے حضور طاعت و بندگی پیش کرنے پر بھی حاوی ہے۔ اس معنی کے لحاظ سے آیت کا پورا مفہوم یہ ہوا کہ وہ اللہ کی فرمانبرداری میں جو کچھ بھی نیکیاں کرتے ہیں، جو کچھ بھی خدمات انجام دیتے ہیں، جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل وَالَّذِيْنَ يُؤ ْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ، لفظ یوتون، ایتاء سے مشتق ہے جس کے معنے دینے اور خرچ کرنے کے ہیں اس لئے اس کی تفسیر صدقات کے ساتھ کی گئی ہے اور حضرت صدیقہ عائشہ سے ایک قرات اس کی یاتون ما اتو بھی منقول ہے یعنی عمل کرتے ہیں جو کچھ کرتے ہیں اس میں صدقات نماز، روزہ اور تمام نیک کام شامل ہوجاتے ہیں اور مشہور قرات پر اگرچہ ذکر یہاں صدقات ہی کا ہوگا مگر مراد بہرحال عام اعمال صالحہ ہیں جیسا کہ ایک حدیث سے ثابت ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس آیت کا مطلب رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یہ کام کر کے ڈرنے والے لوگ وہ ہیں جو شراب پیتے یا چوری کرتے ہیں ؟…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 57–61

آیت 61-57 بازی جیتنے والوں کی صفات یہاں سورة کی ابتدائی دس آیات پر ایک نظر پھر ڈال لیجیے۔ وہاں جن اہل ایمان کو فوز و فلاح کی بشارت دی ہے۔ انہی کا ذکر ذرا مختلف الفاظ میں پھر فرمایا کہ البتہ یہ لوگ، جن کی صفات یہ یہ ہیں، حقیقی کامیابیوں کی راہ میں سبقت کر رہے ہیں اور بیشک یہ لوگ اپنی منزل مقصود کو پہنچ کے رہیں گے۔ ان لوگوں کی مندرجہ ذیل صفات یہاں گنائی ہیں اور یہ صفات ان مسلمانوں کی ہیں جو اس دور میں دنیا کی تمام مرغوبات سے منہ موڑ کر رضائے الٰہی کی طلب کی راہ میں سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے تھے۔ ان کی پہلی صفت یہ ہے کہ یہ اپنے رب کی خشیت سے ہر وقت لرزاں و ترساں ہیں۔ اس کی شہادت ان کی نمازوں سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 60–61

60-1یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں لیکن اللہ سے ڈرتے ہیں کہ کسی کوتاہی کی وجہ سے ہمارا عمل یا صدقہ نامقبول قرار نہ پائے۔ حدیث میں آتا ہے۔ حضرت عائشہ نے پوچھا ' ڈرنے والے کون ہیں ؟ وہ جو شراب پیتے، بدکاری کرتے اور چوریاں کرتے ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا، نہیں، بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز پڑھتے، روزہ رکھتے اور صدقہ و خیرات کرتے ہیں لیکن ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں یہ نامقبول نہ ٹھہریں ' (ترمذی تفسیر سورة المومنون۔ مسند احمد-6195160۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 60–62

22: یعنی نیک عمل کرتے ہوئے بھی ان کے دل میں کوئی بڑائی نہیں آتی، بلکہ وہ سہمے رہتے ہیں کہ اس عمل میں کوئی ایسی کوتاہی نہ رہ گئی ہو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بن جائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 57–61

ان الذین سبقون (آیت نمبر 57 تا 61) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی دل پر ایمان کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اس کا احساس تیز ہوجاتا ہے ۔ انتہائی خوف اور حد درجہ احتیاط اس کے دل میں پیدا ہوجاتی ہے اور اس دنیا میں انسان کمال اور بلندیوں کے بارے میں سوچتا ہے۔ آخرت کی فکر کرتا ہے اگر چہ وہ اس دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ فرائض و واجبات پر عمل پیرا ہوتا ہے یعنی یہاں رجانیت اختیار نہیں کرتا۔ ذرا ملاحظہ کیجئے۔۔ یہ مومن اللہ کے خوف کے مارے میں کانپ رہے ہیں ۔ نہایت احتیاط سے زندگی بسر کررہے ہیں۔ اللہ کی آیات پر ایمان لائے ہوئے ہیں ۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کررہے۔ اللہ کی طرف سے عائد شدہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی کیا جانے وہاں قبول ہوا یا نہ ہوا، آگے کام آئے یا نہ آئے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کر کے یہ کھٹکا لگا رہتا ہے، اپنے عمل پر مغرور نہیں ہوتے، نیکی کرنے کے باوجود ڈرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 60 وَالَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُہُمْ وَجِلَۃٌ اَنَّہُمْ اِلٰی رَبِّہِمْ رٰجِعُوْنَ ” یعنی اللہ کی راہ میں وہ حتی المقدور صدقہ و خیرات کرتے رہتے ہیں ‘ لیکن اس کے باوجود وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے ڈرتے بھی رہتے ہیں۔ دوسروں کی مدد کرتے ہوئے وہ انہیں کمتر اور خود کو برتر نہیں سمجھتے ‘ بلکہ انہیں یہ خدشہ اور اندیشہ لاحق ہوتا ہے کہ کہیں کسی کوتاہی ‘ غلطی یا خلوص کی کمی کے باعث ان کا یہ عمل اللہ کے ہاں رد نہ کردیا جائے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 56–60

59 دنیا دار اور جاہل لوگ عموماً یہ سمجھتے ہیں کہ آسودہ حالی اللہ کی رضا مندی کی علامت ہوتی ہے۔ اور تنگدستی یا پریشان حالی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی۔ حالانکہ بسا اوقات معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ چودھری لوگوں کی سرکشی کا بڑا سبب یہی نظریہ ہوتا ہے وہ دیکھتے ہیں کہ پیغمبروں کی تکذیب کرنے اور ایمانداروں پر ظلم و زیادتی روا رکھنے کے باوجود ہی ان کا کچھ نہیں بگڑا تو وہ اس نظریہ پر مزید پختہ ہوجاتے ہیں۔ اب اللہ کی طرف سے ان پر ابتلاء کا دور یوں آتا ہے کہ ان پر مزید انعامات الٰہی کی بارش ہونے لگتی ہے۔ حالانکہ ان انعامات کی حیثیت ایسے ہی ہوتی ہے جیسے بجھنے والا چراغ بجھنے سے پیشتر ایک دفعہ خوب روشن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 57–60

53۔ (تودیکھئے کہ ہمارے اعمال خیرقبول بھی ٹھہرتے ہیں یا نہیں) (آیت) ” الذین ...... مشفقون “۔ خدائے نادیدہ سے ڈرتے رہتے ہیں، اور اس لئے اس کی معصیت ونافرمانی سے بھی بچتے رہتے ہیں۔ خوف الہی پر حاشیہ ابھی گزر چکا ہے۔ ملاحطہ ہو حاشیہ نمبر 49 (آیت) ” الذین ........ یشرکون “۔ مشرکین عرب کا اصلی مرض یہی تھا کہ اقرار الوہیت کے ساتھ ساتھ شرک بھی کئے جاتے تھے ...... تنہا وجود باری کا اقرار شریعت میں اسی لئے مستند اور کافی نہیں۔ جب تک کہ نفی شرک بھی ساتھ ہی ساتھ نہ ہو۔ (آیت) ” یؤتون مااتوا “۔ ان کی یہ عطا و بخشش دین کی راہ میں، احکام الہی کے ماتحت ہوتی رہتی ہے۔ عارفین نے کہا ہے کہ سالک کو اپنے اعمال اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–77

آیت نمبر 51 تا 77 ترجمہ : اے پیغمبرو ! پاکیزہ حلال چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو وہ فرض اور نفل ہیں بلاشبہ میں تمہارے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں تو میں ان کاموں پر تم کو جزاء دوں گا اور یہ بات جان لو کہ یہ یعنی ملت اسلام اے مخاطبو تمہارا دین ہے یعنی تمہارے لئے واجب ہے کہ تم اس پر قائم رہو حال یہ ہے کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے یہ حال لازمہ ہے اور ایک قرأت میں اَنْ کے نون کی تخفیف کے ساتھ ہے اور دوسری قرأت میں ہمزہ کے کسرہ اور نون کی تشدید کے ساتھ ہے اور یہ استیناف کے اعتبار سے ہے میں تمہارا رب ہوں تم مجھ سے ڈرتے رہو پھر وہ متبعین اپنے دینی معاملہ میں آپس میں مختلف ہوگئے زُبُرًا تقطعوا کے فاعل سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین یوتون ما اتوا وقلوبہم وجلۃ انہم الی ربہم رجعون۔ اور جو لوگ (اللہ کی راہ میں) جو کچھ دیتے ہیں ایسی حالت میں دیتے ہیں کہ ان کے دل اس بات سے خوف زدہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے پاس لوٹ کر جانے والے ہیں۔ مَااَتَوْا یعنی جو کچھ خیر ‘ خیرات کرتے ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ یہ آیت یُؤْتُوْنَ مَااَتَوْا پڑھتی تھیں تو فرماتی تھیں جو کچھ نیک کام کرتے ہیں (یعنی حضرت عائشہ ؓ کے نزدیک دینے سے مراد صرف مال دینا نہیں بلکہ ہر کار خیر کرنا مراد ہے) ۔ وَجِلَۃٌڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ان کی خیر خیرات رد نہ کردی جائے اور قبول نہ کی جائے۔ یا اس طریقے سے نہ ہو پائے جو بارگاہ کبریائی میں پیش ہونے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 57–61

(57۔ 61) اب اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے جنھیں حقیقی طور پر دنیا میں جلدی جلدی فائدے پہنچائے جاتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں۔ اور جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں اور جو لوگ اس ایمان میں اپنے رب کے ساتھ ان بتوں کو شریک نہیں کرتے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں دیتے ہیں اور جو کچھ صدقہ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو کچھ مال خرچ کرتے ہیں، سو کرتے ہیں یا یہ کہ جو کچھ نیک اعمال کرتے ہیں سو کرتے ہیں اور باوجود اس دینے کے ان کے دل اس بات سے خوف زدہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے پاس جانے والے ہیں کہیں ایسا نہ کہ وہاں آخرت میں یہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا۔۔ : ”آتٰی یُؤْتِيْ إِیْتَاءً“ کا معنی ہے، دینا۔ عام طور پر اس سے مراد صدقہ و زکوٰۃ لیا جاتا ہے، مگر ابن عباس ؓ اور سعید بن جبیر ؓ نے فرمایا : ”اس سے نیکی کے تمام اعمال مراد ہیں۔“ (طبری) عربی میں ”إِیْتَاءٌ“ (دینا) کا لفظ صرف مال یا کوئی مادی چیز دینے ہی کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا، بلکہ معنوی چیزیں دینے کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے، مثلاً کسی شخص کی اطاعت قبول کرلینے کے لیے کہتے ہیں : ”آتَیْتُہُ مِنْ نَفْسِي الْقَبُوْلَ“ اور اطاعت قبول نہ کرنے کے لیے کہتے ہیں : ”آتَیْتُہُ مِنْ نَفْسِي الإِْبَاءَ۔“ ابن عطیہ فرماتے ہیں : ”یہ معنی زیادہ خوب صورت ہے، گویا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 57–60

آیت نمبر 57-60 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان الذین ھم من خشیۃ ربھم مشفقون۔ کفار کے ذکر اور ان کو وعید سنانے کے بعد مومنین کا ذکر کیا جو نیکیوں میں جلدی کرنے والے ہیں اور اللہ نے جو ان کے ساتھ وعدہ کیا ہے اس کا ذکر کیا ہے اور ان کی ابلغ صفات کا ذکر کیا۔ مشفقون وہ ان چیزوں سے ڈرنے والے ہیں جن سے اللہ نے ڈرایا ہے۔ والذین ھم بایت ربھم یومنون۔ والذین ھم بربھم لا یشرکون۔ والذین یئوتون ما اتواو قلوبھم وجلۃ۔ حسن نے کہا : وہ اخلاص کا مظاہرہ کرتے ہیں اور وہ ڈرتے ہیں کہ ان کا عمل کہیں غیر مقبول ہوجائے۔ ترمذی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا میں نے نبی کریم ﷺ سے اس آیت کے متعلق پوچھا : والذین یئوتون…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 57–62

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ مومن جمع کرتا ہے احسان کو اور شفقت کو اور منافق جمع کرتا ہے گناہ کو اور بےخوفی کو۔ پھر (یہ آیت) آیت ” ان الذین ہم من خشیۃ ربہم مشفقون “ سے لے کر آیت ” انہم الی ربہم رجعون “ تک تلاوت کی اور منافق نے کہا آیت ” انما اوتیتہ علی علم عندی “ (القصص آیت 7) (یعنی میں اپنے علم کے ذریعہ مال دیا گیا اللہ کی طرف سے نہیں ملا) ۔ 2۔ الفریابی واحمد وعبد بن حمید والترمذی وابن ماجہ وابن ابی الدنیا فی نعت الخائفین وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ جو ] [ يُؤْتُوْنَ : وہ سب دیتے ہیں ] [ مَآ : نہیں ] [ اٰتَوْا : وہ سب دے سکیں ] [ وَّ : اس حال میں کہ ] [ قُلُوْبُهُمْ : ان کے دل ] [ وَجِلَةٌ : ڈرنے والے ] [ اَنَّهُمْ : بیشک وہ ] [ اِلٰى : کی طرف ] [ رَبِّهِمْ : اپنے رب کو ] [ رٰجِعُوْنَ : سب لوٹنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 57–62

نیک بندوں کی صفات ان آیات میں نیک بندوں کی مزید صفات بیان فرمائی ہیں۔ اولا تو یہ فرمایا کہ یہ لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں دوسرے یہ فرمایا کہ وہ اپنے رب کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں۔ تیسرے یہ فرمایا کہ اپنے رب کے ساتھ شریک نہیں ٹھہراتے چوتھے یہ فرمایا کہ وہ جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس خرچ کرنے پر انہیں کوئی سخاوت کا گھمنڈ اور غرور نہیں ہوتا بلکہ وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ہمیں اللہ کی بار گاہ میں جانا ہے وہاں یہ مال خرچ کرنا قبول ہوتا ہے یا نہیں وہاں پہنچ کر کیا صورت حال ہو یہاں کچھ نہیں کہہ سکتے، مال پوری طرح حلال تھا یا نہیں، نیت خالص اللہ کی رضا کے لیے تھی یا اس میں کچھ ریا کاری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 57–61

ذکر صفات اہل صدق و ایمان قال اللہ تعالیٰ ان الذین ہم من خشیۃ ربھم مشفقون .... الیٰ .... وھم لہا سبقون۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں ان اہل جہالت و ضلالت کا ذکر تھا کہ جو شرور اور معاصی میں مسارعت کرنے والے تھے اب ان آیات میں ان اہل صدق اور اہل ایمان کی صفات بیان کرتے ہیں کہ جو خیرات اور اعمال صالحہ میں مسارعت کرنے والے ہیں ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان کی پانچ صفتیں بیان فرمائیں۔ (1) اللہ سے ڈرتے ہیں۔ (2) اللہ کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں۔ (3) شرک نہیں کرتے۔ (4) نیکیاں کرتے ہیں مگر باوجود اس کے ان کو اپنے ایمان اور عمل پر ناز نہیں بلکہ ان کو ہر وقت اس بات کا خوف لگا رہتا ہے کہ معلوم نہیں کہ ہمارا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

51:۔ ” وَالَّذِیْنَ یُوْتُوْنَ الخ “ اس میں ” اَلَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رَاعُوْنَ “ کا اعادہ ہے۔ ” یُوْتُوْنَ “ بمعنی یفعلون ہے اور یہ لفظ تمام اعمال خیر اور افعال تر کو شامل ہے۔ قال ابن عباس وابن جبیر ھو عام فی جمیع اعمال البر کانہ قال والذین یفعلون من انفسہم فی طاعۃ اللہ ما بلغہ جھدہم (بحر ج 6 ص 410) ۔ یعنی اللہ کی اطاعت اور اعمال خیر میں وہ حسب طاقت حصہ لیتے اور جو کام کرنے کے ہیں انہیں بجالاتے ہیں۔ 52:۔ ” وَقُلُوْبُھُمْ وَجِلَةٌ الخ “ وہ حسب طاقت نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ بھی لیتے ہیں مگر اس کے باوجود آخرت کے حساب سے خائف ہیں اور انہیں اس بات کا ڈر رہاتا ہے کہ ان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 57–67

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دلائل توحید ذکر کرنے کے بعد نافرمان لوگوں کا حال بیان کیا اور اس سلسلے میں بہت سے نبیوں کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا مگر انہوں نے انکار کیا۔ آخر میں موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر آیا۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ کا بھی مختصر تذکرہ ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے تمام نبیوں کی مشترک تعلیم کا ذکر کیا۔ اللہ نے تمام رسولوں کو یہی اصول سمجھایا کلوا من الطیبت واعملوا صالحا ہمیشہ حلال اور طیب چیز کھائو اور نیک اعمال انجام دو ۔ اسی اصول ملت کی تعلیم انبیاء (علیہم السلام) نے عام لوگوں کو بھی دی ۔ پھر بعد میں لوگوں میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُہُمْ وَجِلَۃٌ اَنَّہُمْ اِلٰى رَبِّہِمْ رٰجِعُوْنَ۝ 60ۙ إِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 52–61

1 ؎ سب حضرات انبیاء (علیہم السلام) بلحاظ اصول وایں اور خدا پرستی کے ایک ہی گروہ ہی سب کا ایک ہی خدائے واحد ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُھُمْ وَجِلَۃٌ اَنَّھُمْ اِلٰی رَبِّھِمْ رٰجِعُوْنَ ۔ (المومنون : 60) (اور وہ لوگ جو دیتے ہیں تو جو کچھ دیتے ہیں اس طرح دیتے ہیں کہ ان کے دل ڈر رہے ہوتے ہیں اس خیال سے کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ) چوتھی صفت وہ جو کچھ بھی اللہ کے راستے میں دیتے ہیں نمائش اور فخر کے لیے نہیں دیتے۔ وہ اللہ کے حکم کی تعمیل اور اسی کی رضا کے حصول میں خرچ کرتے ہیں۔ وہ اپنے مال و دولت کا بیشتر حصہ بھی اللہ کی راہ میں لٹادیں تب بھی ان کے دل اس تصور سے خوف زدہ ہوتے ہیں کہ ایک نہ ایک دن اللہ کے حضور حاضری ہونے والی ہے وہاں ہمارے اس انفاق میں اگر کہیں اظہارِ فخر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 57–61

فہم القرآن ربط کلام : آخرت سے غافل لوگوں کے مقابلے میں فکر آخرت رکھنے والے لوگوں کے اوصاف۔ اس جہان رنگ و بو میں کردار کے اعتبار سے دو قسم کے انسان ہوا کرتے ہیں ایک وہ ہیں جو اپنے رب سے بےخوف ہو کر زندگی گزارتے ہیں دوسرے وہ ہیں جو قدم قدم پر سوچتے ہیں اور ہر وقت اپنے رب سے لرزاں وترساں رہتے ہیں کیونکہ ان کا اپنے رب کی ذات اور اس کے ارشادات پر پوری طرح ایمان ہوتا ہے اور وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتے۔ جب وہ صدقہ و خیرات کرتے ہیں تو ان کے دل فخرو غرور اور نمودونمائش سے بچتے اور ڈرتے ہیں۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ہم نے ہر صورت اپنے رب کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کا جواب دینا ہے یہی لوگ ہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

60: وَالَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَآ ٰاتَوْا (اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی راہ دیتے ہیں جو دیتے ہیں) یعنی جو دینے والی چیزیں زکوٰۃ و صدقات وغیرہ دیتے ہیں۔ قراءت : یأتون ما اتوا قصر کے ساتھ پڑھا گیا اس صورت میں معنی یہ ہوگا۔ یفعلون مافعلوا وہ جو کرنا ہوتا ہے کرتے ہیں : وَّ قُلُوْبُھُمْ وَجِلَۃٌ (اس حال میں کہ ان کے دل خوف زدہ ہوتے ہیں) اس بات سے خائف ہوتے ہیں کہ ان کی کوتاہیوں کی وجہ سے کہیں یہ نامقبول نہ ہو۔ اَنَّھُمْ لَھَا اِلٰی رَبِّھِمْ رٰجِعُوْنَ (بیشک وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں) جمہور کے نزدیک اس کی تقدیر عبارت یہ ہے : لا نہم الی ربہم راجعون اور ان الذین کی خبر : اولئک یسارعون فی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

60۔ والذین یوتون ما آتوا، وہ عطا کرتے ہیں جو زکوۃ اور صدقات سے دیتے ہیں۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے آیت، والذین یوتون ما آتوا، جو اعمال کرتے ہیں نیک اعمال۔ وقلوبھم وجلۃ، وہ اللہ کے عذاب سے نجات نہیں پاتے ان کے اعمال قبول نہیں کیے جاتے۔ انھم الی ربھم راجعون۔ اس لیے کہ وہ اس پر یقین رکھتے ہیں کہ اللہ کے حضور ایک دن ضرور حاضر ہونا ہے۔ حسن بصری کا قول ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اور کوشش کے ساتھ کرتے ہیں پھر بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کی طاعت ردنہ کی جائے ۔ حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ سے اس آیت، والذین یوتون، ، کے متعلق دریافت کیا اور عرض کیا یہ وہ لوگ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 58–61

58۔ 61:۔ اوپر کی آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر تھا جو اللہ تعالیٰ کی خلاف مرضی کام کرتے ہیں ‘ ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق کاموں میں لگے رہتے ہیں ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جو لوگ نیک ٹھہر چکے ہیں وہ ایسے لوگ ہیں کہ نیک کام کرنے کے بعد بھی عذاب آخرت کا اندیشہ ان کو لگا رہتا ہے ‘ احکام الٰہی کی آیتوں کا ان کے دل میں کلام الٰہی ہونے کا پورا یقین ہے اس لیے وہ ان احکام کے موافق خالص دل سے عمل کرتے ہیں ‘ شرک یا ریاکاری کے طور پر اپنے اس دینی عمل میں کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتے ‘ صدقہ ‘ خیرات اور ہر طرح کا نیک کام کرتے ہیں اور پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 57–62

(آیت (57 اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنہوں نے برائی اور امن کو جمع کیا اور سمجھتے رہے کہ دنیا میں ان پر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر بھی فرمایا جنہوں نے بھلائی اور خوف کو یکجا کیا ‘ چناچہ فرمایا : ( ان الذین ھم من خشیۃ ربھم مشفقو ون) ” بیشک جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں۔ “ یعنی ان کے دل اپنے رب کے خوف سے لرزاں ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے عدل کیا تو ان کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی اور انہیں اپنے بارے میں سوء ظن ہے کہ انہوں نے اللہ کے حق کو ادا نہیں کیا اور ایمان کے زوال کا خوف رہتا ہے ‘ انہیں اپنے رب کے بارے میں معرفت حاصل ہے کہ وہ کس اجلال و اکرام کا مستحق ہے ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

راہ خدا میں خرچ کرتے ہوئے بھی اللہ سے ڈرتے ہیں قول باری ہے (والذین یوتون ما اتوا وقلوبھم وجلۃ انھم الی ربھم راجعون) اور جن کا حال یہ ہے کہ دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل ان کے اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے) وکیع نے مالک بن مغول سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن سعید بن وہب سے اور انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا۔ ” اللہ کے رسول ﷺ ! وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی وہ دیتے ہیں اور ان کے دل کانپتے رہتے ہیں، آیا اس سے مراد وہ شخص ہے جو شراب پیتا اور چوری کرتا ہے ؟ “ آپ ﷺ نے فرمایا۔” عائشہ ! یہ بات نہیں، اس سے وہ شخص مراد ہے جو نمازیں پڑھتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 60–62

77 اللہ والوں کی شان انفاق کا خاص اور امتیازی پہلو : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ اللہ کی راہ میں دیتے ہوئے بھی ڈرتے رہتے ہیں " خواہ ان کا وہ خرچ و انفاق فرض زکوٰۃ ہو یا کوئی نفلی صدقہ و خیرات کہ کلمہ { ٔما } کا عموم ان سب کو شامل ہے۔ سو وہ اللہ کی راہ میں دیتے ہوئے بھی ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کا یہ دیا اللہ کی راہ میں قبول ہوگا یا نہیں۔ اور یہ اس کی شان اور اس کی رضا کے لائق ہے کہ نہیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ آپ ؓ نے حضور ﷺ سے اس آیت کریمہ کے مصداق کے بارے میں پوچھا کہ اس سے کون لوگ مراد ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے ایسے لوگوں کی نشاندہی فرمائی۔ جیسا کہ اگلے حاشیے میں آرہا ہے۔ سو مومن صادق کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 57–61

نیک لوگوں کی صفات تشریح : مومن ‘ نیک اور مسلمان کی تعریف میں چھ صفتیں بتائی ہیں۔ اور خوف کی تعریف یہ ہے کہ ایک خوف ہوتا ہے سانپ ‘ بچھو ‘ چور ‘ ڈاکو سے مگر اللہ سے ڈرنا ایسا کہ جیسے مہربان ماں سے ڈرنا۔ ایسے ہی لوگوں کا ہر سانس ہر قدم اور ہر عمل نیکیوں میں لکھا جاتا ہے اور یہ بھلائیاں حاصل کرنے میں سستی نہیں کرتے۔ اسی لیے وہ دین کے کاموں میں سب سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–77

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف اور تمام رسولوں کو اللہ جل جلالہ نے ایک طریق حیات عطا فرما کر حکم دیا کہ پاکیزہ اور نفیس چیزیں کھاؤ اور اللہ جل جلالہ کے بتائے ہوئے قواعد پر عمل کرو کہ می تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں یہ قوم جس کی طرف تم مبعوث ہوئے ہو تمہاری جماعت ہے جو ایک ہے اور متفق ومتحد ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری عظمت کو ہر حال میں پیش نظر رکھو۔ (غذا اور عمل) یہاں انبیاء کرام (علیہ السلام) ورسل کو ارشاد فرما کر تمام قوموں کو ایک اصولی ضابطہ بتایا گیا ہے کہ حلال اور پاکیزہ غذا سے توفیق عمل نصیب ہوتی ہے اور اگر غذا ہی حلال نہ ہو تو نیک عمل کی توفیق بھی نہیں ہوتی ، اگر کر بھی لے تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 57–60

13 ۔ وہاں معلوم نہیں ان کا دیا ہوا صدقہ قبول بھی ہوتا ہے یا نہیں ؟۔ ڈرنے کا تعلق اس چیز سے ہے نہ کہ صرف اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹنے سے مطلب یہ ہے کہ وہ صدقہ اور اسی طرح دوسری تمام عبادات بجا لاتے ہیں لیکن اس پر ناز نہیں کرتے۔ حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا۔ ” اے اللہ کے رسول ﷺ ! کیا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شراب پی لے، چوری کرلے، زنا کرلے مگر اللہ سے ڈرتا رہے ؟ فرمایا نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی روزہ رکھے، صدقہ کرے نماز پڑھے پھر بھی ڈرتا رہے کہ شاید بارگاہ الٰہی میں قبول نہ ہو اور سلف گناہوں پر جتنا ڈرتے تھے، اس سے زیادہ نیکی کی عدم قبولیت کا اندیشہ ان کو دامن گیر رہتا تھا۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(23:60) یؤتون۔ مضارع جمع مذکر غائب وہ دیتے ہیں۔ ایتاء سے اتوا ماضی جمع مذکر غائب ایتاء مصدر۔ یؤتون ما اتوا۔ وہ جو کچھ بھی دیتے ہیں۔ جو عطیہ بھی وہ دیتے ہیں ۔ وجلۃ۔ صفت مشبہ واحد مؤنث وجل مذکر۔ وجل مصدر (باب سمع) خوف زدہ ڈرنے والے۔ ڈرتے رہتے ہیں۔ وقلوبہم وجلۃ (خائفۃ ان لا تقبل منہم لتقصیرہم) میں وائو حالیہ ہے اور جملہ قلوبہم وجلۃ اسم موصول الذین ضمیر سے موضع حال میں ہے اور وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں دیتے ہیں جو کچھ بھی وہ دیتے ہیں (حال ان کا یہ ہوتا ہے) کہ دل ان کے کانپ رہے ہوتے اس خوف سے کہ (ان کی یہ زکوٰۃ یا صدقہ ) کہیں عدم قبولیت کا شکار نہ ہوجائے۔ انہم الی ربہم راجعون۔ سے قبل لام تعلیلیہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–61

لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 61 : الرسول (رسول) (پیغمبر) ‘ الطیبات (طیبۃ) پاکیزہ۔ ستھری چیزیں ‘ امۃ (امت۔ جماعت) ‘ تقطعوا (تم کاٹتے ہو) ‘ زبر (زبرۃ) کسی چیز کو ٹکڑے ٹکڑے کردینا ‘(حزب) جماعت۔ فرقہ ‘(فرحون) خوش ہونے والے ‘(غمرۃ) گہرا پانی۔ غفلت ‘(نمد) ہم دیتے ہیں ‘(نسارع) ہم دوڑتے ہیں۔ ہم جلدی کرتے ہیں ‘(مشفقون) لڑنے والے۔ اندیشہ رکھنے والے ‘(وجلۃ) ڈرانے والے ‘(سابقون) سب سے آگے پہنچنے والے۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 61 : خاتم الا نبی اء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات پر جس نظام زندگی کی تکمیل فرمائی گئی ہے اس کی سب سے بڑی عظمت یہ ہے کہ وہ نظام زندگی صرف وہی راستے نہیں بتاتا جس سے انسان کی آخرت کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 57–61

(ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ بیشک جو اللہ تعالیٰ کے علم میں نیک لوگ ٹھہرچکے ہیں وہ ایسے لوگ ہیں کہ نیک کام کرنے کے بعد بھی عذاب آخرت کا اندیشہ ان کو لگارہتا ہے احکام الٰہی کی آیتوں کا ان کے دل میں کلام الٰہی ہونے کا پورا یقین ہے اس لیے وہ ان احکام کے موافق خالص دل سے عمل کرت ہیں صدقہ خیرات اور ہر طرح کا نیک کام کرتے ہیں اور پھر بھی اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کا وقت کا کھٹکا ان کے دل میں لگا ہوا ہے یہی وہ لوگ ہیں کہ جو ہر طرح کی بھلائی کی طرف پیش قدمی کرکے دوڑتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 56–62

[29] یعنی اس دنیا میں مہلت کا قانون کام کر رہا ہے۔ یہاں مہلت سب کے لئے ہے، اچھوں کے لئے بھی اور بروں کے لئے بھی، اہل ایمان کے لئے بھی اور فساق و فجار کے لئے بھی۔ پس اگر کفار کو دنیوی زندگی کی خوشحالیاں مل رہی ہیں تو اس لئے نہیں کہ اللہ کا قانون مجازات معطل ہوگیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ بدعملیوں پر بھی انھیں فوائد سے بہرہ اندوز کرے بلکہ اس لئے کہ مقررہ وقت ابھی آیا نہیں۔ اس ضمن میں یہ بات جان لینی چاہئے کہ یہ دنیا دراصل دارالجزا نہیں بلکہ دارالامتحان ہے۔ یہاں جزاو سزا اگر ہے بھی تو بہت محدود پیمانے پر اور ناقص صورت میں ہے اور امتحان کا پہلو خود اس میں بھی موجود ہے۔ اس حقیقت کو نظرانداز کر کے یہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 55–60

مال و دولت آزمایش ہے ! (ف 1) مخالفین اور معاندین جب یہ دیکھتے ، کہ اللہ تعالیٰ نے باوجود اسلام کی مخالفت اور عداوت کے ان کو مال اولاد سے بہرہ ور کر رکھا ہے ، تو وہ یہ سمجھئے کہ یہ اللہ کا فضل ہے اور اس کی نوازش ہے وہ ہم سے خوش ہے جبھی تو ہمیں سب کچھ دے رہا ہے قرآن حکیم کہتا ہے یہ ان کی سادہ لوحی اور نافہمی ہے ، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے قانون مکافات سے آگاہ نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی عادت ہے کہ وہ منکرین کی مادی مسرتوں میں مخل نہیں ہوتا ، اور ان کے مال و دولت میں خلل انداز نہیں ہوتا تاآنکہ ان کا غرور اور گناہ اصلاح وہدایت کی تمام قوتیں چھن جاتی ہیں ، اور وہ فنا کے قریب ہوجاتے ہیں ۔ جو لوگ نیک اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(60) اور جو اللہ کی راہ میں دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور باوجود اس کے ان کے دل اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں اور وہ اپنے رب کی طرف واپس جانے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 60–63

ف 6۔ یعنی باوجود دینے کے ان کے دل خوفزدہ رہتے ہیں کہ دیکھئے وہاں جاکر ان صدقات کا کیا ثمرہ ظاہر ہو، ایسا نہ ہو کہ موافق حکم کے نہ دیا گیا ہو مثلا مال حلال نہ ہو یا نیت خالص نہ ہو تو الٹا مواخزہ ہونے لگے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ دوسروں کو دینے کے لئے ترساں رہتے ہیں اور کسی سے حاصل کرنے کی طلب نہیں رکھتے : 60۔ ان لوگوں کی دسویں نشانی یہ بیان کی جا رہی ہے کہ وہ لوگ ایسے ہیں کہ جو مال و دولت اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمایا ہے اس کو اس کی راہ میں کھلے دل سے خرچ کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے دل میں یہ گھمنڈ کبھی پیدا نہیں ہوا کہ ہم نے اتنا مال خرچ کردیا اور نہ ہی کسی پر کبھی کچھ احسان جتلاتے ہیں بلکہ ان کو ہر وقت یہ احساس بےچین رکھتا ہے کہ جو ہم نے دیا ہے کہیں اس میں نمود ونمائش اور دکھاوے کی آمیزش نہ ہوجائے وہ اس طرح خرچ کرتے ہیں کہ ان کا دایاں ہاتھ خرچ کرتا ہے اور بائیں کو معلوم تک نہیں ہوتا فرمایا یہ وہ لوگ ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوا وَّقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ (And those who give whatever they give with their hearts full of fear - 23:60.) The word يُؤْتُونَ is derived from اِیتا meaning "to give, to spend", and is used in commentaries in the sense of صَدَقَات (alms to the poor). Another reading of this verse reported from Sayyidah ` A'ishah ؓ is يُؤْتُونَ مَا آتَوا (They do whatever they do - 23:60) and this covers all good deeds such as charity, prayers, fasting etc. As for the generally accepted reading of the verse, although it mentions alms to the poor only, yet it would include…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 60–61

54. This verse (60) may be elaborated like this: They serve their Lord and try their best to obey Him and do righteous deeds, but all along they remain humble in their hearts and are not puffed up with the pride of their piety. Nay, in spite of all their good deeds, their hearts are always filled with awe that they shall have to render an account to their Lord, and they are not sure whether they will come out successful in the judgment of their Lord or not. A concrete interpretation of this verse is afforded by Umar. Although he served his Allah in a way that was exemplary, yet he was so…

Read the full tafseer →