Al-Muminoon 23:37

Al-Muminoon · from ayah 37

23:37

اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ ۟اِنۡ هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ

زندگی تو یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے کہ (اسی میں) ہم مرتے اور جیتے ہیں، اور ہم پھر نہیں اُٹھائے جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Life is not but our worldly life - we die and live, but we will not be resurrected.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 3 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:37

زندگی کچھ نہیں ہے مگر بس یہی دنیا کی زندگی یہیں ہم کو مرنا اور جینا ہے اور ہم ہرگز اٹھائے جانے والے نہیں ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

زندگی تو یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے کہ (اسی میں) ہم مرتے اور جیتے ہیں، اور ہم پھر نہیں اُٹھائے جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

(زندگی) تو صرف دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے جیتے رہتے ہیں اور یہ نہیں کہ ہم پھر اٹھائے جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

زندگی تو ہماری اس دنیوی زندگی کے سوا کوئی اور نہیں ہے (یہیں) ہم مرتے اور جیتے ہیں، اور ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جاسکتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ تو نہیں مگر ہماری دنیا کی زندگی کہ ہم مرتے جیتے ہیں اور ہمیں اٹھنا نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ (آخرت کی زندگی کچھ) نہیں ہماری زندگانی تو یہی دنیا ہے ہم (یہیں) مرتے اور جیتے ہیں اور (بس ختم)، ہم (دوبارہ) نہیں اٹھائے جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

نہیں ہے یہ (زندگی) مگر ہماری اس دنیا کی زندگی، ہم (یہیں) مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہم ہرگز اٹھائے جانے والے نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

زندگی تو بس یہی دنیا کی زندگی ہے، ہم مرتے ہیں اور جیتے (پیدا ہوتے) ہیں اور ہم ہرگز اٹھائے نہیں جائیں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

زندگی تو بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے، یہیں ہم مرتے اور جیتے ہیں اور ہم ہرگز اٹھائے جانے والے نہیں ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

زندگی تو بس ہماری یہی دنیاوی زندگی ہے جس میں ہم مرتے اور جیتے ہیں اور بس اور ہم دوبارہ اٹھائے جانے والے نہیں ہے۔

— مولانا اسحاق مدنی

بس زندگی تو ہماری (یہی) دنیوی زندگی ہے کہ ہم میں کوئی مرتا ہے اور کوئی پیدا ہوتا ہے اور ہم ہرگز (دوبارہ) اٹھائے جانے والے نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ کچھ نہیں ہے مگر بس ہماری دنیا کی زندگی (ہی اصل زندگی) ہے ہم خود ہی مرتے ہیں اور خود ہی زندہ رہتے ہیں اور ہم (دوبارہ) اٹھائے جانے والے نہیں ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

زندگی تو یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے کہ اسی میں ہم مرتے اور جیتے ہیں اور ہم دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

There is no other life than the life of the world. We shall live here and here shall we die; and we are not going to be raised again.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

There is nothing but our worldly life. We die and we live, and we are not to be raised again.

— Muhammad Taqi Usmani

There is nothing but our worldly life. We die and we live, and we are not to be raised again.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"There is nothing but our life of this world! We die and we live! And we are not going to be resurrected!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

There is naught but our life of the world; we die and we live, and we shall not be raised (again).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Life is not but our worldly life - we die and live, but we will not be resurrected.

— Saheeh International

This is our only life. We live and will die but we will never be brought back to life again.

— Muhammad Sarwar

There is naught but our life in this world; we die and we live and we shall not be raised again.

— Muhammad Habib Shakir

There is nought but our life of the world; we die and we live, and we are not going to be raised Up.

— Abdul Majid Daryabadi

"There is nothing but our life in this world! We shall die and we live! But we shall never be raised up again!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:37

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 31–41

عادوثمود کا تذکرہ اللہ تعالیٰ بیان فرتا ہے کہ حضرت نوح ؑ کے بعد بھی بہت سی امتیں آئیں جیسے عاد جو ان کے بعد آئی یا ثمود قوم جن پر چیخ کا عذاب آیا تھا۔ جیسے کہ اس آیت میں ہے ان میں بھی اللہ کے رسول ؑ آئے اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی تعلیم دی۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا، مخالفت کی، اتباع سے انکار کیا۔ محض اس بنا پر کے یہ انسان ہیں۔ قیامت کو بھی نہ مانا، جسمانی حشر کے منکر بن گئے اور کہنے لگے کہ یہ بالکل دور از قیاس ہے۔ بعثت ونشر، حشر و قیامت کوئی چیز نہیں۔ اس شخص نے یہ سب باتیں از خود گھڑلی ہیں ہم ایسی فضول باتوں کے مانے والے نہیں نبی ﷺ نے دعا کی اور ان پر مدد طلب کی۔ اسی وقت جواب ملا کہ تیری…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 34–37

سورة الْمُؤْمِنُوْن 36 بعض لوگوں نے یہ غلط سمجھا ہے کہ یہ باتیں وہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے کرتے تھے۔ نہیں یہ خطاب دراصل عوام الناس سے تھا۔ سرداران قوم کو جب خطرہ ہوا کہ عوام پیغمبر کی پاکیزہ شخصیت اور دل لگتی باتوں سے متاثر ہوجائیں گے۔ اور ان کے متاثر ہوجانے کے بعد ہماری سرداری پھر کس پر چلے گی، تو انہوں نے یہ تقریریں کر کر کے عام لوگوں کو بہکانا شروع کیا۔ یہ اسی معاملے کا ایک دوسرا پہلو ہے جو اوپر سرداران قوم نوح کے ذکر میں بیان ہوا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ خدا کی طرف سے پیغمبری ویغمبری کچھ نہیں ہے، محض اقتدار کی بھوک ہے جو اس شخص سے یہ باتیں کرا رہی ہے۔ یہ فرماتے ہیں کہ بھائیو، ذرا غور تو کرو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–41

اِنْ هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوْتُ وَنَحْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِيْنَ (اس دنیا کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی نہیں۔ پس مرنا جینا اسی دنیا کا ہے اور پھر دوبارہ زندہ ہونا نہیں) یہی قول عام کفار کا ہے جو قیامت کے منکر ہیں۔ یہ انکار جو زبان سے کرتے ہیں وہ تو کھلے کافر ہیں ہی، لیکن افسوس اور بہت فکر کی چیز یہ ہے کہ اب بہت سے مسلمانوں میں بھی عملی طور پر یہ انکار ان کے ہر قول و فعل سے مترشح ہوتا ہے کہ آخرت اور قیامت کے حساب کی طرف کبھی دھیان بھی نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو اس مصیبت سے نجات عطا فرماویں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

منکرین قیامت کی خرد باختگی یعنی زندگی تو بس یہی دنیا کی زندگی ہے۔ یہیں ہم مرتے ہیں اور یہیں جیتے ہیں۔ مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ یہ امر محلوظ رہے کہ پرانے مکذبین قیامت ہوں یا نئے دونوں ہی نے قیامت کا انکار کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ مجرد اس کے استبعاد کی بنا پر کیا ہے۔ درآنحالیکہ اس سے ہزاروں لاکھوں درجہ مستبعد چیزیں ہر وقت اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور ان کو مانتے ہیں۔ قرآن نے لوگوں کی اسی خرد باختگی پر جگہ جگہ اظہار تعجب کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–42

17: یہاں قرآن کریم نے پیغمبر کا نام نہیں لیا، لیکن زیادہ ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت صالح ؑ ہیں جنہیں قوم ثمود کی طرف بھیجا گیا تھا، کیونکہ آگے آیت نمبر 40 میں فرمایا گیا ہے کہ ان کی قوم کو چنگھاڑ سے ہلاک کیا گیا تھا، اور بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ شاید حضرت ہود ؑ مراد ہوں، جنہیں قوم عاد کی طرف بھیجا گیا تھا اور چنگھاڑ سے مراد ہوا کا عذاب ہے جس کے ساتھ یقیناً خوفناک آواز بھی ہوگی، ان دونوں کے واقعات سورة اعراف (7۔ 65 تا 73) اور سورة ہود (11۔ 50 تا 61) میں گزرچکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 31–41

ثم انشانا ۔۔۔۔ للقوم الطلمین (آیات نمبر 31 تا 41) اس سورة میں قصص نہ محض قصہ گوئی کے لیے لائے گئے ہیں اور نہ ان کی تفصیلات دی گئی ہیں ، بلکہ یہاں مقصد یہ بتا تا ہے کہ تمام پغمبروں نے ایک ہی دعوت پیش کی اور تمام رسولون کی اقوام نے ان کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بات کی ابتداء حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے سے کی گئی اور انجام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر ہوا۔ جبکہ خطاب رسول آخر زمان کو تھا۔ رسولوں کے طویل سلسلے کے نام یہاں نہیں دیئے گئے کیونکہ تمام رسولوں کا معاملہ دراصل ایک ہی جیسا تھا ، مقصد یہ تھا کہ ان کا کلمہ ایک ہی تھا ، ان کی دعوت ایک تھی اور اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی کہاں کی آخرت، اور کہاں کا حساب کتاب۔ ہم تو جانیں یہ ہی ایک دنیا کا سلسلہ اور یہ ہی ایک مرنا اور جینا ہے جو سب کی آنکھوں کے سامنے ہوتا رہتا ہے۔ کوئی پیدا ہوا، کوئی فنا ہوگیا آگے کچھ نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 34–37

آیت 34 وَلَءِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَکُمْلا اِنَّکُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ ” ذرا ان سرداروں کی منطق اور دلیل ملاحظہ ہو۔ یعنی اگر تم لوگ ہماری اطاعت کرو تو درست اور بجا ‘ لیکن اس شخص کا کہنا مانو تو ناقابل قبول ! اس لیے کہ ہم پیدائشی سردار ہیں ‘ تمہارے حکمران ہیں ‘ ہمارا حکم تو تمہیں ماننا ہی ماننا ہے۔ ہماری اطاعت تو تم پر لازم ہے ہی ‘ مگر اس شخص کی اطاعت اس لیے نہیں ہوسکتی کہ یہ تمہاری طرح کا انسان ہے۔ یہ دلیل دیتے ہوئے وہ بھول گئے کہ وہ خود کوئی فرشتے نہیں بلکہ اپنے عوام جیسے ہی انسان ہیں اور انسان ہوتے ہوئے ہی وہ اپنے جیسے انسانوں سے اطاعت اور فرمانبرداری کی توقع رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

41 آخرت سے انکار کرنے والوں کے پاس سب سے بڑی دلیل یہ ہوتی ہے کہ چونکہ کوئی بھی مرا ہوا انسان آج تک دوبارہ زندہ ہو کر واپس نہیں آیا۔ لہذا ہم کیسے مان لیں کہ مرنے اور مر کر مٹی میں مل جانے کے بعد دوبارہ اٹھائے جائیں گے ؟ گویا ان کے انکار کی اصل بنیاد ان کا اپنا تجربہ یا مشاہدہ ہوتا ہے۔ قوم عاد مشرکین مکہ کی طرح اللہ کی ہستی کے قائل تھے حالانکہ اللہ کی ہستی بھی کسی تجربہ اور مشاہدہ میں نہیں آتی۔ اور اللہ کی ہستی کے قائل ہونے کی وجہ بھی یہ نہیں ہوتی کہ وہ کسی پیغمبر کی تعلیم سے متاثر ہو کر اللہ پر ایمان بالغیب لاتے ہیں۔ بلکہ اس لئے فلاسفروں اور حکماء نے اللہ کی ہستی کو علت العلل CauseFirst کے طور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 35–37

35۔ مادیت ودہریت کا پورا فلسفہ ان سطروں میں آگیا۔ دین صحیح کے داعی کا اصلی کام انہیں خیالات و عقائد پر ضرب کاری لگانا ہے اور یہی خیالات و عقائد نام اور اصطلاحیں بدل بدل کر ہر ملک میں منکرین ومکذبین کی زبان سے ظاہر ہوا کئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–50

آیت نمبر 33 تا 50 ترجمہ : اور ان کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے کفر کیا تھا اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تھا یعنی اس کی طرف رجوع کرنے کو اور ہم نے ان کو دنیوی زندگانی میں خوشحالی عطا کی تھی یعنی انعامات سے نوازا تھا کہنے لگے بس یہ تو تمہاری طرح ایک آدمی ہے وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو واللہ اگر تم اپنے جیسے ایک آدمی کے کہنے پر چلنے لگو تو بیشک تم سخت خسارے والے ہو، یعنی نقصان اٹھانے والے ہو کیا یہ شخص تم سے یہ کہتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو تم نکالے جاؤ گے مخرجون أنّکم اولیٰ کی خبر ہے اور ثانی أنّکم پہلے أنکم کی تاکید ہے اِنَّ کے اسم اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان ہی الا حیاتنا الدنیا یہ زندگی اور کچھ نہیں سوائے اس دنیوی زندگی کے۔ حیات دنیا یعنی وہ زندگی جس میں ہم ہیں اور اور جو ہمارے قریب ہے (دونوں کا معنی ہے قرب۔ دنیا مؤنث ادنیٰ کا ہے اور ادنیٰ اسم تفضیل ہے ونو مادہ ہے۔ مترجم) ۔ نموت ونحیا وما نحن بمبعوثین۔ ہم مرتے ہیں اور زندہ ہوتے (رہتے) ہیں اور ہم (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھائے نہیں جائیں گے۔ یعنی ہم میں سے کوئی مرتا ہے کوئی پیدا ہوتا ہے ‘ بغوی نے کہا دوبارہ زندگی کے وہ لوگ منکر تھے اس لئے نحیا کا یہ مطلب نہیں کہ ہم سب زندہ ہوں گے بلکہ کلام میں تقدیم تاخیر ہے یعنی ہم تم سب پیدا ہوتے ہیں پھر مرجاتے ہیں۔ یہ مطلب اس وقت ہوگا کہ نموت اور نحیا سے مراد…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(37) بس زندگی تو یہی ہماری دنیوی زندگی ہے اس میں باپ دادا مرتے ہیں اور اولاد پیدا ہوتی ہے اور ہم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنْ هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا : ”هِىَ“ سے مراد ”حَیَاۃٌ“ ہے، جو ”حَيَاتُنَا الدُّنْيَا“ سے واضح ہو رہی ہے، یعنی مرنے کے بعد زندگی کہاں ؟ زندگی ہے تو صرف یہ دنیا کی زندگی، باقی سب خیال و محال ہے۔ نَمُوْتُ وَنَحْيَا : ”ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں“ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مرنے کے بعد جینے کے قائل ہوگئے تھے، کیونکہ وہ اس دنیا کے سوا کسی زندگی کو مانتے ہی نہ تھے۔ اس لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہیں ہم مرتے جاتے ہیں اور پچھلے پیدا ہوتے رہتے ہیں، دنیا کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا ہے اور جاری رہے گا۔ وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِيْنَ : باء کی وجہ سے نفی میں تاکید پیدا ہوگئی، اس لیے ترجمہ ہے ”اور ہم…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 38 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان ھی الا حیاتنا الدنیا، ھی ضمیر الدنیا سے کنایہ ہے، یعنی زندگی نہیں ہے مگر جس میں ہم ہیں اور آخرت کی زندگی جس کا دوبارہ اٹھنے کا وعدہ کیا ہے یہ نہیں ہے نموت و نحیا کہا جاتا ہے : انہوں نے نموت و نحیا کیسے کہا وہ تود و بارہ زندہ ہونے کا یقین نہیں رکھتے تھے ؟ اس کے کئی جوابات ہیں ایک یہ کہ اس کا معنی ہے ہم نطفہ تھے پھر دنیا میں زندہ ہوئے۔ بعض نے کہا : اس میں تقدیم وتاخیر ہے یعنی یہ دنیوی زندگی ہے اس میں ہم جئیں گے اور مریں گے یہ جیسے فرمایا : واسجدی وارکعی (آل عمران 43 ) ۔ سجدہ کر اور رکوع کر اس میں بھی تقدیم وتاخیر ہے۔ بعض علماء نے کہا : نموت یعنی ہمارے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 36–40

1۔ ابن جریر وابن المنزر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ہیہات ہیہات “ یعنی بہت دور بہت دور ہے دوبارہ زندہ ہونا) 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ہیہات ہیہات لما تو عدون “ سے مراد ہے وہ اس کام کو دلوں میں بہت دور کی بات سمجھتے تھے۔ یعنی موت کے بعد دوبارہ اٹھنے کو۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اِنْ : اگر ] [ هِىَ : وہ ] [ اِلَّا : مگر ] [ حَيَاتُنَا : ہماری زندگی ] [ الدُّنْيَا : دنیوی ] [ نَمُوْتُ : ہم مرتے ہیں ] [ وَنَحْيَا : اور ہم جیتے ہیں ] [ وَمَا : اور نہ ] [ نَحْنُ : ہم ] [ بِمَبْعُوْثِيْنَ : سب " دوبارہ " اٹھائے جانے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 31–43

حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد ایک دوسرے نبی کی بعثت اور ان کی قوم کی تکذیب اور ہلاکت حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد زمین میں بسنے والے قوموں کی ہدایت کے لیے کثیر تعداد میں اللہ تعالیٰ کے رسول آئے، مذکور بالا آیات میں ایک رسول اور ان کی امت کی تکذیب کا پھر چیخ سے ہلاک ہونے کا تذکرہ ہے، مفسرین نے فرمایا ہے کہ ان سے حضرت ھود یا حضرت صالح ( علیہ السلام) کے واقعے مراد ہیں۔ پہلے قول کو اس اعتبار سے ترجیح معلوم ہوتی ہے، کہ سورة اعراف اور سورة ھود اور سورة شعراء میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ کے بعد ہی حضرت ھود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا تذکرہ فرمایا ہے اور اگر اس بات کو دیکھا جائے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–41

قصہ قوم عاد یا قوم ثمود قال اللہ تعالیٰ ثم انشانا من بعدھم قرنا اخرین .... الیٰ .... فبعدا للقوم الظلمین۔ (ربط) ان آیات میں بھی امم سابقہ قصہ بیان کرتے ہیں۔ مگر ان آیات میں اس بات کا ذکر نہیں کہ یہ کسی نبی اور کسی قوم کا ذکر ہے بعض کہتے ہیں کہ ہود (علیہ السلام) کا ذکر ہے اور بعض کہتے ہیں کہ قوم ثمود (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر ہے۔ یہ قصے پہلے گزر چکے ہیں جن کے مطالب واضح ہیں، چناچہ فرماتے ہیں پھر ہم نے قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد ابتلا اور آزمائش کے لیے دوسری قوم کو پیدا کیا۔ بعض کہتے ہیں کہ قوم عاد مراد ہے اور بعض کہتے ہیں کہ قوم ثمود مراد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 37–38

35:۔ ” اِنْ ھِیَ الخ “ دوبارہ زندہ ہونا بالکل عقل و قیاس سے بعید بات ہے اور نہ کوئی اور زندگی ہے بس اصل زندگی یہی دنیا ہی میں ہے جسے ہم اس زمین پر بسر کرتے ہیں جب ہم مرجائیں گے تو یہ زندگی ختم ہوجائے گی اور ہم بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں گے۔ ” اِنْ ھُوَ اِلَّا رَجُلٌ الخ “ یہ ہود (عیاذا باللہ) خدا پر بہتان باندھتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور اس نے مجھے مسئلہ توحید اور حشر و نشر کے عقیدے کی تبلیغ و اشاعت کے لیے بھیجا ہے اس لیے ہم تو اس کی بات ہرگز نہیں مانیں گے ای ما ھو الا مفتر علی اللہ فیما یدعیہ من استنبائہ لہ وفیما یعدنا من البعث (مدارک ج 3 ص 92) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 31–41

ربط آیت : گزشتہ دروس میں پہلے توحید باری تعالیٰ کے عقلی دلائل پیش کیے گئے اور پھر نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا۔ انہوں نے بھی لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دی اور فرمایا یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ ، اے میری قوم کے لوگو ! اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ کافروں نے نوح (علیہ السلام) پر یہ اعتراض کیا کہ یہ تو ہمارے جیسا انسان ہے ، بھلا ہم اس کو اللہ کا رسول کیسے تسلیم کرلیں انہوں نے آپ کی بات سننے کی بجائے آپ کو ہر طرح سے تنگ کیا۔ نوح (علیہ السلام) نے طویل عرصہ تک تبلیغی جدوجہد کے بعد اللہ تعالیٰ سے نجات کی درخواست کی تو اللہ نے کشتی بنانے اور اس میں ہر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنْ ہِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوْتُ وَنَحْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِيْنَ۝ 37۠ۙ بعث أصل البَعْث : إثارة الشیء وتوجيهه، يقال : بَعَثْتُهُ فَانْبَعَثَ ، ويختلف البعث بحسب اختلاف ما علّق به، فَبَعَثْتُ البعیر : أثرته وسيّرته، وقوله عزّ وجل : وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] ، أي : يخرجهم ويسيرهم إلى القیامة، يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعاً [ المجادلة/ 6] ، زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ لَنْ يُبْعَثُوا قُلْ بَلى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ [ التغابن/ 7] ، ما خَلْقُكُمْ وَلا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ واحِدَةٍ [ لقمان/ 28] ، فالبعث ضربان : - بشريّ ، کبعث البعیر، وبعث…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 33–43

جس پر ان کی قوم کے سردار جو آخرت کے منکر اور کافر تھے اور اللہ نے ان کو دنیا میں ثروت و دولت بھی دی تھی (کیونکہ ایسی باتیں دنیا دار دولتمند ہی غرور میں آکر کیا کرتے ہیں) وہی بیہودہ شبہات کرنے لگے کہ یہ رسول ہمارے جیسا ہے ‘ جس طرح ہم کھاتے ہیں پیتے ہیں یہ بھی اسی طرح اور وہی چیزیں کھاتا پیتا ہے۔ پھر ایسے شخص کے حکم پر چلنا جو ہم جیسا انسان ہے خرابی میں پڑنا ہے۔ (ان حمقاء نے رسول کو یہ سمجھا تھا کہ وہ نوع انسانیت سے علیحدہ کوئی اور ہی طرح کا ہونا چاہیے) اور یہ جو کہتا ہے کہ مر کر اور بوسیدہ ہو کر بھی لوگ زندہ ہوں گے تو یہ بہت بعید بات ہے صرف دنیا ہی کی موت اور زندگی ہے یہ جھوٹا آدمی ہے اس کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 35–37

اَیَعِدُکُمْ اَنَّکُمْ اِذَا مِتُّمْ وَکُنْتُمْ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّکُمْ مُّخْرَجُوْنَ ۔ ھَیْھَاتَ ھَیْھَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ ۔ اِنْ ھِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنُیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ ۔ (المومنون : 35 تا 37) کیا وہ تمہیں اس بات سے ڈراتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو پھر تمہیں قبروں سے نکالاجائے گا۔ عقل سے بعید ہے بالکل بعید، یہ ڈراوا، جو تمہیں سنایا جارہا ہے۔ زندگی تو بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے یہیں ہم مرتے ہیں اور یہیں ہم جیتے ہیں، اور ہم ہرگز اٹھائے جانے والے نہیں۔ ) ” وَعَدَ “ ،” یَعِدُ “ کا ایک معنی ہوتا ہے ” وعدہ کرنا “ اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 35–38

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کو جھٹلانے والے لوگوں کی فرسودہ دلیل : قیامت کا انکار کرنے والے ہمیشہ سے یہ دلیل دیتے آئے ہیں کہ جب انسان کا جسم گل سڑ جائے گا تو پھر اسے کس طرح زندہ کیا جاسکتا ہے ؟ یہی بےہودہ اور فرسودہ دلیل حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم اور اس کے سردار دیا کرتے تھے۔ لیڈر اپنی قوم کو پھسلانے اور ورغلانے کے لیے کہتے تھے کہ ھود (علیہ السلام) تمہیں مرنے کے بعد زندہ ہونے کا وعدہ دیتا ہے کہ جب تم مرکھپ جاؤ گے اور تمہاری ہڈیاں مٹی کے ساتھ مٹی بن جائیں گی۔ اس کے باوجود ” اللہ “ تمہیں زندہ کرے گا۔ ھود کی یہ بات عقل کے خلاف اور بعید از قیاس ہے۔ دنیا میں مرنا جینا تو رہتا ہے لیکن ہم دوبارہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

37: اِنْ ھِیَ (نہیں ہے وہ ) نحو : ھیؔ یہ ایک ایسی ضمیر ہے جس کا مقصد اس کے بعد آنے والی وضاحت کے بغیر معلوم نہیں ہوتا۔ اصل اس طرح کلام ہے ان الحیاۃ الاحیاتنا الدنیا۔ نہیں زندگی مگر فقط ہماری دنیا ہی زندگی۔ پھر ھیؔ ضمیر کو الحیاۃ کی جگہ لائے کیونکہ خبر اس پر دلالت کر رہی ہے اور اس کی وضاحت کر رہی ہے۔ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا (مگر ہماری دنیا ہی کی زندگی) اب معنی اس طرح ہے : لا حیاۃ الاھذہ الحیاۃ التی نحن فیھا ودنت منّا کوئی زندگی نہیں مگر یہی زندگی جس کو ہم گزار رہے ہیں اور جو ہمارے قریب ہے۔ وجہ عجیبہ : اس کی یہ ہے اِنؔ نافیہ کو ھیؔ پر داخل کیا اور وہ ھیؔ الحیاۃ کے معنی میں ہے جو کہ جنس پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

37۔ انھی، اس سے مراد دنیا ہے۔ الاحیاتنا الدنیا نموت ونحیا، اس میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی نحیا ون موت ہم ہی زندہ کرنے والے اور موت دینے والے ہیں کیونکہ وہ بعث بعدالموت کے منکر تھے۔ بعض نے کہا کہ وہ اپنے آباء کو تومردہ سمجھتے تھے اور بیٹوں کو زندہ سمجھتے تھے بعض کا قول ہے کہ وہ ایک قوم کو زندہ سمجھتے تھے اور دوسری کو مردہ۔ ومانحن بمبعوثین ۔ موت کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کرکے اٹھائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 31–41

31۔ 41:۔ پچھلی امتوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے جو قرآن شریف میں فرمایا ہے اس سے اور صحیح حدیثوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہمیشہ سے انبیاء کے فرمانبردار اکثر غریب لوگ ہوتے رہے ہیں اور مالدار لوگوں کو اپنے مال ومتاع اور اپنی سرداری کا ایک طرح کا غرور ہو کر وہی انبیاء سے جھگڑے کرتے رہے ہیں ہمیشہ سے یہ طریقہ جاری رہتے رہتے ایسا عام ہوگیا تھا کہ لوگ رسول وقت کے سچے نبی ہونے کی دلیل اس بات کو قرار دینے لگے تھے کہ اللہ کے رسول کو اور ان کے فرمانبرداروں کو تنگ دست نہیں ہونا چاہیے لیکن یہ ایک غلط بات مشہور ہوگئی تھی ‘ کیونکہ صحیح بخاری میں ابوسفیان ؓ والی حدیث 1 ؎ جو ہے ‘ اس میں ہرقل نے جہاں اور نشانیاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 31–49

(آیت نمبر 31) نوح علیہ اسلام اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ثمہ انشانا من بعدھم قرناً اخرین) ، ، پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔ ، ، بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح علیہ اسلام کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ (فارسلنا فیھمہ رسولاً منھم) ، ، پس ان کے اندر انہی میں سے (یعنی انہی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا، ، جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انہیں پورا علم تھا۔۔۔ تاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 9–59

نمازوں کی محافظت قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 35–37

47 کفار کا پیغمبر سے استہزاء و انکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پیغمبر کی قوم کے ان کھڑپینچوں نے اپنے لوگوں کو پیغمبر سے بد ظن اور متنفر کرنے کے لیے ان سے کہا کہ کیا یہ شخص تم لوگوں سے ایسی انہونی بات کرتا ہے کہ جب تم لوگ مر کر اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جاؤ گے اور تمہاری ہستی بالکل مٹ جائے گی تو اس کے بعد تم کو نئے سرے سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔ سو استفہام یہاں پر انکار واستبعاد کے لیے ہے۔ یعنی ایسے کبھی نہیں ہوسکتا۔ (صفوۃ التفاسیر) ۔ یعنی ایسا نہیں ہونے کا بلکہ یہ اس شخص کی یونہی خواہ مخواہ کی باتیں ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل جائیں گے اور ہماری…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–52

سیدنا نوح، موسیٰ ، ہارون، عیسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے حالات تشریح : ان آیات میں اولوالعزم اور انتہائی فضیلت والے انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات کا ذکر فرما کر اہل مکہ کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی تمہاری طرح کے نافرمان لوگ گزر چکے ہیں۔ تو ان کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی ان پیغمبروں کی پریشانیوں اور آزمائشوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں یا سرداران قریش آپ کی شخصیت اور نبوت پر اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تمام قومیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے اور ان کے سرداروں نے اپنی سرداری اور اپنے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–50

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف تو ان میں سے بھی سرداران قوم جن پر اللہ جل جلالہ کے احسانات دوسروں کی نسبت زیادہ تھے اور جو دنیا میں بہت مزے سے تھے حتی کہ اپنی عیش میں آخرت کو یوں بھولے کہ اس کا انکار کردیا ، کہنے لگے یار یہ بھی تو ایک بندہ بشر ہی ہے ویسے ہی زندگی کی ضروریات اس کی ہیں جیسے کسی دوسرے بشر کی کھاتا پیتا ہے ۔ (بندہ اور اللہ کا بندہ) اب بھلا تم اپنے جیسے بندے کی اطاعت کرو گے یہ تو بڑی گھاٹے کی بات ہے یعنی بندے کو انہوں نے اوصاف بشریت سے پرکھا حالانکہ یہ تو سب میں یکساں ہوتی ہیں بندے کی پرکھ تو اس کی وفا ہے کہ وہ کس سے وابستہ اور کس کا بندہ ہے ، خواہشات کا ، دنیا کا یا اللہ کا بندہ کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 35–37

2 ۔ یعنی کونسی آخرت اور کہاں کا حساب کتاب :۔ ایں خیال است و محال است و جنوں۔ جو کچھ مرنا جینا ہے بس اسی دنیا کا ہے اگلے مرتے جاتے ہیں اور پچھلے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ یہ کارخانہ عام اسی طرح جاری رہا ہے اور اسی طرح جاری رہے گا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(23:37) ان۔ نافیہ ہے۔ مبعوثین۔ اسم مفعول جمع مذکر مجرور ۔ اٹھائے جانے والے۔ دوبارہ زندہ کئے جانے والے۔ یعنی ہمیں دوبارہ زندہ نہیں اٹھایا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 33–44

لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 44 : لقائ (ملاقات۔ حاضری) ‘ اترفتا (ہم نے عیش و آرام کیا) ‘ ایعدکم (کیا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے) ‘ تراب (مٹی) ‘ ھیھات (بیعد ہے۔ دور ہے) ‘ حیاتنا (ہماری زندگی) ‘ نموت (ہم مرجاتے ہیں) ‘ نحیا (ہم زندہ رہتے ہیں) ‘ مبعوثین (اٹھائے جانے والے) ‘ افتری (جھوٹ باندھا) ‘ یصبحن (وہ رہ جائیں گے۔ وہ ہوجائیں گے) ‘ نادمین (شرمندہ) ‘ الصیحۃ (چنگھاڑ) ‘ غثائ (کوڑا۔ کباڑ) ‘ ماتسبق (نہیں آگے بڑھتی) ‘ اجل (مدت) ‘ تترا (مسلسل ایک کے بعد دوسرا) ‘ احادیث (باتیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 33 تا 44 : حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی نافرمان قوم کے بھیانک انجام کے بعدان آیات میں کسی نبی یا رسول کا نام…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 32–41

قوم ثمود اور دیگرقوموں کا ذکر اور تنبیہ۔ (ف 1) اس سے پہلے سورة الاعراف اور سورة ہود میں تمام قصے مفصل بیان ہوچکے ہیں یہاں پر مختصر طور پر بیان فرمایا کہ جب اونٹنی کا معجزہ دیکھنے کے بعد بھی ان لوگوں نے یہ سرکشی کی باتیں نہیں چھوڑی اور اونٹنی کو ہلاک کردیا تو صالح (علیہ السلام) نے مددغیبی کی دعا کی ، اور ان کی دعا قبول ہوکر یہ جواب ملا کہ اب تھورے دنوں میں ان لوگوں کے پچھتانے کا وقت آتا ہے پھر اس وعدہ کا ظہور یہ ہوا کہ اونٹنی کی ہلاکت کے تین روز کے بعد ایک سخت چنگھاڑ کے صدمہ سے یہ لوگ ہلاک ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 32–37

(ف 2) اس ہلاکت کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد کو خیر و برکت سے نوازا اور وہ ساری دنیا میں پھیل گئے پھر ان ہی میں سے ایک ان میں رسول بھیجا جس نے اسی پیغام کو دہرایا اور وہی نغمہ توحید سنایا ، جس کو اس سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) بارہا سنا چکے تھے ، اور عجیب بات ہے کہ ان کو اسی قسم کے سرداروں سے وہی جواب سننا پڑا ، جو نوح (علیہ السلام) کو دیا گیا تھا ، کہ تم آخر ہماری ہی طرح کے ایک انسان ہو ، تم میں ایسی کون سی خصوصیات ہیں ؟ کہ تمہیں رسول اور پیغمبر جانیں ۔ یہ واقعات اس لئے بیان فرمائے ہیں کہ حضور ﷺ کو معلوم ہوجائے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا پیغام ایک ہے اس کی دعوت ایک ہے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(37) بس زندگی تو یہی ہماری دنیوی زندگی ہے کوئی ہم میں مرتا ہے اور کوئی ہم میں پیدا ہوتا ہے اور ہم کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوکر اٹھنا نہیں یعنی صرف یہی زندگی ہے یہیں مرنا ہے یہیں پیدا ہونا ہے اس زندگی کے بعد کوئی اور زندگی نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

زندگی بس یہی زندگی ہے دوبارہ اٹھائے جانے کی بات فضول ہے : 37۔ منکرین قیامت کا یہ جملہ قرآن کریم میں بار بار دہرایا گیا ہے کہ زندگی تو بس یہی دنیا کی زندگی ہے یہی ہم مرتے ہیں اور یہیں جیتے ہیں یعنی پہلے مرتے جاتے ہیں اور نئے پیدا ہوتے جاتے ہیں اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا کوئی امکان نہیں ۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ پرانے مکذبین قیامت ہوں یا نئے دونوں ہی قیامت کا انکار کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں کیا بلکہ مجرد اس کے استبعاد کی بنا پر کیا ہے حالانکہ اس سے ہزاروں درجہ مست بعد چیزوں کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ‘ سب کو چھوڑو کیا وہ اپنی زندگی کا راز معلوم کرچکے ہیں کہ وہ کیا ہے اور کیسے ہے ؟…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–41

إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ There is nothing but our worldly life. We die and we live and we are not to be raised again. - 23:37 This is the argument which the unbelievers advance when denying belief in the Day of Judgment. Those who deny it publicly are confirmed infidels, but it is very unfortunate that many Muslims also act in a manner that the same denial can be felt from their deeds and actions. They seem to be totally oblivious of the coming in of the Hereafter. May Allah Ta'ala grant them faith to release themselves from the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 34–40

36. Some commentators have wrongly opined that the chiefs exchanged these remarks against the Messenger between themselves. These remarks in fact were addressed to the common people. When the chiefs felt that the message was spreading among the common people and there was a real danger that they would be influenced by the pure character of the Messenger and that their superiority then would automatically come to an end, they began to delude them by raising such objections against him. It is worth while to note that both the chiefs of the people of Noah and the chiefs of the people of Aad…

Read the full tafseer →