Explained with ayahs 31–41
عادوثمود کا تذکرہ
اللہ تعالیٰ بیان فرتا ہے کہ حضرت نوح ؑ کے بعد بھی بہت سی امتیں آئیں جیسے عاد جو ان کے بعد آئی یا ثمود قوم جن پر چیخ کا عذاب آیا تھا۔ جیسے کہ اس آیت میں ہے ان میں بھی اللہ کے رسول ؑ آئے اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی تعلیم دی۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا، مخالفت کی، اتباع سے انکار کیا۔ محض اس بنا پر کے یہ انسان ہیں۔ قیامت کو بھی نہ مانا، جسمانی حشر کے منکر بن گئے اور کہنے لگے کہ یہ بالکل دور از قیاس ہے۔ بعثت ونشر، حشر و قیامت کوئی چیز نہیں۔ اس شخص نے یہ سب باتیں از خود گھڑلی ہیں ہم ایسی فضول باتوں کے مانے والے نہیں نبی ﷺ نے دعا کی اور ان پر مدد طلب کی۔ اسی وقت جواب ملا کہ تیری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
سورة الْمُؤْمِنُوْن 36
بعض لوگوں نے یہ غلط سمجھا ہے کہ یہ باتیں وہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے کرتے تھے۔ نہیں یہ خطاب دراصل عوام الناس سے تھا۔ سرداران قوم کو جب خطرہ ہوا کہ عوام پیغمبر کی پاکیزہ شخصیت اور دل لگتی باتوں سے متاثر ہوجائیں گے۔ اور ان کے متاثر ہوجانے کے بعد ہماری سرداری پھر کس پر چلے گی، تو انہوں نے یہ تقریریں کر کر کے عام لوگوں کو بہکانا شروع کیا۔ یہ اسی معاملے کا ایک دوسرا پہلو ہے جو اوپر سرداران قوم نوح کے ذکر میں بیان ہوا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ خدا کی طرف سے پیغمبری ویغمبری کچھ نہیں ہے، محض اقتدار کی بھوک ہے جو اس شخص سے یہ باتیں کرا رہی ہے۔ یہ فرماتے ہیں کہ بھائیو، ذرا غور تو کرو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
خلاصہ تفسیر
پھر (قوم نوح کے بعد) ہم نے دوسرا گروہ پیدا کیا (مراد عاد ہے یا ثمود) پھر ہم نے ان میں ایک پیغمبر کو بھیجا جو ان ہی میں کے تھے (مراد ہود ؑ یا صالح علیہ السلام) ہیں، ان پیغمبر نے کہا کہ) تم لوگ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا اور کوئی معبود (حقیقی) نہیں، کیا تم (شرک سے) ڈرتے نہیں ہو، اور (ان پیغمبر کی یہ بات سن کر) ان کی قوم میں سے جو رئیس تھے جنہوں نے (خدا اور رسول کے ساتھ) کفر کیا تھا اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا تھا اور ہم نے ان کو دنیوی زندگانی میں عیش بھی دیا تھا کہنے لگے کہ بس یہ تو تمہاری طرح ایک (معمولی) آدمی ہیں (چنانچہ) یہ وہی کھاتے ہیں جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
آیت 36-35
ھیھات کا موقع استعمال اور مفہوم
وعد یعد یہاں ڈرانے کے معنی میں ہے جس طرح الشیطن یعدکم الفقر میں ہے۔ یعنی شیطان تمہیں غریبی سے ڈراتا ہے۔ ھیھات اسم فعل ہے۔ یہ عربی میں مختلف شکلوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس موقع پر بولا جاتا ہے جب کسی چیز کو نہایت مستبعد اور بعید از امکان ظاہر کرنا ہو۔ تکرار کی صورت میں اس کے اندر تاکید اور شدت کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ استقہام یہاں استنکار کے مفہوم میں ہے۔
یعنی وہ بہت تعجب اور حیرت سے کہتے ہیں کہ کیا یہ شخص تمہیں اس بات سے ڈراتا ہے کہ جب تم مر کر اور سڑ گل کر مٹی اور ہڈی بن جائو گے تواز سر نو زندہ کر کے قربوں سے نکالے جائو گے ! یہ ڈراوا جو تمہیں سنایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
ھیھات، جس کے معنی دور کے ہیں، دو مرتبہ تاکید کے لیے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–42
17: یہاں قرآن کریم نے پیغمبر کا نام نہیں لیا، لیکن زیادہ ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت صالح ؑ ہیں جنہیں قوم ثمود کی طرف بھیجا گیا تھا، کیونکہ آگے آیت نمبر 40 میں فرمایا گیا ہے کہ ان کی قوم کو چنگھاڑ سے ہلاک کیا گیا تھا، اور بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ شاید حضرت ہود ؑ مراد ہوں، جنہیں قوم عاد کی طرف بھیجا گیا تھا اور چنگھاڑ سے مراد ہوا کا عذاب ہے جس کے ساتھ یقیناً خوفناک آواز بھی ہوگی، ان دونوں کے واقعات سورة اعراف (7۔ 65 تا 73) اور سورة ہود (11۔ 50 تا 61) میں گزرچکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
ثم انشانا ۔۔۔۔ للقوم الطلمین (آیات نمبر 31 تا 41)
اس سورة میں قصص نہ محض قصہ گوئی کے لیے لائے گئے ہیں اور نہ ان کی تفصیلات دی گئی ہیں ، بلکہ یہاں مقصد یہ بتا تا ہے کہ تمام پغمبروں نے ایک ہی دعوت پیش کی اور تمام رسولون کی اقوام نے ان کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بات کی ابتداء حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے سے کی گئی اور انجام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر ہوا۔ جبکہ خطاب رسول آخر زمان کو تھا۔ رسولوں کے طویل سلسلے کے نام یہاں نہیں دیئے گئے کیونکہ تمام رسولوں کا معاملہ دراصل ایک ہی جیسا تھا ، مقصد یہ تھا کہ ان کا کلمہ ایک ہی تھا ، ان کی دعوت ایک تھی اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
8 یعنی کس قدر بعید ازعقل بات کہتا ہے کہ ہڈیوں کے ریزے مٹی کے ذرات میں مل جانے کے بعد پھر قبروں سے آدمی بن کر اٹھیں گے ؟ ایسی مہمل بات ماننے کو کون تیار ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
آیت 34 وَلَءِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَکُمْلا اِنَّکُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ ”
ذرا ان سرداروں کی منطق اور دلیل ملاحظہ ہو۔ یعنی اگر تم لوگ ہماری اطاعت کرو تو درست اور بجا ‘ لیکن اس شخص کا کہنا مانو تو ناقابل قبول ! اس لیے کہ ہم پیدائشی سردار ہیں ‘ تمہارے حکمران ہیں ‘ ہمارا حکم تو تمہیں ماننا ہی ماننا ہے۔ ہماری اطاعت تو تم پر لازم ہے ہی ‘ مگر اس شخص کی اطاعت اس لیے نہیں ہوسکتی کہ یہ تمہاری طرح کا انسان ہے۔ یہ دلیل دیتے ہوئے وہ بھول گئے کہ وہ خود کوئی فرشتے نہیں بلکہ اپنے عوام جیسے ہی انسان ہیں اور انسان ہوتے ہوئے ہی وہ اپنے جیسے انسانوں سے اطاعت اور فرمانبرداری کی توقع رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
40 حالانکہ وہ خود بھی ایک عام انسان ہی تھے۔ اور عام لوگوں کی طرح کھاتے پیتے تھے۔ اس کے باوجود وہ عوام کے مطاع بنے ہوئے تھے اور چاہتے تھے کہ عوام ان کی اطاعت کریں۔ ان کا یہ پروپیگنڈا اس لئے نہ تھا کہ انسان مطاع نہیں بن سکتا۔ بلکہ صرف اس لئے تھا کہ کہیں لوگ نبی کی دعوت قبول کرکے ہماری اطاعت کو ترک کرکے اس کی اطاعت نہ کرنے لگ جائیں۔ گویا اصل خطرہ انھیں سرداروں کا تھا اور ان کے لئے تو یہ واقعی خسارہ کی بات تھی۔ لیکن لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ نبی کی اطاعت کرکے تم خسارہ میں رہو گے۔ گویا بشر ہونے کے باوجود ان کی اپنی اطاعت میں خسارے کی بات ان کے نزدیک خارج از بحث تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
35۔ مادیت ودہریت کا پورا فلسفہ ان سطروں میں آگیا۔ دین صحیح کے داعی کا اصلی کام انہیں خیالات و عقائد پر ضرب کاری لگانا ہے اور یہی خیالات و عقائد نام اور اصطلاحیں بدل بدل کر ہر ملک میں منکرین ومکذبین کی زبان سے ظاہر ہوا کئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
آیت نمبر 33 تا 50
ترجمہ : اور ان کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے کفر کیا تھا اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تھا یعنی اس کی طرف رجوع کرنے کو اور ہم نے ان کو دنیوی زندگانی میں خوشحالی عطا کی تھی یعنی انعامات سے نوازا تھا کہنے لگے بس یہ تو تمہاری طرح ایک آدمی ہے وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو واللہ اگر تم اپنے جیسے ایک آدمی کے کہنے پر چلنے لگو تو بیشک تم سخت خسارے والے ہو، یعنی نقصان اٹھانے والے ہو کیا یہ شخص تم سے یہ کہتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو تم نکالے جاؤ گے مخرجون أنّکم اولیٰ کی خبر ہے اور ثانی أنّکم پہلے أنکم کی تاکید ہے اِنَّ کے اسم اور…
Read the full tafseer →ہیہات ہیہات لما تو عدون۔ بہت ہی بعید اور بہت ہی بعید (از عقل) ہے جو بات تم سے کہی جا رہی ہے
(اور جس سے تم کو ڈرایا جا رہا ہے)
لِمَا تُوْعَدُوْنَ مبتدا محذوف کی خبر ہے (یعنی سچائی یا عقل سے) یہ دوری اس چیز کی ہے جو تم سے کہی جا رہی ہے۔ یا لام زائد ہے اور مَا تُوْعَدُوْنَ ۔ ہَیْہَاتَکا فاعل ہے (اور ہیہات بمعنی ماضی ہے) بعض کے نزدیک ہیہات مصدر ہے یعنی دوری ہے اس بات کی جو تم سے کہی جا رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
(35۔ 36) کیا یہ رسول تم سے یہ کہتا ہے کہ جب مرجاؤ گے اور مر کر مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو پھر مرنے کے بعد تم دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے، یہ ناممکن ہے ایسا نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ : ”هَيْهَاتَ“ اسم مبنی جامد غیر مشتق ہے۔ اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ فعل ماضی ”بَعُدَ“ (دور ہوا) کے معنی میں ہے۔ ”مَا تُوْعَدُوْنَ“ اس کا فاعل ہے اور لام فاعل کے بیان اور وضاحت کے لیے ہے۔ معنی ہوگا : ”دور ہے، دور ہے وہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔“ زجاج نے اپنی تفسیر میں فرمایا اور زمخشری نے بھی اسی بات کو پسند کرنے کا اشارہ فرمایا ہے کہ یہ مصدر ”بُعْدٌ“ (دوری) کے معنی میں ہے۔ معنی یہ ہوگا کہ ”دوری ہے، دوری ہے اس کے لیے جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔“ اس صورت میں لام کا معنی سمجھنے میں مشکل پیش نہیں آتی، میں نے اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔ مطلب یہ کہ مٹی اور…
Read the full tafseer →آیت نمبر 36 ۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ھیھات یہ بعد کے لئے ہے گویا انہوں نے کہا : جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ بعید ہے، جو یہ دوبارہ اٹھنے کا ذکر کرتے ہیں یہ نہیں ہوگا۔ ابو علی نے کہا : یہ فعل کے قائم مقام ہے۔ یعنی بعد ماتوعدون جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ بعید ہے۔ ابن الانباری نے کہا : ھیھات ھیھات میں دس لغات ہیں۔ ھیھات لک۔ تاء کے فتحہ کے ساتھ، یہ جماعت کی قرأت ہے۔ ھیھات لک تاء کے کسرہ کے ساتھ، ابو جعفر بن قعقاع سے مروی ہے۔ ھیھات لک تاء کے کسرہ اور تنوین کے ساتھ عیسیٰ بن عمر سے مروی ہے۔ ھیھات لک تاء کے رفع کے ساتھ۔ ثعلبی نے کہا : نصر بن عاصم اور ابو العالیہ نے اس طرح پڑھا ہے۔ اور ھیھات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
1۔ ابن جریر وابن المنزر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ہیہات ہیہات “ یعنی بہت دور بہت دور ہے دوبارہ زندہ ہونا)
2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ہیہات ہیہات لما تو عدون “ سے مراد ہے وہ اس کام کو دلوں میں بہت دور کی بات سمجھتے تھے۔ یعنی موت کے بعد دوبارہ اٹھنے کو۔
Read the full tafseer →[ هَيْهَاتَ : دور ہے ] [ هَيْهَاتَ : دور ہے ] [ لِمَا : جس کا ] [ تُوْعَدُوْنَ : تم سب وعدہ دیئے جاتے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–43
حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد ایک دوسرے نبی کی بعثت اور ان کی قوم کی تکذیب اور ہلاکت
حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد زمین میں بسنے والے قوموں کی ہدایت کے لیے کثیر تعداد میں اللہ تعالیٰ کے رسول آئے، مذکور بالا آیات میں ایک رسول اور ان کی امت کی تکذیب کا پھر چیخ سے ہلاک ہونے کا تذکرہ ہے، مفسرین نے فرمایا ہے کہ ان سے حضرت ھود یا حضرت صالح ( علیہ السلام) کے واقعے مراد ہیں۔ پہلے قول کو اس اعتبار سے ترجیح معلوم ہوتی ہے، کہ سورة اعراف اور سورة ھود اور سورة شعراء میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ کے بعد ہی حضرت ھود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا تذکرہ فرمایا ہے اور اگر اس بات کو دیکھا جائے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
قصہ قوم عاد یا قوم ثمود
قال اللہ تعالیٰ ثم انشانا من بعدھم قرنا اخرین .... الیٰ .... فبعدا للقوم الظلمین۔
(ربط) ان آیات میں بھی امم سابقہ قصہ بیان کرتے ہیں۔ مگر ان آیات میں اس بات کا ذکر نہیں کہ یہ کسی نبی اور کسی قوم کا ذکر ہے بعض کہتے ہیں کہ ہود (علیہ السلام) کا ذکر ہے اور بعض کہتے ہیں کہ قوم ثمود (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر ہے۔ یہ قصے پہلے گزر چکے ہیں جن کے مطالب واضح ہیں، چناچہ فرماتے ہیں پھر ہم نے قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد ابتلا اور آزمائش کے لیے دوسری قوم کو پیدا کیا۔ بعض کہتے ہیں کہ قوم عاد مراد ہے اور بعض کہتے ہیں کہ قوم ثمود مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
34:۔ ” اَیَعِدُکُمْ الخ “ یہ بھی رؤساء مشرکین کا مقولہ ہے۔ ” اَیَعِدُکُمْ “ ای ایقول لکم یعنی وہ (ہود علیہ السلام) یہ بھی کہتا ہے کہ جب تم مر کر مٹی ہوجاؤ گے اور تمہاری ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو تمہیں پھر دوبارہ قبروں سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔ ” ھیھات “ اسم فعل ہے بمعنی ماضی ای بعد اور لام زائدہ ہے اور ھیھات کا تکرار تاکید تاکید کے لیے ہے (بحر، روح) یعنی جس چیز کا تمہیں وعدہ دیا جا رہا ہے وہ بہت ہی بعید بات ہے اس کا وقوع ناممکن ہے امام زجاج کی تفسیر سے اس کا مصدر ہونا معلوم ہوتا ہے۔ قال الزجاج البعد لما توعدون اور بعد لما توعدون اور بعد لما توعدون (بحر ج 6 ص 405) ۔ اس صورت میں لام زائدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
ربط آیت :
گزشتہ دروس میں پہلے توحید باری تعالیٰ کے عقلی دلائل پیش کیے گئے اور پھر نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا۔ انہوں نے بھی لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دی اور فرمایا یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ ، اے میری قوم کے لوگو ! اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ کافروں نے نوح (علیہ السلام) پر یہ اعتراض کیا کہ یہ تو ہمارے جیسا انسان ہے ، بھلا ہم اس کو اللہ کا رسول کیسے تسلیم کرلیں انہوں نے آپ کی بات سننے کی بجائے آپ کو ہر طرح سے تنگ کیا۔ نوح (علیہ السلام) نے طویل عرصہ تک تبلیغی جدوجہد کے بعد اللہ تعالیٰ سے نجات کی درخواست کی تو اللہ نے کشتی بنانے اور اس میں ہر…
Read the full tafseer →ہَيْہَاتَ ہَيْہَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ 36۠ۙ
هيهات
هَيْهَاتَ كلمة تستعمل لتبعید الشیء، يقال : هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ ، وهَيْهَاتاً ، ومنه قوله عزّ وجلّ : هَيْهاتَ هَيْهاتَ لِما تُوعَدُونَ [ المؤمنون/ 36] قال الزجاج : البعد لما توعدون «1» ، وقال غيره : غلط الزجاج واستهواه اللام، فإن تقدیره بعد الأمر والوعد لما توعدون . أي : لأجله، وفي ذلک لغات : هَيْهَاتَ وهَيْهَاتِ وهَيْهَاتاً وهَيْهَا، وقال الفسويّ «2» : هَيْهَاتِ بالکسر، جمع هَيْهَاتَ بالفتح .
ھیھات یہ کلمہ کسی چیز کے بعید ازقیاس ہو نیکو کو بتانے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس میں ھیھات ھیھات اور ھیھاتا تین لغت ہیں اور اسی سے قرآن پاک میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–43
جس پر ان کی قوم کے سردار جو آخرت کے منکر اور کافر تھے اور اللہ نے ان کو دنیا میں ثروت و دولت بھی دی تھی (کیونکہ ایسی باتیں دنیا دار دولتمند ہی غرور میں آکر کیا کرتے ہیں) وہی بیہودہ شبہات کرنے لگے کہ یہ رسول ہمارے جیسا ہے ‘ جس طرح ہم کھاتے ہیں پیتے ہیں یہ بھی اسی طرح اور وہی چیزیں کھاتا پیتا ہے۔ پھر ایسے شخص کے حکم پر چلنا جو ہم جیسا انسان ہے خرابی میں پڑنا ہے۔ (ان حمقاء نے رسول کو یہ سمجھا تھا کہ وہ نوع انسانیت سے علیحدہ کوئی اور ہی طرح کا ہونا چاہیے) اور یہ جو کہتا ہے کہ مر کر اور بوسیدہ ہو کر بھی لوگ زندہ ہوں گے تو یہ بہت بعید بات ہے صرف دنیا ہی کی موت اور زندگی ہے یہ جھوٹا آدمی ہے اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
اَیَعِدُکُمْ اَنَّکُمْ اِذَا مِتُّمْ وَکُنْتُمْ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّکُمْ مُّخْرَجُوْنَ ۔ ھَیْھَاتَ ھَیْھَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ ۔ اِنْ ھِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنُیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ ۔ (المومنون : 35 تا 37)
کیا وہ تمہیں اس بات سے ڈراتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو پھر تمہیں قبروں سے نکالاجائے گا۔ عقل سے بعید ہے بالکل بعید، یہ ڈراوا، جو تمہیں سنایا جارہا ہے۔ زندگی تو بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے یہیں ہم مرتے ہیں اور یہیں ہم جیتے ہیں، اور ہم ہرگز اٹھائے جانے والے نہیں۔ )
” وَعَدَ “ ،” یَعِدُ “ کا ایک معنی ہوتا ہے ” وعدہ کرنا “ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کو جھٹلانے والے لوگوں کی فرسودہ دلیل :
قیامت کا انکار کرنے والے ہمیشہ سے یہ دلیل دیتے آئے ہیں کہ جب انسان کا جسم گل سڑ جائے گا تو پھر اسے کس طرح زندہ کیا جاسکتا ہے ؟ یہی بےہودہ اور فرسودہ دلیل حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم اور اس کے سردار دیا کرتے تھے۔ لیڈر اپنی قوم کو پھسلانے اور ورغلانے کے لیے کہتے تھے کہ ھود (علیہ السلام) تمہیں مرنے کے بعد زندہ ہونے کا وعدہ دیتا ہے کہ جب تم مرکھپ جاؤ گے اور تمہاری ہڈیاں مٹی کے ساتھ مٹی بن جائیں گی۔ اس کے باوجود ” اللہ “ تمہیں زندہ کرے گا۔ ھود کی یہ بات عقل کے خلاف اور بعید از قیاس ہے۔ دنیا میں مرنا جینا تو رہتا ہے لیکن ہم دوبارہ…
Read the full tafseer →کفار کا استبعادِ قیامت :
36: ھَیْہَاتَ ھَیْہَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ (بہت ہی بعید ہے اور بہت بعید جو بات تم سے کہی جارہی ہے)
قراءت : یزید نے ھیھات تاؔ ء کے کسرہ اور تنوین سے پڑھا ہے اور کسائی نے ہائؔ پر وقف کیا جبکہ دیگر نے تائؔ پر وقف کیا۔
نحو : ھیھاتیہ اسم فعل ہے بعد کا معنی دیتا ہے اس کی فاعل مضمر ہے۔ ای بَعُدالتصدیق یابَعُد الوقوع۔ قیامت کی تصدیق بہت بعید ہے یا وقوع بہت بعید ہے۔ ماتوعدونؔ سے عذاب مراد ہے۔ یا اس کا فاعل ماتوعدون ہے اور لماؔ کی لامؔ زائدہ ہے ای بعد ماتوعدون من البعث بہت دور ہے وہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی بعث۔
Read the full tafseer →36۔ ھیھات ھیھات لماتوعدون، ابن عباس نے فرمایا کہ یہ بمعنی بعد کے ہے۔ یہ بہت دور ہے۔ ھیھات ھیھات ، تاء کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ نصر بن عاصم نے اس کو ضمہ کے ساتھ پـڑھا ہے اس میں ساری لغات صحیح ہیں۔ یہ این اور کیف کی طرح اور جنہوں نے اس کو فع کے ساتھ پڑھا ہو تو وہ کہتے ہیں کہ وہ مثل منذ وقط اور حیث کی طرح ہے۔ اور جو حضرات اس کو کسرہ پڑھتے ہیں وہ اس کو امس اور ھولاء کی طرح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
31۔ 41:۔ پچھلی امتوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے جو قرآن شریف میں فرمایا ہے اس سے اور صحیح حدیثوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہمیشہ سے انبیاء کے فرمانبردار اکثر غریب لوگ ہوتے رہے ہیں اور مالدار لوگوں کو اپنے مال ومتاع اور اپنی سرداری کا ایک طرح کا غرور ہو کر وہی انبیاء سے جھگڑے کرتے رہے ہیں ہمیشہ سے یہ طریقہ جاری رہتے رہتے ایسا عام ہوگیا تھا کہ لوگ رسول وقت کے سچے نبی ہونے کی دلیل اس بات کو قرار دینے لگے تھے کہ اللہ کے رسول کو اور ان کے فرمانبرداروں کو تنگ دست نہیں ہونا چاہیے لیکن یہ ایک غلط بات مشہور ہوگئی تھی ‘ کیونکہ صحیح بخاری میں ابوسفیان ؓ والی حدیث 1 ؎ جو ہے ‘ اس میں ہرقل نے جہاں اور نشانیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–49
(آیت نمبر 31)
نوح علیہ اسلام اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ثمہ انشانا من بعدھم قرناً اخرین) ، ، پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔ ، ، بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح علیہ اسلام کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ (فارسلنا فیھمہ رسولاً منھم) ، ، پس ان کے اندر انہی میں سے (یعنی انہی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا، ، جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انہیں پورا علم تھا۔۔۔ تاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–59
نمازوں کی محافظت
قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
47 کفار کا پیغمبر سے استہزاء و انکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پیغمبر کی قوم کے ان کھڑپینچوں نے اپنے لوگوں کو پیغمبر سے بد ظن اور متنفر کرنے کے لیے ان سے کہا کہ کیا یہ شخص تم لوگوں سے ایسی انہونی بات کرتا ہے کہ جب تم لوگ مر کر اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جاؤ گے اور تمہاری ہستی بالکل مٹ جائے گی تو اس کے بعد تم کو نئے سرے سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔ سو استفہام یہاں پر انکار واستبعاد کے لیے ہے۔ یعنی ایسے کبھی نہیں ہوسکتا۔ (صفوۃ التفاسیر) ۔ یعنی ایسا نہیں ہونے کا بلکہ یہ اس شخص کی یونہی خواہ مخواہ کی باتیں ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل جائیں گے اور ہماری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–52
سیدنا نوح، موسیٰ ، ہارون، عیسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے حالات
تشریح : ان آیات میں اولوالعزم اور انتہائی فضیلت والے انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات کا ذکر فرما کر اہل مکہ کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی تمہاری طرح کے نافرمان لوگ گزر چکے ہیں۔ تو ان کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی ان پیغمبروں کی پریشانیوں اور آزمائشوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں یا سرداران قریش آپ کی شخصیت اور نبوت پر اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تمام قومیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے اور ان کے سرداروں نے اپنی سرداری اور اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
تو ان میں سے بھی سرداران قوم جن پر اللہ جل جلالہ کے احسانات دوسروں کی نسبت زیادہ تھے اور جو دنیا میں بہت مزے سے تھے حتی کہ اپنی عیش میں آخرت کو یوں بھولے کہ اس کا انکار کردیا ، کہنے لگے یار یہ بھی تو ایک بندہ بشر ہی ہے ویسے ہی زندگی کی ضروریات اس کی ہیں جیسے کسی دوسرے بشر کی کھاتا پیتا ہے ۔
(بندہ اور اللہ کا بندہ)
اب بھلا تم اپنے جیسے بندے کی اطاعت کرو گے یہ تو بڑی گھاٹے کی بات ہے یعنی بندے کو انہوں نے اوصاف بشریت سے پرکھا حالانکہ یہ تو سب میں یکساں ہوتی ہیں بندے کی پرکھ تو اس کی وفا ہے کہ وہ کس سے وابستہ اور کس کا بندہ ہے ، خواہشات کا ، دنیا کا یا اللہ کا بندہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
2 ۔ یعنی کونسی آخرت اور کہاں کا حساب کتاب :۔ ایں خیال است و محال است و جنوں۔ جو کچھ مرنا جینا ہے بس اسی دنیا کا ہے اگلے مرتے جاتے ہیں اور پچھلے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ یہ کارخانہ عام اسی طرح جاری رہا ہے اور اسی طرح جاری رہے گا۔
Read the full tafseer →(23:36) ھیھات۔ کلمہ بعد ہے۔ نہایت ہی بعید ہے ھیھات ھیھات بہت ہی بعید ہے۔ بہت ہی بعید ہے (وہ بات جو تم سے کہی جارہی ہے ۔ جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔ یعنی بعث بعد الموت موت کے بعد دوبارہ اٹھنا)
ھیھات ای بعد وقوع ذلک الموعود (یعنی بہت دور کی بات ہے اس قیامت موعود کا وقوع پذیر ہونا۔ گویا ھیھات اسم فعل بمعنی ماجی ہے۔ اور اس کا تکرار تاکید بعد کے لئے آیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 44 :
لقائ (ملاقات۔ حاضری) ‘ اترفتا (ہم نے عیش و آرام کیا) ‘ ایعدکم (کیا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے) ‘ تراب (مٹی) ‘ ھیھات (بیعد ہے۔ دور ہے) ‘ حیاتنا (ہماری زندگی) ‘ نموت (ہم مرجاتے ہیں) ‘ نحیا (ہم زندہ رہتے ہیں) ‘ مبعوثین (اٹھائے جانے والے) ‘ افتری (جھوٹ باندھا) ‘ یصبحن (وہ رہ جائیں گے۔ وہ ہوجائیں گے) ‘ نادمین (شرمندہ) ‘ الصیحۃ (چنگھاڑ) ‘ غثائ (کوڑا۔ کباڑ) ‘ ماتسبق (نہیں آگے بڑھتی) ‘ اجل (مدت) ‘ تترا (مسلسل ایک کے بعد دوسرا) ‘ احادیث (باتیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 33 تا 44 :
حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی نافرمان قوم کے بھیانک انجام کے بعدان آیات میں کسی نبی یا رسول کا نام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–41
قوم ثمود اور دیگرقوموں کا ذکر اور تنبیہ۔
(ف 1) اس سے پہلے سورة الاعراف اور سورة ہود میں تمام قصے مفصل بیان ہوچکے ہیں یہاں پر مختصر طور پر بیان فرمایا کہ جب اونٹنی کا معجزہ دیکھنے کے بعد بھی ان لوگوں نے یہ سرکشی کی باتیں نہیں چھوڑی اور اونٹنی کو ہلاک کردیا تو صالح (علیہ السلام) نے مددغیبی کی دعا کی ، اور ان کی دعا قبول ہوکر یہ جواب ملا کہ اب تھورے دنوں میں ان لوگوں کے پچھتانے کا وقت آتا ہے پھر اس وعدہ کا ظہور یہ ہوا کہ اونٹنی کی ہلاکت کے تین روز کے بعد ایک سخت چنگھاڑ کے صدمہ سے یہ لوگ ہلاک ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–42
[20] غالباً اس سے مراد قوم عاد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
(ف 2) اس ہلاکت کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد کو خیر و برکت سے نوازا اور وہ ساری دنیا میں پھیل گئے پھر ان ہی میں سے ایک ان میں رسول بھیجا جس نے اسی پیغام کو دہرایا اور وہی نغمہ توحید سنایا ، جس کو اس سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) بارہا سنا چکے تھے ، اور عجیب بات ہے کہ ان کو اسی قسم کے سرداروں سے وہی جواب سننا پڑا ، جو نوح (علیہ السلام) کو دیا گیا تھا ، کہ تم آخر ہماری ہی طرح کے ایک انسان ہو ، تم میں ایسی کون سی خصوصیات ہیں ؟ کہ تمہیں رسول اور پیغمبر جانیں ۔
یہ واقعات اس لئے بیان فرمائے ہیں کہ حضور ﷺ کو معلوم ہوجائے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا پیغام ایک ہے اس کی دعوت ایک ہے…
Read the full tafseer →(36) جس بات سے تم کو ڈرایا جارہا ہے وہ بہت ہی بعید اور بہت ہی بعید ہے یعنی مرجانے اور مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ زندگی کا وعدہ بت ہی بعید اور دور از قیاس چیز ہے۔ بھلا ایسی بعید از قیاس بات کہنے والا بھی اس قابل ہے کہ اس کو مطاع اور واجب الاطاعت بنایا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
ف 1۔ یعنی بڑی بیوقوفی ہے۔
Read the full tafseer →یہ بعید از عقل باتیں جو تمہارا رسول تم سے بیان کرتا ہے :
36۔ (ھیھات) کلمات تعجب میں سے ایک کلمہ ہے جو تعجب کو دور کرنے کے لئے از راہ نفرت و حقارت استعمال کیا جاتا ہے جیسے ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ ” چھوڑو یار ایسی باتوں کو جن کا سر ہے نہ پیر “ گویا وہ اس تعجب وحیرت کو دور کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ یہ شخص تم کو اس بات سے ڈراتا ہے کہ تم مر کر مٹی اور ہڈیاں بن جانے کے بعد دوبارہ از سر نو زندہ کرکے نکالے جاؤ گے یہ ڈراوے جو تم کو دے رہا ہے یہ نہایت ہی بعید از عقل اور بعید از امکان بات ہے جو اس نے اپنی جنون کے باعث تم سے کہی ہے بھلا کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کوئی جا کر آیا بھی ہے یہ تو محض اپنے جال میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
In the earlier verses the story of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) was told who was sent to his people to guide them along the path of righteousness and the following verses contain a brief account of some other prophets without mentioning their names and the people for whose guidance they were sent. From certain references and allusions the commentators have concluded that the verses refer to Sayyidna Hud (علیہ السلام) or Sayyidna Salih (علیہ السلام) who were sent for the guidance of the tribes of 'Ad and Thamud respectively. In the present story both these tribes are reported to have perished as…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
36. Some commentators have wrongly opined that the chiefs exchanged these remarks against the Messenger between themselves. These remarks in fact were addressed to the common people. When the chiefs felt that the message was spreading among the common people and there was a real danger that they would be influenced by the pure character of the Messenger and that their superiority then would automatically come to an end, they began to delude them by raising such objections against him. It is worth while to note that both the chiefs of the people of Noah and the chiefs of the people of Aad…
Read the full tafseer →