Al-Muminoon 23:102

Al-Muminoon · from ayah 102

23:102

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۟فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ

تو جن کے (عملوں کے) بوجھ بھاری ہوں گے۔ وہ فلاح پانے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And those whose scales are heavy [with good deeds] - it is they who are the successful.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:102

اُس وقت جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو جن کے (عملوں کے) بوجھ بھاری ہوں گے۔ وہ فلاح پانے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جن کی ترازو کا پلہ بھاری ہوگیا وه تو نجات والے ہوگئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس وقت جن کے پلڑے بھاری نکلے تو وہی ہوں گے جو فلاح پائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو جن کی تولیں بھاری ہولیں وہی مراد کچھ پہنچے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس جن کے پلڑے (زیادہ اعمال کے باعث) بھاری ہوں گے تو وہی لوگ کامیاب و کامران ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر وہ شخص جس کے پلڑے بھاری ہوگئے تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس دن حق کے پلڑے بھاری ہوں گے تو وہ کامیاب ہوں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور نہ وہ ایک دوسرے سے طالب مدد ہوں گے۔ پس جن کے پلے بھاری ہوں گے وہی لوگ فلاح پانے والے ہوں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر جس کے ایمان و اعمال صالحہ کا پلڑا بھاری ہوگا تو وہی لوگ ہوں گے فلاح پانے والے

— مولانا اسحاق مدنی

البتہ جس کسی کا پلہ بھاری ہوگا تو ایسے ہی لوگ تو کامیاب ہوں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو جن کے (نیک اعمال کے) پلڑے بھاری ہوں گے تو وہی فلاح پانے والے ہوں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو جن کے وزن بھاری ہوں گے وہ فلاح پانے والے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

It will be an Hour when those whose scales are heavy, they alone will attain success;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, the one whose scales (of good deeds) turn out to be heavy, then such people are the successful ones,

— Muhammad Taqi Usmani

So, the one whose scales (of good deeds) turn out to be heavy, then such people are the successful ones,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then, those whose Scales (of good deeds) are heavy, these! they are the successful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then those whose scales are heavy, they are the successful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And those whose scales are heavy [with good deeds] - it is they who are the successful.

— Saheeh International

If the side of ones good deeds weighs heavier on a scale, he will have everlasting happiness,

— Muhammad Sarwar

Then as for him whose good deeds are preponderant, these are the successful.

— Muhammad Habib Shakir

Then he whose balances shall be heavy --these! they are the blissful ones.

— Abdul Majid Daryabadi

Then those whose balance (of good deeds) is heavy,- they will attain salvation:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:102

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 101–104

قبروں سے اٹھنے کے بعد جب جی اٹھنے کا صور پھونکا جائے گا اور لوگ اپنی قبروں سے زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے، اس دن نہ تو کوئی رشتے ناتے باقی رہیں گے۔ نہ کوئی کسی سے پوچھے گا، نہ باپ کو اولاد پر شفقت ہوگی، نہ اولاد باپ کا غم کھائے گی۔ عجب آپا دھاپی ہوگی۔ جیسے فرمان ہے کہ کوئی دوست کسی دوست سے ایک دوسرے کو دیکھنے کے باوجود کچھ نہ پوچھے گا۔ صاف دیکھے گا کہ قریبی شخص ہے مصیبت میں ہے، گناہوں کے بوجھ سے دب رہا ہے لیکن اس کی طرف التفات تک نہ کرے گا، نہ کچھ پوچھے گا آنکھ پھیرلے گا " جیسے قرآن میں ہے کہ " اس دن آدمی اپنے بھائی سے، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے، اپنی بیوی سے، اور اپنے بچوں سے بھاگتا پھرے گا "…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِنُوْن 95 یعنی جن کے قابل قدر اعمال وزنی ہوں گے۔ جن کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے زیادہ بھاری ہوگا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 102–103

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ، وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ فَاُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ فِيْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَ ، یعنی میزان عمل میں جس شخص کا نیکیوں کا پلہ بھاری ہوگا وہ ہی فلاح پانے والے ہیں اور جس کا پلہ نیکیوں کا ہلکا رہے گا تو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا میں خود اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کیا اور اب وہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہنے والے ہیں۔ اس آیت میں مقابلہ صرف مومنین کاملین اور کفار کا ہے اور انہیں کے وزن اعمال کا اور ان میں سے ہر ایک کے انجام کا ذکر کیا گیا کہ مومنین کاملین کا پلہ بھاری ہوگا ان کو فلاح حاصل ہوگی، کفار کا پلہ ہلکا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 102–104

آیت 104-102 اس دن کسی کا حسب نسب کچھ کام نہیں آئے گا بلکہ صرف اس کا عمل کام آئے گا۔ جن کے پلے بھاری ہوں گے وہ تو کامیاب ہوں گی اور جن کے پلے ہلکے ہوئے وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں رکھا، وہ ہمیشہ ہمیش کے لیء جہنم میں پڑیں گے۔ اس جہنم میں ان کا حال یہ ہوگا کہ آگ ان کے چہروں کو جھلسے گی اور وہ منہ بسوائے ہوئے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 101–103

11-1محشر کی ہولناکیوں کی وجہ سے ابتداء ایسا ہوگا، بعد میں وہ ایک دوسرے کو پہچانیں گے بھی اور ایک دوسرے سے پوچھ گچھ بھی کریں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 101–109

32: دنیا میں رشتہ دار اور دوست ایک دوسرے کے بارے میں یہ پوچھتے رہتے ہیں کہ وہ کس حال میں ہیں۔ قیامت کا منظر اتنا ہولناک ہوگا کہ ہر شخص کو اپنی فکر پڑی ہوگی، اور اسے اتنی فرصت نہیں ہوگی کہ وہ رشتہ داروں اور ملاقاتیوں کا حال معلوم کرے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 102–104

فمن ثقلت۔۔۔۔۔۔ کلحون (102 : 104) یہ کہ تمام اعمال کو ترازو میں تولا جائے گا ‘ یہ بھی قرآن مجید کا ایک مخصوص انداز کلام ہے کہ وہ کسی بھی مفہوم کو حسی انداز میں پیش کرتا ہے تاکہ نہایت ہی مجرد معانی کو ہر شخص سمجھ جائے۔ نیز ان اعمال کے ساتھ ذرادیکھئے کہ ان کے چہروں پر سے آگ گوشت کو چاٹ جائے گی اور وہ اس طرح نظر آرہے ہو نگے جس طرح کسی مردے کے منہ کی ہڈیاں نظر آتی ہیں ‘ دانت نکلے ہوئے۔ یہ لوگ ہیں جن کا میزان اعمال ہلکا ہوگیا ہے۔ یہ ہار گئے ہیں سب کچھ ‘ اپنے نفسوں کو بھی ہار گئے ہیں۔ جب کوئی شخص اپنی جان ہی ہار جائے تو پھر وہ کس چیز کا مالک رہ جاتا ہے۔ اس کی ملکیت میں کیا چیز رہ جاتی ہے۔ وہ اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 102–104

5 جلتے جلتے بدن سوج جائے گا، نیچے کا ہونٹ لٹک کر ناف تک اور اوپر کا پھول کر کھوپڑی تک پہنچ جائے گا، اور زبان باہر نکل کر زمین میں لٹکتی ہوگی جسے دوزخی پاؤں سے روندیں گے (اللہم احفظنا منہ ومن سآئر انواع العذاب)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 102–103

آیت 102 فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ” یہ وہ خوش نصیب لوگ ہوں گے جنہوں نے دنیوی زندگی میں واقعتا اپنی شخصیت کو اپنی روح کے فطری تقاضوں کے مطابق پروان چڑھایا تھا اور اپنی خودی اور سیرت کی تعمیر بھی انہی پاکیزہ بنیادوں پر کی تھی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 101–102

98 جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو یہی دن مردوں کا اپنی قبروں سے جی کر اٹھنے اور اللہ کے حضور حاضر کئے جانے کا دن ہوگا اسی دن کو قیامت کا دن کہا جاتا ہے یہ دن چونکہ ہمارے موجودہ حساب کے مطابق پچاس ہزار برس کا ہوگا۔ لہذا اس مدت میں انسان کو بہت سی قسم کے حالات اور واقعات سے دو چار ہونا پڑے گا۔ اس آیت میں جو کیفیت بیان کی گئی ہے۔ وہ زندہ ہونے کے بعد ابتدائی کیفیت ہے۔ اس وقت دہشت اور ہولناکی اس قدر زیادہ ہوگی کہ ہر ایک کو اپنی اپنی ہی پڑی ہوگی سب رشتہ داریاں بھول جائیں گے۔ پھر جبکہ ہر آدمی اپنے حقیقی رشتہ داروں سے بھی الگ رہنے اور دور بھاگنے کی کوشش کرے گا ایک دوسرے کا حال پوچھتا تو دور کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

92۔ اس روز کام آنے والی چیز صرف ایمان ہوگی، اور اہل ایمان کی شناخت یہ ہوگی کہ ان کے عقائد و اعمال کا پلہ میزان عدل میں بھاری ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 93–118

آیت نمبر 93 تا 118 ترجمہ : آپ دعاء کیجئے کہ اے میرے پروردگار اِمّا اصل میں اِنْ مَا تھا اِنْ شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں ادغام کردیا جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے اگر آپ مجھ کو دکھا دیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجئے کہ میں ان کے ساتھ ہلاک کردیا جاؤں اور وہ وعدہ (غزوہ) بدر میں قتل کے ذریعہ صادق آیا اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو وعدہ ان سے کر رہے ہیں آپ کو دکھلا دیں آپ ان کو بدی یعنی آپ کو ایذا رسانی کا دفعیہ ایسے طریقہ سے کردیا کیجئے کہ جو بہت ہی اچھا ہو یعنی ان سے عفو و درگذر کی خصلت کے ذریعہ اور یہ (عفو و درگذر) کا حکم جہاد کی اجازت سے پہلے کا ہے ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فمن ثقلت موازینہ فاولئک ہم المفلحون۔ سو جس شخص کا (ایمان اور نیکی کا) پلڑہ بھاری ہوگا وہی لوگ کامیاب ہوں گے۔ مَوَازِیْنُموزون کی جمع ہے یعنی (وزن کئے ہوئے) عقائد اور نیک اعمال بھاری ہوں گے۔ بھاری ہونے سے مراد ہے زیادہ ہونا۔ نیکیوں کا گناہوں کے مقابلے میں نیچے کو جھک جانا۔ یا موازین میزان کی جمع ہے (اور میزان کا معنی ہے ترازو) یعنی جس کی ترازو میں نیکیوں کا پلڑہ نیچے کو جھکا ہوگا۔ موازین کو بصیغہ جمع اس لئے ذکر کیا کہ ہر شخص کی (وزن کشی کی) ترازو الگ ہوگی۔ یا تعدد میزان سے مراد وزن کا تعدد ہے۔ الْمُفْلِحُوْنَنجات پانے والے اور درجات پر پہنچنے والے۔ علمائے اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ میزان…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 102–103

(102۔ 103) سو جس شخص کی نیکیوں کا پلہ بھاری ہوگا تو ایسے ہی لوگ غصہ خداوندی اور اس کے عذاب سے دور ہوں گے اور جس کی نیکیوں کا پلہ ہلکا ہوگا سو یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنا نقصان کرلیا اور جہنم میں ہمیشہ کے لیے رہیں گے نہ وہاں موت آئے گی اور نہ یہ اس سے نکالے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 102–103

3 ان دونوں آیات میں قیامت کا ایک اور منظر بیان کیا گیا ہے اور وہ ہے اعمال کا وزن۔ ”مَوَازِیْنُ“ کو جمع لانے سے معلوم ہوتا ہے کہ میزان کئی قسم کے ہوں گے، ہر عمل کے لیے مخصوص ترازو ہوگا۔ ان دونوں آیات میں اہل ایمان کے لیے خوش خبری ہے اور مشرکین کے لیے وعید، کیونکہ اصل وزن ایمان کے ساتھ عمل صالح کا ہوگا، مشرکین کے عمل ویسے ہی باطل ہوں گے، جیسا کہ فرمایا : (وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاۗءً مَّنْثُوْرًا) [ الفرقان : 23 ] ”اور ہم اس کی طرف آئیں گے جو انھوں نے کوئی بھی عمل کیا ہوگا تو اسے بکھرا ہوا غبار بنادیں گے۔“ اور فرمایا : (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 101–103

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاذا نفخ فی الصور اس نسخہ ثانی ہے۔ فلا انساب بینمھم یو میذ و لا یتسآ لو ن۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وہ آخرت میں نہیں پوچھیں گے نسب کے بارے میں جیسے دنیا میں پوچھتے ہیں یعنی تو کس قبیلہ سے ہے ؟ نہ پوچھیں گے کہ کس نسب سے تعلق رکھتا ہے قیامت کی ہولناکی کی وجہ سے وہ ایک دوسرے سے تعارف نہیں طلب کریں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : نہ نفخہ اولی میں ہوگا جب جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہے سب پر غشی طاری ہوجائے گی۔ مگر جسے اللہ چاہے گا (2) ۔ ان کے درمیان اس دن کوئی نسب و رشتہ داری نہ رہے گی اور نہ وہ ایک دوسرے کے متعلق پوچھیں گے پھر اس میں دوسرا صور پھونکا جائے گا۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 101–103

1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” فلا انساب بینہم یومئذ ولا یتساء لون “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب صور پھونکا جائے گا تو کوئی زندہ نہیں بچے گا مگر اللہ عزوجل کی ذات اقدس۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا آیت ” فلا انساب بینہم یومئذ ولا یتساء لون “ یعنی یہ پہلے نفخہ کے وقت ہوگا 3۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا کہ وہ کسی ایک سے سوال کرسکے اس کے نسب کے بارے میں اور نہ اس کی رشتہ داری کے بارے میں ذرا بھی۔ 4۔ ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ کوئی ایک بھی اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ فَمَنْ (پھر جو ][ ثَقُلَتْ (بھاری ہوگئے ][ مَوَازِيْنُهٗ (اس کے پلڑے ][ فَاُولٰۗىِٕكَ (تو وہی لوگ ][ هُمُ (وہ) الْمُفْلِحُوْنَ (سب کامیاب ہونے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 102–103

اس کے بعد قیامت کے دن کی تول کا تذکرہ فرمایا (فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ) (سو جن کی تولیں بھاری ہونگی یعنی نیکیاں وزن دار ہونگی سو یہ لوگ کامیاب ہونگے) (وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ فَاُوْلٰٓءِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْا اَنفُسَہُمْ فِیْ جَہَنَّمَ خٰلِدُوْنَ ) (اور جس کی تولیں ہلکی ہوں گی سو یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنی جانوں کا نقصان کرلیا وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے) وزن اعمال کے بارے میں ضروری تفصیل اور تحقیق سورة اعراف کے پہلے رکوع کی تفسیر میں گزر چکی ہے اس کو دیکھ لیا جائے۔ (انوار البیان جلد دوم)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 93–114

تلقین دعا و آداب تبلیغ و دعوت و ذکر احوال واحوال آخرت برائے تخویف اہل شقاوت قال اللہ تعالیٰ ۔ قل رب اما ترینی ما یوعدون .... الیٰ .... توانکم کنتم تعلمون۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں کفار کے عناد طغیان کا بیان تھا کہ وہ بطور تمسخر یہ کہتے تھے کہ آپ ﷺ کے منکرین پر عذاب کب آئے گا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو ایک مناسب وقت دعا کی تلقین فرماتے ہیں کہ کافروں کی ایذا رسانی اور بدکلامی سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں بلکہ ان کی بدی کا نیکی سے جواب دیں اور یقین رکھیں کہ جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے وہ بدیر یا بسویر ضرور آکر رہے گا اور اس کے بعد قیامت کے احوال اور اہوال بیان کیے کہ اس دن ہماری آیات کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 102–104

78:۔ ” فمن ثقلت الخ “ یہ بشارت اخروی ہے۔ ” و من خفت موازینہ الخ “ یہ تخویف اخروی ہے وہاں نسلی اور خاندانی بڑائی کام نہ آئیگی بلکہ اعمال صالحہ کام آئیں گے۔ جن کے اعمال صالحہ کا پلڑا بھاری ہوگا وہ نجات پائیں گے اور جن کا ہلکا ہوگا وہ خسارے میں رہیں گے اور جہنم میں جائیں گے۔ ” تلفح وجوھم الخ “ جہنم کی آگ دوزخیوں کے چہرے جلا ڈالے گی اور ان کی شکلیں جل کر بدنما اور قبیح ہوجائیں گی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 101–114

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کی تردید فرمائی جو شرک میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ وقوع قیامت کا انکار بھی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وقوع قیامت کے بعد اگر کوئی جزاء سزا کا تصور ہے تو پھر وہ سزا کیوں نہیں دی جاتی ؟ اللہ نے جواب میں فرمایا کہ اکثر بیشتر مجرموں کو دنیا میں مہلت ملتی رہتی ہے اور سزا اپنے مقررہ وقت پر ہی آتی ہے۔ پھر اللہ نے ایسے منکرین کا ذکر کیا کہ جب ان پر اس دنیا کا دور ختم ہوجاتا ہے۔ پردہ غیب اٹھ جاتا ہے اور اگلے جہان کے حالات منکشف ہونے لگتے ہیں تو پھر وہ اللہ کے سامنے تمنا کرتے ہیں کہ انہیں دنیا میں واپس لوٹا دیا جائے ، اب کہ وہ برے کاموں کی بجائے نیک…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 101–102

فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَہُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ۝ 101 نفخ النَّفْخُ : نَفْخُ الرِّيحِ في الشیءِّ. قال تعالی: يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ [ طه/ 102] ، وَنُفِخَ فِي الصُّورِ [ الكهف/ 99] ، ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرى[ الزمر/ 68] ، وذلک نحو قوله : فَإِذا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ [ المدثر/ 8] ومنه نَفْخُ الرُّوح في النَّشْأَة الأُولی، قال : وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي [ الحجر/ 29] ( نخ ) النفخ کے معنی کسی چیز میں پھونکنے کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ [ طه/ 102] ، اور جس دن صور پھونکا جائیگا ۔ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ [ الكهف/ 99] اور جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 102–111

1 ؎ نیک اعمال کا پلہ مراد یہ ہے کہ جس کے نیک اعمال بدعملوں سے زیادہ ہوئے تو ان کو نجات ہے ورنہ جہنم۔ 12 منہ تفسیر …تناسخ کا ابطال : یہاں سے تناسخ کا صریح ابطال ہوگیا اور یہی مسلک تمام انبیاء کا ہے۔ پھر قیامت کی کیفیت ظاہر فرماتا ہے فاذا نفخ فی الصور کہ جس رور صور پھنکے گا تو اس روز نہ انسان کا نسب کام آوے گا جیسا کہ دنیا میں رشتہ کا لحاظ ہوتا ہے کہ یہ فلاں شخص ہے ‘ فلاں کی اولاد ہے ‘ فلاں قوم اور قبیلے کا ہے اونچی ذات کا ہے ‘ شریف خاندانی ہے یا کم قوم پاجی ہے اور نہ کوئی ان باتوں سے پوچھا جائے گا ‘ وہاں تو انسان کے اعمال اور ایمان سے کام پڑے گا فمن ثقلت موازینہ الخ پھر جس کی نیکیوں کا پلہ بدی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 102–104

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ فَـاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ فَـاُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَھُمْ فِیْ جَھَنَّمَ خٰلِدُوْنَ ۔ تَلْفَحُ وُجُوْھَھُمُ النَّارُ وَھُمْ فِیْھَا کٰلِحُوْنَ ۔ (المومنون : 102 تا 104) (پس جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی لوگ فلاح پانے والے ہوں گے۔ اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے تو وہی ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا اور وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ جھلس ڈالے گی ان کے چہروں کو آگ، اور اس میں ان کے منہ بگڑے ہوئے ہوں گے۔ ) قیامت کے دن کامیابی کا ذریعہ یہ تیسرا منظر ہے جس سے قیامت کے دن کفار کو سابقہ پیش آنے والا ہے۔ دنیا میں یہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 102–104

فہم القرآن ربط کلام : عالم برزخ کے بعد لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور ان کا حساب و کتاب ہوگا۔ پہلے صور پھونکے جانے کے بعد نامعلوم لوگ کتنی مدت تک عالم برزخ میں رہیں گے جب اللہ تعالیٰ اسرافیل فرشتے کو دوبارہ صور پھونکنے کا حکم دیں گے تو اس کے صور پھونکنے کے فوراً بعد لوگ برزخ سے عالم وجود میں آجائیں گے اور اس دن کوئی کسی کے ساتھ تعلق قائم نہیں کرسکے گا۔ حالت یہ ہوگی۔ (یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِیہِ ) [ عبس : 34] ” آدمی اس دن اپنے بھائی سے بھاگے گا۔ “ اس حالت میں لوگوں کو معشر کے میدان میں اکٹھا کیا جائے گا جب لوگ اکٹھے ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ پورے جمال اور جلال کے ساتھ جلوہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

102: وَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ (پس جس کے میزان بھاری ہونگے) موازین جمع موزون کی ہے۔ اور یہ تو لے جانے والے اعمال صالحہ ہونگے جن کی قدر و منزلت اللہ تعالیٰ کے ہاں پائی جاتی ہے اور کافروں کے متعلق تو فرمایا : فلا نقیم لھم یوم القیامۃ وزنا ] الکہف : 105[ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (پس وہی کامیاب ہونے والے ہیں)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 101–103

101۔ فاذا نفخ فی الصور فلاانساب بینھم، اس نفخہ کے متعلق مفسرین آئمہ کے مختلف اقوال ہیں۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کیا ہے کہ صور پھونکنے جانے سے مراد اس جگہ پہلانفخہ صور ہے جس کے متعلق ارشاد ہے۔ ونفخ فی الصور ، ،۔۔۔ پھر دوسرا نفخہ صور پھونکاجائے گا، اس وقت سب کھڑے کھڑے دیکھ رہے ہوں گے اور ایک دوسرے کے آمنے سامنے سوال کریں گے۔ ابن مسعود نے فرمایا قیامت کے دن بندے یابندی کا ہاتھ پکڑ کر علی الاعلان سب اگلوں اور پچھلوں کے سامنے کھڑا کیا جائے گا، اور ایک منادی ندا دے گا، یہ فلاں بن فلاں ہے۔ اس کی طرف کسی کا حق ہو تو وہ اپنا حق لینے آجائے۔ اس وقت جس شخص کا اپنے باپ یا بیٹے یابی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 101–104

101۔ 104:۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور عبد اللہ بن مسعود کا اس باب میں اختلاف 1 ؎ ہے کہ ان آیتوں میں پہلے صور کا ذکر ہے یا دوسرے کا۔ رفع اس اختلاف کا یہ ہے کہ یہاں صور کے ذکر کے بعد عملوں کے تولے جانے کا تذکرہ فرمایا ہے اور اس پر سب سلف کا اتفاق ہے کہ عملوں کا تولا جانا دوسرے صور کے بعد ہوگا اس سبب سے عبداللہ بن مسعود کا قول قوی معلوم ہوتا ہے کہ ان آیتوں میں دوسرے صور کا ذکر ہے ترمذی ‘ ابوداؤد کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی صحیح روایت سورة الاعراف میں گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ قیامت کے دن میزان میں خوش اخلاقی بڑی بھاری چیز ٹھہرے گی ‘ اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن اعمال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 101–114

(آیت نمبر (101 اللہ تبارک و تعالٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جو کہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہوگا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسا نفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ‘ ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی ؟ یا وہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 67–118

قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 102–103

117 فلاح پانے والے اور حقیقی کامیابی سے سرفراز ہونے والوں کی نشاندہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز جن لوگوں کا پلڑا بھاری ہوگا وہی ہوں گے فلاح پانے والے "۔ جن کو دوزخ کی آتش سوزاں سے بچا کر جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفراز کردیا جائے گا۔ اور اس حقیقت کو دوسرے کئی مقامات کی طرح یہاں بھی حصر کے کلمات کریمہ کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے اور بتادیا گیا کہ کوئی مانے یا نہ مانے اور تسلیم کرے یا نہ کرے، حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ فلاح اور حقیقی و ابدی کامیابی بہرحال ایسے ہی خوش نصیب لوگوں کو نصیب ہوگی ۔ جَعَلَنَا اللّٰہُ مِنْہُمْ بِمَحضِ مَنِّہِ وَکَرَمِہٖ فَاِنَّہ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 99–108

کیا مرنے کے بعد دوبارہ دنیا میں آسکتے ہیں ؟ تشریح : حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” موت کے وقت مومن جب رحمت کے فرشتے اور رحمت کے سامان دیکھنے لگتا ہے تو فرشتے اس سے پوچھتے ہیں کہ ” کیا تم چاہتے ہو کہ تمہیں پھر دنیا میں واپس کردیا جائے گا “ تو وہ کہتا ہے کہ ” میں اس غموں اور تکلیفوں کے عالم میں جا کر کیا کروں گا مجھے تو اب اللہ کے پاس لے جاؤ۔ “ اور کافر سے پوچھتے ہیں تو وہ کہتا ہے۔ ” مجھے دنیا میں لوٹا دو ۔ “ (از معارف القرآن جلد 6 صفحہ 331 ) یہ تمام آیات عالم الغیب سے تعلق رکھتی ہیں۔ جن کی وضاحت کچھ حدیث اور کچھ قرآنی آیات سے کردی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہاں اس دنیا سے جو ایک دفعہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 93–118

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف آپ یہ دعا کیجئے کہ ایمان دار بندے یہ سیکھ لیں کہ اے اللہ جب میرے سامنے ان پر عذاب آئے اور تیری گرفت میں آئیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالموں سے الگ رکھیے گا اور ان پر آنے والے عذاب سے محفوظ فرمائیے گا اس لیے کہ ہمیں قدرت حاصل ہے کہ ان سے عذاب کے وعدے کیے جا رہے ہیں وہ پورے کردیں اور آپ کو بھی دکھا دیں چناچہ کفار پر مکہ میں مختلف عذاب وارد ہوئے پھر میدان میں شکست ہوئی اور روئے زمین پر مسلسل شکست ہوتی چلی گئی ، اور اللہ کریم نے دنیا میں جن عذابوں سے خبر دار کیا تھا وہ واقعہ ہو کر رہے ۔ (کفار ومشرکین سے الگ رہنا ضروری ہے) یہاں واضح ہے کہ مومن شکل و صورت وضح قطع میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 102–104

5 ۔ دراصل ” کالح “ اس شخص کو کہتے ہیں جس کی چمڑی ادھڑ گئی ہو اور دانت ظاہر ہوگئے ہوں۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ سے ” کالح “ کے معنی دریافت کئے گئے تو انہوں نے فرمایا : الم ترا الی الرأس المشیط۔ کہ تم نے جلائی ہوئی سری نہیں دیکھی۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(23:102) موازینہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اسم مفعول جمع۔ موزون میزان واحد۔ وزن کئے جانے والے اعمال ۔ ترازوئیں۔ موازین جمع کا صیغہ لائے جانے کی وجہ یہ ہے کہ موزونات مختلف ہوں گے۔ ہر ایک شخص کے الگ الگ اعمال تو لے جائیں گے تو گویا ہر ایک شخص کے اعمال کی ترازو بھی الگ الگ ہوں گی یا وزن میں تعدد ہوگا۔ لا تعداد آدمی ہوں گے اس لئے وزن کی بھی شمار نہیں۔ جتنے آدمی اتنی ہی مرتبہ وزن کشی۔ میزان کو بصورت تعدد لانے سے وزن کے تعدد کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 93–118

لغات القرآن : آیت نمبر 93 تا 118 : ترینی (مجھے دکھائیں) ‘ لاتجعلنی ( مجھے نہ بنائے گا) ‘ ادفع ( دورکردے) ‘ احسن ( بہترین) ‘ ھمزات (وسوسے) ‘ ترکت ( میں نے چھوڑ دیا) ‘ یحضرون (وہ حاضر ہوتے ہیں) برزخ (آڑ۔ پڑدے کے پیچھے) انساب (نسب۔ رشتے ناتے) ‘ ثقلت (بھاری ہونا) ‘ خفت (ہلکی ہوگی) موازین (وزن) خسروا ( نقصان کیا) ‘ تلفح (جھلس دی گئی) ‘ کالحون (بگڑے چہرے) ‘ شقوۃ (بدنصیبی۔ بد بختی) ‘ اخسوا (دور ہوجائو) ‘ سخریا (مذاق) ‘ تضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں) ‘ العادین (شمار کرنے والے۔ گننے والے) ‘ عبثا (فضول) خیرالراحمین ( بہترین رحم کرنے والا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 93 تا 118 : جب اللہ کے نبی اور رسول اللہ کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 101–104

(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو اس روز باہم قرابت کا پاس نہ ہوگا اور یہ حال ہوگا کہ آدمی اپنے بھائی اور ماں باپ اور بی بی اور بیٹیوں سے بھاگے گا کیونکہ ہر ایک اپنے ہی حال میں مبتلا ہوگا اور یہ سب نسب اور رشتے اور قومیں سب دنیا تک ہی ہیں پس وہاں جس شخص کا پلڑا اعمال صالح کا بھاری ہوگا وہی جنتی قرار پاویں گے اور جن کا پلڑا ہلکا ہوگا جن بدلوگوں کا پلڑا بدعملوں سے بھاری ہوگا وہ لوگ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے ان کے مونہوں کو آگ جھلستی ہوگی اور وہاں ان کے منہ بگڑے ہوئے ہوں گے یعنی اوپر کا ہونٹ سکڑ کر نصف سر تک پہنچے گا اور نیچے کا ناف تک لٹک جائے گا دانت کھلے رہ جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 101–113

[42] یہاں دوسری مرتبہ صور پھونکے جانے کا ذکر ہے۔ صور کی تشریح کے لئے سورة طہ حاشیہ 45 میں گزرچکی ہے۔ [43] یعنی اس روز دنیا کے رشتے ناطے، دوستی، تعارف کچھ کام نہ آئیں گے اور نہ کوئی کسی کی مدد کرسکے گا۔ ہر طرف نفسی نفسی پڑی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 101–105

(ف 3) یعنی جس قدر یہ امتیازات ہیں سب دنیا تک کے لئے ہیں ، آخرت میں یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تمہارا تعلق کس خاندان سے ہے اور کن لوگوں سے انتساب رکھتے ہو وہاں تو اعمال تلیں گے اور افعال جانچے جائیں گے وہ لوگ کامیاب وکامران رہیں گے جن کے کردار وزنی ہوں گے جنہوں نے دنیا میں کارہائے مستحسن سرانجام دیں گے اور جن کے پاس زاد عقبے کا وافر ذخیرہ ہوگا ، اور جن کا دامن تہی ہوگا دنیا میں غفلت اور گمراہی میں زندگی بسر کی ہوگی اس دن پچھتائیں گے اور جہنم کے عذاب سے دوچار ہوں گے ۔ حل لغات : ہمزات : ہمزہ کی جمع ہے معنی وسوسہ انداز اور دل میں بڑائی کے لئے تحریک پیدا کرنا ، وساوس شیطانی ، برزخ : حائل ہونے والی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(102) پھر جن کا پلہ بھاری رہا تو وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہوئے یعنی ایمان اور اعمال نیک کا وزن بڑھ گیا تو یہ لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اصلیت اس می جو بھی ہوگی وہ اعمال کے ہلکا اور بھاری ہونے پر ہوگی : 102۔ اس روز فلاح و کامیابی کا انحصار وزن کے ہلکے اور بھاری ہونے پر ہی ہوگا ۔ انسانوں کے اعمال کی دو ہی اقسام ہو سکتی ہیں اچھے یابرے ، ایک قسم کے اعمال کم ہوں گے اور دوسری قسم کے زیادہ یا دونوں برابر ۔ دو مادی چیزوں میں تفاصل اور کم وبیش معلوم کرنے کے لئے جو صورت اختیار کی جاتی ہے اس کو میزان کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ، جب بدلہ اعمال کے مطابق ہوگا تو ظاہر ہے کہ دونوں قسم کے اعمال ہی کو دیکھا جائے گا تب ہی انکی جزا وسزا دی جاسکے گی اس لئے کمی بیشی معلوم کرنے کی صورت کو میزان سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ چونکہ اس کا ذکر پیچھے سورة…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 102–103

فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿102﴾ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُ‌وا أَنفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَالِدُونَ ﴿103﴾ So, the one whose scales (of good deeds) turn out to be heavy, then such people are the successful ones, [ 102] and the one whose scales turn out to be light, then such people are the ones who harmed their own selves; in Jahannam (Hell) they are to remain forever. (23: 102, 103) In this verse there is a comparison between perfect Muslims and the infidels and their deeds and the end which awaits them. There is further…

Read the full tafseer →