Explained with ayahs 101–104
قبروں سے اٹھنے کے بعد
جب جی اٹھنے کا صور پھونکا جائے گا اور لوگ اپنی قبروں سے زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے، اس دن نہ تو کوئی رشتے ناتے باقی رہیں گے۔ نہ کوئی کسی سے پوچھے گا، نہ باپ کو اولاد پر شفقت ہوگی، نہ اولاد باپ کا غم کھائے گی۔ عجب آپا دھاپی ہوگی۔ جیسے فرمان ہے کہ کوئی دوست کسی دوست سے ایک دوسرے کو دیکھنے کے باوجود کچھ نہ پوچھے گا۔ صاف دیکھے گا کہ قریبی شخص ہے مصیبت میں ہے، گناہوں کے بوجھ سے دب رہا ہے لیکن اس کی طرف التفات تک نہ کرے گا، نہ کچھ پوچھے گا آنکھ پھیرلے گا " جیسے قرآن میں ہے کہ " اس دن آدمی اپنے بھائی سے، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے، اپنی بیوی سے، اور اپنے بچوں سے بھاگتا پھرے گا "…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 94
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ باپ باپ نہ رہے گا اور بیٹا بیٹا نہ رہے گا۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس وقت نہ باپ بیٹے کے کام آئے گا نہ بیٹا باپ کے۔ ہر ایک اپنے حال میں کچھ اس طرح گرفتار ہوگا کہ دوسرے کو پوچھنے تک کا ہوش نہ ہوگا کجا کہ اس کے ساتھ کوئی ہمدردی یا اس کی کوئی مدد کرسکے۔ دوسرے مقامات پر اس مضمون کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ وَلَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْماً ، " کوئی جگری دوست اپنے دوست کو نہ پوچھے گا، " (المعارج، آیت 10) اور یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْ مَئِذٍ بِبَنِیْہِ وَصَاحِبَتِہ وَاَخِیْہِ وَفَصِیْلَتَہِ الَّتِیْ تُؤْوِیْہِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
پھر جب (قیامت کا روز ہوگا اور) صور پھونکا جاوے گا تو (ایسی ہول وہیبت میں گرفتار ہوں گے کہ) ان میں (جو) باہمی رشتے ناتے (تھے) اس روز (وہ بھی گویا) نہ رہیں گے (یعنی کوئی کسی کی ہمدردی نہ کرے گا جیسے اجنبی اجنبی ہوتے ہیں) اور نہ کوئی کسی کو پوچھے گا (کہ بھائی تم کس حالت میں ہو، غرض نہ رشتہ ناتا کام آوے گا نہ دوستی اور تعارف، پس وہاں کام کی چیز ایک ایمان ہوگا جس کی عام شناخت کے لئے کہ سب پر ظاہر ہوجاوے ایک ترازو کھڑی کی جاوے گی اور اس سے اعمال و عقائد کا وزن ہوگا) سو جس شخص کا پلہ (ایمان کا) بھاری ہوگا (یعنی وہ مومن ہوگا) تو ایسے لوگ کامیاب (یعنی نجات پانے والے) ہوں گے (اور مذکور ہول…
Read the full tafseer →آیت 101
قیامت کے دن کی نفسی نفسی
یہ قیامت کے دن کی نفسی نفسی کی تصویر ہے کہ اس دن نہ کسی کا نسب کچھ کام آئے گا اور وہ ایک دوسرے سے طالب مدد ہی ہو سکیں گے۔ تساول کے معنی آپس میں ایک دور سے سے طالب مدد ہونا ہے۔ مصیبت کے وقت میں نسبی و خاندانی عصبیت اور قومی و قبائلی تعاضد و تناصر اس دنیا میں بڑا سہارا ہے اور عربوں میں اس چیز کو خاص طور پر بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ جب کوئی شخص کسی مصیبت میں اپنے خاندان یا قبیلہ کی دہائی پکار دیتا تو اس کے قبیلہ کا ہر شخص اس کی حمایت میں کٹ مرنے کے بعد اٹھ کھڑا ہوتا۔ فمایا کہ صور پھونکے جانے کے بعد سارے نسب ختم ہوجائیں گے اور کوئی ایک دوسرے سے نہ طالب مدد ہو سکے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
11-1محشر کی ہولناکیوں کی وجہ سے ابتداء ایسا ہوگا، بعد میں وہ ایک دوسرے کو پہچانیں گے بھی اور ایک دوسرے سے پوچھ گچھ بھی کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–109
32: دنیا میں رشتہ دار اور دوست ایک دوسرے کے بارے میں یہ پوچھتے رہتے ہیں کہ وہ کس حال میں ہیں۔ قیامت کا منظر اتنا ہولناک ہوگا کہ ہر شخص کو اپنی فکر پڑی ہوگی، اور اسے اتنی فرصت نہیں ہوگی کہ وہ رشتہ داروں اور ملاقاتیوں کا حال معلوم کرے۔
Read the full tafseer →فاذا۔۔۔۔۔ ولایتسآء لون (101) ۔ تمام رابطے کٹ جائیں گے۔ وہ اقدار ختم ہوجائیں گی جن کے مطابق وہ دنیا میں زندگی بسر کرتے تھے۔
فلآ۔۔۔۔۔ یومئذ (23 : 101) ” اس دن ان کے درمیان کوئی رشتہ نہ رہے گا “۔ اس قدر خوف چھا جائے گا کہ سب خاموش ہوں گے۔ چپ کھڑے ہوں گے ‘ کوئی بات ہی نہ کرے گا۔ اب یہاں نہایت سرعت اور اختصار کے ساتھ حساب و کتاب کا میزان پیش کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →4 یعنی عالم برزخ کے بعد قیامت کی گھڑی ہے۔ دوسری مرتبہ صور پھونکنے کے بعد تمام خلائق کو ایک میدان میں لا کھڑا کریں گے۔ اس وقت ہر ایک شخص اپنی فکر میں مشغول ہوگا۔ اولاد ماں باپ سے، بھائی بھائی سے اور میاں بیوی سے سروکار نہ رکھے گا۔ ایک دوسرے سے بیزار ہوں گے۔ کوئی کسی کی بات نہ پوچھے گا۔ (يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ 34ۙ وَاُمِّهٖ وَاَبِيْهِ 35ۙ وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيْهِ 36ۭ لِكُلِّ امْرِۍ مِّنْهُمْ يَوْمَىِٕذٍ شَاْنٌ يُّغْنِيْهِ 37) 80 ۔ عبس :34 تا 37) اس کے بعد دوسرے وقت ممکن ہے بعض قرابتوں سے کچھ نفع پہنچ جائے کما قال تعالیٰ (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ…
Read the full tafseer →آیت 101 فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَیْنَہُمْ یَوْمَءِذٍ وَّلَا یَتَسَآءَ لُوْنَ ”
اس دن ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہوگا اور کوئی کسی کاُ پر سان حال نہیں ہوگا : یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْہِ وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ لِکُلِّ امْرِئٍ مِّنْہُمْ یَوْمَءِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ عبس ”جس دن انسان بھاگے گا اپنے بھائی سے ‘ اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے ‘ اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں سے۔ جس دن ان میں سے ہر شخص کی ایسی حالت ہوگی جو اسے دوسروں سے بےپروا کر دے گی۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
98 جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو یہی دن مردوں کا اپنی قبروں سے جی کر اٹھنے اور اللہ کے حضور حاضر کئے جانے کا دن ہوگا اسی دن کو قیامت کا دن کہا جاتا ہے یہ دن چونکہ ہمارے موجودہ حساب کے مطابق پچاس ہزار برس کا ہوگا۔ لہذا اس مدت میں انسان کو بہت سی قسم کے حالات اور واقعات سے دو چار ہونا پڑے گا۔ اس آیت میں جو کیفیت بیان کی گئی ہے۔ وہ زندہ ہونے کے بعد ابتدائی کیفیت ہے۔ اس وقت دہشت اور ہولناکی اس قدر زیادہ ہوگی کہ ہر ایک کو اپنی اپنی ہی پڑی ہوگی سب رشتہ داریاں بھول جائیں گے۔ پھر جبکہ ہر آدمی اپنے حقیقی رشتہ داروں سے بھی الگ رہنے اور دور بھاگنے کی کوشش کرے گا ایک دوسرے کا حال پوچھتا تو دور کی…
Read the full tafseer →91۔ جب قیامت واقع ہوگی تو اس کا ہول اور عذاب اور بھی شدید تر ہوگا۔ اس روز دنیا کے رشتے ناطے، دوستی، تعارف کچھ کام نہ آئے گا، بعض محققین صوفیہ نے کہا ہے کہ یہ وعید کافروں کے حق میں ہے اور وعید سے متعلق یہ قاعدہ مقرر ہوچکا ہے کہ مفہوم مخالف معتبر ہوتا ہے۔ اس لیے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اہل ایمان کو نسبت اپنے اپنے بزرگوں کے ساتھ نافع ہوگی۔ انشاء اللہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
آیت نمبر 93 تا 118
ترجمہ : آپ دعاء کیجئے کہ اے میرے پروردگار اِمّا اصل میں اِنْ مَا تھا اِنْ شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں ادغام کردیا جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے اگر آپ مجھ کو دکھا دیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجئے کہ میں ان کے ساتھ ہلاک کردیا جاؤں اور وہ وعدہ (غزوہ) بدر میں قتل کے ذریعہ صادق آیا اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو وعدہ ان سے کر رہے ہیں آپ کو دکھلا دیں آپ ان کو بدی یعنی آپ کو ایذا رسانی کا دفعیہ ایسے طریقہ سے کردیا کیجئے کہ جو بہت ہی اچھا ہو یعنی ان سے عفو و درگذر کی خصلت کے ذریعہ اور یہ (عفو و درگذر) کا حکم جہاد کی اجازت سے پہلے کا ہے ہم…
Read the full tafseer →فاذا نفخ فی الصور فلا انساب بینہم یومئذ ولا یتسآء لون۔ پھر جب (قیامت میں) صور پھونکا جائے گا تو ان میں باہمی رشتے ناتے اس روز نہ رہیں گے اور نہ کوئی کسی کو پوچھے گا۔
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ صور پھونکے جانے سے مراد اس جگہ پہلا نفخۂ صور ہے۔ یعنی نفخۂ بیہوشی ‘ جس کے متعلق فرمایا ہے فَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ فَلاَ اَنْسَابَ بَیْنَہُمْ یَوْمَءِذٍ وَلاَ یَتَسَآءَ لُوْنَجب صور پھونکا جائے گا تو جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب بےہوش ہوجائیں گے اور اس روز ان کے درمیان (دنیا والی) رشتہ داریاں نہیں رہیں گی اور نہ…
Read the full tafseer →(101) پھر جب بعث بعد الموت کے لیے صور پھونکا جائے گا تو ان میں باہمی جو رشتے ناتے تھے قیامت کے دن وہ بھی باقی نہیں رہیں گے اور نہ کوئی کسی کو پوچھے گا۔
Read the full tafseer →فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ : نسب سے مراد وہ قرابت ہے جو ولادت کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔ ”بَيْنَهُمْ“ سے مراد کفار ہیں، کیونکہ پیچھے انھی کا ذکر آ رہا ہے۔ عالم برزخ کے بعد جب قبروں سے زندہ ہو کر نکلنے کے لیے صور میں پھونکا جائے گا تو کفار کی باہمی تمام نسبی قرابتیں ختم ہوجائیں گی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی کسی کا باپ یا بیٹا یا بھائی نہیں رہے گا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس نسبی تعلق کی وجہ سے جو ایک دوسرے کی مدد ہوتی ہے، وہ نہیں ہوگی، جیسا کہ فرمایا : (يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ 34ۙوَاُمِّهٖ وَاَبِيْهِ 35ۙوَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيْهِ 36ۭلِكُلِّ امْرِۍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاذا نفخ فی الصور اس نسخہ ثانی ہے۔ فلا انساب بینمھم یو میذ و لا یتسآ لو ن۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وہ آخرت میں نہیں پوچھیں گے نسب کے بارے میں جیسے دنیا میں پوچھتے ہیں یعنی تو کس قبیلہ سے ہے ؟ نہ پوچھیں گے کہ کس نسب سے تعلق رکھتا ہے قیامت کی ہولناکی کی وجہ سے وہ ایک دوسرے سے تعارف نہیں طلب کریں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : نہ نفخہ اولی میں ہوگا جب جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہے سب پر غشی طاری ہوجائے گی۔ مگر جسے اللہ چاہے گا (2) ۔ ان کے درمیان اس دن کوئی نسب و رشتہ داری نہ رہے گی اور نہ وہ ایک دوسرے کے متعلق پوچھیں گے پھر اس میں دوسرا صور پھونکا جائے گا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” فلا انساب بینہم یومئذ ولا یتساء لون “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب صور پھونکا جائے گا تو کوئی زندہ نہیں بچے گا مگر اللہ عزوجل کی ذات اقدس۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا آیت ” فلا انساب بینہم یومئذ ولا یتساء لون “ یعنی یہ پہلے نفخہ کے وقت ہوگا
3۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا کہ وہ کسی ایک سے سوال کرسکے اس کے نسب کے بارے میں اور نہ اس کی رشتہ داری کے بارے میں ذرا بھی۔
4۔ ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ کوئی ایک بھی اس…
Read the full tafseer →[ فَاِذَا (پھر جب ][ نُفِخَ (پھونکا جائے گا ][ فِي الصُّوْرِ (صور میں ][ فَلَآ (تو کوئی نہیں ][ اَنْسَابَ (کوئی رشتہ داری ][ بَيْنَهُمْ (ان کے درمیان ][ يَوْمَىِٕذٍ (اس دن ][ وَ (اور) لَا (نہ ][ يَتَسَاۗءَلُوْنَ (وہ سب ایک دوسرے کو پوچھیں گے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (فَاِِذَا نُفِخَ فِیْ الصُّورِ فَلاَ اَنسَابَ بَیْنَہُمْ یَوْمَءِذٍ وَّلاَ یَتَسَاءَ لُوْنَ ) (سو جب صور پھونکا جائے گا تو ان کے درمیان اس دن نسب باقی نہ رہیں گے اور نہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے سوال کریں گے) اس میں یہ بتایا کہ برزخ کا زمانہ گزرنے کے بعد جب قیامت قائم ہوگی تو لوگوں کے آپس کے جو انساب یعنی رشتہ داریوں کے تعلقات تھے وہ اسی وقت ختم ہوجائیں گے یعنی کوئی کسی کو نہیں پوچھے گا بلکہ آپس میں ایک دوسرے سے دور ہونے اور بھاگنے کی راہ اختیار کریں گے۔ سورة عبس میں فرمایا ہے (یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْہِ وَاُمِّہِ وَاَبِیہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ لِکُلِّ امْرِئٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–114
تلقین دعا و آداب تبلیغ و دعوت و ذکر احوال
واحوال آخرت برائے تخویف اہل شقاوت
قال اللہ تعالیٰ ۔ قل رب اما ترینی ما یوعدون .... الیٰ .... توانکم کنتم تعلمون۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں کفار کے عناد طغیان کا بیان تھا کہ وہ بطور تمسخر یہ کہتے تھے کہ آپ ﷺ کے منکرین پر عذاب کب آئے گا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو ایک مناسب وقت دعا کی تلقین فرماتے ہیں کہ کافروں کی ایذا رسانی اور بدکلامی سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں بلکہ ان کی بدی کا نیکی سے جواب دیں اور یقین رکھیں کہ جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے وہ بدیر یا بسویر ضرور آکر رہے گا اور اس کے بعد قیامت کے احوال اور اہوال بیان کیے کہ اس دن ہماری آیات کے ساتھ…
Read the full tafseer →77:۔ ” فاذا نفخ الخ “ تخویف اخروی ہے نفخ سے نفخہ ثانیہ مراد ہے جب سب لوگ قبروں سے زندہ ہو کر نکلیں گے اس وقت عالم برزخ ختم ہوجائے گا اور عالم آخرت کی ابتدا ہوگی۔ دنیا میں تو لوگ خاندانی وجاہت پر فخر کرتے ہیں ایک دوسرے کے خاندان پوچھتے ہیں مگر اس جہان میں نسلی امتیاز کی کوئی قدر و قیمت نہ ہوگی اور نہ کسی سے کوئی یہ پوچھے گا کہ تو کس خاندان سے تعلق رکھتا ہے وہاں کوئی رشتہ کام نہیں آئے گا۔ اور نہ خاندانی فخر و غرور سے کچھ فائدہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–114
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کی تردید فرمائی جو شرک میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ وقوع قیامت کا انکار بھی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وقوع قیامت کے بعد اگر کوئی جزاء سزا کا تصور ہے تو پھر وہ سزا کیوں نہیں دی جاتی ؟ اللہ نے جواب میں فرمایا کہ اکثر بیشتر مجرموں کو دنیا میں مہلت ملتی رہتی ہے اور سزا اپنے مقررہ وقت پر ہی آتی ہے۔ پھر اللہ نے ایسے منکرین کا ذکر کیا کہ جب ان پر اس دنیا کا دور ختم ہوجاتا ہے۔ پردہ غیب اٹھ جاتا ہے اور اگلے جہان کے حالات منکشف ہونے لگتے ہیں تو پھر وہ اللہ کے سامنے تمنا کرتے ہیں کہ انہیں دنیا میں واپس لوٹا دیا جائے ، اب کہ وہ برے کاموں کی بجائے نیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَہُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ 101
نفخ
النَّفْخُ : نَفْخُ الرِّيحِ في الشیءِّ. قال تعالی: يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ [ طه/ 102] ، وَنُفِخَ فِي الصُّورِ [ الكهف/ 99] ، ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرى[ الزمر/ 68] ، وذلک نحو قوله : فَإِذا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ [ المدثر/ 8] ومنه نَفْخُ الرُّوح في النَّشْأَة الأُولی، قال : وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي
[ الحجر/ 29]
( نخ ) النفخ
کے معنی کسی چیز میں پھونکنے کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ [ طه/ 102] ، اور جس دن صور پھونکا جائیگا ۔ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ [ الكهف/ 99] اور جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–101
شرب۔ دنیا کا انجام غفلت بیان فرماتا ہے کہ وہ مرنے تک اس میں پڑے رہتے ہیں جب موت آتی ہے اور دوسرے جہاں کا راز کھلتا ہے تو باردگر دنیا میں آنے کی دعا کرتا ہے کہ اگر نیک کام کرے بھلا یہ کب ہوسکتا ہے یہ دعا اس کے منہ کی ان ہونی بات ہے پڑا کہا کرے مرنے کے بعد اس دنیا میں آنے کے لیے قدرتی ایک بڑا پردہ پڑا ہوا ہے پھر اس پردہ کو اٹھا کے کوئی ادھر نہیں آسکتا۔ قیامت تک یہی حال رہتا ہے پھر قیامت میں جب صور پھونکا جائے گا تو نفسی نفسی ہوگی نہ رشتہ داری کا پاس ہوگا نہ کوئی کسی کو پوچھے گا۔ یہ عام حکم ہے حضرات انبیاء صلحاء اس سے مستثنیٰ ہیں۔
Read the full tafseer →فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَـلَآ اَنْسَابَ بَیْنَھُمْ یَوْمَئِذٍ وَّلَا یَتَسَآئَ لُوْنَ ۔ (المومنون : 101)
(تو جب صور پھونکا جائے گا تو اس دن نہ ان کے درمیان نسب کام آئے گا اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔ )
مضمون کا تسلسل
اشرارِ قریش جو تکبر اور تمرد کی چلتی پھرتی تصویر تھے اور جنھیں اللہ تعالیٰ کے دین کی کوئی بات بھی پسند نہ آتی تھی انھیں گزشتہ آیت کریمہ میں ان کے انجام سے آگاہ کرتے ہوئے وہ منظر دکھایا گیا ہے جس میں وہ موت سے سابقہ پڑتے ہی گزریں گے۔ جیسے ہی ان پر نزع طاری ہوتی ہے تو یہ وہ وقت ہے جب اصحابِ ایمان کو ان کا انجام دکھا دیا جاتا ہے اور نہایت خوبصورت فرشتے تہنیتی کلمات سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
فہم القرآن
ربط کلام : شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا سکھلانے کے بعد اب پھر کلام کا رخ کفار کی طرف ہوتا ہے۔
منکرین حق سروردوعالم ﷺ سے باربار عذاب لانے کا مطالبہ کرتے تھے اس سے پہلے ان کے اس مطالبہ کا جواب دیا گیا بعد اب منکرین کو اس وقت کا احساس دلایا گیا ہے کہ جب ایسے لوگوں میں سے کسی کو موت آتی ہے تو وہ اپنے رب سے آرزو کرتا ہے کہ کاش مجھے دنیا میں دوبارہ لوٹا دیا جائے اور میں جو کچھ کرتا رہا اس کی بجائے نیک اعمال کروں گا۔ لیکن اس وقت اسے جواب دیا جاتا ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ وہ دل ہی دل میں روتا اور آہ وزاریاں کرتا ہے مگر اس کی آہ وزاریاں اور چیخ و پکار سوائے واویلا کی حیثیت نہیں ہوتی۔ مرنے…
Read the full tafseer →نفخ صور اور قیامت کا منظر :
101: فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ (جب صور میں پھونک ماردی جائے گی) ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد نفخہ ثانیہ یعنی نفخ بعث ہے یہی صحیح ہے : فَلاَ اَنْسَابَ بَیْنَھُمْ یَوْمَئِذٍ (پس ان کے درمیان باہمی رشتہ داریاں اس دن نہ رہیں گی)
قراءت : یومَئِذ یہ ادغام کے ساتھ ابوبکر نے پڑھا ہے۔ کیونکہ اجتماع مثلین ہے۔ اگرچہ یہ دو کلمے ہیں۔ مطلب یہ ہے ان کے درمیان انقطاع اسی وقت ہی واقع ہوجائے گا جبکہ ان کی دو جماعتیں نمبر 1۔ ثواب والے نمبر 2۔ سزا والے ہوجائیں گی اور ان کے درمیان صرف نسبی تعلق سے ملاپ کی صورت رہ جائے گی جبکہ وہ : یوم یفر المرئُ من اخیہ وامہٖ وابیہ وصاحبتہٖ وبنیہِ ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
101۔ فاذا نفخ فی الصور فلاانساب بینھم، اس نفخہ کے متعلق مفسرین آئمہ کے مختلف اقوال ہیں۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کیا ہے کہ صور پھونکنے جانے سے مراد اس جگہ پہلانفخہ صور ہے جس کے متعلق ارشاد ہے۔ ونفخ فی الصور ، ،۔۔۔ پھر دوسرا نفخہ صور پھونکاجائے گا، اس وقت سب کھڑے کھڑے دیکھ رہے ہوں گے اور ایک دوسرے کے آمنے سامنے سوال کریں گے۔ ابن مسعود نے فرمایا قیامت کے دن بندے یابندی کا ہاتھ پکڑ کر علی الاعلان سب اگلوں اور پچھلوں کے سامنے کھڑا کیا جائے گا، اور ایک منادی ندا دے گا، یہ فلاں بن فلاں ہے۔ اس کی طرف کسی کا حق ہو تو وہ اپنا حق لینے آجائے۔ اس وقت جس شخص کا اپنے باپ یا بیٹے یابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
101۔ 104:۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور عبد اللہ بن مسعود کا اس باب میں اختلاف 1 ؎ ہے کہ ان آیتوں میں پہلے صور کا ذکر ہے یا دوسرے کا۔ رفع اس اختلاف کا یہ ہے کہ یہاں صور کے ذکر کے بعد عملوں کے تولے جانے کا تذکرہ فرمایا ہے اور اس پر سب سلف کا اتفاق ہے کہ عملوں کا تولا جانا دوسرے صور کے بعد ہوگا اس سبب سے عبداللہ بن مسعود کا قول قوی معلوم ہوتا ہے کہ ان آیتوں میں دوسرے صور کا ذکر ہے ترمذی ‘ ابوداؤد کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی صحیح روایت سورة الاعراف میں گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ قیامت کے دن میزان میں خوش اخلاقی بڑی بھاری چیز ٹھہرے گی ‘ اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–114
(آیت نمبر (101
اللہ تبارک و تعالٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جو کہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہوگا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسا نفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ‘ ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی ؟ یا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–118
قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…
Read the full tafseer →116 قیامت کی نفسانفسی کا ایک منظر : کہ وہاں پر ہر کسی کو اپنی پڑی ہوگی اور وہ تمام رشتے اور تعلقات ختم ہوجائیں گے جن پر یہ لوگ دنیا میں بڑے ناز اور فخر کیا کرتے تھے۔ البتہ ایمان وتقویٰ کا پاکیزہ رشتہ وہاں بھی باقی اور سرفراز رہے گا اور کام آئے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَلْاَخَلَّائُ یُوْمَئِذٍ بِعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ } ۔ (الزخرف : 67) ۔ سو یہ اس یوم عظیم کی نفسانفسی کی ایک تصویر ہے کہ کوئی وہاں پر نہ کسی کے کام آسکے گا اور نہ ہی کوئی کسی کے بارے میں پوچھنے ہی کی زحمت اٹھائے گا۔ سب رشتے ناطے کٹ جائیں گے اور ہر کسی کو اپنی ہی پڑی ہوگی۔ سو بڑے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–108
کیا مرنے کے بعد دوبارہ دنیا میں آسکتے ہیں ؟
تشریح : حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” موت کے وقت مومن جب رحمت کے فرشتے اور رحمت کے سامان دیکھنے لگتا ہے تو فرشتے اس سے پوچھتے ہیں کہ ” کیا تم چاہتے ہو کہ تمہیں پھر دنیا میں واپس کردیا جائے گا “ تو وہ کہتا ہے کہ ” میں اس غموں اور تکلیفوں کے عالم میں جا کر کیا کروں گا مجھے تو اب اللہ کے پاس لے جاؤ۔ “ اور کافر سے پوچھتے ہیں تو وہ کہتا ہے۔ ” مجھے دنیا میں لوٹا دو ۔ “ (از معارف القرآن جلد 6 صفحہ 331 )
یہ تمام آیات عالم الغیب سے تعلق رکھتی ہیں۔ جن کی وضاحت کچھ حدیث اور کچھ قرآنی آیات سے کردی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہاں اس دنیا سے جو ایک دفعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
آپ یہ دعا کیجئے کہ ایمان دار بندے یہ سیکھ لیں کہ اے اللہ جب میرے سامنے ان پر عذاب آئے اور تیری گرفت میں آئیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالموں سے الگ رکھیے گا اور ان پر آنے والے عذاب سے محفوظ فرمائیے گا اس لیے کہ ہمیں قدرت حاصل ہے کہ ان سے عذاب کے وعدے کیے جا رہے ہیں وہ پورے کردیں اور آپ کو بھی دکھا دیں چناچہ کفار پر مکہ میں مختلف عذاب وارد ہوئے پھر میدان میں شکست ہوئی اور روئے زمین پر مسلسل شکست ہوتی چلی گئی ، اور اللہ کریم نے دنیا میں جن عذابوں سے خبر دار کیا تھا وہ واقعہ ہو کر رہے ۔
(کفار ومشرکین سے الگ رہنا ضروری ہے)
یہاں واضح ہے کہ مومن شکل و صورت وضح قطع میں…
Read the full tafseer →3 ۔ یعنی وہ اپنے رشتے ناتوں پر فخر نہ کریں گے یا رشتے ناتے کچھ فائدہ نہ دے سکیں گے۔ حدیث میں ہے : کل نسب و سبب منقطع الائسبی و سببی۔ کہ میرے نسب اور تعلق کے بغیر سب تعلقات منقطع ہوجائیں گے۔ اس حدیث کی بنا پر حضرت عمر ؓ نے ام کلثوم ؓ بنت علی ؓ بن ابی طالب سے چالیس ہزار مہر کے بدلے نکاح کیا تھا۔ معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کا نسب اس عموم سے مستثنیٰ ہے (ابن کثیر)
4 ۔ دوسری آیت میں ہے : وَاَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآئَ لُوْنَ (صافات :27) مگر قیامت کے دن مختلف مواقف ہونگے اور ان میں مختلف حالتیں ہوں گی۔ کسی حالت میں ایک دوسرے سے سوال کرینگے اور کسی میں نہیں کرینگے۔ لہٰذا ان آیات میں تعارض…
Read the full tafseer →(23:101) نفخ۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ نفخ مصدر (باب نصر) پھونکا جائے گا۔ نفخ۔ ینفخ پھونکنا۔ نفخۃ ونفخۃ ایک بار پھونکنا۔ پیٹ پھولنا۔ انساب۔ نسب کی جمع۔ قرابتیں۔ رشتہ داریاں۔ رشتے ناطے۔ بوجہ عمل لا منصوب ہے۔ یتساء لون۔ مضارع جمع مذکر غائب تسائل (تفاعل) سے مصدر۔ باہم پر ساں حال نہ ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
لغات القرآن : آیت نمبر 93 تا 118 :
ترینی (مجھے دکھائیں) ‘ لاتجعلنی ( مجھے نہ بنائے گا) ‘ ادفع ( دورکردے) ‘ احسن ( بہترین) ‘ ھمزات (وسوسے) ‘ ترکت ( میں نے چھوڑ دیا) ‘ یحضرون (وہ حاضر ہوتے ہیں) برزخ (آڑ۔ پڑدے کے پیچھے) انساب (نسب۔ رشتے ناتے) ‘ ثقلت (بھاری ہونا) ‘ خفت (ہلکی ہوگی) موازین (وزن) خسروا ( نقصان کیا) ‘ تلفح (جھلس دی گئی) ‘ کالحون (بگڑے چہرے) ‘ شقوۃ (بدنصیبی۔ بد بختی) ‘ اخسوا (دور ہوجائو) ‘ سخریا (مذاق) ‘ تضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں) ‘ العادین (شمار کرنے والے۔ گننے والے) ‘ عبثا (فضول) خیرالراحمین ( بہترین رحم کرنے والا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 93 تا 118 :
جب اللہ کے نبی اور رسول اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو اس روز باہم قرابت کا پاس نہ ہوگا اور یہ حال ہوگا کہ آدمی اپنے بھائی اور ماں باپ اور بی بی اور بیٹیوں سے بھاگے گا کیونکہ ہر ایک اپنے ہی حال میں مبتلا ہوگا اور یہ سب نسب اور رشتے اور قومیں سب دنیا تک ہی ہیں پس وہاں جس شخص کا پلڑا اعمال صالح کا بھاری ہوگا وہی جنتی قرار پاویں گے اور جن کا پلڑا ہلکا ہوگا جن بدلوگوں کا پلڑا بدعملوں سے بھاری ہوگا وہ لوگ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے ان کے مونہوں کو آگ جھلستی ہوگی اور وہاں ان کے منہ بگڑے ہوئے ہوں گے یعنی اوپر کا ہونٹ سکڑ کر نصف سر تک پہنچے گا اور نیچے کا ناف تک لٹک جائے گا دانت کھلے رہ جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–113
[42] یہاں دوسری مرتبہ صور پھونکے جانے کا ذکر ہے۔ صور کی تشریح کے لئے سورة طہ حاشیہ 45 میں گزرچکی ہے۔
[43] یعنی اس روز دنیا کے رشتے ناطے، دوستی، تعارف کچھ کام نہ آئیں گے اور نہ کوئی کسی کی مدد کرسکے گا۔ ہر طرف نفسی نفسی پڑی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–105
(ف 3) یعنی جس قدر یہ امتیازات ہیں سب دنیا تک کے لئے ہیں ، آخرت میں یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تمہارا تعلق کس خاندان سے ہے اور کن لوگوں سے انتساب رکھتے ہو وہاں تو اعمال تلیں گے اور افعال جانچے جائیں گے وہ لوگ کامیاب وکامران رہیں گے جن کے کردار وزنی ہوں گے جنہوں نے دنیا میں کارہائے مستحسن سرانجام دیں گے اور جن کے پاس زاد عقبے کا وافر ذخیرہ ہوگا ، اور جن کا دامن تہی ہوگا دنیا میں غفلت اور گمراہی میں زندگی بسر کی ہوگی اس دن پچھتائیں گے اور جہنم کے عذاب سے دوچار ہوں گے ۔
حل لغات :
ہمزات : ہمزہ کی جمع ہے معنی وسوسہ انداز اور دل میں بڑائی کے لئے تحریک پیدا کرنا ، وساوس شیطانی ،
برزخ : حائل ہونے والی…
Read the full tafseer →(101) پھر جس وقت صور پھونکا جائے گا اور صور میں پھونک ماری جائے گی تو اس دن لوگوں کے مابین نہ رشتے ناتے کا کوئی اثر باقی رہے گا اور نہ آپس میں کسی کو کوئی پوچھے گا یعنی ایسی افراتفری ہوگی کہ رشتے ناتے ایسے ہوجائیں گے جیسے کبھی تھے ہی نہیں وہاں مارے ہیبت کے ایک دوسرے سے بات ہی نہ کرسکے گا یہ شاید نفخہ ثانیہ کی طرف اشارہ ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) نے خوب فرمایا یعنی باپ بیٹا ایک دوسرے کے شامل نہیں ہر ایک سے اس کے عمل کا حساب ہے۔ 12۔ محمد بن علی (رح) نے فرمایا کہ تمام انساب منقطع ہوجائیں گے مگر ایک پروردگار کی عبودیت اور بندگی کی نسبت قائم رہے گی۔
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی کوئی کسی کی ہمدردی نہ کرے گا۔
3۔ غرض نہ رشتہ ناتا کام آوے گا، نہ دوستی اور تعارف بس وہاں کام کی چیز ایک ایمان ہوگا جس کی عام شناخت کے لئے کہ سب پر ظاہر ہوجاوے ایک ترازو کھڑی کی جاوے گی، اور اس سے اعمال و عقائد کا وزن ہوگا۔
Read the full tafseer →جب ” الصور “ پھونکا جائے گا تو اس وقت حسب ونسب کام نہیں دے گا :
101۔ قرآن کریم میں (الصور) کے پھونکے جانے کا ذکر تقریبا دس بار آیا ہے اور سب سے پہلے سورة الانعام کی آیت 73 میں یہ لفظ استعمال ہوا اور اس جگہ ہم نے وضاحت کردی ہے پھر سورة الکہف کی آیت 99 ‘ سورة طہ کی آیت 102 ‘ سورة المومنون کی زیر نظر آیت میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے ۔ ” صور “ کے لفظی معنی نرسنگھا اور ” قرنا “ کے ہیں۔ اس کی اصل اس طرح ہے کہ قدیم الایام میں بابلیوں ‘ کنعانیوں ‘ آرامیوں اور عبرانیوں وغیرہ تمام پرانی قوموں میں بادشاہی جلال وجلوس اور اعلان جنگ کے موقعوں پر نرسنگھا پھونکا جاتا تھا اس لئے گویا نرسنگھا پھونکنے کے معنی شاہی…
Read the full tafseer →Commentary
فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ
Thereafter, when the Sur (the trumpet) is blown, there are no ties of kinship between them, - 23:101.
On the Day of Judgment the صُور (trumpet) will be sounded twice. The result of the first sound will be that everything - the earth, the skies and every living thing in between will perish and when the second sound is given, every dead thing will come back to life. This is clearly mentioned in the Qur'an in the verse ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَىٰ فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنظُرُونَ (Then it shall be blown again, and lo! They shall…
Read the full tafseer →94. It does not mean that the father will not remain father and the son will not remain son, etc. It only means that they will not be able to help each other, nor shall they be able to inquire about each other as father and son, for each one will be worried and anxious about his own plight. See (Surah Al-Maarij, Ayats 10-14), and (Surah Abasa, Ayats 34- 37).
Read the full tafseer →