Al-Anbiyaa 21:88

Al-Anbiyaa · from ayah 88

21:88

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ ۙ— وَنَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ ؕ— وَكَذٰلِكَ نُـجِی الْمُؤْمِنِیْنَ ۟فَاسۡتَجَبۡنَا لَهٗۙ وَنَجَّيۡنٰهُ مِنَ الۡـغَمِّ‌ؕ وَكَذٰلِكَ نُـنْجِى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ

تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو غم سے نجات بخشی۔ اور ایمان والوں کو ہم اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

So We responded to him and saved him from the distress. And thus do We save the believers.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:88

تب ہم نے اس کی دُعا قبول کی اور غم سے اس کو نجات بخشی، اور اِسی طرح ہم مومنوں کو بچا لیا کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو غم سے نجات بخشی۔ اور ایمان والوں کو ہم اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات دے دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح بچا لیا کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس پر ہم نے ان کی دعا قبول کی، اور انہیں گھٹن سے نجات عطا کی۔ اور اسی طرح ہم ایمان رکھنے والوں کو نجات دیتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس ہم نے ان کی دعا قبول فرما لی اور ہم نے انہیں غم سے نجات بخشی، اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیا کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم ایمان والوں کو نجات دیتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تب ہم نے ان کی دعا کو قبول کیا اور انھیں اس غم سے نجات دی اور ہم اسی طرح ایمان رکھنے والوں کو نجات دیا کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اس کو غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم اہل ایمان کو نجات دیتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تب ہم نے قبول کرلیا ان کی دعا کو اور نجات دے دی ہم نے ان کو اس غم سے اور ہم اسی طرح نجات دیتے ہیں ایمان والوں کو

— مولانا اسحاق مدنی

سو ہم نے ان کی (پکار) سن لی اور انہیں غم سے نجات دے دی اور ہم ایمان والوں کو ایسی ہی نجات دیا کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو ہم نے اس کی دعا قبول فرمائی اور اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم نجات دیا کرتے ہیں اہل ایمان کو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو غم میں نجات بخشی اور ایمان والوں کو ہم اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Thereupon We accepted his prayer, and rescued him from grief. Thus do We rescue the believers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So We responded to him and rescued him from the distress. And this is how We rescue the believers.

— Muhammad Taqi Usmani

So We responded to him and rescued him from the distress. And this is how We rescue the believers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So We answered his call, and delivered him from the distress. And thus We do deliver the believers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then we heard his prayer and saved him from the anguish. Thus we save believers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So We responded to him and saved him from the distress. And thus do We save the believers.

— Saheeh International

We answered his prayer and saved him from his grief. Thus We save the faithful ones.

— Muhammad Sarwar

So We responded to him and delivered him from the grief and thus do We deliver the believers.

— Muhammad Habib Shakir

So We answered him, and We delivered him from the distress, and Thus do We deliver the believers.

— Abdul Majid Daryabadi

So We listened to him: and delivered him from distress: and thus do We deliver those who have faith.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:88

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 87–88

یونس ؑ اور ان کی امت یہ واقعہ یہاں بھی مذکور ہے اور سورة صافات میں بھی ہے اور سورة نون میں بھی ہے۔ یہ پیغمبر حضرت یونس بن متی ؑ تھے۔ انہیں موصل کے علاقے کی بستی نینوا کی طرف نبی بنا کر اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا۔ آپ نے اللہ کی راہ کی دعوت دی لیکن قوم ایمان نہ لائی۔ آپ وہاں سے ناراض ہو کر چل دئے اور ان لوگوں سے کہنے لگے کہ تین دن میں تم پر عذاب الٰہی آجائے گا جب انہیں اس بات کی تحقیق ہوگئی اور انہوں نے جان لیا کہ انبیاء (علیہم السلام) جھوٹے نہیں ہوتے تو یہ سب کے سب چھوٹے بڑے مع اپنے جانوروں اور مویشوں کے جنگل میں نکل کھڑے ہوئے بچوں کو ماؤں سے جدا کردیا اور بلک بلک کر نہایت گریہ وزاری سے جناب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 87–89

سورة الْاَنْبِیَآء 82 مراد ہیں حضرت یونس ؑ۔ کہیں ان کا نام لیا گیا ہے اور کہیں " ذوالنون " اور " صاحب الحوت " یعنی " مچھلی والے " کے القاب سے یاد کیا گیا ہے۔ مچھلی والا انہیں اس لیے نہیں کہا گیا کہ وہ مچھلیاں پکڑتے یا بیچتے تھے، بلکہ اس بنا پر کہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے ایک مچھلی نے ان کو نگل لیا تھا، جیسا کہ سورة صافات آیت 142 میں بیان ہوا ہے۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، یونس، حواشی 98 تا 100۔ الصٰفّٰت، حوشی 77 تا 85۔ سورة الْاَنْبِیَآء 83 یعنی وہ اپنی قوم سے ناراض ہو کر چلے گئے قبل اس کے کہ خدا کی طرف سے ہجرت کا حکم آتا اور ان کے لیے اپنی ڈیوٹی چھوڑنا جائز ہوتا۔ سورة…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دعا یونس ؑ ہر شخص کے لئے ہر زمانے میں ہر مقصد کے لئے مقبول ہے وَكَذٰلِكَ نُـــــْۨـجِي الْمُؤ ْمِنِيْنَ ، یعنی جس طرح ہم نے یونس ؑ کو غم اور مصیبت سے نجات دی اس طرح ہم سب مومنین کے ساتھ بھی یہی معاملہ کرتے ہیں جبکہ وہ صدق و اخلاص کے ساتھ ہماری طرف متوجہ ہوں اور ہم سے پناہ مانگیں۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ذوالنون کی وہ دعا جو انہوں نے بطن ماہی کے اندر کی تھی یعنی لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ ، جو مسلمان اپنے کسی مقصد کے لئے ان کلمات کے ساتھ دعا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرمادیں گے (رواہ احمد والترمذی و الحاکم و صححہ من حدیث سعد…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

باوجودیکہ حضرت یونس حرف مدعا زبان پر نہیں لائے تھے۔ صرف اپنے آپ کو اپنے رب کے آگے ڈال دیا تھا لیکن خدائے علام الغیوب جو پاتال کی فریادوں کو سنتا اور دلوں کے بھیدوں کو جانتا ہے، اس نے ان کے تمام غم و الم کو دور فرما دیا۔ یہاں غم و الم سے صرف وہی غم و الم مراد نہیں ہے جو کشتی والے حادثے کے سبب سے پیش آیا بلکہ وہ غم والم بھی ہے جس کے سبب سے انہوں نے اپنی قوم کو چھوڑا تھا۔ قرآن میں دوسری جگہ اس بات کی تصریح ہے کہ اس حادثہ کے بعد جب انہوں نے از سر نو اپنی قوم کو دعوت دی تو ان کی پوری قوم ایمان لائی اور جو عذاب ان کے سروں پر منڈلا رہا تھا اس سے خدا نے اس کو نجات دی۔ ایک ٹکڑا سرگزشت کو مطابق حال…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 88–89

88۔ 1 ہم نے یونس ؑ کی دعا قبول کی اور اسے اندھیروں سے اور مچھلی کے پیٹ سے نجات دی اور جو بھی مومن ہمیں اس طرح شدائد اور مصیبتوں میں پکارے گا، ہم اسے نجات دیں گے۔ حدیث میں آتا ہے۔ کہ نبی ﷺ نے فرمایا ' جس مسلمان نے بھی اس دعا کے ساتھ کسی معاملے کے لئے دعا مانگی تو اللہ نے اسے قبول فرمایا (جامع ترندی نمبر 355 وصححہ الالبانی)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 87–88

40: حضرت یونس ؑ کا واقعہ پیچھے سورة یونس : 97 میں گذر چکا ہے کہ اللہ کا حکم آنے سے پہلے وہ اپنی بستی کو چھوڑ گئے تھے، اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہ آئی، اور اس کی وجہ سے ان پر یہ آزمائش آئی کہ جس کشتی میں وہ سوار ہوئے تھے۔ انہیں اس میں سے دریا میں اتار دیا گیا۔ اور ایک مچھلی انہیں نگل گئی، جس کے پیٹ میں وہ تین دن رہے، اس آیت میں اندھیریوں سے مراد مچھلی کو حکم دیا کہ وہ انہیں ایک کنارے پر لا کر پھینک دے، اور اس طرح انہیں اس گھٹن سے نجات ملی، واقعے کی مزید تفصیل انشاء اللہ سورة صافات : 139 تا 148 میں گذر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 87–88

اب قصہ یونس علیہ السلام۔ آپ کو ذوالنون بھی کہتے ہیں۔ وذالانون اذ ذھب۔۔۔۔۔۔ کذلک نجی المومنین (78۔ 88) ’ “۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصہ بھی یہاں ایک سرسری اشارے کی شکل میں ہے ‘ جیسا کہ اس سورة کا انداز ہے اور سورة مضافات میں اس کی تفصیلات ہیں لیکن ضروری ہے کہ یہاں ہم بعض ضروری تفصیلات دے دیں تاکہ یہاں کے اشارات اچھی طرح سمجھ میں آجائیں۔ ان کو مچھلی والے (ذوالنون) اس لیے کہا جاتا ہے کہ جب ان کو کشتی سے پھینکا گیا تو مچھلی نے ان کو نگل لیا۔ قصہ یہ تھا کہ ان کو ایک گائوں میں دعوت اسلامی پھیلانے کے لیے بھیجا گیا۔ گائوں والوں نے ان کی ایک نہ مانی ‘ ان کو اس پر بہت غصہ آیا۔ اسی غصے کی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی یونس (علیہ السلام) کے ساتھ مخصوص نہیں، جو ایماندار لوگ ہم کو اسی طرح پکاریں گے ہم ان کو بلاؤں سے نجات دیں گے۔ احادیث میں اس دعا کی بہت فضیلت آئی ہے۔ اور امت نے شدائد و نوائب میں ہمیشہ اس کو مجرب پایا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَکَذٰلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِیْنَ ” یعنی یہ معاملہ حضرت یونس علیہ السلام کے ساتھ مخصوص نہیں۔ جو اہل ایمان بھی ہم کو اسی طرح پکاریں گے ہم ان کو مصائب سے نجات دیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

78 یعنی اللہ تعالیٰ کو عاجزی سے پکارنے پر اللہ تعالیٰ کا سابقہ خطاؤں کو معاف کرکے مزید انعامات سے نوازنا حضرت یونس سے ہی مخصوص نہیں بلکہ جو بھی ایماندار لوگ ہمیں اسی طرح پکاریں گے ہم انھیں مصائب سے نجات دیں گے۔ حضرت یونس مچھلی کے پیٹ میں یہ دعا کرتے رہے (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 87؀ښ) 21 ۔ الأنبیاء :87) احادیث میں اس دعا کی بہت فضیلت آئی ہے اور امت نے شدائد و مصائب میں اس دعاء کو بہت مجرب پایا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

119۔ یعنی ایک یونس ہی پر کیا موقوف ہے جو مومن بھی ہم سے دعا کرے اسے غم سے نجات دے دی جاتی ہے۔ بشرطیکہ اسے غم میں رکھنا ہی مصلحت نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 83–93

آیت نمبر 83 تا 93 ترجمہ : اور یاد کرو ایوب (علیہ السلام) کی حالت کو اذ نادیٰ ربہ ایوب سے بدل ہے، جبکہ ان کو ان کے تمام مال و اولاد کو ہلاک کرکے اور ان کے جسم کو پارہ پارہ کرکے اور ان کی بیوی کے علاوہ تمام لوگوں کے ان کو تین سالوں یا سات سالوں یا اٹھارہ سالوں تک چھوڑ دینے اور ان کو تنگ زندگی کے ذریعہ آزمایا گیا انی ہمزہ کے فتحہ اور با کی تقدیر کے ساتھ ہے، یعنی اس وقت کو یاد کرو جب ایوب (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھ کو تکلیف لاحق ہوگئی ہے اور آپ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہیں تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو جو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ہم نے ان کو ان کے اہل یعنی اولاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاستبجنا لہ ونجینہ من الغم پھر ہم نے اس کی دعا قبول فرما لی اور اس کو غم سے نجات دے دی۔ یعنی گناہ کے غم سے اور مچھلی کا لقمہ بن جانے کے غم سے۔ وکذلک ننجی المؤمنین۔ اور اسی (کی) طرح ہم مؤمنوں کو نجات دیتے ہیں بشرطیکہ اخلاص کے ساتھ وہ ہم کو پکاریں اور ہم سے فریاد کریں۔ رسول اللہ نے فرمایا مچھلی کے پیٹ کے اندر ذوالنون نے اپنے رب کو پکارا تھا ان کی دعا تھی لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینْ ۔َاس دعا کے ساتھ جو مسلمان کسی معاملہ میں اپنے رب کو پکارے گا اللہ اس کی دعا ضرور قبول فرمائے گا۔ رواہ احمد والترمذی والحاکم۔ وصحہ من حدیث سعد بن وقاص۔ حاکم کی ایک روایت ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(88) ہم نے ان کی دعا کو قبول کرلیا اور ان کو تاریکیوں سے نجات دی اور اسی طرح ہم اور ایمان والوں کو بھی غم و پریشانی سے دعا کے وقت نجات دیا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَكَذٰلِكَ نُـــــْۨـجِي الْمُؤْمِنِيْنَ : اس کے دو معنی ہیں اور دونوں ہی مراد ہیں، ایک یہ کہ جس طرح ہم نے یونس ؑ کی دعا قبول کرکے انھیں غم سے نجات دی اسی طرح ہم ایمان والوں کو ان کی دعائیں قبول کرکے غم سے نجات دیتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ جس طرح اس دعا کے ساتھ ہم نے یونس ؑ کو غم سے نجات دی اسی طرح ایمان والوں کو ہم اس دعا کے ساتھ غم سے نجات دیتے ہیں۔ سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (دَعْوَۃُ ذِي النُّوْنِ إِذْ دَعَا وَھُوَ فِيْ بَطْنِ الْحُوْتِ (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ) فَإِنَّہٗ لَمْ یَدْعُ بِھَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ فِيْ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 87–88

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وذالنون اس سے پہلے اذکر فعل مخذوف ہے یعنی ذوالنون کو یاد کرو۔ یہ یونس بن متی کا لقب ہے کیونکہ مچھلی نے آپ کو نگل لیا تھا۔ النون سے مراد مچھلی ہے۔ حضرت عثمان کی حدیث میں ہے کہ انہوں ایک ملیح بچہ دیکھا تو فرمایا : اس کی ٹھوڑی پر سیاہ نشان لگا دو تاکہ اسے نظر نہ لگے۔ ثعلب نے ابن اعرابی سے روایت کیا ہے کہ النوفۃ وہ گڑھا ہوتا ہے جو چھوٹے بچے کی تھوڑی میں ہوتا ہے۔ اذذھب مغاضباً حسن، شعبی اور سعید بن جبیر نے کہا : اپنے رب کے لیے ناراض ہو کر گیا۔ اس مفہوم کو طبری اور قتبی نے اختیار کیا ہے۔ مہدوی نے اس کو مستحسن سمجھا ہے۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے نحاس نے کہا : جو لوگ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 87–88

حضرت یونس (علیہ السلام) کا واقعہ : 1:۔ ابن جریر اور بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وذالنون اذ ذھب مغاضبا “ سے مراد ہے کہ وہ اپنی قوم پر غصہ ہوئے۔ (آیت) ” فظن ان لن نقدر علیہ “ یعنی (انہوں نے گمان کیا) کہ ہم ان کو سزا دینے پر قادر نہیں جو انہوں نے اپنی قوم پر ناراضگی کا اظہار کیا اور وہاں سے بھاگ گئے روای ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ان کو یہ سزا ملی کہ انکو مچھلی نے پکڑ لیا۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے (آیت) ” وذالنون اذ ذھب مغاضبا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ اپنی قوم پر غصہ ہوئے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے عمرو بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ انبیاء…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ فَاسْتَجبنَا : پھر ہم نے جواب دیا ] [ لَهٗ : ان (علیہ السلام) کو ] [ وَنَجَّيْنٰهُ : اور ہم نے نجات دی ان (علیہ السلام) کو ] [ مِنَ الْغَمِّ : اس غم سے ] [ وَكَذٰلِكَ : اور اس طرح ] [ نُـــــْۨـجِي : ہم نجات دیتے ہیں ] [ الْمُؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والوں کو ] نوٹ۔ 1: حضرت ادریس (علیہ السلام) اور حضرت ذوالکفل (علیہ السلام) کی سرگشتِ حیات بالکل پر دئہ خفا میں ہیں۔ قدیم صحیفوں میں ان ناموں سے ان کا ذکر موجود نہیں ہے۔ اب یا تو یہ ہوا کہ عربی لب و لہجہ میں یہ نام بالکل بدل گئے ہیں یا قدیم صحیفوں سے ان کے نام غائب ہوگئے۔ جو بھی شکل ہوئی ہو بہرحال ان دو نبیوں کے نام قرآن ہی کے ذریعہ سے متعارف…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 87–88

ذوالنون یعنی حضرت یونس (علیہ السلام) کا واقعہ، مچھلی کے پیٹ میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھنا پھر اس مچھلی کا آپ کو سمندر کے باہر ڈال دینا ان دونوں آیتوں میں حضرت یونس (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے۔ چونکہ انھیں ایک مچھلی نے نگل لیا تھا اس لیے انہیں ذوالنون فرمایا۔ عربی میں نون مچھلی کو کہتے ہیں اور حوت بھی کہتے ہیں۔ اس لیے سورة ن و القلم میں (صاحب الحوت) فرمایا ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کا مفصل قصہ ہم سورة یونس میں بیان کرچکے ہیں۔ اور انشاء اللہ تعالیٰ سورة صافات کی تفسیر میں بھی ذکر کریں گے۔ یہاں یہ قصہ بقدر ضرورت ذکر کیا جاتا ہے جس سے ان دونوں آیتوں کا مفہوم سمجھ میں آجائے۔ حضرت یونس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 87–88

(8) قصہ یونس (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ وذالنون اذھب مغاضبا .... الیٰ .... وکذلک نجی ال مومن ین۔ یہ آٹھواں قصہ یونس (علیہ السلام) کا ہے جن کو ذوالنون کہا جاتا ہے۔ ” نون “ کے معنی مچھلی کے ہیں کیونکہ مچھلی نے ان کو لقمہ کرلیا تھا اس لیے انکا لقب ذوالنون ہوا یعنی مچھلی والے۔ وہ اپنی قوم سے خفا ہو کر چلے گئے تھے، جب دیکھا کہ قوم کفر اور سرکشی پر تلی ہوئی ہے تو یونس (علیہ السلام) سے صبر نہ ہوسکا اس لیے ناخوش ہو کر ان کے درمیان سے نکل گئے اور یہ ایک قسم کی ہجرت تھی کہ کافروں کے ایمان سے ناامید ہوئے تو ناراض ہو کر ان کے درمیان سے نکل گئے اور انکا یہ غصہ اپنی وجہ سے نہ تھا۔ بلکہ خدائے عزوجل کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 87–88

59:۔ ” وَ ذَالنُّوْنِ اِذْ الخ “ یہ آٹھویں تفصیلی عقلی دلیل ہے حضرت یونس (علیہ السلام) عرصہ تک اپنی قوم کو دعوت و تبلیغ کے بعد ان کے ایمان سے مایوس ہوگئے اور ان کے انکار و اصرار پر ناراض ہو کر ہجرت کرلی حالانکہ ابھی تک اللہ کی جانب سے اس قسم کا کوئی حکم ان پر نازل نہیں ہوا۔ غالباً اپنے اجتہاد سے یہ فیصلہ کیا کہ ان لوگوں پر اب حجت خداوندی تام ہوچکی ہے اور ان کے یمان لانے کی کوئی امید نہیں اب تو عنقریب ہی ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہونے والا ہے اس لیے یہاں سے ہجرت کر جانا چاہئے۔ ” مُغَاضِبًا “ ای غضبان علی قومہ لشدۃ شکیمتھم وتمادی اصرارھم مع طول دعوتہ ایاھم وکان ذھابہ ھذا ھجرۃ عنھم لکنہ لم…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 87–88

ربط آیات : پہلے حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر ہوا ، پھر حضرت اسماعیل ، ایوب اور ذالکفل (علیہم السلام) کا۔ اللہ نے ان سب کو علم و حکمت سے نوازا تھا۔ ان کی نبوت عطا فرمائی پھر ان پر مصائب بھی آئے ، جنہیں انہوں نے خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ یہ سب بعد میں آنے والوں کے لئے نمونہ تھے۔ اللہ نے ان کو بطور مثال پیش کیا کہ دیکھو ان لوگوں نے تکلیف کے دوران کس قدر صبر سے کام لیا ، لہٰذا تمہیں بھی ان کا سوہ اختیار کرنا چاہیے۔ جس طرح ان لوگوں نے بوقت ضرورت اللہ کے حضور مناجات پیش کی ، اسی طرح تمہیں بھی کرنا چاہیے۔ تمہارا کام دعا کرنا ہے اور مصائب کو دور کرنا اللہ کا کام ہے۔ وہ قادر مطلق ہے جب چاہے کسی کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ۝ 0ۙ وَنَجَّيْنٰہُ مِنَ الْغَمِّ۝ 0ۭ وَكَذٰلِكَ نُـــــْۨجِي الْمُؤْمِنِيْنَ۝ 88 نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو ہم نے نجات دی ۔ غم الغَمُّ : ستر الشیء، ومنه : الغَمَامُ لکونه ساترا لضوء الشمس . قال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 87–93

1 ؎ اذ وہب مغاضبا سے اگر یہ یہی مراد لیا جائے کہ خدا سے خفا ہو کر چل دیے تھے تو یہ خفگی باہمی محبت میں بیگانوں کے پیار سے زیادہ مرتبہ کہتی ہے اور فطن ان لن نقدر علیہ کے یہ معنی کہ اس خفگی میں ان کا یوں جانا گویا ان کا یہ سمجھ لینا ہے کہ ہم سے بھاگ کر چلے آئے ہیں ہم ان کو پکڑ نہ سکیں گے نہ یہ کہ درحقیقت انہوں نے ایسا گمان بھی کرلیا تھا کیونکہ وہ نبی تھے صفات باری خدا تعالیٰ سے واقف تھے ایسی باتیں عشق و محبت کی باہمی معاملات ابر رموز ہیں ایسی چھیڑ چھاڑ کا حل دفتر عشق سے ہوسکتا ہے عقل کے قانون میں اس کی گنجائش نہیں اس لیے حضرت ذی النون ( علیہ السلام) پر تنبیہ کی گئی مچھلی کے پیٹ میں جا پڑے آخر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاسْتَجَبْنَا لَـہٗ لا وَنَجَّیْنٰـہُ مِنَ الْغَمِّ ط وَکَذٰلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الانبیاء : 88) (پس ہم نے ان کی پکار کو قبول فرما لیا اور ہم نے انھیں غم سے نجات دے دی اور ہم اسی طرح اہل ایمان کو نجات دیتے ہیں۔ ) حضرت یونس (علیہ السلام) کی دعا کی قبولیت جب مچھلی کے پیٹ اور سمندر کے اندر ہزاروں ظلمات میں گھرے ہوئے حضرت یونس (علیہ السلام) نے اپنے اللہ کو پکارا، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اس کی پکار کو قبولیت کا شرف بخشا۔ وہ زمین کے پاتال میں پہنچ چکا تھا جہاں کسی انسان کا شاید تصور بھی نہ پہنچ سکے، لیکن اللہ تعالیٰ ہر جگہ سنتا اور دستگیری فرماتا ہے۔ چناچہ حضرت یونس (علیہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 87–88

فہم القرآن ربط کلام : حضرت اسماعیل، حضرت ادریس اور ذوالکفل ( علیہ السلام) کے بعد حضرت یونس (علیہ السلام) کا بیان۔ سیدنا یونس (علیہ السلام) (صاحب الحوت) قرآن حکیم کی چھ سورتوں میں حضرت یونس (علیہ السلام) کا ذکر موجود ہے چار سورتوں میں صرف نام آیا ہے اور دو سورتوں میں ذالنُّون اور صاحب الحوت کے الفاظ سے ذکر ہوا ہے۔ النساء : 163 الانعام : 86 یونس : 98 الانبیاء : 87۔ 88 الصافات : 139 تا 148 القلم : 48 تا 50 تعارف : بخاری شریف میں حضرت یونس (علیہ السلام) کے والد کا نامی متّٰی آیا ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) اسرائیلی نبی تھے مگر انہیں آشور (اسیریا) والوں کی ہدایت کے لیے عراق بھیجا گیا تھا۔ اسی بنا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

88: فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ وَنَجَّیْنٰہُ مِنَ الْغَمِّ (پھر ہم نے ان کی دعا کو قبولیت عنایت فرمائی اور ان کو غم سے نجات دی) لغزش و حشت اور وحدت کا غم۔ وَکَذٰلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِیْنَ (اور ہم مؤمنین کو اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں) جب وہ دعا کرتے ہیں اور ہم سے فریاد کرتے ہیں۔ قراءت : شامی اور ابوبکر نے جیمؔ اور نونؔ کے ادغام سے پڑھا ہے اور یہ بعض قراء کا مسلک ہے کیونکہ نون کا جیم میں ادغام نہیں ہوتا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ نُجّی النجاءُ من المؤمنین یاء کو تخفیف کیلئے ساکن کردیا۔ اور فعل کا اسناد مصدر کی طرف کردیا اور مؤمنین کو النجاء مصدر کی وجہ سے نصب دیا۔ لیکن اس میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 88۔ فاستجبنالہ، جب ہم نے ان کو پکار کر سن لیا، ونجیناہ من الغم، ان اندھیروں سے نجات دی۔ ” وکذلک ننجی المومنین، ، مومنین کو بھی ہر مصیبت سے نجات دیتے ہیں۔ جب وہ ہمیں اخلاص کے ساتھ پکاریں اور مجھ ہی سے مدد طلب کریں ۔ ابن عامر ، عاصم نے ابوبکر کی روایت کے مطابق ایک نون اور جیم کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور یاء کے سکون کے ساتھ چونکہ ان کے مصاحف میں ایک نون کے ساتھ ہی لکھا ہوا ہے۔ نحویوں کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ ایک نون والی قرا ت درست ہے کہ نہیں وہ کہتے ہیں کہ بڑی غلطی ہے کیونکہ اگر یہ مفعول ، مالم یسم فاعلہ، ہوتا تو اس کی یاء ساکن نہ ہوتی اور لفظ مومنین مرفوع ہوتا اور ان میں سے بعض نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 87–88

87۔ 88:۔ یہ یونس (علیہ السلام) کا قصہ یہاں ‘ سورة والصافات اور سورة نٓ میں اس طرح کئی جگہ آیا ہے ‘ تفسیر سدی ‘ تفسیر ابن ابی حاتم ‘ مسند بزار اور تفسیر ابن مردویہ میں عبداللہ بن مسعود کی صحیح روایت 1 ؎ سے یہ قصہ جو بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ موصل شہر کی سر زمین میں ایک نینوا بستی ہے ‘ وہاں کے لوگوں کی ہدایت کے واسطے یونس (علیہ السلام) نبی مقرر ہوئے تھے جب وہاں کے لوگوں نے یونس (علیہ السلام) کی نصیحت کو نہ مانا تو یونس (علیہ السلام) تین دن میں عذاب کے آجانے کا پیغام قوم کے لوگوں کو سنا کر قوم کی حالت پر غصہ میں بھرے ہوئے اس بستی سے باہر چلے گئے ‘ نینوا کے لوگوں نے جب کچھ آثار عذاب کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 87–88

آیت 87 یعنی ہمارے بندے اور رسول ذوالنون کو ذکر جمیل اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کریں اور ذوالنون سے مراد حضرت یونس (علیہ السلام) ہیں، یعنی مچھلی والے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی مگر وہ ایمان نہ لائے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے ان کو نزول عذاب کی وعید سنائی اور عذاب کے نزول کے لئے ایک وقت مقرر کردیا۔ پس جب ان پر عذاب آیا اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے عذاب دیکھ لیا تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑائے اور توبہ کی، تو اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فلو لا کانت قریٓ امنت فنفعھا ایمانھا الا قوم یونس لما…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 78–112

ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

115 ایمان والوں کے لیے نجات کی خوشخبری : پس ایمان والوں کو چاہیے کہ وہ شدائد و مصائب اور مشکلات و مضائق میں ہمیشہ ہماری ہی طرف رجوع کریں اور ہم ہی کو پکاریں تاکہ وہ گوہر مقصود سے فیضیاب و شادکام ہو سکیں کہ مشکلات سے بچانا اور مضائق میں مدد کرنا ہمارا ہی کام اور ہماری ہی شان ہے۔ اور ہم نے جس طرح حضرت یونس کو ان تہ در تہ اندھیروں سے نکالا اور وہاں ان کی مدد فرمائی اسی طرح جو بھی مسلمان صدق دل سے ہماری طرف رجوع کرے گا ہم اس کو اس طرح اپنی نصرت و امداد اور نجات سے نوازیں گے اور مختلف احادیث و روایات میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جو بھی کوئی مصیبت زدہ اپنی مصیبت میں حضرت یونس کی یہ دعا پڑھے گا اللہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 85–92

مختلف انبیائے کرام کا تذکرہ تشریح : ان تمام واقعات میں بہت سی نصیحتیں ہیں گو کہ مخاطب سیدنا محمد ﷺ کو ہی کیا گیا ہے۔ اسی سلسلہ میں سیدنا اسماعیل کی طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ ان کو سخت آزمائشوں سے واسطہ پڑا اسی سلسلہ میں خانہ کعبہ کا ظہور ہوا آپ کو مذبوح (ذبح کیے گئے) کا لقب ملا حج پر قربانی انہی کی یاد میں کی جاتی ہے۔ اسی لیے آپ کو نبوت دی گئی آپ کے مکمل حالات سورة مریم میں گزر چکے ہیں۔ سیدنا ادریس (علیہ السلام) بھی نیکی و پارسائی میں کسی سے کم نہ تھے اور پھر ذوالکفل (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔ بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ہیں۔ یہ سب اللہ کے مقبول ترین بندے تھے کیونکہ انہوں نے خود کو اللہ کے لیے ہی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 76–93

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف ایسے ہی نوح (علیہ السلام) کی مثال ہے جب کفار کی ایذا اور مسلسل انکار کے باعث انہوں نے دعا کی تو کفار تباہ وبرباد ہوگئے ، سارا عالم غرق ہوا مگر وہ ان کے ماننے والے اس بہت بڑے دکھ سے بھی محفوظ رہے نیز کفار کی ایذا سے بھی ہمیشہ کے لیے بچا لیے گئے کہ کفار غرق ہو کر اپنے انجام کو پہنچے نیز ہم نے کفار سے اپنی آیات کے انکار اور نبی کی نافرمانی کا خوب خوب بدلہ لیا کہ وہ بھی بہت برے لوگ تھے اور جب اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور نبی کی دشمنی میں حد سے بڑھے تو ہم نے سب کو ڈبو دیا اور غرق کر کے تباہ کردیا ۔ (نبی کی اطاعت میں آخرت بھی اور دنیا کا فائدہ بھی نصیب ہوتا ہے) نیز داؤد…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 88–89

ف 2 ۔ یعنی یہ حجرت یونس ( علیہ السلام) کے ساتھ خاص نہ تھا بلکہ ہم ایمان والوں کو … ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس مسلمان نے بھی کسی مصیبت میں اس دعا سے پکارا اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا قبول فرمائی۔ (شوکانی بحوالہ ترمذی، نسائی) 3 ۔ یعنی حقیقی وارث تو ہی ہے اگر تو مجھے اولاد نہ بھی دے گا تب بھی میرے بعد اپنے دن کا کوئی انتظام ضرور کرے گا۔ (عرصبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(21:88) ننجی مضارع جمع متکلم۔ انجاء (افعال) مصدر۔ ہم نجات دیتے ہیں۔ ہم رہائی دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 76–93

لغات القرآن آیت نمبر 76 تا 93 الکرب العظیم بہت بڑی بےچینی۔ قوم سوء برے لوگ۔ یحکمان فیصلہ کرنے لگے۔ الحرث کھیتی، کھیت۔ نفثت چر گئیں۔ غنم بکریاں۔ فھمنا ہم نے سمجھ عطا کی۔ الطیر پرندے۔ صنعۃ بنانا۔ لبوس لباس۔ تحصن تمہیں بچاتی ہے۔ باس سختی، جنگ۔ عاصفۃ تیز ہوا، آندھی۔ یعوضون غوطہ لگاتے ہیں۔ مسنی مجھے پہنچا۔ کشفنا ہم نے کھول دیا۔ مغاضباً غصہ میں بھرا ہوا۔ لاتذرنی تو مجھے نہ چھوڑنا۔ فرد تنہا۔ اصلحنا ہم نے درست کردیا۔ یسرعون دوڑتے ہیں۔ رغب امید۔ رھب ڈر۔ خوف۔ خاشعین ڈرنے والے۔ احصنت اس نے حفاظت کی۔ نفخنا ہم نے پھونک ماری۔ تشریح :- آیت نمبر 76 تا 93 سورۃ الانبیاء کی ان آیت میں گیارہ نبیوں اور رسولوں کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 87–88

حضرت یونس (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 2) یہ حضرت یونس کا قصہ یہاں اور سورة صافات اور سورة ن میں کئی جگہ آیا ہے حضرت یونس ابن متی (علیہ السلام) کو اپنی قوم سے جس نے ان کی دعوت نہ قبول کی تھی اور نصیحت نہ مانی تھی اور کفر پر قائم رہی تھی آپ نے گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لیے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور اہل کفر کے ساتھ بغض اور اللہ کے لیے غضب کرنا ہے لیکن آپ نے اس ہجرت میں حکم الٰہی کا انتظار نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈالا کئی قسم کی اندھیریاں تھیں دریا کی اندھیری ، رات کی اندھیری ، مچھلی کے پیٹ کی اندھیری ، اندھیریوں میں حضرت یونس نے اپنے پروردگار سے اس طرح دعا کی جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 87–88

[48] ذوالنون کے معنی ہیں مچھلی والا۔ مراد اس سے یونس (علیہ السلام) ہیں جنہیں مچھلی نے اللہ کے حکم سے نگل لیا تھا۔ [49] یونس (علیہ السلام) اپنی قوم سے ناراض ہو کر چلے گئے تھے کیونکہ قوم نے ان کی دعوت قبول نہ کی تھی اور کفر پر قائم تھی۔ [50] کیونکہ یونس (علیہ السلام) حکم الٰہی کا انتظار کئے بغیر چلے گئے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے انھیں مچھلی کے پیٹ میں ڈالا۔ اندھیروں سے مراد ہے دریا اور مچھلی کے پیٹ کے چند درچند اندھیرے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 85–90

(ف 1) ذوالکفل کے متعلق اختلاف ہے کہ ہو زمرہ انبیاء میں سے تھے یا صلحاء امت میں ، قرآن نے انہیں انبیاء (علیہم السلام) کی صف میں کھڑا کیا ہے جمہور علماء کا مذہب بھی یہی ہے کہ یہ پیغمبر تھے مگر یہ تحقیق نہیں کہ یہ کس عصر کے پیغمبر تھے ۔ ذوالنون حضرت یونس (علیہ السلام) کا لقب ہے ۔ غرض یہ ہے کہ یہ تمام انبیاء صابر تھے ، صالح تھے اللہ پر بھروسہ اور توکل رکھنے والے تھے ، اور ان کے دلوں میں اللہ کی خشیت اور اس کا خوف تھا ۔ ان سب کی خصوصیت جو قرآن حکیم نے بتائی ہے وہ یہ ہے کہ یہ لوگ ہر ابتلاء کے وقت بےچین ہو کر صرف اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے ، صرف اسی کا نام تھا جو ان کے لئے وجہ طمانیت ہوسکتا تھا ، اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(88) پھر ہم نے اس کی دعا قبول کرلی اور اس کو غم اور الم سے نجات دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں۔ یعنی جب بطن ماہی میں یونس (علیہ السلام) نے پکارا تو ہم نے اس کو اس غم اور گھٹن سے نجات دے دی اور ہم اسی طرح دوسرے اہل ایمان کو بھی کرب و غم سے نجات دیا کرتے ہیں کسی مصیبت اور کرب و شدت کے موقع پر لآ الٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظٰلمین کا پڑھنا موثر ثابت ہوا ہے اپنے اکابر کا سوا لاکھ بار پڑھنا معمول ہے۔ دیگرمشائخ سے مختلف طریقے منقول ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 88–89

ف 6۔ حضرت یونس (علیہ السلام) سے اس واقعہ میں کوئی امر کی مخالفت نہیں ہوئی، صرف اجتہاد میں غلطی ہوئی، جو امت کے لئے عفو ہے مگر انبیاء کی تربیت و تہذیب زائد مقصود ہوتی ہے، اس لئے یہ ابتلاء ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حضرت یونس (علیہ السلام) کی پکار سن لی اور ان کو نبوت عطا کر کے قوم کی طرف واپس جانے کا حکم سنایا : 88۔ حضرت یونس (علیہ السلام) ایسی مضطرب حالت میں اپنے وطن سے بھاگے تھے کہ آپ کی کوئی منزل نہیں تھی کہ کدھر جانا ہے اہل کشتی میں سوار ہوئے تو آپ نے اپنا غم اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کرکے ہلکا کیا اور کشتی بہرحال اپنی منزل مقصود کو پہنچ گئی سارے لوگ اپنی اپنی منزل کو سدھارے لیکن جس کی کوئی منزل ہی نہ تھی اس پر کیا بیتی ہوگی یہ وہی شخص جان سکتا ہے جس کی اپنی منزل گم ہوچکی ہو اور وہ تن تنہا میدان میں رہ گیا ہو جہاں نہ کسی سے کوئی جان پہچان ہو اور نہ کسی کی اس سے یا اس کی کسی سے کوئی غرض ہی وابستہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The prayer of Yunus (علیہ السلام) is invoked by all people at all times and for all their needs وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ (And this is how We rescue the believers - 21:88.) That is, just as We released Yunus (علیہ السلام) from his misery and distress, so do We deliver other believers (مُؤْمِنِينَ ) when they turn towards Us repenting their sins sincerely. According to a hadith of the Holy Prophet ﷺ if a Muslim prays to Allah Ta` a1a for the grant of a wish in the words used by Yunus (علیہ السلام) when he was in the stomach of the fish i.e. لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 87–89

82. That is, Jonah, literally Dhun-Nun means the man of the fish. He was called so because he was devoured by a fish by the command of Allah. (Also See (Surah As-Saffaat, Ayat 142) and (Surah Younus, Ayat 98 and its E.Ns 98-100). 83. Prophet Jonah left his people before he received Allah’s command for migration. 84. He presumed that he should leave, the place which was going to be visited by the scourge of Allah. This was not by itself an offence but it was an offence for a Prophet to leave the place of his mission without the permission of Allah. 85.“Darkness”: the darkness in the belly of…

Read the full tafseer →