Explained with ayahs 85–86
ذوالکفل نبی نہیں بزرگ تھے
حضرت اسماعیل حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ کے فرزند تھے۔ سورة مریم میں ان کا واقعہ بیان ہوچکا ہے۔ حضرت ادریس ؑ کا بھی ذکر گزر چکا ہے۔ ذوالکفل بہ ظاہر تو نبی ہی معلوم ہوتے ہیں کیونکہ نبیوں کے ذکر میں ان کا نام آیا ہے اور لوگ کہتے ہیں یہ نبی نہ تھے بلکہ ایک صالح شخص تھے اپنے زمانہ کے بادشاہ تھے بڑے ہی عادل اور بامروت، امام ابن جریر ؒ اس میں توقف کرتے ہیں فاللہ اعلم۔ مجاہد ؒ فرماتے ہیں یہ ایک نیک بزرگ تھے جنہوں نے اپنے زمانے کے نبی سے عہد و پیمان کئے اور ان پر قائم رہے۔ قوم میں عدل وانصاف کیا کرتے تھے۔ مروی ہے کہ جب حضرت یسع ؑ بہت بوڑھے ہوگئے تو ارادہ کیا کہ میں اپنی زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
سورة الْاَنْبِیَآء 80
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم تفسیر سورة مریم، حاشیہ 33۔
سورة الْاَنْبِیَآء 81
ذوالکفل کا لفظی ترجمہ ہے " صاحب نصیب "، اور مراد ہے اخلاقی بزرگی اور ثواب آخرت کے لحاظ سے صاحب نصیب، نہ کہ دنیوی فوائد و منافع کے لحاظ سے۔ یہ ان بزرگ کا نام نہیں بلکہ لقب ہے۔ قرآن مجید میں دو جگہ ان کا ذکر آیا ہے اور دونوں جگہ ان کو اسی لقب سے یاد کیا گیا ہے، نام نہیں لیا گیا۔
مفسرین کے اقوال اس معاملہ میں بہت مضطرب ہیں کہ یہ بزرگ کون ہیں، کس ملک اور قوم سے تعلق رکھتے ہیں، اور کس زمانے میں گزرے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ حضرت زکریا کا دوسرا نام ہے (حالانکہ یہ صریحاً غلط ہے، کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
خلاصہ تفسیر
اور اسمعٰیل اور ادریس اور ذوالکفل (کے قصہ) کا تذکرہ کیجئے یہ سب (احکام الٰہیہ شریعیہ اور تکوینیہ پر) ثابت قدم رہنے والے لوگوں میں سے تھے اور ہم نے ان (سب) کو اپنی رحمت (خاصہ) میں داخل کرلیا تھا بیشک یہ (سب) کمال صلاحیت والوں میں تھے۔
معارف و مسائل
حضرت ذوالکفل نبی تھے یا ولی اور ان کا قصہ عجیبہ
آیات مذکورہ میں تین حضرات کا ذکر ہے جن میں حضرت اسمعٰیل اور حضرت ادریس (علیہما السلام) کا نبی و رسول ہونا قرآن کریم کی بہت سی آیات سے ثابت اور ان کا تذکرہ بھی قرآن میں جا بجا آیا ہے۔ تیسرے بزرگ ذوالکفل ہیں۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ ان کا نام ان دونوں پیغمبروں کے ساتھ شامل کر کے ذکر کرنے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
آیت 86-85
حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس (علیہما السلام) پر سو رہ مریم کی آیات 57-54 سے تحت بحث گزر چکی ہے۔ ان دونوں نبیوں میں جو وصفی مماثلت ہے اس کی طرف بھی ہم نے وہاں اشارہ کیا ہے۔ یہاں ان کے ساتھ حضرت ذوالکفل کو بھی شامل کردیا اور ان تینوں ہی حضرات کے باب میں فرمایا کہ کل من الصبرین جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صفت صبر ان تنیوں ہی حضرات کی نمایاں خصوصیت ہے۔ ان میں سے حضرت اسماعیل کا صبر تو واضح طور پر معلوم ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ ان کے صبر کا ذکر ہے لیکن حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل کی سرگزشت حیات بالکل پردہ غفا میں ہے۔ قدیم صحیفوں میں ان ناموں سے ان کا ذکر موجود نہیں ہے۔ اب یا تو یہ ہوا ہے کہ عربی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
85۔ 1 ذوالکفل کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ نبی تھے یا نہیں ؟ بعض نے ان کی نبوت کے اور بعض ولایت کے قائل ہیں۔ امام ابن جریر نے ان کی بابت توقف اختیار کیا ہے، امام ابن کثیر فرماتے ہیں، قرآن میں نبیوں کے ساتھ ان کا ذکر ان کے نبی ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
39: حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس (علیہما السلام) کا ذکر تو پہلے سورة مریم میں گزرچکا ہے، حضرت ذوالکفل کا قرآن کریم میں صرف نام آیا ہے ان کا کوئی واقعہ قرآن کریم نے بیان نہیں فرمایا، بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ بھی کوئی پیغمبر تھے، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ حضرت یسع ؑ کے خلیفہ تھے، اور نبی تو نہیں تھے، لیکن بڑے اونچے درجے کے ولی تھے، واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →واذخلنھم فی ۔۔۔۔ من الصلحین (12 : 68) ” ان کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا کہ وہ صالحوں میں سے تھے “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
8 " مچھلی والا " فرمایا حضرت یونس (علیہ السلام) کو۔ ان کا مختصر قصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شہر نینویٰ کی طرف (جو موصل کے مضافات میں سے ہے) مبعوث فرمایا تھا۔ یونس (علیہ السلام) نے ان کو بت پرستی سے روکا اور حق کی طرف بلایا۔ وہ ماننے والے کہاں تھے، روز بروز ان کا عناد و تمرد ترقی کرتا رہا۔ آخر بددعا کی اور قوم کی حرکات سے خفا ہو کر غصہ میں بھرے ہوئے شہر سے نکل گئے حکم الٰہی کا انتظار نہ کیا اور وعدہ کر گئے کہ تین دن کے بعد تم پر عذاب آئے گا ان کے نکل جانے کے بعد قوم کو یقین ہوا کہ نبی کی بددعا خالی نہیں جائے گی کچھ آثار بھی عذاب کے دیکھے ہوں گے۔ گھبرا کر سب لوگ بچوں اور جانوروں سمیت باہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
آیت 87 وَذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّہَبَ مُغَاضِبًا ”
یعنی حضرت یونس علیہ السلام۔ آپ علیہ السلام کو ”مچھلی والا“ اس لیے فرمایا گیا ہے کہ آپ علیہ السلام کو مچھلی نے نگل لیا تھا۔ آپ علیہ السلام کو شہر نینوا کی طرف مبعوث فرمایا گیا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا اور حق کی طرف بلایا۔ آپ علیہ السلام نے بار بار دعوت دی ‘ ہر طرح سے تبلیغ و تذکیر کا حق ادا کیا ‘ مگر اس قوم نے آپ علیہ السلام کی کسی بات کو نہ مانا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ ہوگیا۔ اس موقع پر آپ علیہ السلام حمیتِ حق کے جوش میں قوم سے برہم ہو کر ان کو عذاب کی خبر سنا کر وہاں سے نکل آئے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
76 ذوالکفل کے حالات بھی کتاب و سنت میں کم ہی مذکور ہوئے ہیں۔ آپ کی نبوت میں اختلاف ہے۔ یعنی آپ نبی تھے یا نہیں۔ مگر چونکہ آپ کا ذکر انبیاء کے ہی درمیان آیا ہے۔ اس لیے گمان غالب یہی ہے کہ آپ نبی تھے۔ آپ الیسع کے خلیفہ تھے۔ آپ کا لقب ذوالکفل (بمعنی صاحب نصیب) اور نام بشیر بن ایوب ہے۔ شام کا علاقہ ہی آپ کی دعوت کا مرکز ہے۔ عمالقہ شاہ وقت بنی اسرائیل کا سخت دشمن تھا۔ آپ نے اس سے بنی اسرائیل کو آزاد کرایا۔ پھر وہ بادشاہ بھی مسلمان ہوگیا اور حکومت آپ کے سپرد کی۔ جس کے نتیجہ میں شام کے علاقہ میں ایک دفعہ پھر خوب اسلام پھیلا۔
Read the full tafseer →114۔ مسلمان کے لئے تو یہ عقیدہ کافی ہے کہ یہ حضرات کافی ہے کہ یہ حضرات جب نبی تھے تو صالح بدرجہ اولی ہوں گے۔ لیکن اسے کیا کیجئے کہ بائبل والوں نے اپنے پیغمبروں کو بری طرح گناہوں میں مبتلا دکھایا ہے۔ نبوت ان کے ہاں گویا محض ایک قسم کی کہانت یا اشراقیت تھی اور اس کا تعلق اخبار بالغیب سے تو تھا لیکن تزکیہ نفس یا تطہیر اخلاق سے بالکل نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–93
آیت نمبر 83 تا 93
ترجمہ : اور یاد کرو ایوب (علیہ السلام) کی حالت کو اذ نادیٰ ربہ ایوب سے بدل ہے، جبکہ ان کو ان کے تمام مال و اولاد کو ہلاک کرکے اور ان کے جسم کو پارہ پارہ کرکے اور ان کی بیوی کے علاوہ تمام لوگوں کے ان کو تین سالوں یا سات سالوں یا اٹھارہ سالوں تک چھوڑ دینے اور ان کو تنگ زندگی کے ذریعہ آزمایا گیا انی ہمزہ کے فتحہ اور با کی تقدیر کے ساتھ ہے، یعنی اس وقت کو یاد کرو جب ایوب (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھ کو تکلیف لاحق ہوگئی ہے اور آپ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہیں تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو جو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ہم نے ان کو ان کے اہل یعنی اولاد…
Read the full tafseer →وادخلنہم فی رحمتنا اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کرلیا۔ رحمت سے مراد ہے نبوت ‘ جنت اور مراتب قرب۔
انہم من الصلحین۔ بلاشبہ وہ اہل صلاح میں سے تھے یعنی ان لوگوں میں سے تھے جن کو بگاڑ اور خرابی کی ہر کدورت سے بچا لیا گیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
(85۔ 86) اور اسماعیل ؑ اور ادرس ؑ اور ذوالکفل ؑ کا بھی تذکرہ کیجیے یہ سب احکام الہیہ تشریعیہ، وتکوینیہ پر ثابت قدم رہنے والے لوگوں میں سے تھے، ہم ان کو آخرت میں اپنی جنت میں داخل کریں گے اور ذوالکفل ؑ کے علاوہ یہ سب نبی تھے اور ذوالکفل ؑ نبی نہیں تھے بلکہ ایک صالح نیکوکار شخص تھے۔
Read the full tafseer →وَاَدْخَلْنٰهُمْ فِيْ رَحْمَتِنَا ۭ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ : ”صَلَحَ یَصْلَحُ صَلَاحًا“ (ف، ن، ک) درست ہونا۔ یہ فساد کی ضد ہے۔ (قاموس) اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء کی تعریف فرمائی کہ وہ پوری طرح صالح تھے، ان کا دل اللہ تعالیٰ پر ایمان، اس کی محبت اور ہر وقت اس کے ذکر سے درست تھا۔ ان کی زبان اس کے ذکر، اس کے دین کی دعوت اور ہر وقت سچ کہنے سے درست تھی اور دوسرے تمام اعضاء اس کے احکام کی اطاعت اور منع کردہ چیزوں سے اجتناب کی وجہ سے درست تھے، کیونکہ ان تینوں کے درست ہوئے بغیر کوئی شخص صالح نہیں کہلا سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ صبر و صالحیت کی وجہ سے ہم نے انھیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واسمعیل وادریس ادریس، اخنوح تھے یہ پہلے گزر چکا ہے۔ وذالکفل یعنی اسماعیل، ادریس اور ذوالکفل کو یاد کرو۔ ترمذی الحکیم نے نوادر الاصول میں حضرت ابن عمر کی حدیث نقل کی ہے جو نہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے فرمایا : بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس کو ذوالکفل کہا جاتا تھا وہ کسی گناہ سے بچتا نہیں تھا اس نے ایک عورت کا پیچھا کیا اس سے بدکاری کرنے کے لیے اسے ساٹھ دینار دیے جب وہ اس کے قریب بیٹھا تو وہ کا نپنے لگی اور رونے لگی ذوالکفل نے کہا : کیا میں نے تجھے مجبور کیا ہے ؟ اس عورت نے کہا : نہیں لیکن مجھے حاجت نے مجبور کیا ہے۔ ذوالکفل نے کہا : تو چلی جا وہ رقم بھی تیری ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
1:۔ حاکم نے سمرہ کے طریق سے حضرت کعب ؓ سے روایت کیا کہ ایوب بن اموص اللہ کے نبی تھے۔ صبر کرنے والے، لمبے قدوالے، گھنگھریالے بالوں والے، کھلی آنکھوں والے اور اچھے اخلاق والے تھے۔ ان کی پیشانی پر لکھا ہوا تھا۔ آزمائش میں مبتلا ہونے والے، صبر کرنے والے، اور آپ کی گردن چھوٹی تھی۔ سینا چوڑا تھا پنڈلیاں اور بازو موٹے تھے۔ یتیموں کو عطا فرماتے تھے اور ان کو کپڑے پہناتے تھے جہاد کرنے والے اور نصیحت کرنے والے تھے اللہ کے لئے۔
2:۔ حاکم نے وہب (رح) سے راویت کیا کہ حضرت ایوب کا سلسلہ نسب یہ تھا ایوب بن اموص بن رزاح بن عیص بن اسحاق بن ابراہیم الخلیل۔
3:۔ ابن سعد نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ سب سے پہلے نبی…
Read the full tafseer →[ وَاَدْخَلْنٰهُمْ : اور ہم نے داخل کیا ان کو ] [ فِيْ رَحْمَتِنَا : اپنی رحمت میں ] [ انهُمْ : بیشک وہ لوگ ] [ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ : صالح لوگوں میں سے تھے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
حضرت اسماعیل و حضرت ادریس و حضرت ذوالکفل ( علیہ السلام) کا تذکرہ
ان آیات میں حضرت اسماعیل، حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل ( علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا اور یہ فرمایا کہ یہ سب صابرین میں سے تھے۔ حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس (علیہ السلام) کا تذکرہ سورة مریم میں گزر چکا ہے اور حضرت ذوالکفل کا نام یہاں قرآن مجید میں پہلی جگہ آیا۔ اور سورة ص میں بھی حضرت ذوالکفل کا تذکرہ ہے۔ وہاں فرمایا (وَاذْکُرْ اِسْمَاعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْکِفْلَ وَ کُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِ ) (اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو یاد کیجیے اور یہ سب اچھے لوگوں میں سے ہیں) حضرت الیسع کا ذکر سورة انعام میں گزر چکا ہے یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
(7) قصہ حضرت اسمعیل و ادریس و ذوالکفل (علیہم السلام)
قال اللہ تعالیٰ واسمعیل وادریس و ذالکفل .... الیٰ .... انھم من الصلحین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے صبر کا قصہ بیان فرمایا۔ اب یہ ساتواں قصہ ان تین حضرات کا ہے جو اپنے زمانہ میں صبر اور تحمل میں بےمثال تھے اس قصہ سے اور گزشتہ قصہ سے آنحضرت ﷺ کی تسلی مقصود ہے اور اے نبی ﷺ اسمعیل اور ادریس اور ذوالکفل (علیہم السلام) کا ذکر کیجئے۔ ان میں سے ہر ایک صابرین میں سے تھا اور ہم نے ان کو اپنی خاص الخاص رحمت میں داخل کرلیا تھا اور یہ لوگ بلاشبہ صلاح میں کامل تھے ان کی صلاحیت میں کسی قسم کا نقص اور کدوت کا شائبہ نہ تھا۔
ان تینوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
58:۔ ” وَ اِسْمَا عِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ الخ “ یہ ساتویں تفصیلی نقلی دلیل ہے۔ یہ سب صبرو استقلال سے توحید سناتے رہے۔ ” وَ اَدْخَلْنٰھُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا “ ان کو ہم نے کافروں کے شر سے بچا کر اپنی رحمت میں داخل کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
ربط آیات :
پہلے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کا ذکر کیا اس سے پہلے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا تذکرہ ہوا ، پھر دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کا ذکر ہوا۔ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے ان تمام انبیاء کو علم و حکمت سے نوازا اور خصوصی انعامات عطا فرمائے۔ ان تمام انبیاء (علیہم السلام) پر بڑی مشکلات اور مصائب آئے جن کو انہوں نے صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کیا۔ اللہ نے بعض دوسرے انبیاء کا بھی اسی طریقے سے ذکر کرکے حضور خاتم النبیین ﷺ اور آپ کے رفقاء کے لئے تسلی کا سامان بہم پہنچایا ہے کہ ہر اذیت اور تکلیف کو برداشت کرنا چاہیے اور دشمنوں کی کسی بدسلوکی سے گھبرانا نہیں…
Read the full tafseer →وَاَدْخَلْنٰہُمْ فِيْ رَحْمَتِنَا 0ۭ اِنَّہُمْ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ 86
دخل
الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58]
( دخ ل ) الدخول
( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔
صالح
الصَّلَاحُ : ضدّ الفساد، وهما مختصّان في أكثر الاستعمال بالأفعال، وقوبل في القرآن تارة بالفساد، وتارة بالسّيّئة . قال تعالی: خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
ذی الکفل کا حال : اس کے بعد خدا تعالیٰ اسماعیل و ادریس و ذی الکفل (علیہم السلام) کا ذکر فرما کر ارشاد فرماتا ہے کہ ہر ایک ان میں سے صابر تھا ان پر بھی بڑی بڑی تکلیفیں دنیا میں نازل ہوئی ہیں۔ اسماعیل و ادریس ( علیہ السلام) کا حال اور ان کے مصائب تو ناظرین کو ہماری کتاب کے متعدد مقامات سے معلوم ہوگئے ہوں گے ہاں ذی الکفل کا بتلانا ضرور ہے۔ زجاج کہتے ہیں لغت میں کفل حصہ کو بھی کہتے ہیں اور اس کپڑے کو بھی جو اونٹ کے چوتڑوں پر پڑا رہتا ہے۔ اب اس میں اختلاف ہے کہ یہ بزرگ کون ہیں اور ان کو ذی الکفل کیوں کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ ذی الکفل سے مراد زکریا ہیں بعض کہتے ہیں یوشع بعض کہتے ہیں الیاس۔ قوی تر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِدْرِیْسَ وَذَاالْـکِفْلِ ط کُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَ وَاَدْخَلْنٰـھُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا ط اِنَّھُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ (الانبیاء : 85، 86)
(اور یاد کرو اسماعیل، ادریس اور ذوالکفل کو، یہ سب صبر کرنے والوں میں سے تھے۔ اور ہم نے ان کو اپنی خاص رحمت میں داخل کیا، بیشک وہ نیکوکاروں میں سے تھے۔ )
یہ تینوں انبیائے کرام صبر کی تصویر ہیں
یہ تینوں انبیائے کرام بھی حضرت ایوب (علیہ السلام) کی طرح دیگر خصائلِ حمیدہ کے ساتھ ساتھ صبر میں بطور خاص امتیاز رکھتے تھے۔ اس لیے حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ذکر کے بعد ان کا ذکر کرکے فرمایا یہ سب صبر کرنے والوں یعنی مشکل سے مشکل حالات میں ثابت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
فہم القرآن
ربط کلام : انبیاء کا ذکر جاری ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا تفصیلی ذکر سورة مریم میں ہوچکا ہے۔
حضرت ادریس (علیہ السلام) کا تعارف
حضرت ادریس (علیہ السلام) کے نسب اور زمانہ کے بارے میں مؤرخین کی سوچ میں بڑا تضاد پایا جاتا ہے۔ اس عظیم پیغمبر کے بارے میں قرآن مجید اور احادیث کی دستاویزات میں نہایت ہی مختصر ذکر ہے۔ جس کسی نے ادریس (علیہ السلام) کے بارے میں لکھا ہے۔ اس کی تحریر کا مآخذ بنی اسرائیل کی روایات کے سوا کچھ نہیں۔ اسرائیلی روایات کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے امت کو اس اصول کا پابند کیا ہے کہ ان روایات کی تصدیق یا تردید نہ کرو۔ لہٰذا حرف آخر یہی ہے کہ ان کے بارے میں ثقہ معلومات…
Read the full tafseer →86: وَاَدْخَلْنٰھُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا (اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا) رحمت سے نبوت مراد ہے یا آخرت کی نعمت اِنَّھُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ (بیشک وہ نیکوں میں سے تھے) یعنی یہ وہ لوگ تھے جن کی صلاح و فلاح میں فساد کی ملاوٹ نہ تھی۔
Read the full tafseer →86۔ وادخلناھم فی رحمتنا، ، وہ انعامات جو ہم نے ان پر دنیا میں کیے، مثلا نبوت ، جنت کی سیر اور ثواب۔ انھم من الصالحین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
85۔ 86:۔ صحیح بخاری 1 ؎ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی ایک بہت بڑی حدیث ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) مکہ ؓ کے میدان میں جب ہاجرہ (علیہا السلام) اور دودھ پیتے بچے اسمعیل (علیہ السلام) کو چھوڑ گئے تو ان کو ایک مشک پانی کی بھری ہوئی دے گئے تھے ‘ جب اس مشک کا پانی ختم ہوچکا اور ہاجرہ (علیہا السلام) پیاس سے بہت پریشان ہوئی تو اللہ کے حکم سے جبرئیل (علیہ السلام) نے زمزم کے مقام پر اپنا پر مارا جس سے یہ زمزم کا چشمہ نکلا اور اس پانی کے سبب سے جرہم بن قحطان کے قبیلہ کے لوگ اس مکہ کے میدان میں آباد ہوئے اور جوان ہوجانے کے بعد اس قبیلہ کی ایک عورت سے اسمعیل (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
آیت 85
یعنی ہمارے چنے ہوئے بندوں، اور انبیاء ومرسلین کو بہترین اسلوب میں یاد کیجئے اور بلیغ ترین پیرائے میں ان کی مدح و ثنا کیجئے، یعنی اسماعیل، ادریس، ذوالکفل اور بنی اسرائیل کے انبیاء (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے۔ (کل) یعنی تمام انبیاء جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے (من الصبرین) صبر کرنے والے تھے۔ صبر سے مراد نفس کو اس کے طبعی میلان کی طرف مائل ہونے سے روکنا ہے اور یہ صبر تین انواع پر مشتمل ہے۔
1۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر (یعنی اس کے حکموں کی پابندی) کرنا۔
2۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے صبر کرنا (یعنی اس کے حکموں کی خلاف ورزی نہ کرنا)
3۔ اللہ تعالیٰ کی تکلیف و قضا و قدر پر صبر کرنا۔
بندہ صبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–112
ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ
قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں…
Read the full tafseer →112 صبر واستقامت ذریعہ ظفر و کرامت : سو حضرت اسماعیل، ادریس اور ذو الکفل تینوں کے بارے فرمایا گیا کہ یہ تینوں صابر تھے۔ نیز فرمایا گیا کہ ہم نے ان کو بھی داخل فرمایا اپنی خاص رحمت میں کہ دنیا میں ان کو نبوت کے شرف سے مشرف فرمایا جو کہ اللہ پاک کی طرف سے ملنے والا سب سے بڑا شرف و اعزاز ہے اور آخرت میں ان کو جنت اور اس کی سدا بہار نعمتوں سے سرفرازی بخشی گئی جو کہ ہماری رحمت کا آخری اور کامل مظہر ہے۔ ( جامع البیان، محاسن التاویل وغیرہ ) ۔ سو ان تینوں حضرات نے صبر و استقامت کے بڑے نادر نمونے پیش فرمائے۔ حضرت اسماعیل نے تو اس راہ میں اپنی جان کو بھی قربان ہونے کے لیے پیش فرما دیا اور ابتدائی دور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–92
مختلف انبیائے کرام کا تذکرہ
تشریح : ان تمام واقعات میں بہت سی نصیحتیں ہیں گو کہ مخاطب سیدنا محمد ﷺ کو ہی کیا گیا ہے۔ اسی سلسلہ میں سیدنا اسماعیل کی طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ ان کو سخت آزمائشوں سے واسطہ پڑا اسی سلسلہ میں خانہ کعبہ کا ظہور ہوا آپ کو مذبوح (ذبح کیے گئے) کا لقب ملا حج پر قربانی انہی کی یاد میں کی جاتی ہے۔ اسی لیے آپ کو نبوت دی گئی آپ کے مکمل حالات سورة مریم میں گزر چکے ہیں۔ سیدنا ادریس (علیہ السلام) بھی نیکی و پارسائی میں کسی سے کم نہ تھے اور پھر ذوالکفل (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔ بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ہیں۔ یہ سب اللہ کے مقبول ترین بندے تھے کیونکہ انہوں نے خود کو اللہ کے لیے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–93
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
ایسے ہی نوح (علیہ السلام) کی مثال ہے جب کفار کی ایذا اور مسلسل انکار کے باعث انہوں نے دعا کی تو کفار تباہ وبرباد ہوگئے ، سارا عالم غرق ہوا مگر وہ ان کے ماننے والے اس بہت بڑے دکھ سے بھی محفوظ رہے نیز کفار کی ایذا سے بھی ہمیشہ کے لیے بچا لیے گئے کہ کفار غرق ہو کر اپنے انجام کو پہنچے نیز ہم نے کفار سے اپنی آیات کے انکار اور نبی کی نافرمانی کا خوب خوب بدلہ لیا کہ وہ بھی بہت برے لوگ تھے اور جب اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور نبی کی دشمنی میں حد سے بڑھے تو ہم نے سب کو ڈبو دیا اور غرق کر کے تباہ کردیا ۔
(نبی کی اطاعت میں آخرت بھی اور دنیا کا فائدہ بھی نصیب ہوتا ہے)
نیز داؤد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
ف 1 ۔ حضرت ابن عمر ؓ کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے ایک فرد تھے جو گناہوں میں ڈوبے ہوئے تھے لیکن انہوں نے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا۔ اکثر مفسرین (رح) کے نزدیک وہ نبی نہ تھے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ الکفل اور ذوالکفل ایک شخص ہو ممکن ہے یہ دو شخص ہوں۔ (ابن کثیر شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
(21:85) واسمعیل وادریس وذا الکفل۔ ای واذکر فعل مقدرہ کے مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–93
لغات القرآن آیت نمبر 76 تا 93
الکرب العظیم بہت بڑی بےچینی۔ قوم سوء برے لوگ۔ یحکمان فیصلہ کرنے لگے۔ الحرث کھیتی، کھیت۔ نفثت چر گئیں۔ غنم بکریاں۔ فھمنا ہم نے سمجھ عطا کی۔ الطیر پرندے۔ صنعۃ بنانا۔ لبوس لباس۔ تحصن تمہیں بچاتی ہے۔ باس سختی، جنگ۔ عاصفۃ تیز ہوا، آندھی۔ یعوضون غوطہ لگاتے ہیں۔ مسنی مجھے پہنچا۔ کشفنا ہم نے کھول دیا۔ مغاضباً غصہ میں بھرا ہوا۔ لاتذرنی تو مجھے نہ چھوڑنا۔ فرد تنہا۔ اصلحنا ہم نے درست کردیا۔ یسرعون دوڑتے ہیں۔ رغب امید۔ رھب ڈر۔ خوف۔ خاشعین ڈرنے والے۔ احصنت اس نے حفاظت کی۔ نفخنا ہم نے پھونک ماری۔
تشریح :- آیت نمبر 76 تا 93
سورۃ الانبیاء کی ان آیت میں گیارہ نبیوں اور رسولوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
حضرت اسماعیل ، حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل کا ذکر۔
(ف 1) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل یہ سب کے سب صابر تھے اور ان سب کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا کیونکہ یہ نیک بندے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
[46] ان کا ذکر سورة مریم (آیات 57-56) میں گزر چکا ہے۔
[47] ذوالکفل کا لفظی ترجمہ ہے نصیب والا۔ ان کے بارے میں مختلف اقوال ہیں لیکن ترجیحی قول یہ ہے کہ آپ انبیاء بنی اسرائیل میں سے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–90
(ف 1) ذوالکفل کے متعلق اختلاف ہے کہ ہو زمرہ انبیاء میں سے تھے یا صلحاء امت میں ، قرآن نے انہیں انبیاء (علیہم السلام) کی صف میں کھڑا کیا ہے جمہور علماء کا مذہب بھی یہی ہے کہ یہ پیغمبر تھے مگر یہ تحقیق نہیں کہ یہ کس عصر کے پیغمبر تھے ۔
ذوالنون حضرت یونس (علیہ السلام) کا لقب ہے ۔
غرض یہ ہے کہ یہ تمام انبیاء صابر تھے ، صالح تھے اللہ پر بھروسہ اور توکل رکھنے والے تھے ، اور ان کے دلوں میں اللہ کی خشیت اور اس کا خوف تھا ۔
ان سب کی خصوصیت جو قرآن حکیم نے بتائی ہے وہ یہ ہے کہ یہ لوگ ہر ابتلاء کے وقت بےچین ہو کر صرف اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے ، صرف اسی کا نام تھا جو ان کے لئے وجہ طمانیت ہوسکتا تھا ، اور…
Read the full tafseer →(86) اور ہم نے ان سب کو اپنی رحمت کاملہ میں لے لیا۔ بلاشبہ یہ نیک لوگوں میں سے تھے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) سید نا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صاحبزادے ہیں جو احکامِ الٰہی کی بجا آوری میں نہایت ثابت قدم تھے۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کا ذکر سورة مریم میں گزرا ہے یہ بہت متقدمین میں سے ہیں۔
کہتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی وفات کے سو برس بعد حضرت ادریس (علیہ السلام) پیدا ہوئے تھے ان کا نام اخنوخ ہے درس و تدریس کے باعث ان کا نام ادریس (علیہ السلام) ہوگیا۔ ذوالکفل کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں بعض ان کی نبوت کے قائل ہیں بعض کہتے ہیں ایک صالح اور بزرگ آدمی تھے۔
کسی نے کہا یوشع (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
ف 3۔ حضرت ذوالکفل کے باب میں اختلاف ہے کہ آیا یہ نبی تھے یا ایک صالح شخص تھے، سیاق قرآن سے ان کا نبی ہونا مظنون ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →اسمعیل ‘ ادریس اور ذوالکفل سب ہی صالح لوگ تھے :
85۔ اسمعیل (علیہ السلام) تو وہی ہیں جو ابراہیم (علیہ السلام) کے بڑے بیٹے تھے جن کو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے خواب میں ذبح کرتے ہوئے دیکھا اور جس کی تعبیر کے سلسلہ میں انہوں نے دمشق سے اٹھا کر بیت اللہ کے قریب لا بسایا تھا اور جو ہمارے نبی اعظم وآخر ﷺ کے جد امجد تھے اور ادریس (علیہ السلام) نوح (علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے اور ان کا ذکر اس سے پہلے سورة مریم میں آیا ہے اور یہی وہ نبی ہیں جن کے متعلق مشہور ہے کہ ان کو بھی زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا لیکن ان کے واپس آنے کا ذکر نہیں پڑھا لیکن اس کی کوئی اصلیت نہیں ہے اور ” ذوالکفل “ کا فقط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
Commentary
Whether Sayyidna Dhul-Kifl was a prophet or a saint and his strange story
Three persons are mentioned in the above two verses. Out of these three there is no doubt about the prophethood of Sayyidna Isma1 (علیہ السلام) and Sayyidna Idris (علیہ السلام) as they are mentioned in the Qur'an as such several times. Ibn Kathir is of the opinion that the mention of the name of Sayyidna Dhul-Kifl along with the other two prophets in the above verse shows that he too was a prophet. However, some other versions do not include him in the category of prophets. They say that he was a saint or a…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
80. For explanation, see(Surah Maryam E. N. 33).
81. Zul-Kifl is not the name but the title of a righteous man, which literally means a man of luck. Here it does not refer to worldly prosperity but to his high character and ranks in the Hereafter. He has also been mentioned by this title in(Surah Suad, Ayat 48). There are different opinions about his identity and nationality. Some have regarded him as Zacharias (but this is not correct because Zacharias has been mentioned separately in(verse 89). Others say that he was Elias, or Joshua, son of Nun, or Elisha, but this again is incorrect,…
Read the full tafseer →