Explained with ayahs 76–77
نوح ؑ کی دعا
نوح نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کو ان کی قوم نے ستایا تکلیفیں دیں تو آپ نے اللہ کو پکارا کہ باری تعالیٰ میں عاجز آگیا ہوں تو میری مدد فرما۔ زمین پر ان کافروں میں کسی ایک کو بھی باقی نہ رکھ ورنہ یہ تیرے بندوں کو بہکائیں گے۔ اور ان کی اولادیں بھی ایسی ہی فاجر کافر ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی دعا قبول فرمائی اور آپ کو اور مومنوں کو نجات دی اور آپ کے اہل کو بھی سوائے ان کے جن کے نام برباد ہونے والوں میں آگئے تھے۔ آپ پر ایمان لانے والوں کی بہت ہی کم مقدار تھی۔ قوم کی سختی، ایذاء دہی، اور تکلیف سے اللہ عالم نے اپنے نبی کو بچالیا۔ ساڑھے نوسو سال تک آپ ان میں رہے اور انہیں دین اسلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
سورة الْاَنْبِیَآء 68
اشارہ ہے حضرت نوح کی اس دعا کی طرف جو ایک مدت دراز تک اپنی قوم کی اصلاح کے لیے مسلسل کوشش کرتے رہنے کے بعد آخر کار تھک کر انہوں نے مانگی تھی اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانتَصِرْ ، " پروردگار، میں مغلوب ہوگیا ہوں، اب میری مدد کو پہنچ " (القمر۔ آیت 10)۔ اور رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْ ض مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّاراً ہ " پروردگار، زمین پر ایک کافر باشندہ بھی نہ چھوڑ " (نوح۔ آیت 26)۔
سورة الْاَنْبِیَآء 69
کرب عظیم سے مراد یا تو ایک بد کردار قوم کے درمیان زندگی بسر کرنے کی مصیبت ہے، یا پھر طوفان۔ حضرت نوح کے قصے کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو۔ الاعراف، آیات 59 تا 64۔ یونس، آیات 71…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
خلاصہ تفسیر
اور نوح (علیہ السلام کے قصہ) کا تذکرہ کیجئے جبکہ اس (زمانہ ابراہیمی) سے پہلے انہوں نے (اللہ تعالیٰ سے) دعا کی (کہ ان کافروں سے میرا بدلہ لے لیجئے) سو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو اور ان کے متبعین کو بڑے بھاری غم سے نجات دی (یہ غم کفار کی تکذیب اور اس کے ساتھ طرح طرح کی اذائیں پہنچانے پیش آتا تھا) اور (نجات اس طرح دی کہ) ہم نے ایسے لوگوں سے ان کا بدلہ لیا جنہوں نے ہمارے حکموں کو (جو کہ حضرت نوح ؑ لائے تھے) جھوٹا بتلایا تھا بلاشبہ وہ لوگ بہت برے تھے اس لئے ہم نے ان سب کو غرق کردیا۔
معارف و مسائل
وَنُوْحًا اِذْ نَادٰي مِنْ قَبْلُ ، من قبل سے مراد ابراہیم و لوط (علیہما السلام) سے…
Read the full tafseer →حضرت نوح کا حوالہ
نوحاً کا نصب اس مفہوم سے پیدا ہوا ہے جو یہاں سلسلہ کلام سے مستفاد ہوتا ہے۔ یعنی جس طرح ہم نے اپنے مذکورہ بالا بندوں پر اپنی رحمت نازل کی، ان کو نجات دی اور ان کی مدد فرمائی اسی طرح اس سے پہلے اپنے بندے نوح کو بھی ہم نے نجات دی اور اس کی مدد فرمائی۔
حضرت نوح کی ٓخری دعا
اذ نادی من قبل فاستجبنالہ یہ حضرت نوح کی اس آخری دعا کی طرف اشارہ ہے جو سورة نوح میں تفصیل سے مذکور ہے اور جس کو پڑھ کر دل کا نپ اٹھتا ہے اس دعا کی قبولیت جس شکل میں ظاہر ہوئی اس کی تفصیل تو سورة نوح میں آئے گی۔ یہاں صرف اس سلسلہ کی آخری آیات کو یاد کر لیجیے۔
مما خطیتھم اغرقوا فادخلوا ناراً ، فلم یجدوالھم من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–78
75۔ 1 حضرت لوط علیہ السلام، حضرت ابراہیم ؑ کے برادر زاد (بھتیجے) تھے اور حضرت ابراہیم ؑ پر ایمان لانے والے اور ان کے ساتھ عراق سے ہجرت کرکے شام جانے والوں میں سے تھے۔ اللہ نے ان کو بھی علم و حکمت یعنی نبوت سے نوازا۔ یہ جس علاقے میں نبی بنا کر بھیجے گئے، اسے عمورہ اور سدوم کہا جاتا ہے۔ یہ فلسطین کے بحیرہ مردار سے متصل بجانب اردن ایک شاداب علاقہ تھا۔ جس کا بڑا حصہ اب بحیرہ مردار کا جزو ہے۔ ان کی قوم لواطت جیسے فعل شفیع، گزر گاہوں پر بیٹھ کر آنے جانے والوں پر آوازے کسنا اور انھیں تنگ کرنا روڑے ریزے پھینکنا وغیرہ میں ممتاز تھی، جسے اللہ نے یہاں خبائث (پلید کاموں) سے تعبیر فرمایا ہے۔ بالآخر حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–77
30: بستی سے مراد سدوم اور اس کے ملحقات ہیں۔ (تفسیرعثمانی)
یوں تو یہ قوم بہت سے گندے کاموں میں مبتلا تھی، لیکن ان کی جس گھناؤنی حرکت کا قرآن کریم نے خاص طو رپر ذکر کیا ہے وہ ہم جنس پرستی یعنی مردوں کا مردوں سے جنسی لذت حاصل کرنا ہے، اس کا مفصل تذکرہ سورة ہود (11۔ 77، 83) میں گزرچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
اسی طرح یہاں حضرت نوح کی طرف بھی ایک سرسری اشارہ کردیا جاتا ہے۔
ونوحا اذ نادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اجمعین (67 : 77) ”
حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف بھی یہ مختصر اشارہ ہے ‘ جس میں کوئی تفصیل نہیں ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے رب کو پکارا اور رب نے ان کی دعا کو قبول کیا یہاں ” من قبل “۔ کا لفظ آیا ہے یعنی ” سب سے پہلے “ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہما السلام) سے ان کا دور پہلے گزرا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے ہل و عیال کو بچالیا اور ان کی پوری قوم نذر طوفان ہوگئی کرب عظیم سے مراد وہ مشکلات ہیں جو ان کو پیش آئیں۔ سورة ہود میں تفصیلات موجود ہیں۔
Read the full tafseer →6 یعنی ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط سے پہلے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
آیت 76 وَنُوْحًا اِذْ نَادٰی مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ ”
یہ اس دعا کی طرف اشارہ ہے جو سورة القمر میں نقل ہوئی ہے : فَدَعَا رَبَّہٗٓ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ کہ پروردگار میں تو مغلوب ہوگیا ہوں ‘ اب تو میری مدد فرما اور تو ہی ان کافروں سے انتقام لے۔ آپ علیہ السلام کی یہ دعا قبول فرمائی گئی اور اس نافرمان قوم کو غرق کردیا گیا۔
Read the full tafseer →63 حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ بھی سورة اعراف اور سورة ہود میں گزر چکا ہے وہ حواشی بھی سامنے رکھے جائیں۔
Read the full tafseer →،95۔ یعنی زمانہ ابراہیم، لوط سے بھی قبل۔
96۔ (جس میں وہ کافروں کی تکذیب وایذاء سے مبتلا تھے) کرب عظیم سے مراد طوفان و غرقابی بھی ہوسکتی ہے۔ وھو الطوفان اواذیۃ قومہ (روح) اھل سے مراد نوح کے خاندان والے نہیں، دین والے ہیں۔ فالمراد بالاھل ھھنا اھل دینہ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
آیت نمبر 76 تا 82
ترجمہ : اور یاد کیجئے نوح (علیہ السلام) کے اس وقت کو جب کہ انہوں نے اپنی قوم کے لئے ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) سے پہلے اپنے قول رب لاتذر الخ کے ذریعہ بددعاء فرمائی تو ہم نے ان کی دعا قبول کی تو ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو جو کہ اس کی کشتی میں (سوار) ہوئے کرب عظیم یعنی غرق ہونے سے اور اس کی قوم کے اس کی تکذیب کرنے سے نجات دی اور ہم نے اس کی مدد کی یعنی اس کی حفاظت کی اس قوم سے جس نے ہماری ان آیتوں کی تکذیب کی جو اس کی رسالت پر دلالت کرتی تھیں تاکہ برائی کے ساتھ اس تک رسائی نہ ہوسکے یقیناً وہ برے لوگ تھے پس ہم نے ان سب کو غرق کردیا اور داؤد اور سلیمان یعنی ان…
Read the full tafseer →ونوحا اور نوح ( علیہ السلام) کو اس کا عطف لوطاً پر ہے یعنی ہم نے نوح ( علیہ السلام) کو حکم اور علم عطا کیا تھا۔
اذ نادی من قبل جب کہ (مذکورہ انبیاء سے) پہلے انہوں نے (انپے رب کو) پکارا تھا۔ یعنی قوم کو ہلاک کرنے کے
لئے بددعا کی تھی۔
فاستجبنا لہ پس ہم نے ان کی دعا کو قبول کرلیا۔
فنجینہ واہلہ اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو یعنی ان لوگوں کو۔
من الکرب العظیم۔ جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے سخت غم سے نجات دی۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا ڈوبنے
سے اور قوم کی جانب سے تکذیب سے نجات دی۔ حضرت نوح کی عمر تمام انبیاء سے زیادہ ہوئی اور سختیاں بھی آپ نے سب سے زیادہ برداشت کیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
(76) اور حضرت نوح ؑ کو بھی ہم نے نبوت کے ساتھ سرفراز فرمایا ان کا وہ واقعہ بھی بیان کیجیے جب کہ انہوں نے حضرت لوط ؑ کے زمانہ سے پہلے اپنی قوم کی ہلاکت کے لیے اپنے رب سے دعا کی، سو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو غرق ہونے سے نجات دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
ابراہیم ؑ کو آگ سے نجات دینے کے بعد نوح ؑ کو پانی کے طوفان سے نجات دینے کا ذکر فرمایا۔
وَنُوْحًا اِذْ نَادٰي مِنْ قَبْلُ۔۔ : نوح ؑ کی اس دعا کا ذکر سورة نوح (26 تا 28) میں تفصیل سے مذکور ہے، اسی طرح سورة قمر میں ہے : (فَدَعَا رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ) [ القمر : 10] ”تو اس نے اپنے رب کو پکارا کہ میں مغلوب ہوں سو تو بدلہ لے۔“
فَنَجَّيْنٰهُ وَاَهْلَهٗ : ”اَهْلَهٗ“ سے مراد ان کے مشرک بیٹے اور بیوی کے سوا باقی گھر والے ہیں۔ بیٹے کے متعلق دیکھیے سورة ہود (40 تا 43) اور بیوی کے متعلق سورة تحریم (10)۔
مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ : ”الْكَرْبِ“ کا معنی ہے ”أَقْصَی الْغَمِّ“ یعنی آخری حد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و نوحا ان نادی من قبل نوح سے پہلے اذکر فعل مخذوف ہے نادٰی کا معنی ہے پکارا۔ من قبل ابراہم اور لفظ سے پہلے ان کی دعا یہ تھی : رب لا تذز علی الارض من الکفرین دیارا۔ (نوح) اور جب انہوں نے آپ کو جھٹلایا تو آپ نے کہا : انی مغلوب فانتصر۔ (القمر) فا ستجبنا لہ فنجینہ و اھلہ من الکرب العظیم۔ الکرب العظیم سے مراد غرق ہونا اور الکرب کا معنی شدید غم بھی ہے۔ اھلہ سے مراد ان میں سے جو ایمان لانے والے ہیں۔ و نصرنہ من القوم الذین کذبوا بایتنا ابو عبیدہ نے کہا : من بمعنی علی ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے ہم نے انتقام لیا اس قوم سے جو ہماری آیتوں کو جھٹلانے والی تھی۔ فاغرقنھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–77
1:۔ ابن عساکر نے ا بوامامہ باہلی (رح) سے روایت کیا کہ لوط (علیہ السلام) کی قوم میں دس عادتیں تھیں کہ جن کے ذریعہ ہو پہنچانے جاتے تھے کبوتروں سے کھیلنا، غلیل سے ڈھیلے پھینکنا، منہ سے سیٹیاں بجانا، مجلسوں میں بیٹھ کر کنکریاں پھینکنا، بالوں کو پھیلانا، مصطگی چبانا۔ چادر نیچے لٹکانا، برہنہ ہونا، مردوں سے بدکاری کرنا، شراب کی محفل سجانا اور عنقریب یہ امت ان برائیوں پر اضافہ کرے گی۔
2:۔ ابن ابی الدنیا نے ذم الملاہی میں اور ابن عساکر نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ لوط (علیہ السلام) کی قوم کی عادات میں سے اس قوم میں چھ عادتیں ہیں غلیلیں چلانا، سیٹیاں مارنا، ڈھیلے پھینکنا، کنکریاں مارنا، برہنہ…
Read the full tafseer →[ وَنُوْحًا : (اور یاد کرو) نوح (علیہ السلام) کو ] [ اِذْ : جب ] [ نَادٰي : انھوں (علیہ السلام) نے پکارا (ہم کو)] [ مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [ فَاسْتَجبنَا : تو ہم نے جواب دیا (یعنی قبول کیا)] [ لَهٗ : ان (علیہ السلام) کو ] [ فَنَجَّيْنٰهُ : پھر ہم نے نجات دی ان کو ] [ وَاَهْلَهٗ : اور ان کے گھر والوں کو ] [ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ : اس عظیم دکھ سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا، اللہ تعالیٰ کی مدد اور قوم کی غرقابی
ان دونوں آیتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا تذکرہ فرمایا ہے۔ جب انہوں نے اپنی قوم کو توحید کی تعلیم دی۔ استغفار کی طرف بلایا اور ایک مدت دراز تک اس بارے میں اپنی جان کھپائی تو ان میں سے معدودے چند افراد ہی مسلمان ہوئے اور باقی لوگ کہتے رہے کہ ہمیں توحید اختیار نہیں کرنی، ہمیں اپنے بتوں پر جمے رہنا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں اپنی معروض پیش کی اور عرض کیا (رَبِّ لاَ تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکَافِرِیْنَ دَیَّارًا) (کہ اے پروردگار روئے زمین پر کافروں میں سے کسی بسنے والے کو نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
(4) قصہ نوح (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ونوحا اذ نادی من قبل .... الیٰ .... فاغرقنھم اجمعین۔
چوتھا قصہ نوح (علیہ السلام) کا بیان فرماتے ہیں اور اے نبی ﷺ نوح (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیجئے جب کہ انہوں نے ان انبیاء سے پہلے اپنے پروردگار کو فریاد کے لیے پکارا اور اللہ سے دعا کی۔ انی مغلوب فانتصر۔ رب لاتذر علی الارض من الکافرین دیارا۔ اے پروردگار میں مغلوب اور عاجز ہوں تو میرا بدلہ لے لے۔ اور روئے زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا باقی نہ چھوڑ۔ پس ہم نے ان کی دعا قبول کی اور اس کو اور اس کے کنبہ والوں کو ڈوبنے کی بڑی مصیبت سے نجات دی اور ہم نے اس کی اس قوم کے مقابلہ میں مدد کی جنہوں نے ہماری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
53:۔ ” وَنُوْحًا اِذْ نَادٰی الخ “ یہ چوتھی تفصیل نقلی دلیل ہے۔ دیکھو بوقت طوفان نوح (علیہ السلام) نے بھی ہمیں پکارا تو ہم نے اس ہولناک طوفان سے ان کے اہل ایمان ساتھیوں کو بچالیا اور ظالم اور ستمگر مشرکین کے شر و فساد اور ان کی تکلیف و ایذاء سے ان کو نجات دی اور طالم و فاسق قوم کو غرق کردیا۔ ” فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ “ ان کی دعا ہم ہی نے قبول کی۔ ” فَنَجَّیْنٰهُ “ ان کو عذاب سے ہم ہی نے بچایا۔ ” وَنَصَرْنٰهُ “ اور مشرکین پر ہم ہی نے ان کو غلبہ دیا۔ ” فَاَغْرَقْنٰھُمْ “ اور مشرکین کو ہم ہی نے غرق کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
ربط آیات :
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکین کے مندر میں داخل ہو کر ان کے بتوں کہ تہس نہس کردیا۔ سوائے ایک بڑے بت کے کہ اسے صحیح سلامت چھوڑ دیا جب وہ لوگ اپنا تہوار منا کر واپس آئے تو اپنے بتوں کی یہ گت بنی ہوئی دیکھی بڑے ناراض ہوئے اور ملزم کی تلاش شروع کردی۔ آخرحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بلالائے اور اس کاروائی کے متعلق دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا ، مجھے کیوں پوچھتے ہو ، اس بڑے بت سے دریافت کرو جو ان میں زندہ سلامت موجود ہے اور شاید یہ کاروائی اسی نے کی ہو۔ مشرک لوگ پہلے تو خود شرمسار ہوئے اور پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہم بھلا ان بتوں سے کیا پوچھیں ، یہ تو بولتے ہی…
Read the full tafseer →وَنُوْحًا اِذْ نَادٰي مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ فَنَجَّيْنٰہُ وَاَہْلَہٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ 76ۚ
نوح
نوح اسم نبيّ ، والنَّوْح : مصدر ناح أي : صاح بعویل، يقال : ناحت الحمامة نَوْحاً وأصل النَّوْح : اجتماع النّساء في المَنَاحَة، وهو من التّناوح . أي : التّقابل، يقال : جبلان يتناوحان، وریحان يتناوحان، وهذه الرّيح نَيْحَة تلك . أي : مقابلتها، والنَّوَائِح : النّساء، والمَنُوح : المجلس .
( ن و ح ) نوح
۔ یہ ایک نبی کا نام ہے دراصل یہ ناح ینوح کا مصدر ہے جس کے معنی بلند آواز کے ساتھ گریہ کرنے کے ہیں ۔ محاورہ ہے ناحت الحمامۃ نوحا فاختہ کا نوحہ کرنا نوح کے اصل معنی عورتوں کے ماتم کدہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–80
ترکیب : جس طرح لوطا مفعول تھا ائتیا محذوف کا جس کی تفسیر اتینا مذکور ہے اسی طرح نوحا و دائود و سلیمان ہیں اور ممکن ہے کہ ان کو اذکر محذوف کا مفعول کہا جاوے اذ نفشت ظرف ہو یحکمان کا مع داؤد والعامل فی مع یسبحن اور یہ حال ہے الجبال سے والطیر معطوف ہے الجبال پر وقیلھی بمعنی مع الریح منصوب ہے سخرنامقدر سے عاصفہ حال ہوا الریح سے تجری دوسرا حال من منصوب ہے سخرنا سے۔
تفسیر : :۔ یہ تیسرا قصہ حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ہے کہ جب ان کی قوم نے ان کو سخت تکلیف پہنچائی اور انہوں نے ہم کو کرب عظیم میں پکارا
تو اس کو اور اس کے کنبے کو کشتی میں سوار کر کے اس بلائے عظیم سے نجات دی باقی تمام قوم پر قہر الٰہی…
Read the full tafseer →وَنُوْحًا اِذْ نَادٰی مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَـہٗ فَنَجَّیْنٰـہُ وَاَھْلَـہٗ مِنَ الْکَرْبِ الْعَظِیْمِ ۔
(الانبیاء : 76)
(اور حضرت نوح کو بھی ہم نے ہدایت بخشی، یاد کرو جب انھوں نے دعاکی اس سے پہلے، تو ہم نے ان کی دعا قبول کی پھر نجات دی ہم نے آپ کو اور آپ کے اہل کو عظیم مصیبت سے۔ )
حضرت نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ
جس طرح ہم نے حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور حضرت لوط کو اپنی ہدایت سے نوازا اور انھیں نبوت عطا فرمائی، اسی طرح ہم نے ان سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کو بھی ہدایت دی تھی۔ ان کے ساتھ بھی ان کی قوم نے وہی کچھ سلوک کیا جیسے ہر نبی اور رسول کی قوم نے ہر نبی اور رسول کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے حضرت لوط (علیہ السلام) کو اس کی قوم سے نجات دی اور قوم کو نیست و نابود کیا۔ اسی طرح ” اللہ “ نے اپنی رحمت سے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو سیلاب سے بچایا۔ قوم کو غرق کردیا۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو اس وقت نبوت سے سرفراز فرمایا جب ان کی قوم کے لوگ مجسموں کے پجاری بن چکے تھے۔ سورة العنکبوت آیت 14 میں بیان کیا گیا ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال قوم کی اصلاح کرنے میں صرف فرمائے۔ سورة نوح میں یہ وضاحت فرمائی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ فریاد کی کہ میرے رب میں نے اپنی قوم کو رات اور دن، انفرادی اور…
Read the full tafseer →واقعہ نوح۔ :
76: وَنُوْحًا (اور نوح کو) یہ اذکر فعل محذوف کا مفعول ہے۔ اِذْ نَادٰی (جب کہ اس نے پکارا) اپنی قوم کے متعلق ہلاکت کی بددعا کی۔ مِنْ قَبْلُ (ان مذکورہ لوگوں سے پہلے) فَاسْتَجَبْنَالَہٗ (ہم نے ان کی دعا کو قبول کیا) فَنَجَّیْنٰہٗ وَاَھْلَہٗ (پس ہم نے اس کو اور اس کے اہل کو نجات دی) ان کی اولاد میں سے جو ایمان والے تھے۔
مِنَ الْکَرْبِ الْعَظِیْمِ (سخت غم سے) یعنی طوفان سے اور سرکش لوگوں کی تکذیب کی کڑھن سے۔
Read the full tafseer →76۔ ونوحا اذ نادی ، ، جب اس کو پکارا ، من قبل، ابراہیم اور لوط (علیہ السلام) سے پہلے، فاستجبنالہ فنجیناہ واھلہ من الکرب العظیم، ابن عباس کا قول ہے کہ ڈؤبنے سے اور قوم کی جانب سے تکذیب سے نجات دی ۔ بعض نے کہا کہ حضرت نوح کی عمر تمام انبیاء سے زیادہ ہوئی اور سختیاں بھی سب سے زیادہ برداشت کیں اور کر ب غم سے زیادہ شدید ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
76۔ 77:۔ سب انبیاء میں نوح (علیہ السلام) پہلے صاحب شریعت نبی ہیں ‘ چناچہ صحیح بخاری ومسلم کی ابوہریرہ ؓ کی شفاعت کی بہت بڑی حدیث میں اس کا ذکر تفصیل سے ہے ‘ سورة قمر اور سورة نوح میں آوے گا کہ ساڑھے نو سو برس نصیحت کر کے جب نوح (علیہ السلام) قوم کے لوگوں کی سرکشی سے تنگ آگئے تو انہوں نے قوم کے لوگوں پر عذاب نازل ہونے کی بددعا کی اس کو فرمایا اے رسول اللہ کے ابراہیم اور لوط (علیہ السلام) کے زمانہ سے پہلے جب نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے حق میں بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بددعا سن لی اور نوح (علیہ السلام) کو مع ان کے ساتھیوں کے طوفان کے عذاب سے بچا کر باقی قوم کو طوفان کے عذاب سے ہلاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
آیت 76-77
ہمارے بندے اور رسول نوح (علیہ السلام) کی مدح و ثنا بیان کرتے ہوئے ان کا ذکر کیجئے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی طرف مبعوث فرمایا اور وہ ان کے اندر ساڑھے نو سو سال رہے، ان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلاتے رہے، انہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے سے روکتے رہے، بار بار انہیں کھلے چھپے اور شب و روز اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ وعظ و نصیحت اور زجر و توبیخ سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا، تو انہوں نے اپنے رب کو پکارا اور دعا کی۔ (رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیارا۔ انک ان تذرھم یضلوا عبادک ولا یلدوا الا فاجرا کفارا) (نوح : 17/62، 72) ” اے میرے رب ! روئے…
Read the full tafseer →97 حضرت نوح نے بھی اللہ ہی کو پکارا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور نوح نے بھی ہم ہی کو پکارا تو ہم نے سن لیا ان کی پکار کو۔ اور حضرت نوح کی اس دعا و پکار کو دوسرے مقام پر اس طرح ذکر فرمایا گیا ہے ۔ { فَدَعَا رَبَّہ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ } ۔ (القمر :10) سو انہوں نے ہم ہی سے مدد مانگی اور ہمارے ہی حضور عرض کیا کہ مصیبت زدوں کی پکار سننا ہمارا ہی کام ہے۔ اور حاجت روا و مشکل کشا سب کے ہم ہی ہیں۔ انبیاء و رسل بھی ہمارے ہی محتاج ہیں۔ اور جب حضرات انبیاء و رسل بھی ہمارے ہی محتاج ہیں اور وہ اپنی مشکلات و مصائب میں ہم ہی کو پکارتے ہیں تو پھر اور کون ہے جو کسی کا حاجت روا و مشکل کشا ہو سکے سوائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
سیدنا نوح (علیہ السلام) کی نجات
تشریح : سیدنا نوح (علیہ السلام) بڑے عالی مرتبہ پیغمبر گزرے ہیں ان کے بارے میں سورة الاعراف میں آیات 59 تا 64 میں بیان ہوچکا ہے یہاں ذکر ان کی دعا کا ہے۔ کہ جب قوم سے ناامید ہوگئے تو تھک ہار کر اللہ سے دعا کی ” پروردگار میں مغلوب ہوگیا ہوں ‘ اب میری مدد کو پہنچ۔ “ (القمر آیت 10) اور دعا کی ” پروردگار زمین پر ایک کافر باشندہ بھی نہ چھوڑ۔ “ (نوح آیت 26 )
تو اللہ نے ان کی دعا قبول کی۔ ان کو اور نیک بندوں کو کشتی میں سوار کر کے بچا لیا اور باقی تمام لوگوں کو طوفان نوح میں غرق کردیا۔ اور یوں آپ نے آدم ثانی کا لقب پایا۔ مطلب یہ ہے کہ رسالت کا فریضہ سخت مشکل ہے مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–93
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
ایسے ہی نوح (علیہ السلام) کی مثال ہے جب کفار کی ایذا اور مسلسل انکار کے باعث انہوں نے دعا کی تو کفار تباہ وبرباد ہوگئے ، سارا عالم غرق ہوا مگر وہ ان کے ماننے والے اس بہت بڑے دکھ سے بھی محفوظ رہے نیز کفار کی ایذا سے بھی ہمیشہ کے لیے بچا لیے گئے کہ کفار غرق ہو کر اپنے انجام کو پہنچے نیز ہم نے کفار سے اپنی آیات کے انکار اور نبی کی نافرمانی کا خوب خوب بدلہ لیا کہ وہ بھی بہت برے لوگ تھے اور جب اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور نبی کی دشمنی میں حد سے بڑھے تو ہم نے سب کو ڈبو دیا اور غرق کر کے تباہ کردیا ۔
(نبی کی اطاعت میں آخرت بھی اور دنیا کا فائدہ بھی نصیب ہوتا ہے)
نیز داؤد…
Read the full tafseer →ف 1 ۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ذکر سورة نوح رکوع 2 میں تفصیل سے مذکور ہے۔ سورة قمر میں ہے : ” انی مغلوب فالتصر “ کہ (اے میرے رب) میں مغلوب ہوں، تو ہی ان سے بدلہ لے۔ (آیت :1)
2 ۔ بڑی مصیبت سے مراد کا فردل کی ایذارسانی ہے یا طوفان کی تباہ کاری۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
(21:76) نوحا۔ فعل مقدرہ اذکر کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ای اذکر نوحا اذ نادی من قبل۔
نادی۔ ماضی واحد مذکر غائب نداء مصدر (باب مفاعلہ) اس نے پکارا (ہم کو) حضرت نوح کی ندائ (پکار) اس آیت میں مذکور ہے۔ فدعا ربہ انی مغلوب فانتصر (54:10) اس نے اپنے رب کو پکارا میں درماندہ ہوں سو تو بدلہ لے لے۔
الکرب العظیم۔ موصوف صفت۔ الکرب اسم مصدر معرفہ۔ بڑی مصیبت۔ الکرب العظیم بہت بڑی مصیبت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–93
لغات القرآن آیت نمبر 76 تا 93
الکرب العظیم بہت بڑی بےچینی۔ قوم سوء برے لوگ۔ یحکمان فیصلہ کرنے لگے۔ الحرث کھیتی، کھیت۔ نفثت چر گئیں۔ غنم بکریاں۔ فھمنا ہم نے سمجھ عطا کی۔ الطیر پرندے۔ صنعۃ بنانا۔ لبوس لباس۔ تحصن تمہیں بچاتی ہے۔ باس سختی، جنگ۔ عاصفۃ تیز ہوا، آندھی۔ یعوضون غوطہ لگاتے ہیں۔ مسنی مجھے پہنچا۔ کشفنا ہم نے کھول دیا۔ مغاضباً غصہ میں بھرا ہوا۔ لاتذرنی تو مجھے نہ چھوڑنا۔ فرد تنہا۔ اصلحنا ہم نے درست کردیا۔ یسرعون دوڑتے ہیں۔ رغب امید۔ رھب ڈر۔ خوف۔ خاشعین ڈرنے والے۔ احصنت اس نے حفاظت کی۔ نفخنا ہم نے پھونک ماری۔
تشریح :- آیت نمبر 76 تا 93
سورۃ الانبیاء کی ان آیت میں گیارہ نبیوں اور رسولوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
(ف 1) جب حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے حق میں بددعا کی تو اللہ نے ان کی بددعا سن لی اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو مع ان کے ساتھیوں کے طوفان کے عذاب سے بچا کر باقی قوم کو طوفان کے عذاب سے ہلاک کردیا، جس کا قصہ تفصیل سے سورة ہود (پارہ 12) میں گذرچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
[39] اشارہ ہے اس دعا کی طرف جو نوح (علیہ السلام) نے ایک مدت دراز تک اپنی قوم کی اصلاح کے لئے مسلسل کوشش کرتے رہنے کے بعد آخرکار تھک کر مانگی تھی کہ '' اے میرے رب، زمین پر ایک کافر بھی نہ چھوڑ۔ '' ( سورة نوح آیت 26 صفحہ (1436
[40] یعنی وہ بھاری غم جس میں وہ قوم کی تکذیب و ایذا رسانی کی وجہ سے مبتلا تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
(ف 1) اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ جو لوگ اس سے محبت رکھتے ہیں اور اس کے لئے دنیا کی تمام لذتوں اور رشتوں کو قربان کردیتے ہیں ، وہ ان کو دنیا میں خیروبرکت کا بڑا حصہ دار بنا دیتا ہے ، اور ان کو عام دنیا داروں سے کسی طرح کم حیثیت میں نہیں رہنے دیتا ، چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ تیاگ دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو مال و دولت سے نوازا اور اولاد صالح عطا کی ، جو سب کے سب منصب قیادت و امامت پر فائز ہوئے اور اس سے بڑھ کر اور کیا مسرت ہوسکتی ہے ، کہ ایک شخص اپنی اولاد کو اپنے سامنے کامیاب وکامران دیکھے اسی طرح ارشاد فرمایا کہ ہم نے لوط کو جو ابراہیم (علیہ السلام) کے…
Read the full tafseer →(76) اور اے پیغمبر ! آپ نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ بھی کیجئے جب کہ اس نے ان واقعات ابراہیمی سے بہت پہلے دعا کی پھر ہم نے اس کی دعا قبول کرلی اور ہم نے اس کی پکار سن لی اور ہم نے اس کو اور اس کے متعلقین اور متبعین کو بڑے بھاری غم سے نجات دی۔ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کا بھی ذکر کیجئے اور ان کا تذکرہ بھی سنائیے خاص کر وہ وقت جب کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ شاید یہ دعا ہوگی۔ ربہ انی مغلوب فانتصر یعنی اے میرے پروردگار میں دب گیا۔ میرا بدلہ لیجئے چناچہ ان کی دعا کو قبول کیا اور ان کو ان کے تابعین کے ساتھ ان کے دشمنوں سے نجات عطا فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
ف 5۔ بھاری غم جو تکذیب اور ایذا کفر کی وجہ سے ان کو پیش آیا تھا۔
Read the full tafseer →نوح (علیہ السلام) کی پکار اور اس کے الہی جواب کا ذکر :
76۔ نوح (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کے بعد پہلے نبی ورسول ہیں جن کو رسالت سے نوازا گیا اور حدیث میں آپ کو (اول الرسل الی الارض) (صحیح مسلم باب الشفاعۃ) میں بیان کیا گیا ہے یعنی نوح (علیہ السلام) کو زمین پر سب سے پہلا رسول بنایا گیا ہے چونکہ پیچھے لوط (علیہ السلام) کا ذکر تھا اس لئے قرآن کریم (علیہ السلام) نے (من قبل) کے لفظ اختیار کئے تاکہ کسی کو یہ غلطی لاحق نہ ہو کہ لوط (علیہ السلام) کے بعد نوح (علیہ السلام) کا ذکر کیا گیا ہے کوئی یہ نہ سمجھے کہ شاید یہ کوئی اور نوح ہوں گے فرمایا نوح (علیہ السلام) نے ہم کو پکارا اس پکارنے سے کون سی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
Commentary
وَنُوحًا إِذْ نَادَىٰ مِن قَبْلُ
And (remember) Nuh, when he called (for help) earlier - 21:76
Here مِن قَبْلُ (earlier) means before the time of Sayyidna Ibrahim and Sayyidna Lut (علیہما السلام) ، whose account has just preceded in previous verses. As for the prayer of Nuh علیہ السلام which is referred to here briefly, the version given in Surah Nuh is that Sayyidna Nuh (علیہ السلام) had cursed his people, رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا (My Lord, leave not upon the earth of the unbelievers even one - 71:26). It is reported at another place…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
68. This refers to Prophet Noah’s (peace be upon him) prayer which he at last made after having tried his utmost to reform his people: Lord, help me for I have been overpowered. (Surah Al-Qamar, Ayat 10), and Lord, do not leave even a single disbeliever on the earth. (Surah Nooh, Ayat 26).
69.“Great affliction”may either refer to living a miserable life among the wicked people, or to the flood. (For the story of Prophet Noah, see (Surah Al-Aaraf, Ayats: 59-64); (Surah Younus, Ayats 72-74); (Surah Houd, Ayats 25-48), and(Surah Al-Isra, Ayat 3) and the E.N.s thereof).
Read the full tafseer →