Explained with ayahs 48–50
کتاب النور
ہم پہلے بھی اس بات کو جتا چکے کہ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت محمد ﷺ کا ذکر اکثر ملاجلا آتا ہے اور اسی طرح توراۃ اور قرآن کا ذکر بھی عموماً ایک ساتھ ہی ہوتا ہے۔ فرقان سے مراد کتاب یعنی تورات ہے جو حق وباطل حرام حلال میں فرق کرنے والی تھی۔ اسی سے جناب موسیٰ ؑ کو مدد ملی۔ کل کو کل آسمانی کتابیں حق وباطل ہدایت و گمراہی بھلائی برائی حلال وحرام میں جدائی کرنے والی ہوتی ہیں۔ ان سے دلوں میں نورانیت، اعمال میں حقانیت، اللہ کا خوف وخشیت ڈر اور اللہ کی طرف رجوع حاصل ہوتا ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے یہ کتاب نصیحت وپند اور نور و روشنی ہے۔ پھر ان متقیوں کا وصف بیان فرمایا کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
سورة الْاَنْبِیَآء 52
جس کا ابھی اوپر ذکر گزرا ہے، یعنی قیامت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے (آپ کے قبل) موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو ایک فیصلہ کی اور روشنی کی اور متقیوں کے لئے نصیحت کی چیز (یعنی توریت) عطا فرمائی تھی جو (متقی) اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور (خدا ہی سے ڈرنے کے سبب) وہ لوگ قیامت سے (بھی) ڈرتے ہیں (کیونکہ قیامت میں اس کا خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور سزا نہ ہونے لگے) اور (جیسے ان کو وہ کتاب ہم نے دی تھی اسی طرح) یہ (قرآن بھی) ایک کثیر الفائدہ نصیحت (کی کتاب) ہے جس کو ہم نے نازل کیا، سو کیا (بعد اس کے کہ تنزیل کتب کا عادة اللہ ہونا معلوم ہوگیا اور خود اس کا منزل من اللہ ہونا دلیل سے ثابت ہے) پھر بھی تم اس کے (منزل من اللہ ہونے کے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
آگے کا مضمون …… آیات 77-48
اوپر آیت 24 میں نبی ﷺ کی زبان سے فرمایا کہ ھذا ذکر من معی و ذکر من قبلی یعنی یہی تعلیم جو میں تمہیں دے رہا ہوں تمام انبیائے سابقین نے دی۔ اب ایک صعودی ترتیب کے ساتھ ان انبیائے عظام کا حوالہ دیا جو امتوں کے بانی ہوئے۔ آنحضرت ﷺ سے اوپر صاحب شریعت نبی و رسول حضرت موسیٰ ہوئے ہیں۔ 1 ؎
چنانچہ پہلے ان کا ذکر فرمایا اور انہی کے ضمن میں حضرت ہارون کا بھی ذکر فرمایا جو ان کے وزیر تھے۔ پھر ان سے اوپر حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر فرمایا جو امتوں کے بانی اور نبوت کے دونوں سلسلوں … بنی اسرائیل و نبی اسماعیل …… کے امام تھے اور انہی کے ضمن میں حضرت اسحق، حضرت یعقوب، اور حضرت لوط کا حوالہ…
Read the full tafseer →49۔ 1 یہ متقین کی صفات ہیں، جیسے سورة بقرہ کے آغاز میں اور دیگر مقامات پر بھی متقین کی صفات کا تذکرہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
23: اس آیت نے واضح فرمایا ہے کہ قیامت کے دن صرف یہی نہیں کہ تمام لوگوں سے انصاف ہوگا ؛ بلکہ اس بات کا بھی اہتمام کیا جائے گا کہ انصاف سب لوگوں کو آنکھوں سے نظر آئے، اس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ ایسی ترازویں برسر عام نصب فرمائیں گے جن میں انسانوں کے اعمال کو تولا جائے گا اور اعمال کے وزن کے حساب سے انسانوں کے انجام کا فیصلہ ہوگا، انسان جو عمل بھی کرتا ہے اس دنیا میں اگرچہ ان کا نہ کوئی جسم نظر آتا ہے اور نہ ان میں کسی وزن کا احساس ہوتا ہے، لیکن آخرت میں اللہ تعالیٰ ان کا وزن کرنے کی ایسی صورت پیدا فرمائیں گے جن سے ان اعمال کی حقیقت واضح ہوجائے، اگر انسان سردی گرمی جیسی چیزوں کو تولنے کے لئے نئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
الذین یخشون ربھم بالغیب (12 : 94) ” جو بےدیکھے اپنے رب سے ڈریں “۔ اس لیے کہ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور انہوں نے اللہ کو دیکھا ہی نہ ہو اور
وھم من الساعۃ مشفقون (12 : 94) ” اور ان کو اس گھڑی کا کھٹکا لگا ہوا ہو “۔ اور اس کے لیے تیاری اور عمل کرتے ہوں تو ایسے ہی لوگ اس روشنی سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور راہ ہدایت اختیار کرتے ہیں اس لیے ایسے لوگوں کے لیے کتاب نصیحت بن جاتی ۔ یہ ان کو اللہ کی طرف مڑنے کی یاد دہانی کراتی رہتی ہے۔ اس کے ذریعے لوگوں کے اندر ان کا تذکرہ ہوتا ہے گویا وہ ان کی پہچان بن جاتی ہے۔
یہ تھی حضرت موسیٰ اور ہارون کی شان وھذا ذکر مبرک (12 : 05) ” اب یہ بابرکت ذکر ہم نے نازل کیا ہے “۔…
Read the full tafseer →9 قیامت کا خطرہ بھی اسی لیے رکھتے ہیں کہ ان کے دل میں خدا کا ڈر ہے۔ ہر وقت دل میں کھٹکا لگا رہتا ہے کہ دیکھئے وہاں کیا صورت پیش آئے گی۔ کہیں العیاذ باللہ حق تعالیٰ کی ناراضی اور عذاب کے مورد نہ بن جائیں۔ ظاہر ہے ایسے ہی لوگ نصیحت سے منتفع ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
آیت 50 وَہٰذَا ذِکْرٌ مُّبٰرَکٌ اَنْزَلْنٰہُ ط ”
اس سے پہلے ہم نے تورات نازل کی جو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والی تھی ‘ اس میں مؤمنین متقین کے لیے روشنی اور نصیحت بھی تھی ‘ اور اب ہم نے اپنا بابرکت کلام قرآن کی صورت میں نازل کیا ہے۔
Read the full tafseer →44 اگرچہ یہ کتاب سب لوگوں کے لئے نازل کی گئی تھی۔ مگر اس سے فائدہ اور نصیحت تو صرف ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جو اللہ پر بن دیکھے ایمان لاتے ہیں اور اس کی ہدایت کے طالب ہوتے ہیں اور آخرت کے دن اللہ کے حضور پیش ہونے اور اپنے اعمال کی باز پرس سے ڈرتے رہتے ہیں۔ اور انھیں بروقت یہی فکر دامنگیر رہتی ہے اور باز پرس کی فکر نہیں۔ اس دنیا میں انتہائی محتاط زندگی گزارنے پر آمادہ کرتی رہتی ہے۔
Read the full tafseer →66۔ متقین کے دو وصف خصوصی بیان ہوئے ہیں، ایک ان کی خشیت رب، دوسرے یوم حشر سے ان کا خوف۔ کاش ہمارے بےقید اور ” آزاد “ صوفیہ ومشائخ اس پر غور کرتے، نصیحت سے نفع یاب ہونے کا راز اسی دل کھٹک میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
آیت نمبر 42 تا 50
ترجمہ : اے محمد ﷺ ان تمسخر کرنے والوں سے کہئے رحمان کے عذاب سے رات اور دن کون ہے جو تمہاری نگرانی حفاظت کرتا ہے اگر تم پر عذاب نازل ہونے لگے (اللہ کے سوا) ایسا کوئی نہیں کرتا، اور یہ مخاطبین عذاب الٰہی سے نہیں ڈرتے اس عذاب کے منکر ہونے کی وجہ سے بلکہ یہ لوگ اپنے رب کے ذکر یعنی قرآنی سے اعراض کرتے ہیں یعنی اس میں غور و فکر نہیں کرتے اَمْ اس میں ہمزہ معنی انکاری کے لئے ہے کیا ان کے پاس ہمارے علاوہ ایسے معبود ہیں جو ان کو (ان کی تکلیف) عذاب سے بچا سکیں ؟ یعنی کیا ان کے پاس ہمارے علاوہ کوئی ایسی ذات ہے جو ان کو عذاب سے بچا سکے کوئی نہیں وہ معبود ان (باطلہ) خود اپنی حفاظت نہیں…
Read the full tafseer →الذین یخشون ربہم بالغیب وہم من الساعۃ مشفقون۔ جو اپنے رب سے بن دیکھے
ڈرتے ہیں اور وہ ہی قیامت سے بھی خوف کھاتے ہیں۔ یہ متقین کی صفت ہے یا فعل مدح محذوف ہے اور الذیناس کا مفعول۔ مشفقون ڈرنے والے۔ ہُمْکو شروع میں لانے سے یا تو مبالغہ مقصود ہے یا غیر متقین پر تعریض کہ جو متقی ہیں وہی ڈرتے ہیں اور جو متقی نہیں ہیں وہ نہیں ڈرتے۔
Read the full tafseer →(49) جو پرہیزگار اپنے پروردگار سے بغیر دیکھے اس کی خوشنودی کے لیے نیک اعمال کرتے ہیں اور وہ لوگ عذاب قیامت سے بھی ڈرتے ہیں۔
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ : اس کے دو معنی ہیں، ایک یہ کہ وہ اپنے رب کو دیکھے بغیر اس کا شدید خوف رکھتے ہیں اور دوسرا یہ کہ لوگوں کی نگاہوں سے غائب ہونے کی حالت میں بھی وہ اپنے رب سے بہت ڈرتے ہیں۔ ان کے کسی عمل سے مقصود نہ ریا ہے اور نہ لوگوں کی طعن تشنیع سے بچنا، بلکہ ان کے ہر عمل کا باعث صرف اپنے رب کی خشیت ہے۔
وَهُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ : یہ جملہ اسمیہ ہے جس میں دوام پایا جاتا ہے، ”اشفاق“ کا معنی ہے کسی آنے والے حادثے کا شدید کھٹکا، یعنی انھیں ہر وقت قیامت کا کھٹکا لگا رہتا ہے اور وہ ہمیشہ اس سے ڈرتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد اتینا موسیٰ و ھرون الفرقان و ضیاء حضرت ابن عباس ؓ اور عکرمہ نے الفرقان و ضیآء حال کی بناء بغیر واو کے پڑھا ہے۔ فراء کا خیال ہے کہ واو حذف کرنا اور نہ کرنا ایک جیسا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انا زینا السماء الدنیا بزینۃ الکواکب۔ و حفظا (الصافات :6) یعنی حفظاً اس قول کا زجاج نے رد کیا ہے انہوں نے فرمایا : واو ایک معنی کے لیے ہوتی ہے پس اسے زیادہ نہیں کیا جائے گا۔ فرمایا : الفرقان سے مراد تورات ہے کیونکہ ان میں حرام اور حلال کے درمیان فرق ہے۔ فرمایا : وضیائً فیہ ھذی و نور کی مثل ہے۔ ابن زید نے کہا : فرقان سے مراد دشمنوں پر مدد ہے، اس کی دلیل یہ ارشاد ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
1:۔ سعید بن منصور اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے (آیت) ” ولقد اتینا موسیٰ وھرون الفرقان وضیآء “ اور فرماتے تھے کہ اس واو کو لے لو اور یہاں رکھو (آیت) ” الذین قال لہم الناس ان الناس قد جمعوا لکم ‘ (آل عمران آیت 173)
2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے (آیت) ” ولقد اتینا موسیٰ وھرون الفرقان وضیآء “ کے بارے میں میں فرمایا کہ اس واو کو یہاں سے نکال کر (آیت) ” الذین یحملون العرش ومن حولہ “ غافر آیت : 7) میں رکھو۔
3:۔ عبد بن حمید نے ابو صالح (رح) سے (آیت) ” ولقد اتینا موسیٰ وھرون الفرقان وضیآء “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے تورات…
Read the full tafseer →[ الَّذِينَ : وہ لوگ جو ] [ يَخْشَوْنَ : ڈرتے ہیں ] [ رَبَّهُمْ : اپنے رب سے ] [ بِالْغَيْبِ : غیب میں (یعنی بن دیکھے)] [ وَهُمْ : اور وہ لوگ ] [ مِّنَ السَّاعَةِ : اس گھڑی (یعنی قیامت) سے ] [ مُشْفِقُوْنَ : ڈرنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
توریت شریف اور قرآن مجید کی صفات
یہ تین آیات ہیں۔ پہلی دو آیات میں توریت شریف کا ذکر ہے اور تیسری آیت میں قرآن مجید کا تذکرہ فرمایا ہے۔ توریت کے بارے میں فرمایا کہ یہ ہم نے موسیٰ اور ہارون کو عطا کی جو فرقان ہے۔ یعنی حق و باطل کا فیصلہ کرنے والی ہے اور ضیاء یعنی روشنی ہے جس سے قلوب منور ہوتے ہیں اور ذکر یعنی نصیحت ہے۔ اس کے یہ فوائد ہیں تو سبھی کے لیے، لیکن خاص کر ان لوگوں کے لیے ہیں جو متقی ہیں یعنی گناہوں سے بچتے ہیں اور بغیر دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور قیامت کے دن سے یعنی وہاں کے حساب کتاب سے بھی خوفزدہ ہیں۔ یہ صفات ان لوگوں کی تھیں جو توریت پرچلتے تھے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ فرقان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
(1) قصہ موسیٰ و ہارون علیہما الصلوٰۃ والسلام
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ و ھرون الفرقان .... الیٰ .... افانتم لہ منکرون۔
اور البتہ تحقیق ہم نے آپ ﷺ سے قبل موسیٰ اور ہارون کو ایسی چیز عطاء کی جو حق اور باطل میں فرق کرنے والی اور ایک کو دوسرے سے جدا کرنے والی وھی، مراد اس سے توریت ہے جو حق اور باطل اور حلال و حرام کے فرق کو واضح کرنے والی تھی اور ان کو روشنی عطاء کی۔ یعنی ان کو ایک روشن کتاب عطاء کی جس سے تاریکیوں میں راستہ نظر آئے اور پرہیزگاروں کے لیے وعظ و نصیحت کی چیز عطاء کی۔ یہ تینوں صفتیں توریت کی ہیں جو حق اور باطل کا فیصلہ کرتی تھی۔ اور مشعل ہدایت تھی جس سے دل میں نور پیدا ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
33:۔ یہاں سے دلائل نقلیہ تفصیلیہ کا بیان شروع ہوتا ہے ان دلائل کا حاصل یہ ہے کہ بیشک ان انبیاء (علیہم السلام) سے خارق عادت امور کا اظہار ہوتا رہا۔ لیکن وہ متصرف فی الامور نہیں تھے۔ اور نہ کچھ ان کے قبضہ قدرت میں تھا۔ یہ پہلی تفصیلی نقلی دلیل ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) سے یعنی ہم نے موسیٰ و ہارون کو جو کتاب (تورات) دی تھی اس میں حق و باطل اور توحید و شرک کا واضح امتیاز تھا اور وہ کتاب نور توحید اور ذکر ہدایت سے لبریز تھی۔ اس کتاب کا بھی یہی دعوی تھا کہ اللہ تعالٰ کے سوا کوئی عبادت اور پکار کے لائق نہیں اس لیے صرف اللہ ہی کو پکارو۔ اور یہی دعوی قرآن کا ہے اس لیے آگے بڑھو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
ربط آیات :
اس سورة مبر کہ کے اہم ترین مضامین توحید ، رسالت اور جزائے عمل ہیں گزشتہ درس میں ان کفار ومشرکین کو تنبیہ کی گئی تھی جو بےادبی اور گستاخی کرتے تھے۔ اللہ نے اپنے نبی آخر الزمان کو فرمایا کہ آپ کہہ دیجئے کہ میں وحی الٰہی کے ذریعے ڈراتا ہوں مگر جو لوگ بہرے ہیں ، وہ کہاں سنتے ہیں۔ فرمایا اگر خدا تعالیٰ کے عذاب کا ایک چھینٹا بھی ان کفارومشرکین پر پڑگیا تو ان کی ساری اکڑ ختم ہوجائے گی۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جزائے عمل کا مسئلہ بیان فرمایا ہے کہ یقینا ایک دن ایسا آنے والا ہے جب لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ بھگتنا پڑے گا۔ چناچہ یہاں پر اعمال کے وزن کی بات کی گئی ہے اور آگے نبی…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَيْبِ وَہُمْ مِّنَ السَّاعَۃِ مُشْفِقُوْنَ 49
خشی
الخَشْيَة : خوف يشوبه تعظیم، وأكثر ما يكون ذلک عن علم بما يخشی منه، ولذلک خصّ العلماء بها في قوله : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28]
( خ ش ی ) الخشیۃ
۔ اس خوف کو کہتے ہیں جو کسی کی عظمت کی وجہ سے دل پر طاری ہوجائے ، یہ بات عام طور پر اس چیز کا علم ہونے سے ہوتی ہے جس سے انسان ڈرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ؛۔
إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] اور خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ میں خشیت الہی کے ساتھ علماء کو خاص کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–67
تفسیر : یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جس میں حضرت کا ابتدائِ عمر میں موحد ہونا اور اپنی قوم سے بت پرستی کی تحقیر کرنا اور جب وہ عید میں باہر گئے تھے بعد میں ان کے چھوٹے بتوں کو توڑ ڈالنا اور بڑے کا باقی رکھنا اس الزام دینے کے لیے کہ ان سے پوچھو پھر بت پرستوں کا اس بات سے ناراض ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکنا اور رحمت الٰہی سے جو ہمیشہ اس کے پاکباز بندوں کے ساتھ رہتی ہے آگ کا سرد اور باغ ہوجانا مذکور ہے اس میں عرب کے مشرکین کی طرف سے تعریض بھی ہے کہ تم کیسے ابراہیم کے فرزند ہو اس نے تو بت پرستی کو یوں مٹایا اور تم خود بت پرستی میں مشغول ہو۔ اگر باپ دادا ہی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
وَلَقَدْ اٰ تَیْنَا مُوْسٰی وَھٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَضِیْـآئً وَّذِکْرًالِّلْمُتَّـقِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَیْبِ وَھُمْ مِّنَ السَّاعَۃِ مُشْفِقُوْنَ ۔ (الانبیاء : 48، 49)
(ہم عطا کرچکے ہیں موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کو فرقان اور روشنی اور ذکر پرہیزگاروں کے لیے۔ جو بےدیکھے اپنے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور وہ قیامت سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔ )
گزشتہ انبیائے کرام سے استشہاد
یہاں سے متعدد انبیائے کرام کا تذکرہ شروع ہورہا ہے۔ اس سے پہلے مشرکینِ مکہ نے جتنے اعتراضات کیے ان سب کا جواب دیا گیا اور مختلف اوقات میں جو انھوں نے نشانیاں مانگیں اس کے نتائج سے باخبر کیا گیا اور نبوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت پر ایمان لانا اور اس کے حساب کی تیاری کرنے کے بارے میں صرف نبی اکرم ﷺ ہی لوگوں کو نہیں سمجھاتے تھے اس عقیدہ کی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) بھی تلقین کیا کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ بات متعدد مقامات پر عیاں فرمائی ہے کہ نہ تو نبی آخر الزّماں پہلے نبی ہیں اور نہ ہی قرآن مجید کی تعلیمات انوکھی ہیں۔ رسول اکرم ﷺ سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ہیں اور پہلے انبیاء (علیہ السلام) کی تصدیق کرنے والے ہیں۔ قرآن مجید اپنے سے پہلی آسمانی کتابوں کی تائید کرتا ہے۔ بالخصوص تورات اور انجیل کے بنیادی مضامین اور احکام معمولی تبدیلی کے ساتھ وہی ہیں جن کی قرآن…
Read the full tafseer →49: اَلَّذِیْنَ (وہ لوگ )
نحو : وصف ہونے کی وجہ سے الذین محل جر میں ہے۔ نمبر 2۔ مدح کی وجہ سے منصوب ہے۔ نمبر 3۔ مرفوع ہے۔ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ یَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ (وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں) بِالْغَیْبِ (بن دیکھے) یہ حال ہے علیحدگی میں وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔ وَھُمْ مِّنَ السَّا عَۃِ (اور وہ قیامت کے اور اس کے احوال سے) مُشْفِقُوْنَ (خوف کھاتے ہیں)
Read the full tafseer →49۔ الذین یخشون ربھم بالغیب۔ جوبن دیکھے اس سے ڈرتے ہیں۔ وھم من الساعۃ مشفقون، وہ خوف زدہ ہیں ڈرنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
48۔ 50:۔ سورة قصص میں آوے گا ولقد اتینا موسیٰ الکتب من بعد ما اھلکنا القرون الاولی بصائر للناس جس کا حاصل یہ ہے کہ قوم نوح سے لے کر فرعون تک پچھلے نافرمان لوگوں کے قصے ملا کر توراۃ کی ترتیب ایسی ہے جس سے لوگوں کے دلوں پر پورا اثر پڑے گا اب قرآن شریف میں توراۃ کی باتیں بھی ہیں اور انجیل کی بھی ‘ اور موسیٰ (علیہ السلام) عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تورات اور انجبیل میں جو خرابیاں پڑگئی تھیں ‘ ان کا بھی ذکر ہے ‘ اسی واسطے قرآن شریف میں اکثر جگہ توراۃ اور قرآن کا ذکر ساتھ آیا ہے جس سے یہ جتلایا گیا ہے کہ توراۃ میں لوگوں کے دل پر اثر پڑنے کی جو باتیں تھیں قرآن میں ان سے بڑھ کر ہیں اس پر بھی قرآن کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
آیت 48-49
اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت کثرت سیان دو جلیل القدر کتابوں کا اکٹھا ذکر ہے ان دونوں سے افضل، ذکر میں ان سے بڑی، ان سے زیادہ بابرکت اور ہدایت وبیان کے لئے زیادہ عظیم کوئی اور کتاب دنیا میں نازل نہیں ہوئی اور وہ ہیں تو رات اور قرآن کریم، اس لئے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اصلاً اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو تبعاً تورات عطا فرمائی (الفرقان) جو حق اور باطل کے درمیان اور ہدایت اور گمراہی کے درمیان فرق کرتی ہے (وضیاء) نور ہے جس سے راہنمائی کے خواہشمند راہنمائی حاصل کرتے ہیں، اہل سلوک اس کو اپنا امام بناتے ہیں، اس سے احکام کی معرفت حاصل ہوتی ہے، اس کے…
Read the full tafseer →69 تقویٰ و پرہیزگاری وسیلہ نجات و سرفرازی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تقویٰ و پرہیزگاری سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ سو یہ ایک اہم اور بنیادی حقیقت ہے کہ تقویٰ و پرہیزگاری اور ایمان بالغیب دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے کہ اس کتاب ہدایت سے فائدہ دراصل یہی لوگ اٹھا سکتے تھے۔ ورنہ اس کی ہدایت تو اپنے دور کے تمام ہی انسانوں کے لئے عام اور یکساں تھی۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ تقویٰ و پرہیزگاری اور ایمان بالغیب سب خوبیوں کی اصل اساس اور بنیاد ہے۔ اسی سے انسان انسان بنتا ہے اور اس کے اندر احساس ذمہ داری پیدا ہوتا ہے اور وہ بات کو غور اور توجہ سے سنتا اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
تورات کی صفات اور قرآن مجید کا بابرکت ہونا
تشریح : جیسا کہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ اللہ نے انسان کو پیدا کیا پھر برے بھلے کی تمیز دی، یعنی عقل سمجھ اور علم عطا کیا۔ مگر کیونکہ انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ بھول جاتا ہے غلطی کر بیٹھتا ہے تو اس کو خبردار کرنے کے لیے اللہ کی خاص رحمت اس پر یہ بھی نازل کی گئی کہ وقتاً فوقتاً اس کی ہدایت کے لیے انبیاء بھیجے گئے اللہ ان انبیاء پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے کیونکہ انہوں نے اولادآدم کو سیدھی راہ پر چلانے اور برائیوں سے بچا کر تقویٰ کی روشنی کی طرف بلانے کے لیے بےحد تکالیف ‘ پریشانیاں اور مصائب برداشت کیے اسی لیے یہ برگزیدہ لوگ اللہ کے مقبول ترین لوگ ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
ان سے فرمادیجیے کہ انہیں اللہ کے عذاب سے کوئی بھی نہیں بچا سکتا اور نہ ہی شب روز کوئی ان کی نگہبانی کر رہا ہے یہ تو صرف اللہ جل جلالہ کی رحمانیت ہے جس کے صدقے یہ دنیا کی نعمتیں حاصل کر رہے ہیں حالانکہ یہ اس کی یاد تک سے منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔
(رحمانیت)
پہلے گذر چکا ہے کہ رحمانیت وہ کیفیت ہے جو دار دنیا میں انسانوں کو وجود ، عمریں ، رزق وغیرہ عطا کرتی ہے اسی لیے باقی مخلوق میں سے کوئی ذکر سے غافل ہو تو اس کی موت واقع ہوجاتی ہے مگر انسان جب تک فرصت دیا گیا ہے ظاہری بدن سے ضرور زندہ رہتا ہے اگرچہ اندر سے یہ بھی مردہ ہی ہوجاتا ہے کہ روح کی حیات کی بنیاد تو ایمان ہے مگر یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
ف 14 ۔ اسی لئے وہ معصیت سے اجتناب کرتے ہیں کیونکہ اس روز تمام اعمال کا محاسبہ ہوگا اور ہر اچھے برے عمل کا بدلہ دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
(21:48) القرقان (حق و باطل کو الگ الگ کردینے والی) ضیاء (روشنی) ذکرا۔ نصیحت۔ سب توریت کے اوصاف ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اصالتا اور حضرت ہاروں پر نیابتا اتاری گئی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
لغات القرآن آیت نمبر 48 تا 50
اتینا ہم نے دیا۔ الفرقان حق و باطل میں فرق کرنے والا۔ ضیاء روشنی۔ ذکر نصیحت نامہ۔ یخشون وہ ڈرتے ہیں۔ الغیث بن دیکھی حقیقتیں۔ مبارک برکت والا۔ منکرون انکار کرنے والے۔
تشریح : آیت نمبر 48 تا 50
یوں تو قرآن کریم کی ہر سورت میں بہت سے انبیاء کرام کا ذکر مبارک ہے۔ چونکہ اس سورت میں سترہ پیغمبروں کا تذکرہ فرمایا گیا ہے اس لئے نبی کریم ﷺ نے اللہ کے حکم سے اس سورت کا نام ” الانبیائ “ رکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں سترہ انبیاء کرام کا ذکر خیر کر کے چند باتوں کی طرف متوجہ فرمایا ہے۔
(1) جتنے پیغمبروں کو بھیجا گیا ہے ان کی تعلیمات، مقصد اور مشن ایک ہی تھا جس کی تکمیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
(ف 2) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو کتاب یعنی توریت اور روشنی عطا کی تھی جو حق و باطل میں فرق کرتا تھا شبہات سے نکالتا تھا اور پرہیزگاروں کے لیے اس کتاب میں سراسر نصیحت تھی۔ متقی لوگ وہ ہیں جو اپنے پروردگار سے غائبانہ طور پر ڈرتے ہیں اور قیامت کا ڈھرکا ان کے دل میں بیٹھا ہوا ہے آگے یہ فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ پر تورات نازل فرمائی اسی طرح رسول اللہ ﷺ پر قرآن مبارک نازل فرمایا یہ ان لوگوں کی نادانی ہے کہ تورات کو کتاب آسمانی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو انسان رسول مان کر پھر یہ قرآن کے کتاب آسمانی ہونے میں حجت پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–55
[31] مراد کتاب تورات ہے جو فرقان یعنی حق و باطل کا فرق دکھانے والی، جہل غفلت کے اندھیاروں میں روشنی پہنچانے والی اور '' ذکر '' یعنی نصیحت نامہ تھی۔
Read the full tafseer →قرآن میں تنوع ہے ! :
(ف 1) قرآن حکیم چونکہ کتاب فطرت ہے ، اس لئے اس میں مصنوعی ترتیب مضامین نہیں ، بلکہ تنوع ہے اور تنوع کے ساتھ ایک باریک ربط ہے جس کا سمجھنا صرف اہل بصیرت کے لئے ممکن ہے ، اس تنوع بیان کا بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ پڑھنے والے کے دل میں شوق جستجو بڑھتا جاتا ہے ، اور طبیعت میں ملال پیدا نہیں ہوتا ،
ان آیات سے قبل توحید کا ذکر تھا ، رسالت ونبوت کا بیان تھا ، اور حشر ونشر کی کیفیات کی توضیح تھی اب انبیاء (علیہم السلام) کے حالات بیان فرمائے ہیں ۔
ارشاد ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو جو کتاب عنایت فرمائی ، وہ بالکل فیصلہ کن تھی ادہام و خرافات کی تاریکیوں کو…
Read the full tafseer →(49) متقی وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور وہ قیامت کا خطرہ رکھتے ہیں اور قیامت سے خائف ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے چونکہ ڈرنے والے ہیں اس لئے قیامت سے بھی ڈرتے ہیں کہ دیکھئے اس دن کیا ہو اور اللہ تعالیٰ کیسا معاملہ فرمائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
ف 3۔ موازین کا جمع لانا یا تو اس وجہ سے ہے کہ ہر شخص کے لئے جدا میزان عمل ہو، یا چونکہ ایک ہی میزن میں بہت سے لوگوں کے اعمال کا وزن ہوگا، اس لئے وہ ایک قائم مقام متعددہ کے ہوگی۔
4۔ شروع سورت سے یہاں تک توحید اور رسالت کا زیادہ اور اس کے ضمن میں اس کے تعلق سے مخالفین رسل کا آخرت میں عموما معذرت ہونا اور بعض کا دنیا میں بھی ہلاک ہونا مذکور تھا، آگے بعض حضرات انبیاء (علیہم السلام) کے قصص بیان فرمانے سے ان ہی مضامین کی تائید فرماتے ہیں، رسالت کی تائید تو ان کے رسول ہونے سے ظاہر ہے، اور توحید کی تائید ان کے داعی الی التوحید ہونے سے، اور تعذیب کی تائید ان کی بعض امم کی ہلاکت سے۔
Read the full tafseer →نصیحت قبول کرنے والے کون لوگ ہیں ؟ جو قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں :
49۔ قیامت کبری اور قیامت صغری دو نام ہیں لیکن حقیقت دونوں کی ایک ہی ہے قیامت کبری تو وہی ہے جو بہت سے ناموں سے قرآن کریم میں موسوم کی گئی ہے اور قیامت صغری موت کو کہا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس دنیوی زندگی کی موت آجانے کے بعد دوبارہ اس زندگی میں آنے کا کوئی تصور موجود نہیں اور نہ ہی ایسا ممکن ہے لہذا جو شخص اس دنیوی زندگی کے دن پورے کرکے یہاں سے رخصت ہوگیا گویا اس کو وہ قیامت ہی آگئی جس کو قیامت کبری کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔
اہل مذاہب میں یہ عقیدہ کسی نہ کسی نوع سے ہر جگہ موجود ہے اور اس کا مجمل تذکرہ تمام آسمانی کتابوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–56
Commentary
الْفُرْقَانَ وَضِيَاءً وَذِكْرًا لِّلْمُتَّقِينَ (Criterion and light and an advice for the God-fearing - 21:48) The three attributes which belong to Torah are فُرْقَانَ (criterion) which differentiates between right and wrong second is 4 ' (light) which provides light and manifestation of truth to hearts, and the third is ذِکر (advice) which is a source of guidance for the people. Some explain فُرْقَانَ as help from God which was available to Sayyidna Musa (علیہ السلام) all times. It was manifest when he was raised in the Pharaoh's house, then at the time of his contest with…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
52. The Hour of Resurrection.
Read the full tafseer →