Explained with ayahs 108–112
جلد یا بدیر حق غالب ہوگا
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ مشرکوں سے فرمادیں کہ میری جانب یہی وحی کی جاتی ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے تم سب بھی اسے تسلیم کرلو۔ اور اگر تم میری بات پہ یقین نہیں کرتے تو ہم تم جدا ہیں تم ہمارے دشمن ہو ہم تمہارے۔ جیسے آیت میں ہے کہ اگر یہ جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرے لئے میرا عمل ہے اور تمہارے لئے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو اور میں تمہارے کرتوتوں سے بیزار ہوں۔ اور آیت میں ہے (وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاۗءٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَاۗىِٕنِيْنَ 58) 8۔ الانفال :58) یعنی اگر…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْبِیَآء 102
اشارہ ہے ان مخالفانہ باتوں اور سازشوں اور سرگوشیوں کی طرف جن کا آغاز سورة میں ذکر کیا گیا تھا۔ وہاں بھی رسول کی زبان سے ان کا یہی جواب دلوایا گیا تھا کہ جو باتیں تم بنا رہے ہو وہ سب خدا سن رہا ہے اور جانتا ہے۔ یعنی اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ یہ ہوا میں اڑ گئیں اور کبھی ان کی باز پرس نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
معارف و مسائل
وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ ، عالمین عالم کی جمع ہے جس میں ساری مخلوقات انسان، جن، حیوانات، نباتات، جمادات سبھی داخل ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ان سب چیزوں کے لئے رحمت ہونا اس طرح ہے کہ تمام کائنات کی حقیقی روح اللہ کا ذکر اور اس کی عبادت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس وقت زمین سے یہ روح نکل جائے گی اور زمین پر کوئی اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا تو ان سب چیزوں کی موت یعنی قیامت آجائے گی اور جب ذکر اللہ و عبادت کا ان سب چیزوں کی روح ہونا معلوم ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ کا ان سب چیزوں کے لئے رحمت ہونا خود بخود ظاہر ہوگیا کیونکہ اس دنیا میں قیامت تک ذکر اللہ اور عبادت آپ ہی کے دم…
Read the full tafseer →انہ یعلم الجھرمن القول ویعلم ماتکتمون 110
تفویض الی اللہ
یہ نہایت جامع اور بلیغ کلمہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا تمہاری کھلی باتوں کو بھی جانتا ہے اور جو کچھ تم اپنے پیٹوں میں چھپائے ہوئے ہو اس کو بھی جانتا ہے تو معاملہ اسی کے حوالہ ہے جو اس کی حکمت کا تقاضا ہوگا وہ وہی کرے گا۔ وہ جانتا ہے کہ تم مجھ سے کیا مطالبہ کر رہے ہو اور تمہارے اس مطالبے کی تہہ میں کیا چیز چھپی ہوئی ہے۔ یہ امر محلوظ رہے کہ جو لوگ نبی ﷺ سے عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے وہ اس وجہ سے نہیں کر رہے تھے کہ فی الواقع وہ عذاب قیامت کو ناممکن یا پیغمبر ﷺ کو جھوٹا سمجھتے تھے بلکہ وہ محض آپ کو زچ کرنے اور پانے عوام کو دھوکا دینے کے لئے ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
19۔ 1 یعنی جس طرح میں جانتا ہوں کہ تم میری دعوت توحید و اسلام سے منہ موڑ کر میرے دشمن ہو، اسی طرح تمہیں بھی معلوم ہونا چاہیے کہ میں بھی تمہارا دشمن ہوں اور ہماری تمہاری آپس میں کھلی جنگ ہے۔
19۔ 2 اس وعدے سے مراد قیامت ہے یا غلبہ اسلام و مسلمین کا وعدہ یا وہ وعدہ جب اللہ کی طرف سے تمہارے خلاف جنگ کرنے کی مجھے اجازت دی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–112
47: یعنی آخرت میں ساری زمین پر کسی کافر کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ؛ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں ہی کو ملے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
انہ یعلم الجھر من القول ویعلم ماتکتمون (21 : 110) ” اللہ وہ باتیں بھی جانتا ہے جو با آواز بلند کہی جاتی ہیں اور وہ بھی جو تم چھپا کر کرتے ہو۔ “ تمہارے سب معاملات اس کے سامنے کھلے ہیں۔ وہ اگر تمہیں سزا دے گا تو اس لئے دے گا کہ تمہارے ظاہری اور خفیہ سب معاملات سے وہ باخبر ہے اور اگر وہ عذاب کو مئوخر کرتا ہے تو پھر بھی کوئی حکمت اس کے پیش نظر ہوگی۔
وان ادری لعلہ فتنۃ لکم و متاع الی حین (21 : 111) ” میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ شاید یہ تمہارے لئے ایک فتنہ ہے اور تمہیں ایک وقت تک کے لئے مزے کرنے کا موقعہ دیا جا رہا ہے۔ “ یعنی تمہاری سزا میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے ؟ یہ میرے علم کے مطابق تمہارے لئے مزید…
Read the full tafseer →7 وہ ہی ہر ایک کھلی چھپی بات کو جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ کس بات کی کیا جزاء ملنی چاہیے اور کب ملنی چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
آیت 111 وَاِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّہٗ فِتْنَۃٌ لَّکُمْ وَمَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ ”
شاید اس عذاب موعود کے واقع ہونے میں تاخیر کی وجہ یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں کچھ عرصہ اور رہنے بسنے کی مہلت دے کر تم لوگوں کو مزیدآزما نا چاہتا ہو اور اس کے لیے وہ تم لوگوں کو مزید Fresh lease of existance عطا کردے۔ لیکن بالآخر ہوگا وہی جو میں تمہیں بتارہا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس عذاب کا آنا ایک شدنی امر ہے اور وہ آکر رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
97 اِذْانْتُمْ عَلٰی سَوَاءٍ کا معنی یہ کہ میں نے تم کو برابری کی سطح پر خبردار کردیا ہے۔ یعنی تمہیں دو باتوں میں سے کسی بھی ایک کا اختیار ہے۔ چاہے میری دعوت کو قبول کرلو اور چاہے تو انکار کردو۔ انکار کی صورت میں تم پر عذاب آئے گا ضرور، لیکن میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ عذاب کب آئے گا ؟ جلد آئے گا یا دیر سے آئے گا کیونکہ عالم الغیب نہیں ہوں۔
Read the full tafseer →147۔ یعنی تاخیر عذاب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–112
آیت نمبر 94 تا 112
ترجمہ : تو جو شخص نیک عمل کرے اور وہ مومن بھی ہو تو اس کی کوشش کی ناقدری نہیں کی جائے گی یعنی انکار نہیں کیا جائے گا اور ہم اس کی سعی کو لکھ لیتے ہیں یعنی ہم فرشتوں کو اس کے لکھنے کا حکم دیتے ہیں سو ہم اس کو اس کی سعی کا بدلہ دیں گے اور حرام ہے اس بستی پر یعنی بستی والوں پر جن کو ہم نے ہلاک کردیا ہے یہ کہ وہ لوٹ آئیں یعنی ان کا دنیا کا طرف لوٹ کر آنا ممتنع ہے اور لا یرجعون میں لا زائدہ ہے، یہاں تک کہ یہ امتناع رجوع کی گایت ہے کھولدئیے جائیں یا جوج اور ماجوج فتحت تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے، یأجوج مأجوج ہمزہ کے ساتھ اور ترک ہمزہ کے ساتھ دو قبیلوں کے دو عجمی نام ہیں اور ان سے…
Read the full tafseer →انہ یعلم الجہر من القول ویعلم ما تکتمون۔ بیشک اللہ کو تمہاری پکار کر کہی ہوئی بات کی بھی خبر ہے اور جو بات تم دل میں چھپائے رکھتے ہو اس کی بھی خبر ہے یعنی علانیہ جو اسلام پر طعن کرتے ہو اللہ اس سے واقف ہے اور مسلمانوں سے دشمنی اور کینہ جو تم دلوں میں چھپائے ہوئے ہو اس کو بھی اللہ جانتا ہے ‘ یقیناً وہ تم کو اس کی سزا دے گا ‘ یہ جملہ معترضہ ہے اس سے نفاق پر زجر اور اخلاص کی ترغیب دینی مقصود ہے۔
Read the full tafseer →(110) باقی میں نہیں جانتا کہ وہ عذاب قریب ہے یا دور اللہ تعالیٰ کو تمہاری پکار اور کی ہوئی بات کی بھی خبر ہے اور جو بات تم دل میں رکھتے ہو یا جو کام چھپ کر کرتے ہو اس کی بھی خبر ہے۔
Read the full tafseer →اِنَّهٗ يَعْلَمُ الْجَـــهْرَ مِنَ الْقَوْلِ۔۔ : سب کے سامنے کھلم کھلا عمل بھی ہوتا ہے اور قول بھی، اس لیے فرمایا کہ کوئی بھی کھلم کھلی اور بلند آواز میں ہونے والی بات ہو، اللہ تعالیٰ اسے بھی جانتا ہے اور جو بات تم دل میں چھپاتے ہو اسے بھی جانتا ہے۔ یہ تنبیہ اور خبردار کرنے کا مؤثر ترین طریقہ ہے کہ کسی کو غلط کام سے روکنا ہو تو اسے روکنے کے بجائے کہا جائے کہ میں تمہاری سب حرکتیں دیکھ رہا ہوں، مطلب یہ کہ تم سے نمٹ لوں گا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تمہاری بلند آواز کی باتیں بھی جانتا ہوں اور جو کچھ تم چھپاتے ہو وہ بھی جانتا ہوں۔ مطلب یہ کہ تمہارا کفر بھی مجھے معلوم ہے اور تمہارا نفاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–112
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فان تولوا یعنی اگر وہ اسلام سے اعراض کریں۔ فقل اذنتکم علی سوآء یعنی میں تمہیں آگاہ کرتا ہوں کہ میری اور تمہاری جنگ ہے ہماری کوئی صلح نہیں ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واما تخافن من قوم خیانۃ فانبذ الیہم علی سوآء (الانفال : 58) یعنی انہیں آگاہ کرو کہ تو نے عہد توڑ دیا ہے یعنی تم اور وہ برابر ہو کسی ایک فریق کا فانبذ الیہم علی سوآء (الانفال :58) یعنی انہیں آگاہ کرو کہ تو نے عہد توڑ دیا ہے یعنی تم اور وہ برابر ہو کسی ایک فریق کا دوسرے فریق کے لیے لازم عہد نہیں ہے۔ زجاج نے کہا : اس کا معنی ہے میں نے تمہیں بتایا کہ میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ اس کے علم میں برابر ہیں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” علی سوآء “ سے مراد ہے ” علی مہل “ (یعنی میں نے تم کو پوری طرح آگاہ کردیا ہے )
Read the full tafseer →[ انهٗ : بیشک وہ ] [ يَعْلَمُ : جانتا ہے ] [ الْجَـــهْرَ : نمایاں کئے جانے کو ] [ مِنَ الْقَوْلِ : بات میں سے ] [ وَيَعْلَمُ : اور وہ جانتا ہے ] [ مَا : اس کو جو ] [ تَكْتموْنَ : تم لوگ چھپاتے ہو ]
Read the full tafseer →(اِنَّہٗ یَعْلَمُ الْجَھْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَکْتُمُوْنَ ) (بلاشبہ اللہ جانتا ہے زور سے کہی ہوئی بات کو بھی اور ان چیزوں کو بھی جنہیں تم چھپاتے ہو) تم زبانوں سے حق کا انکار کرو یا دلوں سے اس کی تردید کرو، اس کی سزا پالو گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو سب کچھ معلوم ہے اور وہی سزا دینے والا ہے۔ اگر کفر اور شرک کی باتوں کو اپنے دل میں چھپاتے ہو تو اس سے یہ نہ سمجھ لینا کہ چونکہ زبان سے نہیں نکالا اس لیے مواخذہ نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–112
خاتمہ سورت بر اتمام حجت
بہ تنزیل کتاب ہدایت و بعثت رسول رحمت ﷺ
قال اللہ تعالیٰ ان فی ھذا لبلاغا لقوم عابدین .... الیٰ .... وربنا الرحمن المستعان علی ما تصفون۔
(ربط) یہ سورت کا خاتمہ ہے جس میں یہ بتلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری ہدایت کے لیے یہ قرآن نازل کیا اور ایسے نبی کو تمہارے لئے مبعوث کیا جو تمام جہانوں کے لیے رحمت ہے جس کے اتباع کی برکت سے تم کو دینی اور دنیوی نعمت اور سعادت اور زمین کی وراثت اور بادشاہت میسر آئی۔ اللہ نے تم پر حجت پوری کردی۔ نبی کے ذمہ صرف تبلیغ ہے سو وہ آپ کرچکے اب رہ گیا کہ قیامت اور حساب و کتاب کا وقت کب آئے گا جس کے متعلق یہ اہل غفلت اور معترضین آپ ﷺ سے سوال…
Read the full tafseer →89:۔ ” اِنَّهٗ یَعْلَمُ الخ “ یہ ماقبل کی دلیل اور علت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–112
ربط آیات :
یہ مکی سورة ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے توحید ، رسالت اور قیامت کے تین اہم بنیادی مسائل بیان فرمائے ہیں۔ رسالت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء کے حالات ، ان کی پاک سیرت ، ان کا طریقہ تبلیغ اور بارگاہ رب العزت میں ان کی مناجات کا تذکرہ کیا ہے ان پر بہت سی مصیبتیں بھی آئیں جنہیں خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے کمال صبر و تحمل کا نمونہ پیش کیا۔ اس میں حضور ﷺ اور آپ کے رفقا کے لئے تسلی کا مضمون بھی ہے کہ سابقہ انبیاء کی طرح وہ بھی مصائب کو برداشت کرتے ہوئے تبلیغ دین کا کام جاری رکھیں ، بالآخر اللہ تعالیٰ انہی کو کامیابی عطا فرمائے گا۔ آج کی آیات میں پہلے تسلی کا مضمون ہے اور…
Read the full tafseer →اِنَّہٗ يَعْلَمُ الْجَـــہْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَيَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ 110
علم
العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته،
( ع ل م ) العلم
کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا
جهر
جَهْر يقال لظهور الشیء بإفراط حاسة البصر أو حاسة السمع .
أمّا البصر فنحو : رأيته جِهَارا، قال اللہ تعالی: لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً [ البقرة/ 55] ، أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً [ النساء/ 153]
( ج ھ ر ) الجھر
( ف) اس کے اصل معنی کسی چیز کا حاسہ سمع یا بصر میں افراط کے سبب پوری طرح ظاہر اور نمایاں ہونے کے ہیں چناچہ حاسہ بصر یعنی نظروں کے سامنے کسی چیز کے ظاہر ہونے کے متعلق کہا جاتا ہے رایتہ جھرا کہ میں نے اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–112
ولقد کتبنافی الزبور سعید بن جبیر و مجاہد و کلبی و مقاتل و ابن زید کہتے ہیں زبور سے مراد وہ کتابیں جو دنیا میں انبیاء پر نازل ہوئیں اور ذکر سے مراد لوح محفوظ کہ جہاں سے نقل ہو کر یہ کتابیں آئیں یعنی دونوں جگہ ہم نے لکھ دیا کہ زمین کے نیک بندے وارث ہوں گے۔ زمین سے مراد جنت کی زمین کہ وہاں بجز ان کے اور کوئی آدم (علیہ السلام) کے ورثہ میں مالک نہ ہوگا۔ سو یہ بات کل آسمانی کتابوں میں ہے۔ اس تقدیر پر یہ آیت بیان سابق کا تتمہ یا تاکید ہوگی۔ قتادہ و شعبی کہتے ہیں زبور سے مراد قرآن و ذکر سے مراد تورات ہے۔ سو ان دونوں میں بھی یہ بات مذکور ہے زبور سے مراد دائود کی کتاب بھی ہوسکتی ہے۔ ارض میں مفسرین کے…
Read the full tafseer →اِنَّـہٗ یَعْلَمُ الْجَھْرَمِنَ الْقَوْلِ وَیَعْلَمُ مَا تَکْتُمُوْنَ ۔ (الانبیاء : 110)
(بیشک وہ جانتا ہے جو بات تم بلند آواز سے کہتے ہو اور جانتا ہے جو تم اپنے دل میں چھپاتے ہو۔ )
مشرکینِ مکہ بار بار آپ ﷺ سے کبھی عذاب کا مطالبہ کرتے اور کبھی قیامت کی بحث چھیڑتے کہ اگر اس قیامت کو آنا ہی ہے تو وہ اب تک آکیوں نہیں پائی، آخر اس کا جہاز کہاں لنگرانداز ہوگیا ہے۔ وہ اس طرح کے سوالات کرتے ہوئے یہ تأثر دینے کی کوشش کرتے تھے کہ عذاب یا قیامت کی تاخیر کے باعث ہم آج تک نعمت ایمان سے محروم ہیں۔ اگر ہمیں معلوم ہوجاتا کہ وہ واقعی ہمارے سر پر پہنچ گئے ہیں تو ہم ضرور ایمان لے آتے۔ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–112
فہم القرآن
ربط کلام : رسول کریم ﷺ کی ذات کو رحمت عالم قرار دینے کے بعد آپ کی آمد کا بنیادی اور مرکزی مقصدبیان کیا گیا ہے۔
اسی سورة کی آیت ” 25“ میں یہ ذکر ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ سے پہلے جتنے انبیاء (علیہ السلام) مبعوث فرمائے۔ انھیں یہی حکم صادر فرمایا تھا کہ وہ لوگوں کو بتلائیں اور سمجھائیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہاں نبی اکرم ﷺ کو براہ راست یہ حکم دیا ہے کہ آپ لوگوں کو بتلائیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی کے ذریعے حکم دیا ہے کہ میں لوگوں کو بتلاؤں اور سمجھاؤں کہ لوگو ! تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے کیا تم اس کے تابعدار ہونے کے لیے تیار ہو ؟ اگر تم عقیدہ توحید ماننے اور…
Read the full tafseer →110: اِنَّہٗ یَعْلَمُ الْجَھْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَیَعْلَمُ مَاتَکْتُمُوْنَ (بیشک اللہ تعالیٰ کو تمہاری پکار کر کہی ہوئی بات کی بھی خبر ہے اور جو بات تم دل میں چھپا کر رکھتے ہو۔ اس کا بھی علم ہے) یعنی وہ ذات ہر چیز کا علم رکھنے والی ہے وہ اس کو بھی جانتا ہے۔ جو تم ظاہر کرکے اسلام پر طعنہ زنی کرتے ہو اور جس کو تم کینہ کی صورت میں اپنے دلوں میں چھپاتے ہو۔ وہ اس پر خود تم سے بدلہ لینے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
109۔ فان تولوا فقل اذنتکم، اگر وہ آپ کی دعوت سے روگرداں ہوجائیں تو آپ ان سے کہہ دیں کہ جنگ کے معاملے میں تم جان چکے ہو اب ہماری اور تمہاری صلح نہیں ہوگی۔ علی سوائ، میں نے وحی کی کوئی بات پوشیدہ نہیں رکھی، سب کو برابر اطلاع دے دی، آذنتکم ، کہ ہم اور آپ دونوں برابر ہیں۔ یہ چیز جاننے میں اور بعض نے کہا کہ تم سب لوگ ایمان میں برابر ہو۔ وان ادری ، میں نہیں جانتا، اقریب ام بعید ما توعدون، اس سے مراد قیامت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–111
108۔ 111:۔ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن شریف میں اپنی مرضی اور نامرضی کی سب باتیں پوری طور پر جتلا دی ہیں ان آیتوں میں فرمایا کہ قرآن شریف کی نصیحت سے اگرچہ ان ہی لوگوں کو نیک ہدایت ہوتی ہے جو اللہ کے علم غیب میں نیک ٹھہر چکے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کو ہر شخص کے انجانی کا عذر رفع کردینا بہت پسند ہے اس واسطے اے رسول اللہ کے تم ان مکہ کے مشرکوں سے کہہ دو مجھ کو حکم ہے کہ جس اللہ نے انسان کو اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے تو انسان پر اللہ تعالیٰ کا یہ حق ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں انسان کسی کو شریک نہ کرے ‘ اس حق کے ادا ہونے کے بعد انسان کا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
آیت 107
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب عزیز قرآن کریم کی ستائش کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ قرآن کریم میں ہر چیز سے مکمل کفایت ہے اور اس سے مستغنی نہیں رہا جاسکتا، چناچہ فرمایا (ان فی ھذا لبلغا لقوم عبدین) ” بیشک اس میں البتہ کفایت ہے عبادت گزار لوگوں کے لئے۔ “ یعنی وہ اپنے رب اور اس کے عزت و تکریم کے گھر تک پہنچنے کے لئے قرآن عزیز پر اکتفاء کرتے ہیں۔ پس یہ گراں قدر کتاب ان کو جلیل ترین مقاصد اور افضل ترین مرغوبات تک پہنچاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے لئے، جو سب سے زیادہ فضل و شرف کے حامل ہیں، اس سے آگے اور کوئی منزل نہیں کیونکہ قرآن ان کے رب کی، اس کے اسماء وصفات اور افعال کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–112
ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ
قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
147 مشرکوں اور منکروں کو آخری اور فیصلہ کن تنبیہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ اس کے بعد بھی پھرے ہی رہیں تو ان سے کہہ دو کہ میں نے تو یقینا تم سب کو خبردار کردیا اور سب کو برابر طور پر اور پوری صراحت و وضاحت کے ساتھ بتادیا کہ تمہارا راستہ الگ اور ہمارا الگ۔ اور اب ہماری تمہاری دونوں کی جنگ ہے۔ یہ نہیں کہ کچھ کو بتایا ہو اور کچھ سے چھپایا ہو۔ بلکہ سب کو ایک برابر بتا کر آئندہ کے بارے میں خبردار کردیا ہے۔ نیز ایسا واضح طور پر اور کھول کر بتادیا ہے کہ اس میں تم اور میں ایک برابر ہوگئے۔ ( روح، ابن کثیر، قرطبی وغیرہ ) ۔ سو اب ہمارا تم سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ہم تم سے بری اور تم ہم سے بری۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–112
قیامت کا منظر، نبی ﷺ کا پیغام
تشریح : سب سے پہلے کائنات کے اختتام کا ذکر ہے کیونکہ یہ بالکل سچا اور پکا وعدہ ہے پھر اس کو دوبارہ پیدا کرنے کا وعدہ ہے۔ کائنات کے اختتام کا منظر کچھ یوں بیان کیا ہے۔ ڈاکٹر دلدار احمد اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ ” اس وقت اوراق کے یہ طومار کھلے ہوئے ہیں اور اس کے تمام نقوش اور خطوط پڑھے جا رہے ہیں۔ اور ہر ایک اپنی جگہ پر قائم اور برقرار ہے۔ لیکن جب قیامت کا حکم ہوجائے گا تو یہ عظیم طومار اپنے تمام خطوط و نقوش کے ساتھ لپیٹ دیے جائیں گے، یعنی کائنات پھیل رہی ہے اور ایک خاص حد تک وسعت پا چکنے کے بعد یہ دوبارہ سکڑنا شروع ہوجائے گی (یعنی) طومار لپیٹ دیے جائیں گے۔ ( از…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–112
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
اور آخرت میں تو وہ ایماندار لوگ ہی نام پائیں گے جنہوں نے نیک کام کئے ہوں گے کہ ان کا کوئی عمل رائیگاں نہ جائے گا کہ اللہ کریم کے لکھنے والے ہر ہر عمل کو لکھ لیتے ہیں یعنی آخرت کے اجر کی بنیاد عقیدہ ہے کہ درست ہو اور صرف عقیدہ ہی نہ رہے اس کے ساتھ عمل صالح یعنی نبی (علیہ السلام) کے ارشاد کے مطابق عمل بھی ہو تو ہر چھوٹا بڑا عمل انعام اور اجر پائے گا مگر جو لوگ ایمان ہی قبول نہیں کرتے وہ عمل تو کر ہی نہیں سکتے اور پھر عذاب الہی سے تباہ ہوجاتے ہیں تو آنکھ کھلتی ہے مگر ان کے لیے پھر سے عمل کے لیے دنیا میں واپس آنا ہرگز ممکن نہیں ، یہاں تک کہ دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ یعنی تمہاری سب سازشوں کا اللہ تعالیٰ کو علم ہے۔ ان کی سزا وہ تمہیں ضرور دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
(21:109) تولوا۔ اصل میں تولیء (تفعل) سے بمعنی منہ پھیرنا۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تتولوا تھا۔ ایک تا حذف ہوگئی اور اس سے قبل نون اعرابی ان کے عمل گرگیا۔ اذنتکم۔ اذنت ایذان سے ماضی کا صیغہ واحد متکلم ہے۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ میں نے تم کو خبر کردی۔ میں نے تم کو اطلاع دے دی۔ الاذان الاعلام ومنہ الاذان للصلوۃ علانیہ طور پر مطلع کرنا۔ علی الاعلان
علی سوائ۔ خوب مفصل اور مدلل طور پر۔ واضح طور پر پوری طرح۔ اذنتکم علی سوائ۔ میں نے واضح طور پر خوب تفصیل سے اور دلیل سے تم کو مطلع کردیا ہے احکام الٰہی کا اور عدم تعمیل میں دردناک نتائج کا۔ ان ادری۔ ان نافیہ ہے۔ ای ما ادری۔ میں نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
لغات القرآن آیت نمبر 107 تا 112
ارسلنا ہم نے بھیجا۔ ھل کیا۔ مسلمون فرمانبرداری کرنے والے۔ اذنت میں نے خبر دے دی۔ سواء برابر، پوری پوری۔ ان ادری میں نہیں جانتا۔ الجھر پکارنا، زور سے کہنا۔ متاع سامان راحت، فائدہ۔ حین زمانہ، وقت۔ المستعان مدد طلب کی جاتی ہے۔
تشریح : آیت نمبر 107 تا 112
نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ! ہم نے آپ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا ہے آپ اہل ایمان کے لئے تو اس لئے رحمت ہیں کہ آپ کے ذریعہ ان کو اللہ کا وہ پیغام ہدایت نصیب ہوا جو قیامت تک آنے والے اہل ایمان کے لئے رحمت ہی رحمت ہے اور کفار اور مشرکین کے لئے بھی رحمت ہے کیونکہ آپ کی وجہ سے وہ قومیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–111
آنحضرت ﷺ کا جہاں بھر کے لیے باعث رحمت ہونا۔
(ف 1) ان آیتوں میں اردشاد ہوتا ہے کہ ایسے لوگ آسمان و زمین میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ہزار نشانیوں سے اللہ تعالیٰ کو تو پہچان سکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی مرضی اور نامرضی کے کاموں کی تفصیل ان کو بغیر آسمانی کتاب کے نہیں معلوم ہوسکتی تھی اس واسطے خالص دل سے اللہ کی عبادت کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس قرآن شریف میں اپنی مرضی اور نامرضی کی باتیں کافی طور پر بتلا دی اور اے رسول اللہ کے تم کو جو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا ہے تو یہ جہان بھر کے لوگوں کے حق میں الہ کی رحمت ہے کیونکہ جو لوگ تمہاری فرمانبرداری اور قرآن کی نصیحت کے پابند رہیں گے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
[63] یعنی نبی ﷺ کی بعثت دراصل نوع انسانی کے لئے اللہ کی رحمت اور مہربانی ہے کیونکہ آپ نے انھیں وہ علم دیا ہے جو حق اور باطل کا فرق واضح کرتا ہے اور اس کو واضح طور پر بتادیا ہے کہ اس کے لئے تباہی کی راہ کون سی ہے اور سلامتی کی راہ کون سی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–112
(ف 3) ان آیات پر سورة انبیاء کا اختتام ہے ، اور ان میں صاف طور پر کہہ دیا گیا ہے ، کہ اسلام کی تعلیم بالضرور توحید ہے یعنی باطل اور جھوٹ کے خلاف کھلی جنگ ، حق اور سرکشی کے درمیان ابدی منافرت اور ظلم و استبداد کے مقابلہ میں قوت و غلبہ کا دائمی مطالبہ فرماتے ہیں تم توحید کے مسلک کو قبول کرلو یا انکار کر دو ، ہم بہرحال ایک خدا کی پرستش کریں گے ، اور اسی خدا کی قوتوں سے ڈریں گے ، تمہاری مخالفت اور تمہارے عناد کی قطعا کچھ پروا نہیں کریں گے ۔
ہمارے دلوں میں صرف ایک ذات کی محبت ہے اور صرف اسی ذات کا ڈر ہے ، جو رب السموت والارض ہے ۔
یہ آیات اپنے مفہوم میں مکہ والوں کے لئے کھلے اعلان جنگ کی حیثیت…
Read the full tafseer →(110) بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس بات کو بھی جانتا ہے جو پکار کر کہی جائے اور اس کو بھی جانتا ہے جو بات تم دل میں چھپاتے ہو یعنی کوئی بات حضرت حق تعالیٰ سے مخفی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–111
ف 2۔ وہ مہربانی یہی ہے کہ لوگ رسول سے ان مضامین کو قبول کریں اور ہدایت کے ثمرات حاصل کریں۔ اور جو قبول نہ کرے یہ اس کا قصور ہے، اس مضمون کی صحت میں کوئی خلل نہیں پڑتا۔
Read the full tafseer →رب ذوالجلال والاکرام سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ‘ ظاہر وچھپا سب اس پر عیاں ہے :
110۔ (علام الغیوب) فقط ذات الہ ہے اس کی مکمل تشریح ہم پیچھے عروۃ الوثقی جلد سوم تفسیر سورة المائدہ کی آیت 109 ‘ 116 میں کر آئے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں ۔ اسی طرح (الجھر من القول) کی وضاحت جلد 4 تفسیر سورة الرعد کی آیت 10 میں ملے گی اور اسی طرح جلد دوم میں سورة النساء کی آیت 148 میں بھی دیکھی جاسکتی ہے ۔ مختصر مطلب اس جگہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو تمہاری ساری باتوں کی اصلیت اور حقیقت کو اچھی طرح جانتا ہے اور اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں وہ تمہاری کھلی باتوں کو بھی جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ جو تم کھلی باتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
Commentary
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ (And We have not. sent you but as mercy for all the worlds. - 21:107) عَالَمِينَ is plural of عَالَم which means 'world' and includes all creatures including humans, animals, plants, Jinns etc. In order to properly understand the meaning of the verse one should also understand that the true essence of the entire universe is the invocation of Allah Ta` ala and His worship. When this essence departs from this world and no one is left to worship Allah, everything in it will perish. In other words that is the day when Qiyamah would…
Read the full tafseer →102. This refers to their secret schemes, plots and their whispering campaign which have been mentioned in (verse 3). There, too, the Prophet (peace be upon him) had said: My Lord has the knowledge of everything that is said in the heavens or the earth for He is All-Hearing, All-Knowing. (verse 4). This was to warn them that they would be taken to task for these things, too.
Read the full tafseer →