Al-Baqara 2:280

Al-Baqara · from ayah 280

2:280

وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰی مَیْسَرَةٍ ؕ— وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۟وَاِنۡ كَانَ ذُوۡ عُسۡرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيۡسَرَةٍ ‌ؕ وَاَنۡ تَصَدَّقُوۡا خَيۡرٌ لَّـكُمۡ‌ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ

اور اگر قرض لینے والا تنگ دست ہو تو (اسے) کشائش (کے حاصل ہونے) تک مہلت (دو) اور اگر (زر قرض) بخش ہی دو توتمہارے لئے زیادہ اچھا ہے بشرطیکہ سمجھو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And if someone is in hardship, then [let there be] postponement until [a time of] ease. But if you give [from your right as] charity, then it is better for you, if you only knew.

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 38 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:280

تمہارا قرض دار تنگ دست ہو، تو ہاتھ کھلنے تک اُسے مہلت دو، اور جو صدقہ کر دو، تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر تم سمجھو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر قرض لینے والا تنگ دست ہو تو (اسے) کشائش (کے حاصل ہونے) تک مہلت (دو) اور اگر (زر قرض) بخش ہی دو توتمہارے لئے زیادہ اچھا ہے بشرطیکہ سمجھو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اگر کوئی تنگی والا ہو تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہئے اور صدقہ کرو تو تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے، اگر تم میں علم ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر کوئی تنگدست (قرض دار) ہو تو اس کا ہاتھ کھلنے تک مہلت دینی ہے، اور صدقہ ہی کردو تو یہ تمہارے حق میں کہیں زیادہ بہتر ہے، بشرطیکہ تم کو سمجھ ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک، اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لئے اور بھلا ہے اگر جانو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر قرض دار تنگدست ہو تو خوشحالی تک مہلت دی جانی چاہئے، اور تمہارا (قرض کو) معاف کر دینا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تمہیں معلوم ہو (کہ غریب کی دل جوئی اﷲ کی نگاہ میں کیا مقام رکھتی ہے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اگر کوئی تنگی والا ہو تو آسانی تک مہلت دینا لازم ہے اور یہ بات کہ صدقہ کردو تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اگر مقروض تنگ دست ہے تو اسے اس کی آسودہ حالی تک مہلت دینا چاہیے۔ اور اگر (راس المال بھی) چھوڑ ہی دو تو یہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے۔ اگر تم یہ بات سمجھ سکو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر مقروض تنگ دست ہو تو فراخی تک اس کو مہلت دو اور بخش دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم سمجھو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اگر وہ شخص (یعنی تمہارا قرض دار) تنگ دست ہو تو تم اس کو مہلت دو (اسکی کشائش و) فراخ دستی تک، اور اگر تم (اس کو بالکل ہی) معاف کردو، تو یہ تمہارے لئے اور بھی زیادہ بہتر ہے اگر تم جانتے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر تنگدست ہے تو اس کے لیے آسودہ حالی تک مہلت ہے۔ اور اگر معاف کردو تو تمہارے حق میں (اور) بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر مقروض تنگ دست ہو تو فراخی حاصل ہونے تک اسے مہلت دو اور اگر تم صدقہ ہی کر دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اگر (تمہارا قرض دار) تنگ دست ہو، توآسانی تک اسے مہلت دو اور اگر صدقہ کر دو تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اگر تم سمجھو

— محترمہ رفعت اعجاز

If your debtor be in straitened circumstances, give him time till his monetary condition becomes better. But if you remit the debt by way of charity, it would be better for you, if you only knew it.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

If there is one in misery, then (the creditor should allow) deferment till (his) ease, and that you forgo it as alms is much better for you, if you really know.

— Muhammad Taqi Usmani

If there is one in misery, then (the creditor should allow) deferment till (his) ease, and that you forgo it as alms is much better for you, if you really know.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And if the debtor is having a hard time, then grant him time till it is easy for him to repay; but if you remit it by way of charity, that is better for you if you did but know.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And if the debtor is in straitened circumstances, then (let there be) postponement to (the time of) ease; and that ye remit the debt as almsgiving would be better for you if ye did but know.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And if someone is in hardship, then [let there be] postponement until [a time of] ease. But if you give [from your right as] charity, then it is better for you, if you only knew.

— Saheeh International

One who faces hardship in paying his debts must be given time until his financial condition improves. Would that you knew that waiving such a loan as charity would be better for you!

— Muhammad Sarwar

And if (the debtor) is in straitness, then let there be postponement until (he is in) ease; and that you remit (it) as alms is better for you, if you knew.

— Muhammad Habib Shakir

And if one be in difficulties, then let there be and deferment until easiness. But if ye forego, it were better for you if ye knew.

— Abdul Majid Daryabadi

If the debtor is in a difficulty, grant him time Till it is easy for him to repay. But if ye remit it by way of charity, that is best for you if ye only knew.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:280

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 278–281

سود خور قابل گردن زنی ہیں اور قرض کے مسائل ان آیات میں اللہ تعالیٰ ایماندار بندوں کو تقوے کا حکم دے رہا ہے اور ایسے کاموں سے روک رہا ہے جن سے وہ ناراض ہو اور لوگ اس کی قربت سے محروم ہوجائیں تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا لحاظ کرو اور اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور تمہارا سود جن مسلمانوں پر باقی ہے خبردار اس سے اب نہ لو جبکہ وہ حرام ہوگیا، یہ آیت قبیلہ ثقیف بن عمرو بن عمیر اور بنو مخزوم کے قبیلے بنو مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جاہلیت کے زمانہ میں ان کا سودی کاروبار تھا، اسلام کے بعد بنو عمرہ نے بنو مغیرہ سے اپنا سود طلب کیا اور انہوں نے کہا کہ اب ہم اسے اسلام لانے کے بعد…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 280–281

سورة الْبَقَرَة 324 اسی آیت سے شریعت میں یہ حکم نکالا گیا ہے کہ جو شخص ادائے قرض سے عاجز ہوگیا ہو، اسلامی عدالت اس کے قرض خواہوں کو مجبور کرے گی کہ اسے مہلت دیں، اور بعض حالات میں وہ پورا قرض یا قرض کا ایک حصہ معاف بھی کرانے کی مجاز ہوگی۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص کے کاروبار میں گھاٹا آگیا اور اس پر قرضوں کا بار بہت چڑھ گیا۔ معاملہ نبی ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نے لوگوں سے اپیل کی کہ اپنے اس بھائی کی مدد کرو۔ چناچہ بہت سے لوگوں نے اس کو مالی امداد دی۔ مگر قرضے پھر بھی صاف نہ ہوسکے۔ تب آپ نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا کہ جو کچھ حاضر ہے، بس وہی لے کر اسے چھوڑ دو ، اس سے زیادہ تمہیں نہیں دلوایا جاسکتا۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اس کے بعد چھٹی آیت میں سود خوری کی انسانیت سوز حرکت کے بالمقابل پاکیزہ اخلاق اور غریبوں اور ناداروں کے ساتھ مساہلت کے سلوک کی تعلیم دی جاتی ہے ارشاد ہوتا ہے، وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيْسَرَةٍ ۭ وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ۔ یعنی اگر تمہارا مدیون تنگدست ہو تمہارا قرض ادا کرنے پر قادر نہ ہو تو حکم شرعی یہ ہے کہ اس کو فراخی اور آسودگی کے وقت تک مہلت دی جائے اور اگر تم اس کو اپنا قرض معاف ہی کردو تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے۔ سود خوروں کی عادت تو یہ ہوتی ہے کہ اگر کوئی مدیون مفلس ہے اور میعاد مقررہ پر وہ قرض ادا نہیں کرسکتا تو سود کی رقم اصل میں جمع کرکے سود درسود کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 280–281

تفسیر آیت 80۔ 81۔ اوپر مہاجنوں کو یہ اجازت جو دی ہے کہ وہ اپنی اصل رقم قرضداروں سے واپس لے سکتے ہیں، اس کے ساتھ ان کو یہ ہدایت دی کہ اگر قرض دار تنگ دست ہو تو اس کو ہاتھ کشادہ ہونے تک مہلت دو ، اور اگر ایسی حالت میں اپنی اصل رقم بھی معاف کردو تو یہ بہت بہتر ہے، اس کا اجر وثواب بےپایاں ہے۔ حامیانِ سود کا ایک دعوی اور اس کا جواب : اس زمانے میں بعض کم سواد یہ دعوی کرتے ہیں کہ عرب میں زمانہ نزول قرآن سے پہلے جو سود رائج تھا یہ صرف مہاجنی سود تھا۔ فریب اور نادار لوگ اپنی ناگیر ضروریات زندگی حاصل کرنے کے لیے مہاجنوں سے قرض لینے پر مجبور ہوتے تھے اور یہ مہاجن ان مظلوموں سے بھاری بھاری سود وصول کرتے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

280۔ 1 زمانہ جاہلیت میں قرض کی ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں سود در سود اصل رقم میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا تھا جس سے تھوڑی سی رقم ایک پہاڑ بن جاتی تھی اور اس کی ادائیگی ناممکن ہوجاتی تھی اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ کوئی تنگ دست ہو تو (سود لینا تو درکنار اصل مال لینے میں بھی) آسانی تک اسے مہلت دے دو اور اگر قرض بالکل ہی معاف کردو تو زیادہ بہتر ہے حدیث میں اس کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے کتنا فرق ہے ان دونوں نظاموں میں ایک سراسر ظلم، سنگدلی اور خود غرضی پر مبنی نظام اور دوسرا ہمدردی، تعاون اور ایک دوسرے کو سہارا دینے والا نظام۔ مسلمان خود ہی اس بابرکت اور پر رحمت نظام الٰہی کو نہ اپنائیں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 275–281

184:" سود " یا " رباء " ہر اس زیادہ رقم کو کہا جاتا ہے جو کسی قرض پر طے کرکے وصول کی جائے، مشرکین کا کہنا تھا کہ جس طرح ہم کوئی سامان فروخت کرکے نفع کماتے ہیں اور اس کو شریعت نے حلال قرار دیا ہے، اسی طرح اگر قرض دے کر کوئی نفع کمائیں تو کیا حرج ہے ؟ ان کے اس اعتراض کا جواب تو یہ تھا کہ سامان تجارت کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ اسے بیچ کر نفع کمایا جائے، لیکن نقدی اس کام کے لئے نہیں بنائی گئی کہ اسے سامان تجارت بناکر اس سے نفع کمایا جائے، وہ تو ایک تبادلے کا ذریعہ ہے ؛ تاکہ اس کے ذریعہ اشیائے ضرورت خریدی اور بیچی جاسکیں، نقدی کا نقدی سے تبادلہ کرکے اسے بذات خود نفع کمانے کا ذریعہ بنالیا جائے تو اس سے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ وہ خوشگوار دادوہش ہے جسے اسلامی نظام انسانیت کے سامنے پیش کرتا ہے ۔ وہ یہ گھنی چھاؤں ہے جس میں ، خود غرضی ، لالچ ، بخل اور مفاد پرستی کی تپش میں تھکی ماندی انسانیت پناہ لیتی ہے اور سکون کا سانس لیتی ہے ۔ یہ قرضدار کے لئے بھی رحمت ہے اور قرض خواہ کے لئے بھی رحمت ہے ۔ اور اس پورے معاشرہ کے لئے بھی رحمت و شفقت ہے ۔ جس میں یہ دونوں رہتے ہیں ۔ ہمیں یقین ہے دور حاضر کی مادی جاہلیت کے زیر سایہ پلنے والے جدید مفلوک الحال لوگ ہماری یہ باتیں لایعنی تصور کریں گے اور یہ باتیں انہیں نامعقول نظر آئیں گی ۔ ان کے منہ کا بگڑا ہوا ذائقہ ، ان باتوں کے مٹھاس کا احساس ہر گز نہیں کرسکتا ۔ خصوصاً وہ وحشی سود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی جب سود کی ممانعت آگئی اور اس کا لینا دینا موقوف ہوگیا تو اب تم مدیون مفلس سے تقاضا کرنے لگو یہ ہرگز نہ چاہیے بلکہ مفلس کو مہلت دو اور توفیق ہو تو بخش دو ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 280 وَاِنْ کَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیْسَرَۃٍ ط اسے مہلت دو کہ اس کے ہاں کشادگی پیدا ہوجائے تاکہ وہ آسانی سے آپ کا قرض آپ کو واپس کرسکے۔ وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ تمہارا بھائی غریب تھا ‘ اس کو تم نے قرض دیا تھا ‘ اس پر کچھ سود لے کر کھا بھی چکے ہو ‘ باقی سود کو تو چھوڑا ہی ہے ‘ اگر اپنا رأس المال بھی اس کو بخش دو تو یہ انفاق ہوجائے گا ‘ یہ اللہ کو قرض حسنہ ہوجائے گا اور تمہارے لیے ذخیرۂ آخرت بن جائے گا۔ یہ بات سمجھ لیجیے کہ آپ کی جو بچت ہے ‘ جسے میں نے قدر زائد surplus value کہا تھا ‘ اسلامی معیشت کے اندر اس کا سب سے اونچا مصرف انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ اسے اللہ کی راہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 280–281

400 مقروض کو مہلت دینے یا اسے معاف کردینے میں جو بہتری ہے وہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتی ہے ؟ (1) حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ : جس شخص کو یہ بات محبوب ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کی سختیوں سے نجات دے اسے چاہئے کہ تنگدست کو مہلت دے یا پھر اسے معاف کردے (مسلم : کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر) (2) آپ نے فرمایا کہ : جس شخص کے ذمہ کسی کا قرضہ ہوا اور مقروض ادائیگی میں تاخیر کرے تو قرض خواہ کے لئے ہر دن کے عوض صدقہ ہے (احمد بحوالہ، مشکوٰۃ۔ کتاب البیوع۔ باب الافلاس والا نظار، فصل ثالث) (3) آپ نے فرمایا : جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے یا معاف کردے، قیامت کے دن اللہ اسے اپنے سایہ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1081 ۔ یعنی مدیون یا قرضدار اگر وقت تنگدست ہے تو اسے اسی وقت تک کے لیے مہلت دے دی جائے، جب تک وہ ادا کرنے کے قابل ہوجائے۔ 1082 ۔ (کہ اس احسان وحسن سلوک پر کتنا اجر عظیم موعود ہے) (آیت) ” ان تصدقوا “ یعنی نادار مدیون کو اپنا مطالبہ بالکل معاف ہی کر دو ۔ عقائد اسلامی کی طرح قوانین اسلامی کی بھی پوری قدر اس وقت ہوتی ہے جب ان کے مقالبہ میں اپنے کو مہذب اور ترقی یافتہ کہلانے والی قوموں کے قوانین رکھے جائیں۔ خود اس قرضہ کے معاملہ میں دوسری قوموں کے قانون قرض داروں کے حق میں سرتاسر ظالمانہ ہیں۔ رومی قانون (مرعوب کن Roman Law میں مدیون کو قتل تک کیا جاسکتا تھا اور رومی تاریخ میں داینوں کی ظلم و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 278–280

یٰآیُّھَا الَّذیْنَ آمَنُوْا اتَّقُوْا اللہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰوآ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ، زمانہ جاہلیت میں قرض کی ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں سود در سود کی وجہ سے اصل رقم میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا تھا جس سے وہ تھوڑی سی رقم ایک پہاڑ بن جاتی اور اس کی ادائیگی ناممکن ہوجاتی، اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ کوئی تنگ دست ہو تو (سود لینا تو درکنار اصل مال لینے میں بھی) آسانی تک مہلت دو ، اور اگر قرض بالکل ہی معاف کرو تو زیادہ بہتر ہے احادیث میں بھی اس کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے، کتنا فرق ہے ان دونوں نظاموں میں ؟ ایک سراسر ظلم، تنگدلی اور خود غرضی پر مبنی نظام اور دوسرا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ : اور اگر کوئی تنگدست ہو اس جگہ کان تامہ ہے خبر کی ضرورت نہیں ہے یعنی اگر کوئی تنگدست قرضدارہو بغوی (رح) نے لکھا ہے کہ کان کی خبر اس جگہ نہیں کی گئی اگر اسم نکرہ ہو تو خبر کو ذکر نہ کرنا جائز ہے جیسے اس جملہ میں ہے۔ اِنْ کَانَ رَجُلٌ صَالِحٌ فَاَکْرِمُہٗ میں کہتا ہوں کہ بغوی کی مراد یہ ہے کہ غریماً خبرمحذوف ہے اصل عبارت اس طرح تھی : اِن کَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ غَرِیْمًا اگر کوئی تنگدست قرض دار ہو ابو جعفر کی قراءت میں عُسُرَۃٍ اور باقی علماء کی قراءت میں عُسْرَۃٍ آیا ہے۔ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيْسَرَةٍ : تو فراخدستی تک انتظار کا حکم ہے یا تم پر فراخدستی تک انتظار لازم ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(280) اور اگر بنی مخزوم تنگی کی وجہ سے (مقررہ مدت پر) تمہارے قرضے نہ ادا کرے سکیں تو آسودگی تک ان کو مہلت دے دو اور اگر اپنے اصل کو بالکل ہی معاف کردو تو یہ بات بہتر ہے، اگر تم اس کے ثواب کا جانتے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ۔۔ : جاہلیت میں قرض ادا نہ کرنے کی صورت میں سود در سود سے اصل رقم میں اضافہ ہوتا جاتا، جس سے تھوڑی سی رقم ایک پہاڑ بن جاتی اور اس کی ادائیگی ناممکن ہوجاتی، آج کل بھی یہی حال ہے۔ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ کوئی تنگدست ہو تو (سود تو درکنار) آسانی تک اسے مہلت دو اور اگر قرض بالکل معاف کر دو تو زیادہ اچھا ہے۔ احادیث میں اس کی بہت فضیلت آئی ہے، بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ”جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی تو اسے ہر دن اس قرضے کے برابر ثواب ملے گا۔“ پھر میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا : ”جس نے کسی تنگدست شخص کو مہلت دی تو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 280۔ اس میں نو مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وان کان ذو عسرۃ “۔ جب اللہ تعالیٰ نے سود لینے والوں کو ان کے اصل اموال کے بارے حکم فرمایا درآنحالیکہ وہ ان کے پاس ہو جو مال کو پانے والے ہوں تو تنگدستی کی حالت میں خوشحال ہونے تک مہلت دینے کا ارشاد فرمایا اور وہ یہ کہ ثقیف نے جب اپنے ان اموال کا مطالبہ کیا جو بنی مغیرہ پر قرض تھے تو بنی مغیرہ نے تنگدستی کا عذر پیش کیا اور کہا : ہمارے پاس کوئی شے نہیں ہے اور انہوں نے اپنے پھلوں کے تیار ہونے کے وقت تک مہلت کا مطالبہ کیا، تب یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” وان کان ذو عسرۃ “۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 376) مسئلہ نمبر :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

تنگدست کو مہلت دینا باعث اجر ہے (1) سعید بن منصور، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے مجاہد کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت ” وان کان ذوعسرۃ فنظرۃ الی میسرۃ “ سود کے بارے میں نازل ہوئی۔ (2) ابن المنذر نے عطا کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وان کان ذو عسرۃ فنظرۃ الی میسرۃ “ سے مراد سود میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ تنگدست کو مہلت دی جائے اور امانت میں دینا نہیں ہے لیکن امانت اہل امانت کے سپرد کی جائے گی۔ (3) ابن المنذر نے عطا کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ” وان کان ذو عسرۃ فنظرۃ الی میسرۃ “ سود کے بارے میں نازل ہوئی پھر فرمایا لفظ آیت ” وان…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاِنْ : اور اگر ] [کَانَ : وہ ہو ] [ذُوْ عُسْرَۃٍ : تنگی والا ] [فَنَظِرَۃٌ : تو مہلت ہے ] [اِلٰی مَیْسَرَۃٍ : کشادگی تک ] [وَاَنْ : اور یہ کہ ] [تَصَدَّقُوْا : تم لوگ اپنا حق چھوڑ دو ] [خَیْرٌ : (تو یہ) زیادہ بہتر ہے ] [لَّــکُمْ : تمہارے لیے ] [اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : اگر تم لوگ جانتے ہو ] ترکیب : ” اِنْ “ حرفِ شرط ” کَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ “ شرط اور ” فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیْسَرَۃٍ “ جوابِ شرط ہے۔ اس میں ” کَانَ “ تامّہ ہے اور ” ذُوْ عُسْرَۃٍ “ اس کا فاعل ہے ‘ اس لیے ” ذُوْ “ مرفوع ہے۔ ” خَیْرٌ“ افعل التفضیل ہے اور خبر ہے۔ اس کا مبتدأ” فَھُوَ “ محذوف ‘ ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

تنگدست قرضدار کو مہلت دینا اس آیت میں تنگ دست قرض دار کو مہلت دینے کی ترغیب دی ہے کہ جب تک مال میسر نہ ہو اس کو مہلت دیدو، اور یہ بھی فرمایا کہ اگر اس پر صدقہ کر دو یعنی اپنا قرض بالکل ہی معاف کر دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔ سود خوروں کا یہ طریقہ ہوتا ہے کہ ادھار کی وجہ سے اصل مال پر زائد رقم لیتے ہیں اور جب قرضدار وقت پر ادا نہ کرسکے تو دل سے خوش ہوتے ہیں اور سود کی رقم کو اصل کے ساتھ ملا کر مزید سود لگا دیتے ہیں، اللہ جل شانہ نے اس کے خلاف حکم دیا کہ اول تو اصل رقم سے زائد نہ ٹھہراؤ (غریب کی حاجت پوری کرنے کے لیے قرض دے دو ) پھر جب دیکھو کہ باو جود مقررہ اجل پورا ہونے کے وہ ادائیگی پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 275–281

احکام ربا (سود) ۔ قال تعالی، الذین یاکلون الربو۔۔۔ الی۔۔۔ لایظلمون۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں خیرات اور صدقات کا بیان تھا اب آئندہ آیات میں سود کے احکام ذکر فرماتے ہیں جو کہ صدقات اور خیرات کی ضد اور نقیض ہے اس لیے کہ صدقہ اور خیرات سے اخلاق اور مروت اور خلق اللہ کی نفع رسانی میں ترقی ہوتی ہے اور سود میں سراسر بےمروتی اور ضرر رسانی ہے صدقہ اور خیرات میں صلہ رحمی اور غریبوں کی امداد ہوتی ہے اور سود میں سخت دلی اور غریبوں زیادتی ہوتی ہے اس لیے صدقہ کی فضیلت کے بعد سود کی مذمت اور حرمت کا بیان نہایت مناسب ہوا تاکہ سود کی مذمت اور حرمت سے صدقہ کی فضیلت اور پختہ ہوجائے اور یہ معلوم ہوجائے کہ جس درجہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

546 اَنْ مصدریہ ہے اور جملہ بتاویل مفرد مبتدا ہے اور خَیْرٌ لَکُمْ جاس کی خبر ہے۔ پہلے قرض کا مطالبہ کرنے میں نرمی برتنے کی تلقین فرمائی اب یہاں سرے سے اصل مطالبہ سے ہی دستبردار ہوجانے کی ترغیب دی یعنی اگر مقروض اتنا غریب ہو کہ قرض ادا نہ کرسکتا ہو تو تم اسے معاف کردو اس طرح تمہیں اور زیادہ ثواب ملیگا۔ یعنی مہلت دینے کی نسبت اس میں زیادہ ثواب ہے۔ ای اکثر ثوابا من الانظار (روح ص 54 ج 3) یعنی ان التصدق خیر لکم و افضل لان فیہ الثناء الجمیل فی الدنیا والثواب الجزیل فی العقبی (خازن ص 254 ج 1) یہ تبشیر اخروی تھی اب آگے تخویف اخروی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 278–281

ربط آیات صدقہ و خیرات کی فضلیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے سود کی حرمت مذمت بیا ن فرمائی۔ گزشتہ درس میں سود خور کی قیامت کے دن دوبارہ اٹھنے کی حالت کا تذکرہ تھا کہ وہ اپنی قبروں سے اس طرح مخبوط الحواس اٹھیں گے جیسے ان کو جن چمٹ گیا ہو ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا میں مال جمع کرنے کی فکر میں اس قدر اندھے ہوگئے کہ ان کے نزدیک تجارت اور سود میں کوئی امتیاز نہ رہا ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ سود کی حرمت کے نفاذ کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے دو طریقے بتائے ہیں ۔ پہلا طریقہ تو گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے۔ فمن جاء ہ موعظۃ من ربہ یعنی وعط و نصیحت کے ذریعے سود خور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰى مَيْسَرَۃٍ۝ 0 ۭ وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝ 280 ذو ذو علی وجهين : أحدهما : يتوصّل به إلى الوصف بأسماء الأجناس والأنواع، ويضاف إلى الظاهر دون المضمر، ويثنّى ويجمع، ويقال في المؤنّث : ذات، وفي التثنية : ذواتا، وفي الجمع : ذوات، ولا يستعمل شيء منها إلّا مضافا، قال : وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] ، وقال : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ، وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] ، وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] ، ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] ، إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 278–281

ترکیب : ان کنتم مؤمنین شرط جملہ مقدم دال برجزا فان لم تفعلوا شرط فاذنوا الخ جواب ‘ وان شرطیہ کان تامہ ذوعسرۃ اس کا اسم فنظرۃ خبر ہے مبتداء محذوف کی ای فالحکم نظرۃ الخ۔ یہ تمام جملہ جواب شرط واتقوا فعل انتم فاعل یوما مفعول بہ ترجعون الخ جملہ اس کی صفت۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا اور سود سے باز آئو اور جو کچھ ممانعت سے پیشتر لے لوا چکے ہو وہ تمہارا ہے۔ اس پر خیال پیدا ہوتا تھا کہ ممانعت سے پہلے کا جو سود قرضہ دار کے ذمہ پر چڑھا ہوا ہے وہ بھی ہمارا ہے اس کو لینا چاہیے۔ اس خیال کو خدا تعالیٰ نے رد کیا کہ جو کچھ سود قرضداروں کے ذمہ پر باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو اگر سچا ایمان رکھتے ہو اور جو تم باز…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِنْ کَانَ ذُوْعُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیْسَرَۃٍ ط وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌلَّـکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ (اور اگر مقروض تنگدست ہو تو فراخی تک اس کو مہلت دو ۔ اور جو صدقہ کردو تو تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم سمجھو) (280) گزشتہ آیت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم اپنے قرضداروں سے اس حکم کے بعد سود تو نہیں لے سکتے البتہ اصل رقم واپس لے سکتے ہو ‘ یہ تمہارا حق ہے اور کسی کو بھی اسے روکنے کا حق نہیں ہے۔ کاروباری زندگی میں اس طرح کے واقعات معمول کا حصہ سمجھے جاتے ہیں کہ ایک شخص نے کاروبار کے لیے قرض لیا ‘ لیکن سوئے اتفاق سے کساد بازاری نے اس کے کاروبار پر اثر ڈالا اور وہ کاروبار میں اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 280–281

فہم القرآن ربط کلام : اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ضرورت مند پر صدقہ کیا جائے یا قرض حسنہ کے ساتھ اس سے تعاون کیا جائے اس لیے سود کی حرمت ومذّمت کرنے کے بعد تجارت کے مسائل بیان ہورہے ہیں۔ قرض حسنہ کے بارے میں حکم ہے کہ اگر مقروض کوشش کے باوجود قرض کی ادائیگی کا اہتمام نہ کرسکے تو اسے مہلت دینا ہوگی۔ اگر قرض معاف ہی کردیا جائے تو یہ صاحب مال کے لیے بہت ہی بہتر ہوگا۔ یہاں فکر آخرت کے حوالے سے سمجھایا جارہا ہے کہ اے مالدارو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو یہ سب کچھ یہیں کا یہیں رہ جائے گا اور بالآخر تم نے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہونا ہے اگر تم قرض معاف کردو یا تنگ دست کو مہلت دو تو دونوں صورتوں میں تمہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 280 : وَاِنْ کَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ (اگر وہ تنگدست ہے) یعنی اگر تمہارے مقروض مفلوک الحال اور تنگدست ہیں۔ فَنَظِرَۃٌ(پس مہلت دینا ہے) ۔ پس حکم یا امر مہلت دینے کا ہے۔ اول صورت کا معنی یہ ہے۔ فراخ دستی تک انتظار کا حکم ہے۔ دوسری صورت کا معنی پس فراخ دستی تک انتظار لازم ہے۔ اِلٰی مَیْسَرَۃٍ (آسانی آنے تک) قراءت : نافع نے مَیْسُرَۃٍ سین کے ضمہ سے پڑھا دیگر قراء نے سین کے فتحہ کے ساتھ میسرہ پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغات ہیں۔ وَاَنْ تَصَدَّقُوْا (اور یہ بات کہ تم صدقہ دو ) عاصم نے تَصْدَقُوا تخفیف کے ساتھ اپنے اصل اموال یا بعض اموال کو اپنے قرض داروں میں سے زیادہ تنگدستوں کو دے دو ۔ دوسرے قراء نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 280۔: (آیت)” وان کان ذواعسرۃ “۔ اگر کوئی تنگ دست ہو ) اگر کوئی تنگدسست قرض ہو ” کان “ کی خبر یہاں ذکر نہیں کی گئی کیونکہ اگر اسم نکرۃ ہو تو خبر کو ذکر نہ کرنا جائز ہے ، جیسا کہ کہا جاتا ہے ، ” ان کان رجلا صالحا فاکرمہ “ اور بعض نے کہا کہ ” کان بمعنی ” وقع “ کے ہے اس صورت میں کان خبر کا محتاج ہوگا ۔ ابو جعفر (رح) عسرۃ سین کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے (فنظرۃ پس مہلت دے) یہ مبتداء مؤخر ہے اور عبارت محذوف ہے ۔ ” فعلیہ نظرۃ “ (الی میسرۃ کشادگی تک) نافع نے سین کے ضمہ کے ساتھ ” میسرۃ “ اور دوسرے قراء نے سین کے زیر کے ساتھ پڑھا ہے ، امام مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ سین کے ضمہ کے ساتھ ” میسرۃ “ اضافت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 278–280

(278 ۔ 280) ۔ مسند ابو یعلٰی موصلی، ابن مندہ، تفسیر ابن جریج، تفسیر مقاتل اور تفسیر سدی میں کلبی نے ابو صالح کی سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت بیان کی ہے اور مقتدمین مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ سلسلہ روایت کا اچھا ہے قابل اعتراض نہیں ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ بنی عمرو بن عوف ایک قبیلہ تھا اسلام سے پہلے اس قبیلہ اور ایک دوسرے قبیلہ بنی مغیرہ میں سود کا لین دین تھا سود کے حرام ہوجانے کے بعد بنی عمروبن عوف نے اپنی باقی رقم سود کے تقاضا بنی مغیرہ سے کیا انہوں نے کہا اسلام کے بعد ہم سود کی رقم نہیں دیں گے یہ جھگڑا مکہ کے عامل عتاب بن اسید کے رو برو پیش ہوا انہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 275–281

آیت 275-281 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سود خوروں کا انجام بدبیان فرمایا ہے۔ وہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھیں گے : (الا کما یقوم الذی یتخبطہ الشیطن من المس) ” تو ان کی حالت یہ ہوگی گویا انہیں شیطان نے پاگل بنادیا ہے۔ یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو حیران پریشان ہوں گے۔ انہیں سخت سزا ملنے کا یقین ہوگا۔ : (قالوآ انما البیع مثل الربوا) ” انہوں نے کہا تھا : تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے۔ “ یہ بات کوئی ایسا جاہل ہی کہہ سکتا ہے جو جہالت کے انتہائی درجے تک پہنچا ہوا ہو، یا دین کا انتہائی دشمن کہہ سکتا ہے۔ جس طرح ان کی عقلیں اوندھی ہوگئی تھیں تو اس کا بدلہ بھی یہ ملے گا کہ ان کی حالت پاگلوں کے مشابہ ہوگی۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 279–280

قول باری ہے (وان کان ذو عسرۃ فنظرۃ الی میسرۃ (a) اور اگر وہ تنگدست ہو تو اسے فراخی تک مہلت ہے) اس آیت کی دو تاویلیں کی گئی ہیں۔ اول یہ کہ اگر کوئی تنگدست تمہارا مقروض ہوجائے تو اسے قرض کی ادائیگی کے لئے اس کی فراخی تک مہلت دے۔ دوسری تاویل کی بنیاد یہ ہے کہ کان (a) کو تامہ مان لیا جائے یعنی فعل ناقص ’ کان ‘ (a) صرف اپنے اسم ” ذوعسرۃ “ (a) پر اکتفا کرے اور اسے خبر کی ضرورت نہ ہو اور اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ ” ان وقع ذو عسرۃ “ (a) یا ” ان وجدنی عسرۃ (a) (اگر کوئی تنگ دست ہوجائے یا اگر کوئی تنگ دست پایا جائے جیسا کہ شاعر کا قول ہے : فدی لبنی شیبان رحلی و ناقتی اذا کان یوم ذوکواکب اشھب (a) جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

801 تنگ دستوں کے ساتھ نرم روی کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ تنگ دست سے درگزر کرنا اور اس کو معاف کردینا بہت بہتر ہے۔ـ سو اگر تم لوگ جانتے ہو حق اور حقیقت کو کہ ایسے میں اس سے تم کو خود یقین ہوجائیگا کہ یہی تمہارے لئے بہتر ہے، دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی، اور آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی میں بھی، کہ اس سے تم کو دنیا میں دل کا سرور، اور سچی خوشی نصیب ہوگی۔ حقیقی عزت و احترام اور پاکیزہ زندگی میسر آئیگی، اور آخرت کا اجر وثواب بھی، جو وہاں پر کئی گنا بڑھا کر اور کہیں بہتر شکل میں ملے گا ۔ سبحان اللہ ! ۔ کیسی عمدہ، پاکیزہ اور رحمت بھری اور انقلاب آفریں تعلیمات ہیں یہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 280–281

مجبور اور تنگ دست سے رعایت تشریح : ارشاد ہوتا ہے کہ اگر قرض دارتنگ دست ہے تو اسے قرض ادا کرنے کے لئے تنگ نہ کیا جائے، بلکہ انسانیت اور نیکی یہی ہے کہ اس کو آسانی اور خوشحالی تک مہلت دی جائے کہ وہ آسانی سے قرض ادا کرسکے، بلکہ یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر قرض دینے والا ہمدردی کی وجہ سے معاف کر دے تو یہ بڑے ہی فائدے اور نیکی کا کام ہے اگر تمہیں سمجھ ہو یعنی قرض معاف کرنے سے قرض دار کو تو بظاہر فائدہ ہوگا لیکن دراصل فائدہ تمہیں خود ہوگا کیونکہ قرآن پاک میں اکثر جگہ بتایا گیا ہے کہ ” اس دن سے ڈرو جب تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور اپنے کئے ہوئے اعمال کا پورا پورا بدلہ پاؤ گے “۔ اللہ نے انصاف اور حساب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 274–281

274 تا 281 اسرارو معارف الذین ینفقون…………ولاھم یحزنون۔ جو لوگ دن رات ظاہر پوشیدہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں یعنی جیسے ضرورت پیش آئے اسے پورا کرنے کو لپکتے ہیں۔ اعلانیہ دینا پڑے یا چھپا کر ، رات ہو یا دن کا وقت نہ تاخیر کرتے ہیں اور نہ کسی حالت کو آڑے آنے دیتے ہیں جیسے سیدنا صدیق اکبر ؓ ، کہ شاعر مشرق (رح) نے کیا خوب کہا ہے ؎ آں امن الناس بر مولائے ما آں حکیم وادی سینائے ما دولت اوکشت ملت راچوں ابر ثانی اثنین وغار وبدر وقبر یا دیگر جملہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جن کے صدقات اور مالی جانی قربانیوں سے تاریخ عالم مزین ہے اور چشم فلک حیران۔ ایسی قوم نہ سورج نے ان سے پہلے دیکھی اور نہ ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 تنگد سست مقروض کو کشائش تک مہلت دینا یا معاف کردینا بڑی نیکی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا من انظر معسر ا او وضع عنہ الظلہ اللہ فی ظلہ۔ کہ جس نے اپنے قرض دار کو مہلت دی یا اسے اصل زر ہی معاف کردیا اس کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنا سایہ عنایت کرے گا (ابن کثیر بحوالہ صحیح مسلم )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:280) وان کان ذو عشرۃ۔ ان شرطیہ کان فعل ناقص۔ الذی علیہ الحق من دینہ (جس کے ذمہ قرض ہو) کان کا اسم (محذوف) ذوعمرۃ (تنگ دست، مفلس) مضاف مضاف الیہ ۔ کان کی خبر۔ اور اگر قرض دار تنگ دست ہو۔ یہ تمام جملہ شرط ہے۔ فنظرۃ۔شرط کے جواب کے لئے ہے نظرۃ مصدر۔ مہلت دینا۔ انتظار۔ مبتداء جس کی خبر محذوف ہے ای فعلیکم نظرۃ۔ تو تم پر اس کی فراخی تک مہلت دینا واجب ہے۔ یہ جملہ جواب شرط ہے۔ الی میسرۃ۔ فراخی تک۔ میسرۃ ضد ہے عسرۃ کی۔ آسانی ۔ فراخ حالی۔ دولت مندی۔ وان تصدقوا۔ واؤ عاطفہ ان مصدریہ تصدقوا مضارع جمع مذکر حاضر، تم خیرات کرو۔ تم صدقہ دو ۔ تم بخش دو ۔ یعنی اگر تم زر قرضہ بخش ہی دو ۔ تصدق (تفعل) مصدر۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 280–281

لغات القرآن : آیت نمبر 280 تا 281 ذو عسرۃ (تنگ دست) ۔ نظرۃ (رعایت کرنا ہے، ڈھیل دینی ہے) ۔ میسرۃ (آسودگی، حالات کی درستگی ، سہولت) ۔ ان تصدقوا (یہ کہ تم معاف کردو، صدقہ کردو) ۔ توفی (پورا پورا دیا جائے گا) ۔ کل نفس (ہرشخص) ۔ لا تظلمون (تم ظلم نہیں کئے جاؤ گے) ۔ تشریح : آیت نمبر 280 تا 281 اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر ایک شخص کا روباری نقصان یا ارضی و سماوی آفات کی وجہ سے اپنا قرض ادا نہیں کرسکتا تو اس کو قرض خواہوں کی طرف سے اس وقت تک مہلت ملنی چاہئے جب تک وہ قرض کو ادا کرنے کے قابل نہ ہوجائے ۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ اگر قرض کی وہ ادائیگی نہ کرسکتا ہو تو معاشرہ میں اس کو اس طرح بےبس بنا کر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 279–281

معتبی سند سے نسائی ، تفسیر ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ سب سے آخر قرآن شریف کی یہی آیت نازل ہوئی ہے جس میں یہ اشارہ ہے کہ اس آیت کے بعد خوف آخرت ہی ایک چیز ہے جو اللہ سے ڈرنے کا ایک ذریعہ دنیا میں قیامت تک چھوڑا جاتا ہے۔ رسول وقت کی صحبت۔ قرآن شریف کا ہر نصیحت کے موقع پر نازل ہونا آئندہ بند ہے۔ چناچہ اس آیت کے نزول سے نو راتوں کے بعد آنحضرت ﷺ نے وفات پائی۔ انا للہ وانا الیہ رٰجعون۔ جو آخری ذریعہ عقبیٰ کے پاک کرنے کا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے دنیا میں رکھا ہے وہی خوف عقبیٰ ہے۔ ہادی مطلق مسلمانوں کو ہدایت دے کہ کوئی مسلمان اس ذریعہ سے ٖغافل نہ رہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 280–282

[191] جو شخص قرض ادا نہ کرسکتا ہو تو اسلامی عدالت اس آیت کی رو سے اس کے قرض خواہوں کو مجبور کرے گی کہ وہ اسے مہلت دیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

رحم دل مسلمان : (ف 2) اس سے پہلے کی آیت میں اصل مال لینے کی اجازت دی تھی اور فرمایا تھا کہ (آیت) ” لا تظلمون ولا تظلمون “ یعنی مسلمان نہ تو بحیثیت ظالم کے اللہ کو پسند ہے اور نہ بحیثیت مظلوم کے ، نہ تو وہ اپنا نقصان کرے ‘ نہ دوسرے کا ، یعنی جس طرح ظالم بننا اور سود لینا گناہ ہے ‘ بالکل اس کے متوازی سود دینا گناہ ہے ، کیونکہ مسلمان کو عادل اور ایک بہترین نمونہ بنا کر بھیجا گیا ہے ، اس کی زندگی کا مقصد دوسروں سے کہیں بلند ہے ، وہ اس لئے دنیا میں آیا ہے کہ خیر محض کا درس دے اور اپنے اعمال سے دوسروں کے لئے ایک ممتاز شاہراہ قائم کرے ، یہی وجہ ہے کہ اسے معاملات میں نہایت صالح رہنے کی تعلیم دی گئی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1۔ اور اگر مدیون صاحب حسرت اور تنگدست ہو تو اس کو اس کے خوش حال اور آسودہحال ہونے تک مہلت دینے کا حکم ہے اور اس وقت تک کے لئے ایسے مدیون کو مہلت دینی چاہئے جس وقت تک اس کا ہاتھ با فراغت ہو اور رہی یہ بات کہ تم اپنا فرض اور لینا بالکل ہی معاف کردو اور مطالبہ ترک کردو تو یہ تمارے لئے مہلت دینے سے زیادہ بہتر اور بدرجہا اچھا ہے بشرطیکہ تم اس بہتری کو سمجھو اور تم کو عماف کردینے کے ثواب کی خبر ہو۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اگر مدیون تنگ دست ہے تو اس کو مرفہ الحال ہونے تک مہلت دو اور بالکل ہی قرض کو اس کے ذمہ سے معاف کردینا یہ مہلت دینے سے زیادہ اچھا ہے اور ایسا کرنے میں مہلت دینے سے زیادہ ثواب اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 280–281

ف 2۔ مفلس کو مہلت دینا واجب ہے جب اس کو گنجائش ہو پھر مطالبہ کی اجازت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

غریب اور نادار مقروض کے ساتھ مساھلت کا سلوک کرنے کی ہدایت 491: الربوا خوری کی انسانیت سوز حرکت سے توبہ کرلی ہے اور توبہ بھی سچے دل کی توبہ ہے تو اب غریب اور نادار مقروض کے ساتھ مساھلت کا سلوک کرو یعنی اگر تمہارا مدیوں تنگدست ہے کہ تمہارا قرض ادا کرنے پر فی الوقت قادر نہ ہو تو تمہارے لیے حکم یہ ہے کہ اس کو فراخی اور آسودگی کے وقت تک مہلت دے دو اور اگر سمجھتے ہو کہ وہ اتنا غریب ہے کہ بظاہر کوئی صورت اس کی ادائیگی کی نظر نہیں آتی تو اپنا قرض معاف ہی کر دو تو یہ تمہارے لیے بہت ہی بہتر ہوگا کہ تم نے اس کی آسانی کا خیال رکھا ہے تو یقیناً تمہاری آسانی کا بھی قانون الٰہی میں خیال رکھا جائے گا۔ الربوا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

After that there is the sixth verse (280) which, in comparison to the anti-human claim of ربا riba, has stressed upon pure moral behavior of showing lenience to the poor and the have-nots. It is said that, if your borrower is too poor to pay back your loan, the provision of Shari'ah is that he be given time until he has the means, and should you forgive him your loan, it is much better for you. The general habit of ربا riba-consumers is that they, once they know that their borrower is poor and cannot pay the loan back at the appointed time, add up the ربا riba amount in the principal…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 280–281

324. This verse is the basis of the Islamic regulation that if a person has become incapable of paying off his debt, the court will force the creditors to grant him respite for payment. In fact, under certain circumstances, the court is entitled to remit a part of his debt and, at times, the whole of it. It is mentioned in the Hadith that once a person suffered loss in his trade and became greatly burdened with debt and the case was brought to the notice of the Prophet. The Prophet urged the people to help their brother in his distress. They came to his assistance but the amount of help was…

Read the full tafseer →