Explained with ayahs 278–281
سود خور قابل گردن زنی ہیں اور قرض کے مسائل
ان آیات میں اللہ تعالیٰ ایماندار بندوں کو تقوے کا حکم دے رہا ہے اور ایسے کاموں سے روک رہا ہے جن سے وہ ناراض ہو اور لوگ اس کی قربت سے محروم ہوجائیں تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا لحاظ کرو اور اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور تمہارا سود جن مسلمانوں پر باقی ہے خبردار اس سے اب نہ لو جبکہ وہ حرام ہوگیا، یہ آیت قبیلہ ثقیف بن عمرو بن عمیر اور بنو مخزوم کے قبیلے بنو مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جاہلیت کے زمانہ میں ان کا سودی کاروبار تھا، اسلام کے بعد بنو عمرہ نے بنو مغیرہ سے اپنا سود طلب کیا اور انہوں نے کہا کہ اب ہم اسے اسلام لانے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 280–281
سورة الْبَقَرَة 324
اسی آیت سے شریعت میں یہ حکم نکالا گیا ہے کہ جو شخص ادائے قرض سے عاجز ہوگیا ہو، اسلامی عدالت اس کے قرض خواہوں کو مجبور کرے گی کہ اسے مہلت دیں، اور بعض حالات میں وہ پورا قرض یا قرض کا ایک حصہ معاف بھی کرانے کی مجاز ہوگی۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص کے کاروبار میں گھاٹا آگیا اور اس پر قرضوں کا بار بہت چڑھ گیا۔ معاملہ نبی ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نے لوگوں سے اپیل کی کہ اپنے اس بھائی کی مدد کرو۔ چناچہ بہت سے لوگوں نے اس کو مالی امداد دی۔ مگر قرضے پھر بھی صاف نہ ہوسکے۔ تب آپ نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا کہ جو کچھ حاضر ہے، بس وہی لے کر اسے چھوڑ دو ، اس سے زیادہ تمہیں نہیں دلوایا جاسکتا۔…
Read the full tafseer →اس کے بعد آخری آیت میں پھر روز قیامت کا خوف اور محشر کے حساب کتاب اور ثواب و عذاب کے ذکر پر احکام سود کی آیات کو ختم کیا ارشاد فرمایا
وَاتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِيْهِ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ یعنی ڈرو اس روز سے جس میں تم سب اللہ تعالیٰ کے سامنے پیشی میں لائے جاؤ گے پھر ہر شخص کو اپنے اپنے عمل کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔
حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ یہ آیت نزول کے اعتبار سے سب سے آخری آیت ہے اس کے بعد کوئی آیت نازل نہیں ہوئی اس کے اکتیس روز بعد آنحضرت ﷺ کی وفات ہوگئی اور بعض روایات میں صرف نو دن بعد وفات ہونا مذکور ہے۔
یہاں تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 280–281
تفسیر آیت 80۔ 81۔ اوپر مہاجنوں کو یہ اجازت جو دی ہے کہ وہ اپنی اصل رقم قرضداروں سے واپس لے سکتے ہیں، اس کے ساتھ ان کو یہ ہدایت دی کہ اگر قرض دار تنگ دست ہو تو اس کو ہاتھ کشادہ ہونے تک مہلت دو ، اور اگر ایسی حالت میں اپنی اصل رقم بھی معاف کردو تو یہ بہت بہتر ہے، اس کا اجر وثواب بےپایاں ہے۔
حامیانِ سود کا ایک دعوی اور اس کا جواب : اس زمانے میں بعض کم سواد یہ دعوی کرتے ہیں کہ عرب میں زمانہ نزول قرآن سے پہلے جو سود رائج تھا یہ صرف مہاجنی سود تھا۔ فریب اور نادار لوگ اپنی ناگیر ضروریات زندگی حاصل کرنے کے لیے مہاجنوں سے قرض لینے پر مجبور ہوتے تھے اور یہ مہاجن ان مظلوموں سے بھاری بھاری سود وصول کرتے…
Read the full tafseer →181۔ 1 بعض آثار میں ہے کہ یہ قرآن کریم کی آخری آیت ہے جو نبی کریم ﷺ پر نازل ہوئی، اس کے چند دن بعد ہی آپ دنیا سے رحلت فرما گئے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 275–281
184:" سود " یا " رباء " ہر اس زیادہ رقم کو کہا جاتا ہے جو کسی قرض پر طے کرکے وصول کی جائے، مشرکین کا کہنا تھا کہ جس طرح ہم کوئی سامان فروخت کرکے نفع کماتے ہیں اور اس کو شریعت نے حلال قرار دیا ہے، اسی طرح اگر قرض دے کر کوئی نفع کمائیں تو کیا حرج ہے ؟ ان کے اس اعتراض کا جواب تو یہ تھا کہ سامان تجارت کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ اسے بیچ کر نفع کمایا جائے، لیکن نقدی اس کام کے لئے نہیں بنائی گئی کہ اسے سامان تجارت بناکر اس سے نفع کمایا جائے، وہ تو ایک تبادلے کا ذریعہ ہے ؛ تاکہ اس کے ذریعہ اشیائے ضرورت خریدی اور بیچی جاسکیں، نقدی کا نقدی سے تبادلہ کرکے اسے بذات خود نفع کمانے کا ذریعہ بنالیا جائے تو اس سے…
Read the full tafseer →یہ وہ دن ہوگا ، جس میں سب اللہ کی طرف لوٹیں گے اور ہر شخص کو اس کی کمائی پوری پوری دی جائے گی ۔ وہ دن بڑا مشکل ہوگا۔ اس دن کی بابت دل مسلم میں بڑا خوف پایا جاتا ہے ۔ مومن کے ضمیر کی گہرائیوں میں شاید قیامت کا نقشہ اور اس کی ہولناکیاں موجود ہوتی ہیں ۔ اس لئے کہ باری تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے کا تصور ہی اس قدر خوفناک ہوتا ہے کہ اس سے انسان کا پورا وجود کانپ اٹھتا ہے ۔ یہ خاتمہ کلام ایسا ہے جو مذکورہ معاملات کی فضا کے ساتھ متناسق ہے ۔ یہ فضا لینے اور دینے کی فضا ہے ۔ کسب اور جزاء کی فضا ہے ۔ اس فضا میں انسان کی پوری زندگی کا تصفیہ ہورہا ہے ۔ انسان کی پوری زندگی کے فیصلے کی فضا ہے ۔ اس فضا سے دل…
Read the full tafseer →3 یعنی قیامت کو تمام اعمال کی جزاء اور سزا ملے گی تو اب ہر کوئی اپنا فکر کرلے اچھے کام کرے یا برے سود لے یا خیرات کرے۔
Read the full tafseer →آیت 281 وَاتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْہِ اِلَی اللّٰہِ قف
یہاں وہ آیت یاد کیجیے جو سورة البقرۃ میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ دو بار آچکی ہے : وَاتَّقُوْا یَوْمًا لاَّ تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْءًا وَّلاَ یُقْبَلُ مِنْہَا شَفَاعَۃٌ وَّلاَ یُؤْخَذُ مِنْہَا عَدْلٌ وَّلاَ ہُمْ یُنْصَرُوْنَ اور ڈرو اس دن سے کہ جس دن کام نہ آسکے گی کوئی جان کسی دوسری جان کے کچھ بھی اور نہ کسی سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی اور نہ کسی سے کوئی فدیہ وصول کیا جائے گا اور نہ انہیں کوئی مدد مل سکے گی۔ اور وَاتَّقُوْا یَوْماً لاَّ تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْءًا وَّلاَ یُقْبَلُ مِنْہَا عَدْلٌ وَّلاَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 280–281
400 مقروض کو مہلت دینے یا اسے معاف کردینے میں جو بہتری ہے وہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتی ہے ؟
(1) حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ : جس شخص کو یہ بات محبوب ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کی سختیوں سے نجات دے اسے چاہئے کہ تنگدست کو مہلت دے یا پھر اسے معاف کردے (مسلم : کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر)
(2) آپ نے فرمایا کہ : جس شخص کے ذمہ کسی کا قرضہ ہوا اور مقروض ادائیگی میں تاخیر کرے تو قرض خواہ کے لئے ہر دن کے عوض صدقہ ہے (احمد بحوالہ، مشکوٰۃ۔ کتاب البیوع۔ باب الافلاس والا نظار، فصل ثالث)
(3) آپ نے فرمایا : جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے یا معاف کردے، قیامت کے دن اللہ اسے اپنے سایہ میں…
Read the full tafseer →1083 ۔ (اپنے اپنے اعمال کی پیشی کے لیے) خطاب یہاں ایمان سے ہے۔
1084 ۔ (کہ کسی کا نیک عمل بلامعاوضہ رہ جائے یا کسی کے نامہ عمل میں کوئی بدی خواہ مخواہ لکھ دی جائے) (آیت) ” توفی۔ ماکسبت “۔ یعنی اعمال کا پورا پورا معاوضہ دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →وَاتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْہِ اِلَی اللہِ (الآیۃ) بعض آثار میں ہے کہ یہ قرآن کی آخری آیت ہے جو نبی ﷺ پر نازل ہوئی، اس کے چند دن بعد ہی آپ ﷺ دنیا سے رحلت فرما گئے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →وَاتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِيْهِ اِلَى اللّٰهِ : اور اس روز سے ڈرتے رہو جس میں تم کو اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا اس سے مراد ہے قیامت کا دن یا مرنے کا دن۔ یعنی اللہ کی طرف جانے کی تیاری کرو۔ ابو عمرو اور یعقوب کی قراءت ترجعون بفتح تاء ہے اور باقی قراءت ُ رْجَعُوْنَ پڑھتے ہیں تم لوٹو گے یا لوٹائے جاؤ گے۔
ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ : پھر ہر شخص کو اس کے اچھے برے کرتوت کا بدلہ دیا جائے گا۔
وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ : ثواب گھٹا کر یا (جرم سے زیادہ) عذاب بڑھا کر ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ( سورة بقرہ کی یہ آخری آیت ہے جو رسول اللہ پر نازل ہوئی۔ حضرت…
Read the full tafseer →(281) اور اس دن کے عذاب سے ڈرو جس دن ہر ایک نیک وبد کو اس کی نیکی اور برائی کا پورا پورا بدلہ ملے گا نہ ان کی نیکیوں میں سے کسی کی کمی کی جائے گی اور نہ ان کی برائیوں میں کوئی اضافہ کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دنیا کے زوال پذیر ہونے اور اس کے اموال وغیرہ کے فانی ہونے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے اور ہر عمل کے محاسبے اور اس کی جزا و سزا ہونے کے ساتھ نصیحت فرمائی ہے۔ (ابن کثیر)
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : ”قرآن میں سب سے آخر میں جو آیت اتری وہ یہ ہے۔“ [ السنن الکبریٰ للنسائی : 10؍39، 40، ح : 10991، 10992، صحیح۔ ہدایۃ المستنیر : 870 ]
Read the full tafseer →آیت نمبر : 281۔
کہا گیا ہے : بیشک یہ آیت حضور نبی کریم ﷺ کے وصال سے نوراتیں قبل نازل ہوئی پھر اس کے بعد کوئی شے نازل نہ ہوئی، ابن جریج نے یہی کہا ہے، ابن جبیر اور مقاتل نے کہا ہے : سات راتیں پہلے نازل ہوئی اور تین راتوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور یہ بھی روایت ہے کہ یہ آیت آپ ﷺ کے وصال سے تین ساعتیں قبل نازل ہوئی اور آپ ﷺ نے فرمایا : ” میرے پاس حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) آئے اور کہا اسے دوسواسی نمبر آیت کے بعد رکھ دو ۔ “
میں (مفسر) کہتا ہوں کہ حضرت ابی بن کعب، حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت قتادہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے روایت ہے کہ آخر میں جو آیت نازل ہوئی وہ یہ ہے ؛ (آیت) ” لقد جآء کم…
Read the full tafseer →(1) ابو عبید، عبد بن حمید، نسائی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن الانباری نے المصاحف میں، طبرانی، ابن مردویہ، بیہقی نے دلائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ پر آخری آیت جو قرآن میں نازل ہوئی وہ یہ آیت تھی لفظ آیت ” واتقوا یوما ترجعون۔۔ الخ “۔
(2) ابن ابی شیبہ نے سدی وعطیہ عوفی سے اسی کی مثل نقل کیا ہے۔
(3) الفریابی عبد بن حمید ابن المنذر بیہقی نے دلائل میں کلبی کے طریق سے ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آخر آیت جو نازل ہوئی وہ لفظ آیت ” واتقوا یوما ترجعون فیہ الی اللہ “ ہے یہ آیت منیٰ میں نازل ہوئی اس آیت کے نازل ہونے اور نبی اکرم ﷺ کی وفات حسرت آیات کے درمیان…
Read the full tafseer →[وَاتَّقُوْا : اور تم لوگ بچو ] [یَوْمًا : ایک ایسے دن سے ] [تُرْجَعُوْنَ : تم لوگ لوٹائے جائو گے ] [فِیْہِ : جس میں ] [اِلَی اللّٰہِ : اللہ کی طرف ] [ثُمَّ تُوَفّٰی : پھر پورا پورا دیا جائے گا ] [کُلُّ نَفْسٍ : ہر ایک جان کو ] [مَّا : وہ جو ] [کَسَبَتْ : اس نے کمایا ] [وَ : اس حال میں کہ ] [ہُمْ : ان پر ] [لاَ یُظْلَمُوْنَ : ظلم نہیں کیا جائے گا (یعنی حق تلفی نہیں ہوگی)
ترکیب : ” وَاتَّقُوْا “ کا فاعل اس میں ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے ‘ جبکہ ” یَوْمًا “ اس کا مفعول ہے اور نکرہ مخصوصہ ہے۔ آگے اس کی خصوصیت ہے۔ ” تُوَفّٰی “ باب تفعیل میں مضارع مجہول کا واحد مؤنث کا صیغہ ہے۔ ” کُلُّ نَفْسٍ “ اس…
Read the full tafseer →آخر میں ارشاد ہے : (وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْہِ اِلَی اللّٰہِ ) (الآیۃ) سود اور قرض سے متعلقہ احکام بیان فرمانے کے بعد قیامت کے دن کی حاضری کی طرف متوجہ فرمایا اور یوم الحساب کی حاضری کا مراقبہ کرنے کا حکم دیا جس دن ہر شخص اپنے پورے پورے اعمال کی فہرست پر مطلع ہوگا اور اپنے اپنے کیے ہوئے کا بدلہ ملے گا۔ جسے فکر آخرت ہو موت کے بعد کے حالات کا یقین ہو اور بار گاہ خداوندی میں اعمال کا حساب دینے کا استحضار ہو وہ وہاں کی نجات اور اجر وثواب کے لیے ہر طرح کے حرام مال کو بآسانی چھوڑ سکتا ہے اور اس کے لیے نفس کو راضی کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 275–281
احکام ربا (سود) ۔
قال تعالی، الذین یاکلون الربو۔۔۔ الی۔۔۔ لایظلمون۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں خیرات اور صدقات کا بیان تھا اب آئندہ آیات میں سود کے احکام ذکر فرماتے ہیں جو کہ صدقات اور خیرات کی ضد اور نقیض ہے اس لیے کہ صدقہ اور خیرات سے اخلاق اور مروت اور خلق اللہ کی نفع رسانی میں ترقی ہوتی ہے اور سود میں سراسر بےمروتی اور ضرر رسانی ہے صدقہ اور خیرات میں صلہ رحمی اور غریبوں کی امداد ہوتی ہے اور سود میں سخت دلی اور غریبوں زیادتی ہوتی ہے اس لیے صدقہ کی فضیلت کے بعد سود کی مذمت اور حرمت کا بیان نہایت مناسب ہوا تاکہ سود کی مذمت اور حرمت سے صدقہ کی فضیلت اور پختہ ہوجائے اور یہ معلوم ہوجائے کہ جس درجہ…
Read the full tafseer →547 اس آیت کے پہلے حصے میں برے اعمال سے بچنے اور دوسرے حصے میں نیک اعمال بجالانے کی ترغیب ہے۔ یوماً سے مراد قیامت کا دن ہے یوم قیامت کی دہشتنا کی کے پیش نظر گناہوں سے بچنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور یہ سن کر کہ وہاں بےانصافی نہیں ہوگی بلکہ اعمال کی پوری پوری جزا دی جائیگی دل میں نیک اعمال کا مزید شوق پیدا ہوتا ہے۔ یہاں تک جہاد اور انفاق کا مضمون مع متعلقات ختم ہوا۔ اب آگے تیسری بار امور انتظامیہ کا ذکر کیا جارہا ہے۔ اگلے رکوع میں بیان کیا گیا ہے کہ اگر ادھار پر لین دین کیا جائے تو اسے لکھ لینا چاہیے اس ضمن میں تحریر لکھنے شہادت اور رہن کے احکام بھی بیان کیے گئے ہیں یہ سب امور انتظامیہ ہیں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 278–281
ربط آیات
صدقہ و خیرات کی فضلیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے سود کی حرمت مذمت بیا ن فرمائی۔ گزشتہ درس میں سود خور کی قیامت کے دن دوبارہ اٹھنے کی حالت کا تذکرہ تھا کہ وہ اپنی قبروں سے اس طرح مخبوط الحواس اٹھیں گے جیسے ان کو جن چمٹ گیا ہو ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا میں مال جمع کرنے کی فکر میں اس قدر اندھے ہوگئے کہ ان کے نزدیک تجارت اور سود میں کوئی امتیاز نہ رہا ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ سود کی حرمت کے نفاذ کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے دو طریقے بتائے ہیں ۔ پہلا طریقہ تو گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے۔ فمن جاء ہ موعظۃ من ربہ یعنی وعط و نصیحت کے ذریعے سود خور…
Read the full tafseer →وَاتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِيْہِ اِلَى اللہِ 0 ۤ ۣ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ 281 ۧ
تقوي
والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35]
التقویٰ
اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 278–281
ترکیب : ان کنتم مؤمنین شرط جملہ مقدم دال برجزا فان لم تفعلوا شرط فاذنوا الخ جواب ‘ وان شرطیہ کان تامہ ذوعسرۃ اس کا اسم فنظرۃ خبر ہے مبتداء محذوف کی ای فالحکم نظرۃ الخ۔ یہ تمام جملہ جواب شرط واتقوا فعل انتم فاعل یوما مفعول بہ ترجعون الخ جملہ اس کی صفت۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا اور سود سے باز آئو اور جو کچھ ممانعت سے پیشتر لے لوا چکے ہو وہ تمہارا ہے۔ اس پر خیال پیدا ہوتا تھا کہ ممانعت سے پہلے کا جو سود قرضہ دار کے ذمہ پر چڑھا ہوا ہے وہ بھی ہمارا ہے اس کو لینا چاہیے۔ اس خیال کو خدا تعالیٰ نے رد کیا کہ جو کچھ سود قرضداروں کے ذمہ پر باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو اگر سچا ایمان رکھتے ہو اور جو تم باز…
Read the full tafseer →وَاتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْہِ اِلَی اللّٰہِ قف ق ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَ ہُمْ لَا یُْظْلَمُوْنَ ۔ ع
(اور ڈرو اس دن سے جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ پھر ہر شخص کو جو اس نے کمائی کی ہے پوری پوری مل جائے گی اور ان پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا) (281)
قرآن کریم نے اپنے اسلوب کے مطابق سود کی بحث کو ختم کرتے ہوئے مسلمانوں کو اس دن کی جوابدہی سے ڈرنے اور اس کی فکر کرنے کا حکم دیا ہے جس کی طرف پورا انسانی قافلہ اپنے اپنے وقت کے مطابق بڑھ رہا ہے۔ برزخی زندگی کے بعد ایک وقت ایسا آئے گا جب اس دن کا اعلان ہوگا جسے قیامت کہتے ہیں۔ پھر نفخہ ثانیہ کے بعد ہر مرنے والا زندہ ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 280–281
فہم القرآن
ربط کلام : اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ضرورت مند پر صدقہ کیا جائے یا قرض حسنہ کے ساتھ اس سے تعاون کیا جائے اس لیے سود کی حرمت ومذّمت کرنے کے بعد تجارت کے مسائل بیان ہورہے ہیں۔
قرض حسنہ کے بارے میں حکم ہے کہ اگر مقروض کوشش کے باوجود قرض کی ادائیگی کا اہتمام نہ کرسکے تو اسے مہلت دینا ہوگی۔ اگر قرض معاف ہی کردیا جائے تو یہ صاحب مال کے لیے بہت ہی بہتر ہوگا۔ یہاں فکر آخرت کے حوالے سے سمجھایا جارہا ہے کہ اے مالدارو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو یہ سب کچھ یہیں کا یہیں رہ جائے گا اور بالآخر تم نے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہونا ہے اگر تم قرض معاف کردو یا تنگ دست کو مہلت دو تو دونوں صورتوں میں تمہیں…
Read the full tafseer →آیت 281 :
وَاتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْہِ اِلَی اللّٰہِ ۔ (اس دن سے ڈرو جس دن میں تم اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹا دیئے جائو گے) ۔
قراءت : ابوعمرو نے تَرْجِعُوْنَ پڑھا ہے۔ رجع لازم و متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔
آخری آیت :
کہا گیا کہ یہ آخری آیت ہے۔ جس کو جبرائیل ( علیہ السلام) لائے اور کہا۔ اس کو سورة بقرہ کی آیت نمبر 280 کے بعد رکھ دو اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اکیس دن بقید حیات رہے۔ یا اکاسی ایام یا سات ایام یا تین ساعات :
ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّاکَسَبَتْ (پھر پورا پورا دیا جائے گا۔ ہر نفس کو جو اس نے کمایا) یعنی کمائے ہوئے کا بدلہ۔
وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ (اور ان پر ظلم نہ ہوگا)…
Read the full tafseer →(تفسیر) 281۔:
(آیت)” واتقوا یوما ترجعون فیہ الی اللہ “۔ اور اس دن سے ڈرتے رہو جس دن تمہیں اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا، اہل بصرہ نے ” ترجعون “ پڑھا ہے یعنی تم لوٹو گے اور بعض حضرات نے ” ترجعون “ تاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور جیم کے فتحہ کے ساتھ مطلب یہ ہوگا کہ تم اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (تم توفی ۔۔۔۔۔۔۔ یظلمون پھر ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے کا بدلہ دیا جائے گا) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس آیت کو سورة بقرہ کی دو سو اسی آیت کے بعد رکھ لو اس کے نزول کے بعد آپ ﷺ اکیس دن زندہ رہے ، ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →معتبر سند سے نسائی تفسیر ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ سب سے آخر قرآن شریف کی یہی آیت نازل ہوئی ہے 1۔ جس سے یہ اشارہ ہے کہ اس آیت کے بعد خوف آخرت ہے۔ ایک چیز ہے جو اللہ سے ڈرنے کا ذریعہ دنیا میں قیامت تک چھوڑا جاتا ہے رسول وقت کی صحبت قرآن شریف کا ہر نصیحت کے موقع پر نازل ہوتا آئندہ سے بند ہے چناچہ اس آیت کے نزول کے نو 9 راتوں کے بعد آنحضرت ﷺ نے وفات پائی اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ جو آخری ذریعہ عقبیٰ کے پاک کرنے کا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے دنیا میں رکھا ہے وہی خوف عقبیٰ ہادی مطلق مسلمانوں کو ہدایت دے کہ کوئی مسلمان اس ذریعہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 275–281
آیت 275-281
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سود خوروں کا انجام بدبیان فرمایا ہے۔ وہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھیں گے : (الا کما یقوم الذی یتخبطہ الشیطن من المس) ” تو ان کی حالت یہ ہوگی گویا انہیں شیطان نے پاگل بنادیا ہے۔ یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو حیران پریشان ہوں گے۔ انہیں سخت سزا ملنے کا یقین ہوگا۔ : (قالوآ انما البیع مثل الربوا) ” انہوں نے کہا تھا : تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے۔ “ یہ بات کوئی ایسا جاہل ہی کہہ سکتا ہے جو جہالت کے انتہائی درجے تک پہنچا ہوا ہو، یا دین کا انتہائی دشمن کہہ سکتا ہے۔ جس طرح ان کی عقلیں اوندھی ہوگئی تھیں تو اس کا بدلہ بھی یہ ملے گا کہ ان کی حالت پاگلوں کے مشابہ ہوگی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 281–282
ادھار لین دین کا بیان
قول باری ہے (یآیھا الذین اٰمنوا اذا تداینتم بدین الیٰ اجل مسمی فاکتبوہ (a) اے ایمان والو ! جب کسی مقرر مدت کے لئے تم آپس میں ادھار لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو)
ابو بکر جصاص کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں کا مسلک یہ ہے کہ مقرر مدت کے لئے ادھار لین دین کے متعلق تحریر اور گواہی اس قول باری (فاکتبوہ) (a) تا قول باری (فاستشھدوا شھیدین من رجالکم (a) اپنے مردوں میں سے دو گواہ مقرر کرلو) کی بنا پر واجب تھی پھر یہ وجوب اس قول باری (فان امن بعضکم بعضا فلیود الذی ائوتمن امانتہ۔ (a) اگر تم میں سے کوئی شخص دوسرے پر بھروسہ کرکے اس کے ساتھ کوئی معاملہ کرے تو جس پر بھروسہ کیا گیا ہے اسے چاہیے…
Read the full tafseer →802 یوم قیامت کی تذکیر و یاددہانی : سو اس ارشاد سے قیامت کے ہولناک دن، اور وہاں کی پرسش کی تذکیر و یاد دہانی فرمائی گئی ہے۔ـ سود سے متعلق احکام و ارشادات کا خاتمہ اس آیت کریمہ سے فرمایا گیا ہے جس میں دلوں کو لرزا دینے والی یہ تنبیہ ہے کہ تمہیں بہرحال اس عظیم الشان اور ہولناک دن میں اس وحدہ لاشریک کے حضور پیش ہو کر اپنے کئے کرائے کا حساب دینا ہے، اور اپنے اعمال کا اور زندگی بھر کے اپنے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ پانا ہے۔ اب ہر شخص خود دیکھ لے کہ اس کا نامہء اعمال کیسا ہے، اور اس کو کس طرح کے صلے اور بدلے کی توقع ہوسکتی ہے۔ انسان کا ضمیر خود اس کا منصف اور محاسب ہے۔ حضرت ابن عباس ۔ ؓ ۔ سے مروی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 280–281
مجبور اور تنگ دست سے رعایت
تشریح : ارشاد ہوتا ہے کہ اگر قرض دارتنگ دست ہے تو اسے قرض ادا کرنے کے لئے تنگ نہ کیا جائے، بلکہ انسانیت اور نیکی یہی ہے کہ اس کو آسانی اور خوشحالی تک مہلت دی جائے کہ وہ آسانی سے قرض ادا کرسکے، بلکہ یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر قرض دینے والا ہمدردی کی وجہ سے معاف کر دے تو یہ بڑے ہی فائدے اور نیکی کا کام ہے اگر تمہیں سمجھ ہو یعنی قرض معاف کرنے سے قرض دار کو تو بظاہر فائدہ ہوگا لیکن دراصل فائدہ تمہیں خود ہوگا کیونکہ قرآن پاک میں اکثر جگہ بتایا گیا ہے کہ ” اس دن سے ڈرو جب تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور اپنے کئے ہوئے اعمال کا پورا پورا بدلہ پاؤ گے “۔ اللہ نے انصاف اور حساب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 274–281
274 تا 281
اسرارو معارف
الذین ینفقون…………ولاھم یحزنون۔
جو لوگ دن رات ظاہر پوشیدہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں یعنی جیسے ضرورت پیش آئے اسے پورا کرنے کو لپکتے ہیں۔ اعلانیہ دینا پڑے یا چھپا کر ، رات ہو یا دن کا وقت نہ تاخیر کرتے ہیں اور نہ کسی حالت کو آڑے آنے دیتے ہیں جیسے سیدنا صدیق اکبر ؓ ، کہ شاعر مشرق (رح) نے کیا خوب کہا ہے ؎
آں امن الناس بر مولائے ما
آں حکیم وادی سینائے ما
دولت اوکشت ملت راچوں ابر
ثانی اثنین وغار وبدر وقبر
یا دیگر جملہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جن کے صدقات اور مالی جانی قربانیوں سے تاریخ عالم مزین ہے اور چشم فلک حیران۔ ایسی قوم نہ سورج نے ان سے پہلے دیکھی اور نہ ان…
Read the full tafseer →ف 9 متعد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرآن کی سب سے آخری آیت ہے جو نبی ﷺ پر نازل ہوئی۔ آنحضرت ﷺ اس کے بعد بعض روایات کے مطابق اکیس روز اور بعض کے مطابق صرف نو روز رہے۔ نیز ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس کو الربا اور الدین دنوں آیتوں کے درمیان لکھو۔ ابن کثیر۔ روح المعانی )
Read the full tafseer →(2:281) یوما۔ مفعول فیہ۔
توفی مضارع مجہول واحد مؤنث غائب۔ پورا دیا جائیگا۔ توفیۃ (تفعیل) مصدر، جس کے معنی پورا پورا دینے کے ہیں۔
ماکسبت۔ ما موصولہ، کسبت واحد مؤنث غائب کسب (باب ضرب) سے مصدر۔ جو اس نے کمایا۔ اس کا پورا پورا بدلہ اسے دیا جائے گا۔
وھم لا یظلمون۔ جملہ حالیہ ہے کل نفس سے اور صیغہ جمع باعتبار معنی آیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 280–281
لغات القرآن : آیت نمبر 280 تا 281
ذو عسرۃ (تنگ دست) ۔ نظرۃ (رعایت کرنا ہے، ڈھیل دینی ہے) ۔ میسرۃ (آسودگی، حالات کی درستگی ، سہولت) ۔ ان تصدقوا (یہ کہ تم معاف کردو، صدقہ کردو) ۔ توفی (پورا پورا دیا جائے گا) ۔ کل نفس (ہرشخص) ۔ لا تظلمون (تم ظلم نہیں کئے جاؤ گے) ۔
تشریح : آیت نمبر 280 تا 281
اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر ایک شخص کا روباری نقصان یا ارضی و سماوی آفات کی وجہ سے اپنا قرض ادا نہیں کرسکتا تو اس کو قرض خواہوں کی طرف سے اس وقت تک مہلت ملنی چاہئے جب تک وہ قرض کو ادا کرنے کے قابل نہ ہوجائے ۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ اگر قرض کی وہ ادائیگی نہ کرسکتا ہو تو معاشرہ میں اس کو اس طرح بےبس بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 279–281
معتبی سند سے نسائی ، تفسیر ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ سب سے آخر قرآن شریف کی یہی آیت نازل ہوئی ہے جس میں یہ اشارہ ہے کہ اس آیت کے بعد خوف آخرت ہی ایک چیز ہے جو اللہ سے ڈرنے کا ایک ذریعہ دنیا میں قیامت تک چھوڑا جاتا ہے۔ رسول وقت کی صحبت۔ قرآن شریف کا ہر نصیحت کے موقع پر نازل ہونا آئندہ بند ہے۔ چناچہ اس آیت کے نزول سے نو راتوں کے بعد آنحضرت ﷺ نے وفات پائی۔ انا للہ وانا الیہ رٰجعون۔ جو آخری ذریعہ عقبیٰ کے پاک کرنے کا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے دنیا میں رکھا ہے وہی خوف عقبیٰ ہے۔ ہادی مطلق مسلمانوں کو ہدایت دے کہ کوئی مسلمان اس ذریعہ سے ٖغافل نہ رہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 280–282
[191] جو شخص قرض ادا نہ کرسکتا ہو تو اسلامی عدالت اس آیت کی رو سے اس کے قرض خواہوں کو مجبور کرے گی کہ وہ اسے مہلت دیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 281–282
حساب میں باقاعدگی :
(ف 1) قرآن حکیم ایک ایسا مکمل دستور العمل ہے کہ اس کی ہدایات ہر طرح ضروریات انسانی کے لئے کفیل ہیں ، اس میں معاملات کی جزئیات تک جو ضروری ہیں ۔ مکمل ومفصل بیان کردی گئی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اس پر کوئی عمل کرے ‘ فائدہ اٹھائے ، یہ دودھ ہے خالص ‘ جو پئے گا ، قوت و توانائی کرے گا ۔
عام طور پر مسلمان کے متعلق خیال یہ ہے کہ وہ روزانہ معاملات میں نہایت بےضابطہ ہوتا ہے اور اس بےضابطی کی وجہ سے اکچر نقصان بھی اٹھاتا ہے ، اخیار اس کی سادگی اور سادہ لوحی سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور اسے دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں ، مگر یہ ہے کہ کبھی قرآن حکیم اٹھا کر نہیں دیکھتا کہ اس نسخہ کیمیا میں اس…
Read the full tafseer →ف 2۔ اور مسلمانو ! تم اس دن سے ڈرو جس دن تم خدا کی طرف لوٹائے جائو گے اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں حاضر کئے جائو گے۔ پھر اس دن ہر شخص کو اس کی کمائی اور اس کے کئے کا پورا پورا دیا جائیگا اور ہر شخص کو اپنے کئے کی پوری جزا ملے گی خواہ وہ خیر ہو یا شر ہو اور ان پر کسی قسم کا ظلم نہ کیا جائے گا ۔ یعنی نہ اجر میں کمی اور نہ سزا میں زیادتی ، لہٰذا تمام احکام کی تم بھی پوری پوری پابندی کیا کرو تا کہ اس دن کہیں ذلت و رسوائی نہ ہو۔ ( تیسیر)
قرآن مقدس کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اوامرو نواہی کی بحث میں قیامت کا اور خدا کی پیشی میں جانے کا اور دوزخ کی ہولناکی اور جنت کی بشارت کا ذکر کرتا ہے تا کہ ان چیزوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 280–281
ف 2۔ مفلس کو مہلت دینا واجب ہے جب اس کو گنجائش ہو پھر مطالبہ کی اجازت ہے۔
Read the full tafseer →احکام ” الربوا “ کی آیات کے ختم پر و بارہ بارگاہ ایزدی کا حکم :
492: احکام ” الربوا “ پر نازل کی گئی چھ آیات ختم ہوچکی ہیں اور اب اس ساتویں آیت میں اہل ایمان کو مخاطب فرما کر کہا جاتا ہے کہ اس دن سے ڈرتے رہو جس میں تم سب اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وہاں تم سب کی اپنے اپنے اعمال کی پیشی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کا معاوضہ یعنی کیے کا بدلہ پورا پورا ملے گا اور ان پر ظلم ذرا بھی نہ ہوگا کہ کسی کا عمل بلا معاوضہ رہ جائے یا کسی کے نامہ اعمال میں کوئی بدی خواہ مخواہ لکھ دی جائے۔ ” تُوَفّٰى کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ “ یعنی اعمال کا پورا پورا معاوضہ دیا جائے گا اور یہ بات اپنی جگہ پر حق ہے کہ کسی کو…
Read the full tafseer →In the last verse (281), there appear again the subjects of the fear of the Last Day, its accounting, its rewards and punishment, at which end these verses containing the injunctions of ربا riba. It was said in this last verse:
وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّـهِ ۖ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ﴿281﴾
That is, fear a day on which all of you will be assembled be-fore Allah when everyone will be fully and equitably recompensed for his deeds and they will not be wronged.
Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ says that this verse is the last in the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 280–281
324. This verse is the basis of the Islamic regulation that if a person has become incapable of paying off his debt, the court will force the creditors to grant him respite for payment. In fact, under certain circumstances, the court is entitled to remit a part of his debt and, at times, the whole of it. It is mentioned in the Hadith that once a person suffered loss in his trade and became greatly burdened with debt and the case was brought to the notice of the Prophet. The Prophet urged the people to help their brother in his distress. They came to his assistance but the amount of help was…
Read the full tafseer →