Explained with ayahs 278–281
سود خور قابل گردن زنی ہیں اور قرض کے مسائل
ان آیات میں اللہ تعالیٰ ایماندار بندوں کو تقوے کا حکم دے رہا ہے اور ایسے کاموں سے روک رہا ہے جن سے وہ ناراض ہو اور لوگ اس کی قربت سے محروم ہوجائیں تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا لحاظ کرو اور اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور تمہارا سود جن مسلمانوں پر باقی ہے خبردار اس سے اب نہ لو جبکہ وہ حرام ہوگیا، یہ آیت قبیلہ ثقیف بن عمرو بن عمیر اور بنو مخزوم کے قبیلے بنو مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جاہلیت کے زمانہ میں ان کا سودی کاروبار تھا، اسلام کے بعد بنو عمرہ نے بنو مغیرہ سے اپنا سود طلب کیا اور انہوں نے کہا کہ اب ہم اسے اسلام لانے کے بعد…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 323
یہ آیت فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی اور مضمون کی مناسبت سے اس سلسلہ کلام میں داخل کردی گئی۔ اس سے پہلے اگرچہ سود ایک ناپسندیدہ چیز سمجھا جاتا تھا مگر قانوناً اسے بند نہیں کیا گیا تھا۔ اس آیت کے نزول کے بعد اسلامی حکومت کے دائرے میں سودی کاروبار ایک فوجداری جرم بن گیا۔ عرب کے جو قبیلے سود کھاتے تھے، ان کو نبی ﷺ نے اپنے عمال کے ذریعے سے آگاہ فرمادیا کہ اگر اب وہ اس لین دین سے باز نہ آئے، تو ان کے خلاف جنگ کی جائے گی۔ نجران کے عیسائیوں کو جب اسلامی حکومت کے تحت اندرونی خود مختاری دی گئی، تو معاہدے میں یہ تصریح کردی گئی کہ اگر تم سودی کاروبار کرو گے، تو معاہدہ فسخ ہوجائے گا اور…
Read the full tafseer →اس کے بعد پانچویں آیت میں اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کو سخت وعید سنائی گئی جس کا مضمون یہ ہے کہ اگر تم نے سود کو نہ چھوڑا تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو یہ وعید شدید ایسی ہے کہ کفر کے سوا اور کسی بڑے سے بڑے گناہ پر قرآن میں ایسی وعید نہیں آئی پھر اس آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا ہے
وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ یعنی اگر تم توبہ کرلو اور آئندہ کے لئے سود کی بقایا رقم چھوڑنے کا عزم کرلو تو تمہیں تمہارے اصل رأس المال مل جائیں گے نہ تم اصل رأس المال سے زائد حاصل کرکے کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ کوئی اصل راس المال…
Read the full tafseer →سود خوروں کو الٹی میٹم : اس کی نوعیت بالکل الٹی میٹم کی ہے یعنی اب جو لوگ اس حکم کو نہ مانیں گے وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے خبردار ہوجائیں۔ سود کے متعلق جو لب و لہجہ ان آیات کا ہے بعینہ یہی لہجہ سود سے متعلق آنحضرت ﷺ کا خطبہ حجۃ الوداع میں معلوم ہوتا ہے جس سے ان آیات کے زمانہ نزول کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس آیت سے صریح طور پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسلامی نظام میں سودی کاروبار کرنے والوں کی حیثیت باغیوں اور مفسدوں کی ہے جن کی سرکوبی کے لیے عند الضرورت فوجی کاروائی بھی کی جاسکتی ہے۔ اس پر تفصیلی بحث سورة مائدہ میں آئے گی۔
اس الٹی میتم کے بعد سودی کاروبار رکھنے والوں کو صرف اس امر کی…
Read the full tafseer →279۔ 1 یہ ایسی سخت سزا ہے جو اور کسی معصیت کے ارتکاب پر نہیں دی گئی۔ اس لئے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے کہا کہ اسلامی مملکت میں جو شخص سود چھوڑنے پر تیار نہ ہو تو خلیفہ وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سے توبہ کرائے اور باز نہ آنے کی صورت میں اس کی گردن اڑا دے (ابن کثیر)
279۔ 2 تم اگر اصل زر سے زیادہ وصول کرو گے تو یہ تمہاری طرف سے ظلم ہوگا اور اگر تمہیں اصل زر بھی نہ دیا جائے تو یہ تم پر ظلم ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 275–281
184:" سود " یا " رباء " ہر اس زیادہ رقم کو کہا جاتا ہے جو کسی قرض پر طے کرکے وصول کی جائے، مشرکین کا کہنا تھا کہ جس طرح ہم کوئی سامان فروخت کرکے نفع کماتے ہیں اور اس کو شریعت نے حلال قرار دیا ہے، اسی طرح اگر قرض دے کر کوئی نفع کمائیں تو کیا حرج ہے ؟ ان کے اس اعتراض کا جواب تو یہ تھا کہ سامان تجارت کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ اسے بیچ کر نفع کمایا جائے، لیکن نقدی اس کام کے لئے نہیں بنائی گئی کہ اسے سامان تجارت بناکر اس سے نفع کمایا جائے، وہ تو ایک تبادلے کا ذریعہ ہے ؛ تاکہ اس کے ذریعہ اشیائے ضرورت خریدی اور بیچی جاسکیں، نقدی کا نقدی سے تبادلہ کرکے اسے بذات خود نفع کمانے کا ذریعہ بنالیا جائے تو اس سے…
Read the full tafseer →اسلام نے ان لوگوں کے حق میں وہ سودی منافع چھوڑ دیا جو وہ کھاچکے تھے ۔ یہ فیصلہ نہ کیا کہ کھایا ہوا سود بھی ان سے لوٹایا جائے ۔ نہ اسلام نے ان کی تمام یا کچھ جائیداد کو ضبط کرنے کا حکم دیا ۔ اس سبب سے کہ ان کے کاروبار میں سود شامل تھا ۔ اس لئے کہ اسلام میں کوئی بات حرام نہیں قرار پاتی جب تک اسے اللہ تعالیٰ حرام قرارنہ دیں ۔ بغیر قانون سازی کے کوئی حکم نہیں دیا جاسکتا ۔ اور قانون کا مزاج یہ ہے کہ وہ اپنے آثار اپنے نفاذ کے بعد ظاہر کرتا ہے ۔ جو گزرچکا سو گزرچکا ۔ گزرے ہوئے معاملات اللہ کے سپرد ہیں ۔ ان پر قانونی احکام کا اطلاق نہیں ہوتا ۔ اس طرح اسلام نے سوسائٹی کو ایک بڑے دھماکہ خیز اقتصادی اور…
Read the full tafseer →1 یعنی پہلے سود جو تم لے چکے ہو اس کو اگر تمہارے اصل مال میں محسوب کریں اور اس میں سے کاٹ لیویں تو تم پر ظلم ہے اور ممانعت کے بعد کا سود چڑھا ہوا اگر تم مانگو تو یہ تمہارا ظلم ہے۔
Read the full tafseer →آیت 279 فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ج
سود خوری سے با زنہ آنے پر یہ الٹی میٹم ہے۔ قرآن و حدیث میں کسی اور گناہ پر یہ بات نہیں آئی ہے۔ یہ واحد گناہ ہے جس پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے اعلان جنگ ہے۔
وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَکُمْ رُءُ وْسُ اَمْوَالِکُمْ ج۔
تمہارے جو اصل رأس المال ہیں وہ تمہیں لوٹا دیے جائیں گے۔ چناچہ سود چھوڑ دو اور اپنے رأس المال واپس لے لو۔
لاَ تَظْلِمُوْنَ وَلاَ تُظْلَمُوْنَ ۔
نہ تم کسی پر ظلم کرو کہ اس سے سود وصول کرو اور نہ ہی تم پر ظلم کیا جائے کہ تمہارا رأس المال بھی دبا دیا جائے۔
Read the full tafseer →398 یہاں ہم سود سے متعلق چند احادیث بیان کرتے ہیں :
(1) حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سود لینے والے، دینے والے، تحریر لکھنے والے اور گواہوں، سب پر لعنت کی اور فرمایا وہ سب (گناہ میں) برابر ہیں (مسلم، کتاب البیوع۔ باب لعن آکل الربوا و موکلہ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سود لینے اور دینے والوں کے علاوہ بنکوں کا عملہ بھی اس گناہ میں برابر کا شریک ہوتا ہے۔
(2) آپ نے فرمایا (: سود کے گناہ کے) اگر ستر حصے کئے جائیں تو اس کا کمزور حصہ بھی اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے (ابن ماجہ بحوالہ مشکوٰۃ۔ کتاب البیوع۔ باب الربا۔ فصل ثالث)
(3) آپ نے فرمایا : سود کا ایک درہم جو آدمی کھاتا ہے اور وہ اس کے سودی…
Read the full tafseer →1078 ۔ یعنی تم پر باغیوں اور مرتدوں کی طرح جہاد کیا جائے گا۔ کما یحارب الفءۃ الباغیۃ (کبیر) کحرب المرتد وکحرب البغاۃ (روح) اعلام بانھم ان لم یفعلوا ما امروا بہ فھم محاربون للہ ورسولہ (جصاص) اتنی شدید تہدید قرآن مجید میں کسی دوسری معصیت کے لیے نہیں آئی ہے۔ العظمۃ للہ حرمت سود کا کس درجہ اہتمام ہے اور اس باب میں کس درجہ شدید احکام ہیں۔ کچھ حد سے اس ڈھٹائی اور جسارت کی کہ اپنے کو مسلمان کہلا کر رسالہ ” جواز سود “ پر شائع کیے جائیں اور اپنی تحریر وتقریر سے لوگوں کو سودی کاروبار کی ترغیب دلائی جائے۔ حضرت عمر ؓ جیسے جلیل القدر صحابی رسول اللہ ﷺ سے یہ جو قول منقول ہے کہ سود کو بھی چھوڑ دو اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 278–280
یٰآیُّھَا الَّذیْنَ آمَنُوْا اتَّقُوْا اللہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰوآ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ، زمانہ جاہلیت میں قرض کی ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں سود در سود کی وجہ سے اصل رقم میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا تھا جس سے وہ تھوڑی سی رقم ایک پہاڑ بن جاتی اور اس کی ادائیگی ناممکن ہوجاتی، اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ کوئی تنگ دست ہو تو (سود لینا تو درکنار اصل مال لینے میں بھی) آسانی تک مہلت دو ، اور اگر قرض بالکل ہی معاف کرو تو زیادہ بہتر ہے احادیث میں بھی اس کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے، کتنا فرق ہے ان دونوں نظاموں میں ؟ ایک سراسر ظلم، تنگدلی اور خود غرضی پر مبنی نظام اور دوسرا…
Read the full tafseer →فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا (یعنی اگر تم نے بقیہ سود نہ چھوڑا تو آگاہ ہوجاؤ) حمزہ اور ابوبکر نیفَاٰذِنُوْا بروزن اٰمِنُوْاپڑھا ہے یعنی دوسروں کو اطلاع دیدو۔ لفظ ایذان ‘ اُذُن سے بنا ہے یعنی کانوں میں ڈال دو ‘ سنا دو ۔ باقی اہل قراءت نے فاذَنُوْا پڑھا ہے یعنی جان لو اور یقین کرلو۔
بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ : اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف سے جنگ کا۔ حرب کی تنوین سے جنگ کی عظمت کی طرف اشارہ ہے۔ سعید بن جبیرنے حضرت ابن عباس ؓ کا اثر نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن سود خوار سے کہا جائیگا۔ لڑائی کیلئے اپنے ہتھیار لے لے۔
ابن عباس ؓ کی ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہ نے چھواروں کو کھانے کے…
Read the full tafseer →(279) اور اگر سود سے توبہ کرتے ہو تو بنی مخزوم کی طرح تمہارا جو اصل مال سود کے علاوہ ہے وہ مل جائے گا اور جب کوئی شخص سودے زیادتی کا مطالبہ نہ کرے تو اس پر کوئی ظلم نہیں اور جس وقت تم اصل مال دے دو گے تو تم پر بھی کوئی شخص ظلم نہیں کرے گا اور یہ بھی معنی بیان کیے گئے ہیں کہ نہ تم کسی کے قرض میں کمی کرو اور نہ تمہارے قرضوں میں کمی کی جائے گی۔
Read the full tafseer →فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۚ : ”بِحَرْبٍ“ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ”بڑی جنگ“ ترجمہ کیا ہے۔ ”أَذِنَ یَأْذَنُ (س)“ کا صلہ اگر لام ہو، مثلاً ”أَذِنَ لَہُ“ تو اس کا معنی ”اِسْتَمَعَ“ ہوتا ہے یعنی کان لگانا، سننا اور اگر ”أَذِنَ بِہِ“ ہو تو اس کا معنی ”عَلِمَ بِہِ“ ہوتا ہے یعنی جاننا، آگاہ ہونا۔ خبر دار ہونا۔ (قاموس) یعنی اگر تم نے سود نہ چھوڑا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سے آگاہ اور خبردار ہوجاؤ۔ اور یہ وہ وعید ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے دوسرے کسی جرم کے بارے میں اتنے واضح الفاظ میں نہیں دی گئی۔ ابن عباس ؓ ، ابن سیرین،…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر : (31) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ “۔ یہ وعید ہے اگر انہوں نے سود نہ چھوڑا اور جنگ قتل کی دعوت دیتی ہے اور حضرت ابن عباس ؓ نے روایت کیا ہے کہ قیامت کے دن سود کھانے والے کو کہا جائے گا : جنگ کے لئے اپنے ہتھیار لے لے، اور حضرت ابن عباس ؓ نے یہ بھی کہا ہے : جو کوئی سود پر قائم رہے اور اس سے باز نہ آئے تو مسلمانوں کے امام پر لازم ہے کہ وہ اس سے سود کا مال واپس لے لے پس اگر وہ باز آجائے۔ (تو فبہا) اور نہ وہ اسے قتل کر دے۔
اور حضرت قتادہ ؓ نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے سود لینے والوں کو قتل کی دھمکی دی ہے اور انہیں مباح قرار دیا ہے جہاں بھی وہ پکڑے جائیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 278–279
(1) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وذروا ما بقی من الربوا “ عباس بن عبد المطلب اور بنو صغیر کے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی زمانہ جاہلیت میں دونوں سود (کے کاروبار) میں شریک تھے یہ دونوں قبیلہ ثقیف کے لوگوں کو سود پر ادھار دیتے تھے ثقیف سے مراد بنو عمر وبن عمیر ہیں (جب) اسلام آیا تو ان دونوں کا سود پر دیا ہوا مال بہت زیادہ مال تھا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتار دی لفظ آیت ” وذروا ما بقی “ یعنی چھوڑدو جو زمانہ جاہلیت کا بچا ہوا ہے لفظ آیت ” من الربوا “ یعنی سود میں سے۔
(2) ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →[ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا : پس اگر تم لوگ نہیں کرتے (اس کو (] [فَاْذَنُوْا : تو تم لوگ سن لو ] [بِحَرْبٍ : ایک جنگ (کی خبر) ] [مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ : اللہ اور اس کے رسول (کی طرف) سے ] [وَاِنْ تُبْتُمْ : اور اگر تم لوگ توبہ کرتے ہو ] [فَـلَـکُمْ : تو ] [تمہارے لیے ہیں ] [رُئُ ‘ وْسُ اَمْوَالِکُمْ : تمہارے مالوں کے سر (یعنی زرِ اصلی) ] [لاَ تَظْلِمُوْنَ : تم لوگ ظلم نہیں کرو گے ] [وَلاَ تُظْلَمُوْنَ : اور نہ تم لوگوں پر ظلم کیا جائے گا ]
ح ر ب
حَرَبَ (ن) حَرْبًا : کسی کی کوئی چیز لوٹ لینا ‘ حاصل کرلینا۔
حَرِبَ (س) حَرَبًا : سخت غضب ناک ہونا۔
حَرْبٌ (اسم فعل) : لڑائی ‘ جنگ (یعنی انتہائی…
Read the full tafseer →سود خوروں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان جنگ
اس آیت کا سبب نزول بیان کرتے ہوئے علماء تفسیر نے نقل کیا ہے کہ قبیلہ بنی ثقیف کے چار آدمی جو آپس میں بھائی بھائی تھے بنی مغیرہ سے سود کا معاملہ کرتے تھے یعنی بنی مغیرہ کو سود پر قرض دیتے تھے۔ جب طائف پر رسول اللہ ﷺ کا غلبہ ہوگیا (اور طائف اسلامی علاقہ میں داخل ہوگیا) تو یہ چاروں بھائی بھی مسلمان ہوگئے، انہوں نے بنی مغیرہ سے اپنا سود طلب کیا تو بنی مغیرہ نے کہا کہ اللہ کی قسم ہم اسلام قبول کرنے کے بعد سود نہیں دیں گے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ختم فرما دیا ہے، یہ قضیہ حضرت عتاب بن اسید ؓ کی خدمت میں پیش ہو جو مکہ معظمہ پر رسول اللہ ﷺ کی طرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 275–281
احکام ربا (سود) ۔
قال تعالی، الذین یاکلون الربو۔۔۔ الی۔۔۔ لایظلمون۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں خیرات اور صدقات کا بیان تھا اب آئندہ آیات میں سود کے احکام ذکر فرماتے ہیں جو کہ صدقات اور خیرات کی ضد اور نقیض ہے اس لیے کہ صدقہ اور خیرات سے اخلاق اور مروت اور خلق اللہ کی نفع رسانی میں ترقی ہوتی ہے اور سود میں سراسر بےمروتی اور ضرر رسانی ہے صدقہ اور خیرات میں صلہ رحمی اور غریبوں کی امداد ہوتی ہے اور سود میں سخت دلی اور غریبوں زیادتی ہوتی ہے اس لیے صدقہ کی فضیلت کے بعد سود کی مذمت اور حرمت کا بیان نہایت مناسب ہوا تاکہ سود کی مذمت اور حرمت سے صدقہ کی فضیلت اور پختہ ہوجائے اور یہ معلوم ہوجائے کہ جس درجہ…
Read the full tafseer →544 سود خوروں کیلئے یہ وعید شدید اور زبردست زجر ہے۔ یعنی اے سود خورو ! اگر تم سود لینے سے باز نہیں آتے تو تمہیں خدا اور خدا کے رسول کی طرف سے اعلان جنت ہے اب ان سے جنگ کیلئے تیار ہوجاؤ۔ چونکہ اسلامی حکومت کا سربراہ اسلام نافذ کرنے میں خدا اور رسول خدا ﷺ کا نائب ہوتا ہے اس لیے سود خوروں سے جنگ کو عملی جامہ پہنانا اس کا فرض ہے اگر سود خور سود کو حلال سمجھتے ہیں تو وہ مرتد ہیں کیونکہ انہوں نے خدا کی حرام کی ہوئی چیز کو حلال سمجھ لیا اس لیے بوجوہ ارتداد ان سے جنگ کی جائے اور اگر انہوں نے سود کو حلال تو نہیں سمجھا لیکن سود لینا ترک نہیں کیا تو وہ اسلامی حکومت کے آئین کے باغی ہیں اس لیے بوجہ بغاوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 278–281
ربط آیات
صدقہ و خیرات کی فضلیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے سود کی حرمت مذمت بیا ن فرمائی۔ گزشتہ درس میں سود خور کی قیامت کے دن دوبارہ اٹھنے کی حالت کا تذکرہ تھا کہ وہ اپنی قبروں سے اس طرح مخبوط الحواس اٹھیں گے جیسے ان کو جن چمٹ گیا ہو ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا میں مال جمع کرنے کی فکر میں اس قدر اندھے ہوگئے کہ ان کے نزدیک تجارت اور سود میں کوئی امتیاز نہ رہا ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ سود کی حرمت کے نفاذ کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے دو طریقے بتائے ہیں ۔ پہلا طریقہ تو گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے۔ فمن جاء ہ موعظۃ من ربہ یعنی وعط و نصیحت کے ذریعے سود خور…
Read the full tafseer →فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ 0 ۚ وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ 0 ۚ لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ 279
مصدر۔ بالشیئ۔ جاننا۔ خبردار ہونا۔ ترجمہ : تو خبردار ہوجاؤ خدا اور اس کے رسول سے جنگ کے لئے فایقنوا۔ یقین کرلو۔
حرب
الحَرْبُ معروف، والحَرَب : السّلب في الحرب ثم قد سمّي كل سلب حربا، قال : والحرب فيه الحرائب، وقال : والحرب مشتقة المعنی من الحرب وقد حُرِبَ فهو حَرِيب، أي : سلیب، والتّحریب : إثارة الحرب، ورجل مِحْرَب، كأنه آلة في الحرب، والحَرْبَة : آلة للحرب معروفة، وأصله الفعلة من الحرب أو من الحراب،
( ح ر ب ) الحرب جنگ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 278–281
ترکیب : ان کنتم مؤمنین شرط جملہ مقدم دال برجزا فان لم تفعلوا شرط فاذنوا الخ جواب ‘ وان شرطیہ کان تامہ ذوعسرۃ اس کا اسم فنظرۃ خبر ہے مبتداء محذوف کی ای فالحکم نظرۃ الخ۔ یہ تمام جملہ جواب شرط واتقوا فعل انتم فاعل یوما مفعول بہ ترجعون الخ جملہ اس کی صفت۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا اور سود سے باز آئو اور جو کچھ ممانعت سے پیشتر لے لوا چکے ہو وہ تمہارا ہے۔ اس پر خیال پیدا ہوتا تھا کہ ممانعت سے پہلے کا جو سود قرضہ دار کے ذمہ پر چڑھا ہوا ہے وہ بھی ہمارا ہے اس کو لینا چاہیے۔ اس خیال کو خدا تعالیٰ نے رد کیا کہ جو کچھ سود قرضداروں کے ذمہ پر باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو اگر سچا ایمان رکھتے ہو اور جو تم باز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 278–279
یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰوٓا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ ج وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَـکُمْ رُئُ وْسُ اَمْوَالِکُمْ ج لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَاتُظْلَمُوْنَ ۔
(اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر واقعی تم ایمان لائے ہو، پس اگر تم نے ایسا نہ کیا تو آگاہ ہوجاؤ کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے۔ اور اگر تم توبہ کرلو تو تمہارے لیے تمہارے اصل مال ہیں۔ نہ تم کسی کا حق مارو ‘ نہ تمہارا حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 278–279
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ سود خوروں کو آخری انتباہ۔
نماز اور زکوٰۃ کا حکم دینے کے بعد ایک دفعہ پھر دلربا اور عزت افزا لقب کے ساتھ مخاطب کیا جارہا ہے۔ اے میرے مومن بندو ! سو دکامعمولی اور عارضی فائدہ حاصل کرنے کی بجائے دائمی سکون، اطمینان اور میرے ہاں اجر پانے کے لیے مجھ سے ڈرو اور جو کچھ سود کے بقایا جات ہیں انہیں ترک کردو اگر تم حقیقتاً میرا حکم ماننے اور مجھ پر ایمان لانے والے ہو۔ حقیقی ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ تم سود سے کنارہ کش ہوجاؤ اگر تم نے اس نعمت کے باوجود سود نہ چھوڑا تو یاد رکھو یہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کھلی جنگ ہوگی۔ ہاں اگر تم تائب ہوجاؤ تو پھر اصل مال لینے کا…
Read the full tafseer →279۔ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان ہے) یعنی تم آگاہ ہوجائو اذنوا یہ اذن بالشیٔ سے لیا گیا۔ جب کہ اس کو جان لے۔
قراءت : حسن (رح) کی قراءت اس معنی کی تائید کرتی ہے انہوں نے فَأَیْقِنُوْا پڑھا ہے۔
حمزہ ٗ ابوبکر رحمہما اللہ نے فَاٰذِنُوْا بروزن آمِنُوْا پڑھا ہے۔
بقیہ قراء نے فَاذَنُوْا پڑھا ہے۔
ایک سوال :
اعتراض : یہاں فاْذنوا بحرب من اللہ ورسولہ فرمایا۔ بحرب اللہ ورسولہ نہیں فرمایا۔
جواب : کیونکہ یہ انداز کلام زیادہ بلیغ ہے اس لئے کہ اس کا معنی پس تم تیار ہوجائو اس قسم کی لڑائی…
Read the full tafseer →(تفسیر)” 279۔:
(آیت)” فان لم تفعلوا “ پھر اگر تم نہ کرو گے یعنی اگر تم سود سے نہیں بچو کے (آیت)” فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ “ تو آگاہ ہوجاؤ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی طرف سے جنگ)
” فاذنوا “ حضرت حمزہ (رح) عاصم نے بروایت ابی بکر (رح) مد کے پڑھا ہے ، ” امنوا “ کی طرح مطلب یہ ہے کہ پس تم جان لو کہ تمہارے لیے جنگ کا اعلان ہے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے ” فاذنوا “ یہ اصل میں اذن سے ہے اور بعض دوسرے قراء نے بغیر مد اور ذال کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے کہ جان لو تم اور یقین کرلو اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ سے جنگ کے اعلان کا سعید بن جبیر ؓ اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا اثر نقل کیا ہے کہ قیامت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 278–280
(278 ۔ 280) ۔ مسند ابو یعلٰی موصلی، ابن مندہ، تفسیر ابن جریج، تفسیر مقاتل اور تفسیر سدی میں کلبی نے ابو صالح کی سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت بیان کی ہے اور مقتدمین مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ سلسلہ روایت کا اچھا ہے قابل اعتراض نہیں ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ بنی عمرو بن عوف ایک قبیلہ تھا اسلام سے پہلے اس قبیلہ اور ایک دوسرے قبیلہ بنی مغیرہ میں سود کا لین دین تھا سود کے حرام ہوجانے کے بعد بنی عمروبن عوف نے اپنی باقی رقم سود کے تقاضا بنی مغیرہ سے کیا انہوں نے کہا اسلام کے بعد ہم سود کی رقم نہیں دیں گے یہ جھگڑا مکہ کے عامل عتاب بن اسید کے رو برو پیش ہوا انہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 275–281
آیت 275-281
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سود خوروں کا انجام بدبیان فرمایا ہے۔ وہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھیں گے : (الا کما یقوم الذی یتخبطہ الشیطن من المس) ” تو ان کی حالت یہ ہوگی گویا انہیں شیطان نے پاگل بنادیا ہے۔ یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو حیران پریشان ہوں گے۔ انہیں سخت سزا ملنے کا یقین ہوگا۔ : (قالوآ انما البیع مثل الربوا) ” انہوں نے کہا تھا : تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے۔ “ یہ بات کوئی ایسا جاہل ہی کہہ سکتا ہے جو جہالت کے انتہائی درجے تک پہنچا ہوا ہو، یا دین کا انتہائی دشمن کہہ سکتا ہے۔ جس طرح ان کی عقلیں اوندھی ہوگئی تھیں تو اس کا بدلہ بھی یہ ملے گا کہ ان کی حالت پاگلوں کے مشابہ ہوگی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 279–280
قول باری ہے (وان کان ذو عسرۃ فنظرۃ الی میسرۃ (a) اور اگر وہ تنگدست ہو تو اسے فراخی تک مہلت ہے) اس آیت کی دو تاویلیں کی گئی ہیں۔ اول یہ کہ اگر کوئی تنگدست تمہارا مقروض ہوجائے تو اسے قرض کی ادائیگی کے لئے اس کی فراخی تک مہلت دے۔
دوسری تاویل کی بنیاد یہ ہے کہ کان (a) کو تامہ مان لیا جائے یعنی فعل ناقص ’ کان ‘ (a) صرف اپنے اسم ” ذوعسرۃ “ (a) پر اکتفا کرے اور اسے خبر کی ضرورت نہ ہو اور اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ ” ان وقع ذو عسرۃ “ (a) یا ” ان وجدنی عسرۃ (a) (اگر کوئی تنگ دست ہوجائے یا اگر کوئی تنگ دست پایا جائے جیسا کہ شاعر کا قول ہے :
فدی لبنی شیبان رحلی و ناقتی اذا کان یوم ذوکواکب اشھب (a)
جب…
Read the full tafseer →799 سود خوروں کیخلاف اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد میں تصریح فرما دی گئی کہ اگر تم لوگوں نے سود چھوڑنے کے اس حکم پر عمل نہ کیا تو تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے۔ کیونکہ یہ اس کے حکم کی صریح خلاف ورزی ہے، جو اس سے بغاوت کے مترادف ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظَیْمِ ۔ اور اس محاربہ اور جنگ کی کامل اور آخری شکل کا ظہور تو قیامت کے روز ہی اس وقت ہوگا جبکہ حقائق سے پردہ اٹھے گا، اور سب کچھ اپنی اصل شکل میں سامنے آجائے گا، جبکہ وہاں پر مرابی (سود خور شخص) کو بطور تذلیل و تحقیر کہا جائیگا کہ اپنے ہتھیار لو، اور اللہ اور اس کے رسول سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 278–279
سود لینا چھوڑ دو
تشریح : یہ آیت فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی تھی۔ اسلامی حکومت کے دائرے میں سود کا لین دین قانوناً بند کردیا گیا تھا اور قبائل کو آنحضرت ﷺ نے پیغام بھجوا دیا کہ اب جو لوگ سود کا لین دین بند نہ کریں گے تو ان سے جنگ کی جائے گی۔ بخرانی عیسائیوں کو بھی سمجھا دیا گیا کہ اگر تم نے سودی کاروباربند نہ کیا تو ہمارا تمہارا معاہدہ ختم کردیا جائیگا اور ہمارے درمیان حالت جنگ پیدا ہوجائے گی اور دوسری بات یہ ہوئی کہ جو بھی دارالاسلام میں سود کھائے اسے توبہ پر مجبور کیا جائے ورنہ اسے قید کیا جائے اور توبہ کرنے پر چھوڑا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 274–281
274 تا 281
اسرارو معارف
الذین ینفقون…………ولاھم یحزنون۔
جو لوگ دن رات ظاہر پوشیدہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں یعنی جیسے ضرورت پیش آئے اسے پورا کرنے کو لپکتے ہیں۔ اعلانیہ دینا پڑے یا چھپا کر ، رات ہو یا دن کا وقت نہ تاخیر کرتے ہیں اور نہ کسی حالت کو آڑے آنے دیتے ہیں جیسے سیدنا صدیق اکبر ؓ ، کہ شاعر مشرق (رح) نے کیا خوب کہا ہے ؎
آں امن الناس بر مولائے ما
آں حکیم وادی سینائے ما
دولت اوکشت ملت راچوں ابر
ثانی اثنین وغار وبدر وقبر
یا دیگر جملہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جن کے صدقات اور مالی جانی قربانیوں سے تاریخ عالم مزین ہے اور چشم فلک حیران۔ ایسی قوم نہ سورج نے ان سے پہلے دیکھی اور نہ ان…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی اس کے خلاف اعلان جنگ ہے اور وہ وعید ہے جو دوسرے کسی جرم کے بارے میں اللہ و رسول کی طرف سے نہیں دی گئی۔ حضرت ابن عباس ؓ ابن سرین حسن بصری اور بعض دیگر ائمہ کے نزدیک سود خوار کو توبہ پر مجبور کیا جائے کا گر پھر بھی روش نہ بدلے گا تو اسے قتل کردیا جائے گا۔ (ابن کثیر)7 اصل زر سے نائد وصول کرو یہ تمارا لوگوں پر ظلم ہوگا اور اگر تمہیں اصل زر بھی نہ ملے تو یہ لوگوں کا تم پر ظلم ہوگا اور یہ دونوں چیزیں ہی انصاف کے خلاف ہیں (ابن کثیر )
Read the full tafseer →(2:279) فان لم تفعلوا جملہ شرطیہ فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ جواب شرط۔ فاذنوا۔جواب شرط کے لئے ہے ائذنوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اذن و اذن (باب سمع) مصدر۔ بالشیئ۔ جاننا۔ خبردار ہونا۔ ترجمہ : تو خبردار ہوجاؤ خدا اور اس کے رسول سے جنگ کے لئے فایقنوا۔ یقین کرلو۔
وان تبتم۔ جملہ شرطیہ۔ اور اگر تم توبہ کر لوگے یعنی قابل اعتراض باتوں سے باز ہو گے ملکم رؤس اموالکم جواب شرط۔ تو اصل زر کے تم حق دار ہو۔ تو تم کو تمہاری اصل زر ہی مل سکتی ہے لا غیر۔ اس سے زیادہ نہیں۔
لا تظلمون ولا تظلمون (اصل سے زیادہ لے کر) تم کسی (قرض دار) پر ظلم کرو گے۔ اور نہ (اصل کی ادائیگی میں کمی کرکے یا ٹال مٹول سے کام لے کر)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 275–279
لغات القرآن : آیت نمبر 275 تا 279
یا کلون (وہ کھاتے ہیں) ۔ الربوا (سود) ۔ لا یقومون (وہ کھڑے نہ ہوں گے ) ۔ یتخبطہ (جس کو خبطی اور دیوانہ بنا دیا ہو) ۔ المس (چھونا) ۔ البیع (تجارت) ۔ مثل الربوا (جیسے سود لینا) ۔ احل (حلال کردیا ) ۔ حرم (حرام کردیا) ۔ موعظۃ (نصیحت) ۔ انتھی (وہ رک گیا) ۔ سلف (جوگذر گیا) ۔ امرہ (اس کا معاملہ، اس کا اختیار) ۔ عاد جو پلٹ گیا) ۔ یمحق (مٹا دے گا) ۔ یربی (پالے گا، پروان چڑھائے گا) ۔ کفار (ناشکرا) ۔ اثیم (گناہ گار ) ۔ ذروا (تم چھوڑ دو ) ۔ مابقی (جو باقی رہ گیا ہے) ۔ فاذنوا (پھر تیار ہوجاؤ، پھر خبردار ہوجاؤ) ۔ حرب (جنگ) ۔ تبتم (تم نے توبہ کرلی) ۔ رؤس اموال (اصل مال،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 279–281
معتبی سند سے نسائی ، تفسیر ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ سب سے آخر قرآن شریف کی یہی آیت نازل ہوئی ہے جس میں یہ اشارہ ہے کہ اس آیت کے بعد خوف آخرت ہی ایک چیز ہے جو اللہ سے ڈرنے کا ایک ذریعہ دنیا میں قیامت تک چھوڑا جاتا ہے۔ رسول وقت کی صحبت۔ قرآن شریف کا ہر نصیحت کے موقع پر نازل ہونا آئندہ بند ہے۔ چناچہ اس آیت کے نزول سے نو راتوں کے بعد آنحضرت ﷺ نے وفات پائی۔ انا للہ وانا الیہ رٰجعون۔ جو آخری ذریعہ عقبیٰ کے پاک کرنے کا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے دنیا میں رکھا ہے وہی خوف عقبیٰ ہے۔ ہادی مطلق مسلمانوں کو ہدایت دے کہ کوئی مسلمان اس ذریعہ سے ٖغافل نہ رہے۔…
Read the full tafseer →[189] یعنی تم پر باغیوں اور مرتدوں کی طرح جہاد کیا جائے گا۔ اس آیت کے نزول کے بعد اسلامی حکومت کی حدود میں سودی کاروبار ایک فوجداری جرم بن گیا۔
[190] یعنی اگر تم نے اصل مال سے زیادہ وصول کیا تو ظلم کیا اور اگر تمہیں اصل مال سے زائد دینا پڑا تو تم پر ظلم ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 277–279
سود خوار سے اعلان جنگ :
(ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ مسلمان تحریم سے پیشتر کے سودی معاہدات توڑ دیں اور اصل مال لے لینے پر اکتفا کریں ، ورنہ خدا سے اعلان جنگ ہے ، سود خوار قومیں صحیح مذہبی روح سے قطعا خالی ہوتی ہیں ، یہودیوں کی ساری تاریخ سامنے ہے کیا کبھی انہوں نے ایثار وقربانی سے کام لیا ہے ؟ یہ حقیقت ہے کہ سرمایہ کی محبت اور خدا کی محبت ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتی ۔
Read the full tafseer →ف 4۔ پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا یعنی پچھلے چڑھے ہوئے سودکا مطلبہ ترک نہ کیا تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جانب سے ایک سخت جنگ کا یقین کرو اور اللہ و رسول کی جانب سے جنگ کا اعلان سن لو اور ہوشیار و خبردار ہو جائو یعنی دنیا میں تمہارے خلاف جہاد ہوگا اور آخرت میں تم کو آ گ کا عذاب دیا جائے گا اور اگر تم توبہ کرلو تو تم کو تمہارے اصل مال پہنچتے ہیں اور تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے نہ تم سود کا مطالبہ کر کے کسی پر ظلم کرو اور نہ تم پر زیادتی اور ظلم کیا جائے کہ تمہاری اصل رقم واپس نہ کی جائے یا اس رقم میں سے دیا ہوا سود وضع کرلیا جائے ۔ ( تیسیر)
فاذنوا ۔ ذال کے زیر اور زبر دونوں کے ساتھ پڑھا…
Read the full tafseer →ف 1۔ اس آیت میں جو یہ فرمایا ہے کہ اگر تم توبہ کرو تو تمہارا راس المال تمہیں ملے گا اس سے مفہوم ہوتا ہے کہ توبہ نہ کرنے کی صورت میں راس المال بھی نہ ملے گا۔
Read the full tafseer →اگر ” الربوا “ کی رقم کو چھوڑنا مشکل ہے تو اللہ اور رسول سے جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ :
489: غور کرو قرآن کریم نے انسانی معاصی و جرائم کے متعلق طرح طرح کی وعیدیں فرمائی ہیں لیکن ” الربوا “ کے متعلق جو سخت وعید سنائی ہے وہ آپ نے سن لی اور اس سے سخت تر وعید اور کسی سخت سے سخت جرم و معصیت کی بھی نسبت نہیں آئی۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان کا کوئی فعل طلب نفع اور غرض خویش سے خالی نہیں ہوتا یا کم ہی ہوتا ہے اور اس خود غرضی کا ایک بدترین ظہور جمع و حصول مال کی بھوک ہے۔ اگر غور سے دیکھیے تو عالم انسانیت میں اس مرض کا کوئی ظہور اس درجہ انسان کے ملکوتی فضائل کے لیے مہلک اور اس کی قوت بہیمی کے لیے اس سے زیادہ…
Read the full tafseer →After that, in the fifth verse (279), severe warning has been given to those who act contrary to this injunction. They are told if they do not abandon ربا riba, they must face a declaration of war from Allah Almighty and His Messenger. So severe is this warning that any other warning of such severity does not appear anywhere in the Qur'an in relation to any other sin, no matter how great, except kufr (disbelief), of course. The verse then closes with the words: وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُؤسُ أَمْوَالِكُمْ that is, 'if you repent and resolve to leave off the remaining amount of ربا riba in…
Read the full tafseer →323. This verse was revealed after the conquest of Makka and has been placed here because of its contextual relevance. Although interest was considered objectionable earlier, it had not been legally prohibited. After the revelation of this verse interest-bearing transactions became a punishable offence within the realm of Islam. The Prophet (peace he on him) warned the Arab tribes through his officials that war would be declared against them if they did not give up interest-bearing transactions. It was specified, for instance, in the agreement under which the Christians of Najran were granted…
Read the full tafseer →