Al-Baqara 2:278

Al-Baqara · from ayah 278

2:278

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۟يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوۡا مَا بَقِىَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ

مومنو! خدا سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو

— Fateh Muhammad Jalandhari

O you who have believed, fear Allah and give up what remains [due to you] of interest, if you should be believers.

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 38 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:278

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، خدا سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے، اسے چھوڑ دو، اگر واقعی تم ایمان لائے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مومنو! خدا سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑ دو، اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اگر تم واقعی مومن ہو تو سود کا جو حصہ بھی (کسی کے ذمے) باقی رہ گیا ہو اسے چھوڑ دو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو اور جو کچھ بھی سود میں سے باقی رہ گیا ہے چھوڑ دو اگر تم (صدقِ دل سے) ایمان رکھتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ سے ڈرو اور سود میں سے جو باقی ہے چھوڑ دو ، اگر تم مومن ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور اگر واقعی تم مومن ہو تو جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ایمان والو، اگر تم سچے مومن ہو تو اللہ سے ڈرو اور جو سود تمہارا باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے وہ لوگو، جو ایمان لائے ہو، ڈرو تم اللہ سے، اور چھوڑ دو تم لوگ اس کو جو کچھ کہ باقی رہ گیا ہے سود میں سے، اگر (واقعی) تم لوگ ایماندار ہو،

— مولانا اسحاق مدنی

اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے اے چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے ایمان والو ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سود میں سے جو باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم واقعی مؤمن ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود (لوگوں پر) باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر واقعی تم ایمان لانے والے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

O Believers, fear Allah and give up that interest which is still due to you, if you are true Believers;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O you who believe, fear Allah and give up what still remains of riba, if you are believers.

— Muhammad Taqi Usmani

O you who believe, fear Allah and give up what still remains of riba, if you are believers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O you who believe! Have Taqwa of Allah and give up what remains from Riba, if you are (really) believers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O ye who believe! Observe your duty to Allah, and give up what remaineth (due to you) from usury, if ye are (in truth) believers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O you who have believed, fear Allah and give up what remains [due to you] of interest, if you should be believers.

— Saheeh International

Believers, have fear of God and give up whatever unlawful interest you still demand from others, if you are indeed true believers.

— Muhammad Sarwar

O you who believe! Be careful of (your duty to) Allah and relinquish what remains (due) from usury, if you are believers.

— Muhammad Habib Shakir

O O Ye who believe: fear Allah and leave that which remainoth of usury if ye are believers.

— Abdul Majid Daryabadi

O ye who believe! Fear Allah, and give up what remains of your demand for usury, if ye are indeed believers.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:278

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 278–281

سود خور قابل گردن زنی ہیں اور قرض کے مسائل ان آیات میں اللہ تعالیٰ ایماندار بندوں کو تقوے کا حکم دے رہا ہے اور ایسے کاموں سے روک رہا ہے جن سے وہ ناراض ہو اور لوگ اس کی قربت سے محروم ہوجائیں تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا لحاظ کرو اور اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور تمہارا سود جن مسلمانوں پر باقی ہے خبردار اس سے اب نہ لو جبکہ وہ حرام ہوگیا، یہ آیت قبیلہ ثقیف بن عمرو بن عمیر اور بنو مخزوم کے قبیلے بنو مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جاہلیت کے زمانہ میں ان کا سودی کاروبار تھا، اسلام کے بعد بنو عمرہ نے بنو مغیرہ سے اپنا سود طلب کیا اور انہوں نے کہا کہ اب ہم اسے اسلام لانے کے بعد…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 277–278

سورة الْبَقَرَة 322 اس رکوع میں اللہ تعالیٰ بار بار دو قسم کے کرداروں کو بالمقابل پیش کر رہا ہے۔ ایک کردار خود غرض، زر پرست، شائیلاک قسم کے انسان کا ہے، جو خدا اور خلق دونوں کے حقوق سے بےپروا ہو کر روپیہ گننے اور گن گن کر سنبھالنے اور ہفتوں اور مہینوں کے حساب سے اس کو بڑھانے اور اس کی بڑھوتری کا حساب لگانے میں منہمک ہو۔ دوسرا کردار ایک خدا پرست، فیاض اور ہمدرد انسان کا کردار ہے، جو خدا اور خلق خدا دونوں کے حقوق کا خیال رکھتا ہو، اپنی قوت بازو سے کما کر خود کھائے اور دوسرے بندگان خدا کو کھلائے اور دل کھول کر نیک کاموں میں خرچ کرے۔ پہلی قسم کا کردار خدا کو سخت ناپسند ہے۔ دنیا میں اس کردار پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

چوتھی آیت يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤ ْمِنِيْنَ کا خلاصہ یہ ہے کہ سود و ربوٰ کی حرمت نازل ہونے کے بعد جو سود کی بقایا رقمیں کسی کے ذمہ باقی تھیں ان کا لینا دینا بھی حرام کردیا گیا۔ تشریح اس کی یہ ہے کہ سود کی حرمت نازل ہونے سے پہلے عام عرب میں سود کا رواج پھیلا ہوا تھا، آیات متذکرہ سے پہلی آیتوں میں اس کی ممانعت آئی تو حسب عادت تمام مسلمانوں نے سود کے معاملات ترک کردیئے لیکن کچھ لوگوں کے مطالبات سود کی بقایا رقموں کے دوسرے لوگوں پر تھے اسی میں یہ واقعہ پیش آیا کہ بنی ثقیف اور بنی مخزوم کے آپس میں سودی معاملات کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

سودی کاروبار پر آخری ضرب : اس آیت میں اہل ایمان کو براہ راست خطاب کر کے اللہ سے ڈرتے رہنے اور سود کا جو حصہ قرضداروں کے ذمہ ابھی باقی تھا اس سے بالکل دستبردار ہوجانے کی ہدایت فرمائی اور اس کو ایمان کا لازمی تقاضا ٹھہرایا۔ اس سے پہلے سود سے متعلق جو آیات نازل ہوئی تھیں ان کی نوعیت نصیحت و موعظت کی تھی اور ان کی بنیاد اس امر پر تھی کہ آسمانی مذاہب اور دنیا کے معروف میں اس کی حیثیت ہمیشہ سے ایک حرام یا کم از کم ایک مکروہ شے کی رہی ہے۔ اہل عرب اس حقیقت سے ناواقف نہیں تھے۔ اس وجہ سے قرآن نے مکی دور ہی سے اس کا ظلم ہونا واضح کرنا شروع کردیا تھا چناچہ اسی پہلو سے اس کا ذکر سورة روم میں بھی ہوا ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 276–278

276۔ 1 یہ سود کے معنوی اور روحانی نقصان اور صدقے کی برکتوں کا بیان ہے۔ سود میں بظاہر بڑھوتری نظر آتی ہے لیکن معنوی حساب سے یا مال (انجام) کے اعتبار سے سودی رقم ہلاکت و بربادی ہی کا باعث بنتی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 275–281

184:" سود " یا " رباء " ہر اس زیادہ رقم کو کہا جاتا ہے جو کسی قرض پر طے کرکے وصول کی جائے، مشرکین کا کہنا تھا کہ جس طرح ہم کوئی سامان فروخت کرکے نفع کماتے ہیں اور اس کو شریعت نے حلال قرار دیا ہے، اسی طرح اگر قرض دے کر کوئی نفع کمائیں تو کیا حرج ہے ؟ ان کے اس اعتراض کا جواب تو یہ تھا کہ سامان تجارت کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ اسے بیچ کر نفع کمایا جائے، لیکن نقدی اس کام کے لئے نہیں بنائی گئی کہ اسے سامان تجارت بناکر اس سے نفع کمایا جائے، وہ تو ایک تبادلے کا ذریعہ ہے ؛ تاکہ اس کے ذریعہ اشیائے ضرورت خریدی اور بیچی جاسکیں، نقدی کا نقدی سے تبادلہ کرکے اسے بذات خود نفع کمانے کا ذریعہ بنالیا جائے تو اس سے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس آیت میں ان لوگوں کو جو ایمان لاچکے ہیں ۔ اس بات سے متعلق کردیا گیا ہے کہ وہ اس سود کو چھوڑدیں جو باقی رہ گیا ہے ۔ وہ اس وقت تک صحیح مومن نہیں ہوسکتے جب تک وہ اللہ سے ڈریں گے نہیں اور باقی ماندہ سودی رقم کو ترک نہ کردیں گے وہ صحیح مومن نہیں ہیں اگرچہ وہ اپنے ایمان کا اعلان کرتے پھریں ۔ اس لئے کہ اللہ کے احکام و فرامین کی اطاعت وانقیاد کے بغیر ایمان کے کیا معنی ہیں ۔ آیت انہیں کسی دھوکے میں نہیں رکھتی نہ وہ کسی بھی شخص کو اس شب ہے میں چھوڑتی ہے ، جو ایمان کے اعلان کے پردے میں چھپ کر اپنی حقیقت پر پردہ ڈالتا ہے ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ نہ تو وہ مطیع فرمان ہوتا ہے اور نہ راضی برضائے شریعت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی ممانعت سے پہلے جو سود لے چکے سو لے چکے لیکن ممانعت کے بعد جو چڑھا اس کو ہرگز نہ مانگو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 278 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبآوا آج فیصلہ کرلو کہ جو کچھ بھی تم نے کسی کو قرض دیا تھا اب اس کا سود چھوڑ دینا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 277–278

397 یہ آیت درمیان میں اس لئے آئی ہے کہ سود خور کے مقابلہ میں متقی لوگوں کا حال بیان کردیا جائے جیسا کہ قرآن کریم میں جابجا یہی دستور آپ ملاحظہ فرمائیں گے کہ جہاں اہل دوزخ کا ذکر آیا تو ساتھ اہل جنت کا بھی ذکر کردیا جاتا ہے اور اس کے برعکس بھی۔ اس کے بعد سود کے مضمون کا تسلسل جاری رکھا گیا ہے۔ اس مقام پر بھی مومنوں کی دو انتہائی اہم صفات کا ذکر فرمایا۔ ایک اقامت صلٰوۃ کا جو بدنی عبادات میں سے سب سے اہم ہے۔ دوسرے ایتائے زکوٰۃ کا جو مالی عبادات میں سے سب سے اہم بھی ہے اور سود کی عین ضد بھی۔ اسلام کے معاشی نظام کو اگر انتہائی مختصر الفاظ میں بیان کیا جائے تو اس کے دو ہی اجزاء ہیں۔ ایک سلبی دوسرا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1077 ۔ (کہ ایمان کا متقضی سارے ہی احکام قرآن پر عمل کرنا ہے) محققین نے اس سے استدلال کیا ہے کہ شریعت کے کسی ایک جزء سے بھی انکار کرنا ساری شریعت سے انکار کرنا، فیہ دلیل علی ان من کفر بشریعۃ واحدۃ من شرائع الاسلام کان کافرا کما لو کفر بجمیع شرائعہ (کبیر) اتقوا اللہ۔ خوف خدا ہی اصل ہے تمام نیکیوں کی اور اجتناب معاصی کی۔ (آیت) ’ وذرو امابقی “ یعنی حرمت سود کے نزول حکم سے قبل جو رقم سود کی تم ٹھہرا چکے ہو اس کا وصول کرلینا اب جائز نہیں اسے چھوڑ دو ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 278–280

یٰآیُّھَا الَّذیْنَ آمَنُوْا اتَّقُوْا اللہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰوآ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ، زمانہ جاہلیت میں قرض کی ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں سود در سود کی وجہ سے اصل رقم میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا تھا جس سے وہ تھوڑی سی رقم ایک پہاڑ بن جاتی اور اس کی ادائیگی ناممکن ہوجاتی، اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ کوئی تنگ دست ہو تو (سود لینا تو درکنار اصل مال لینے میں بھی) آسانی تک مہلت دو ، اور اگر قرض بالکل ہی معاف کرو تو زیادہ بہتر ہے احادیث میں بھی اس کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے، کتنا فرق ہے ان دونوں نظاموں میں ؟ ایک سراسر ظلم، تنگدلی اور خود غرضی پر مبنی نظام اور دوسرا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبٰٓوا : (اے مسلمانو ! اللہ سے ڈرو اور بقیہ سود چھوڑ دو ۔ یعنی شرط کے مطابق تمہارا جو سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہو وہ وصول نہ کرو چھوڑ دو ۔ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : اگر تم دل سے ایمان لائے ہو تو اللہ کے حکم کی تعمیل کرو اللہ کے احکام کی پابندی صدق ایمان کی دلیل ہے۔ ابن جریر ؓ نے عکرمہ کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول قبیلۂ ثقیف کے چار بھائیوں کے متعلق ہوا مسعود، عبد یا لیل، حبیب، ربیعہ۔ یہ چاروں عمرو بن عمیر کے بیٹے تھے۔ مقاتل نے بھی یہی بیان کیا لیکن بغوی نے سدی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ آیت مذکورہ کا نزول…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(278) ثقیف اور مسعود، حبیب عبد یا لیل اور ربیعہ سود کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور بنی مخزوم پر تمہارے سودی کاروبار میں سے جو کچھ حصہ باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو ، اگر تم سود کی حرمت پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اس سود کو نہیں چھوڑتے تو آخرت میں اللہ کی جانب دوزخ کے عذاب کے لیے اور دنیا میں رسول اکرم ﷺ سے تلوار کے ساتھ لڑائی کے لیے تیار ہوجاؤ۔ شان نزول : (آیت) ”یا ایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وذروا“ (الخ) ابو یعلی ؒ نے اپنی مسند میں اور ابن مندہ ؒ نے کلبی کے طریق سے بواسطہ ابوصالح حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے، فرماتے ہیں ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ یہ آیت قبیلہ ثقیف میں سے بنی عمر و بن عوف…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ۔۔ : اس آیت میں واضح حکم دیا گیا کہ اگر تم مومن ہو تو تمہارا جو سود لوگوں کے ذمے ہے چھوڑ دو۔ معلوم ہوا کہ سود اور ایمان دونوں جمع نہیں ہوسکتے۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے وہ تمام سود باطل قرار دے دیے جو قریش، ثقیف اور دوسرے عرب قبائل میں سے بعض تاجروں کے اپنے قرض داروں کے ذمے باقی تھے، حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے اعلان فرمایا : ”جاہلیت کے زمانے کے تمام سود میرے قدموں کے نیچے پامال کردیے گئے ہیں اور سب سے پہلا سود جو میں باطل قرار دیتا ہوں وہ ہمارے سودوں میں سے عباس بن عبد المطلب کا سود ہے، وہ پورے کا پورا چھوڑ دیا گیا ہے۔“ […

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

مسئلہ نمبر : (29) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وذروا مابقی من الربوا ان کنتم مؤمنین “۔ ظاہر یہ ہے کہ وہ اس سود کو باطل کر دے جس پر قبضہ نہیں ہوا ہے، اگرچہ آیت تحریم کے نازل ہونے سے پہلے اس کا عقد ہوچکا ہو، اور جب اس پر قبضہ ہوچکا ہو تو پھر اس کے فسخ کے پیچھے نہ پڑے۔ تحقیق کہا گیا ہے کہ یہ آیت بنی ثقیف کے سبب نازل ہوئی، انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ کے ساتھ اس پر معاہدہ کیا تھا کہ انکے سود کا مال جو لوگوں پر ہے تو وہ انہیں کے لئے ہے اور جو لوگوں کا ان پر ہے تو وہ ان سے ختم کردیا گیا ہے، پھر جب ان کے سود کی مقررہ مدتیں آپہنچیں تو انہوں نے اہل مکہ کی طرف تقاضا کے لئے (پیغام)…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 278–279

(1) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وذروا ما بقی من الربوا “ عباس بن عبد المطلب اور بنو صغیر کے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی زمانہ جاہلیت میں دونوں سود (کے کاروبار) میں شریک تھے یہ دونوں قبیلہ ثقیف کے لوگوں کو سود پر ادھار دیتے تھے ثقیف سے مراد بنو عمر وبن عمیر ہیں (جب) اسلام آیا تو ان دونوں کا سود پر دیا ہوا مال بہت زیادہ مال تھا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتار دی لفظ آیت ” وذروا ما بقی “ یعنی چھوڑدو جو زمانہ جاہلیت کا بچا ہوا ہے لفظ آیت ” من الربوا “ یعنی سود میں سے۔ (2) ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[یٰٓـــاَیُّہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو ! جو ] [اٰمَنُوا : ایمان لائے ] [اتَّقُوا : تم لوگ تقویٰ اختیار کرو ] [اللّٰہَ : اللہ کا ] [وَ : اور ] [ذَرُوْا : تم لوگ چھوڑو ] [مَا : اس کو جو ] [بَـقِیَ : باقی بچا ] [مِنَ الرِّبٰٓوا : سود میں سے ] [اِنْ کُنْتُمْ : اگر تم لوگ ] [مُّؤْمِنِیْنَ : مومن ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 277–278

مومنوں، نمازیوں اور زکوٰۃ دینے والوں کا اجر وثواب ابھی سود کے بارے میں بعض احکام کا بیان باقی ہے۔ درمیان میں اہل ایمان کی فضیلت اور ان کا اجر وثواب بیان فرما دیا، اور ان کے بعض اعمال خاصہ کا تذکرہ فرمایا یعنی نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور فرمایا کہ بروز قیامت ان لوگوں پر کوئی خوف نہ ہوگا اور رنجیدہ نہ ہوں گے بر خلاف سود لینے والوں کے کہ وہ وہاں دیوانوں کی طرح کھڑے ہوں گے مخبوط الحواس ہوں گے۔ اموال دنیا میں چھوڑ چکے ہوں گے اور وہاں ان اموال کے حاصل کرنے اور خرچ کرنے کی وجہ سے عذاب میں ڈالے جائیں گے۔ اول تو مال حرام والے نیک کاموں میں پیسے خرچ کرتے ہی نہیں اور اگر خرچ کر بھی دیں تو آخرت میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 275–281

احکام ربا (سود) ۔ قال تعالی، الذین یاکلون الربو۔۔۔ الی۔۔۔ لایظلمون۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں خیرات اور صدقات کا بیان تھا اب آئندہ آیات میں سود کے احکام ذکر فرماتے ہیں جو کہ صدقات اور خیرات کی ضد اور نقیض ہے اس لیے کہ صدقہ اور خیرات سے اخلاق اور مروت اور خلق اللہ کی نفع رسانی میں ترقی ہوتی ہے اور سود میں سراسر بےمروتی اور ضرر رسانی ہے صدقہ اور خیرات میں صلہ رحمی اور غریبوں کی امداد ہوتی ہے اور سود میں سخت دلی اور غریبوں زیادتی ہوتی ہے اس لیے صدقہ کی فضیلت کے بعد سود کی مذمت اور حرمت کا بیان نہایت مناسب ہوا تاکہ سود کی مذمت اور حرمت سے صدقہ کی فضیلت اور پختہ ہوجائے اور یہ معلوم ہوجائے کہ جس درجہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

543 قبیلہ ثقیف کے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے بنو مغیرہ کو سود پر قرض دیا ہوا تھا۔ سود کی حرمت نازل ہونے کے بعد ثقیف کے لوگوں نے یہ سمجھا کہ نزول حرمت سے پہلے جو سودی معاہدے ہوچکے ہیں ان پر اس حرمت کا اطلاق نہیں ہے آیت کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ کوئی سودی کاروبار کا معاہدہ نہ کیا جائے۔ اسی غلط فہمی کی بنا پر انہوں نے بنو مغیرہ سے سود کی رقموں کا مطالبہ کیا لیکن بنو مغیرہ نے یہ کہہ کر سود دینے سے انکار کردیا کہ اسلام میں سود حرام ہوچکا ہے اور اس کی ادائیگی ساقط ہوچکی ہے۔ جب یہ معاملہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی جب قبیلہ ثقیف کے لوگوں نے یہ آیت سنی تو وہ فوراً اس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 278–281

ربط آیات صدقہ و خیرات کی فضلیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے سود کی حرمت مذمت بیا ن فرمائی۔ گزشتہ درس میں سود خور کی قیامت کے دن دوبارہ اٹھنے کی حالت کا تذکرہ تھا کہ وہ اپنی قبروں سے اس طرح مخبوط الحواس اٹھیں گے جیسے ان کو جن چمٹ گیا ہو ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا میں مال جمع کرنے کی فکر میں اس قدر اندھے ہوگئے کہ ان کے نزدیک تجارت اور سود میں کوئی امتیاز نہ رہا ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ سود کی حرمت کے نفاذ کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے دو طریقے بتائے ہیں ۔ پہلا طریقہ تو گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے۔ فمن جاء ہ موعظۃ من ربہ یعنی وعط و نصیحت کے ذریعے سود خور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۝ 278 تقوي والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 278–281

ترکیب : ان کنتم مؤمنین شرط جملہ مقدم دال برجزا فان لم تفعلوا شرط فاذنوا الخ جواب ‘ وان شرطیہ کان تامہ ذوعسرۃ اس کا اسم فنظرۃ خبر ہے مبتداء محذوف کی ای فالحکم نظرۃ الخ۔ یہ تمام جملہ جواب شرط واتقوا فعل انتم فاعل یوما مفعول بہ ترجعون الخ جملہ اس کی صفت۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا اور سود سے باز آئو اور جو کچھ ممانعت سے پیشتر لے لوا چکے ہو وہ تمہارا ہے۔ اس پر خیال پیدا ہوتا تھا کہ ممانعت سے پہلے کا جو سود قرضہ دار کے ذمہ پر چڑھا ہوا ہے وہ بھی ہمارا ہے اس کو لینا چاہیے۔ اس خیال کو خدا تعالیٰ نے رد کیا کہ جو کچھ سود قرضداروں کے ذمہ پر باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو اگر سچا ایمان رکھتے ہو اور جو تم باز…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 278–279

یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰوٓا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ ج وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَـکُمْ رُئُ وْسُ اَمْوَالِکُمْ ج لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَاتُظْلَمُوْنَ ۔ (اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر واقعی تم ایمان لائے ہو، پس اگر تم نے ایسا نہ کیا تو آگاہ ہوجاؤ کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے۔ اور اگر تم توبہ کرلو تو تمہارے لیے تمہارے اصل مال ہیں۔ نہ تم کسی کا حق مارو ‘ نہ تمہارا حق…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 278–279

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ سود خوروں کو آخری انتباہ۔ نماز اور زکوٰۃ کا حکم دینے کے بعد ایک دفعہ پھر دلربا اور عزت افزا لقب کے ساتھ مخاطب کیا جارہا ہے۔ اے میرے مومن بندو ! سو دکامعمولی اور عارضی فائدہ حاصل کرنے کی بجائے دائمی سکون، اطمینان اور میرے ہاں اجر پانے کے لیے مجھ سے ڈرو اور جو کچھ سود کے بقایا جات ہیں انہیں ترک کردو اگر تم حقیقتاً میرا حکم ماننے اور مجھ پر ایمان لانے والے ہو۔ حقیقی ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ تم سود سے کنارہ کش ہوجاؤ اگر تم نے اس نعمت کے باوجود سود نہ چھوڑا تو یاد رکھو یہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کھلی جنگ ہوگی۔ ہاں اگر تم تائب ہوجاؤ تو پھر اصل مال لینے کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

278 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰٓوا۔ (اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ربٰوا میں سے جو باقی ہے اس کو چھوڑ دو ) ۔ انہوں نے لوگوں پر جو ربا کی شرط لگائی تھی وہ لے لیا۔ اور ابھی ان کے بقایا جات لوگوں کے ذمہ باقی تھے۔ پس ان کو حکم دیا گیا۔ کہ وہ اس کو چھوڑ دیں اور اس کا مطالبہ نہ کریں۔ روایت میں ہے کہ یہ بنو ثقیف کے متعلق اتری۔ ان کے بعض قبائل کا قریش کے ذمہ سود تھا۔ انہوں نے وقت آنے پر مال کے ساتھ سود کا مطالبہ کیا۔ (تو ان کو حکم دیا گیا کہ سود کو چھوڑ دیا جائے) اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (اگر تم کامل الایمان ہو) ایمان کے کمال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 278۔: (یایھا ۔۔۔۔۔۔۔ من الربوا اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور بقیہ چھوڑ دو ) عطاء (رح) ، و عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت عباس بن عبدالمطلب اور عثمان بن عفان ؓ کے بارے میں نازل ہوئی کہ انہوں نے کچھ خشک کھجوریں بیع سلم کے طور پر خریدی تھیں جب فصل ٹوٹنے کا وقت آیا تو خشک کھجوروں والے نے کہا کہ اگر آپ لوگ اپنا پورا حق لے لیں گے تو میرے بچوں کی ضرورت کے لیے کچھ نہیں بچے گا اس لیے مناسب ہے کہ آپ آدھا واجب الادا حق اس وقت لے لیجئے اور باقی کے لیے مدت مقرر کیجئے ، میں آپ کو دوگنا کرکے دیدوں گا ، دونوں حضرات اس تجویز رضا مند ہوگئے جب مدت مقروہ پوری ہوگئی اور وقت مقررہ آگیا تو زیادتی کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 278–280

(278 ۔ 280) ۔ مسند ابو یعلٰی موصلی، ابن مندہ، تفسیر ابن جریج، تفسیر مقاتل اور تفسیر سدی میں کلبی نے ابو صالح کی سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت بیان کی ہے اور مقتدمین مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ سلسلہ روایت کا اچھا ہے قابل اعتراض نہیں ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ بنی عمرو بن عوف ایک قبیلہ تھا اسلام سے پہلے اس قبیلہ اور ایک دوسرے قبیلہ بنی مغیرہ میں سود کا لین دین تھا سود کے حرام ہوجانے کے بعد بنی عمروبن عوف نے اپنی باقی رقم سود کے تقاضا بنی مغیرہ سے کیا انہوں نے کہا اسلام کے بعد ہم سود کی رقم نہیں دیں گے یہ جھگڑا مکہ کے عامل عتاب بن اسید کے رو برو پیش ہوا انہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 275–281

آیت 275-281 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سود خوروں کا انجام بدبیان فرمایا ہے۔ وہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھیں گے : (الا کما یقوم الذی یتخبطہ الشیطن من المس) ” تو ان کی حالت یہ ہوگی گویا انہیں شیطان نے پاگل بنادیا ہے۔ یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو حیران پریشان ہوں گے۔ انہیں سخت سزا ملنے کا یقین ہوگا۔ : (قالوآ انما البیع مثل الربوا) ” انہوں نے کہا تھا : تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے۔ “ یہ بات کوئی ایسا جاہل ہی کہہ سکتا ہے جو جہالت کے انتہائی درجے تک پہنچا ہوا ہو، یا دین کا انتہائی دشمن کہہ سکتا ہے۔ جس طرح ان کی عقلیں اوندھی ہوگئی تھیں تو اس کا بدلہ بھی یہ ملے گا کہ ان کی حالت پاگلوں کے مشابہ ہوگی۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 276–278

قول باری ہے (یآیھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ وذروا مابقی من الربوٰ ان کنتم مؤمنین ۔ فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ۔ (a) اے ایمان والو ! خدا سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو ۔ اگر واقعی تم ایمان لائے ہو لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا تو آگاہ ہوجائو کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے) ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ آیت میں دو معنوں کا احتمال ہے۔ ایک معنی یہ ہے کہ ” اگر تم اللہ کے حکم کو قبول نہ کرو اور اس کے آگے جھک نہ جائو۔ “ اور دوسرا معنی یہ ہے کہ سود ترک کردینے کے حکم کے نزول کے بعد بھی لوگوں کے ذمہ اپنا باقی رہ جانے والا سود نہ چھوڑو تو سود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

798 سود کو ترک کرنا ایمانداری کا تقاضا : سو اس ارشاد میں تصریح فرما دی گئی کہ ایمانداری کا تقاضا ہے کہ تم لوگ باقی ماندہ سود کو چھوڑ دو کہ سچے ایمان و یقین کا تقاضا یہی ہے کہ انسان صدق دل سے اپنے خالق ومالک کے حکم کے آگے جھک جائے، تو پھر سودخوری جیسے سنگین اور ہولناک جرم کا ارتکاب اس سے کس طرح متصور ہوسکتا ہے۔ سو اس کے باوجود جو لوگ سودخوری سے باز نہیں آتے وہ درحقیقت مومن و صادق نہیں، اگرچہ وہ زبانی کلامی طور پر ایمان کے بلند بانگ دعوے بھی کرتے ہوں۔ کیونکہ دین کے کچھ حصوں کو ماننا اور کچھ کو نہ ماننا ایمان نہیں کفر ہے، جس کی سزا " خلود فی النار " ہے، (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 278–279

سود لینا چھوڑ دو تشریح : یہ آیت فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی تھی۔ اسلامی حکومت کے دائرے میں سود کا لین دین قانوناً بند کردیا گیا تھا اور قبائل کو آنحضرت ﷺ نے پیغام بھجوا دیا کہ اب جو لوگ سود کا لین دین بند نہ کریں گے تو ان سے جنگ کی جائے گی۔ بخرانی عیسائیوں کو بھی سمجھا دیا گیا کہ اگر تم نے سودی کاروباربند نہ کیا تو ہمارا تمہارا معاہدہ ختم کردیا جائیگا اور ہمارے درمیان حالت جنگ پیدا ہوجائے گی اور دوسری بات یہ ہوئی کہ جو بھی دارالاسلام میں سود کھائے اسے توبہ پر مجبور کیا جائے ورنہ اسے قید کیا جائے اور توبہ کرنے پر چھوڑا جائے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 274–281

274 تا 281 اسرارو معارف الذین ینفقون…………ولاھم یحزنون۔ جو لوگ دن رات ظاہر پوشیدہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں یعنی جیسے ضرورت پیش آئے اسے پورا کرنے کو لپکتے ہیں۔ اعلانیہ دینا پڑے یا چھپا کر ، رات ہو یا دن کا وقت نہ تاخیر کرتے ہیں اور نہ کسی حالت کو آڑے آنے دیتے ہیں جیسے سیدنا صدیق اکبر ؓ ، کہ شاعر مشرق (رح) نے کیا خوب کہا ہے ؎ آں امن الناس بر مولائے ما آں حکیم وادی سینائے ما دولت اوکشت ملت راچوں ابر ثانی اثنین وغار وبدر وقبر یا دیگر جملہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جن کے صدقات اور مالی جانی قربانیوں سے تاریخ عالم مزین ہے اور چشم فلک حیران۔ ایسی قوم نہ سورج نے ان سے پہلے دیکھی اور نہ ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 277–278

ف 4 یعنی مالدار ہو کر اپنے بھائی کو بلا سود قرض نہ دے یہ نعمت الہی کی ناشکری ہے۔ (موضح بتصرف ) 5 یعنی حرمت ؟ آنے سے قبل جو کچھ وصول کرچکے سو کرچکے اب اس حرت کے بعد لوگوں کے ذمہ جو بھی سود ہوا ہے تم اسے لینے کا حق نہیں۔ رکھتے جنانچہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ نے وہ تمام سود باطل قرار دے دیئے جو قریش ثقیف اور دوسرے عرب قبائل میں سے بعض تاجروں کے اپنے قرض داروں کے ذمہ باقی تھے۔ حجتہ الوداع کے موقعہ پر آپ ﷺ نے اعلان فرمایا۔ جاہلیت کے تمام سود باطل قرار دیئے جاچکے ہیں اور سب سے پہلے میں اپنے خاندان یعنی حضرت عباس ؓ بن عبد المطلب کا سود باطل کرتا ہوں۔ لہذا وہ سارے کا سارا باطل ہے۔ (ابن…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2: 278) اس آیت میں جملہ ان کنتم مؤمنین ۔ شرطیہ ہے اور جملہ جزائیہ مقدم لایا گیا ہے۔ اتقوا۔ فعل امر۔ جمع مذکر حاضر۔ تم بچو۔ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔ اتقائ۔ مصدر اللہ مفعول۔ اللہ سے ڈرو۔ ذروا فعل امر ۔ جمع مذکر حاضر۔ وذر (باب سمع و فتح) مصدر تم چھوڑ دو ۔ اس مادہ سے اس معنی میں صرف مضارع اور اس کے مشتقات ہی مستعمل ہیں۔ مابقی۔ موصول و صلہ مل کر ذروا کا مفعول ۔ من ربو متعلق ما بقی۔ اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود لینا باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو ۔ اگر تم (سچے) مومن ہو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 275–279

لغات القرآن : آیت نمبر 275 تا 279 یا کلون (وہ کھاتے ہیں) ۔ الربوا (سود) ۔ لا یقومون (وہ کھڑے نہ ہوں گے ) ۔ یتخبطہ (جس کو خبطی اور دیوانہ بنا دیا ہو) ۔ المس (چھونا) ۔ البیع (تجارت) ۔ مثل الربوا (جیسے سود لینا) ۔ احل (حلال کردیا ) ۔ حرم (حرام کردیا) ۔ موعظۃ (نصیحت) ۔ انتھی (وہ رک گیا) ۔ سلف (جوگذر گیا) ۔ امرہ (اس کا معاملہ، اس کا اختیار) ۔ عاد جو پلٹ گیا) ۔ یمحق (مٹا دے گا) ۔ یربی (پالے گا، پروان چڑھائے گا) ۔ کفار (ناشکرا) ۔ اثیم (گناہ گار ) ۔ ذروا (تم چھوڑ دو ) ۔ مابقی (جو باقی رہ گیا ہے) ۔ فاذنوا (پھر تیار ہوجاؤ، پھر خبردار ہوجاؤ) ۔ حرب (جنگ) ۔ تبتم (تم نے توبہ کرلی) ۔ رؤس اموال (اصل مال،…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

سب سے آخری آیت کا ذکر شان نزول : بنی عمرو بن عمیر ایک قبیلہ تھا۔ اسلام سے پہلے اس قبیلہ اور دوسرے قبیلہ بنی مغیرہ میں سود کا لین دین تھا۔ سود کے حرام ہوجانے کے بعد بنی عمیرہ بنی عوف نے اپنی باقی رقم، سود کا تقاضہ بنی مغیرہ سے کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مدینہ منورہ میں نازل فرمائی کہ اگر تم کو خدا کی اطاعت کرنی ہے تو سود کا مطالبہ نہ کرو۔ اگر کوئی اللہ کے حکم کی مخالفت کرے گا تو ا کو چاہئے کہ اللہ اور اللہ کے رسول سے لڑنے کو تیار ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 276–278

[187] یعنی اگرچہ بظاہر سود سے دولت بڑھتی نظر آتی ہے اور صدقات سے گھٹتی محسوس ہوتی ہے لیکن در حقیقت معاملہ اس کے برعکس ہے۔ سود اخلاقی و روحانی، معاشی و تمدنی ترقی میں نہ صرف مانع ہوتا ہے بلکہ تنزل کا ذریعہ بنتا ہے اور اس کے برعکس صدقات سے ( جن میں قرض حسن بھی شامل ہے) اخلاق و روحانیت اور تمدن و معیشت ہر چیز کو نشوونما نصیب ہوتا ہے۔ [188] جس شخص کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کی اپنی ضرورت سے زیادہ مال دے اور وہ اس مال سے لوگوں کو نفع پہنچانے کی بجائے ان کی ایذا رسانی میں خرچ کرے تو اس سے بڑھ کر ناشکرا اور بد عمل اور کون ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 277–279

سود خوار سے اعلان جنگ : (ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ مسلمان تحریم سے پیشتر کے سودی معاہدات توڑ دیں اور اصل مال لے لینے پر اکتفا کریں ، ورنہ خدا سے اعلان جنگ ہے ، سود خوار قومیں صحیح مذہبی روح سے قطعا خالی ہوتی ہیں ، یہودیوں کی ساری تاریخ سامنے ہے کیا کبھی انہوں نے ایثار وقربانی سے کام لیا ہے ؟ یہ حقیقت ہے کہ سرمایہ کی محبت اور خدا کی محبت ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3۔ اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی گرفت سے ڈرو اور جو رقم سود کی بقایا ہے اسے بالکل چھوڑ دو اگر تم حقیقی اور کامل مومن ہو کیونکہ کمال ایمان کا مقتضا یہی ہے کہ جو حکم دیا جائے اس کی تعمیل کی جائے۔ ( تیسیر) سدی نے کہا کہ یہ آیت حضرت عباس بن عبد المطلب اور بنی مغیرہ کے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ بعض لوگوں نے کہا ثقیف کے کچھ لوگوں کا قریش پر قرض تھا۔ انہوں نے مول اور بیاج دونوں کا مطالبہ کیا تھا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ زمانہ جاہلیت میں مختلف طریقہ سے سرمایہ دار سود لیا کرتے تھے اور یہ تو عام بات تھی کہ مقروض کو میسر نہ ہوا تو میعاد بڑھا دی اور میعاد کے ساتھ اصل رقم میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 277–278

ف 4۔ اوپر کی آیت میں سود خواروں کا قول انما البیع مثل الربوا ان کے کفر پر دلالت کرتا تھا۔ اس کے مقابل میں اس آیت میں آمنو لایا گیا اور وہاں ان کی بدعملی سود کی مذکور تھی جس سے ان لوگوں کا راغب الی الدنیا ہونا بھی مفہوم تھا یہاں ان کی خوش عملی اجمالا عملو الصالحات سے تفصیلا راغب الی اللہ ہونا اقامو الصلوة سے اور بجائے مال سود حاصل کرنے کے اور بالعکس مال کا خرچ کرنا اتوالزکوة سے مذکور ہے اور ظاہر ہے کہ ان مقابلوں کی رعایت سے کلام میں کس قدر حسن و خوبی آگئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ حرمت ” الربوا “ کے بعد طے شدہ ” الربوا “ بھی چھوڑ دیا جائے : 488: الربوا کی حرمت نازل ہونے سے پہلے عام عرب میں ” الربوا “ کا رواج پھیلا ہوا تھا ، اس آیت سے پہلی آیتوں میں جب اس کی ممانعت آئی تو حسب عادت تمام مسلمانوں نے ” الربوا “ کے معاملات ترک کردیئے لیکن کچھ لوگوں کے مطالبات ” الربوا “ کی بقایا رقموں کے دوسرے لوگوں پر تھے۔ اس میں یہ واقعہ پیش آیا کہ بنی ثقیف اور بنی مخزوم کے آپس میں الربوا کے معاملات کا سلسلہ تھا اور بنو ثقیف کے لوگوں کا کچھ الربوا مطالبہ بنی مخزوم کی طرف تھا۔ بنو مخزوم مسلمان ہوگئے تو اسلام لانے کے بعد انہوں نے ” الربوا “ کی رقم ادا کرنا جائز نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The gist of the fourth verse (278): يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَذَرُ‌وا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّ‌بَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ those who believe, fear Allah and give up what still remains of the riba if you are believers" is that, after the revelation that prohibited riba, the giving and taking of the amount of ربا riba that remained due against anyone was also prohibited. Explaining this, it can be said that ربا riba was rampant all over Arabia before it was prohibited by revelation. When verses earlier than the present one brought forth its prohibition, Muslims -…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 277–278

322. In this section God brings into sharp relief two contrasting characters. One is selfish, Mammon-worshipping, a kind of Shylock. He is totally preoccupied with making and accumulating money in total disregard of his obligations to God and his fellow-beings. He counts the money he has saved and is so consumed by the desire to see it multiply that he spends much time estimating how much it will grow in the weeks, months and years to come. The other character is a God-worshipping, generous and compassionate person, ever conscious of the claims of both God and man, ready to spend whatever he…

Read the full tafseer →