سود خور قابل گردن زنی ہیں اور قرض کے مسائل
ان آیات میں اللہ تعالیٰ ایماندار بندوں کو تقوے کا حکم دے رہا ہے اور ایسے کاموں سے روک رہا ہے جن سے وہ ناراض ہو اور لوگ اس کی قربت سے محروم ہوجائیں تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا لحاظ کرو اور اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور تمہارا سود جن مسلمانوں پر باقی ہے خبردار اس سے اب نہ لو جبکہ وہ حرام ہوگیا، یہ آیت قبیلہ ثقیف بن عمرو بن عمیر اور بنو مخزوم کے قبیلے بنو مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جاہلیت کے زمانہ میں ان کا سودی کاروبار تھا، اسلام کے بعد بنو عمرہ نے بنو مغیرہ سے اپنا سود طلب کیا اور انہوں نے کہا کہ اب ہم اسے اسلام لانے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 277–278
سورة الْبَقَرَة 322
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ بار بار دو قسم کے کرداروں کو بالمقابل پیش کر رہا ہے۔ ایک کردار خود غرض، زر پرست، شائیلاک قسم کے انسان کا ہے، جو خدا اور خلق دونوں کے حقوق سے بےپروا ہو کر روپیہ گننے اور گن گن کر سنبھالنے اور ہفتوں اور مہینوں کے حساب سے اس کو بڑھانے اور اس کی بڑھوتری کا حساب لگانے میں منہمک ہو۔ دوسرا کردار ایک خدا پرست، فیاض اور ہمدرد انسان کا کردار ہے، جو خدا اور خلق خدا دونوں کے حقوق کا خیال رکھتا ہو، اپنی قوت بازو سے کما کر خود کھائے اور دوسرے بندگان خدا کو کھلائے اور دل کھول کر نیک کاموں میں خرچ کرے۔ پہلی قسم کا کردار خدا کو سخت ناپسند ہے۔ دنیا میں اس کردار پر…
Read the full tafseer →تیسری آیت میں مؤمنین صالحین جو نماز و زکوٰۃ کے پابند ہیں ان کے اجر عظیم اور آخرت کی راحت کا ذکر ہے، چونکہ اس سے پہلی آیت میں سود خوروں کے لئے عذاب جہنم اور ان کی ذلت و خواری کا ذکر آیا تھا۔
قرآن کریم کے عام اسلوب کے مطابق اس کے ساتھ ہی ایمان وعمل کے پابند نماز و زکوٰۃ ادا کرنے والوں کے ثواب اور درجات آخرت کا ذکر کردیا گیا۔
Read the full tafseer →اہل ایمان کے عظیم اجر وثواب کا ذکر فرمایا ہے اور قرینہ دلیل ہے کہ یہاں اشارہ ان اہل ایمان کی طرف ہے جن کے صدقات میں برکت کی طرف اوپر والی آیت میں اشارہ فرمایا ہے۔ اس آیت کے تماما اجزاء کی تشریح مختلف مقامات میں گزر چکی ہے۔ یہاں اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 276–278
276۔ 1 یہ سود کے معنوی اور روحانی نقصان اور صدقے کی برکتوں کا بیان ہے۔ سود میں بظاہر بڑھوتری نظر آتی ہے لیکن معنوی حساب سے یا مال (انجام) کے اعتبار سے سودی رقم ہلاکت و بربادی ہی کا باعث بنتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 275–281
184:" سود " یا " رباء " ہر اس زیادہ رقم کو کہا جاتا ہے جو کسی قرض پر طے کرکے وصول کی جائے، مشرکین کا کہنا تھا کہ جس طرح ہم کوئی سامان فروخت کرکے نفع کماتے ہیں اور اس کو شریعت نے حلال قرار دیا ہے، اسی طرح اگر قرض دے کر کوئی نفع کمائیں تو کیا حرج ہے ؟ ان کے اس اعتراض کا جواب تو یہ تھا کہ سامان تجارت کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ اسے بیچ کر نفع کمایا جائے، لیکن نقدی اس کام کے لئے نہیں بنائی گئی کہ اسے سامان تجارت بناکر اس سے نفع کمایا جائے، وہ تو ایک تبادلے کا ذریعہ ہے ؛ تاکہ اس کے ذریعہ اشیائے ضرورت خریدی اور بیچی جاسکیں، نقدی کا نقدی سے تبادلہ کرکے اسے بذات خود نفع کمانے کا ذریعہ بنالیا جائے تو اس سے…
Read the full tafseer →نظامِ ربا کے صفحہ بالمقابل کا بنیادی عنصر زکوٰۃ ہے اور زکوٰۃ کی ماہیت یہ ہے کہ وہ ایک قسم کا خرچ اور انفاق ہے ، جس کا کوئی عوض اس جہاں میں نہیں ہے نہ اس خرچ کے نتیجے میں کچھ واپس ہوتا ہے اور سیاق کلام میں زکوٰۃ کے ذکر سے مقصد یہ ہے کہ یہاں مومنین کی اس اہم صفت کو بیان کردیا جائے نیز اسلامی معاشرہ کی اس اہم صفت کو بیان کردیا جائے اور یہ بتایاجائے کہ سودی معاشرہ کے مقابلے میں اس ایمانی معاشرہ میں اطمینان قلب ، امن وامان ، اللہ کی رضامندی اور برکات الٰہی کے کیا کیا نظارے ہیں اور کس قدر پر کیف منظر ہے اس معاشرہ کا ۔
زکوٰۃ دراصل ایک ایسے معاشرے کا اصل الاصول ہے جو باہم تضامن اور باہم کفالت پر مبنی…
Read the full tafseer →6 اس آیت میں سود لینے والے کے مقابلہ میں اہل ایمان کے اوصاف اور ان کا انعام ذکر کردیا جو سود خور کے اوصاف و حالات اور اس کے حکم کے خلاف اور ضد ہیں جس سے سود خور کی پوری تہدید وتشنیع بھی ظاہر ہوگئی۔
Read the full tafseer →آیت 277 اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ لَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ ج
نیک عمل میں ظاہر بات ہے جو شے حرام ہے اس کا چھوڑ دینا بھی لازم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 277–278
397 یہ آیت درمیان میں اس لئے آئی ہے کہ سود خور کے مقابلہ میں متقی لوگوں کا حال بیان کردیا جائے جیسا کہ قرآن کریم میں جابجا یہی دستور آپ ملاحظہ فرمائیں گے کہ جہاں اہل دوزخ کا ذکر آیا تو ساتھ اہل جنت کا بھی ذکر کردیا جاتا ہے اور اس کے برعکس بھی۔ اس کے بعد سود کے مضمون کا تسلسل جاری رکھا گیا ہے۔ اس مقام پر بھی مومنوں کی دو انتہائی اہم صفات کا ذکر فرمایا۔ ایک اقامت صلٰوۃ کا جو بدنی عبادات میں سے سب سے اہم ہے۔ دوسرے ایتائے زکوٰۃ کا جو مالی عبادات میں سے سب سے اہم بھی ہے اور سود کی عین ضد بھی۔ اسلام کے معاشی نظام کو اگر انتہائی مختصر الفاظ میں بیان کیا جائے تو اس کے دو ہی اجزاء ہیں۔ ایک سلبی دوسرا…
Read the full tafseer →1076 ۔ (قیامت میں) خیر آخرت میں تو ایسے نیک کردار، متقی، خاشع، خادم خلق انسانوں کی خوشی انجامی تو ظاہر ہی ہے۔ لیکن دنیا میں بھی جو سکون قلب یکسوئی، طمانیت خاطر اور قناعت کی مسرتیں ایسے لوگوں کو حاصل رہتی ہیں ان کا اندازہ وہ بدنصیب کر ہی نہیں سکتا۔ جو چوبیس گھنٹہ آنہ، پائی کی میزان لگاتا رہتا ہے۔ جو مخلوق کی ایذا رسانی کا خوگر ہو کر پیسہ پیسہ گنتا رہتا ہے اور جس پر ہر گھڑی بہی کھاتہ سنبھالے رہنے کا بھوت سوار رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 276–277
یَمْحَقُ اللہُ الرِّبوٰا وَیُرْبِی الصَّدَقَاتِ ، اس آیت میں جو یہ کہا گیا ہے کہ اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے یہاں سود کے ساتھ صدقات کا ذکر ایک خاص مناسبت سے کیا گیا ہے وہ یہ کہ سود اور صدقہ کی حقیقت میں تضاد ہے اور اس کے نتائج بھی مختلف ہیں اور عموماً ان دونوں کا موں کے کرنے والوں کی غرض اور نیت بھی متضاد ہوتی ہے۔ حقیقت کا تضاد تو یہ ہے کہ صدقہ میں تو بغیر کسی معاوضہ کے اپنا مال دوسروں کو دیا جاتا ہے اور سود میں بغیر کسی معاوضہ کے دوسرے کا مال لیا جاتا ہے۔ ان دونوں کاموں کے کرنے والوں کی نیت اور غرض اس لیے متضاد ہے کہ صدقہ کرنے والا محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے ایک مال…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : یعنی جو لوگ اللہ پر اور اس کے پیغمبروں پر اور ان تمام کتابوں پر جو اللہ کی طرف سے پیغمبر لے کر آئے ایمان لائے۔
وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ : اور انہوں نے نیک کام کئے یعنی پیغمبروں کی زبانی اللہ کے بھیجے ہوئے احکام کی پابندی کی۔
وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ : اور نماز ٹھیک ٹھیک پڑھی اور زکوٰۃ ادا کی نماز اور زکوٰۃ کی خصوصی بزرگی کو ظاہر کرنے کے لیے الصَّالِحات کے بعد ان کا خصوصی ذکر کیا بدنی عبادتوں کی سردار نماز ہے اور مالی عبادت کی چوٹی زکوٰۃ۔
لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ : انہی کے لیے ان کے رب کے…
Read the full tafseer →(277) جو حضرات اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں اور سود کے حرام ہونے پر ایمان لائے اور ان پر جو اللہ تعالیٰ کے حقوق ہیں، ان کو خوبی کے ساتھ ادا کرتے اور سود کو قطعی طور پر چھوڑتے ہیں اور پانچوں نمازوں کو پورے اہتمام کے کے ساتھ ادا کرتے اور اپنے مالوں کی زکوٰۃ دیتے ہیں تو ان کو اس کا ثواب جنت میں ملے گا اور جب موت کو ذبح اور دوزخ کو بھر دیا جائے گا، ایسے سخت وقت میں ان پر کوئی خوف و ہراس نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۔۔ : اللہ تعالیٰ کفر و ایمان دونوں کا ساتھ ساتھ ذکر فرماتا ہے، تاکہ دونوں پہلو سامنے رہیں۔ ربا کی آیتوں کے درمیان ایمان والوں کا ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایمان، عمل صالح، نماز اور زکوٰۃ سودی کاروبار سے بچنے کا اہم ذریعہ ہیں۔
Read the full tafseer →اور قول باری تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین امنوا وعملوا الصلحت واقاموالصلوۃ واتوا الزکوۃ “ کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے، اور نماز اور زکوۃ کو خاص طور پر اس لئے ذکر کیا ہے حالانکہ (آیت) ” عملوا الصلحت “ انہیں متضمن اور شامل ہے تو یہ ان دونوں کے شرف و عظمت اور ان کی قدرومنزلت پر آگاہ کرنے کے لئے ہے کیونکہ یہ دونوں اعمال کی اصل ہیں، نماز بدنی اعمال کی اصل ہے اور زکوۃ مالی اعمال کی اصل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 276–277
(1) ابن جریر اور ابن المنذر نے ابن جریج کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” یمحق اللہ الربوا “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ سود کو گھٹاتے ہیں اور لفظ آیت ” ویربی الصدقت “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ صدقات کو بڑھاتے ہیں۔
(2) احمد ابن ماجہ ابن جریر اور حاکم نے (اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا سوداگر چہ زیادہ بھی ہو مگر اس کا انجام کمی کی طرف جائے گا۔
(3) عبد الرزاق نے معمر (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم نے یہ بات سنی ہے سود خور پر چالیس سال نہیں گذرتے تو وہ سود خود مٹ جاتا ہے۔
صدقہ کا اجر بڑھتا رہتا ہے
(4) عبد الرزاق،…
Read the full tafseer →[اِنَّ الَّذِیْنَ : بیشک جو لوگ ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے ] [الصّٰلِحٰتِ : نیک ] [وَاَقَامُوا : اور قائم کی ] [الصَّلٰوۃَ : نماز ] [وَاٰتَوُا : اور پہنچائی ] [الزَّکٰوۃَ : زکوٰۃ ] [لَـہُمْ : (تو) ان کے لیے ہے ] [اَجْرُہُمْ : ان کا اجر ] [عِنْدَ رَبِّہِمْ : ان کے رب کے پاس ] [وَلاَ خَوْفٌ : اور کوئی خوف نہیں ہے ] [عَلَیْہِمْ : ان پر ] [وَلاَ ہُمْ : اور نہ ہی وہ لوگ ] [یَحْزَنُوْنَ : پچھتاتے ہیں ]
ترکیب :” اٰتَوُا “ دراصل ” اٰتَوْا “ ہے۔ آگے ملانے کے لیے وائو کو ضمہ دی گئی ہے۔ دیکھیں البقرۃ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 277–278
مومنوں، نمازیوں اور زکوٰۃ دینے والوں کا اجر وثواب
ابھی سود کے بارے میں بعض احکام کا بیان باقی ہے۔ درمیان میں اہل ایمان کی فضیلت اور ان کا اجر وثواب بیان فرما دیا، اور ان کے بعض اعمال خاصہ کا تذکرہ فرمایا یعنی نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور فرمایا کہ بروز قیامت ان لوگوں پر کوئی خوف نہ ہوگا اور رنجیدہ نہ ہوں گے بر خلاف سود لینے والوں کے کہ وہ وہاں دیوانوں کی طرح کھڑے ہوں گے مخبوط الحواس ہوں گے۔ اموال دنیا میں چھوڑ چکے ہوں گے اور وہاں ان اموال کے حاصل کرنے اور خرچ کرنے کی وجہ سے عذاب میں ڈالے جائیں گے۔
اول تو مال حرام والے نیک کاموں میں پیسے خرچ کرتے ہی نہیں اور اگر خرچ کر بھی دیں تو آخرت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 275–281
احکام ربا (سود) ۔
قال تعالی، الذین یاکلون الربو۔۔۔ الی۔۔۔ لایظلمون۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں خیرات اور صدقات کا بیان تھا اب آئندہ آیات میں سود کے احکام ذکر فرماتے ہیں جو کہ صدقات اور خیرات کی ضد اور نقیض ہے اس لیے کہ صدقہ اور خیرات سے اخلاق اور مروت اور خلق اللہ کی نفع رسانی میں ترقی ہوتی ہے اور سود میں سراسر بےمروتی اور ضرر رسانی ہے صدقہ اور خیرات میں صلہ رحمی اور غریبوں کی امداد ہوتی ہے اور سود میں سخت دلی اور غریبوں زیادتی ہوتی ہے اس لیے صدقہ کی فضیلت کے بعد سود کی مذمت اور حرمت کا بیان نہایت مناسب ہوا تاکہ سود کی مذمت اور حرمت سے صدقہ کی فضیلت اور پختہ ہوجائے اور یہ معلوم ہوجائے کہ جس درجہ…
Read the full tafseer →542 اس آیت کی تفسیر پہلے گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 274–277
صدقہ بمقابلہ سود
گزشتہ کئی دروس میں صدقہ کا بیان آتا ہے اور گزشتہ درس میں صدقات سے متعلق ساتویں بات یعنی اس کے بہترین مصرف کا ذکر تھا۔ اب آج کے درس میں پہلے صدقات ہی کے ضمن میں ان کی فضلیت بیان کی گئی ہے اور پھر اس کے مقابلے میں سود کی مذمت ہے ، صدقہ و خیرات کرنے سے انسان کے اندر فیاضی کا مادہ پیدا ہوتا ہے اور بخل دور ہوتا ہے۔ اس کے سبب انسان کے اندر بنی نوع انسان کے لیے جذبہ ہمدردی پیدا ہوتا ہے ، مکارم اخلاق کی تکمیل ہوتی ہے ، اور پھر یہی خصائل انسان کی نجات کا ذریعہ بن جاتے ہیں ۔ بر خلاف اس کے سود خور میں بخل کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔ اخلاق کا جنازہ نکلتا ہے اور لا محدودپیمانہ پر مال جمع کرنے…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ 0 ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ 277
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 275–277
ترکیب : الذین یاکلون الخ مبتداء لا یقومون الخ جملہ خبر کما کاف موضع نصب میں ہے صفت ہے مصدر محذوف کی تقدیرہ الا قیاما مثل قیام الذی الخ ذلک مبتداء بانہم الخ خبر ‘ من المس متعلق ہے یتخبطہ سے فمن جاء شرط فلہ ماسلف جواب ‘ وامرہ معطوف جواب پر ومن عاد شرط فاولئک جواب الذین آمنوا اسم ان لہم اجر خبر۔
تفسیر : صدقہ و خیرات کے بعد سود کی برائیاں بیان کرنا اور اس کو حرام کردینا گویا صدقہ و خیرات کے بیان کو پورا کردینا ہے۔ کس لیے کہ جس طرح صدقہ و خیرات میں رحمدلی اور مسکینوں اور غریبوں کی دستگیری ہے اسی طرح سود میں سخت دلی اور حاجت مندوں پر سخت گیری ہے۔ یہ اس کی پوری ضد ہے۔ ہم پہلے الفاظِ آیت کی تفسیر پھر…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ لَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ ط وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا یَحْزَنُوْنَ ۔
(بےشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے ‘ نماز کا اہتمام کیا اور زکوۃ ادا کی ‘ ان کے لیے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے۔ نہ ان کے لیے کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ ان کو کوئی غم لاحق ہوگا) (277)
قرآن کریم نے اپنے اسلوب کے مطابق سود خوروں کی سزا کا ذکر کرنے کے بعد ان لوگوں کا انجام ذکر فرمایا ہے جو بالکل ان بدبختوں کے برعکس اللہ کے ایک ایک حکم پر یقین رکھتے ہیں ‘ پنج وقتہ نماز میں اس سے وفاداری کا اظہار کرتے ہیں اور…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید اپنے اسلوب کے مطابق احکامات جاری کرتے ہوئے نصیحت بھی کرتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل پیرا ہونے کے لیے ذہن ازخود آمادہ ہوجائے۔
قرآن مجید کا یہ اسلوب ہے کہ جب قانون اور ضابطے بیان کرتا ہے تو اس دوران لوگوں کے اخلاق میں نکھار پیدا کرنے اور ایمان کو جلا بخشنے کے لیے نماز، آخرت، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور جزا ‘ سزا میں سے کسی ایک کی طرف توجہ دلاتا ہے تاکہ دین کے احکام لوگوں کے ذہن میں محض ضابطے اور قانون کے طور پر نہیں بلکہ عبادت، قیامت میں پیشی کا تصور، خوف خدا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے طور پر سامنے رہیں۔ سماجی تعلقات ہوں یا کاروباری معاملات، امتناعی…
Read the full tafseer →آیت 277 :
اِنَّ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ ٰاتَوُا الزَّکٰوۃَ لَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ (بےشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کرتے رہے۔ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہونگے) ۔
ایک قول : یہ ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو ربا کی حرمت پر ایمان لائے۔
Read the full tafseer →(تفسیر) 277۔:
(آیت)” (ان الذین ۔۔۔ یحزنون بےوہ لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے نماز کی پابندی کی اور زکوۃ دی ، ان کے لیے ان کو ثواب ہوگا ، ان کے رب کے نزدیک اور ان پر کوئی خطرہ نہیں ہوگا اور نہ وہ مغموم ہوں گے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 275–277
(275 ۔ 277) ۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان نیک لوگوں کا ذکر فرمایا تھا جو بذریعہ صدقہ و خیرات کے اپنے مال سے دنیا میں خلق اللہ کو نفع پہنچاتے ہیں اور عقبیٰ میں اس خیرات کے اجر کی اللہ سے توقع رکھتے ہیں اس آیت میں ان لوگوں کے مقابل ان بد لوگوں سود خوروں کا ذکر فرمایا ہے جنہوں نے اپنے مال کے طفیل میں اپنی دین دنیا کو خراب اور خوار کردیا۔ مسند امام احمد وغیرہ کی شب معراج کی حدیث میں آپ نے فرمایا ہے کہ دوزخ میں کچھ لوگ آپ نے دیکھے جن کے پیٹ بڑے بڑے گھر اور کوٹھوں کے برابر ہیں اور ہزارہا سانپ اور بچھو ان کے پیٹوں میں بھرے ہیں 3۔ دنیا میں ایک سانپ یا بچھو کسی کو کاٹتا ہے توہ وہ بادلوں کی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 275–281
آیت 275-281
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سود خوروں کا انجام بدبیان فرمایا ہے۔ وہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھیں گے : (الا کما یقوم الذی یتخبطہ الشیطن من المس) ” تو ان کی حالت یہ ہوگی گویا انہیں شیطان نے پاگل بنادیا ہے۔ یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو حیران پریشان ہوں گے۔ انہیں سخت سزا ملنے کا یقین ہوگا۔ : (قالوآ انما البیع مثل الربوا) ” انہوں نے کہا تھا : تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے۔ “ یہ بات کوئی ایسا جاہل ہی کہہ سکتا ہے جو جہالت کے انتہائی درجے تک پہنچا ہوا ہو، یا دین کا انتہائی دشمن کہہ سکتا ہے۔ جس طرح ان کی عقلیں اوندھی ہوگئی تھیں تو اس کا بدلہ بھی یہ ملے گا کہ ان کی حالت پاگلوں کے مشابہ ہوگی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 276–278
قول باری ہے (یآیھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ وذروا مابقی من الربوٰ ان کنتم مؤمنین ۔ فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ۔ (a) اے ایمان والو ! خدا سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو ۔ اگر واقعی تم ایمان لائے ہو لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا تو آگاہ ہوجائو کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے)
ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ آیت میں دو معنوں کا احتمال ہے۔ ایک معنی یہ ہے کہ ” اگر تم اللہ کے حکم کو قبول نہ کرو اور اس کے آگے جھک نہ جائو۔ “ اور دوسرا معنی یہ ہے کہ سود ترک کردینے کے حکم کے نزول کے بعد بھی لوگوں کے ذمہ اپنا باقی رہ جانے والا سود نہ چھوڑو تو سود…
Read the full tafseer →797 مومنین صادقین کیلئے نہ کوئی غم نہ اندیشہ : سو قیامت کے یوم حساب میں جبکہ لوگ سب سے بڑی گھبراہٹ میں مبتلا ہوں گے ایسے خوش نصیب لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے پوری طرح مطمئن اور امن و سکون میں ہوں گے۔ نہ ان کو اپنے ماضے کا کوئی غم ہوگا اور نہ مستقبل کا کوئی خوف و اندیشہ۔ کیونکہ انہوں نے اپنے صدق نیت، اور اپنے حسن اختیار، اور اللہ پاک کی توفیق و عنایت سے اپنی زندگی کو حق و ہدایت کی اس راہ پر گزارا ہوگا جس کے نتیجے میں وہ اب سدابہار نعمتوں اور ابدی و حقیقی کامیابی سے سرفراز و سرشار ہوں گے، اور ان کو ایسی کامیابی وفائز المرامی نصیب ہوگی، جو کہ صحیح معنوں میں اور حقیقی طور پر ایک عظیم الشان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 276–277
سود اور خیرات کا موازنہ
تشریح : سود کے بارے میں تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں مزید وضاحت اس صورت سے کی جارہی ہے کہ ہمیں ضرورت سے زیادہ مال ضرورت مند لوگوں کو دے دینا چاہئے، کیونکہ یہ ہم پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے اور ہمیں ضرورت مند لوگوں کو دیکر اس کی رضا حاصل کرنی چاہیے۔ اور اگر ہم مفلس کی مدد اپنے فالتو مال سے نہ کریں تو گویا ہم نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا، بلکہ اس مال کو سود پردے کر غریبوں کو اور بھی غریب کرنا شروع کردیا۔ بھلا یہ بات کون پسند کرسکتا ہے اور اللہ کو بھی یہ ناپسند ہے، کیونکہ یہ انسانیت کے خلاف ہے پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوشخبری سناتا ہے جو ایمان لاتے اور حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 274–281
274 تا 281
اسرارو معارف
الذین ینفقون…………ولاھم یحزنون۔
جو لوگ دن رات ظاہر پوشیدہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں یعنی جیسے ضرورت پیش آئے اسے پورا کرنے کو لپکتے ہیں۔ اعلانیہ دینا پڑے یا چھپا کر ، رات ہو یا دن کا وقت نہ تاخیر کرتے ہیں اور نہ کسی حالت کو آڑے آنے دیتے ہیں جیسے سیدنا صدیق اکبر ؓ ، کہ شاعر مشرق (رح) نے کیا خوب کہا ہے ؎
آں امن الناس بر مولائے ما
آں حکیم وادی سینائے ما
دولت اوکشت ملت راچوں ابر
ثانی اثنین وغار وبدر وقبر
یا دیگر جملہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جن کے صدقات اور مالی جانی قربانیوں سے تاریخ عالم مزین ہے اور چشم فلک حیران۔ ایسی قوم نہ سورج نے ان سے پہلے دیکھی اور نہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 277–278
ف 4 یعنی مالدار ہو کر اپنے بھائی کو بلا سود قرض نہ دے یہ نعمت الہی کی ناشکری ہے۔ (موضح بتصرف )
5 یعنی حرمت ؟ آنے سے قبل جو کچھ وصول کرچکے سو کرچکے اب اس حرت کے بعد لوگوں کے ذمہ جو بھی سود ہوا ہے تم اسے لینے کا حق نہیں۔ رکھتے جنانچہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ نے وہ تمام سود باطل قرار دے دیئے جو قریش ثقیف اور دوسرے عرب قبائل میں سے بعض تاجروں کے اپنے قرض داروں کے ذمہ باقی تھے۔ حجتہ الوداع کے موقعہ پر آپ ﷺ نے اعلان فرمایا۔ جاہلیت کے تمام سود باطل قرار دیئے جاچکے ہیں اور سب سے پہلے میں اپنے خاندان یعنی حضرت عباس ؓ بن عبد المطلب کا سود باطل کرتا ہوں۔ لہذا وہ سارے کا سارا باطل ہے۔ (ابن…
Read the full tafseer →(2:277) الذین امنوا ۔ اسم
وعملوا الصلحت۔ اس کا عطف سابقہ پر ہے۔ اسی طرح واقاموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ معطوف ہیں اور ان کا عطف بھی جملہ الذین امنوا پر ہے۔
لہم اجرھم ۔۔ یحزنون۔ اپنے اسم کی خبر ہے۔
لا یحزنون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ حزن (باب سمع) مصدر نہ وہ غمگین ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 275–279
لغات القرآن : آیت نمبر 275 تا 279
یا کلون (وہ کھاتے ہیں) ۔ الربوا (سود) ۔ لا یقومون (وہ کھڑے نہ ہوں گے ) ۔ یتخبطہ (جس کو خبطی اور دیوانہ بنا دیا ہو) ۔ المس (چھونا) ۔ البیع (تجارت) ۔ مثل الربوا (جیسے سود لینا) ۔ احل (حلال کردیا ) ۔ حرم (حرام کردیا) ۔ موعظۃ (نصیحت) ۔ انتھی (وہ رک گیا) ۔ سلف (جوگذر گیا) ۔ امرہ (اس کا معاملہ، اس کا اختیار) ۔ عاد جو پلٹ گیا) ۔ یمحق (مٹا دے گا) ۔ یربی (پالے گا، پروان چڑھائے گا) ۔ کفار (ناشکرا) ۔ اثیم (گناہ گار ) ۔ ذروا (تم چھوڑ دو ) ۔ مابقی (جو باقی رہ گیا ہے) ۔ فاذنوا (پھر تیار ہوجاؤ، پھر خبردار ہوجاؤ) ۔ حرب (جنگ) ۔ تبتم (تم نے توبہ کرلی) ۔ رؤس اموال (اصل مال،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 276–277
مسئلہ : جو سود کو حلال جانے وہ کافر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 276–278
[187] یعنی اگرچہ بظاہر سود سے دولت بڑھتی نظر آتی ہے اور صدقات سے گھٹتی محسوس ہوتی ہے لیکن در حقیقت
معاملہ اس کے برعکس ہے۔ سود اخلاقی و روحانی، معاشی و تمدنی ترقی میں نہ صرف مانع ہوتا ہے بلکہ تنزل کا ذریعہ بنتا ہے اور اس کے برعکس صدقات سے ( جن میں قرض حسن بھی شامل ہے) اخلاق و روحانیت اور تمدن و معیشت ہر چیز کو نشوونما نصیب ہوتا ہے۔
[188] جس شخص کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کی اپنی ضرورت سے زیادہ مال دے اور وہ اس مال سے لوگوں کو نفع پہنچانے کی بجائے ان کی ایذا رسانی میں خرچ کرے تو اس سے بڑھ کر ناشکرا اور بد عمل اور کون ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 277–279
سود خوار سے اعلان جنگ :
(ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ مسلمان تحریم سے پیشتر کے سودی معاہدات توڑ دیں اور اصل مال لے لینے پر اکتفا کریں ، ورنہ خدا سے اعلان جنگ ہے ، سود خوار قومیں صحیح مذہبی روح سے قطعا خالی ہوتی ہیں ، یہودیوں کی ساری تاریخ سامنے ہے کیا کبھی انہوں نے ایثار وقربانی سے کام لیا ہے ؟ یہ حقیقت ہے کہ سرمایہ کی محبت اور خدا کی محبت ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتی ۔
Read the full tafseer →ف 2۔ البتہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے اور اعمال صالحہ بجا لائے یعنی اوامرا کو بجا لائے اور نواہی سے باز رہے اور خاص طور پر نماز کے پابند رہے اور زکوٰۃ ادا کرتے رہے تو ایسے لوگوں کا اجر ان کے رب کے پاس محفوظ ہے اور ایسے لوگوں کو ان کا ثواب ان کے رب کے ہاں ملے گا اور ان لوگوں کو نہ کسی قسم کا خوف ہوگا اور نہ یہ لوگ کبھی غمگین ہوں گے۔
( تیسیر) اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کافرانہ اقوال و افعال کی مذمت فرمائی تھی اور کافروں کے انجام کا ذکر کیا تھا۔ زیر بحث آیت میں اس کے مقابلہ میں اہل ایمان کے اقوال و افعال کا ذکر فرمایا ہے جیسا کہ قرآن مقدس کا طریقہ اور داب سے اوپر کی آیت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 277–278
ف 4۔ اوپر کی آیت میں سود خواروں کا قول انما البیع مثل الربوا ان کے کفر پر دلالت کرتا تھا۔ اس کے مقابل میں اس آیت میں آمنو لایا گیا اور وہاں ان کی بدعملی سود کی مذکور تھی جس سے ان لوگوں کا راغب الی الدنیا ہونا بھی مفہوم تھا یہاں ان کی خوش عملی اجمالا عملو الصالحات سے تفصیلا راغب الی اللہ ہونا اقامو الصلوة سے اور بجائے مال سود حاصل کرنے کے اور بالعکس مال کا خرچ کرنا اتوالزکوة سے مذکور ہے اور ظاہر ہے کہ ان مقابلوں کی رعایت سے کلام میں کس قدر حسن و خوبی آگئی۔
Read the full tafseer →اللہ والوں کی علامت ہی یہ ہے کہ وہ کبھی بےچین نہیں ہوتے :
487: اس معاشرہ میں رہنے والوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو خدا پرست ، فیاض اور انسانوں کے نہایت ہی ہمدرد ہوتے ہیں ، مخلوق اور اللہ دونوں کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں۔ اپنی قوت بازو سے کما کر خود بھی کھاتے اور استعمال کرتے ہیں اور دوسروں کو کھلاتے اور استعمال کراتے ہیں۔ وہ رضائے الٰہی کے لیے جب خرچ کا وقت آتا ہے تو دل کھول کر مال کو خرچ کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن سے صالح سوسائٹی تشکیل پاتی ہے ، جس میں ان کو خاص مقام حاصل ہوتا ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے مال موجب فلاح ہے۔ اللہ کے خاص فضل و کرم سے یہ لوگ نہ تو دنیا میں ہی کبھی بےچین ہوتے ہیں…
Read the full tafseer →The third verse (277) mentions the great reward of peace and comfort that awaits the truly believing and practising Muslims, who are steadfast in Salah نماز and زکاۃ Zakah. Since, in the verse previous to this, the punishment of Hell and the disgrace the consumers of ربا riba will be facing was mentioned, so in accordance with the general style of the noble Qur'an, the merit - in آخرۃ Akhirah - of the believing-practising Muslims, those steadfast in Salah نماز and زکاۃ Zakah, was mentioned alongside.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 277–278
322. In this section God brings into sharp relief two contrasting characters. One is selfish, Mammon-worshipping, a kind of Shylock. He is totally preoccupied with making and accumulating money in total disregard of his obligations to God and his fellow-beings. He counts the money he has saved and is so consumed by the desire to see it multiply that he spends much time estimating how much it will grow in the weeks, months and years to come. The other character is a God-worshipping, generous and compassionate person, ever conscious of the claims of both God and man, ready to spend whatever he…
Read the full tafseer →