Al-Baqara 2:276

Al-Baqara · from ayah 276

2:276

یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ ؕ— وَاللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ ۟يَمۡحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرۡبِى الصَّدَقٰتِ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيۡمٍ

خدا سود کو نابود (یعنی بےبرکت) کرتا اور خیرات (کی برکت) کو بڑھاتا ہے اور خدا کسی ناشکرے گنہگار کو دوست نہیں رکھتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah destroys interest and gives increase for charities. And Allah does not like every sinning disbeliever.

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 38 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:276

اللہ سود کا مٹھ مار دیتا ہے اور صدقات کو نشو و نما دیتا ہے اور اللہ کسی ناشکرے بد عمل انسان کو پسند نہیں کرتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا سود کو نابود (یعنی بےبرکت) کرتا اور خیرات (کی برکت) کو بڑھاتا ہے اور خدا کسی ناشکرے گنہگار کو دوست نہیں رکھتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقہ کو بڑھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے اور گنہگار سے محبت نہیں کرتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے، اور اللہ ہر اس شخص کو ناپسند کرتا ہے جو ناشکرا گنہگار ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو اور اللہ کو پسند نہیں آتا کوئی ناشکرا بڑا گنہگار،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اﷲ سود کو مٹاتا ہے (یعنی سودی مال سے برکت کو ختم کرتا ہے) اور صدقات کو بڑھاتا ہے (یعنی صدقہ کے ذریعے مال کی برکت کو زیادہ کرتا ہے)، اور اﷲ کسی بھی ناسپاس نافرمان کو پسند نہیں کرتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ کسی ایسے شخص سے محبت نہیں رکھتا جو سخت ناشکرا، سخت گنہگار ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا اور صدقات کی پرورش کرتا ہے۔ اور اللہ کسی ناشکرے بدعمل انسان کو پسند نہیں کرتا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ سود کو گھٹائے گا اور صدقات کو بڑھائے گا اور اللہ ناشکروں اور حق تلفوں کو پسند نہیں کرتا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ مٹاتا ہے سود کو، اور بڑھاتا ہے صدقات کو، اور اللہ پسند نہیں کرتا کسی بھی ناشکرے بدکار کو،

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ اور اللہ کسی کفر کرنے والے گنہگار کو دوست نہیں رکھتا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ کسی ناشکرے اور گناہگار کو پسند نہیں کرتا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ سود کو مٹاتا ہے اور خیرات کو بڑھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے، گناہ گار کو پسند نہیں کرتا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah deprives interest of all blessing and develops charity; and Allah does not like an ungrateful, sinful person.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah destroys riba and nourishes charities, and Allah does not like any sinful disbeliever.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah destroys riba and nourishes charities, and Allah does not like any sinful disbeliever.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah will destroy Riba and will give increase for Sadaqat. And Allah likes not the disbelievers, sinners.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah hath blighted usury and made almsgiving fruitful. Allah loveth not the impious and guilty.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Allah destroys interest and gives increase for charities. And Allah does not like every sinning disbeliever.

— Saheeh International

God makes unlawful interest devoid of all blessings and causes charity to increase. God does not love sinful unbelievers.

— Muhammad Sarwar

Allah does not bless usury, and He causes charitable deeds to prosper, and Allah does not love any ungrateful sinner.

— Muhammad Habib Shakir

Allah obliterateth usury, and increaseth the alms. And Allah loveth not any ingrate sinner.

— Abdul Majid Daryabadi

Allah will deprive usury of all blessing, but will give increase for deeds of charity: For He loveth not creatures ungrateful and wicked.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:276

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

سود کا کاروبار برکت سے محروم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ سود کو برباد کرتا ہے یعنی یا تو اسے بالکل غارت کردیتا ہے یا سودی کاروبار سے خیر و برکت ہٹا دیتا ہے علاوہ ازیں دنیا میں بھی وہ تباہی کا باعث بنتا ہے اور آخرت میں عذاب کا سبب، جیسے ہے آیت قل لا یستوی الخبیث والطیب الخ، یعنی ناپاک اور پاک برابر نہیں ہوتا گو تمہیں ناپاک کی زیادتی تعجب میں ڈالے۔ ارشاد فرمایا آیت ویجعل الخبیث بعضہ علی بعض فیر کم فیجعلہ فی جہنم۔ الایہ خباثت والی چیزوں کو تہ وبالا کرکے وہ جہنم میں جھونک دے گا اور جگہ ہے آیت (وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِيْٓ اَمْوَال النَّاسِ فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 320 ”اس آیت میں ایک ایسی صداقت بیان کی گئ ہے، جو اخلاقی و روحانی حیثیت سے بھی سراسر حق ہے اور معاشی و تمدنی حیثیت سے بھی۔ اگرچہ بظاہر سود سے دولت بڑھتی نظر آتی ہے اور صدقات سے گھٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، لیکن درحقیقت معاملہ اس کے برعکس ہے۔ خدا کا قانون فطرت یہی ہے کہ سود اخلاقی و روحانی اور معاشی و تمدنی ترقی میں نہ صرف مانع ہوتا ہے بلکہ تنزل کا ذریعہ بنتا ہے۔ اور اس کے برعکس صدقات سے (جن میں قرض حسن بھی شامل ہے) اخلاق و روحانیت اور تمدن و معیشت ہر چیز کو نشونما نصیب ہوتا ہے۔ اخلاقی و روحانی حیثیت سے دیکھیے، تو یہ بات بالکل واضح ہے کہ سود دراصل خود غرضی، بخل، تنگ دلی اور سنگ دلی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسری آیت میں جو یہ ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتے ہیں اور صدقات کو بڑھاتے ہیں، یہاں سود کے ساتھ صدقات کا ذکر ایک خاص مناسبت سے لایا گیا ہے کہ سود اور صدقہ دونوں کی حقیقت میں بھی تضاد ہے، اور ان کے نتائج بھی متضاد ہیں، اور عموماً ان دونوں کاموں کے کرنے والوں کی غرض ونیت بھی متضاد ہوتی ہے۔ حقیقت کا تضاد تو یہ ہے کہ صدقہ میں تو بغیر کسی معاوضہ کے اپنا مال دوسروں کو دیا جاتا ہے، اور سود میں بغیر کسی معاوضہ کے دوسرے کا مال لیا جاتا ہے، ان دونوں کاموں کے کرنے والوں کی نیت اور غرض اس لئے متضاد ہے کہ صدقہ کرنے والا محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی اور ثواب آخرت کے لئے اپنے مال کو کم یا ختم کردینے کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

محق کے معنی گھٹانے اور مٹانے کے ہیں۔ اسی سے محق اللہ الشیء نکلا جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے اس چیز کی برکت مٹادی۔ ارباء کے معنی بڑھانے اور زیادہ کرنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ سود خور تو یہ سمجھتا ہے کہ سود سے سرمایہ بڑھتا اور خیرات سے گھٹتا ہے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اللہ تعالیٰ سود کو گھٹاتا اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ یہ گھٹانا اور بڑھانا دنیوی زندگی کے محدود تصور کے لحاظ سے نہیں ہے بلکہ دنیا اور آخرت دونوں کی مجموعی زندگی کے لحاظ سے ہے۔ جب اخروی زندگی کی صبح ہوگی تو سود خور دیکھے گا کہ دنیا کے بنک میں تو اس کے لاکھوں روپے جمع تھے لیکن خدا کے بنک میں اس کی ایک کوڑی بھی نہیں ہے، صرف حسرت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 276–278

276۔ 1 یہ سود کے معنوی اور روحانی نقصان اور صدقے کی برکتوں کا بیان ہے۔ سود میں بظاہر بڑھوتری نظر آتی ہے لیکن معنوی حساب سے یا مال (انجام) کے اعتبار سے سودی رقم ہلاکت و بربادی ہی کا باعث بنتی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 275–281

184:" سود " یا " رباء " ہر اس زیادہ رقم کو کہا جاتا ہے جو کسی قرض پر طے کرکے وصول کی جائے، مشرکین کا کہنا تھا کہ جس طرح ہم کوئی سامان فروخت کرکے نفع کماتے ہیں اور اس کو شریعت نے حلال قرار دیا ہے، اسی طرح اگر قرض دے کر کوئی نفع کمائیں تو کیا حرج ہے ؟ ان کے اس اعتراض کا جواب تو یہ تھا کہ سامان تجارت کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ اسے بیچ کر نفع کمایا جائے، لیکن نقدی اس کام کے لئے نہیں بنائی گئی کہ اسے سامان تجارت بناکر اس سے نفع کمایا جائے، وہ تو ایک تبادلے کا ذریعہ ہے ؛ تاکہ اس کے ذریعہ اشیائے ضرورت خریدی اور بیچی جاسکیں، نقدی کا نقدی سے تبادلہ کرکے اسے بذات خود نفع کمانے کا ذریعہ بنالیا جائے تو اس سے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ............... ” اللہ تعالیٰ سود کا مٹھ ماردیتا ہے اور صدقات کو نشوونما دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے بدعمل انسان کو پسند نہیں کرتا ۔ “ اللہ تعالیٰ کا وعدہ بھی سچا ہے اور اس کی وعید بھی یقینی ہے ۔ ہمارے اس دور میں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ آج کے دورجدید میں جو معاشرے بھی سودی کاروبار کرتے ہیں ان کے افراد کے دلوں میں سکون اور اطمینان نصیب نہیں ہے ان معاشروں سے برکت اٹھ گئی ہے اور خوشحالی اور اطمینان قلب ختم ہے ۔ اللہ تعالیٰ ربا کو محو کرنا چاہتا ہے اس لئے وہ ایسے معاشرے پر اپنے فیوض وبرکات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 اللہ سود کے مال کو مٹاتا ہے یعنی اس میں برکت نہیں ہوتی بلکہ اصل مال بھی ضائع ہوجاتا ہے چناچہ حدیث میں ارشاد ہے کہ سود کا مال کتنا ہی بڑھ جائے انجام اسکا افلاس ہے اور خیرات کے مال کو بڑھانے سے یہ مطلب ہے کہ اس مال میں زیادتی ہوتی ہے اور اللہ برکت دیتا ہے اور اس کا ثواب بڑھایا جاتا ہے چناچہ احادیث میں وارد ہے۔ 5 مطلب یہ کہ سود لینے والے نے مالدار ہو کر اتنا بھی نہ کیا کہ محتاج کو قرض ہی بلا سود دے دیتا چاہیے تو یہ تھا کہ بطریق خیرات حاجت مند کو دیتا تو اب اس سے زیادہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کیا ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 276 یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ ط ہمارے زمانے میں شیخ محمود احمد مرحوم نے اپنی کتاب Man Money میں ثابت کیا ہے کہ تین چیزیں سود کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ جتنا سود بڑھے گا اسی قدر بےروزگاری بڑھے گی ‘ افراطِ زر inflation میں اضافہ ہوگا اور اس کے نتیجے میں شرح سود interest rate بڑھے گا۔ شرح سود کے بڑھنے سے بےروزگاری مزید بڑھے گی اور افراطِ زر میں اور زیادہ اضافہ ہوگا۔ یہ ایک دائرۂ خبیثہ vicious circle ہے اور اس کے نتیجے میں کسی ملک کی معیشت بالکل تباہ ہوجاتی ہے۔ یہ تباہی ایک وقت تک پوشیدہ رہتی ہے ‘ لیکن پھر یک دم اس کا ظہور بڑے بڑے بینکوں کے دیوالیہ ہونے کی صورت…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

395 اگرچہ بنظر ظاہر سود لینے سے مال بڑھتا اور صدقہ دینے سے گھٹتا نظر آتا ہے۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ سود کے مال میں برکت نہیں ہوتی اور مال حرام بود بجائے حرام رفت، والی بات بن جاتی ہے اور صدقات دینے سے اللہ تعالیٰ ایسی جگہ سے اس کا نعم البدل عطا فرماتا ہے جس کا اسے خود بھی وہم و گمان نہیں ہوتا اور یہ ایسی حقیقت ہے جو بارہا کئی لوگوں کے تجربہ میں آچکی ہے تاہم اسے عقلی دلائل سے ثابت کیا جاسکتا ہے اور دوسری صورت کو علم معیشت کی رو سے ثابت بھی کیا جاسکتا ہے اور وہ یہ ہے جس معاشرہ میں صدقات کا نظام رائج ہوتا ہے۔ اس میں غریب طبقہ (جو عموماً ہر معاشرہ میں زیادہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1074 ۔ آخرت میں تو اس وعدہ وعید دونوں کا مشاہدہ پوری طرح ہو کر ہی رہے گا کہ سود میں برکت وخیریت برائے نام بھی نظر نہ آئے گی۔ اور صدقات کا اجر بےحساب ملے گا۔ لیکن دنیا میں بھی اس کا ظہور کسی نہ کسی حد تک ہوتا ہی رہتا ہے۔ سود خوار قوموں کا انجام بارہا آپس کی خونریزی اور تباہی و بربادی ہی پر ہوا ہے اور افراد میں بھی مشاہدہ ہے کہ سود خواری کی عادت بینوں، مہاجنوں کے دل میں روپیہ کو فی نفسہ محبوب بنا دیتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سود خوار زرودولت سے دنیوی لطف بھی نہیں اٹھا پاتا۔ اس کے مقابل صدقہ کی برکتیں، ملی غمخواری وہمدردی، ایک دوسرے کی مشارکت ومعاونت قوم اور افراد دونوں میں مشاہدہ کی چیزیں ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 276–277

یَمْحَقُ اللہُ الرِّبوٰا وَیُرْبِی الصَّدَقَاتِ ، اس آیت میں جو یہ کہا گیا ہے کہ اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے یہاں سود کے ساتھ صدقات کا ذکر ایک خاص مناسبت سے کیا گیا ہے وہ یہ کہ سود اور صدقہ کی حقیقت میں تضاد ہے اور اس کے نتائج بھی مختلف ہیں اور عموماً ان دونوں کا موں کے کرنے والوں کی غرض اور نیت بھی متضاد ہوتی ہے۔ حقیقت کا تضاد تو یہ ہے کہ صدقہ میں تو بغیر کسی معاوضہ کے اپنا مال دوسروں کو دیا جاتا ہے اور سود میں بغیر کسی معاوضہ کے دوسرے کا مال لیا جاتا ہے۔ ان دونوں کاموں کے کرنے والوں کی نیت اور غرض اس لیے متضاد ہے کہ صدقہ کرنے والا محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے ایک مال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا (یعنی اللہ سود کی برکت دور کردیتا ہے اور جس مال میں سود داخل ہوجائے اس کو تباہ کردیتا ہے حضرت ابن مسعود راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس کسی کا مال سود سے زیادہ ہوگا آخر کار وہ قلت کی طرف جائے گا۔ (رواہ ابن ماجہ و صححہ الحاکم) دوسری روایت میں آیا ہے کہ سود کتنا ہی زیادہ ہوجائے اس کا انجام کمی کی جانب ہوگا۔ وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ ۭ : اور بڑھا تا ہے خیرات کو یعنی جس مال میں خیرات نکالی جاتی ہے اس میں برکت عطا فرماتا ہے اور ثواب چند گنا کردیتا ہے۔ ابوہریرہ ؓ کی مرفوع روایت اوپر گذر چکی ہے کہ اللہ خیرات کو قبول فرماتا ہے اور اس کو اس طرح بڑھاتا رہتا ہے جس طرح تم اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 275–276

(275۔ 276) اب اللہ تعالیٰ سود خوروں کا انجام کار بیان فرماتے ہیں کہ یہ لوگ قیامت میں اپنی قبروں سے اس طرح اٹھیں گے جیسا کہ دنیا میں شیطان کسی کو جنون سے خبطی اور دیوانہ بنا دے، آخرت میں یہ خبطی پن اور دیوانگی سود خور کی علامت اور نشانی ہوگی اور یہ عذاب اس وجہ سے ہوگا کہ ان لوگوں نے سود کو حلال سمجھنے کے لیے یہ جواز تراش لیا ہے کہ جب کسی چیز کو ادھار فروخت کیا جائے اور پھر اس کی قیمت پوری ہوجائے تو قرض میں اور اضافہ کرکے مدت بڑھا دینا اسی طرح حلال ہے کہ کسی چیز کے پہلی مرتبہ نقد فروخت کرنے پر نفع لینا جائز اور حلال ہے اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کے فروخت کرتے وقت پہلی مرتبہ نفع لینا حلال قرار دیا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا : یعنی سود کا مال بظاہر جتنا بھی بڑھ جائے حقیقت میں نہیں بڑھتا، فرمایا : (وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِيْٓ اَمْوَال النَّاسِ فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ ۚ) [ الروم : 39 ] ”اور جو کوئی سودی قرض تم اس لیے دیتے ہو کہ لوگوں کے اموال میں بڑھ جائے تو وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”سود خواہ کتنا ہی بڑھ جائے انجام اس کا قلت ہی ہوگا۔“ [ أحمد : 1؍424، ح : 4025، عن ابن مسعود و صححہ محققہ و وافقہ الألبانی فی صحیح ابن ماجہ ] وجہ اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سودی مال میں خیر و برکت عطا نہیں فرماتا، چناچہ سود خور پر دنیا بھی لعنت بھیجتی ہے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

مسئلہ نمبر : (27) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” یمحق اللہ الربوا “۔ یعنی دنیا میں اللہ تعالیٰ سود کو مٹا دے گا یعنی اس کی نمو ختم ہوجائے گی اگرچہ وہ زیادہ ہی ہو، حضرت ابن مسعود ؓ نے حضور نبی مکرم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : ان الربا وان کثر فعاقبتہ الی قل (بلاشبہ سود اگرچہ بہت زیادہ ہو اس کا انجام قلیل ہی ہے) اور یہ بھی کہا گیا ہے : یمحق اللہ الربا “۔ یعنی آخرت میں اللہ تعالیٰ سود کو مٹا دے گا، اللہ تعالیٰ کے ارشاد (آیت) ” یمحق اللہ الربوا “ کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس سے کوئی صدقہ، حج، جہاد، اور صلہ رحمی قبول نہیں کرے گا۔ المحق کا معنی النقص…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 276–277

(1) ابن جریر اور ابن المنذر نے ابن جریج کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” یمحق اللہ الربوا “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ سود کو گھٹاتے ہیں اور لفظ آیت ” ویربی الصدقت “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ صدقات کو بڑھاتے ہیں۔ (2) احمد ابن ماجہ ابن جریر اور حاکم نے (اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا سوداگر چہ زیادہ بھی ہو مگر اس کا انجام کمی کی طرف جائے گا۔ (3) عبد الرزاق نے معمر (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم نے یہ بات سنی ہے سود خور پر چالیس سال نہیں گذرتے تو وہ سود خود مٹ جاتا ہے۔ صدقہ کا اجر بڑھتا رہتا ہے (4) عبد الرزاق،…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[یَمْحَقُ : گھٹاتا ہے ] [اللّٰہُ : اللہ ] [الرِّبٰوا : سود کو ] [وَیُرْبِی : اور وہ بڑھاتا ہے ] [الصَّدَقٰتِ : صدقات کو ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [لَا یُحِبُّ : پسند نہیں کرتا ] [کُلَّ کَفَّارٍ اَثِیْمٍ : کسی گنہگار ناشکرے کو ] م ح ق مَحَقَ (ف) مَحْقًا : گھٹانا ‘ برکت ختم کردینا۔ آیت زیر مطالعہ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

صدقات کی برکات اور سود کی بربادی سود خوروں کی مذمت بیان فرمانے کے بعد اس آیت شریفہ میں سود اور صدقات کے درمیان ایک فرق عظیم بتایا ہے اور وہ یہ کہ صدقات کو اللہ تعالیٰ بڑھاتا ہے اور سود کے مال کو بےبرکت کردیتا ہے اور اس کو برباد اور تلف فرما دیتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ سود اگرچہ بہت ہوجائے اس کا انجام کمی کی طرف ہوجائے گا۔ (رواہ ابن ماجہ والبیہقی فی شعب الایمان و احمد کما فی المشکوٰۃ ص 246) دنیا میں سودی مالوں کی بےبرکتی تو سب کی نظروں کے سامنے ہے، سود خور ہمیشہ ایک کے دس کرنے ہی کے فکر میں رہتا ہے اور پیسہ ہی اس کی زندگی بن جاتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 275–281

احکام ربا (سود) ۔ قال تعالی، الذین یاکلون الربو۔۔۔ الی۔۔۔ لایظلمون۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں خیرات اور صدقات کا بیان تھا اب آئندہ آیات میں سود کے احکام ذکر فرماتے ہیں جو کہ صدقات اور خیرات کی ضد اور نقیض ہے اس لیے کہ صدقہ اور خیرات سے اخلاق اور مروت اور خلق اللہ کی نفع رسانی میں ترقی ہوتی ہے اور سود میں سراسر بےمروتی اور ضرر رسانی ہے صدقہ اور خیرات میں صلہ رحمی اور غریبوں کی امداد ہوتی ہے اور سود میں سخت دلی اور غریبوں زیادتی ہوتی ہے اس لیے صدقہ کی فضیلت کے بعد سود کی مذمت اور حرمت کا بیان نہایت مناسب ہوا تاکہ سود کی مذمت اور حرمت سے صدقہ کی فضیلت اور پختہ ہوجائے اور یہ معلوم ہوجائے کہ جس درجہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

541 محق کے معنی باطل کرنے اور گھٹانے کے ہیں والمحق النقصد والذھاب (قرطبی۔ ص 362 ج 3) مطلب یہ ہے کہ ربا سے کمائی ہوئی دولت میں برکت نہیں ہوتی اگرچہ مقدار میں وہ زیادہ ہی کیوں نہ ہو اور جس مال میں سود کی ملاوٹ ہوجائے گی اس کا انجام ضیاع ہوگا اور وہ مال کبھی نہ کبھی ضائع اور برباد ہو کر رہے گا۔ یذھب ببرکتہ ویھلک المال الذی یدخل فیہ (مدارک ص 108 ج 1) اس کے برعکس اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور خیرات دینے سے مال میں برکت ہوتی ہے اور مال بڑھتا ہے۔ ینمیھا ویزیدھا ای یزید المال الذی اخرجت منہ الصدقۃ ویبارک فیہ (مدارک ص 108 ج 1) وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيْمٍ ۔ کفار، کافر کا مبالغہ ہے۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 274–277

صدقہ بمقابلہ سود گزشتہ کئی دروس میں صدقہ کا بیان آتا ہے اور گزشتہ درس میں صدقات سے متعلق ساتویں بات یعنی اس کے بہترین مصرف کا ذکر تھا۔ اب آج کے درس میں پہلے صدقات ہی کے ضمن میں ان کی فضلیت بیان کی گئی ہے اور پھر اس کے مقابلے میں سود کی مذمت ہے ، صدقہ و خیرات کرنے سے انسان کے اندر فیاضی کا مادہ پیدا ہوتا ہے اور بخل دور ہوتا ہے۔ اس کے سبب انسان کے اندر بنی نوع انسان کے لیے جذبہ ہمدردی پیدا ہوتا ہے ، مکارم اخلاق کی تکمیل ہوتی ہے ، اور پھر یہی خصائل انسان کی نجات کا ذریعہ بن جاتے ہیں ۔ بر خلاف اس کے سود خور میں بخل کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔ اخلاق کا جنازہ نکلتا ہے اور لا محدودپیمانہ پر مال جمع کرنے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ۝ 0 ۭ وَاللہُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيْمٍ۝ 276 محق المَحْقُ : النّقصان، ومنه : المِحَاقُ ، لآخر الشهر إذا انْمَحَقَ الهلال، وامْتَحَقَ ، وانْمَحَقَ ، يقال : مَحَقَهُ : إذا نقصه وأذهب بركته . قال اللہ تعالی: يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبا وَيُرْبِي الصَّدَقاتِ [ البقرة/ 276] ، وقال : وَيَمْحَقَ الْكافِرِينَ [ آل عمران/ 141] . ( م ح ق ) المحق کے معنی گھٹنے اور کم ہونے کے ہیں اور اسی سے المحاق قمری مہینہ کی ان آخری راتوں کو کہتے ہیں جن میں چاند نمودار نہیں ہوتا ۔ انمحق وامتحق کے معنی کم ہونا اور مٹ جانا ہیں اور محقہ کے معنی کسی چیز کو کم کرنے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 275–277

ترکیب : الذین یاکلون الخ مبتداء لا یقومون الخ جملہ خبر کما کاف موضع نصب میں ہے صفت ہے مصدر محذوف کی تقدیرہ الا قیاما مثل قیام الذی الخ ذلک مبتداء بانہم الخ خبر ‘ من المس متعلق ہے یتخبطہ سے فمن جاء شرط فلہ ماسلف جواب ‘ وامرہ معطوف جواب پر ومن عاد شرط فاولئک جواب الذین آمنوا اسم ان لہم اجر خبر۔ تفسیر : صدقہ و خیرات کے بعد سود کی برائیاں بیان کرنا اور اس کو حرام کردینا گویا صدقہ و خیرات کے بیان کو پورا کردینا ہے۔ کس لیے کہ جس طرح صدقہ و خیرات میں رحمدلی اور مسکینوں اور غریبوں کی دستگیری ہے اسی طرح سود میں سخت دلی اور حاجت مندوں پر سخت گیری ہے۔ یہ اس کی پوری ضد ہے۔ ہم پہلے الفاظِ آیت کی تفسیر پھر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقَاتِ ط وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ کَفَّارٍ اَثِیْمٍ ۔ (اللہ سود کو گھٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ اور اللہ ناشکروں اور حق تلفی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا) (276) اس آیت کریمہ میں اللہ نے ایک ایسی بات ارشاد فرمائی ہے جو نظر بہ ظاہر خلاف عقل معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ یہاں ربا کے مقابلے میں صدقات کا لفظ آیا ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ صدقات صدقہ کی جمع ہے اور صدقہ اپنے مال میں سے ایک حصہ یا اپنی اشیاء میں سے کوئی چیز اللہ کے راستے میں دینے کا نام ہے۔ اور ربا اپنے مال پر نفع لینے کا نام ہے۔ اصل راس المال محفوظ رہے اور اس کے ساتھ منافع بھی وصول ہو تو صاف…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ سود خور سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا ہے۔ سود کے بارے میں اسلام نے صرف انفرادی اور اخلاقی سطح پر مذّمت نہیں کی بلکہ اسے قانونی شکل دے کر انفرادی اور اجتماعی نظام میں سرکاری سطح پر حرام قرار دیا۔ اس فرمان میں پھر کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سود کو ہر صورت مٹانا اور صدقات کو بڑھانا چاہتا ہے۔ جو لوگ سود کے حق میں پروپیگنڈہ اوراقدام کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ فکری ونظری اور علمی و عملی طور پر نافرمان اور مجرم ٹھہریں گے۔ رسول معظم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر یہ اعلان فرمایا کہ آج کے بعد سود کے واجبات کا لین دین حرام قرار دیتا ہوں اور سب سے پہلے اپنے چچا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 276 : یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا (اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتے ہیں) یعنی اس کی برکت کو دور کردیتے ہیں۔ اور اس مال کو تلف کردیتے ہیں جس میں سود شامل ہوجائے۔ وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ (اور صدقات کو بڑھاتے ہیں) یعنی اضافہ کرتے اور بڑھاتے ہیں اس مال میں اضافہ کرتے ہیں جس سے صدقہ نکالا جائے اور اس میں برکت دیتے ہیں۔ حدیث میں وارد ہے زکوٰۃ مال میں کمی نہیں کرتی۔ (مسلم) وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ کَفَّارٍ (اللہ تعالیٰ کسی کافر کو پسند نہیں کرتے) کفار بڑا کافر اس لئے کہ اس نے ربا کو حلال قرار دیا۔ اَثِیْمٍ (گنہگار یعنی سود کھا کر گناہ پر اڑنے والا)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 276۔: (آیت)” ویمحق اللہ الربوا۔۔۔۔۔۔۔ کفار اثیم “۔ (اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتے ہیں) اس کو کم کرتے اور اس کے ذریعے مال کی ہلاکت اور اس کے ذریعے سے برکت ختم ہوجاتی ہے ، ضحاک (رح) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ (آیت)” یمحق اللہ الربوا “۔ کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے نہ صدقہ قبول کرتے ہیں نہ جہاد ، نہ حج اور نہ ہی کوئی صلہ رحمی (ویربی الصدقات اور صدقات کو بڑھاتے ہیں) اس کے ثمرات اور ان کے لیے دنیا میں برکت اور اس کے لیے دگنا اجر اور آخرت میں ثواب دیا جائے گا (واللہ ۔۔۔۔۔۔۔ کفار) اور اللہ تعالیٰ کسی کفر کرنے والے اور گناہ گار کو پسند نہیں کرتے) اس سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 275–277

(275 ۔ 277) ۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان نیک لوگوں کا ذکر فرمایا تھا جو بذریعہ صدقہ و خیرات کے اپنے مال سے دنیا میں خلق اللہ کو نفع پہنچاتے ہیں اور عقبیٰ میں اس خیرات کے اجر کی اللہ سے توقع رکھتے ہیں اس آیت میں ان لوگوں کے مقابل ان بد لوگوں سود خوروں کا ذکر فرمایا ہے جنہوں نے اپنے مال کے طفیل میں اپنی دین دنیا کو خراب اور خوار کردیا۔ مسند امام احمد وغیرہ کی شب معراج کی حدیث میں آپ نے فرمایا ہے کہ دوزخ میں کچھ لوگ آپ نے دیکھے جن کے پیٹ بڑے بڑے گھر اور کوٹھوں کے برابر ہیں اور ہزارہا سانپ اور بچھو ان کے پیٹوں میں بھرے ہیں 3۔ دنیا میں ایک سانپ یا بچھو کسی کو کاٹتا ہے توہ وہ بادلوں کی طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 275–281

آیت 275-281 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سود خوروں کا انجام بدبیان فرمایا ہے۔ وہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھیں گے : (الا کما یقوم الذی یتخبطہ الشیطن من المس) ” تو ان کی حالت یہ ہوگی گویا انہیں شیطان نے پاگل بنادیا ہے۔ یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو حیران پریشان ہوں گے۔ انہیں سخت سزا ملنے کا یقین ہوگا۔ : (قالوآ انما البیع مثل الربوا) ” انہوں نے کہا تھا : تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے۔ “ یہ بات کوئی ایسا جاہل ہی کہہ سکتا ہے جو جہالت کے انتہائی درجے تک پہنچا ہوا ہو، یا دین کا انتہائی دشمن کہہ سکتا ہے۔ جس طرح ان کی عقلیں اوندھی ہوگئی تھیں تو اس کا بدلہ بھی یہ ملے گا کہ ان کی حالت پاگلوں کے مشابہ ہوگی۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 276–278

قول باری ہے (یآیھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ وذروا مابقی من الربوٰ ان کنتم مؤمنین ۔ فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ۔ (a) اے ایمان والو ! خدا سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو ۔ اگر واقعی تم ایمان لائے ہو لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا تو آگاہ ہوجائو کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے) ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ آیت میں دو معنوں کا احتمال ہے۔ ایک معنی یہ ہے کہ ” اگر تم اللہ کے حکم کو قبول نہ کرو اور اس کے آگے جھک نہ جائو۔ “ اور دوسرا معنی یہ ہے کہ سود ترک کردینے کے حکم کے نزول کے بعد بھی لوگوں کے ذمہ اپنا باقی رہ جانے والا سود نہ چھوڑو تو سود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 275–276

789 سود خوروں کا عبرتناک اور ہولناک انجام : سو سود خور انسان دنیاوی مال و دولت کے عشق میں اور اس کے خبط میں گرفتار و مبتلاء ہو کر خود کو اسی کے قابل بنا دیتا ہے۔ اس دنیا میں بھی اس کا حال یہی ہوتا ہے، کہ ہر وقت اس پر یہی دھن سوار رہتی ہے، اور وہ اسی کے خبط میں مبتلاء اور حیراں و سرگرداں رہتا ہے، کہ مال کس طرح اکٹھا کیا جائے اور کسطرح زیادہ سے زیادہ جوڑ جوڑ کر اور سمیٹ سمیٹ کر رکھا جائے، اور اتنا اور اس قدر کہ اس کے لیے ان کے یہاں کوئی حد اور انتہاء ہی نہیں ہوتی، مگر یہاں یعنی اس دنیا میں اصل حقائق پر چونکہ پردے پڑے ہوئے ہیں، اس لئے وہ سامنے نظر نہیں آسکتے، جبکہ کل آخرت کے اس جہاں میں جو کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 276–277

سود اور خیرات کا موازنہ تشریح : سود کے بارے میں تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں مزید وضاحت اس صورت سے کی جارہی ہے کہ ہمیں ضرورت سے زیادہ مال ضرورت مند لوگوں کو دے دینا چاہئے، کیونکہ یہ ہم پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے اور ہمیں ضرورت مند لوگوں کو دیکر اس کی رضا حاصل کرنی چاہیے۔ اور اگر ہم مفلس کی مدد اپنے فالتو مال سے نہ کریں تو گویا ہم نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا، بلکہ اس مال کو سود پردے کر غریبوں کو اور بھی غریب کرنا شروع کردیا۔ بھلا یہ بات کون پسند کرسکتا ہے اور اللہ کو بھی یہ ناپسند ہے، کیونکہ یہ انسانیت کے خلاف ہے پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوشخبری سناتا ہے جو ایمان لاتے اور حکم…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 274–281

274 تا 281 اسرارو معارف الذین ینفقون…………ولاھم یحزنون۔ جو لوگ دن رات ظاہر پوشیدہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں یعنی جیسے ضرورت پیش آئے اسے پورا کرنے کو لپکتے ہیں۔ اعلانیہ دینا پڑے یا چھپا کر ، رات ہو یا دن کا وقت نہ تاخیر کرتے ہیں اور نہ کسی حالت کو آڑے آنے دیتے ہیں جیسے سیدنا صدیق اکبر ؓ ، کہ شاعر مشرق (رح) نے کیا خوب کہا ہے ؎ آں امن الناس بر مولائے ما آں حکیم وادی سینائے ما دولت اوکشت ملت راچوں ابر ثانی اثنین وغار وبدر وقبر یا دیگر جملہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جن کے صدقات اور مالی جانی قربانیوں سے تاریخ عالم مزین ہے اور چشم فلک حیران۔ ایسی قوم نہ سورج نے ان سے پہلے دیکھی اور نہ ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی سود کا مال بظاہر کتنا ہی بڑھ جائے۔ اللہ تعالیٰ اس میں خیر و برکت عطا فرماتا چناچہ سود خوار پر دنیا بھی لعنت بھیجتی ہے اور آخرت میں بھی اسے وہ سزا ملے گی جو کسی دوسرے مجرم کو نہ ملے گی۔ ایک حدیث میں ہے کہ سود خواہ کتنا ہی بڑھ جائے انجام کا روبار وہ کم ہی ہوتا ہے۔ (ابن کثیر) اس کے مقا بلہ میں صدقہ و خیرات میں برکت ہوتی ہے۔ صحیحین وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ر ضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے کہ جس شخص نے اپنی پاکیز ہ کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ دیا اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے اور بڑھاتا ہے حتی کہ وہ احد پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔ (قرطبی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:276) یمحق مضارع واحد مذکر غائب محق (باب فتح) وہ گھٹاتا ہے۔ محق مٹانا۔ گھٹانا۔ کسی چیز کی طرکت زائل کردینا۔ بےبرکت بنانا۔ یربی۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ارباء (افتعال) مصدر۔ ربو۔ ربوۃ۔ رباط۔ ٹیلہ۔ بلندی۔ وہ بڑھاتا ہے۔ الصدقت۔ زکوتیں۔ خیراتیں۔ کفار اثیم۔ موصوف وصفت۔ کفار۔ کافر سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت ناشکرا۔ اثم۔ بروزن فعیل بمعنی فاعل (اثم) گنہگار۔ اثم یاثم (باب ضرب) اثم واثام و اثم۔ مصدر ۔ بمعنی گناہ کا ارتکاب کرنا۔ کل کفار اثیم۔ ہر گنہگار۔ ناشکرا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 275–279

لغات القرآن : آیت نمبر 275 تا 279 یا کلون (وہ کھاتے ہیں) ۔ الربوا (سود) ۔ لا یقومون (وہ کھڑے نہ ہوں گے ) ۔ یتخبطہ (جس کو خبطی اور دیوانہ بنا دیا ہو) ۔ المس (چھونا) ۔ البیع (تجارت) ۔ مثل الربوا (جیسے سود لینا) ۔ احل (حلال کردیا ) ۔ حرم (حرام کردیا) ۔ موعظۃ (نصیحت) ۔ انتھی (وہ رک گیا) ۔ سلف (جوگذر گیا) ۔ امرہ (اس کا معاملہ، اس کا اختیار) ۔ عاد جو پلٹ گیا) ۔ یمحق (مٹا دے گا) ۔ یربی (پالے گا، پروان چڑھائے گا) ۔ کفار (ناشکرا) ۔ اثیم (گناہ گار ) ۔ ذروا (تم چھوڑ دو ) ۔ مابقی (جو باقی رہ گیا ہے) ۔ فاذنوا (پھر تیار ہوجاؤ، پھر خبردار ہوجاؤ) ۔ حرب (جنگ) ۔ تبتم (تم نے توبہ کرلی) ۔ رؤس اموال (اصل مال،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 276–278

[187] یعنی اگرچہ بظاہر سود سے دولت بڑھتی نظر آتی ہے اور صدقات سے گھٹتی محسوس ہوتی ہے لیکن در حقیقت معاملہ اس کے برعکس ہے۔ سود اخلاقی و روحانی، معاشی و تمدنی ترقی میں نہ صرف مانع ہوتا ہے بلکہ تنزل کا ذریعہ بنتا ہے اور اس کے برعکس صدقات سے ( جن میں قرض حسن بھی شامل ہے) اخلاق و روحانیت اور تمدن و معیشت ہر چیز کو نشوونما نصیب ہوتا ہے۔ [188] جس شخص کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کی اپنی ضرورت سے زیادہ مال دے اور وہ اس مال سے لوگوں کو نفع پہنچانے کی بجائے ان کی ایذا رسانی میں خرچ کرے تو اس سے بڑھ کر ناشکرا اور بد عمل اور کون ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

یمحق اللہ الربوا : (ف 2) اس آیت اک ایک سیدھا سادا مفہوم تو یہ ہے ربو یا سود میں برکت نہیں ہوتی اور صدقات میں خدا اضافہ ونمود کی استعداد پیدا کردیتا ہے یعنی سود خوار کا مال بالآخر برباد ہوتا ہے ، اس کی نالائق اولاد اہل اور عیاش ہوجاتی ہے ، جس سے مال و دولت جو محنت سے جمع کیا جاتا ہے ، سرعت سے برباد ہوجاتا ہے ، بخلاف مرد مومن کے جو اپنا منتہائے نظر بلند اور وسیع رکھتا ہے ، اس کے مال میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اس کی اولاد صالح ہوتی ہے ، وہ دیکھتی ہے ہمارا والد کس درجہ اصالح تھا ، وہ اس کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتی ہے ، اس لئے کہ ان کا باپ ان کے لئے ایک بہترین اسوہ حیات چھوڑ کر مرتا ہے ، وہ مال و…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1۔ اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور صدقات کی پرورش کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی نا سپاس کفر کرنے والے گناہ کرنے والے کو پسند نہیں کرتا ۔ ( تیسیر) مطلب صاف ہے کہ سود کو ہماری حمایت اور ہمدردی حاصل نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سود کو مٹانے کے درپے ہے اگر دنیا میں سود خوار کو مالی نقصان نہ بھی ہو تو آخرت میں تو یقینا خالی ہاتھ بلکہ مجنون و پاگل ہو کر اٹھے گا اور دنیا میں بھی اتنا تو ہوتا ہی ہے کہ سود خوار کے مال میں برکت نہیں ہوتی اور سود خوار کی طبیعت میں اس جرم سے بہت سی اخلاقی خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں ۔ لالچ حرص ، بخل ، بےرحمی ، طاعت کی توفیق کا سلب ہوجانا یہ وہ بیماریاں ہیں جو ہر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ کبھی تو دنیا ہی میں سب برباد ہوجاتا ہے ورنہ آخرت میں تو یقینا بربادی ہے کیونکہ وہاں اس پر عذاب ہوگا۔ 3۔ کبھی تو دنیا میں بھی ورنہ آخرت میں تو یقینا بڑھتا ہے کیونکہ وہاں اسپر بہت ثواب ملے گا جیسا اوپرآیات میں مذکور ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سود کیا ہے ؟ ” اللہ سود کو مٹاتا ہے “ کا مطلب ؟ 486: سود کیا ہے ، سود کی تعریف اس طرح کی گئی ہے : الامر الذی کان مشھورا متعارفا فی الجاھلیۃ انھم کانوا یدفعن المال علٰی ان یاخذوا کل شھرا قدرا معینا و یکون رأس المال باقیا ثم إذا حل الدین طالبوا المدیون برأس المال فان تعذر علیہ الاداء ازدادوا فی الحق والاجل . (کبیر رازی) زمانہ جاہلیت میں ربوا ایک مشہور و متعارف امر تھا۔ جس میں امیر غریب کا کوئی تصور موجود نہ تھا ، ان کا قاعدہ یہ تھا کہ وہ اس شرط پر قرض دیتے کہ ہر ماہ ایک معین رقم وصول کرلیا کریں گے اور اصل رقم بدستور باقی رہے گی۔ پھر جب قرض کے ادا کرنے کا وقت آجاتا تو قرضدار سے رأس المال طلب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Sayings Of The Holy Prophet ﷺ About ربا riba or Interest: عن النبی ﷺ قال : اجتنبوا السبع المبقات ، قالوا (سَٔلوا): یا رسول اللہ ﷺ ! قال : اَلشِّرک والسحر، وقتل النفس التی حرم اللہ الا بالحق ، واکل الربوا ، واکل مال الیتیم والتولی یوم الزحف ، وقذف المحصنات الغافلات (رواہ البخاری و مسلم و ابوداؤد والنسای) "Abstain from the seven disasters." The people asked him: "What are they, 0 Messenger of Allah?" He replied: "To ascribe partners to Allah, to practice sorcery, to unjustly kill one whom Allah has declared inviolable, to take ربا riba (interest or usury), to exploit the property of an orphan,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

320. The fact stated in this verse is a truism from a moral and spiritual as well as from an economic and social viewpoint. For, although wealth apparently multiplies through interest and shrinks as a result of charity, in actual fact the opposite is the case. By God's decree, the law of nature is such that interest not only serves as a strain on moral and spiritual well-being, and social and economic growth, it also causes actual regression and decline. Charity, however, (including such acts as lending money to people with the stipulation that they should return it if they can. and at their…

Read the full tafseer →