تجارت اور سود کو ہم معنی کہنے والے کج بحث لوگ
چونکہ پہلے ان لوگوں کا ذکر ہوا ہے جو نیک کا (صدقہ خیرات کرنے والے زکوتیں دینے والے حاجت مندوں اور رشتہ داروں کی مدد کرنے والے غرض ہر حال میں اور ہر وقت دوسروں کے کام آنے والے تھے تو ان کا بیان ہو رہا ہے جو کسی کو دینا تو ایک طرف رہا دوسروں سے چھیننے ظلم کرنے اور ناحق اپنے پرایوں کا مال ہضم کرنے والے ہیں، تو فرمایا کہ یہ سودخور لوگ اپنی قبروں سے ان کے بارے میں دیوانوں اور پاگلوں خبطیوں اور بیہوشوں کی طرح اٹھیں گے، پاگل ہوں گے، کھڑے بھی نہ ہوسکتے ہوں گے، ایک قرأت میں من المس کے بعد یوم القیامۃ کا لفظ بھی ہے، ان سے کہا جائے گا کہ لو اب ہتھیار تھام لو…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 315
اصل میں لفظ ”رِبٰوا“ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی عربی میں زیادتی اور اضافے کے ہیں۔ اصطلاحاً اہل عرب اس لفظ کو اس زائد رقم کے لیے استعمال کرتے تھے جو ایک قرض خواہ اپنے قرض دار سے ایک طے شدہ شرح کے مطابق اصل کے علاوہ وصول کرتا ہے۔ اسی کو ہماری زبان میں سود کہتے ہیں۔ نزول قرآن کے وقت سودی معاملات کی اور شکلیں رائج تھیں اور جنہیں اہل عرب ”رِبٰوا“ کے لفظ سے تعبیر کرتے تھے وہ یہ تھیں کہ مثلاً دوسرے شخص کے ہاتھ کوئی چیز فروخت کرتا اور ادائے قیمت کے لیے ایک مدت مقرر کردیتا۔ اگر وہ مدت گزر جاتی اور قیمت ادا نہ ہوتی، تو پھر وہ مزید مہلت دیتا اور قیمت میں اضافہ کردیتا۔ یا مثلاً ایک…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
جو لوگ سود کھاتے ہیں (یعنی لیتے ہیں) نہیں کھڑے ہوں گے (قیامت میں قبروں سے) مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے ایسا شخص جس کو شیطان نے خبطی بنادیا ہو لپٹ کر (یعنی حیران مدہوش) یہ سزا اس لئے ہوگی کہ ان (سود خوار) لوگوں نے (سود کے حلال ہونے پر استدلال کرنے کے لئے) کہا تھا کہ بیع بھی تو مثل سود کے ہے (کیونکہ اس میں بھی مقصود نفع حاصل کرنا ہوتا ہے، اور بیع یقیناً حلال ہے پھر سود بھی جو کہ اس کا مثل ہے حلال ہونا چاہئے) حالانکہ (دونوں میں کھلا فرق ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے (جو کہ مالک ہیں احکام کے) بیع کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کردیا ہے (اس سے زیادہ اور کیا فرق ہوگا) پھر جس شخص کو اس کے…
Read the full tafseer →لفظ“ رِبوا ”کا مفہوم : رَبَا یَرْبُوْ رِبَاءً کے معنی بڑھنے اور زیادہ ہونے کے ہیں۔ اسی سے رِبوٰ ہے جس سے مراد وہ معین اضافہ ہوتا ہے جو ایک قرض دینے والا مجرد مہلت کے عوض اپنے مقروض سے اپنی اصلی رقم پر وصول کرتا ہے۔ جاہلیت اور اسلام دونوں میں یہ اصطلاح مذکورہ مفہوم کے لیے مشہور رہی ہے۔ اس کی شکلیں مختلف رہی ہیں۔ لیکن اس کی اصل حقیقت یہی ہے کہ قرض دینے والا قرضدار سے ایک معین شرح پر صرف اس حق کی بنا پر اپنے دیے ہوئے روپے کا منافع وصول کرے کہ اس نے ایک خاص مدت کے لیے اس کو روپے کے استعمال کی اجازت دی ہے۔ اس امر کو اس کی حقیقت کے تعین میں کوئی دخل نہیں ہے کہ قرض کسی غریب و نادار کو دیا گیا ہے یا…
Read the full tafseer →275۔ 1 رِبَوا کے لغوی معنی زیادتی اور اضافے کے ہیں اور شریعت میں اس کا اطلاق رِبَا الفَضْلِ اور ربا النسیئۃ پر ہوتا ہے۔ ربا الفضل اس سود کو کہتے ہیں جو چھ اشیا میں کمی بیشی یا نقد و ادھار کی وجہ سے ہوتا ہے (جس کی تفصیل حدیث میں ہے) مثلا گندم کا تبادلہ گندم سے کرنا ہے تو فرمایا گیا ہے کہ ایک تو برابر برابر ہو۔ دوسرے ہاتھوں ہاتھ ہو۔ اس میں کمی بیشی ہوگی تب بھی اور ہاتھوں ہاتھ ہونے کے بجائے ایک نقد اور دوسرا ادھار یا دونوں ہی ادھار ہوں تب بھی سود ہے) ربا النسیئۃ کا مطلب ہے کسی کو (مثلا) چھ مہینے کے لیے اس شرط پر سو روپے دینا کہ واپسی 125 روپے ہوگی۔ 25 روپے چھ مہینے کی مہلت کے لیے دیے جائیں۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 275–281
184:" سود " یا " رباء " ہر اس زیادہ رقم کو کہا جاتا ہے جو کسی قرض پر طے کرکے وصول کی جائے، مشرکین کا کہنا تھا کہ جس طرح ہم کوئی سامان فروخت کرکے نفع کماتے ہیں اور اس کو شریعت نے حلال قرار دیا ہے، اسی طرح اگر قرض دے کر کوئی نفع کمائیں تو کیا حرج ہے ؟ ان کے اس اعتراض کا جواب تو یہ تھا کہ سامان تجارت کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ اسے بیچ کر نفع کمایا جائے، لیکن نقدی اس کام کے لئے نہیں بنائی گئی کہ اسے سامان تجارت بناکر اس سے نفع کمایا جائے، وہ تو ایک تبادلے کا ذریعہ ہے ؛ تاکہ اس کے ذریعہ اشیائے ضرورت خریدی اور بیچی جاسکیں، نقدی کا نقدی سے تبادلہ کرکے اسے بذات خود نفع کمانے کا ذریعہ بنالیا جائے تو اس سے…
Read the full tafseer →درس 20 ایک نظر میں
گزشتہ سبق میں ، اسلامی نظام زندگی میں انفاق فی سبیل اللہ اور صدقہ کا دستور اور طریقہ بیان کیا گیا تھا۔ یہاں انفاق اور صدقے کا عین صفحہ بالمقابل الٹا جاتا ہے ۔ یعنی نظام ربا اور اس کے ظالمانہ اور سیاکارانہ نتائج صدقہ میں تو داد وہش ، احسان و پاکیزگی ہے اور طہارت وجوانمردی ہے ۔ باہم تعاون اور تکافل ہے ۔ جبکہ سود خوری میں بخل اور کنجوسی ، گندگی اور نجاست ، خود غرضی اور ذاتی مفاد ہے ۔
صدقہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اس میں دنیا میں مال کو ترک کرلیا جاتا ہے ۔ اور بظاہر اس کا کوئی عوض یا بدلہ نہیں لیا جاتا اور ربا کا خلاصہ یہ ہے قرض روپیہ واپس لینے کے ساتھ ساتھ سود خور کچھ زیادہ بھی وصول…
Read the full tafseer →2 یعنی ربوٰا کھانے والے قیامت کو قبروں سے ایسے اٹھیں گے جیسے آسیب زدہ اور مجنون اور یہ حالت اس واسطے ہوگی کہ انہوں نے حلال و حرام کو یکساں کردیا اور صرف اس وجہ سے کہ دونوں میں نفع مقصود ہوتا ہے دونوں کو حلال کہا حالانکہ بیع اور ربوا میں بڑا فرق ہے کہ بیع کو حق تعالیٰ نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ فائدہ بیع میں جو نفع ہوتا ہے وہ مال کے مقابلہ میں ہوتا ہے جیسا کسی نے ایک درہم کی قیمت کا کپڑا دو درہم کا فروخت کیا اور سود وہ ہوتا ہے جس میں نفع بلا عوض ہو جیسے ایک درہم سے دو درہم خرید لیوے اول صورت میں چونکہ کپڑا اور درہم دو جدا جدا قسم کی چیزیں ہیں اور نفع اور غرض ہر ایک کی دوسرے سے علیحدہ ہے…
Read the full tafseer →فرمایا :
آیت 275 اَلَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ الرِّبٰوا لاَ یَقُوْمُوْنَ الاَّ کَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ط
یہاں عام طور پر یہ سمجھا گیا ہے کہ یہ قیامت کے دن کا نقشہ ہے۔ قیامت کے دن کا یہ نقشہ تو ہوگا ہی ‘ اس دنیا میں بھی سود خوروں کا حال یہی ہوتا ہے ‘ اور ان کا یہ نقشہ کسی سٹاک ایکسچینج میں جا کر بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔ معلوم ہوگا گویا دیوانے ہیں ‘ پاگل ہیں ‘ جو چیخ رہے ہیں ‘ دوڑ رہے ہیں ‘ بھاگ رہے ہیں۔ وہ نارمل انسان نظر نہیں آتے ‘ مخبوط الحواس لوگ نظر آتے ہیں جن پر گویا آسیب کا سایہ ہو۔
ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوْٓا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا 7
کوئی…
Read the full tafseer →392 یہ دراصل سود خور یہودیوں کا قول ہے اور آج کل بہت سے مسلمان بھی اسی نظریہ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ سودی قرضے دراصل دو طرح کے ہوتے ہیں ( : 1) ذاتی قرضے یا مہاجنی قرضے یعنی وہ قرضے جو کوئی شخص اپنی ذاتی ضرورت کے لئے کسی مہاجن یا بنک سے لیتا ہے اور دوسرے تجارتی قرضے جو تاجر یا صنعت کار اپنی کاروباری اغراض کے لئے بنکوں سے سود پر لیتے ہیں۔ اب جو مسلمان سود کے جواز کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ جس سود کو قرآن نے حرام کیا ہے وہ ذاتی یا مہاجنی قرضے ہیں جن کی شرح سود بڑی ظالمانہ ہوتی ہے اور جو تجارتی سود ہے وہ حرام نہیں۔ کیونکہ اس دور میں ایسے تجارتی سودی قرضوں کا رواج ہی نہ تھا۔ نیز ایسے…
Read the full tafseer →ف۔ 1066 ۔ (اسے جائز قرار دے کر) یاکلون الربوا سے مراد اردو محاورہ میں سود لینا ہے۔ عربی اور فارسی محاورہ میں سود کھانا آتا ہے۔ اور اردو میں بھی سود کھانا نامانوس نہیں۔ (آیت) ” الربوا “۔ ربو کے لغوی معنی ہر زیادتی اور اضافہ کے ہیں خصوصا سرمایہ میں اضافہ کے۔ ربا ای زاد وعلا (راغب) الربا الزیادۃ فی راس المال (راغب) اصطلاح شریعت میں ربوا کہتے ہیں اصل قرضہ پر زیادتی کو یا بلامعاوضہ مال، مال پر زیادتی کو، خواہ یہ بڑی ہو یا چھوٹی۔ خص فی الشرع بالزیادۃ علی وجہ دون وجہ (راغب) ھو فضل مال خال عن العوض فی معاوضۃ مال بمال (مدارک) اہل عرب اس لفظ کو اس زائد رقم کے لیے استعمال کرتے تھے جو قرض خواہ اپنے قرض…
Read the full tafseer →اَلَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ الرِّبوٰا لَایَقُوْمُوْنَ اِلَّا کَمَا یَقُوْنُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ۔ ” ربوا “ کے معنی زیادتی اور اضافہ کے ہیں اور شریعت میں اس کا استعمال ربا الفضل اور ربا النسیئہ پر ہوتا ہے ربا الفضل اس کو کہتے ہیں جو اشیاء میں بلا عوض حاصل ہوتا ہے اور ربا النسیئہ اس فائدہ کو کہتے ہیں جو مدت کے عوض حاصل ہو۔ اصطلاح میں ربوا اس زائد رقم کے لیے استعمال کرتے ہیں جو ایک قرض خواہ اپنے قرض دار سے ایک طے شدہ شرح کے مطابق اصل کے علاوہ وصول کرتا ہے اسی کو ہماری زبان میں سود کہتے ہیں۔
نزول قرآن کے وقت سودی معاملات کی متعدد شکلیں رائج تھیں۔ اور وہ یہ تھیں مثلاً ایک…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا ( جو لوگ سود کھاتے ہیں) الرِّبوا کو الصلٰوۃ کی طرح واؤ کے ساتھ ان لوگوں کے نزدیک لکھا جاتا ہے جو اس کو پُر پڑھتے ہیں اور الربوا کی کتابت میں واؤ کے بعد الف بھی لکھا جاتا ہے کیونکہ یہ واؤ جمع کے مشابہ ہے۔
لَا يَقُوْمُوْنَ ( یعنی وہ اپنی قبروں سے نہیں اٹھیں گے۔ عبد الرزاق نے اپنی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن سلام کی روایت سے یہی مطلب لکھا ہے۔
اِلَّا كَمَا يَقُوْمُ الَّذِيْ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ( مگر اس طرح اٹھیں گے جیسے جن کے جھپٹے میں آیا ہوا شخص اٹھتا ہے۔ ) شیطان سے مراد ہے جن۔ خبط کا معنی ہے سخت ضرب جس کے ساتھ بگاڑ بھی ہو۔ قاموس میں ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 275–276
(275۔ 276) اب اللہ تعالیٰ سود خوروں کا انجام کار بیان فرماتے ہیں کہ یہ لوگ قیامت میں اپنی قبروں سے اس طرح اٹھیں گے جیسا کہ دنیا میں شیطان کسی کو جنون سے خبطی اور دیوانہ بنا دے، آخرت میں یہ خبطی پن اور دیوانگی سود خور کی علامت اور نشانی ہوگی اور یہ عذاب اس وجہ سے ہوگا کہ ان لوگوں نے سود کو حلال سمجھنے کے لیے یہ جواز تراش لیا ہے کہ جب کسی چیز کو ادھار فروخت کیا جائے اور پھر اس کی قیمت پوری ہوجائے تو قرض میں اور اضافہ کرکے مدت بڑھا دینا اسی طرح حلال ہے کہ کسی چیز کے پہلی مرتبہ نقد فروخت کرنے پر نفع لینا جائز اور حلال ہے اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کے فروخت کرتے وقت پہلی مرتبہ نفع لینا حلال قرار دیا…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا۔۔ : یعنی سود خور قیامت کے دن مخبوط الحواس اور پاگل ہو کر اٹھیں گے۔ دنیا میں بھی بےپناہ حرص کی وجہ سے ان کی یہی حالت ہوتی ہے۔
”الرِّبٰوا“ کا لفظی معنی بڑھنا، زیادہ ہونا ہے، جیسے فرمایا : (فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاۗءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ) [ الحج : 5 ] ”پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تو وہ لہلہاتی ہے اور ابھرتی ہے۔“ شریعت کی اصطلاح میں قرض دے کر اصل مال سے جو زیادہ لیا جاتا ہے اسے ربا کہتے ہیں۔ (راغب) یعنی کسی قرض پر بغیر کسی مالی معاوضہ کے محض مہلت بڑھا دینے کی بنا پر زیادہ حاصل کیا جائے۔ (ابن العربی : 1؍290)
موجودہ بینکنگ کا نظام بھی واضح سود پر…
Read the full tafseer →تین آیات سود کے احکام بیع کو عقود کے جواز اور اس کے لئے وعید کو متضمن ہیں جو کوئی سود کو حلال سمجھے اور اس پر عمل کرنے پر مصر ہو۔
اس میں اڑتیس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” الذین یاکلون الربوا “۔ یہاں ” یاکلون “ بمعنی یاخذون ہے (یعنی وہ جو سود لیتے ہیں) اور اخذ (لینے) کو اکل (کھانے) کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے، کیونکہ سود کھانے کے لئے ہی لیا جاتا ہے اور ربا کا لغوی معنی مطلق زیادتی ہے۔ کہا جاتا ہے : ربا الشیء یربو۔ جب کوئی شے زیادہ ہوجائے اور اس معنی میں حدیث طیبہ بھی ہے : فلا واللہ ما اخذنا من لقمۃ الا ربا من تحتھا “۔ (قسم بخدا ! ہم نے جو لقمہ بھی لیا تو وہ اپنے نیچے سے اور…
Read the full tafseer →سود خوری کی مذمت
(1) ابو یعلی نے کلبی کے طریق سے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الذین یاکلون الربوا لا یقومون الا کما یقوم الذی یتخبطہ الشیطن من المس “ سے مراد ہے کہ وہ لوگ اس کے ساتھ قیامت کے دن پہچانے جائیں گے وہ کھڑے نہیں ہو سکیں گے مگر اس شخص کی طرح کھڑے ہوں گے جیسے خبطی اور گلا گھٹا ہوا کھڑا ہوتا ہے۔ (پھر فرمایا) لفظ آیت ” ذلک بانہم قالوا انما البیع مثل الربوا “ (یعنی یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے کہا خریدو فروخت سود کی طرح ہے) اور انہوں نے (یہ کہہ کر) اللہ پر جھوٹ بولا ( پھر فرمایا) لفظ آیت ” واحل اللہ البیع وحر م الربوا “ (یعنی اللہ تعالیٰ نے خریدو…
Read the full tafseer →[اَلَّذِیْنَ : جو لوگ ] [یَاْکُلُوْنَ : کھاتے ہیں ] [الرِّبٰوا : سود ] [لاَ یَقُوْمُوْنَ : وہ لوگ نہیں کھڑے ہوں گے ] [اِلاَّ : مگر ] [کَمَا : اس طرح جیسے ] [یَـقُوْمُ الَّذِیْ : کھڑا ہوتا ہے وہ ] [ یَتَخَبَّطُہُ : خبطی کردیتا ہے جس کو ] [الشَّیْطٰنُ : شیطان ] [مِنَ الْمَسِّ : چھو کر ] [ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ : یہ اس سبب سے کہ انہوں نے ] [قَالُوْآ : کہا ] [اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [الْبَیْعُ : خریدو فروخت کرنا ] [مِثْلُ الرِّبٰوا : سود کی مانند ہے ] [وَاَحَلَّ : حالانکہ حلال کیا ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [الْبَیْعَ : خریدو فروخت کرنے کو ] [وَحَرَّمَ : اور اس نے حرام کیا ] [الرِّبٰوا : سود…
Read the full tafseer →سود خوروں کی مذمت
ان آیات میں سود خوروں کی مذمت بیان فرمائی ہے اور ان کا حال بیان فرمایا ہے جو قیامت کے دن ان کو پیش آئے گا یعنی وہ قیامت کے دن قبروں سے اس طرح حیران اور مدہوش کھڑے ہوں گے جیسے کسی کو شیطان لپٹ چپٹ جائے اور وہ اس کی وجہ سے مخبوط ہوجائے یعنی اس کے ہوش خطا ہوجائیں، مبہوت ہوجائے۔ بہکی بہکی باتیں کرے اس کا دل اور دماغ کام نہ کرسکے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس رات مجھے معراج کرائی گئی میں ایسے لوگوں پر گزرا جس کے پیٹ بیوت یعنی گھروں کی طرح سے تھے ان میں سانپ بھرے ہوئے تھے جو ان کے پیٹوں کے باہر سے نظر آ رہے تھے۔ میں نے کہا، اے جبریل یہ کون لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 275–281
احکام ربا (سود) ۔
قال تعالی، الذین یاکلون الربو۔۔۔ الی۔۔۔ لایظلمون۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں خیرات اور صدقات کا بیان تھا اب آئندہ آیات میں سود کے احکام ذکر فرماتے ہیں جو کہ صدقات اور خیرات کی ضد اور نقیض ہے اس لیے کہ صدقہ اور خیرات سے اخلاق اور مروت اور خلق اللہ کی نفع رسانی میں ترقی ہوتی ہے اور سود میں سراسر بےمروتی اور ضرر رسانی ہے صدقہ اور خیرات میں صلہ رحمی اور غریبوں کی امداد ہوتی ہے اور سود میں سخت دلی اور غریبوں زیادتی ہوتی ہے اس لیے صدقہ کی فضیلت کے بعد سود کی مذمت اور حرمت کا بیان نہایت مناسب ہوا تاکہ سود کی مذمت اور حرمت سے صدقہ کی فضیلت اور پختہ ہوجائے اور یہ معلوم ہوجائے کہ جس درجہ…
Read the full tafseer →538 یہاں سے ان لوگوں کا بیان شروع ہوتا ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے بجائے کسی کو قرض حسنہ دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں اگر کسی کو قرض دیتے ہیں تو وہ بھی سود پر۔ یہ ان لوگوں کیلئے زجر ہے جو دنیا میں سود لیتے ہیں قیامت کے دن ان کا حشر اس طرح ہوگا کہ جب وہ قبروں سے اٹھیں گے تو ان کے حواس باختہ ہوں گے اور وہ اس شخص کی مانند دیوانہ وار لڑکھڑاتے ہوئے میدان حشر کی طرف چلیں گے، جسے شیطان نے ہاتھ لگا کر دیوانہ کردیا ہو۔ قیامت کے دن میدان حشر میں سود خواروں کی یہ خصوصی علامت ہوگی۔ جس سے ہر ایک انہیں پہچان لے گا اور یہ میدانِ حشر میں انہیں رسوا کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ ولعل اللہ تعالیٰ جعل ذالک علامۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 274–277
صدقہ بمقابلہ سود
گزشتہ کئی دروس میں صدقہ کا بیان آتا ہے اور گزشتہ درس میں صدقات سے متعلق ساتویں بات یعنی اس کے بہترین مصرف کا ذکر تھا۔ اب آج کے درس میں پہلے صدقات ہی کے ضمن میں ان کی فضلیت بیان کی گئی ہے اور پھر اس کے مقابلے میں سود کی مذمت ہے ، صدقہ و خیرات کرنے سے انسان کے اندر فیاضی کا مادہ پیدا ہوتا ہے اور بخل دور ہوتا ہے۔ اس کے سبب انسان کے اندر بنی نوع انسان کے لیے جذبہ ہمدردی پیدا ہوتا ہے ، مکارم اخلاق کی تکمیل ہوتی ہے ، اور پھر یہی خصائل انسان کی نجات کا ذریعہ بن جاتے ہیں ۔ بر خلاف اس کے سود خور میں بخل کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔ اخلاق کا جنازہ نکلتا ہے اور لا محدودپیمانہ پر مال جمع کرنے…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَايَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَـمَا يَقُوْمُ الَّذِيْ يَتَخَبَّطُہُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ 0 ۭ ذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ قَالُوْٓا اِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا 0 ۘ وَاَحَلَّ اللہُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا 0 ۭ فَمَنْ جَاۗءَہٗ مَوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ فَانْــتَہٰى فَلَہٗ مَا سَلَـفَ 0 ۭ وَاَمْرُہٗٓ اِلَى اللہِ 0 ۭ وَمَنْ عَادَ فَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ 0 ۚ ھُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ 275
أكل
الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35]
( ا ک ل )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 275–277
ترکیب : الذین یاکلون الخ مبتداء لا یقومون الخ جملہ خبر کما کاف موضع نصب میں ہے صفت ہے مصدر محذوف کی تقدیرہ الا قیاما مثل قیام الذی الخ ذلک مبتداء بانہم الخ خبر ‘ من المس متعلق ہے یتخبطہ سے فمن جاء شرط فلہ ماسلف جواب ‘ وامرہ معطوف جواب پر ومن عاد شرط فاولئک جواب الذین آمنوا اسم ان لہم اجر خبر۔
تفسیر : صدقہ و خیرات کے بعد سود کی برائیاں بیان کرنا اور اس کو حرام کردینا گویا صدقہ و خیرات کے بیان کو پورا کردینا ہے۔ کس لیے کہ جس طرح صدقہ و خیرات میں رحمدلی اور مسکینوں اور غریبوں کی دستگیری ہے اسی طرح سود میں سخت دلی اور حاجت مندوں پر سخت گیری ہے۔ یہ اس کی پوری ضد ہے۔ ہم پہلے الفاظِ آیت کی تفسیر پھر…
Read the full tafseer →اَلَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا کَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ط ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوْٓا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا ط وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا ط فَمَنْ جَآئَ ہٗ مَوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ فَانْتَہٰی فَلَـہٗ مَا سَلَفَ ط وَاَمْرُہٗٓ اِلٰی اللّٰہِ ط وَمَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِط ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ ۔
(جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ نہیں اٹھیں گے مگر اس شخص کی طرح جسے شیطان نے چھو کر بائولا کردیا ہو۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ انھوں نے کہا کہ بیع بھی تو سود ہی کی مانند ہے۔ حالانکہ اللہ نے بیع کو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : سودی نظام صدقہ کی تحریک میں سب سے زیادہ رکاوٹ ہے لہٰذا سود خور کا انجام بیان کرنے کے بعد سود اور تجارت کا فرق بتلایا گیا ہے۔
سود کو قدیم زمانے سے ربا کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید نے بھی اس کے لیے یہی لفظ استعمال کیا ہے۔ ربا کا معنٰی ہے اضافہ یا زیادتی۔ فارسی میں اس کو سود کہتے ہیں جس کا مطلب ہے فائدہ یا اضافہ۔ انگلش میں اس کا نام (USURY) ہے۔ ایسا معاملہ جس میں سرمایہ کار کو مہلت کی بنا پر اپنی رقم پر منافع ملے۔ یہ کاروبار انفرادی طور پر ہو یا اجتماعی سطح پر ہو، رباتصور ہوگا۔
سود کا دھندا پہلی اقوام میں بھی پایا جاتا تھا جیسا کہ یہود کے بارے میں قرآن مجید نے بڑی وضاحت کے ساتھ…
Read the full tafseer →275 : اَلَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ الرِّبٰوا (وہ لوگ جو سود کھاتے ہیں) ربوٰا۔ وہ اضافہ جو عوض سے خالی ہو۔ جبکہ مال کا مال سے معاوضہ دیا جائے۔
الربٰوا۔ الصلوٰۃ اور الزکوٰۃ کی طرح وائو کے ساتھ ان لوگوں کے نزدیک لکھا جاتا ہے جو اس کو پر کر کے پڑھتے ہیں اور الربٰوا میں وائو کی کتابت میں وائو کے بعد الف بھی لکھا جاتا ہے کیونکہ یہ وائو جمع کے مشابہ ہے۔
لَا یَقُوْمُوْنَ (وہ نہ کھڑے ہونگے) یعنی جب وہ قبور سے اٹھائے جائیں گے۔
مجنون و خبطی کی مثال :
اِلاَّ کَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطٰنُ (مگر جس طرح کہ وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جس کو چھوکر شیطان نے دکھ پہنچا دیا ہو) یعنی جنون زدہ کیونکہ وہ سود…
Read the full tafseer →(تفسیر) 275۔:
(الذین یاکلون الربا جو لوگ سود کھاتے ہیں) جو اس میں معاملہ کرتے ہیں یہاں کھانے کے ساتھ مخصوص قرار دیا کیونکہ مال کی کمائی کا مقصود کھانا ہی ہوتا ہے (لایقومون نہیں اٹھیں گے الا کما یقوم الـذی یتخبطہ، قیامت کے دن قبروں سے نہیں اٹھیں گے) مگر اس طرح جیسے جن چھوا ہوا شخص اٹھتا ہے) ” یتخبطہ “ سے مراد جلد چھونے والا ہے خبط کا معنی ہے سخت ضرب جس کے ساتھ بگاڑ بھی ہو جیسا کہ کہا جاتا ہے ” ناقۃ حبوط “ وہ اونٹنی جو اپنے پاؤں سے لوگوں کو روندے (من المس چھونے سے) مس سے مراد جنون ہے یا جنون چھوا جانا کہ ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے وہ آپ ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے شب معراج کے قصہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 275–277
(275 ۔ 277) ۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان نیک لوگوں کا ذکر فرمایا تھا جو بذریعہ صدقہ و خیرات کے اپنے مال سے دنیا میں خلق اللہ کو نفع پہنچاتے ہیں اور عقبیٰ میں اس خیرات کے اجر کی اللہ سے توقع رکھتے ہیں اس آیت میں ان لوگوں کے مقابل ان بد لوگوں سود خوروں کا ذکر فرمایا ہے جنہوں نے اپنے مال کے طفیل میں اپنی دین دنیا کو خراب اور خوار کردیا۔ مسند امام احمد وغیرہ کی شب معراج کی حدیث میں آپ نے فرمایا ہے کہ دوزخ میں کچھ لوگ آپ نے دیکھے جن کے پیٹ بڑے بڑے گھر اور کوٹھوں کے برابر ہیں اور ہزارہا سانپ اور بچھو ان کے پیٹوں میں بھرے ہیں 3۔ دنیا میں ایک سانپ یا بچھو کسی کو کاٹتا ہے توہ وہ بادلوں کی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 275–281
آیت 275-281
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سود خوروں کا انجام بدبیان فرمایا ہے۔ وہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھیں گے : (الا کما یقوم الذی یتخبطہ الشیطن من المس) ” تو ان کی حالت یہ ہوگی گویا انہیں شیطان نے پاگل بنادیا ہے۔ یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو حیران پریشان ہوں گے۔ انہیں سخت سزا ملنے کا یقین ہوگا۔ : (قالوآ انما البیع مثل الربوا) ” انہوں نے کہا تھا : تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے۔ “ یہ بات کوئی ایسا جاہل ہی کہہ سکتا ہے جو جہالت کے انتہائی درجے تک پہنچا ہوا ہو، یا دین کا انتہائی دشمن کہہ سکتا ہے۔ جس طرح ان کی عقلیں اوندھی ہوگئی تھیں تو اس کا بدلہ بھی یہ ملے گا کہ ان کی حالت پاگلوں کے مشابہ ہوگی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 274–275
ربوٰ کا بیان
قول باری ہے (الذین یاکلون الربوٰا لایقومون الا کما یقوم الذی یتخبطہ الشیطن من المس۔ ذلک بانھم قالوا انما البیع مثل الربوٰا واحل اللہ البیع وحرم الربوٰا۔ (a) جو لوگ سود کھاتے ہیں ان کا حال اس شخص کا سا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھوڑ کر بائولا کردیا ہو۔ اور اس حالت میں ان کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ تجارت بھی تو آخر سود ہی جیسی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام)
ابو بکر جصاص کہتے ہیں کہ ربوا کے معنی زیادتی اور اضافے کے ہیں۔ اسی سے لفظ الرابیۃ ہے جس کے معنی ابھری ہوئی زمین کے ہیں کیونکہ اپنے ارد گرد کی زمین کے مقابلے میں زیادہ ابھری ہوئی ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 275–276
789 سود خوروں کا عبرتناک اور ہولناک انجام : سو سود خور انسان دنیاوی مال و دولت کے عشق میں اور اس کے خبط میں گرفتار و مبتلاء ہو کر خود کو اسی کے قابل بنا دیتا ہے۔ اس دنیا میں بھی اس کا حال یہی ہوتا ہے، کہ ہر وقت اس پر یہی دھن سوار رہتی ہے، اور وہ اسی کے خبط میں مبتلاء اور حیراں و سرگرداں رہتا ہے، کہ مال کس طرح اکٹھا کیا جائے اور کسطرح زیادہ سے زیادہ جوڑ جوڑ کر اور سمیٹ سمیٹ کر رکھا جائے، اور اتنا اور اس قدر کہ اس کے لیے ان کے یہاں کوئی حد اور انتہاء ہی نہیں ہوتی، مگر یہاں یعنی اس دنیا میں اصل حقائق پر چونکہ پردے پڑے ہوئے ہیں، اس لئے وہ سامنے نظر نہیں آسکتے، جبکہ کل آخرت کے اس جہاں میں جو کہ…
Read the full tafseer →سود حرام ہے
تشریح : اس سے پہلے صدقہ و خیرات کے بارے میں بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اصل میں سود اور خیرات ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ خیرات بھلائی کی بنیاد ہے، جبکہ سود برائی کی بنیاد ہے۔ اسلام سے پہلے عربوں میں سود کا کاروبار عام تھا جس طرح شراب عام تھی، اسلام کیونکہ امن و سکون اور سلامتی کا نام ہے اس لئے سب سے پہلے شراب اور پھر سود کو حرام قرار دیا گیا۔ 8 ہجری میں سود کی حرمت کا حکم ہوا ہے سودکامطلب ہے زیادتی۔ کیونکہ اس کے اصول ظلم و زیادتی پر منحصر ہیں اس لیے اس کو سود کہتے ہیں دو طرح سود لیا اور دیا جاتا ہے۔ ایک تو انسان مجبور و بےبس ہو کر روزانہ کے اخراجات کے لئے قرضہ لیتا ہے جو کہ اس کو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 274–281
274 تا 281
اسرارو معارف
الذین ینفقون…………ولاھم یحزنون۔
جو لوگ دن رات ظاہر پوشیدہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں یعنی جیسے ضرورت پیش آئے اسے پورا کرنے کو لپکتے ہیں۔ اعلانیہ دینا پڑے یا چھپا کر ، رات ہو یا دن کا وقت نہ تاخیر کرتے ہیں اور نہ کسی حالت کو آڑے آنے دیتے ہیں جیسے سیدنا صدیق اکبر ؓ ، کہ شاعر مشرق (رح) نے کیا خوب کہا ہے ؎
آں امن الناس بر مولائے ما
آں حکیم وادی سینائے ما
دولت اوکشت ملت راچوں ابر
ثانی اثنین وغار وبدر وقبر
یا دیگر جملہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جن کے صدقات اور مالی جانی قربانیوں سے تاریخ عالم مزین ہے اور چشم فلک حیران۔ ایسی قوم نہ سورج نے ان سے پہلے دیکھی اور نہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 274–275
ف 3 یعنی سود خوار قیامت کے دن مخبوط الحواس اور پاگل ہو کرا اٹھیں گے الربا (سود) کے لفظی معنی مطلق زیادتی کے ہیں اور اصلاح شریعت میں خاص شرح کے ساتھ جو اضافہ اصل (راس المال) پر لیا جاتا ہے اسے ربا کہتے ہیں۔ (راغب) یعنی کسی قرض پر بغیر کسی مالی معاوضہ کے محض مہلت بڑھادینے کے بنا پر زیادتی حاصل کی جائے (ابن العربی) جاہلیت میں عام طور پر سود کی صورت یہ تھی کہ جب ادائے قرض وقت آجاتا ہے تو صاحب مال کہتا یا تو قرض ادا کرو یا مہلت لے کر سود دینا منظو کرو۔ سود کی یہ شکل بالا جماع حرام ہے۔ شوکانی لفظ ربا اپنے وسیع ترمعنی کے اعتبار سے مذکورہ صورتکو بھی شامل ہے لیکن یہ کل ربا نہیں ہے بعض قبائل میں تجارتی…
Read the full tafseer →الذین یاکلون الربوا۔ مبتدا لایقومون الا کما یقوم ۔۔ من المس۔ خبر کما۔ کاف موضع نصب میں ہے اور مصدر محذوف کی صفت ہے۔ تقدیر کلام یوں ہوگی ! لا یقومون الا قیاما مثل قیام الذی یتخبطہ الشیطن
الربو۔ سود۔ بیاج۔ یہ لفظ قرآن مجید میں با کے بعد واؤ اور واؤ کے بعد الف سے مرقوم ہے ماسوائے سورة الروم آیۃ (30:39) کے جہاں باء کے بعد الف سے مرقوم ہے۔
امام راغب (رح) لکھتے ہیں : ” راس المال پر جو زیادتی ہو وہ ربا ہے لیکن شرع میں وہ اس زیادتی کے ساتھ مخصوص ہے جو ایک خاص ہی طریقہ پر ہو اور دوسری طرح نہ ہو “۔
تفسیر ماجدی میں ہے : ” اہل عرب اس لفظ کو اس زائد رقم کے لئے استعمال کرتے تھے جو قرض خواہ اپنے قرض دار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 275–279
لغات القرآن : آیت نمبر 275 تا 279
یا کلون (وہ کھاتے ہیں) ۔ الربوا (سود) ۔ لا یقومون (وہ کھڑے نہ ہوں گے ) ۔ یتخبطہ (جس کو خبطی اور دیوانہ بنا دیا ہو) ۔ المس (چھونا) ۔ البیع (تجارت) ۔ مثل الربوا (جیسے سود لینا) ۔ احل (حلال کردیا ) ۔ حرم (حرام کردیا) ۔ موعظۃ (نصیحت) ۔ انتھی (وہ رک گیا) ۔ سلف (جوگذر گیا) ۔ امرہ (اس کا معاملہ، اس کا اختیار) ۔ عاد جو پلٹ گیا) ۔ یمحق (مٹا دے گا) ۔ یربی (پالے گا، پروان چڑھائے گا) ۔ کفار (ناشکرا) ۔ اثیم (گناہ گار ) ۔ ذروا (تم چھوڑ دو ) ۔ مابقی (جو باقی رہ گیا ہے) ۔ فاذنوا (پھر تیار ہوجاؤ، پھر خبردار ہوجاؤ) ۔ حرب (جنگ) ۔ تبتم (تم نے توبہ کرلی) ۔ رؤس اموال (اصل مال،…
Read the full tafseer →سود کی برائی
مسند امام احمد وغیرہ کی شب معراج کی حدیث میں آپ نے فرمایا کہ دوزخ میں کچھ لوگ آپ نے دیکھے جن کے پیٹ بڑے بڑے گھر اور کوٹھوں کے برابر ہیں، ہزارہا سانپ اور بچھو ان کے پیٹوں میں بھرے ہیں۔ دنیا میں ایک سانپ یا بچھو کسی کو کاٹتا ہے تو وہ باؤلوں (پاگلوں) کی طرح بھاگا بھاگا پھرتا ہے۔ جس پر اس قسم کا عذاب قبر ہو کہ ہزارہا سانپ اور بچھو اس کے پیٹ میں بھرے ہوں تو باؤلوں (پاگلوں) کی طرح اس کا قبر سے اٹھنا ظاہر ہے یا جیسے آسیب زدہ اور مجنون و دیوانہ کی حالت، اور یہ حالت اس لئے ہوگی کہ انہوں نے حلال حرام کو یکساں کردیا۔ مشرکین عرب میں اکثر سود کے لین دین کا یہ طریقہ جاری تھا کہ ایک شخص دوسرے…
Read the full tafseer →[183] اصل میں لفظ '' ربوٰ '' استعمال ہوا ہے جس کے لغوی معنی زیادتی اور اضافے کے ہیں۔ اصطلاح شریعت میں ربوٰ کہتے ہیں اصل قرضے پر زیادتی کو جو ایک قرض خواہ اپنے قرض دار سے ایک طے شدہ شرح کے
مطابق اصل کے علاوہ وصول کرتا ہے۔
[184] مَس شیطانی سے مراد عربی محاورے میں جنون ہے۔ اسی محاورے کو استعمال کرتے ہوئے قرآن سود خور کو اس شخص سے تشبیہ دیتا ہے جو مخبوط الحواس ہوگیا ہو۔
[185] مطلب یہ ہے کہ مالی نفع آخر تجارت میں بھی تو ہوتا ہے پھر جب تجارت حرام نہیں تو سود حرام کیوں ہو۔ ان نافہموں نے اس بات کو بالکل نظر انداز کردیا تھا کہ تجارت اور سودی کاروبار دونوں نہ اخلاقی حیثیت سے ایک جیسے ہیں نہ معاشی حیثیت…
Read the full tafseer →سود خوار کی حالت نفسی :
(ف 2) انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب کے بعد سود کی حرمت کا ذکر کیا ، تاکہ معلوم ہو کہ سود خوری باہمی تعاون کے جذبے کو روک دیتی ہے اور سود خواری کے جواز کے معنی انسانی ہمدردی سے فقدان وضیاع کے ہیں ۔
ان آیات میں نہایت بلیغ انداز سے سود خوار کی حالت نفسی کی تشریح کی ہے کہ وہ اس طرح فنا فی المال رہتے ہیں جس طرح کوئی آسیب کی لپیٹ میں آگیا ہو ، ایک ہی دھن ہے اور ایک ہی خیال یعنی وہ حرص وآز کے اس درجہ پر پہنچ گئے ہیں کہ جہاں دماغی توازن برقرار نہیں رہتا ، گویا ان کا دماغ بجز سرمایہ کے کسی چیز پر غور کرنے کا اہل نہیں ، آپ دیکھیں گے قرآن کریم نے کس درجہ سچی تصویر پیش کی ہے ، سود…
Read the full tafseer →ف 3 جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت میں قبروں سے نہیں اٹھیں گے مگر جیسے وہ شخص اصھتا ہے جس کو شیطان یعنی آسیب سے چمٹ کر حواس باختہ کردیا ہو اور خبطی بنادیا ہو۔ یہ سزا ان کو اس لئے دی جائے گی کہ ان سود خوروں نے یہ کہا تھا کہ بیع بھی تو سود کی مثل ہے اور جب بیع حلال ہے تو سود جو اسی کی مثل ہے وہ بھی حلال ہے حالانکہ بیع کو اللہ تعالیٰ نے حلال کیا ہے اور سود کو اس نے حرام قرار دیا ہے۔ پھر اب جس شخص کو اس کے رب کی جانب سے نصیحت پہنچ چکی اور وہ سود کھانے اور سود کو حلال کہنے سے باز آگیا اور آئندہ کے لئے قول اور فعل سے رک گیا تو جو کچھ اس سے پہلے ہوچکا وہ اسی کا رہا یعنی اس حکم سے قبل جو سود لے چکا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 273–275
ف 1۔ یعنی دین کی خدمت میں اور جاننا چاہیے کہ ہمارے ملک میں اس آیت کے مصداق سب سے زیادہ وہ حضرات ہیں جو علوم دینیہ کی اشاعت میں مشغول ہیں۔
Read the full tafseer →جو لوگ حاجتمندوں کے لیے تنگی کا باعث ہوتے ہیں ، صحیح معنوں میں وہی الرابوا خور ہیں :
481: ” الربوا “ کا مادہ ر ب و ہے۔ اس مادہ کے درج ذیل الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں :
ربت۔ یربو۔ رابیا۔ رابیۃ۔ اربی۔ یربی۔ ربیانی۔ نربک۔ ربا۔ الربا۔ ربوۃ۔
مادہ (ر ب و) کے لغوی معنی ہیں : اُگنا ، بڑھنا ، پھولنا ، پالنا ، نشو ونما پانا ، پرورش کرنا ، زیادتی اور بڑھوتری۔
ربت کے لیے دیکھیں : سورة الحج 22 : 5 ، سورة حم السجدۃ 41 : 39 (دو بار)
یربو کے لیے دیکھیں : سورة الروم 30 : 39 ، مکرر (د و بار)
رابیا کے لیے دیکھیں : سورة الرعد 13 : 17 (ایک بار)
رابیۃ کے لیے دیکھیں : سورة الحاقہ 69 : 1 (ایک بار)
اربی کے لیے دیکھیں…
Read the full tafseer →The prohibition of ربا riba
From these verses begins the description of the forbiddance of riba ربا and the injunctions relating to its unlawfulness. This issue is very important from different angles. On the one hand, there are the severe warnings of the Qur'an and Sunnah and on the other, it has been taken today as an integral part of the world economy. The desired liberation from it seems to be infested with difficulties. The problem is very detail-oriented and has to be taken up in all possible aspects.
First of all we have to deliberate into the correct interpretation of these verses of…
Read the full tafseer →315. The term riba in Arabic means 'to grow, to exceed, to increase'. Technically, it denotes the amount that a lender receives from a borrower at a fixed rate of interest. At the time of the revelation of the Qur'an several forms of interest transactions were in vogue and were designated as riba by the Arabs. Of these one was that the vendor sold an article and fixed a time limit for the payment of the price, stipulating that if the buyer failed to pay within the specified period of time, he would extend the time limit but increase the price of the article. Another was that a man loaned a…
Read the full tafseer →