Explained with ayahs 272–274
مستحق صدقات کون ہیں
حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ مسلمان صحابہ اپنے مشرک رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کرنا ناپسند کرتے تھے پھر حضور ﷺ سے سوال ہوا اور یہ آیت اتری اور انہیں رخصت دی، فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ فرماتے تھے کہ صدقہ صرف مسلمانوں کو دیا جائے، جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرما دیا ہر سائل کو دو ، گو وہ کسی مذہب کا ہو (ابن ابی حاتم) حضرت اسماء والی روایت آیت (لاینھاکم اللہ الخ) کی تفسیر میں آئے گی انشاء اللہ، یہاں فرمایا تم جو نیکی کرو گے اپنے لئے ہی کرو گے جیسے اور جگہ ہے آیت (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ ۚ وَمَنْ اَسَاۗءَ فَعَلَيْهَا) 45۔ الجاثیہ :15) اور اس جیسی اور آیتیں بھی بہت ہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 273–274
سورة الْبَقَرَة 314
اس گروہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا کے دین کی خدمت میں اپنے آپ کو ہمہ تن وقف کردیتے ہیں اور سارا وقت دینی خدمات میں صرف کردینے کی وجہ سے اس قابل نہیں رہتے کہ اپنی معاش پیدا کرنے کے لیے کوئی جدوجہد کرسکیں۔ نبی ﷺ کے زمانے میں اس قسم کے رضا کاروں کا مستقل گروہ تھا، جو تاریخ میں اصحاب صُفّہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تین چار سو آدمی تھے، جو اپنے اپنے گھر بار چھوڑ کر مدینے آگئے تھے۔ ہمہ وقت حضور کے ساتھ رہتے تھے۔ ہر خدمت کے لیے ہر وقت حاضر تھے۔ حضور جس مہم پر چاہتے انہیں بھیج دیتے تھے، اور جب مدینے سے باہر کوئی کام نہ ہوتا، اس وقت یہ مدینے ہی میں رہ کر دین کا علم حاصل کرتے اور دوسرے…
Read the full tafseer →آٹھویں آیت اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَار میں ان لوگوں کے اجر عظیم اور فضلیت کا بیان ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے عادی ہیں تمام حالات واوقات میں رات میں اور دن میں خفیہ اور علانیہ ہر طرح فی سبیل اللہ خرچ کرتے رہتے ہیں اس کے ضمن میں یہ بھی بتلا دیا کہ صدقہ و خیرات کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں نہ رات اور دن کی کوئی تعیین ہے اس طرح خفیہ اور علانیہ دونوں طرح سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ثواب ہے بشرطیکہ اخلاص کے ساتھ خرچ کیا جائے نام ونمود مقصود نہ ہو خفیہ خرچ کرنے کی فضیلت بھی اسی حد تک ہے کہ علانیہ خرچ کرنے کے لئے کوئی ضرورت داعی نہ ہو اور جہاں ایسی ضرورت ہو وہاں…
Read the full tafseer →اس آیت میں رات اور دن، پوشیدہ اور علانیہ میں جو مناسبت اور تقابل ہے وہ ملحوظ رہے۔ اوقات بھی سب احاطہ میں آگئے ہیں۔ اور حالتیں بھی دونوں اس میں جمع ہوگئی ہیں۔ نیز اہل ایمان کے اندر انفاق کے لیے جو جوش ہونا چاہئے اسلوب کلام سے وہ خود بخود ابلا پڑ رہا ہے۔ علاوہ بریں انفاق کا خدا کے ہاں جو صلہ ہے وہ بھی پورا پورا بیان ہوگیا ہے یہ آیت انفاق کا سلسلے میں خاتمہ باب کی حیثیت رکھتی ہے۔
اگلی آیات 275 تا 283 کا مضمون : انفق کے مضمون کے بعد اب آگے سود کی حرمت کا بیان ہوا۔ سود کا تعلق چونکہ قرض سے ہوتا ہے اس وجہ سے قرض کے لین دین سے متعلق جو ضروری ہدایات ہیں اسی سلسلے میں وہ بھی دی گئیں۔ رہن بھی اسے سی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 273–274
273۔ 1 اس سے مراد مہاجرین ہیں جو مکہ سے مدینہ آئے اور اللہ کے راستے میں ہر چیز سے کٹ گئے دینی علوم حاصل کرنے والے طلباء اور علماء بھی اس کی ذیل میں آسکتے ہیں۔
273۔ 2 گویا اہل ایمان کی صفت یہ ہے کہ فقرو غربت کے باوجود (سوال سے بچنا) اختیار کرتے اور چمٹ کر سوال کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ بعض نے الحاف کے معنی کئے ہیں بلکل سوال نہ کرنا کیونکہ ان کی پہلی صفت عفت بیان کی گئی ہے۔ (فتح القدیر) اور بعض نے کہا کہ وہ سوال میں آہو زاری نہیں کرتے اور جس چیز کی انہیں ضرورت نہیں ہے اسے لوگوں سے طلب نہیں کرتے۔ اس لئے الحاف یہ ہے کہ ضرورت نہ ہونے کے باوجود (بطور پیشہ) لوگوں سے مانگے اس لئے پیشہ ور گداگروں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 273–274
183: حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت اصحاب صفہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، یہ وہ صحابہ تھے جنہوں نے اپنی زندگی علم دین حاصل کرنے کے لئے وقف کردی تھی اور آنحضرت ﷺ کے پاس مسجد نبوی سے متصل ایک چبوترے پر آپڑے تھے، طلب علم کی وجہ سے وہ کوئی معاشی مشغلہ اختیار نہیں کرسکتے تھے مگر مفلسی کی سختیاں ہنسی خوشی برداشت کرتے تھے کسی سے مانگنے کا سوال نہیں تھا، اس آیت نے بتایا کہ ایسے لوگ امداد کے زیادہ مستحق ہیں جو ایک نیک مقصد سے پوری امت کے فائدے کے لئے مقید ہو کر رہ گئے ہیں اور سختیاں جھیلنے کے باوجود اپنی ضرورت کسی کے سامنے ظاہر نہیں کرتے۔ آیت نمبر 261 سے 274 تک صدقات کی فضیلت اور اس کے احکام بیان…
Read the full tafseer →اس خاتمہ کلام میں اس آیت کی عمومیت اور ہم آہنگی بہت ہی خوبصورت نظر آتی ہے ۔ آیت کا آغاز اور اختتام ایک موزوں سر کی طرح باہم متوازن اور اصول عام کی صورت میں دوبارہ دہرایا جاتا ہے۔ اور بہت ہی موزونیت کے ساتھ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ............... ” وہ لوگ جو اپنے اموال خرچ کرتے ہیں۔ “ یعنی ہر قسم کے مال اور دولت جو وہ خرچ کرتے ہیں ۔ اس میں کوئی تخصیص نہیں ہے۔ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلانِيَةً............... ” شب و روز چھپے یا کھلے ۔ “ یعنی جن اوقات اور جن حالات میں بھی وہ انفاق فی سبیل اللہ کرتے ہیں فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ............... ” تو ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ۔ “…
Read the full tafseer →1 یہاں تک خیرات کا بیان اور اس کی فضیلت اور اسکی قیود و شرائط کا مذکور تھا اور چونکہ خیرات کرنے سے ادھر تو معاملات میں سہولت و تسہیل کی عادت ہوتی ہے اور بےمروتی و سخت گیری کی برائی دلنشین ہوتی ہے اور ادھر یہ ہوتا ہے کہ معاملات و اعمال میں جو گناہ ہوجاتا ہے خیرات سے اس کا کفارہ کردیا جاتا ہے اور نیز خیرات کرنے سے اخلاق و مروت و خیر اندیشی و نفع رسانی خلق اللہ میں ترقی ہوتی ہے تو ان وجوہ سے ان آیات متعددہ میں اس کا ذکر فرمایا گیا تھا اب سود لینا چونکہ خیرات کی ضد ہے وہاں مروت و نفع رسانی تھی تو سود میں محض بےمروتی اور ضرر رسانی اور ظلم ہے۔ اس لئے خیرات کی فضیلت کے بعد سود کی مذمت اور اسکی…
Read the full tafseer →اب ہم اس سورة مبارکہ کا جو رکوع پڑھ رہے ہیں یہ آج کے حالات میں اہم ترین ہے۔ یہ رکوع سود کی حرمت اور شناعت پر قرآن حکیم کا انتہائی اہم مقام ہے۔ اس دور میں اللہ تعالیٰ کے خلاف بغاوت کی سب سے بڑی صورت تو غیر اللہ کی حاکمیت کا تصور ہے ‘ جو سب سے بڑا شرک ہے۔ اگرچہ نفسیاتی اور داخلی اعتبار سے سب سے بڑا شرک مادّے پر توکلّ ہے ‘ لیکن خارجی اور واقعاتی دنیا میں اس وقت سب سے بڑا شرک غیر اللہ کی حاکمیت ہے ‘ جو اب عوامی حاکمیت کی شکل اختیار کرگئی ہے۔ اس کے بعد اس وقت کے گناہوں اور بدعملی میں سب سے بڑا فتنہ اور فساد سود کی بنیاد پر ہے۔ اس وقت دنیا میں سب سے بڑی شیطنت جو یہودیوں کے ذریعے سے پورے کرۂ ارضی کو…
Read the full tafseer →391 یہ آیت دراصل صدقات و خیرات کے احکام کا تتمہ ہے۔ یعنی آخر میں ایک دفعہ پھر صدقہ کی ترغیب دی جارہی ہے۔ اب اس کی عین ضد سود کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ صدقات و خیرات سے جہاں آپس میں ہمدردی، مروت، اخوت، فیاضی پیدا ہوتی ہے وہاں طبقاتی تقسیم بھی کم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس سود سے شقاوت قلبی، خود غرضی، منافرت، بےمروتی اور بخل جیسے اخلاق رذیلہ پرورش پاتے ہیں اور طبقاتی تقسیم بڑھتی چلی جاتی ہے جو بالآخر کسی نہ کسی عظیم فتنہ کا باعث بن جاتی ہے۔ اشتراکیت دراصل ایسے ہی فتنہ کی پیداوار ہے۔
Read the full tafseer →1065 ۔ (قیامت کے دن اپنے پروردگار کے پاس پہنچ کر) (آیت) ”۔ بالیل والنھار “۔ یعنی جس وقت اور جس گھڑی بھی ضرورت ومصلحت ہو۔ (آیت) ” سراوعلانیۃ “۔ یعنی پوشیدہ تو حسب عادت اور علانیہ حسب ضرورت ومصلحت۔ (آیت) ” الذین ینفقون “۔ یعنی اللہ کی راہ اور خدمت دین میں۔ انفاق کی ترغیب جہاں جہاں بھی ہے، مطلق انفاق کی نہیں بلکہ مراد ہی انفاق فی سبیل اللہ یعنی خدمت دین میں خرچ ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 274 تا 281
ترجمہ : جو لوگ اپنا مال رات اور دن، پوشیدہ اور آشکار اخرچ کرتے رہتے ہیں سو ان لوگوں کے لیے ان کے پروردگار کے پاس اجر ہے نہ ان کے لیے کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے اور جو لوگ سود کھاتے ہیں یعنی سود لیتے ہیں اور وہ معاملات میں نقود کی زیادتی اور ماکولات میں مقدار یا مدت میں زیادتی ہے، وہ لوگ قبروں سے نہ کھڑے ہو سکیں گے مگر اس شخص کے مانند جس کو شیطان لپٹ کر خبطی بنا دیتا ہے (یعنی) جس کو شیطان پچھاڑ دیتا ہے، ان کو جنون ہونے کی وجہ سے (مِنَ المَسِّ ) یقومون کے متعلق ہے۔ ان کی یہ حالت اس وجہ سے ہوگی کہ انہوں نے کہا تھا کہ بیع تو جواز میں سود کے مانند ہے اور یہ مبالغہ کے…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً : ( جو لوگ راہ خدا میں اپنا مال رات دن پوشیدہ اور ظاہر صرف کرتے ہیں یعنی ہر وقت اور ہر حالت میں دیتے ہیں جب کسی محتاج کی حاجت سامنے آتی ہے فوراً اس کو پورا کرتے ہیں قطعاً تاخیر نہیں کرتے نہ وقت کو بہانہ بناتے ہیں نہ حال کو۔
ابن منذر ؓ نے سعید بن مسیب ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت عثمان ؓ کے متعلق ہوا ان دونوں بزرگوں نے جیش عسرت ( تبوک کو جانے والے تنگ حال مجاہدین کے لشکر) کو خرچ دیا تھا۔
ابن جریر، عبد الرزاق، ابن ابی حاتم اور طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عباس کا…
Read the full tafseer →(274) جو حضرات پوشیدہ اور دکھا کر صدقہ و خیرات کرتے ہیں، جنت میں ان کو اس کا ثواب ملے گا اور انھیں نہ خوف ہوگا اور نہ غم، یہ آیت حضرت علی بن ابی طالب ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
شان نزول : (آیت) ”الذین ینفقون اموالھم“۔ (الخ)
طبرانی ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ نے بزریعہ یزید، عبداللہ ؒ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے، کہ یہ آیت کریمہ (جہاد کے لیے) گھوڑے رکھنے والوں کے متعلق نازل ہوئی ہے، یزید اور عبداللہ دونوں راوی مجہول ہیں اور عبدالرزاق ؒ اور ابن جریر ؒ ، ابن ابی حاتم ؒ اور طبرانی ؒ نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت حضرت علی ؓ کے متعلق نازل ہوئی ہے ان کے پاس چار درہم تھے،…
Read the full tafseer →یہاں تک چودہ آیات میں صدقے کا بیان تھا، اس کے بعد سود کو حرام قرار دیا۔ جب صدقے کی تاکید فرمائی تو قرض دینا تو بالاولیٰ ضروری ٹھہرا اور قرض پر سود کیوں لیا جائے۔ (موضح)
Read the full tafseer →آیت نمبر : 274۔
اس میں ایک مسئلہ ہے :
حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت ابو ذر ؓ اور حضرت ابو امامہ ؓ ، حضرت ابو الدرداء رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین حضرت عبداللہ بن بشر غافقی، اور امام اوزاعی رحمۃ اللہ علہیم سے روایت ہے کہ یہ آیت ان گھوڑوں کے چارے کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں باندھے گئے ہوں، اور ابن سعد نے طبقات میں ذکر کیا ہے اور کہا ہے : مجھے محمد بن شعیب بن شابور سے خبر دی گئی ہے کہ انہوں نے کہا ہمیں سعید بن سنان نے یزید بن عبداللہ بن عریب عن ابیہ عن جدہ عریب کی سند سے خبر دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس قول باری تعالیٰ کے بارے پوچھا گیا۔ (آیت) ” الذین ینفقون اموالھم بالیل والنھار…
Read the full tafseer →(1) ائمہ ابن سعد نے طبقات میں، ابوبکر احمد بن ابی عاصم نے جہاد میں، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن عدی، طبرانی، ابو شیخ نے العظمہ میں اور واحدی نے یزید بن عبداللہ بن عریب المکی سے اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا یہ آیت لفظ آیت ” الذین ینفقون اموالہم بالیل والنھار سرا وعلانیۃ فلہم اجرہم عند ربہم ولا خوف علیہم ولا ہم یحزنون “ گھوڑوں والوں کے بارے میں نازل ہوئی۔
(2) ابن عساکر نے ابو امامہ باہلی ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت ” الذین ینفقون اموالہم بالیل والنھار سرا وعلانیۃ “ گھوڑے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ان لوگوں کے بارے میں جو اظہار تکبر اور شرط کے لیے نہیں باندھتے۔…
Read the full tafseer →[اَلَّذِیْنَ : جو لوگ ] [یُنْفِقُوْنَ : خرچ کرتے ہیں ] [اَمْوَالَہُمْ : اپنے مال ] [بِالَّـیْلِ : رات میں ] [وَالنَّہَارِ : اور دن میں ] [سِرًّا : چھپاتے ہوئے ] [وَّعَلاَنِیَۃً : اور ظاہر کرتے ہوئے ] [فَلَہُمْ : تو ان کے لیے ہے ] [اَجْرُہُمْ : ان کا اجر ] [عِنْدَ رَبِّہِمْ : ان کے رب کے پاس ] [وَلاَ خَوْفٌ : اور کوئی خوف نہیں ہے ] [عَلَیْہِمْ : ان پر ] [وَلاَ ہُمْ : اور نہ ہی وہ لوگ ] [یَحْزَنُوْنَ : پچھتاتے ہیں ]
Read the full tafseer →رات دن مال خرچ کرنے والوں کی فضیلت اور منقبت
اس آیت میں رات دن اللہ کی رضا کے لیے مال خرچ کرنے کا تذکرہ ہے۔ جو پوشیدہ طور پر اللہ کی راہ میں مال خرچ کریں گے یا علانیہ طور پر قیامت کے دن ان کا خرچ کیا ہوا مال اجر وثواب کی صورت میں انہیں مل جائے گا۔ وہ وہاں غمگین نہ ہوں گے، جبکہ بہت سے لوگ بدعملی کی وجہ سے یا اپنے مالوں کو گناہوں میں خرچ کرنے کی وجہ سے غمگین ہوں گے۔ اس آیت میں مال خرچ کرنے کے بیان میں سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ لوگوں کے سامنے مال خرچ کرنا ریا کاری میں شامل نہیں جس سے گناہ ہو اور خرچ کرنا اکارت ہوجاتا ہو، گو خفیہ طریقہ پر خرچ کرنے کی فضیلت زیادہ ہے لیکن اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–274
بیان بقیہ آداب صدقات وذکر مصارف خیر۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا انفقوا من طیبت ماکسبتم۔۔ الی۔۔ یحزنون۔
ربط) ۔ اب ان آیات میں ان امور کو بیان فرماتے ہیں کہ جن کی صدقہ اور خیرات میں رعایت ضروری ہے اور بعدازاں یہ بیان فرمائیں گے کہ کن لوگوں کو صدقہ دینا جائز ہے اور صدقہ اور خیرات کے اصل مستحق کون لوگ ہیں چناچہ فرماتے ہیں، اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ جو چیز تم نے اپنی تجارت یا صنعت وحرفت سے کمائی ہے اس میں سے پاکیزہ یعنی حلال اور عمدہ چیز خدا کی راہ میں خرچ کرو اور علی ہذا ہم نے جو چیز تمہارے لیے زمین سے نکالی ہے اس میں سے بھی پاکیزہ اور عمدہ ہی چیز خرچ کرو اور خراب اور گندی چیز کا…
Read the full tafseer →537 اس ٓیت میں اللہ تعالیٰ نے ہر وقت اور ہر حال میں خیرات کرنے اور خدمت دین میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے لیل ونہار سے عموم اوقات اور سرد علانیہ سے عموم احوال مراد ہے لیل کو نہار پر اور سر کو علانیہ پر مقدم کر کے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ صدقہ میں اخفاء اور چھپا کردینا افضل اور بہتر ہے۔ المراد باللیل والنھار جمیع الاوقات کما ان المراد بما بعدہ جمیع الاحوال وقدم اللیل علی النہار والسر علی العلانیۃ للایذان بمزیۃ الخفاء علی الاظہار (روح ص 47 ج 3)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 274–277
صدقہ بمقابلہ سود
گزشتہ کئی دروس میں صدقہ کا بیان آتا ہے اور گزشتہ درس میں صدقات سے متعلق ساتویں بات یعنی اس کے بہترین مصرف کا ذکر تھا۔ اب آج کے درس میں پہلے صدقات ہی کے ضمن میں ان کی فضلیت بیان کی گئی ہے اور پھر اس کے مقابلے میں سود کی مذمت ہے ، صدقہ و خیرات کرنے سے انسان کے اندر فیاضی کا مادہ پیدا ہوتا ہے اور بخل دور ہوتا ہے۔ اس کے سبب انسان کے اندر بنی نوع انسان کے لیے جذبہ ہمدردی پیدا ہوتا ہے ، مکارم اخلاق کی تکمیل ہوتی ہے ، اور پھر یہی خصائل انسان کی نجات کا ذریعہ بن جاتے ہیں ۔ بر خلاف اس کے سود خور میں بخل کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔ اخلاق کا جنازہ نکلتا ہے اور لا محدودپیمانہ پر مال جمع کرنے…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّہَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَۃً فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ 0 ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ 274 ؔ
نفق
نَفَقَ الشَّيْءُ : مَضَى ونَفِدَ ، يَنْفُقُ ، إِمَّا بالبیع نحو : نَفَقَ البَيْعُ نَفَاقاً ، ومنه : نَفَاقُ الأَيِّم، ونَفَقَ القَوْمُ : إذا نَفَقَ سُوقُهُمْ ، وإمّا بالمَوْتِ نحو : نَفَقَتِ الدَّابَّةُ نُفُوقاً ، وإمّا بالفَنَاءِ نحو : نَفِقَتِ الدَّرَاهِمُ تُنْفَقُ وأَنْفَقْتُهَا . والإِنْفَاقُ قد يكون في المَالِ ، وفي غَيْرِهِ ، وقد يكون واجباً وتطوُّعاً ، قال تعالی: وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 273–274
1 ؎ یہ مہاجرین کے گروہ میں سے ایک خاص فرقہ تھا جن کو اصحاب الصفّہ کہتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 273–274
لِلْفُقَرَآئِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ ز یَحْسَبُہُمُ الْجَاہِلُ اَغْنِیَآئَ مِنَ التَّعَفُّفِ ج تَعْرِفُہُمْ بِسِیْمٰہُمْ ج لَایَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا ط وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ۔ ع اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ بِالَّیْلِ وَالنَّہَارِ سِرًّا وَّعَلَانِیَۃً فَلَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ ط وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔
(انفاق) ان فقراء کے لیے ہے جو خدا کی راہ میں گھرے ہوئے ہیں۔ زمین میں کاروبار کے لیے دوڑ دھوپ نہیں کرسکتے۔ گمان کرتا ہے انھیں بیخبر آدمی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : پہلے ریاکاری کی مذمت کی گئی ہے اب وضاحت فرمائی ہے کہ نیت میں اخلاص ہو تو اعلانیہ صدقہ کرنا ریاکاری میں شامل نہیں۔
صدقہ کرنے کے انداز اور طریقہ کے بارے میں پہلے ارشاد یہ تھا کہ چھپا کر صدقہ کرو یا اعلانیہ دونوں صورتیں تمہارے لیے بہتر ہیں۔ اس کے بدلے تمہارے گناہوں کو معاف کردیا جائے گا۔ یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ جو لوگ رات کی تاریکی میں صدقہ کریں یا دن کی روشنی میں سب کے سامنے کریں یا چھپ کر ایسے لوگوں کے اخلاص ‘ جذبات اور صدقات کے مطابق ان کے رب کے ہاں نہایت ہی عمدہ اجر ہے۔ جس میں ایک رائی کے دانے کے برابر بھی کمی نہیں کی جائے گی۔ اس اجر کے ساتھ انہیں یہ بھی انعام سنایا جاتا…
Read the full tafseer →آیت 274 … راہ الٰہی میں خرچ کے حریص :
اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ بِالَّیْلِ وَالنَّہَارِسِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً (وہ لوگ جو اپنا مال رات دن ٗ پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں)
نحو : سرا و علانیہ۔ یہ دونوں حال ہیں۔ ای مسرین و معلنین۔ مطلب یہ ہوا۔ بھلائی میں بہت زیادہ حرص کی بناء پر صدقہ عمومی اوقات میں کرتے ہیں۔ جونہی ان کو کسی محتاج کی محتاجی معلوم ہوئی تو اس کے پورا کرنے میں جلدی کرتے ہیں۔ اور اس کو مؤخر نہیں ہونے دیتے۔ کسی وقت و حالت کا بہانہ نہیں بناتے۔
ایک قول : یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں یہ آیت اتری۔ جب انہوں نے چالیس دینار خرچ کیے۔ دس رات کو دس دن کو دس پوشیدہ اور…
Read the full tafseer →(تفسیر) 274۔:
(آیت)” الذین ۔۔۔۔۔۔۔۔ وعلانیۃ “۔ جو لوگ اللہ کے راستے میں اپنامال خرچ کرتے ہیں دن ورات کو پوشیدہ یا علانیہ) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت حضرت علی بن ابی طالب ؓ کے بارے میں نازل ہوئی کہ ان کے پاس چار دراہم تھے ، اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں تھی حضرت علی ؓ نے ایک درہم رات کو اور ایک درہم دن کو اور ایک درہم پوشیدہ اور ایک علانیہ صدقہ کیا ۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” للفقراء الذین احصروا فی سبیل اللہ “۔ تو عبدالرحمن بن عوف ؓ نے بہت سارے دراہم کثیرہ اصحاب صفہ کو بھیجے اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے ایک وسق تمر آدھی رات…
Read the full tafseer →طبرانی ابن ابی حاتم ‘ عبد الرزاق ‘ ابن جریر اور ابن المنذر نے روایت کی ہے کہ عقبیٰ کے اجر کے خیال سے جب صحابہ ؓ میں طرح طرح کی خیرات کا چرچہ ہوا مثلاً اکثر صحابہ نے جہاد کا سامان گھوڑے اور ہتھیار خریدنے اور مجاہدین کو طرح طرح کی مدد دی مثلاً حضرت علی کے پاس چار درہم تھے آپ نے ایک رات دن میں وہ سب خیرات کر دئیے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرما دیا کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کو اللہ سے بڑے بڑے اجروں کی توقع رکھنی چاہیے حضرت علی ؓ کے چار درہم خیرات کرنے کے قصہ کی روایت میں اگرچہ ابن جریر وغیرہ کی سند ضعیف ہے مگر ابن مردویہ (رح) نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے طریق سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 272–274
آیت 272-274
دلالت ہے کہ مال کا یہ خرچ کرنا عام ہے جیسے مسلم پر خرچ کرنا واجب ہے اسی طرح کافر ( اہل ذمہ وغیرہ) پر بھی خرچ کیا جائے گا اگرچہ اس نے ہدایت قبول نہ کی ہو۔ اس لئے فرمایا : (وما تنفقوا من خیر) تم جو کچھ خرچ کرو گے۔ “ کم ہو یا زیادہ اور چاہے یہ مال تم مسلمان پر خرچ کرو یا کافر پر : (فلا نفسکم) ” اس کا فائدہ خود پاؤ گے (وما تنفقون الا ابتغآء وجہ اللہ) ” اور تم صرف اللہ کی رضا مندی کی طلب کے لئے خرچ کرتے ہو۔ “ یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ مومنوں کے خرچ کی بنیاد ایمان ہوتی ہے اور وہ صرف اللہ کی رضا کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا ایمان انہیں فضول مقاصد کے لئے کام کرنے سے منع کرتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 274–275
ربوٰ کا بیان
قول باری ہے (الذین یاکلون الربوٰا لایقومون الا کما یقوم الذی یتخبطہ الشیطن من المس۔ ذلک بانھم قالوا انما البیع مثل الربوٰا واحل اللہ البیع وحرم الربوٰا۔ (a) جو لوگ سود کھاتے ہیں ان کا حال اس شخص کا سا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھوڑ کر بائولا کردیا ہو۔ اور اس حالت میں ان کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ تجارت بھی تو آخر سود ہی جیسی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام)
ابو بکر جصاص کہتے ہیں کہ ربوا کے معنی زیادتی اور اضافے کے ہیں۔ اسی سے لفظ الرابیۃ ہے جس کے معنی ابھری ہوئی زمین کے ہیں کیونکہ اپنے ارد گرد کی زمین کے مقابلے میں زیادہ ابھری ہوئی ہوتی…
Read the full tafseer →788 ہر حال میں خرچ کرنے والوں کی عظمت شان : یعنی وہ اپنی ہمت و بساط کے مطابق جب بھی ہوسکے، بغیر کسی تخصیص و تعیین کے، ہر موقع پر، اور ہر حال میں، خرچ کرتے ہیں۔ تاکہ رب راضی ہوجائے اور آخرت کا توشہ بن جائے۔ تو ان کے لئے ان کا وہ اجر وثواب ہے جو ان کے صدق و اخلاص کے مطابق، اور ان کے لائق ہوگا۔ سو یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں مال کی محبت کیلئے کوئی جگہ نہیں رہ جاتی، اور ان کا شغل شاغل اور مقصود اصلی اپنے رب کی رضا و خوشنودی کا حصول ہوتا ہے۔ اور بس اس کیلئے وہ ہر حال میں اور ہر موقع پر خرچ کرنے کی فکر و کوشش میں ہوتے ہیں۔ سو ان کو بدلہ اور جزا کے اس دن میں کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ ہی یہ غمگین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 273–274
خیرات کے مستحق کون
تشریح : ان آیات میں ایک اور ایسے طبقہ کے لوگوں کا ذکر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جن کو صدقہ و خیرات دینا چاہئے یہ وہ لوگ ہیں جو دینی کاموں میں اس قدرمصروف رہتے ہیں کہ ان کو روزی کمانے کا وقت ہی نہیں ملتا جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے وہ صحابہ کرام جو اصحاب صفہ کے نام سے مشہور تھے۔ یہ لوگ ہر وقت دینی تعلیم حاصل کرنے میں مصروف رہتے اور کبھی کسی سے سوال نہ کرتے تو لوگ سمجھتے کہ وہ ضرورت مند نہیں ہیں۔ حالانکہ بھوک اور تنگی کی وجہ سے ان کے چہروں سے یہ بات معلوم کی جاسکتی تھی کہ وہ ضرورت مند ہیں ایسے ہی لوگ آج کل بھی موجود ہیں تو رب العزت فرماتے ہیں کہ ایسے لوگوں کی ضروریات کا پورا پورا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 274–281
274 تا 281
اسرارو معارف
الذین ینفقون…………ولاھم یحزنون۔
جو لوگ دن رات ظاہر پوشیدہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں یعنی جیسے ضرورت پیش آئے اسے پورا کرنے کو لپکتے ہیں۔ اعلانیہ دینا پڑے یا چھپا کر ، رات ہو یا دن کا وقت نہ تاخیر کرتے ہیں اور نہ کسی حالت کو آڑے آنے دیتے ہیں جیسے سیدنا صدیق اکبر ؓ ، کہ شاعر مشرق (رح) نے کیا خوب کہا ہے ؎
آں امن الناس بر مولائے ما
آں حکیم وادی سینائے ما
دولت اوکشت ملت راچوں ابر
ثانی اثنین وغار وبدر وقبر
یا دیگر جملہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جن کے صدقات اور مالی جانی قربانیوں سے تاریخ عالم مزین ہے اور چشم فلک حیران۔ ایسی قوم نہ سورج نے ان سے پہلے دیکھی اور نہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 274–275
ف 3 یعنی سود خوار قیامت کے دن مخبوط الحواس اور پاگل ہو کرا اٹھیں گے الربا (سود) کے لفظی معنی مطلق زیادتی کے ہیں اور اصلاح شریعت میں خاص شرح کے ساتھ جو اضافہ اصل (راس المال) پر لیا جاتا ہے اسے ربا کہتے ہیں۔ (راغب) یعنی کسی قرض پر بغیر کسی مالی معاوضہ کے محض مہلت بڑھادینے کے بنا پر زیادتی حاصل کی جائے (ابن العربی) جاہلیت میں عام طور پر سود کی صورت یہ تھی کہ جب ادائے قرض وقت آجاتا ہے تو صاحب مال کہتا یا تو قرض ادا کرو یا مہلت لے کر سود دینا منظو کرو۔ سود کی یہ شکل بالا جماع حرام ہے۔ شوکانی لفظ ربا اپنے وسیع ترمعنی کے اعتبار سے مذکورہ صورتکو بھی شامل ہے لیکن یہ کل ربا نہیں ہے بعض قبائل میں تجارتی…
Read the full tafseer →(2:274) الذین ینفقون۔ الذین اسم موصول جمع مذکر۔ ینفقون اموالہم باللیل والنھار سرا وعلانیۃ۔ صلہ۔ موصول وصلہ مل کر مبتداء فلہم اجدھم ۔۔ ولاھم یحزنون۔ خبر ۔اس لئے کہ مبتدا میں بوئے شرط تھی۔ اللیل والنھار اسم ظرف زمان بمعنی لیلا ونھارا رات ہو یا دن ۔ سرا وعلانیۃ۔ خفیہ طور پر یا علانیہ طور پر چاروں حال میں۔
ولاہم یحزنون۔ واؤ عاطفہ ھم ضمیر جمع مذکر غائب ای الذین ینفقون۔ لا یحزنون مضارع منفی جمع مذکر غائب حزن (باب سمع) مصدر۔ نہ وہ غمگین ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 273–274
لغات القرآن : آیت نمبر 273 تا 274
احصروا (جو گھرے بیٹھے ہیں) ۔ لا یستطیعون (وہ طاقت نہیں رکھتے ہیں) ۔ ضرب (چلنا ) ۔ یحسب (سمجھتا ہے) ۔ الجاھل (بےخبر ) ۔ اغنیاء (مال دار ) ۔ التعفف (نہ مانگنا) ۔ تعرف (تو پہچان لے گا) ۔ سیما (پیشانیاں، علامت ) ۔ لا یسئلون (وہ سوال نہیں کرتے ) ۔ الحافا (لگ لپٹ کر) ۔ سر (چھپ کر) ۔ علانیۃ (کھل کر) ۔
تشریح : آیت نمبر 273 تا 274
وہ لوگ جو کسی دینی مقصد میں لگے ہوئے ہونے کی وجہ سے کسب معاش کی نہ تو جدو جہد کرسکتے ہیں اور نہ ادھر ادھر جاسکتے ہیں ایسے لوگوں کی ڈھونڈ ڈھونڈ کر مدد کرو تا کہ وہ فکر معاش میں اپنے اصل کام سے دور نہ ہوجائیں۔ ان کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ…
Read the full tafseer →اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ، ان کو اللہ سے بڑے بڑے اجروں کی توقع رکھنی چاہئے۔ صحیحین وغیرہ میں جو راویتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص نیک نیتی اور عقبیٰ کے اجر کے خیال میں اپنی
بی بی بچوں کے نان نفقہ میں بھی کچھ خرچ کرے گا تو اس کو بھی قیامت کے دن اس خرچ کرنے کا اجر خدا کی درگاہ سے ضرور ملے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 270–274
[281] نذر اس نفلی مالی یا بدنی عبادت کو کہتے ہیں جو آدمی اپنی کسی مراد کے پورا ہونے پر اپنے اوپر لازم کرے۔ اگر یہ مراد کسی جائز یا حلال امر کے لئے ہو تو اس کا پورا کرنا باعث ثواب ہے ورنہ بصورت دیگر ایسی نذر کا ماننا اور اس کا پورا کرنا دونوں کام گناہ کے ہیں۔
Read the full tafseer →(ف 1) امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اس سے مقصود ارباب خیل ہیں یعنی وہ لوگ جو جہاد کے لئے گھوڑے رکھتے ہیں اور دن رات ان کی خدمت کرتے ہیں ، تاکہ جہاد کے لئے تیار ہوجاتے ہیں ، حضرت سعید بن مسیب ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت جناب عثمان ؓ اور عبدالرحمن بن عوف ؓ کے حق میں نازل ہوئی ، اس لئے کہ انہوں نے جیش عسرت کی تیاری میں مدد دی ، مگر آیت کا مفہوم عام ہے ، اس میں ایک تو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ لوگ انفاق فی سبیل اللہ جن کی عادت ثانیہ ہوگیا ہے اور وہ مسلسل دن رات جب ضرورت محسوس ہو خرچ کرنے سے دریغ نہیں کرتے ، اللہ کی حقیقی نعمتوں کے سزاوار ہیں اور یہ کہ اعلان واخفاء دونوں حالتوں میں ان کے دل…
Read the full tafseer →ف 2 جو لوگ اپنے مال رات کو اور دن کو خفیہ اور علانیہ خدا کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں تو ایسے لوگوں کو قیامت میں ان کے رب کے حضور ان کا ثواب ملے گا اور ان کا اجر ان کے رب کے پاس محفوظ اور موجود ہے۔ نیز ایسے لوگوں کو نہ کسی قسم کا خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ بلا کسی زمانے کی تخصیص کے اور بلا حالات کے اتار چڑھائو کے ان لوگوں کو خیرات کرنے سے دھیان ہے نہ رات اور دن کا خیال کرتے ہیں نہ پوشیدہ اور علانیہ کی بحث میں پڑتے ہیں بلکہ جیسا موقعہ ہوتا ہے خرچ کرتے ہیں اگرچہ خفیہ خیرات علانیہ خیرات سے بہتر ہے لیکن بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں کہ چھپانے کے انتظار میں حاجت مند کا کام خراب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 273–275
ف 1۔ یعنی دین کی خدمت میں اور جاننا چاہیے کہ ہمارے ملک میں اس آیت کے مصداق سب سے زیادہ وہ حضرات ہیں جو علوم دینیہ کی اشاعت میں مشغول ہیں۔
Read the full tafseer →اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کا اجر محفوظ ہے :
479: ان لوگوں کے اجر عظیم اور فضیلت کا بیان ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے عادی ہیں۔ حالات کچھ بھی ہوں جب رضائے الٰہی میں خرچ کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ تیار ہوتے ہیں اور دنیا کی کوئی چیز ان کو مانع نہیں ہوتی۔ رات ہو یا دن ، خفیہ ہو یا اعلانیہ ہر طرح وہ فی سبیل اللہ خرچ کرتے رہتے ہیں۔ اس کے ضمن میں یہ بھی بتا دیا کہ صدقہ و خیرات کے لیے کوئی وقت متعین نہیں ہے جبکہ وہ صدقہ فرائض میں سے نہ ہو جیسے زکوٰۃ ، نہ رات اور دن کی کوئی تعین ہے اور نہ خفیہ و اعلانیہ کی کوئی قید۔ اس خرچ کرنے میں صرف اپنے مال کو دیکھنا ہے کہ صحیح کمائی کا مال ہے اور جہاں خرچ…
Read the full tafseer →(8). Verse 274: الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ "Those who spend their
wealth night and day."
Presented in this verse is the great reward and excellence of those who are used to spending in the way of Allah. They are those who, under all conditions and circumstances, during the day and during the night, secretly and openly, keep spending in the way of Allah in all sorts of ways. By implication, it was also stated that there is no time fixed for charities, i.e., sadaqah صدقہ and khayrat خیرات . There is no restriction of night or day. Similarly, spending in the way…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 273–274
314. The people referred to here are those who, because they had dedicated themselves wholly to serving the religion of God, were unable to earn their livelihood. In the time of the Prophet there was a group of such volunteer workers, known as Ashab al-Suffah, consisting of about three or four hundred people who had forsaken their homes and gone to Madina. They remained at all times in the company, of the Prophet, always at his beck and call to perform whatever service he required of them. They were dispatched by the Prophet on whatever expeditions he wished. Whenever there was nothing to do…
Read the full tafseer →