Explained with ayahs 272–274
مستحق صدقات کون ہیں
حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ مسلمان صحابہ اپنے مشرک رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کرنا ناپسند کرتے تھے پھر حضور ﷺ سے سوال ہوا اور یہ آیت اتری اور انہیں رخصت دی، فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ فرماتے تھے کہ صدقہ صرف مسلمانوں کو دیا جائے، جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرما دیا ہر سائل کو دو ، گو وہ کسی مذہب کا ہو (ابن ابی حاتم) حضرت اسماء والی روایت آیت (لاینھاکم اللہ الخ) کی تفسیر میں آئے گی انشاء اللہ، یہاں فرمایا تم جو نیکی کرو گے اپنے لئے ہی کرو گے جیسے اور جگہ ہے آیت (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ ۚ وَمَنْ اَسَاۗءَ فَعَلَيْهَا) 45۔ الجاثیہ :15) اور اس جیسی اور آیتیں بھی بہت ہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 273–274
سورة الْبَقَرَة 314
اس گروہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا کے دین کی خدمت میں اپنے آپ کو ہمہ تن وقف کردیتے ہیں اور سارا وقت دینی خدمات میں صرف کردینے کی وجہ سے اس قابل نہیں رہتے کہ اپنی معاش پیدا کرنے کے لیے کوئی جدوجہد کرسکیں۔ نبی ﷺ کے زمانے میں اس قسم کے رضا کاروں کا مستقل گروہ تھا، جو تاریخ میں اصحاب صُفّہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تین چار سو آدمی تھے، جو اپنے اپنے گھر بار چھوڑ کر مدینے آگئے تھے۔ ہمہ وقت حضور کے ساتھ رہتے تھے۔ ہر خدمت کے لیے ہر وقت حاضر تھے۔ حضور جس مہم پر چاہتے انہیں بھیج دیتے تھے، اور جب مدینے سے باہر کوئی کام نہ ہوتا، اس وقت یہ مدینے ہی میں رہ کر دین کا علم حاصل کرتے اور دوسرے…
Read the full tafseer →لِلْفُقَرَاۗءِ الَّذِيْنَ اُحْصِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ (الی قولہ) فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ یہاں فقراء سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جو دینی مشغولیت کی وجہ سے دوسرا کوئی کام نہیں کرسکتے۔
يَحْسَبُھُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَاۗءَ مِنَ التَّعَفُّفِ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی فقیر قیمتی کپڑے پہنے ہوئے ہو تو اس کی وجہ سے اس کو غنی کہا جائے گا اور ایسے آدمی کو زکوٰۃ دینا بھی صحیح ہوگا (قرطبی)
تَعْرِفُھُمْ بِسِيْمٰھُمْ سے معلوم ہوا کہ علامات کو دیکھ کر حکم لگانا صحیح ہے، چناچہ اگر کوئی مردہ اس قسم کا پایا جائے کہ اس پر زنا رہے اور اس کا ختنہ بھی نہیں کیا ہوا ہو تو اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں…
Read the full tafseer →للفقراء سے پہلے مبتداء محزوف ہے۔ یعنی یہ صدقہ وانفاق جس کی دعوت دی جا رہی ان فقراء کے لیے ہے جن کی صفات یہ یہ ہیں۔ مبتداء کے حذف کردینے کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ قرینہ خود اس پر دلیل ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے صدقے کی اخفا کی طرف ایک بلیغ اشارہ ہو رہا ہے۔ گویا آیت نے انگلی اٹھا کر محتاجوں کی طرف تو اشارہ کردیا لیکن یہ بات کہ کس کام کے لیے اشارہ کیا گیا ہے، مخاطب کے فہم پر چھوڑ دی ہے۔ اس طرح صدقہ کے اخفا کے ساتھ ساتھ محتاجوں کے اس خود داری کی بھی آن محفوظ رہ گئی جس کی طرف آیت میں اشارہ ہوا ہے۔
اُحْصِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ یعنی کسی دینی مقصد نے ان کو کسب معاش کی جدوجہد سے روک رکھا ہے۔ یہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 273–274
273۔ 1 اس سے مراد مہاجرین ہیں جو مکہ سے مدینہ آئے اور اللہ کے راستے میں ہر چیز سے کٹ گئے دینی علوم حاصل کرنے والے طلباء اور علماء بھی اس کی ذیل میں آسکتے ہیں۔
273۔ 2 گویا اہل ایمان کی صفت یہ ہے کہ فقرو غربت کے باوجود (سوال سے بچنا) اختیار کرتے اور چمٹ کر سوال کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ بعض نے الحاف کے معنی کئے ہیں بلکل سوال نہ کرنا کیونکہ ان کی پہلی صفت عفت بیان کی گئی ہے۔ (فتح القدیر) اور بعض نے کہا کہ وہ سوال میں آہو زاری نہیں کرتے اور جس چیز کی انہیں ضرورت نہیں ہے اسے لوگوں سے طلب نہیں کرتے۔ اس لئے الحاف یہ ہے کہ ضرورت نہ ہونے کے باوجود (بطور پیشہ) لوگوں سے مانگے اس لئے پیشہ ور گداگروں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 273–274
183: حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت اصحاب صفہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، یہ وہ صحابہ تھے جنہوں نے اپنی زندگی علم دین حاصل کرنے کے لئے وقف کردی تھی اور آنحضرت ﷺ کے پاس مسجد نبوی سے متصل ایک چبوترے پر آپڑے تھے، طلب علم کی وجہ سے وہ کوئی معاشی مشغلہ اختیار نہیں کرسکتے تھے مگر مفلسی کی سختیاں ہنسی خوشی برداشت کرتے تھے کسی سے مانگنے کا سوال نہیں تھا، اس آیت نے بتایا کہ ایسے لوگ امداد کے زیادہ مستحق ہیں جو ایک نیک مقصد سے پوری امت کے فائدے کے لئے مقید ہو کر رہ گئے ہیں اور سختیاں جھیلنے کے باوجود اپنی ضرورت کسی کے سامنے ظاہر نہیں کرتے۔ آیت نمبر 261 سے 274 تک صدقات کی فضیلت اور اس کے احکام بیان…
Read the full tafseer →یہ پر تأثیر صفت مہاجرین کی ایک جماعت پر پوری طرح منطبق تھی ۔ وہ اپنے پیچھے اپنی دولت اور اپنا خاندان چھوڑ آئے ہوئے تھے وہ مدینہ میں قیام پذیر تھے اور انہوں نے اپنے آپ کو جہاد فی سبیل اللہ کے لئے وقف کرلیا تھا ۔ یہ لوگ ہر وقت رسول اللہ ﷺ کے باڈی گارڈ تھے ۔ مثلاً اہل صفہ جو رسول اللہ ﷺ کی اقامت گاہوں کے محافظ بھی تھے ۔ کوئی دشمن ان سے آنکھ چراکر رسول اللہ ﷺ کی اقامت گاہوں تک نہ پہنچ سکتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ جہاد فی سبیل اللہ کے لئے وقف تھے اور کسب معاش یا تجارتی مقاصد کے لئے ادہر ادہر نہ جاسکتے تھے ۔ اس صورت حال کے باوجود وہ لوگوں سے کچھ مانگتے بھی نہ تھے ۔ وہ اس قدر خوددارانہ رویہ اختیار کئے…
Read the full tafseer →5 یعنی ایسوں کا دینا بڑا ثواب ہے جو اللہ کی راہ اور اس کے دین کے کام میں مقید ہو کر چلنے پھرنے کھانے کمانے سے رک رہے ہیں اور کسی پر اپنی حاجت ظاہر نہیں کرتے جیسے حضرت کے اصحاب تھے۔ اہل صفہ نے گھر بار چھوڑ کر حضرت کی صحبت اختیار کی تھی علم دین سیکھنے کو اور مفسدین فتنہ پردازوں پر جہاد کرنے کو اسی طرح اب بھی جو کوئی قرآن کو حفظ کرے یا علم دین میں مشغول ہو تو لوگوں پر لازم ہے کہ ان کی مدد کریں۔ اور چہرہ سے ان کو پہچاننا اس کا مطلب یہ ہے کہ انکے چہرے زرد اور بدن دبلے ہو رہے ہیں اور آثار جدوجہد ان کی صورت سے نمودار ہیں۔
6 علی العموم اور خاص کر ایسے لوگوں پر جن کا ذکر ہوا۔
Read the full tafseer →آیت 273 لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ
جیسے رسول اللہ ﷺ کے دور میں اصحاب صفہ تھے کہ مسجد نبوی ﷺ میں آکر بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنا وقت تلاش معاش میں صرف نہیں کر رہے ‘ آنحضور ﷺ سے علم سیکھ رہے ہیں اور جہاں جہاں سے مطالبہ آرہا ہے کہ معلمین اور مبلغینّ کی ضرورت ہے وہاں ان کو بھیجا جا رہا ہے۔ اگر وہ معاش کیّ جدوجہد کرتے تو یہ تعلیم کیسے حاصل کرتے ؟ اسی طرح دین کی کسی خدمت کے لیے کچھ لوگ اپنے آپ کو وقف کردیتے ہیں تو وہ اس کا مصداق ہوں گے۔ آپ نے دین کی دعوت و تبلیغ اور نشر و اشاعت کے لیے کوئی تحریک اٹھائی ہے تو اس میں کچھ نہ کچھ ہمہ وقتی کارکن درکار ہوں گے۔ ان کارکنوں کی…
Read the full tafseer →389 یعنی جن لوگوں نے اپنے آپ کو دین کے علم کے لیے خواہ وہ سیکھ رہے ہوں یا سکھلا رہے ہوں یا دوسرے امور کے لیے وقف کر رکھا ہے اور وہ محتاج ہیں، جیسے دور نبوی میں اصحاب صفہ تھے یا وہ لوگ جو جہاد میں مصروف ہیں یا ان کے بال بچوں کی نگہداشت پر اور ایسے ہی دوسرے لوگوں پر صدقات خرچ کئے جائیں۔
390 ضمناً اس آیت سے سوال نہ کرنے کی فضیلت معلوم ہوئی۔ اس سلسلہ میں چند احادیث نبوی ملاحظہ ہوں :۔
1۔ ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو شخص سوال سے بچے اللہ بھی اسے بچائے گا اور جو کوئی (دنیا سے) بےپروائی کرے گا۔ اللہ اسے بےپروا کر دے گا اور جو کوئی کوشش سے صبر کرے گا اللہ اسے صبر دے گا اور صبر سے بہتر اور…
Read the full tafseer →1059 ۔ یعنی صدقات کے اصل مستحق تو وہ حاجتمند ہیں جن کا ذکر اب آرہا ہے۔ مبتداء یہاں محذوف ہے۔ اصل ترکیب یوں ہے۔ ھذہ الصدقات للفقرآء (مدارک) (آیت) ” احصروا فی سبیل اللہ “۔ یعنی دین ہی کے کسی کام میں گھر گئے ہیں اور اب آزادی سے کسب معاش نہیں کرسکتے۔ اصل مراد یہاں مجاہدین ہیں ھم الذین احصرھم الجھاد فمنعھم من التعفف (مدارک) احصار۔ میں بڑی گنجائش ہے یہ گھر جانا خواہ وقت کے لحاظ سے ہو یا جسم کے لحاظ سے سب اس کے تحت میں آجاتا ہے۔ علی ھذا فی سبیل اللہ “ میں بھی بڑی وسعت ہے۔ دین کا کوئی سا کام، کوئی سی ضرورت ہو سب اس میں شامل ہوسکتی ہیں، گواصل مراد جہاد ہے۔ مفسر تھانوی (رح) نے کہا ہے کہ آیت کے مصداق…
Read the full tafseer →لَایَسَئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا۔ اہل ایمان کی صفت یہ ہے کہ فقر و غربت کے باوجود وہ سوال سے بچتے ہیں اور الحاف یعنی اصرار سے سوال کرنے سے بچتے ہیں، بعض نے الحاف کے معنی کئے ہیں بالکل سوال نہ کرنا، اور بعض نے کہا ہے کہ وہ سوال میں الحاح وزاری نہیں کرتے، اس مضمون کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مسکین وہ نہیں ہے جو ایک ایک دو دو کھجور یا ایک ایک دو دو لقمے کے لیے دررد جا کر سوال کرتا ہے، مسکین تو وہ ہے جو سوال سے بچتا ہے، پھر آپ ﷺ نے لَایَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا کا حوالہ پیش فرمایا (صحیح بخاری) اس لیے پیشہ ور گداگروں کے بجائے دین کے طلبہ علماء اور سفید پوش ضرورت…
Read the full tafseer →لِلْفُقَرَاۗءِ الَّذِيْنَ : اس کا تعلق یا ما تنفقوا سے ہے یعنی جو مال راہ خدا میں تم فقراء کو دو گے یا اس کا تعلق محذوف فعل سے ہے گذشتہ فعل اس محذوف پر دلالت کررہا ہے اس لیے دوبارہ ذکر فعل کی ضرورت نہیں یعنی فقراء کو دینے کا قصد کرو یا جو کچھ خرچ کرو وہ فقراء کے لیے خاص کردو یا للفقراء خبر مقدم ہے اور مبتدا مؤخر محذوف ہے یعنی فقیروں کا تم پر حق ہے۔
اُحْصِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : ان فقراء کے لیے جن کو راہ خدا میں روک دیا گیا ہے۔ ( کہ دوسرے کام نہیں کرسکتے) یعنی ظاہری اور باطنی علوم کی تحصیل یا جہاد میں مشغول ہیں۔
لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ ضَرْبًا فِي الْاَرْضِ : کہ وہ علم اور جہاد میں مشغول…
Read the full tafseer →(273) اور صدقات کے حقیقی مستحق تو صرف وہ حضرات ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے لیے اپنے کو رسول اللہ ﷺ کی مسجد تک محدود کیا ہوا ہے (اصحاب صفہ) اور وہ معاشی سرگرمیوں کے لیے کہیں جا بھی نہیں سکتے، ان کے سوال سے بچنے کی وجہ سے ناواقف ان کو ان کے وقار کے سبب کھاتا پیتا سمجھتے ہیں، اے محمد ﷺ آپ ان کو ان کی شکل سے پہچان سکتے ہو، وہ کسی سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔
اور اصحاب صفہ پر جو مال بھی تم خرچ کرو، اللہ تعالیٰ کو اس مال اور تمہاری نیتوں کی اچھی طرح خبر ہے۔
Read the full tafseer →اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی ترغیب کے بعد اب خاص طور پر کچھ لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے، جو سب سے زیادہ مدد اور مالی تعاون کے حق دار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی چھ صفات بیان فرمائی ہیں اور یہ ساری صفات اصحاب صفہ میں پائی جاتی تھیں، اس لیے اس آیت کے سب سے پہلے مصداق وہی ہیں، پھر قیامت تک جو لوگ بھی ان صفات کے حامل ہوں گے وہ سب سے زیادہ مالی تعاون کے حق دار ہوں گے، اب آپ وہ صفات ملاحظہ فرمائیں :
1 ”لِلْفُقَرَاۗءِ“ یہاں ان کے فقر کا سبب بیان نہیں فرمایا، سورة حشر میں بیان فرمایا ہے : (لِلْفُقَرَاۗءِ الْمُهٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَاَمْوَالِهِمْ) [ الحشر : 8 ] ”(یہ مال) ان…
Read the full tafseer →آیت : نمبر، 273۔
اس میں دس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” للفقرآء۔ اس میں لام (آیت) ” وما تنفقوا من خیر “ کے متعلق ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ محذوف کے متعلق ہے اور تقدیر عبارت ہے : الانفاق او الصدقۃ للفقراء، سدی مجاہد وغیرہمانے کہا ہے : ان فقراء سے مراد فقراء مہاجرین ہیں جو قریش اور دوسرے قبائل سے تعلق رکھتے تھے، پھر یہ آیت ہر اس کو شامل ہے جو مستقبل میں فقراء کی صفت کے تحت داخل ہوگا اور مہاجرین فقراء کو ذکر کے ساتھ خاص اس لئے کیا گیا ہے کیونکہ وہاں ان کے سوا کوئی (فقیر) نہ تھا، اور یہ فقراء اہل صفہ تھے اور تقریبا چار سو افراد تھے، وہ فقر و افلاس کی حالت میں رسول اللہ…
Read the full tafseer →لوگوں سے سوال نہ کرنے والے فقراء پر صدقہ
(1) ابن المنذر نے الکلبی کے طریق سے ابو صالح سے اور انہوں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” للفقراء الذین احصروا فی سبیل اللہ “ سے مراد اصحاب صفہ ہیں۔
(2) بخاری ومسلم نے عبد الرحمن بن ابی بکر ؓ سے روایت کیا کہ اصحاب صفہ فقراء تھے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو اس کو چاہیے کہ وہ تیسرے کو ساتھ لے جائے۔
(3) بخاری ومسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا اہل صفہ کے ساتھ مل جاؤ ان کو بلاؤ، پھر فرمایا صفہ والے اسلام کے مہمان ہیں، نہیں آرزور کھتے اہل و عیال کی اور نہ مال کی۔ جب آپ ﷺ کے پاس…
Read the full tafseer →[لِلْفُقَرَآئِ الَّذِیْنَ : یہ ایسے حاجت مندوں کے لیے ہے جو ] [اُحْصِرُوْا : روک دیے گئے ] [فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [لاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ : جو صلاحیت نہیں رکھتے ] [ضَرْبًا : سفر کرنے کی ] [فِی الْاَرْضِ : زمین میں ] [یَحْسَبُہُمُ : گمان کرتے ہیں جن کو ] [الْجَاہِلُ : ناواقف لوگ ] [اَغْنِیَـآئَ : خوش حال ] [مِنَ التَّعَفُّفِ : خوددار ہونے کے سبب سے ] [تَعْرِفُہُمْ : تو پہچانے گا جن کو ] [بِسِیْمٰہُمْ : ان کی علامت سے ] [لاَ یَسْئَلُوْنَ : وہ لوگ نہیں مانگتے ] [النَّاسَ : لوگوں سے ] [اِلْحَافًا : لپٹتے ہوئے ] [وَمَا : اور جو بھی ] [تُنْفِقُوْا : تم لوگ خرچ کرتے ہو ] [مِنْ…
Read the full tafseer →فی سبیل اللہ کام کرنے والوں پر خرچ کرنے کا حکم
اس آیت شریفہ میں ان فقراء پر خرچ کرنے کی فضیلت بیان فرمائی جو دینی کاموں میں مشغول ہوں ان کی دینی مشغولیت انہیں کہیں آنے جانے نہیں دیتی اور کسب مال کے مواقع ان کی مشغولیت کی وجہ سے میسر نہیں ہے۔
صاحب روح المعانی نے (ص 46 ج 3) میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ان سے حضرات اصحاب صفہ مراد ہیں پھر لکھا ہے کہ یہ حضرات تین سو (300) کے لگ بھگ تھے ان کی تعداد میں کمی بیشی بھی ہوتی رہتی تھی یہ فقراء مہاجرین تھے جو مسجد نبوی کے چبوترے پر رہتے تھے جس پر چھپر پڑا ہوا تھا۔ یہ حضرات اپنے اوقات علم دین حاصل کرنے میں اور جہاد میں خرچ کرتے تھے اور جو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–274
بیان بقیہ آداب صدقات وذکر مصارف خیر۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا انفقوا من طیبت ماکسبتم۔۔ الی۔۔ یحزنون۔
ربط) ۔ اب ان آیات میں ان امور کو بیان فرماتے ہیں کہ جن کی صدقہ اور خیرات میں رعایت ضروری ہے اور بعدازاں یہ بیان فرمائیں گے کہ کن لوگوں کو صدقہ دینا جائز ہے اور صدقہ اور خیرات کے اصل مستحق کون لوگ ہیں چناچہ فرماتے ہیں، اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ جو چیز تم نے اپنی تجارت یا صنعت وحرفت سے کمائی ہے اس میں سے پاکیزہ یعنی حلال اور عمدہ چیز خدا کی راہ میں خرچ کرو اور علی ہذا ہم نے جو چیز تمہارے لیے زمین سے نکالی ہے اس میں سے بھی پاکیزہ اور عمدہ ہی چیز خرچ کرو اور خراب اور گندی چیز کا…
Read the full tafseer →536 لِلْفُقَرَاۗءِ مبتداء محذوف کی خبر ہے۔ ای حذہ الصدقات للفقراء (مدارک ص 107 ج 1) یعنی ان صدقات کے اصل مستحق تو وہ لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں گھرے ہوئے ہیں مراد مجاہدین اور طالبان علوم دین ہیں۔ جنہیں دین کے کاموں سے اتنی فراغت نہیں ملتی کہ وہ خود روزی کما سکیں۔ اصل میں یہ آیت اصحاب صفہ کے حق میں نازل ہوئی تھی۔ یہ کم وبیش تین سو فقراء مہاجرین تھے جن کا کوئی کاروبار نہیں تھا۔ یہ لوگ ہر وقت آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر رہتے اور علم دین حاصل کرتے تھے اور اگر ضرورت ہوتی تو جہاد میں بھی شریک ہوتے تھے۔ يَحْسَبُھُمُ الْجَاهِلُ یہ فقیر اور محتاج مجاہد اور طالب علم چونکہ گداگری نہیں کرتے اور لوگوں سے…
Read the full tafseer →ربط آیات
صدقہ و خیرات سے متعلق اس سے پہلے چھ باتیں بیان ہوچکی ہیں ۔ آج کے درس میں ساتویں اور آخری بات کا بیان ہے ، جیسا کہ گزتہ دروس میں ذکرآ چکا ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ کے سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ صدقہ و خیرات دیکر احسان نہ جتلائو ، دوسری بات یہ ہے کہ جس کو صدقہ دیا ہے اس کو ایذا نہ پہنچائو ، تیسری بات یہ ہے کہ اس کام میں ریا کاری کو دخل نہ ہو ، چوتھی شرط یہ ہے کہ پاکیزہ مال اور اعلیٰ چیز صدقہ میں دی جائے پانچویں یہ کہ صدقہ کھلے طور پر بھی دیا جاسکتا ہے اور پوشیدہ طور پر بھی بشرطیکہ نیت درست ہو یعنی انفاق محض رضا الٰہی کے لیے ہو ، چھٹی بات یہ ہے کہ صدقہ غیر مسلم مستحق کو بھی دیا جاسکتا ہے۔…
Read the full tafseer →لِلْفُقَرَاۗءِ الَّذِيْنَ اُحْصِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ ضَرْبًا فِي الْاَرْضِ 0 ۡيَحْسَبُھُمُ الْجَاہِلُ اَغْنِيَاۗءَ مِنَ التَّعَفُّفِ 0 ۚ تَعْرِفُھُمْ بِسِيْمٰھُمْ 0 ۚ لَا يَسْــَٔـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا 0 ۭ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللہَ بِہٖ عَلِيْمٌ 273 ۧ
حصر
الحَصْر : التضييق، قال عزّ وجلّ : وَاحْصُرُوهُمْ [ التوبة/ 5] ، أي : ضيقوا عليهم، وقال عزّ وجل : وَجَعَلْنا جَهَنَّمَ لِلْكافِرِينَ حَصِيراً [ الإسراء/ 8] ، أي : حابسا . قال الحسن : معناه : مهادا «5» ، كأنه جعله الحصیر المرمول کقوله : لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهادٌ [ الأعراف/ 41] فحصیر في…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 273–274
1 ؎ یہ مہاجرین کے گروہ میں سے ایک خاص فرقہ تھا جن کو اصحاب الصفّہ کہتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 273–274
لِلْفُقَرَآئِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ ز یَحْسَبُہُمُ الْجَاہِلُ اَغْنِیَآئَ مِنَ التَّعَفُّفِ ج تَعْرِفُہُمْ بِسِیْمٰہُمْ ج لَایَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا ط وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ۔ ع اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ بِالَّیْلِ وَالنَّہَارِ سِرًّا وَّعَلَانِیَۃً فَلَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ ط وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔
(انفاق) ان فقراء کے لیے ہے جو خدا کی راہ میں گھرے ہوئے ہیں۔ زمین میں کاروبار کے لیے دوڑ دھوپ نہیں کرسکتے۔ گمان کرتا ہے انھیں بیخبر آدمی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : پہلے صدقہ کرنے کا حکم تھا اب مستحق حضرات کو پہچاننے کا حکم ہے۔
اس مقام پر خود دار اور پاک باز لوگوں کے ساتھ تعاون کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے جو نہ کسی سے سوال کرتے ہیں اور نہ ہی مزدوری کے پیچھے بھاگتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو تعلیم وتعلّم، ترویج اسلام، جہاد فی سبیل اللہ بالفاظ دیگر اپنے آپ کو خدمت اسلام کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ وہ مزدوری کرسکتے ہیں لیکن اس لیے نہیں کرتے کہ کہیں فریضۂ تبلیغ میں کوتاہی واقع نہ ہوجائے۔ پہلے انفاق کے احکامات میں فی سبیل اللہ خرچ کرنے کا حکم تھا اور اب خود دار مستحق لوگوں کو فی سبیل اللہ کے مقام پر فائز کرتے ہوئے اغنیاء کو خرچ کرنے کی…
Read the full tafseer →آیت 273 : لِلْفُقَرَآئِ… اصحاب صفہ کی جماعت :
لِلْفُقَرَآئِ : (صدقات فقاء کیلئے ہیں) : للفقراء میں لام جارہ محذوف کے متعلق ہے ای اعمدوا للفقرائِ تم فقراء کا قصد کرو۔ یا مبتدائے محذوف ہذہ الصدقات کی یہ خبر ہے۔ مطلب یہ ہوا یہ صدقات ان فقراء کے لئے ہیں۔
الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (جو روک دیئے گئے اللہ تعالیٰ کی راہ میں) اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو جہاد نے روک دیا اور یہ کہ وہ کام کاج نہیں کرسکتے۔
لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ (وہ طاقت نہیں رکھتے) یعنی اس میں مشغولیت کی وجہ سے
ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ (زمین میں آجا نہیں سکتے) یعنی کمائی کے لئے۔
دوسرا قول : یہ اصحاب صفہ ہیں۔ یہ مہاجرین قریش…
Read the full tafseer →(تفسیر) 273۔:
(للفقراء ۔۔۔۔۔۔۔ سبیل اللہ) (اصل حق ان فقیروں کا ہے جو قید ہیں اللہ کی راہ میں) ” للفقراء “ میں لام کے متعلق آئمہ کا اختلاف ہے، بعض حضرات کے نزدیک یہ ” فلانفسکم “ کے لام کی جگہ استعمال کیا گیا ، گویا کہ اس نے یوں کہا ” وما تنفقوا من خیر فللفقرائ “ کہ وہ خرچ نہیں کرتے خیر میں صرف فقراء کے لیے بیشک وہ اپنے لیے خرچ کرتے ہیں ۔
فقراء سے کون سے لوگ مراد ہیں اصحاب صفہ کی تعداد :
بعض نے کہا کہ ان سے مراد وہ صدقات ہیں جو ماقبل میں ذکر کیے جا چکے ہیں ۔
بعض نے کہا کہ اس کی ضمیر محذوف ہے تقدیری عبارت یہ ہوگی ” للفقراء الذین صفتھم کذا حق واجب وھم للفقراء المھاجرین “۔ یعنی وہ فقراء جو اس صفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 272–273
(272 ۔ 273) ۔ نسائی حاکم ابن ابی حاتم طبرانی اور بزاز نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ اسلام سے پہلے اکثر صحابہ اور یہود میں قرابت تھی اور اس قرابت کی وجہ سے صحابہ ان سے طرح طرح کے سلوک کیا کرتے تھے اسلام کے بعد اس سلوک سے صحابہ کی اجازت آنحضرت سے چاہی آپ نے بھی اس خیال سے کہ شاید یہ طریقہ یہود کو کچھ راہ راست پر لاوے صحابہ کو اس کی اجازت دے دی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ اور فرما دیا کہ جس کسی کی ہدایت اللہ کو منظور ہوتی ہے وہ ہر طرح راہ راست پر آجاتا ہے۔ بدوں مرضی اللہ کے تمہاری ایسی باتوں سے کیا ہدایت ہوگی اور اللہ کو اس طرح کی مجبوری کا ایمان کب پسند ہے کہ کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 272–274
آیت 272-274
دلالت ہے کہ مال کا یہ خرچ کرنا عام ہے جیسے مسلم پر خرچ کرنا واجب ہے اسی طرح کافر ( اہل ذمہ وغیرہ) پر بھی خرچ کیا جائے گا اگرچہ اس نے ہدایت قبول نہ کی ہو۔ اس لئے فرمایا : (وما تنفقوا من خیر) تم جو کچھ خرچ کرو گے۔ “ کم ہو یا زیادہ اور چاہے یہ مال تم مسلمان پر خرچ کرو یا کافر پر : (فلا نفسکم) ” اس کا فائدہ خود پاؤ گے (وما تنفقون الا ابتغآء وجہ اللہ) ” اور تم صرف اللہ کی رضا مندی کی طلب کے لئے خرچ کرتے ہو۔ “ یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ مومنوں کے خرچ کی بنیاد ایمان ہوتی ہے اور وہ صرف اللہ کی رضا کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا ایمان انہیں فضول مقاصد کے لئے کام کرنے سے منع کرتا ہے اور…
Read the full tafseer →قول باری ہے (للفقراء الٓین احصروا فی سبیل اللہ لا یستطیعون ضرباً فی الارض یحسبھم الجاہل اغنیآء من التعفف تعرفھم بسیماھم لا یسئلون الناس الحافاً ۔ وما تنفقوا من خسیر فان اللہ بہ علیم۔ (a) خاص طور پر مدد کے مستحق وہ تنگ دست لوگ ہیں جو اللہ کے کام میں ایسے گھر گئے ہیں کہ اپنی ذاتی کسب معاش کے لئے زمین میں کوئی دوڑ دھوپ نہیں کرسکتے۔ ان کی خود داری دیکھ کر ناواقف آدمی گمان کرتا ہے کہ یہ خوش حال ہیں۔ تم ان کے چہروں سے ان کی اندرونی حالت پہچان سکتے ہو۔ مگر وہ ایسے لوگ نہیں ہیں کہ لوگوں کے پیچھے پڑ کر کچھ مانگیں۔ ان کی اعانت میں جو کچھ مال تم خرچ کروگے وہ اللہ سے پوشیدہ نہیں رہے گا) یعنی اللہ کو اس…
Read the full tafseer →785 محصور فی سبیل اللہ صدقات کے زیادہ حق دار ہیں : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کی راہ میں محصور ہوجانے والے صدقات و خیرات کے سب سے زیادہ مستحق ہیں :ـ کہ ان کے تمام اوقات دین کی خدمت اور علوم دین کی تحصیل اور ان کی تعلیم و تبلیغ میں گزرتے ہیں اور وہ اسی راہ میں مشغول رہتے ہیں، اور ان کی انہی کوششوں سے حق و ہدایت اور علم و معرفت کا نور پھیلتا ہے جس سے دنیا طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہوتی ہے۔ اگر یہ لوگ بھی اس عظیم الشان خدمت کو چھوڑ کر کسب دنیا کے پیچھے لگ جائیں، اور دنیا کے دوسرے جھنجھٹوں میں الجھ اور پھنس کر رہ جائیں، تو پھر دنیا علم و ہدایت کے نور سے محروم ہوجائے گی ۔ والعیاذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 273–274
خیرات کے مستحق کون
تشریح : ان آیات میں ایک اور ایسے طبقہ کے لوگوں کا ذکر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جن کو صدقہ و خیرات دینا چاہئے یہ وہ لوگ ہیں جو دینی کاموں میں اس قدرمصروف رہتے ہیں کہ ان کو روزی کمانے کا وقت ہی نہیں ملتا جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے وہ صحابہ کرام جو اصحاب صفہ کے نام سے مشہور تھے۔ یہ لوگ ہر وقت دینی تعلیم حاصل کرنے میں مصروف رہتے اور کبھی کسی سے سوال نہ کرتے تو لوگ سمجھتے کہ وہ ضرورت مند نہیں ہیں۔ حالانکہ بھوک اور تنگی کی وجہ سے ان کے چہروں سے یہ بات معلوم کی جاسکتی تھی کہ وہ ضرورت مند ہیں ایسے ہی لوگ آج کل بھی موجود ہیں تو رب العزت فرماتے ہیں کہ ایسے لوگوں کی ضروریات کا پورا پورا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–273
آیات 267- 273
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا انفقوا ھن طیبت……………واعلموا ان اللہ غنی حمید۔
اے ایمان والو ! اپنی کمائی سے صاف ستھری چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ اپنی کمائی سے خرچ کرو ، ظاہر ہے کہ کمائی تو حلال ہی ہوگی ورنہ ناجائز ذرائع سے دولت پیدا کرنے کو کسب نہیں کہا جاتا۔ بلکہ ایسے لوگ خود اپنے ناجائز ذرائع کو لوگوں کی نظروں سے بچا کر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ، پھر اس میں سے جو راہ خدا میں دے وہ کھری اور اچھی چیز ہونی چاہیے اگر غلہ یا پھل یا کوئی اور جنس اللہ کی راہ میں دے ، اور اگر حرام مال سے دے گا توہ عنداللہ مقبول ہی نہیں ہوگا۔ کہ ایک حدیث پاک میں ارشاد ہے کہ برے کو…
Read the full tafseer →ف 2 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ ان سے مراد اصحاب صفہ ہیں۔ (شوکانی) مگر آیت اپنے عموم کے اعبتار سے ان سب فقرا کو شامل ہے جو مذکورہ صفات کے حامل ہوں اور آیت کا منشا یہ ہے کہ صدقہ و خیرات کے اولین یہ لوگ ہیں یعنی مجاہدین اور علم دین کے طالب علم۔ (ابن کثیر۔ وحیدی) شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ فی زمانہ ماننا جو لوگ علم دین کی نشر و اشاعت کے لیے وقف ہوچکے ہیں اگر ان کے پاس کوئی ذریعہ نہ ہو تو ان کی مدد کی جائے۔ (موضح بتصرف) الحافا۔ یعنی وہ لپٹ کر سوال نہیں کرتے جیسا کہ بھکاریوں کی عادت ہے اور یہ عادت بہت بری ہے۔ (رازی۔ وحیدی) یہ جملہ دراصل تعفف (سوال نہ کرنا) کی تفسیر ہی ہے۔ علمائے تفسیر نے اس کے یہ…
Read the full tafseer →(2:273) للفقرائ۔ مبتدا محذوف کی خبر ہے ای صدقاتکم للفقرائ۔ تمہارے صدقات فقیروں کے لئے ہیں۔ یعنی ان صدقات کے مستحق فقیر لوگ ہیں ۔ (جن کا ذکر آگے آرہا ہے) ۔
احصروا فی سبیل اللہ یہ صفت ہے الفقراء کی۔ احصروا ماضی کا صیغہ جمع مذکرغائب ہے۔ احصار (افعال) مصدر وہ بند کئے گئے۔ وہ روکے گئے۔ الحصر کے معنی تضییق یعنی تنگ کرنے کے ہیں۔ جیسے قرآن مجید میں ہے واحصروھم (9:5) اور ان کو گھیر لو۔ یا جیسے وجعلنا جنھم للکفرین حصیرا ۔ (17:7) اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے۔ فی سبیل اللہ۔ اللہ کے راستہ میں۔ خواہ وہ جہاد ہو یا ظاہری و باطنی علوم کی تحصیل ہو۔ مثلاً اصحاب صفہ وغیرہ۔ یہ جملہ الفقراء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 273–274
لغات القرآن : آیت نمبر 273 تا 274
احصروا (جو گھرے بیٹھے ہیں) ۔ لا یستطیعون (وہ طاقت نہیں رکھتے ہیں) ۔ ضرب (چلنا ) ۔ یحسب (سمجھتا ہے) ۔ الجاھل (بےخبر ) ۔ اغنیاء (مال دار ) ۔ التعفف (نہ مانگنا) ۔ تعرف (تو پہچان لے گا) ۔ سیما (پیشانیاں، علامت ) ۔ لا یسئلون (وہ سوال نہیں کرتے ) ۔ الحافا (لگ لپٹ کر) ۔ سر (چھپ کر) ۔ علانیۃ (کھل کر) ۔
تشریح : آیت نمبر 273 تا 274
وہ لوگ جو کسی دینی مقصد میں لگے ہوئے ہونے کی وجہ سے کسب معاش کی نہ تو جدو جہد کرسکتے ہیں اور نہ ادھر ادھر جاسکتے ہیں ایسے لوگوں کی ڈھونڈ ڈھونڈ کر مدد کرو تا کہ وہ فکر معاش میں اپنے اصل کام سے دور نہ ہوجائیں۔ ان کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 272–273
مسیکن کون ؟
شان نزول : صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے جو روایت اس شان نزول کے ہم معنی ہے، اسی کا حاصل یہ ہے کہ مسکین وہ نہین جو گھر گھر مانگتا پھرتا ہے بلکہ اصل مسکین وہ ہے جو اتنا نہیں رکھتا کہ اس کے خرچ کے لئے کافی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 270–274
[281] نذر اس نفلی مالی یا بدنی عبادت کو کہتے ہیں جو آدمی اپنی کسی مراد کے پورا ہونے پر اپنے اوپر لازم کرے۔ اگر یہ مراد کسی جائز یا حلال امر کے لئے ہو تو اس کا پورا کرنا باعث ثواب ہے ورنہ بصورت دیگر ایسی نذر کا ماننا اور اس کا پورا کرنا دونوں کام گناہ کے ہیں۔
Read the full tafseer →(ف 3) مستحق کون ہے ؟:
ان آیات میں فقراء ومجاہدین کا ذکر ہے جو مجاہدانہ مشاغل کی وجہ سے کسب معاش سے محروم ہیں ، ان میں عفت اور پاس عزت اس قدر ہے کہ بظاہر غنی معلوم ہوتے ہیں ، مگر وہ ہیں اعانت کے مستحق ، فرمایا ان لوگوں کی بالخصوص اعانت کرو ، رسالتمآب ﷺ کے زمانہ میں ایک گروہ اصحاب صفہ کا تھا جس کا کام صحبت نبوی ﷺ سے شرف استفادہ کرنا تھا وہ دن رات ارشاد نبوی ﷺ سے اکتساب ضوء میں مصروف رہتے اور ایک لمحہ غفلت ان کے نزدیک ناقابل تلافی محرومی کے حصول کا مترادف تھا وہ مسجد نبوی ﷺ میں رہتے ۔
ذرائع معاش کو برروئے کار لانے کے لئے ان کے پاس وقت ہی نہیں تھا ، ان لوگوں کے لئے عام مسلمانوں میں اعلان کیا کہ…
Read the full tafseer →ف 1 تم لوگ جو کچھ خرچ کرتے ہو اس کے اصل حقدار وہ فقیر اور حاجت مند لوگ ہیں جو جہاد فی سبیل اللہ اور خدمت دین کی غرض سے پابند کردیئے گئے ہیں اور مقید ہوگئے ہیں اور اسی پابندی اور خدمات دینیہ کی وجہ سے وہ ملک میں کہیں آ جا نہیں سکتے اور کمانے کے لئے کہیں آتے جاتے نہیں ان کے سوال نہ کرنے اور سوال سے پرہیز کرنے کی وجہ سے ناواقف آدمی ان کو تو انگر اور مال دار سمجھتا ہے۔
اے مخاطب البتہ تو ان کی احتیاج اور ان کے فقر کو ان کی حالت ان کی ہئیت اور ان کے چہرے مہرے سے پہچان سکتا ہے وہ لوگوں سے لپٹ لپٹ کر مانگتے نہیں پھرتے اور تم جو کچھ مال میں سے خیرات کرتے ہو اور کام کی جو چیز بھی خرچ کرتے ہو یقین جانو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 273–275
ف 1۔ یعنی دین کی خدمت میں اور جاننا چاہیے کہ ہمارے ملک میں اس آیت کے مصداق سب سے زیادہ وہ حضرات ہیں جو علوم دینیہ کی اشاعت میں مشغول ہیں۔
Read the full tafseer →خاص طور پر مدد کے مستحق یہ تنگدست ہیں ، جن کا ذکر اس آیت میں ہے :
476: جو لوگ دین ہی کے کسی کام میں گھر گئے ہیں اور آزادی سے کسب معاش نہیں کرسکتے۔۔ (1) وہ مجاہدین جو جہاد میں مصروف کردیئے گئے ہوں اور اس وجہ سے جب تک وہ مصروف جہاد ہیں گویا وہ گھر گئے ہیں۔ (2) جو لوگ جہاد میں شریک ہوئے تھے لیکن وہیں سے وہ دشمنوں کے قبضہ میں آگئے اور اب وہ ان ہی کی قید میں ہیں اور ظاہر ہے کہ قیدی آدمی کسب معاش نہیں کرسکتا۔ (3) جہاد میں شریک ہوئے تھے لیکن ایسے زخمی ہوئے کہ اب ان کی زندگی برائے نام زندگی ہے لیکن کسب معاش کے قابل نہیں رہے اور اندھے ہوگئے ، لنگڑے ہوگئے۔ ان کے ہاتھ پاؤں مثلہ کردیئے گئے کہ اب وہ کسب…
Read the full tafseer →(7). Verse 273: لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ (الی قولہ) فَإِنَّ اللَّـهَ بِهِ عَلِيمٌ"For the
needy who are confined in the way of Allah ... Allah is All-Aware of it”.
Here the word, al-fugara الفقراء ' (the needy: those who need support for their physical sustenance) covers all those who cannot engage themselves in other jobs because of their religious preoccupation.
يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ : "An ignorant person takes them to be rich on account of their abstinence."
This verse tells us that a faqir فقیر (the one who does not own the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 273–274
314. The people referred to here are those who, because they had dedicated themselves wholly to serving the religion of God, were unable to earn their livelihood. In the time of the Prophet there was a group of such volunteer workers, known as Ashab al-Suffah, consisting of about three or four hundred people who had forsaken their homes and gone to Madina. They remained at all times in the company, of the Prophet, always at his beck and call to perform whatever service he required of them. They were dispatched by the Prophet on whatever expeditions he wished. Whenever there was nothing to do…
Read the full tafseer →