Al-Baqara 2:272

Al-Baqara · from ayah 272

2:272

لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ ؕ— وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ ؕ— وَمَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ ؕ— وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ ۟لَيۡسَ عَلَيۡكَ هُدٰٮهُمۡ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ يَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ فَلِاَنۡفُسِكُمۡ‌ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡنَ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ اللّٰهِ‌ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ يُّوَفَّ اِلَيۡكُمۡ وَاَنۡـتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ

(اے محمدﷺ) تم ان لوگوں کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں ہو بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے۔ اور (مومنو) تم جو مال خرچ کرو گے تو اس کا فائدہ تمہیں کو ہے اور تم جو خرچ کرو گے خدا کی خوشنودی کے لئے کرو گے۔ اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا اور تمہارا کچھ نقصان نہیں کیا جائے گا،

— Fateh Muhammad Jalandhari

Not upon you, [O Muhammad], is [responsibility for] their guidance, but Allah guides whom He wills. And whatever good you [believers] spend is for yourselves, and you do not spend except seeking the countenance of Allah. And whatever you spend of good - it will be fully repaid to you, and you will not be wronged.

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 37 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:272

لوگوں کو ہدایت بخش دینے کی ذمے داری تم پر نہیں ہے ہدایت تو اللہ ہی جسے چاہتا ہے بخشتا ہے اور خیرات میں جو مال تم خرچ کرتے ہو وہ تمہارے اپنے لیے بھلا ہے آخر تم اسی لیے تو خرچ کرتے ہو کہ اللہ کی رضا حاصل ہو تو جو کچھ مال تم خیرات میں خرچ کرو گے، اس کا پورا پورا اجر تمہیں دیا جائے گا اور تمہاری حق تلفی ہرگز نہ ہوگی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے محمدﷺ) تم ان لوگوں کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں ہو بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے۔ اور (مومنو) تم جو مال خرچ کرو گے تو اس کا فائدہ تمہیں کو ہے اور تم جو خرچ کرو گے خدا کی خوشنودی کے لئے کرو گے۔ اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا اور تمہارا کچھ نقصان نہیں کیا جائے گا،

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہیں ہدایت پر ﻻ کھڑا کرنا تیرے ذمہ نہیں بلکہ ہدایت اللہ تعالیٰ دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم جو بھلی چیز اللہ کی راه میں دو گے اس کا فائده خود پاؤ گے۔ تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب کے لئے ہی خرچ کرنا چاہئے تم جو کچھ مال خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمہیں دیا جائے گا، اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر) ان (کافروں) کو راہ راست پر لے آنا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے، لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے راہ راست پر لے آتا ہے۔ اور جو مال بھی تم خرچ کرتے ہو وہ خود تمہارے فائدے کے لیے ہوتا ہے جبکہ تم اللہ کی خوشنودی طلب کرنے کے سوا کسی اور غرض سے خرچ نہیں کرتے۔ اور جو مال بھی تم خرچ کرو گے تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تم پر ذرا بھی ظلم نہیں ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

انہیں راہ دینا تمہارے ذمہ لازم نہیں، ہاں اللہ راہ دیتا ہے جسے چاہتا ہے، اور تم جو اچھی چیز دو تو تمہارا ہی بھلا ہے اور تمہیں خرچ کرنا مناسب نہیں مگر اللہ کی مرضی چاہنے کے لئے، اور جو مال دو تمہیں پورا ملے گا اور نقصان نہ دیئے جاؤ گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ان کو ہدایت دینا آپ کے ذمہ نہیں بلکہ اﷲ ہی جسے چاہتا ہے ہدایت سے نوازتا ہے، اور تم جو مال بھی خرچ کرو سو وہ تمہارے اپنے فائدے میں ہے، اور اﷲ کی رضاجوئی کے سوا تمہارا خرچ کرنا مناسب ہی نہیں ہے، اور تم جو مال بھی خرچ کرو گے (اس کا اجر) تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تم پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تیرے ذمے انھیں ہدایت دینا نہیں اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم خیر میں سے جو بھی خرچ کرو گے سو تمہارے اپنے ہی لیے ہے اور تم خرچ نہیں کرتے مگر اللہ کا چہرہ طلب کرنے کے لیے اور تم خیر میں سے جو بھی خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا ادا کیا جائے گا اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لوگوں کو راہ راست پر لانا آپ ﷺ کی ذمہ داری نہیں۔ بلکہ اللہ ہی جسے چاہتا ہے، ہدایت دیتا ہے۔ اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہارے اپنے ہی لیے ہے۔ اور جو تم خرچ کرتے ہو وہ اللہ ہی کی رضا کے لیے کرتے ہو۔ اور جو بھی مال و دولت تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا اجر تمہیں دیا جائے گا اور تمہاری حق تلفی نہیں کی جائے گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کو ہدایت دینا تمہارے ذمے نہیں ہے بلکہ اللہ ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جو مال بھی تم خرچ کروگے اس کا نفع تمہیں کو حاصل ہونا ہے اور نہ خرچ کیجیو مگر اللہ کی رضا جوئی ہی کے لیے اور جو مال بھی تم خرچ کروگے وہ تم کو پورا کردیا جائے گا اور تمہارے حق میں ذرا بھی کمی نہ کی جائے گی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

آپ کے ذمے (اے پیغمبر ﷺ !) یہ بات نہیں ہے کہ آپ ان کو راہ راست پر لے آئیں، بلکہ اللہ (ہی کی یہ شان ہے کہ وہ) جس کو چاہے راہ راست پر لے آئے ، اور (یاد رکھو اے مسلمانو ! کہ) تم جو بھی کچھ خرچ کرو گے وہ تمہارے اپنے ہی بھلے کے لئے ہے، اور تم جو بھی کچھ خرچ کرتے ہو (وہ خرچ نہیں کرتے) مگر اللہ کی رضا (اور اسکی خوشنودی) کے لیے، اور جو بھی کوئی مال تم لوگ (اس راہ میں) خرچ کرو گے، اس کا پورا بدلہ (اور اجر و صلہ) تم کو دیا جائے گا، اور تمہاری کوئی بھی (اور کسی بھی طرح کی) حق تلفی نہ ہوگی،

— مولانا اسحاق مدنی

A ان کی ہدایت آپ کے ذمہ نہیں۔ بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور تم جو کچھ بھی مال میں سے خرچ کرتے ہو سوا پنے لئے (کرتے ہو) ۔ اور تم اللہ ہی کی رضاجوئی کے لیے خرچ کرتے ہو۔ اور تم مال میں سے جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو (سب) تم کو پورا پورا لوٹا دیا جائے گا اور تم پر (ذرا بھی) زیادتی نہ کی جائے گی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ !) آپ کے ّ ذمہ نہیں ہے کہ ان کو ہدایت دے دیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہی ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور جو بھی مال تم خرچ کرو گے وہ تمہارے اپنے لیے بہتر ہے اور تم نہیں خرچ کرو گے مگر اللہ کی رضا جوئی کے لیے اور جو بھی مال تم خرچ کرو گے وہ پورا پورا تمہیں لوٹا دیا جائے گا اور تم پر کوئی ظلم نہیں ہوگا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان (لوگوں) کو ہدایت بخش دینے کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے۔ لیکن ہدایت تو اللہ ہی جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور خیرات میں جو مال تم خرچ کرتے ہو وہ تمہارے اپنے لئے بھلا ہے۔ آخر تم اسی لئے تو خرچ کرتے ہو کہ اللہ کی رضا حاصل ہو تو جو کچھ مال تم خیرات میں خرچ کرو گے اس کا پورا پورا اجر تمہیں دیا جائے گا اور تمہاری حق تلفی ہرگز نہ ہوگی

— محترمہ رفعت اعجاز

O Prophet, you are not responsible for their guidance; Allah Himself shows guidance to anyone He pleases. And whatever wealth you spend in charity, it is for your own good. As you spend of your wealth to win Allah's pleasure, you will be given full reward for whatever you spend and you will not be deprived in the least of your rightful due.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It is not for you to put them on the right path. Rather, Allah puts on the right path whom He wills. Whatever good you spend is for your own selves, and you shall not spend but to seek the pleasure of Allah, and whatever good thing you spend shall be repaid to you in full, and you shall not be wronged.

— Muhammad Taqi Usmani

It is not for you to put them on the right path. Rather, Allah puts on the right path whom He wills. Whatever good you spend is for your own selves, and you shall not spend but to seek the pleasure of Allah, and whatever good thing you spend shall be repaid to you in full, and you shall not be wronged.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Not upon you (Muhammad) is their guidance, but Allah guides whom He wills. And whatever you spend in good, it is for yourselves, when you spend not except seeking Allah's Face. And whatever you spend in good, it will be repaid to you in full, and you shall not be wronged.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The guiding of them is not thy duty (O Muhammad), but Allah guideth whom He will. And whatsoever good thing ye spend, it is for yourselves, when ye spend not save in search of Allah's Countenance; and whatsoever good thing ye spend, it will be repaid to you in full, and ye will not be wronged.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Not upon you, [O Muhammad], is [responsibility for] their guidance, but Allah guides whom He wills. And whatever good you [believers] spend is for yourselves, and you do not spend except seeking the countenance of Allah. And whatever you spend of good - it will be fully repaid to you, and you will not be wronged.

— Saheeh International

(Muhammad), you do not have to guide them. God guides whomever He wants. Whatever you spend for the cause of God is for your own good, provided you do not spend anything but to please God. For anything good that you may give for the cause of God, you will receive sufficient reward and no injustice will be done to you.

— Muhammad Sarwar

To make them walk in the right way is not incumbent on you, but Allah guides aright whom He pleases; and whatever good thing you spend, it is to your own good; and you do not spend but to seek Allah's pleasure; and whatever good things you spend shall be paid back to you in full, and you shall not be wronged.

— Muhammad Habib Shakir

Not on thee is their guidance, but Allah guideth whomsoever He listeth. And whatsoever ye expend of good it is for your own souls, and ye expend not save to seek Allah's countenance and whatsoever ye expend of good shall be repaid to you, and ye shall not be wronged.

— Abdul Majid Daryabadi

It is not required of thee (O Messenger), to set them on the right path, but Allah sets on the right path whom He pleaseth. Whatever of good ye give benefits your own souls, and ye shall only do so seeking the "Face" of Allah. Whatever good ye give, shall be rendered back to you, and ye shall not Be dealt with unjustly.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:272

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 272–274

مستحق صدقات کون ہیں حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ مسلمان صحابہ اپنے مشرک رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کرنا ناپسند کرتے تھے پھر حضور ﷺ سے سوال ہوا اور یہ آیت اتری اور انہیں رخصت دی، فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ فرماتے تھے کہ صدقہ صرف مسلمانوں کو دیا جائے، جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرما دیا ہر سائل کو دو ، گو وہ کسی مذہب کا ہو (ابن ابی حاتم) حضرت اسماء والی روایت آیت (لاینھاکم اللہ الخ) کی تفسیر میں آئے گی انشاء اللہ، یہاں فرمایا تم جو نیکی کرو گے اپنے لئے ہی کرو گے جیسے اور جگہ ہے آیت (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ ۚ وَمَنْ اَسَاۗءَ فَعَلَيْهَا) 45۔ الجاثیہ :15) اور اس جیسی اور آیتیں بھی بہت ہیں،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 313 ابتدا میں مسلمان اپنے غیر مسلم رشتے داروں اور عام غیر مسلم اہل حاجت کی مدد کرنے میں تامل کرتے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ صرف مسلمان حاجت مندوں ہی کی مدد کرنا انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ اس آیت میں ان کی یہ غلط فہمی دور کی گئی ہے۔ ارشاد الہٰی کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں ہدایت اتار دینے کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے۔ تم حق بات پہنچا کر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوچکے۔ اب یہ اللہ کے اختیار میں ہے کہ ان کو بصیرت کا نور عطا کرے یا نہ کرے۔ رہا دنیوی مال و متاع سے ان کی حاجتیں پوری کرنا، تو اس میں تم محض اس وجہ سے تامل نہ کرو کہ انہوں نے ہدایت قبول نہیں کی ہے۔ اللہ کی رضا کے لیے جس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

لَيْسَ عَلَيْكَ ھُدٰىھُمْ (الیٰ قولہ) وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ اس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ نیت بھی تمہاری اصل میں اپنے ہی نفع حاصل کرنے کی ہے اور واقع میں بھی حاصل خاص تم ہی کو ہوگا پھر ان زوائد پر کیوں نظر کی جاتی ہے کہ یہ نفع خاص اسی طریق سے حاصل کیا جاوے کہ مسلمان ہی کو صدقہ دیں اور کافر کو نہ دیں۔ یہاں یہ بات بھی سمجھ لیجئے کہ اس صدقہ سے مراد صدقہ نفلی ہے جس کا ذمی کافر کو بھی دینا جائز ہے زکوٰۃ مراد نہیں ہے کیونکہ وہ سوائے مسلمان کے کسی دوسرے کو دینا جائز نہیں (مظہری) (1) مسئلہحربی کافر کو کسی قسم کا صدقہ وغیرہ دینا جائز نہیں۔ (2) مسئلہکافر ذمی یعنی غیر حربی کو صرف زکوٰۃ وعشر دینا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

خبر کے اسلوب میں انشائیہ جملہ : اس آیت میں کوئی خاص لفظ تحقیق طلب نہیں ہے صرف وما تنفقون الایہ کے اسلوب کے باب میں کچھ تردد سا ہے۔ مجھے بار بار خیال ہوتا ہے کہ یہ خبر کے اسلوب میں انشائیہ جملہ ہے۔ عربی زبان میں یہ طریقہ معروف ہے۔ قرآن میں اس کی بہت سی نظیریں موجود ہیں کہ امر یا نہی کے مضمون کو ان مواقع میں خبریہ اسلوب میں کردیتے ہیں جب مخاطب کو کوئی بات شفقت اور التفاتِ خاص کے ساتھ سمجھانی ہو۔ میں نے ترجمہ میں اس کا لحاظ کیا ہے۔ پچھلوں میں سے بھی بعض لوگوں نے اس کو اختیار کیا ہے۔ لیکن مجھے اس پر پورا پورا جزم نہیں ہے۔ اہل علم اس کو نگاہ میں رکھیں۔ پوری آیت پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

272۔ 1 تفسیری روایات میں اس کا شان نزول یہ بیان کیا گیا ہے کہ مسلمان اپنے مشرک رشتے داروں کی مدد کرنا جائز نہیں سمجھتے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ مسلمان ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہدایت کے راستے پر لگا دینا یہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے دوسری بات یہ ارشاد فرمائی تم جو بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اس کا پورا اجر ملے گا جس سے یہ معلوم ہوا کہ غیر مسلم رشتے دار کے ساتھ بھی صلہ رحمی کرنا باعث اجر ہے تاہم زکاۃ صرف مسلمان کا حق ہے کسی غیر مسلم کو نہیں دی جاسکتی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

182: بعض انصاری صحابہ کے کچھ غریب رشتہ دار تھے مگر چونکہ وہ کافر تھے اس لئے وہ ان کی امداد نہیں کرتے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ وہ اسلام لے آئیں تو ان کی امداد کریں، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ خود آنحضرت ﷺ نے بھی یہی ہدایت فرمائی تھی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (روح المعانی) اس طرح مسلمانوں کو بتایا گیا کہ آپ پر ان کے اسلام لانے کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی اور اگر آپ ان غریب کافروں پر بھی اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی نیت سے کچھ خرچ کریں گے تو اس کا بھی پورا پورا ثواب ملے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ سے یہ روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ حکم فرماتے تھے کہ صرف اہل اسلام پر صدقہ کیا جائے ۔ یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی ” لوگوں کو ہدایت دینے کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے ................“ تو آپ نے حکم دیا کہ جس دین کے پیروکار بھی تم سے سوال کریں انہیں صدقہ دیا کرو۔ دل اللہ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں ۔ اللہ کی مخلوق میں سے یہ بات کسی کے اختیار میں نہیں ہے کہ وہ کسی کو ہدایت دے یا گمراہ کردے ۔ اگرچہ وہ خود رسول ﷺ خود ہوں۔ ہدایت دینا یا گمراہ کرنا اللہ وحدہ کی ذات کا کام ہے ۔ اس لئے کہ وہ دلوں کا خالق ہے ۔ دلوں پر صرف اللہ کی حکمرانی ہے ۔ صرف اللہ ہی دلوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 جب آپ نے صحابہ کو مسلمانوں کے سوا اوروں پر صدقہ کرنے سے روکا اور اس میں یہ مصلحت تھی کہ مال ہی کی غرض سے دین حق کی طرف راغب ہوں آگے یہ فرما دیا کہ یہ ثواب جب ہی تک ملے گا کہ اللہ کی خوشی مطلوب ہوگی تو یہ آیت نازل ہوئی اور اس میں عام حکم آگیا کہ اللہ کی راہ میں جس کو مال دو گے تم کو اس کا ثواب دیا جائے گا مسلم غیر مسلم کسی کی تخصیص نہیں یعنی جس پر صدقہ کرو اس میں مسلم کی تخصیص نہیں البتہ صدقہ میں یہ ضرور ہے کہ محض بوجہ اللہ ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 272 لَیْسَ عَلَیْکَ ہُدٰٹہُمْ ان کو ہدایت دینے کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے ‘ آپ ﷺ پر ذمہّ داری تبلیغ کی ہے۔ ہم نے آپ کو بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ ط وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاََنْفُسِکُمْ ط اس کا اجر وثواب بڑھا چڑھا کر تم ہی کو دیا جائے گا ‘ سات سو گنا ‘ چودہ سو گنا یا اس سے بھی زیادہ۔ وَمَا تُنْفِقُوْنَ الاَّ ابْتِغَآءَ وَجْہِ اللّٰہِ ط تبھی تمہیں اس قدر اجر ملے گا۔ اگر ریاکارانہ خرچ کیا تھا تو اجر کا کیا سوال ؟ وہ تو شرک بن جائے گا۔ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْکُمْ وَاَنْتُمْ لاَ تُظْلَمُوْنَ تمہاری ذرا بھی حق تلفی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

388 ابتدا مسلمان اپنے غیر مسلم رشتہ داروں اور دوسرے غیر مسلم محتاجوں کی مدد کرنے میں تامل کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ صرف مسلمان محتاجوں کی مدد کرنا ہی انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کے دلوں میں ہدایت اتار دینے کی ذمہ داری آپ پر نہیں۔ آپ نے حق بات پہنچا دی، آگے ان کو راہ راست سمجھا دینا اللہ کا کام ہے۔ رہا دنیوی مال و متاع سے ان کی حاجات پوری کرنا تو اللہ کی رضا کے لیے تم جس حاجت مند کی بھی مدد کرو گے اللہ تمہیں اس کا اجر دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1054 ۔ (اے پیغمبر ! ) (آیت) ” ھدھم “ ان کی یعنی کافروں کی۔ 1055 ۔ (اپنی مشیت تکوینی کے ماتحت ومطابق) رسول کا کام صرف تبلیغ ہے، یعنی ہدایت کا پیام دنیا تک پہنچا دینا، باقی کس کو قبول حق کی توفیق ہوتی ہے اور کس کو نہیں۔ اس کا تعلق تمام تر مشیت الہی سے ہے۔ شان نزول کی روایتوں میں آتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ بعض دفعہ کسی کافر مشرک صاحب حاجت کو خیرات دینے سے اس مصلحت سے رک جاتے تھے کہ شاید یہ احتیاج ہی کی بنا پر اسلام قبول کرلیں۔ آیت میں بتادیا گیا ہے کہ اتنے بعید اہتمام کی ضرورت نہیں محض تبلیغ کافی ہے۔ فقہاء امت نے کہا کہ کافر کو خیرات دینا بالکل جائز ہے بشرطیکہ وہ حربی نہ ہو۔ المراد اباحۃ الصدقۃ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 271–272

خفیہ طور پر صدقہ افضل ہے : اَنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا ھِیَ (الآیۃ) اس سے معلوم ہوا کہ عام حالات میں خفیہ طور پر صدقہ کرنا ا افضل ہے، سوائے اس صورت کے کہ جس میں اعلانیہ خرچ کرنے میں لوگوں کو ترغیب کا پہلو ہو یا تہمت سے بچنا مقصود ہو، تاہم مخصوص صورتوں کے علاوہ دیگر مواقع پر خاموشی سے خفیہ طور پر صدقہ کرنا ہی بہتر ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : جن لوگوں کو روز قیامت عرش الہیٰ کا سایہ نصیب ہوگا ان میں وہ شخص بھی ہوگا جس نے اپنے دائیں ہاتھ سے ایسے خفیہ طریقہ سے صدقہ کیا ہوگا کہ اسکے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہوئی ہو کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے ؟ (اس تعبیر سے مراد مبالغہ فی الخفاء ہے)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لَيْسَ عَلَيْكَ ھُدٰىھُمْ : آپ پر ان کا ہدایت یافتہ ہوجانا لازم نہیں۔ نسائی، طبرانی، بزار اور حاکم وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ لوگ اپنے رشتہ دار مشرکوں کو کچھ دینا پسند نہیں کرتے تھے یہ بات حضور اقدس سے دریافت کی تو آپ ﷺ نے ( رشتہ دار مشرکوں کو دینے کی) اجازت دیدی اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ ابن ابی شیبہ نے حضرت محمد بن حنفیہ کی مرسل روایت بھی اسی طرح نقل کی ہے۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صرف اہل اسلام کو خیرات دینے کا حکم دیتے تھے اس پر یہ آیت اتری۔ اس کے بعد ہر مذہب کے آدمی کو خیرات دینے کا حکم حضور ﷺ نے دیدیا۔ بغوی نے سعید بن جبیر کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(272) آپ ﷺ کے ذمہ ان کافروں کو راہ راست پر لانا واجب نہیں کہ آپ ﷺ ان فقراء اہل کتاب اور مشرکین سے (صدقہ و خیرات کو روکیں محض اس بنا پر کہ ممکن ہے وہ اس طرح ایمان لے آئیں) اور جو تم اپنا مال خرچ کرتے ہو وہ اپنے ثواب کے لیے کرتے ہو اور تم فقراء پر محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے خرچ کرتے ہو اور فقراء مثلااصحاب صفہ پر جو تم مال خرچ کررہے ہو، اس کا پورا پورا ثواب تمہیں قیامت کے دن میں مل جائے گا نہ تمہاری نیکیوں میں کچھ کمی کی جائے گی، اور نہ برائیوں میں کسی قسم کا کوئی اضافہ ہوگا۔ شان نزول : (آیت) ”لیس علیک“۔ (الخ) امام نسائی ؒ حاکم ؒ ، بزار ؒ طبرانی ؒ وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَيْسَ عَلَيْكَ ھُدٰىھُمْ۔۔ : اس آیت سے پہلے اور بعد میں صدقے کے مسائل و فضائل بیان ہو رہے ہیں، درمیان میں یہ کہنا کہ ”تیرے ذمے ان کی ہدایت نہیں“ کیا مناسبت رکھتا ہے ؟ اکثر مفسرین نے تو ”لَيْسَ عَلَيْكَ ھُدٰىھُم“ سے مراد کفار کی ہدایت لی ہے اور اس کی تفسیر یہ فرمائی کہ رشتے دار یا ضرورت مند اگر کافر ہے تو اس پر بھی صدقہ کرو، کافر ہونے کی وجہ سے صدقے سے ہاتھ نہ روکو، کیونکہ ان (کفار) کی ہدایت تمہارے ذمے نہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ صحابہ اپنے مشرک رشتہ داروں کو تھوڑی سی چیز دینا بھی ناپسند کرتے تھے، پھر انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے اجازت دے دی اور یہ آیت اتری : (لَيْسَ عَلَيْكَ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 272۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لیس علیک ھدھم ولکن اللہ یھدی من یشآئ “۔ اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لیس علیک ھدھم “۔ یہ کلام صدقات کے ذکر کے ساتھ متصل ہے، تو گویا اس میں مشرکین کو صدقہ دینے کے جواز کو بیان کیا ہے، حضرت سعید بن جبیر ؓ نے حضور نبی کریم ﷺ سے اس آیت کے سبب نزول کے بارے میں مرسل روایت بیان کی ہے کہ مسلمان ذمی لوگوں میں سے فقراء کو صدقہ دیتے رہتے تھے، جب مسلمان فقراء زیادہ ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لا تتصدقوا الاعلی اھل دینکم “ تم اپنے اہل دین کے سوا کسی کو صدقہ نہ دو ، تو یہ آیت نازل ہوئی جو اس کے لئے صدقہ مباح کر رہی ہے جو دین اسلام…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) الفریابی، عبد بن حمید، نسائی، البزار، ابن جریر، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، الحاکم نے (اس کو صحیح کہا) ابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں اور الضیاء نے المختارہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ صحابہ مشرکین رشتہ داروں کو صدقہ دینا ناپسند کرتے تھے تو انہوں (اس کے بارے میں) سوال کیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” لیس علیک ھدہم “ سے ” وانتم لا تظلمون “ تک تو ان کے لیے رخصت دے دی گئی۔ (2) ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور ضیاء نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ ہم کو صرف مسلمانوں پر صدقہ کرنے کا حکم فرماتے تھے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” لیس علیک…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لَـیْسَ : نہیں ہے (لازم)] [عَلَیْکَ : تجھ پر ] [ہُدٰٹہُمْ : ان کی ہدایت ] [وَلٰــکِنَّ : اور لیکن (یعنی بلکہ) ] [اللّٰہَ : اللہ ] [یَہْدِیْ : ہدایت دیتا ہے ] [مَنْ : اس کو جس کو ] [یَّشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [وَمَا : اور جو بھی ] [تُنْفِقُوْا : تم لوگ خرچ کرتے ہو ] [مِنْ خَیْرٍ : کسی قسم کی کوئی بھلائی ] [فَلِاَنْفُسِکُمْ : تو وہ تمہارے اپنے آپ کے لیے ہے ] [وَمَا تُنْفِقُوْنَ : اور تم لوگ خرچ نہیں کرتے ] [اِلاَّ : مگر ] [ابْتِغَـآئَ وَجْہِ اللّٰہِ : اللہ کی خوشنودی کی جستجو کرتے ہوئے ] [وَمَا : اور جو بھی ] [تُنْفِقُوْا : تم لوگ خرچ کرتے ہو ] [مِنْ خَیْرٍ : کسی قسم کی کوئی بھلائی ] [یُّوَفَّ :…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

جو کچھ بھی اچھا مال خرچ کرو گے اس کا بدلہ تمہیں مل جائے گا رسول اللہ ﷺ بہت محنت و کوشش فرماتے تھے اور اہل کفر کو حق کی دعوت دیتے تھے۔ وہ لوگ جب قبول نہیں کرتے تھے تو آپ ﷺ کو طبعی طور پر رنج ہوتا تھا، آپ ﷺ کی تسلی کے لیے آیات نازل ہوتی تھیں، ایسی آیات قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں انہی میں سے ایک یہ آیت بھی ہے کہ آپ کا کام راہ دکھانا ہے۔ صحیح بات بتانا ہے، حق کا قبول کرانا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے، اللہ تعالیٰ ہادی ہے۔ وہ جس کو چاہے۔ ہدایت دے، آپ کو غمگین ہونے کی ضرورت نہیں۔ صاحب روح المعانی (ص 45 ج 3) نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کا سبب نزول یہ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تھا کہ ہم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 267–274

بیان بقیہ آداب صدقات وذکر مصارف خیر۔ قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا انفقوا من طیبت ماکسبتم۔۔ الی۔۔ یحزنون۔ ربط) ۔ اب ان آیات میں ان امور کو بیان فرماتے ہیں کہ جن کی صدقہ اور خیرات میں رعایت ضروری ہے اور بعدازاں یہ بیان فرمائیں گے کہ کن لوگوں کو صدقہ دینا جائز ہے اور صدقہ اور خیرات کے اصل مستحق کون لوگ ہیں چناچہ فرماتے ہیں، اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ جو چیز تم نے اپنی تجارت یا صنعت وحرفت سے کمائی ہے اس میں سے پاکیزہ یعنی حلال اور عمدہ چیز خدا کی راہ میں خرچ کرو اور علی ہذا ہم نے جو چیز تمہارے لیے زمین سے نکالی ہے اس میں سے بھی پاکیزہ اور عمدہ ہی چیز خرچ کرو اور خراب اور گندی چیز کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

534 بعض مسلمان اس خیال سے اپنے کافر رشتہ داروں کو صدقہ نہیں دیتے تھے کہ شاید تنگدستی اور مفلسی کی وجہ سے ایمان لے آئیں تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ان کو صدقہ دیا کرو۔ باقی رہی ان کی ہدایت تو تم اس کے ذمہ دار نہیں ہو۔ وہ اللہ کے اختیار میں ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ کان ناس من الانصار لھم قرابات من بنی قریظةوالنضیر وکانوا لا یتصدقون علیھم رغبة منھم فی ان یسلموا اذا احتاجوا نزلت الایة بسبب اولئک (قرطبی ص 337 ج 3)535 تمہارے صدقات سے اگرچہ محتاجوں کو فائدہ پہنچتا ہے مگر یہ فائدہ دنیویو اور فانی ہے ان سے اصل فائدہ تو تم اٹھاؤگے جب آخرت میں ان صدقات کا ثواب تمہیں ملیگا۔ وَمَا تُنْفِقُوْنَ ۔ یہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 271–272

ربط آیات اس سے پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں صدقات و خیرات کے متعلق سات اصول بیان کیے ہیں ، جن میں سے چار کا ذکر گزشتہ آیات میں آ چکا ہے۔ آج کے درس میں پانچویں بات کا بیان ہے کہ صدقات و خیرات ظاہری طور پر بھی ادا کیا جاسکتا ہے اور باطنی پوشیدہ طور پر بھی ، تا ہم خفیہ طور پر دنیا زیادہ بہتر ہے۔ اس کے بعد چھٹی بات کا ذکر ہے کہ صدقہ و خیرات غیر مسلم کو بھی دیا جاسکتا ہے۔ ساتویں بات کا ذکر آئندہ درس میں آئے گا ۔ ابدایا اخفا مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ صدقہ خیرات سے متعلق سب سے اہم چیز دینے والے کی نیت ہے اگر خدا نخواستہ نیت میں فتور آ گیا ہے کسی کو احسان جتلانے یا ایذا پہنچانے کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَيْسَ عَلَيْكَ ھُدٰىھُمْ وَلٰكِنَّ اللہَ يَہْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ۝ 0 ۭ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ۝ 0 ۭ وَمَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَاۗءَ وَجْہِ اللہِ۝ 0 ۭ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ يُّوَفَّ اِلَيْكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ۝ 272 هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : للفقراء خبر ہے مبتدا محذوف کی ای الصدقات المذکورۃ للفقراء پھر فقراء کے احصروا الخ لا یستطیعون ضربا یحسبھم الجاھل اغنیاء تعفرھم بسیماھم لا یسئلون الناس پانچ وصف بیان فرمائے اول بطور صفت اور باقی بطور حال وفیہ سرلایسعہ المقال۔ الذین موصول وصلہ مبتداء فلہم اجرھم جملہ خبر اوراس لیے آئی کہ مبتداء میں بوئی شرط تھی۔ تفسیر : یہ خیرات کی بابت چوتھا حکم ہے جس طرح پہلی آیتوں میں خیرات میں دینے کے قابل چیزوں کا بیان تھا اس میں ان لوگوں کا بیان ہے کہ جن کو خیرات دینی چاہیے۔ صحابہ یا خود آنحضرت ﷺ مشرکین اور بت پرستوں کو دینے میں کوتاہی کیا کرتے تھے۔ ان کی بت پرستی سے نفرت کرکے اس پر حکم آیا کہ تم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَیْسَ عَلَیْکَ ھُدٰہُمْ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ ط وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَ نْفُسِکُمْ ط وَمَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَـآئَ وَجْہِ اللّٰہِ ط وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْـکُمْ وَاَنْتُمْ لَاتُظْلَمُوْنَ ۔ (آپ کے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔ اور جو کچھ تم خرچ کرو مال میں سے تو اس میں تمہارا اپنا فائدہ ہے۔ اور تم تو خرچ نہیں کرتے ہو سوائے اللہ کی رضا طلبی کے اور جو مال بھی تم خرچ کرو گے وہ تم کو پورا دیا جائے گا۔ اور تمہارے حق میں ذرا بھی کمی نہ کی جائے گی) (272) آیت کریمہ کے دو مفہوم اس آیت کریمہ میں جو کچھ فرمایا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح حکمت و دانائی اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ اسی طرح ہدایت پانا اور صدقہ کی توفیق ملنا بھی اسی کا کرم ہے۔ اے رسول کریم ﷺ ! تمہاری ذمہ داری لوگوں کو سمجھانا ہے۔ ہدایت سے ہمکنار کرنا آپکا اختیار نہیں ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مشیّت اور حکمت ہے جسے چاہے ہدایت سے سرفراز فرمائے۔ صدقات کے بیان میں یہ جملہ اس لیے لایا گیا ہے کہ ابتدائی دور میں بیشمار ایسے صحابہ کرام ؓ تھے جن کی کافروں اور مشرکوں کے ساتھ قریبی رشتہ داریاں تھیں۔ مال دار صحابہ ایمان لانے کے بعد بھی کفار کے ساتھ تعاون کرتے تھے۔ لیکن اب انہوں نے ایمان کی بنیاد پر ایسے لوگوں کے ساتھ تعاون کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ جس پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 272 … ہدایت ذمہ نہ ہونے کا مطلب : لَـیْسَ عَلَیْکَ ہُدٰہُمْ (تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں) یعنی تمہارے ذمہ لازم نہیں کہ تم ان کو انتہاء تک پہنچانے والے ہو ان چیزوں میں جن سے ان کو منع کیا گیا۔ یعنی مَنّایذاء اور انفاق مال خبیث وغیرہ۔ آپ کے ذمہ صرف ممنوعات کی ممانعت بتلا دینا ہے۔ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ (لیکن اللہ تعالیٰ جس کی چاہتے ہیں راہنمائی فرماتے ہیں) دوسرا قول : آپ کے ذمہ توفیق ہدایت نہیں یا ہدایت کا پیدا کرنا نہیں۔ بیشک یہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ (اور جو تم مال میں سے خرچ کرو۔ ) فَلِاَنْفُسِکُمْ (پس وہ تمہارے اپنے نفسوں کے لئے ہے) یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 272۔: (آیت)” (لیس علیک ھداھم “ ان کو ہدایت پرلے آنا آپ پر لازم نہیں) امام کلبی (رح) فرماتے ہیں اس آیت کا شان نزول یہ بیان کیا ہے کہ کچھ مسلمانوں کو یہودیوں کے ساتھ سسرالی رشتہ داری تھی اسلام لانے سے پہلے یہ ان پر خرچ کرتے تھے لیکن مسلمان ہونے کے بعد ان پر خرچ کرنا پسند نہیں فرماتے تھے اور ان کا یہ ارادہ تھا کہ وہ اسلام لے آئیں ، ہم ان پر خرچ کریں گے ، سعید بن جبیر ؓ سے روایت ہے کہ ہم لوگ اہل ذمہ والوں پر خرچ کرتے تھے ، جب مسلمان فقراء کی تعداد بڑھ گئی تو آپ ﷺ نے مشرکین پر خرچ کرنے سے منع کردیا تاکہ یہ محتاج ہو کر اسلام میں خود بخود داخل ہوجائیں گے ، اس پر یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” لیس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 272–273

(272 ۔ 273) ۔ نسائی حاکم ابن ابی حاتم طبرانی اور بزاز نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ اسلام سے پہلے اکثر صحابہ اور یہود میں قرابت تھی اور اس قرابت کی وجہ سے صحابہ ان سے طرح طرح کے سلوک کیا کرتے تھے اسلام کے بعد اس سلوک سے صحابہ کی اجازت آنحضرت سے چاہی آپ نے بھی اس خیال سے کہ شاید یہ طریقہ یہود کو کچھ راہ راست پر لاوے صحابہ کو اس کی اجازت دے دی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ اور فرما دیا کہ جس کسی کی ہدایت اللہ کو منظور ہوتی ہے وہ ہر طرح راہ راست پر آجاتا ہے۔ بدوں مرضی اللہ کے تمہاری ایسی باتوں سے کیا ہدایت ہوگی اور اللہ کو اس طرح کی مجبوری کا ایمان کب پسند ہے کہ کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 272–274

آیت 272-274 دلالت ہے کہ مال کا یہ خرچ کرنا عام ہے جیسے مسلم پر خرچ کرنا واجب ہے اسی طرح کافر ( اہل ذمہ وغیرہ) پر بھی خرچ کیا جائے گا اگرچہ اس نے ہدایت قبول نہ کی ہو۔ اس لئے فرمایا : (وما تنفقوا من خیر) تم جو کچھ خرچ کرو گے۔ “ کم ہو یا زیادہ اور چاہے یہ مال تم مسلمان پر خرچ کرو یا کافر پر : (فلا نفسکم) ” اس کا فائدہ خود پاؤ گے (وما تنفقون الا ابتغآء وجہ اللہ) ” اور تم صرف اللہ کی رضا مندی کی طلب کے لئے خرچ کرتے ہو۔ “ یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ مومنوں کے خرچ کی بنیاد ایمان ہوتی ہے اور وہ صرف اللہ کی رضا کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا ایمان انہیں فضول مقاصد کے لئے کام کرنے سے منع کرتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

صدقہ کے مال میں سے مشرک کو کچھ دینا قول باری ہے (لیس علیک ھداھم ولکن اللہ یھدی من یشآء وما تنفقوا من خیر فلانفسکم (a) تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہچیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور خیرات میں جو مال تم خرچ کرتے ہو وہ تمہارے اپنے لئے بھلا ہے) ۔ ابو بکر جصاص کہتے ہیں کہ اس خطاب کے گزشتہ حصے اور اس کی ترتیب اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قول باری (لیس علیک ھدھم) (a) کا معنی غیر مسلموں کو صدقہ کا مال دینے میں آپ کے ذمہ ان کی ہدایت نہیں ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے خطاب کی ابتدا اس قول (ان تندوا الصدقات فنعماھی) (a) سے کی پھر اس پر اس قول (لیس علک ھداھم) (a) کو عطف کیا۔ پھر اس کے بعد یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

782 ہدایت اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ جس کو چاہے راہ راست پر لے آئے کہ وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے کہ کون کس لائق ہے، اور کس کے باطن کی حالت و کیفیت کیا ہے۔ روایات میں ہے کہ صحابہ کرام ؓ میں سے بعض حضرات نے اپنے ان رشتہ داروں کو صدقہ و خیرات دینا بند کردیا، جو کہ ابھی تک ایمان نہیں لائے تھے، تاکہ اس طرح وہ لوگ ایمان کے شرف سے مشرف ہو کر دارین کی فوز و فلاح سے ہمکنار ہو سکیں، تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ اس طرح مجبور کر کے ان لوگوں کو راہ راست پر لے آنا نہ تمہاری ذمہ داری ہے، اور نہ ہی یہ تمہارے بس میں ہے۔ ہدایت تو اللہ پاک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے، وہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

خیرات کا پورا اجر تشریح : اس آیت میں ایک نکتہ صدقہ دینے کا بیان کیا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ شروع میں لوگ صدقہ صرف مسلمانوں کو ہی دیتے تھے، اپنے غیر مسلم رشتہ داروں کو اس لئے صدقہ خیرات نہیں دیتے تھے کہ وہ مسلمان نہیں ہوئے تو یہاں اللہ تعالیٰ بڑے پیارے انداز میں یہ بات بتا رہے ہیں کہ تم اس بات کا خیال نہ کرو کہ تمہارے عزیز مسلمان کیوں نہیں ہو رہے تمہارا فرض صرف اتنا ہے کہ ان کو ہدایت، کامیابی اور نیکی کا راستہ دکھانا۔ ہدایت پر چلانا یہ نہ تمہارے بس میں ہے اور نہ تم اس کے ذمہ دار ہو، کیونکہ یہ کام تو صرف ہمارا (رب العزت کا) ہے، ہم جس کو چاہیں ہدایت دے دیتے ہیں اس لئے تم ان کی مالی امداد ضرور کرو۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 267–273

آیات 267- 273 اسرارو معارف یایھا الذین امنوا انفقوا ھن طیبت……………واعلموا ان اللہ غنی حمید۔ اے ایمان والو ! اپنی کمائی سے صاف ستھری چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اپنی کمائی سے خرچ کرو ، ظاہر ہے کہ کمائی تو حلال ہی ہوگی ورنہ ناجائز ذرائع سے دولت پیدا کرنے کو کسب نہیں کہا جاتا۔ بلکہ ایسے لوگ خود اپنے ناجائز ذرائع کو لوگوں کی نظروں سے بچا کر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ، پھر اس میں سے جو راہ خدا میں دے وہ کھری اور اچھی چیز ہونی چاہیے اگر غلہ یا پھل یا کوئی اور جنس اللہ کی راہ میں دے ، اور اگر حرام مال سے دے گا توہ عنداللہ مقبول ہی نہیں ہوگا۔ کہ ایک حدیث پاک میں ارشاد ہے کہ برے کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ غیر مسلم کے ساتھ صلہ رحمی جائز ہے اور اگر وہ محتاج ہو تو نفلی صدقات سے اس کی مدد کر نا بھی جائز ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ ہمیں حکم دیتے کہ صدقات صرف مسلمانوں کو دیئے جائیں گے مگر جب یہ آتی نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے ہر ضرورت مند سائل کو صدقہ دینے کی اجازت دے دی۔ البتہ قرآن نے بتایا کہ اجر تب ملے گا جب وہ صدقہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیا جائے۔ (شوکانی۔ ابن کثیر) لیکن واضح رہے کہ فرض زکوہ صرف مسلمانوں کا حق ہے غیر مسلم پر اس کا صرف کرنا جائز نہیں ہے اس پر تمام ائمہ کرام کا اجماع ہے۔ (معالم السنن) صدقہ فطر بھی صرف مسلمانوں کا حق ہے۔ صرف…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:272) لیس علیک ھدہم۔ ھدہم۔ مضاف مضاف الیہ ۔ ان کی ہدایت۔ ان کی ہدایت یابی۔ ان کو سیدھے راہ پر چلانا۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کفار کے لئے ہے۔ ان کو سیدھے راہ پر چلانا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ فائدہ : رسول اللہ ﷺ صرف اہل اسلام کو خیرات دینے کا حکم دیتے تھے اس پر یہ آیت اتری۔ اس کے بعد ہر مذہب کے آدمی کو خیرات دینے کا حضور ﷺ نے حکم دے دیا۔ ھدی۔ الھدایۃ۔ کے معنی لطف و کرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ قرآن مجید میں جہاں کفار کو دوزخ کی طرف دھکیلنے کے لئے یہ لفظ استعمال ہوا ہے وہ بطور مذاق و تہکم آیا ہے مثلاً فاھدددددوھم الی صراط الجحیم (37:23) پھر ان کو جہنم کے راستہ پر چلا دو ۔ یہ ایسے ہی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 271–272

لغات القرآن : آیت نمبر 271 تا 272 تبدوا (تم ظاہر کرتے ہو) ۔ نعما (بہتر ہے) ۔ تخفوا (تم چھپاتے ہو) ۔ تؤتوا (تم دیتے ہو) ۔ یکفر (وہ دور کر دے گا) ۔ سیات (گناہ، خطائیں) ۔ یھدی (ہدایت دیتا ہے) ۔ یوف (پورا کردیا جائے گا) ۔ تشریح : آیت نمبر 271 تا 272 صدقات کی ادائیگی میں بنیادی بات تو یہی ہے کہ اس کو اس انداز سے دیا جائے کہ داہنے ہاتھ سے دینے پر بائیں ہاتھ کو خبر تک نہ ہو۔ لیکن اگر ظاہر کرنے میں دوسروں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دینا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب کہ کسی اجتماعی مہم کے لئے لوگوں کو ابھارنا اور شوق دلانا مقصود ہو تو اس میں یہ دکھاوا اور ریا کاری نہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 272–273

مسیکن کون ؟ شان نزول : صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے جو روایت اس شان نزول کے ہم معنی ہے، اسی کا حاصل یہ ہے کہ مسکین وہ نہین جو گھر گھر مانگتا پھرتا ہے بلکہ اصل مسکین وہ ہے جو اتنا نہیں رکھتا کہ اس کے خرچ کے لئے کافی ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 270–274

[281] نذر اس نفلی مالی یا بدنی عبادت کو کہتے ہیں جو آدمی اپنی کسی مراد کے پورا ہونے پر اپنے اوپر لازم کرے۔ اگر یہ مراد کسی جائز یا حلال امر کے لئے ہو تو اس کا پورا کرنا باعث ثواب ہے ورنہ بصورت دیگر ایسی نذر کا ماننا اور اس کا پورا کرنا دونوں کام گناہ کے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ہدایت خدا کے ہاتھ میں ہے : (ف 1) پیغمبر یا رسول کا کام صرف اعلان حق ہے ، ماننا نہ ماننا لوگوں کا اختیار ہے اس آیت میں اس حقیقت کی وضاحت کی گئی ہے کہ جب یہ توفیق صحیح سے محروم ہیں تو تیرے احاطہ اختیار سے باہر ہے کہ تو انہیں ہدایت دے دے ، راہنمائی وراسموئی تو فرائض نبوت میں ہے ، مگر شرح صدر اور توفیق یہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور یہ اس کو عطا ہوتی ہے جو اس کے حصول کی کوشش کرے ۔ (ف 2) ان آیات کا مقصد یہ ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ تمہارا ہر صدقہ قبول ہے اور تمہیں پورا پورا اجر دے گا ، چاہے وہ فعل موزوں پر خرچ ہوا ہے اور چاہے موزوں پر ، اس لئے کہ تمہارا مقصد بہرحال اصلاح ہے ، ممکن ہے تمہاری نیک نیتی کا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3 اے پیغمبر ! ان کافروں کو ہدایت پر لے آنا اور صحیح راہ پر لگا دینا اور اوامرو نواہی کا پابند کردینا آپ کے ذمہ ضروری اور لازم نہیں ہے البتہ یہ کام تو اللہ تعالیٰ کا ہے وہ جس کو چاہے صحیح راہ سے بہرہ ور کر دے اور مقصود مطلوب تک اس کو پہنچا دے اور مسلمانو ! تم جو کچھ بھی اپنے مال میں سے خرچ کرتے ہو اور جو کچھ بھی صدقہ خیرات کرتے ہو سو اپنے ہی نفع کی غرض سے اور اپنے ہی بھلے کو کرتے ہ اور تم سوائے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور اس کی خوشنودی کے اور کسی غرض کے لئے خرچ نہیں کرتے تمہارا مقصد تو صدقات و خیرات سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنا ہوتا ہے اور جو کچھ تم اپنے مال میں سے خرچ کرو گے اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 7۔ یعنی تم کو اپنے عوض سے مطلب رکھنا چاہیے اور عوض ہر حال میں ملے گا تم کو اس سے کیا بحث کہ ہمارا صدقہ مسلمان ہی کو ملے کافر کو نہ ملے۔ خلاصہ یہ ہے کہ نیت بھی تمہاری اصل میں اپنے ہی نفع حاصل کرنے کی کہے اور واقع میں بھی حاصل خاص تم ہی کو ہوگا۔ اس پر نظر کیوں کی جاتی ہے کہ یہ نفع خاص اسی طریق سے حاصل کیا جاوے کہ مسلمان ہی کو صدقہ دیں کافر کو نہ دیں۔ اور جاننا چاہیے کہ حدیث میں جو آیا کہ تیرا کھانا خاص متقی کھایاکریں تو مراد اس سے طعام دعوت ہے اور اس آیت میں طعام حاجت مراد ہے پس تعارض کا شبہ کیا جائے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہدایت کا قبول کروانا پیغمبر کی ذمہ داری نہیں : 474: رسول اللہ ﷺ کا یہی فرض تھا کہ لوگوں کے سامنے قانون صحیح پیش کردیں۔ شکوک و شبہات کو دور کردیں اور دولت کو کمانے اور صرف کرنے کے طریقے بتا دیں۔ علم کے سیکھنے سکھانے کے اصول سمجھا دیں۔ جہا دفی سبیل اللہ کا شوق و ذوق پیدا کردیں۔ اسلام کے اصولوں کے مطابق زندی گزارنے کی افادیت ذہن نشین کرا دیں لیکن یہ آپ ﷺ کا فرض نہیں کہ لوگوں میں جذباتِ صادقہ بھی پیدا کریں یا ان کو ہدایت بھی دیدیں ، چناچہ قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد ہوا : فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا 1ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ 1ؕ(الشوریٰ 42 : 48) ” پھر (اے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

(6) Verse 272: لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ (الی قولہ) وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ : "It is not for you to put them on the right path ... and you shall not be wronged." It has been clarified in this verse that a صدقہ sadaqah given to a non-Muslim also carries a reward in the life to come. As the basic purpose of a Muslim in making a sadaqah صدقہ is to get that reward, he should not confine himself to giving it to the Muslims only and to avoid giving it to the poor non-Muslims in the hope that this attitude will persuade them towards Islam, because a Muslim is not charged with bringing…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

313. In the beginning Muslims tended to hesitate in helping either their non-Muslim relatives or other non-Muslims who were in need. They thought that helping Muslims only constituted 'spending in the way of Allah'. This verse rejects this attitude. The purpose of this verse is to point out that Muslims are not responsible for forcing true guidance down the throats of people; conveying the message of Truth to people absolves them of the obligation incumbent upon them. It is, then, for God either to favour the recipients of the message with true perception or not. In addition Muslims should…

Read the full tafseer →