Explained with ayahs 272–274
مستحق صدقات کون ہیں
حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ مسلمان صحابہ اپنے مشرک رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کرنا ناپسند کرتے تھے پھر حضور ﷺ سے سوال ہوا اور یہ آیت اتری اور انہیں رخصت دی، فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ فرماتے تھے کہ صدقہ صرف مسلمانوں کو دیا جائے، جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرما دیا ہر سائل کو دو ، گو وہ کسی مذہب کا ہو (ابن ابی حاتم) حضرت اسماء والی روایت آیت (لاینھاکم اللہ الخ) کی تفسیر میں آئے گی انشاء اللہ، یہاں فرمایا تم جو نیکی کرو گے اپنے لئے ہی کرو گے جیسے اور جگہ ہے آیت (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ ۚ وَمَنْ اَسَاۗءَ فَعَلَيْهَا) 45۔ الجاثیہ :15) اور اس جیسی اور آیتیں بھی بہت ہیں،…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 313
ابتدا میں مسلمان اپنے غیر مسلم رشتے داروں اور عام غیر مسلم اہل حاجت کی مدد کرنے میں تامل کرتے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ صرف مسلمان حاجت مندوں ہی کی مدد کرنا انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ اس آیت میں ان کی یہ غلط فہمی دور کی گئی ہے۔ ارشاد الہٰی کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں ہدایت اتار دینے کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے۔ تم حق بات پہنچا کر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوچکے۔ اب یہ اللہ کے اختیار میں ہے کہ ان کو بصیرت کا نور عطا کرے یا نہ کرے۔ رہا دنیوی مال و متاع سے ان کی حاجتیں پوری کرنا، تو اس میں تم محض اس وجہ سے تامل نہ کرو کہ انہوں نے ہدایت قبول نہیں کی ہے۔ اللہ کی رضا کے لیے جس…
Read the full tafseer →لَيْسَ عَلَيْكَ ھُدٰىھُمْ (الیٰ قولہ) وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ اس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ نیت بھی تمہاری اصل میں اپنے ہی نفع حاصل کرنے کی ہے اور واقع میں بھی حاصل خاص تم ہی کو ہوگا پھر ان زوائد پر کیوں نظر کی جاتی ہے کہ یہ نفع خاص اسی طریق سے حاصل کیا جاوے کہ مسلمان ہی کو صدقہ دیں اور کافر کو نہ دیں۔
یہاں یہ بات بھی سمجھ لیجئے کہ اس صدقہ سے مراد صدقہ نفلی ہے جس کا ذمی کافر کو بھی دینا جائز ہے زکوٰۃ مراد نہیں ہے کیونکہ وہ سوائے مسلمان کے کسی دوسرے کو دینا جائز نہیں (مظہری)
(1) مسئلہحربی کافر کو کسی قسم کا صدقہ وغیرہ دینا جائز نہیں۔
(2) مسئلہکافر ذمی یعنی غیر حربی کو صرف زکوٰۃ وعشر دینا…
Read the full tafseer →خبر کے اسلوب میں انشائیہ جملہ : اس آیت میں کوئی خاص لفظ تحقیق طلب نہیں ہے صرف وما تنفقون الایہ کے اسلوب کے باب میں کچھ تردد سا ہے۔ مجھے بار بار خیال ہوتا ہے کہ یہ خبر کے اسلوب میں انشائیہ جملہ ہے۔ عربی زبان میں یہ طریقہ معروف ہے۔ قرآن میں اس کی بہت سی نظیریں موجود ہیں کہ امر یا نہی کے مضمون کو ان مواقع میں خبریہ اسلوب میں کردیتے ہیں جب مخاطب کو کوئی بات شفقت اور التفاتِ خاص کے ساتھ سمجھانی ہو۔ میں نے ترجمہ میں اس کا لحاظ کیا ہے۔ پچھلوں میں سے بھی بعض لوگوں نے اس کو اختیار کیا ہے۔ لیکن مجھے اس پر پورا پورا جزم نہیں ہے۔ اہل علم اس کو نگاہ میں رکھیں۔
پوری آیت پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس میں…
Read the full tafseer →272۔ 1 تفسیری روایات میں اس کا شان نزول یہ بیان کیا گیا ہے کہ مسلمان اپنے مشرک رشتے داروں کی مدد کرنا جائز نہیں سمجھتے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ مسلمان ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہدایت کے راستے پر لگا دینا یہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے دوسری بات یہ ارشاد فرمائی تم جو بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اس کا پورا اجر ملے گا جس سے یہ معلوم ہوا کہ غیر مسلم رشتے دار کے ساتھ بھی صلہ رحمی کرنا باعث اجر ہے تاہم زکاۃ صرف مسلمان کا حق ہے کسی غیر مسلم کو نہیں دی جاسکتی۔
Read the full tafseer →182: بعض انصاری صحابہ کے کچھ غریب رشتہ دار تھے مگر چونکہ وہ کافر تھے اس لئے وہ ان کی امداد نہیں کرتے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ وہ اسلام لے آئیں تو ان کی امداد کریں، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ خود آنحضرت ﷺ نے بھی یہی ہدایت فرمائی تھی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (روح المعانی) اس طرح مسلمانوں کو بتایا گیا کہ آپ پر ان کے اسلام لانے کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی اور اگر آپ ان غریب کافروں پر بھی اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی نیت سے کچھ خرچ کریں گے تو اس کا بھی پورا پورا ثواب ملے گا۔
Read the full tafseer →ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ سے یہ روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ حکم فرماتے تھے کہ صرف اہل اسلام پر صدقہ کیا جائے ۔ یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی ” لوگوں کو ہدایت دینے کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے ................“ تو آپ نے حکم دیا کہ جس دین کے پیروکار بھی تم سے سوال کریں انہیں صدقہ دیا کرو۔
دل اللہ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں ۔ اللہ کی مخلوق میں سے یہ بات کسی کے اختیار میں نہیں ہے کہ وہ کسی کو ہدایت دے یا گمراہ کردے ۔ اگرچہ وہ خود رسول ﷺ خود ہوں۔ ہدایت دینا یا گمراہ کرنا اللہ وحدہ کی ذات کا کام ہے ۔ اس لئے کہ وہ دلوں کا خالق ہے ۔ دلوں پر صرف اللہ کی حکمرانی ہے ۔ صرف اللہ ہی دلوں…
Read the full tafseer →4 جب آپ نے صحابہ کو مسلمانوں کے سوا اوروں پر صدقہ کرنے سے روکا اور اس میں یہ مصلحت تھی کہ مال ہی کی غرض سے دین حق کی طرف راغب ہوں آگے یہ فرما دیا کہ یہ ثواب جب ہی تک ملے گا کہ اللہ کی خوشی مطلوب ہوگی تو یہ آیت نازل ہوئی اور اس میں عام حکم آگیا کہ اللہ کی راہ میں جس کو مال دو گے تم کو اس کا ثواب دیا جائے گا مسلم غیر مسلم کسی کی تخصیص نہیں یعنی جس پر صدقہ کرو اس میں مسلم کی تخصیص نہیں البتہ صدقہ میں یہ ضرور ہے کہ محض بوجہ اللہ ہو۔
Read the full tafseer →آیت 272 لَیْسَ عَلَیْکَ ہُدٰٹہُمْ
ان کو ہدایت دینے کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے ‘ آپ ﷺ پر ذمہّ داری تبلیغ کی ہے۔ ہم نے آپ کو بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔
وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ ط وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاََنْفُسِکُمْ ط
اس کا اجر وثواب بڑھا چڑھا کر تم ہی کو دیا جائے گا ‘ سات سو گنا ‘ چودہ سو گنا یا اس سے بھی زیادہ۔
وَمَا تُنْفِقُوْنَ الاَّ ابْتِغَآءَ وَجْہِ اللّٰہِ ط
تبھی تمہیں اس قدر اجر ملے گا۔ اگر ریاکارانہ خرچ کیا تھا تو اجر کا کیا سوال ؟ وہ تو شرک بن جائے گا۔
وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْکُمْ وَاَنْتُمْ لاَ تُظْلَمُوْنَ
تمہاری ذرا بھی حق تلفی…
Read the full tafseer →388 ابتدا مسلمان اپنے غیر مسلم رشتہ داروں اور دوسرے غیر مسلم محتاجوں کی مدد کرنے میں تامل کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ صرف مسلمان محتاجوں کی مدد کرنا ہی انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کے دلوں میں ہدایت اتار دینے کی ذمہ داری آپ پر نہیں۔ آپ نے حق بات پہنچا دی، آگے ان کو راہ راست سمجھا دینا اللہ کا کام ہے۔ رہا دنیوی مال و متاع سے ان کی حاجات پوری کرنا تو اللہ کی رضا کے لیے تم جس حاجت مند کی بھی مدد کرو گے اللہ تمہیں اس کا اجر دے گا۔
Read the full tafseer →1054 ۔ (اے پیغمبر ! ) (آیت) ” ھدھم “ ان کی یعنی کافروں کی۔
1055 ۔ (اپنی مشیت تکوینی کے ماتحت ومطابق) رسول کا کام صرف تبلیغ ہے، یعنی ہدایت کا پیام دنیا تک پہنچا دینا، باقی کس کو قبول حق کی توفیق ہوتی ہے اور کس کو نہیں۔ اس کا تعلق تمام تر مشیت الہی سے ہے۔ شان نزول کی روایتوں میں آتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ بعض دفعہ کسی کافر مشرک صاحب حاجت کو خیرات دینے سے اس مصلحت سے رک جاتے تھے کہ شاید یہ احتیاج ہی کی بنا پر اسلام قبول کرلیں۔ آیت میں بتادیا گیا ہے کہ اتنے بعید اہتمام کی ضرورت نہیں محض تبلیغ کافی ہے۔ فقہاء امت نے کہا کہ کافر کو خیرات دینا بالکل جائز ہے بشرطیکہ وہ حربی نہ ہو۔ المراد اباحۃ الصدقۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 271–272
خفیہ طور پر صدقہ افضل ہے : اَنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا ھِیَ (الآیۃ) اس سے معلوم ہوا کہ عام حالات میں خفیہ طور پر صدقہ کرنا ا افضل ہے، سوائے اس صورت کے کہ جس میں اعلانیہ خرچ کرنے میں لوگوں کو ترغیب کا پہلو ہو یا تہمت سے بچنا مقصود ہو، تاہم مخصوص صورتوں کے علاوہ دیگر مواقع پر خاموشی سے خفیہ طور پر صدقہ کرنا ہی بہتر ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : جن لوگوں کو روز قیامت عرش الہیٰ کا سایہ نصیب ہوگا ان میں وہ شخص بھی ہوگا جس نے اپنے دائیں ہاتھ سے ایسے خفیہ طریقہ سے صدقہ کیا ہوگا کہ اسکے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہوئی ہو کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے ؟ (اس تعبیر سے مراد مبالغہ فی الخفاء ہے)…
Read the full tafseer →لَيْسَ عَلَيْكَ ھُدٰىھُمْ : آپ پر ان کا ہدایت یافتہ ہوجانا لازم نہیں۔ نسائی، طبرانی، بزار اور حاکم وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ لوگ اپنے رشتہ دار مشرکوں کو کچھ دینا پسند نہیں کرتے تھے یہ بات حضور اقدس سے دریافت کی تو آپ ﷺ نے ( رشتہ دار مشرکوں کو دینے کی) اجازت دیدی اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ ابن ابی شیبہ نے حضرت محمد بن حنفیہ کی مرسل روایت بھی اسی طرح نقل کی ہے۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صرف اہل اسلام کو خیرات دینے کا حکم دیتے تھے اس پر یہ آیت اتری۔ اس کے بعد ہر مذہب کے آدمی کو خیرات دینے کا حکم حضور ﷺ نے دیدیا۔ بغوی نے سعید بن جبیر کا…
Read the full tafseer →(272) آپ ﷺ کے ذمہ ان کافروں کو راہ راست پر لانا واجب نہیں کہ آپ ﷺ ان فقراء اہل کتاب اور مشرکین سے (صدقہ و خیرات کو روکیں محض اس بنا پر کہ ممکن ہے وہ اس طرح ایمان لے آئیں) اور جو تم اپنا مال خرچ کرتے ہو وہ اپنے ثواب کے لیے کرتے ہو اور تم فقراء پر محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے خرچ کرتے ہو اور فقراء مثلااصحاب صفہ پر جو تم مال خرچ کررہے ہو، اس کا پورا پورا ثواب تمہیں قیامت کے دن میں مل جائے گا نہ تمہاری نیکیوں میں کچھ کمی کی جائے گی، اور نہ برائیوں میں کسی قسم کا کوئی اضافہ ہوگا۔
شان نزول : (آیت) ”لیس علیک“۔ (الخ)
امام نسائی ؒ حاکم ؒ ، بزار ؒ طبرانی ؒ وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے…
Read the full tafseer →لَيْسَ عَلَيْكَ ھُدٰىھُمْ۔۔ : اس آیت سے پہلے اور بعد میں صدقے کے مسائل و فضائل بیان ہو رہے ہیں، درمیان میں یہ کہنا کہ ”تیرے ذمے ان کی ہدایت نہیں“ کیا مناسبت رکھتا ہے ؟ اکثر مفسرین نے تو ”لَيْسَ عَلَيْكَ ھُدٰىھُم“ سے مراد کفار کی ہدایت لی ہے اور اس کی تفسیر یہ فرمائی کہ رشتے دار یا ضرورت مند اگر کافر ہے تو اس پر بھی صدقہ کرو، کافر ہونے کی وجہ سے صدقے سے ہاتھ نہ روکو، کیونکہ ان (کفار) کی ہدایت تمہارے ذمے نہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ صحابہ اپنے مشرک رشتہ داروں کو تھوڑی سی چیز دینا بھی ناپسند کرتے تھے، پھر انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے اجازت دے دی اور یہ آیت اتری : (لَيْسَ عَلَيْكَ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 272۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لیس علیک ھدھم ولکن اللہ یھدی من یشآئ “۔ اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لیس علیک ھدھم “۔ یہ کلام صدقات کے ذکر کے ساتھ متصل ہے، تو گویا اس میں مشرکین کو صدقہ دینے کے جواز کو بیان کیا ہے، حضرت سعید بن جبیر ؓ نے حضور نبی کریم ﷺ سے اس آیت کے سبب نزول کے بارے میں مرسل روایت بیان کی ہے کہ مسلمان ذمی لوگوں میں سے فقراء کو صدقہ دیتے رہتے تھے، جب مسلمان فقراء زیادہ ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لا تتصدقوا الاعلی اھل دینکم “ تم اپنے اہل دین کے سوا کسی کو صدقہ نہ دو ، تو یہ آیت نازل ہوئی جو اس کے لئے صدقہ مباح کر رہی ہے جو دین اسلام…
Read the full tafseer →(1) الفریابی، عبد بن حمید، نسائی، البزار، ابن جریر، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، الحاکم نے (اس کو صحیح کہا) ابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں اور الضیاء نے المختارہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ صحابہ مشرکین رشتہ داروں کو صدقہ دینا ناپسند کرتے تھے تو انہوں (اس کے بارے میں) سوال کیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” لیس علیک ھدہم “ سے ” وانتم لا تظلمون “ تک تو ان کے لیے رخصت دے دی گئی۔
(2) ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور ضیاء نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ ہم کو صرف مسلمانوں پر صدقہ کرنے کا حکم فرماتے تھے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” لیس علیک…
Read the full tafseer →[لَـیْسَ : نہیں ہے (لازم)] [عَلَیْکَ : تجھ پر ] [ہُدٰٹہُمْ : ان کی ہدایت ] [وَلٰــکِنَّ : اور لیکن (یعنی بلکہ) ] [اللّٰہَ : اللہ ] [یَہْدِیْ : ہدایت دیتا ہے ] [مَنْ : اس کو جس کو ] [یَّشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [وَمَا : اور جو بھی ] [تُنْفِقُوْا : تم لوگ خرچ کرتے ہو ] [مِنْ خَیْرٍ : کسی قسم کی کوئی بھلائی ] [فَلِاَنْفُسِکُمْ : تو وہ تمہارے اپنے آپ کے لیے ہے ] [وَمَا تُنْفِقُوْنَ : اور تم لوگ خرچ نہیں کرتے ] [اِلاَّ : مگر ] [ابْتِغَـآئَ وَجْہِ اللّٰہِ : اللہ کی خوشنودی کی جستجو کرتے ہوئے ] [وَمَا : اور جو بھی ] [تُنْفِقُوْا : تم لوگ خرچ کرتے ہو ] [مِنْ خَیْرٍ : کسی قسم کی کوئی بھلائی ] [یُّوَفَّ :…
Read the full tafseer →جو کچھ بھی اچھا مال خرچ کرو گے اس کا بدلہ تمہیں مل جائے گا
رسول اللہ ﷺ بہت محنت و کوشش فرماتے تھے اور اہل کفر کو حق کی دعوت دیتے تھے۔ وہ لوگ جب قبول نہیں کرتے تھے تو آپ ﷺ کو طبعی طور پر رنج ہوتا تھا، آپ ﷺ کی تسلی کے لیے آیات نازل ہوتی تھیں، ایسی آیات قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں انہی میں سے ایک یہ آیت بھی ہے کہ آپ کا کام راہ دکھانا ہے۔ صحیح بات بتانا ہے، حق کا قبول کرانا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے، اللہ تعالیٰ ہادی ہے۔ وہ جس کو چاہے۔ ہدایت دے، آپ کو غمگین ہونے کی ضرورت نہیں۔ صاحب روح المعانی (ص 45 ج 3) نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کا سبب نزول یہ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تھا کہ ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–274
بیان بقیہ آداب صدقات وذکر مصارف خیر۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا انفقوا من طیبت ماکسبتم۔۔ الی۔۔ یحزنون۔
ربط) ۔ اب ان آیات میں ان امور کو بیان فرماتے ہیں کہ جن کی صدقہ اور خیرات میں رعایت ضروری ہے اور بعدازاں یہ بیان فرمائیں گے کہ کن لوگوں کو صدقہ دینا جائز ہے اور صدقہ اور خیرات کے اصل مستحق کون لوگ ہیں چناچہ فرماتے ہیں، اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ جو چیز تم نے اپنی تجارت یا صنعت وحرفت سے کمائی ہے اس میں سے پاکیزہ یعنی حلال اور عمدہ چیز خدا کی راہ میں خرچ کرو اور علی ہذا ہم نے جو چیز تمہارے لیے زمین سے نکالی ہے اس میں سے بھی پاکیزہ اور عمدہ ہی چیز خرچ کرو اور خراب اور گندی چیز کا…
Read the full tafseer →534 بعض مسلمان اس خیال سے اپنے کافر رشتہ داروں کو صدقہ نہیں دیتے تھے کہ شاید تنگدستی اور مفلسی کی وجہ سے ایمان لے آئیں تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ان کو صدقہ دیا کرو۔ باقی رہی ان کی ہدایت تو تم اس کے ذمہ دار نہیں ہو۔ وہ اللہ کے اختیار میں ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ کان ناس من الانصار لھم قرابات من بنی قریظةوالنضیر وکانوا لا یتصدقون علیھم رغبة منھم فی ان یسلموا اذا احتاجوا نزلت الایة بسبب اولئک (قرطبی ص 337 ج 3)535 تمہارے صدقات سے اگرچہ محتاجوں کو فائدہ پہنچتا ہے مگر یہ فائدہ دنیویو اور فانی ہے ان سے اصل فائدہ تو تم اٹھاؤگے جب آخرت میں ان صدقات کا ثواب تمہیں ملیگا۔ وَمَا تُنْفِقُوْنَ ۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 271–272
ربط آیات
اس سے پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں صدقات و خیرات کے متعلق سات اصول بیان کیے ہیں ، جن میں سے چار کا ذکر گزشتہ آیات میں آ چکا ہے۔ آج کے درس میں پانچویں بات کا بیان ہے کہ صدقات و خیرات ظاہری طور پر بھی ادا کیا جاسکتا ہے اور باطنی پوشیدہ طور پر بھی ، تا ہم خفیہ طور پر دنیا زیادہ بہتر ہے۔ اس کے بعد چھٹی بات کا ذکر ہے کہ صدقہ و خیرات غیر مسلم کو بھی دیا جاسکتا ہے۔ ساتویں بات کا ذکر آئندہ درس میں آئے گا ۔
ابدایا اخفا
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ صدقہ خیرات سے متعلق سب سے اہم چیز دینے والے کی نیت ہے اگر خدا نخواستہ نیت میں فتور آ گیا ہے کسی کو احسان جتلانے یا ایذا پہنچانے کے…
Read the full tafseer →لَيْسَ عَلَيْكَ ھُدٰىھُمْ وَلٰكِنَّ اللہَ يَہْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ 0 ۭ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ 0 ۭ وَمَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَاۗءَ وَجْہِ اللہِ 0 ۭ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ يُّوَفَّ اِلَيْكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ 272
هدى
الهداية دلالة بلطف،
وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه :
الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل،
والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى
[ طه/ 50] .
الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة…
Read the full tafseer →ترکیب : للفقراء خبر ہے مبتدا محذوف کی ای الصدقات المذکورۃ للفقراء پھر فقراء کے احصروا الخ لا یستطیعون ضربا یحسبھم الجاھل اغنیاء تعفرھم بسیماھم لا یسئلون الناس پانچ وصف بیان فرمائے اول بطور صفت اور باقی بطور حال وفیہ سرلایسعہ المقال۔ الذین موصول وصلہ مبتداء فلہم اجرھم جملہ خبر اوراس لیے آئی کہ مبتداء میں بوئی شرط تھی۔
تفسیر : یہ خیرات کی بابت چوتھا حکم ہے جس طرح پہلی آیتوں میں خیرات میں دینے کے قابل چیزوں کا بیان تھا اس میں ان لوگوں کا بیان ہے کہ جن کو خیرات دینی چاہیے۔ صحابہ یا خود آنحضرت ﷺ مشرکین اور بت پرستوں کو دینے میں کوتاہی کیا کرتے تھے۔ ان کی بت پرستی سے نفرت کرکے اس پر حکم آیا کہ تم…
Read the full tafseer →لَیْسَ عَلَیْکَ ھُدٰہُمْ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ ط وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَ نْفُسِکُمْ ط وَمَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَـآئَ وَجْہِ اللّٰہِ ط وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْـکُمْ وَاَنْتُمْ لَاتُظْلَمُوْنَ ۔
(آپ کے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔ اور جو کچھ تم خرچ کرو مال میں سے تو اس میں تمہارا اپنا فائدہ ہے۔ اور تم تو خرچ نہیں کرتے ہو سوائے اللہ کی رضا طلبی کے اور جو مال بھی تم خرچ کرو گے وہ تم کو پورا دیا جائے گا۔ اور تمہارے حق میں ذرا بھی کمی نہ کی جائے گی) (272)
آیت کریمہ کے دو مفہوم
اس آیت کریمہ میں جو کچھ فرمایا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح حکمت و دانائی اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ اسی طرح ہدایت پانا اور صدقہ کی توفیق ملنا بھی اسی کا کرم ہے۔
اے رسول کریم ﷺ ! تمہاری ذمہ داری لوگوں کو سمجھانا ہے۔ ہدایت سے ہمکنار کرنا آپکا اختیار نہیں ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مشیّت اور حکمت ہے جسے چاہے ہدایت سے سرفراز فرمائے۔ صدقات کے بیان میں یہ جملہ اس لیے لایا گیا ہے کہ ابتدائی دور میں بیشمار ایسے صحابہ کرام ؓ تھے جن کی کافروں اور مشرکوں کے ساتھ قریبی رشتہ داریاں تھیں۔ مال دار صحابہ ایمان لانے کے بعد بھی کفار کے ساتھ تعاون کرتے تھے۔ لیکن اب انہوں نے ایمان کی بنیاد پر ایسے لوگوں کے ساتھ تعاون کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ جس پر…
Read the full tafseer →آیت 272 … ہدایت ذمہ نہ ہونے کا مطلب :
لَـیْسَ عَلَیْکَ ہُدٰہُمْ (تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں) یعنی تمہارے ذمہ لازم نہیں کہ تم ان کو انتہاء تک پہنچانے والے ہو ان چیزوں میں جن سے ان کو منع کیا گیا۔ یعنی مَنّایذاء اور انفاق مال خبیث وغیرہ۔ آپ کے ذمہ صرف ممنوعات کی ممانعت بتلا دینا ہے۔
وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ (لیکن اللہ تعالیٰ جس کی چاہتے ہیں راہنمائی فرماتے ہیں)
دوسرا قول : آپ کے ذمہ توفیق ہدایت نہیں یا ہدایت کا پیدا کرنا نہیں۔ بیشک یہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔
وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ (اور جو تم مال میں سے خرچ کرو۔ )
فَلِاَنْفُسِکُمْ (پس وہ تمہارے اپنے نفسوں کے لئے ہے) یعنی…
Read the full tafseer →(تفسیر) 272۔:
(آیت)” (لیس علیک ھداھم “ ان کو ہدایت پرلے آنا آپ پر لازم نہیں) امام کلبی (رح) فرماتے ہیں اس آیت کا شان نزول یہ بیان کیا ہے کہ کچھ مسلمانوں کو یہودیوں کے ساتھ سسرالی رشتہ داری تھی اسلام لانے سے پہلے یہ ان پر خرچ کرتے تھے لیکن مسلمان ہونے کے بعد ان پر خرچ کرنا پسند نہیں فرماتے تھے اور ان کا یہ ارادہ تھا کہ وہ اسلام لے آئیں ، ہم ان پر خرچ کریں گے ، سعید بن جبیر ؓ سے روایت ہے کہ ہم لوگ اہل ذمہ والوں پر خرچ کرتے تھے ، جب مسلمان فقراء کی تعداد بڑھ گئی تو آپ ﷺ نے مشرکین پر خرچ کرنے سے منع کردیا تاکہ یہ محتاج ہو کر اسلام میں خود بخود داخل ہوجائیں گے ، اس پر یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” لیس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 272–273
(272 ۔ 273) ۔ نسائی حاکم ابن ابی حاتم طبرانی اور بزاز نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ اسلام سے پہلے اکثر صحابہ اور یہود میں قرابت تھی اور اس قرابت کی وجہ سے صحابہ ان سے طرح طرح کے سلوک کیا کرتے تھے اسلام کے بعد اس سلوک سے صحابہ کی اجازت آنحضرت سے چاہی آپ نے بھی اس خیال سے کہ شاید یہ طریقہ یہود کو کچھ راہ راست پر لاوے صحابہ کو اس کی اجازت دے دی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ اور فرما دیا کہ جس کسی کی ہدایت اللہ کو منظور ہوتی ہے وہ ہر طرح راہ راست پر آجاتا ہے۔ بدوں مرضی اللہ کے تمہاری ایسی باتوں سے کیا ہدایت ہوگی اور اللہ کو اس طرح کی مجبوری کا ایمان کب پسند ہے کہ کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 272–274
آیت 272-274
دلالت ہے کہ مال کا یہ خرچ کرنا عام ہے جیسے مسلم پر خرچ کرنا واجب ہے اسی طرح کافر ( اہل ذمہ وغیرہ) پر بھی خرچ کیا جائے گا اگرچہ اس نے ہدایت قبول نہ کی ہو۔ اس لئے فرمایا : (وما تنفقوا من خیر) تم جو کچھ خرچ کرو گے۔ “ کم ہو یا زیادہ اور چاہے یہ مال تم مسلمان پر خرچ کرو یا کافر پر : (فلا نفسکم) ” اس کا فائدہ خود پاؤ گے (وما تنفقون الا ابتغآء وجہ اللہ) ” اور تم صرف اللہ کی رضا مندی کی طلب کے لئے خرچ کرتے ہو۔ “ یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ مومنوں کے خرچ کی بنیاد ایمان ہوتی ہے اور وہ صرف اللہ کی رضا کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا ایمان انہیں فضول مقاصد کے لئے کام کرنے سے منع کرتا ہے اور…
Read the full tafseer →صدقہ کے مال میں سے مشرک کو کچھ دینا
قول باری ہے (لیس علیک ھداھم ولکن اللہ یھدی من یشآء وما تنفقوا من خیر فلانفسکم (a) تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہچیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور خیرات میں جو مال تم خرچ کرتے ہو وہ تمہارے اپنے لئے بھلا ہے) ۔
ابو بکر جصاص کہتے ہیں کہ اس خطاب کے گزشتہ حصے اور اس کی ترتیب اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قول باری (لیس علیک ھدھم) (a) کا معنی غیر مسلموں کو صدقہ کا مال دینے میں آپ کے ذمہ ان کی ہدایت نہیں ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے خطاب کی ابتدا اس قول (ان تندوا الصدقات فنعماھی) (a) سے کی پھر اس پر اس قول (لیس علک ھداھم) (a) کو عطف کیا۔
پھر اس کے بعد یہ…
Read the full tafseer →782 ہدایت اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ جس کو چاہے راہ راست پر لے آئے کہ وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے کہ کون کس لائق ہے، اور کس کے باطن کی حالت و کیفیت کیا ہے۔ روایات میں ہے کہ صحابہ کرام ؓ میں سے بعض حضرات نے اپنے ان رشتہ داروں کو صدقہ و خیرات دینا بند کردیا، جو کہ ابھی تک ایمان نہیں لائے تھے، تاکہ اس طرح وہ لوگ ایمان کے شرف سے مشرف ہو کر دارین کی فوز و فلاح سے ہمکنار ہو سکیں، تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ اس طرح مجبور کر کے ان لوگوں کو راہ راست پر لے آنا نہ تمہاری ذمہ داری ہے، اور نہ ہی یہ تمہارے بس میں ہے۔ ہدایت تو اللہ پاک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے، وہ…
Read the full tafseer →خیرات کا پورا اجر
تشریح : اس آیت میں ایک نکتہ صدقہ دینے کا بیان کیا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ شروع میں لوگ صدقہ صرف مسلمانوں کو ہی دیتے تھے، اپنے غیر مسلم رشتہ داروں کو اس لئے صدقہ خیرات نہیں دیتے تھے کہ وہ مسلمان نہیں ہوئے تو یہاں اللہ تعالیٰ بڑے پیارے انداز میں یہ بات بتا رہے ہیں کہ تم اس بات کا خیال نہ کرو کہ تمہارے عزیز مسلمان کیوں نہیں ہو رہے تمہارا فرض صرف اتنا ہے کہ ان کو ہدایت، کامیابی اور نیکی کا راستہ دکھانا۔ ہدایت پر چلانا یہ نہ تمہارے بس میں ہے اور نہ تم اس کے ذمہ دار ہو، کیونکہ یہ کام تو صرف ہمارا (رب العزت کا) ہے، ہم جس کو چاہیں ہدایت دے دیتے ہیں اس لئے تم ان کی مالی امداد ضرور کرو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–273
آیات 267- 273
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا انفقوا ھن طیبت……………واعلموا ان اللہ غنی حمید۔
اے ایمان والو ! اپنی کمائی سے صاف ستھری چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ اپنی کمائی سے خرچ کرو ، ظاہر ہے کہ کمائی تو حلال ہی ہوگی ورنہ ناجائز ذرائع سے دولت پیدا کرنے کو کسب نہیں کہا جاتا۔ بلکہ ایسے لوگ خود اپنے ناجائز ذرائع کو لوگوں کی نظروں سے بچا کر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ، پھر اس میں سے جو راہ خدا میں دے وہ کھری اور اچھی چیز ہونی چاہیے اگر غلہ یا پھل یا کوئی اور جنس اللہ کی راہ میں دے ، اور اگر حرام مال سے دے گا توہ عنداللہ مقبول ہی نہیں ہوگا۔ کہ ایک حدیث پاک میں ارشاد ہے کہ برے کو…
Read the full tafseer →ف 1 اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ غیر مسلم کے ساتھ صلہ رحمی جائز ہے اور اگر وہ محتاج ہو تو نفلی صدقات سے اس کی مدد کر نا بھی جائز ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ ہمیں حکم دیتے کہ صدقات صرف مسلمانوں کو دیئے جائیں گے مگر جب یہ آتی نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے ہر ضرورت مند سائل کو صدقہ دینے کی اجازت دے دی۔ البتہ قرآن نے بتایا کہ اجر تب ملے گا جب وہ صدقہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیا جائے۔ (شوکانی۔ ابن کثیر) لیکن واضح رہے کہ فرض زکوہ صرف مسلمانوں کا حق ہے غیر مسلم پر اس کا صرف کرنا جائز نہیں ہے اس پر تمام ائمہ کرام کا اجماع ہے۔ (معالم السنن) صدقہ فطر بھی صرف مسلمانوں کا حق ہے۔ صرف…
Read the full tafseer →(2:272) لیس علیک ھدہم۔ ھدہم۔ مضاف مضاف الیہ ۔ ان کی ہدایت۔ ان کی ہدایت یابی۔ ان کو سیدھے راہ پر چلانا۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کفار کے لئے ہے۔ ان کو سیدھے راہ پر چلانا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔
فائدہ : رسول اللہ ﷺ صرف اہل اسلام کو خیرات دینے کا حکم دیتے تھے اس پر یہ آیت اتری۔ اس کے بعد ہر مذہب کے آدمی کو خیرات دینے کا حضور ﷺ نے حکم دے دیا۔
ھدی۔ الھدایۃ۔ کے معنی لطف و کرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ قرآن مجید میں جہاں کفار کو دوزخ کی طرف دھکیلنے کے لئے یہ لفظ استعمال ہوا ہے وہ بطور مذاق و تہکم آیا ہے مثلاً فاھدددددوھم الی صراط الجحیم (37:23) پھر ان کو جہنم کے راستہ پر چلا دو ۔ یہ ایسے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 271–272
لغات القرآن : آیت نمبر 271 تا 272
تبدوا (تم ظاہر کرتے ہو) ۔ نعما (بہتر ہے) ۔ تخفوا (تم چھپاتے ہو) ۔ تؤتوا (تم دیتے ہو) ۔ یکفر (وہ دور کر دے گا) ۔ سیات (گناہ، خطائیں) ۔ یھدی (ہدایت دیتا ہے) ۔ یوف (پورا کردیا جائے گا) ۔
تشریح : آیت نمبر 271 تا 272
صدقات کی ادائیگی میں بنیادی بات تو یہی ہے کہ اس کو اس انداز سے دیا جائے کہ داہنے ہاتھ سے دینے پر بائیں ہاتھ کو خبر تک نہ ہو۔ لیکن اگر ظاہر کرنے میں دوسروں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دینا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب کہ کسی اجتماعی مہم کے لئے لوگوں کو ابھارنا اور شوق دلانا مقصود ہو تو اس میں یہ دکھاوا اور ریا کاری نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 272–273
مسیکن کون ؟
شان نزول : صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے جو روایت اس شان نزول کے ہم معنی ہے، اسی کا حاصل یہ ہے کہ مسکین وہ نہین جو گھر گھر مانگتا پھرتا ہے بلکہ اصل مسکین وہ ہے جو اتنا نہیں رکھتا کہ اس کے خرچ کے لئے کافی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 270–274
[281] نذر اس نفلی مالی یا بدنی عبادت کو کہتے ہیں جو آدمی اپنی کسی مراد کے پورا ہونے پر اپنے اوپر لازم کرے۔ اگر یہ مراد کسی جائز یا حلال امر کے لئے ہو تو اس کا پورا کرنا باعث ثواب ہے ورنہ بصورت دیگر ایسی نذر کا ماننا اور اس کا پورا کرنا دونوں کام گناہ کے ہیں۔
Read the full tafseer →ہدایت خدا کے ہاتھ میں ہے :
(ف 1) پیغمبر یا رسول کا کام صرف اعلان حق ہے ، ماننا نہ ماننا لوگوں کا اختیار ہے اس آیت میں اس حقیقت کی وضاحت کی گئی ہے کہ جب یہ توفیق صحیح سے محروم ہیں تو تیرے احاطہ اختیار سے باہر ہے کہ تو انہیں ہدایت دے دے ، راہنمائی وراسموئی تو فرائض نبوت میں ہے ، مگر شرح صدر اور توفیق یہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور یہ اس کو عطا ہوتی ہے جو اس کے حصول کی کوشش کرے ۔
(ف 2) ان آیات کا مقصد یہ ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ تمہارا ہر صدقہ قبول ہے اور تمہیں پورا پورا اجر دے گا ، چاہے وہ فعل موزوں پر خرچ ہوا ہے اور چاہے موزوں پر ، اس لئے کہ تمہارا مقصد بہرحال اصلاح ہے ، ممکن ہے تمہاری نیک نیتی کا…
Read the full tafseer →ف 3 اے پیغمبر ! ان کافروں کو ہدایت پر لے آنا اور صحیح راہ پر لگا دینا اور اوامرو نواہی کا پابند کردینا آپ کے ذمہ ضروری اور لازم نہیں ہے البتہ یہ کام تو اللہ تعالیٰ کا ہے وہ جس کو چاہے صحیح راہ سے بہرہ ور کر دے اور مقصود مطلوب تک اس کو پہنچا دے اور مسلمانو ! تم جو کچھ بھی اپنے مال میں سے خرچ کرتے ہو اور جو کچھ بھی صدقہ خیرات کرتے ہو سو اپنے ہی نفع کی غرض سے اور اپنے ہی بھلے کو کرتے ہ اور تم سوائے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور اس کی خوشنودی کے اور کسی غرض کے لئے خرچ نہیں کرتے تمہارا مقصد تو صدقات و خیرات سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنا ہوتا ہے اور جو کچھ تم اپنے مال میں سے خرچ کرو گے اور…
Read the full tafseer →ف 7۔ یعنی تم کو اپنے عوض سے مطلب رکھنا چاہیے اور عوض ہر حال میں ملے گا تم کو اس سے کیا بحث کہ ہمارا صدقہ مسلمان ہی کو ملے کافر کو نہ ملے۔ خلاصہ یہ ہے کہ نیت بھی تمہاری اصل میں اپنے ہی نفع حاصل کرنے کی کہے اور واقع میں بھی حاصل خاص تم ہی کو ہوگا۔ اس پر نظر کیوں کی جاتی ہے کہ یہ نفع خاص اسی طریق سے حاصل کیا جاوے کہ مسلمان ہی کو صدقہ دیں کافر کو نہ دیں۔ اور جاننا چاہیے کہ حدیث میں جو آیا کہ تیرا کھانا خاص متقی کھایاکریں تو مراد اس سے طعام دعوت ہے اور اس آیت میں طعام حاجت مراد ہے پس تعارض کا شبہ کیا جائے۔
Read the full tafseer →ہدایت کا قبول کروانا پیغمبر کی ذمہ داری نہیں :
474: رسول اللہ ﷺ کا یہی فرض تھا کہ لوگوں کے سامنے قانون صحیح پیش کردیں۔ شکوک و شبہات کو دور کردیں اور دولت کو کمانے اور صرف کرنے کے طریقے بتا دیں۔ علم کے سیکھنے سکھانے کے اصول سمجھا دیں۔ جہا دفی سبیل اللہ کا شوق و ذوق پیدا کردیں۔ اسلام کے اصولوں کے مطابق زندی گزارنے کی افادیت ذہن نشین کرا دیں لیکن یہ آپ ﷺ کا فرض نہیں کہ لوگوں میں جذباتِ صادقہ بھی پیدا کریں یا ان کو ہدایت بھی دیدیں ، چناچہ قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد ہوا :
فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا 1ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ 1ؕ(الشوریٰ 42 : 48)
” پھر (اے…
Read the full tafseer →(6) Verse 272: لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ (الی قولہ) وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ : "It is not for you to put them on the right path ... and you shall not be wronged."
It has been clarified in this verse that a صدقہ sadaqah given to a non-Muslim also carries a reward in the life to come. As the basic purpose of a Muslim in making a sadaqah صدقہ is to get that reward, he should not confine himself to giving it to the Muslims only and to avoid giving it to the poor non-Muslims in the hope that this attitude will persuade them towards Islam, because a Muslim is not charged with bringing…
Read the full tafseer →313. In the beginning Muslims tended to hesitate in helping either their non-Muslim relatives or other non-Muslims who were in need. They thought that helping Muslims only constituted 'spending in the way of Allah'. This verse rejects this attitude. The purpose of this verse is to point out that Muslims are not responsible for forcing true guidance down the throats of people; conveying the message of Truth to people absolves them of the obligation incumbent upon them. It is, then, for God either to favour the recipients of the message with true perception or not. In addition Muslims should…
Read the full tafseer →