Explained with ayahs 270–271
نیک اور بد لوگ ظاہر اور درپردہ حقیقت
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ہر ایک خرچ اور نذر کو اور ہر بھلے عمل کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے وہ اپنے نیک بندوں کو جو اس کا حکم بجا لاتے ہیں اس سے ثواب کی امید رکھتے ہیں، اس کے وعدوں کو سچا جانتے ہیں، اس کے فرمان پر ایمان رکھتے ہیں، بہترین بدلہ عطا فرمائے گا اور ان کے خلاف جو لوگ اس کی حکم برداری سے جی چراتے ہیں گناہ کا کام کرتے ہیں، اس کی خبروں کو جھٹلاتے ہیں اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں، یہ ظالم ہیں قیامت کے دن قسم قسم کے سخت بدترین اور المناک عذاب انہیں ہوں گے اور کوئی نہ ہوگا جو انہیں چھڑائے یا ان کی مدد میں اٹھے۔ پھر فرمایا کہ ظاہر کرکے صدقہ…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 311
جو صدقہ فرض ہو، اس کو علانیہ دینا افضل ہے، اور جو صدقہ فرض کے ماسوا ہو، اس کا اخفا زیادہ بہتر ہے۔ یہی اصول تمام اعمال کے لیے ہے کہ فرائض کا علانیہ انجام دینا افضلیت رکھتا ہے اور نوافل کو چھپا کر کرنا اولیٰ ہے۔
سورة الْبَقَرَة 312
یعنی چھپا کر نیکیاں کرنے سے آدمی کے نفس و اخلاق کی مسلسل اصلاح ہوتی چلی جاتی ہے، اس کے اوصاف حمیدہ خوب نشونما پاتے ہیں، اس کی بری صفات رفتہ رفتہ مٹ جاتی ہیں، اور یہی چیز اس کو اللہ کے ہاں اتنا مقبول بنا دیتی ہے کہ جو تھوڑے بہت گناہ اس کے نامہ اعمال میں ہوتے بھی ہیں انہیں اس کی خوبیوں پر نظر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے۔
Read the full tafseer →اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِىَ (الیٰ قولہٖ) وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ
بظاہر یہ آیت فرض اور نفل سب صدقات کو شامل ہے اور سب میں اخفاء ہی افضل ہے اس میں دینی مصلحت بھی ہے کہ ریاء سے ابعد ہے لینے والا بھی نہیں شرماتا، اور دنیوی مصلحت بھی ہے کہ اپنے مال کی مقدار عام لوگوں پر ظاہر نہیں ہوتی اور مراد افضلیت اخفاء سے آیت میں افضلیت فی نفسہ ہے، پس اگر کسی مقام پر کسی عارض سے مثلا رفع تہمت یا امید اقتداء وغیرہ سے اظہار کو ترجیح ہوجاوے تو افضلیت فی نفسہ کے منافی نہیں وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَيِّاٰتِكُمْ کفارہ سیات کچھ اخفاء کے ساتھ تو خاص نہیں صرف اس بات پر تنبیہ کرنے کے لئے…
Read the full tafseer →علانیہ اور پوشیدہ انفاق کے درجے : یہاں چونکہ زیر بحث عام صدقات و خیرات ہیں، صدقاتِ واجبہ نہیں ہیں جو علانیہ دیے جاتے ہیں، اس وجہ سے ان کے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کو پوشیدہ طور پر دینا بہتر ہے یا علانیہ، قرآن نے یہ اس سوال کا جواب دیا ہے کہ اگر ظاہر کر کے دو تو یہ بھی اچھا ہے، اس لیے کہ اس کے بھی بعض پہلو مفید ہیں۔ مثلاً یہ کہ اس سے دوسروں کو بھی انفاق کی ترغیب ہوتی ہے۔ خاص طور پر ان مواقع میں، جب کسی اجتماع مہم کے لیے لوگوں کو ابھارنا اور شوق دلانا ہو، لیکن جب اس طرح کے حالات نہ ہوں تو زیادہ بہتر یہی ہے کہ پوشیدہ طور پر غریبوں کو دے دو تاکہ ریا و نمائش کے فتنہ سے بھی محفوظ رہ سکو اور…
Read the full tafseer →271۔ 1 اس سے معلوم ہوا کہ عام حالات میں خفیہ طور پر صدقہ کرنا افضل ہے سوائے کسی ایسی صورت کے کہ اعلانیہ صدقہ دینے میں لوگوں کے لئے ترغیب کا پہلو ہو۔ اگر ریاکاری کا جذبہ شامل نہ ہو تو ایسے موقعوں پر پہل کرنے والے جو خاص فضلیت حاصل کرسکتے ہیں وہ احادیث سے واضح ہے۔ تاہم اس قسم کی مخصوص صورتوں کے علاوہ دیگر مواقع پر خاموشی سے صدقہ و خیرات کرنا ہی بہتر ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ جن لوگوں کو قیامت کے دن عرش الٰہی کا سایہ نصیب ہوگا ان میں وہ شخص بھی شامل ہوگا جس نے اتنے خفیہ طریقے سے صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی یہ پتہ نہیں چلا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔ صدقے میں اخفا کی افضلیت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 266–271
181: صدقات کو برباد کرنے کی یہ دوسری مثال ہے۔ جس طرح ایک آگ سے بھرا بگولا ہرے بھرے باغ کو یکایک تباہ کر ڈالتا ہے، اسی طرح ریاکاری یا صدقہ دے کر احسان جتلانا یا کسی اور طرح غریب آدمی کو ستانا صدقے کے عظیم ثواب کو برباد کر ڈالتا ہے۔
Read the full tafseer →صدقہ اگر نفلی ہو تو اس صورت میں اللہ کے ہاں پسندیدہ یہ ہے کہ وہ خفیہ ہو ، اور اس لائق ہے کہ اس میں ریاکاری اور دکھاوے کا شائبہ تک نہ ہو ۔ لیکن اگر صدقہ ، صدقات واجبہ اور فرائض میں سے ہو ، تو اس میں اطاعت اور حکم کی بجاآوری کا پہلو بھی ہوتا ہے ۔ اور اس پہلو کا اظاہر اور اشاعت زیادہ مطلوب ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ................ ” اگر اپنے صدقات اعلانیہ دو تو یہ بھی اچھا ہے لیکن اگر چھپا کر حاجت مندوں کو دو تو تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے۔ “ اس میں ان دوحالتوں کا ذکر کردیا…
Read the full tafseer →3 اگر لوگوں کے دکھانے کی نیت نہ ہو تو خیرات کرنا لوگوں کے روبرو بھی بہتر ہے تاکہ اوروں کو بھی شوق اور رغبت ہو اور چھپا کر خیرات کرنا بھی بہتر ہے تاکہ لینے والا نہ شرمائے۔ خلاصہ یہ کہ اظہار و اخفاء دونوں بہتر ہیں مگر ہر موقع اور مصلحت کا لحاظ ضروری بات ہے۔
Read the full tafseer →آیت 271 اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّاہِیَ ج۔
خاص طور پر زکوٰۃ کا معاملہ تو علانیہ ہی ہے۔ تو اگر تم اپنے صدقات ظاہر کر کے دو تو یہ بھی ٹھیک ہے۔ اس لیے کہ کم سے کم فقراء کا حق تو ادا ہوگیا ‘ کسی کی ضرورت تو پوری ہوگئی۔
وَاِنْ تُخْفُوْہَا وَتُؤْتُوْہَا الْفُقَرَآءَ فَہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ ط۔
یاد رہے کہ یہ بات صدقات نافلہ کے لیے ہے۔ لیکن جو صدقات واجبہ ہیں ‘ جو لازماً دینے ہیں ‘ مثلاً زکوٰۃ اور عشر ‘ ان کے لیے اخفاء نہیں ہے۔ یہ دین کی حکمت ہے ‘ اس کو ذہن میں رکھیے کہ فرض عبادات علانیہ ادا کی جائیں گی۔ یہ وسوسہ بھی شیطان بہت سوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے کہ کیا پانچ وقت مسجد میں جا کر نماز…
Read the full tafseer →387 اس آیت سے خفیہ صدقہ کی زیادہ فضیلت ثابت ہوئی، جیسا کہ درج ذیل احادیث سے بھی واضح ہوتا ہے۔
1۔ حضرت انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب اللہ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ ہچکولے کھاتی تھی۔ پھر اللہ نے پہاڑ پیدا کئے اور کہا کہ اسے (زمین کو) تھامے رہو۔ چناچہ وہ ٹھہر گئی۔ تب فرشتوں کو پہاڑوں کی مضبوطی پر تعجب ہوا اور کہنے لگے : پروردگار ! تیری مخلوق میں سے کوئی چیز پہاڑوں سے بھی سخت ہے ؟ فرمایا ہاں، لوہا ہے۔ فرشتے کہنے لگے، پروردگار کوئی چیز لوہے سے بھی سخت ہے ؟ فرمایا ہاں آگ ہے۔ پھر وہ کہنے لگے : کوئی چیز آگ سے بھی سخت ہے ؟ فرمایا : ہاں پانی ہے۔ وہ کہنے لگے : کوئی چیز پانی سے بھی سخت ہے ؟…
Read the full tafseer →1051 ۔ نیکی کی طرح صدقات و خیرات کے بھی مخفی ادا کرنے کی حقیقت تو ظاہرہی ہے لیکن زندگی میں ایسے مواقع بھی برابر پیش آتے رہتے ہیں جہاں نیکی کا اعلان و اظہار بھی ضروری ہوجاتا ہے ایک شخص ہے کہ بھوک پیاس سے نڈھال یا بیماری میں مبتلا سڑک پر پڑا تڑپ رہا ہے ہم قریب سے گزر رہے ہیں اور بالکل ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم اسے کھلا کر یا دوا دے کر کہنا چاہیے کہ از سر نوزندہ اٹھا کھڑا کریں لیکن اس اندیشہ سے کہ کہیں ہماری اس خدمت کا شمار ریاء ونمائش میں نہ ہوجائے اس کے پاس سے کتراتے اور خاموش گزرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ تقوی نہیں، عین معصیت اور انتہائی وہم پرستی ہوئی۔ یہاں ضرورت فی الفور مددرسانی کی تھی خواہ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 271–272
خفیہ طور پر صدقہ افضل ہے : اَنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا ھِیَ (الآیۃ) اس سے معلوم ہوا کہ عام حالات میں خفیہ طور پر صدقہ کرنا ا افضل ہے، سوائے اس صورت کے کہ جس میں اعلانیہ خرچ کرنے میں لوگوں کو ترغیب کا پہلو ہو یا تہمت سے بچنا مقصود ہو، تاہم مخصوص صورتوں کے علاوہ دیگر مواقع پر خاموشی سے خفیہ طور پر صدقہ کرنا ہی بہتر ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : جن لوگوں کو روز قیامت عرش الہیٰ کا سایہ نصیب ہوگا ان میں وہ شخص بھی ہوگا جس نے اپنے دائیں ہاتھ سے ایسے خفیہ طریقہ سے صدقہ کیا ہوگا کہ اسکے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہوئی ہو کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے ؟ (اس تعبیر سے مراد مبالغہ فی الخفاء ہے)…
Read the full tafseer →اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِىَ : یعنی اگر تم لوگوں کے سامنے خیرات دو بشرطیکہ دکھاوٹ کے لیے نہ ہو تو یہ عمل اچھا ہے۔ ابن کثیر، ورش اور حفص نے اس آیت میں اور سورة النساء میں نِعِمَّا کو نون اور عین کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ قالون اور ابوبکر اور ابو عمر نے نون کا تو کسرہ پڑھا ہے مگر عین کی حرکت کا اخفاء کیا ہے اور سکون عین بھی جائز ہے۔ باقی قاریوں نے نون کا فتحہ اور عین کا کسرہ پڑھا ہے یہ سب لغات صحیح ہیں۔
وَاِنْ تُخْفُوْھَا وَتُؤْتُوْھَا الْفُقَرَاۗءَ فَھُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ : اور اگر اہل احتیاج کو تم چھپا کر دو تو یہ فعل سب کے سامنے دینے سے بہتر اور افضل ہے۔ حضرت ابو امامہ ؓ راوی ہیں…
Read the full tafseer →(271) ظاہر کرکے یا چھپا کر صدقہ و خیرات کرنا ان میں سے کون سا طریقہ زیادہ اچھا ہے، اب اللہ تعالیٰ اس کو بیان فرماتے ہیں، اگر صدقہ واجبہ کو ظاہر کرکے ادا کرو تو یہ بھی ٹھیک ہے اور اگر صدقات نفلیہ کو پوشیدہ طریقے پر مثلا اصحاب صفہ کو دے دو تو یہ ظاہر کرنے سے بہتر ہے اور دونوں طریقے اللہ کے ہاں مقبول ہیں اور تمہارے صدقات کو اچھی طرح جانتا ہے۔
اب اللہ تعالیٰ اہل کتاب اور مشرکین پر نفلی صدقات وغیرہ خرچ کرنے کی اجازت دیتا ہے اور سبب یہ ہوا کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ یا بنت ابوالنضر نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا ہمارے لیے اپنے ان قریبی رشتہ داروں کو جنہوں نے ابھی تک اسلام قبول نہیں…
Read the full tafseer →اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ : ”صَدَقَۃٌ“ کا لفظ ”صِدْقٌ“ سے نکلا ہے، یعنی وہ مال جو آدمی صدق دل سے خرچ کرتا ہے، عموماً یہ فقط نفل صدقے پر بولا جاتا ہے لیکن بعض اوقات فرض صدقے پر بھی بولا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ۔۔) [ التوبۃ : 60 ] ”صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافروں میں (خرچ کرنے کے لیے ہیں)۔“
فَنِعِمَّا هِىَ ۚ: یہ اصل میں ”نِعْمَ مَا“ ہے جس میں ”مَا“ بمعنی ”شَیْءٌ“ ہے۔ اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”تو…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 271۔
جمہور مفسرین کا موقف یہ ہے کہ یہ آیت نفلی صدقہ کے بارے میں ہے کیونکہ اس میں اظہار کی نسبت اخفاء افضل ہے اور اسی طرح تمام نفلی عبادات میں اخفا افضل ہوتا ہے کیونکہ اس طرح ریا ان سے دور رہتا ہے اور واجبات میں اس طرح نہیں ہے، حسن نے کہا ہے : زکوۃ میں اظہار احسن ہے اور نفل میں اخفا افضل ہے کیونکہ یہ اس پر زیادہ دلالت کرتا ہے کہ اس سے ارادہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کا کیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ نے نفل میں سری صدقہ کو اعلانیہ صدقہ پر فضیلت دی ہے کہا جاتا ہے کہ وہ ستر گنا ہے اور فرضی صدقہ میں اعلانیہ کو سری پر فضیلت دی گئی ہے، کہا جاتا ہے کہ وہ پچیس گناہ ہے،…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت ” ان تبدوا الصدقت فنعماھی وان تخفوھا وتؤتوھا الفقراء فھو خیرلکیم “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے نفلی صدقہ کو چھپا کردینے میں علانیہ دینے پر ستر گنا فضیلت دی ہے اور فرضی صدقہ (یعنی زکوٰۃ) اعلانیہ دینے والے کو اس کے چھپا کردینے پر پچیس گنا فضیلت دی ہے اور اسی طرح فرائض اور نوافل کا یہی حکم ہے۔
(2) بیہقی نے شعب میں ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چھپ کر عمل کرنا اعلانیہ عمل سے افضل ہے اور یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو آپ کی اقتداء کا ارادہ رکھتا ہو۔
(3) بیہقی نے معاویہ بن قرہ (رح)…
Read the full tafseer →[ اِنْ : اگر ] [تُبْدُوا : تم لوگ ظاہر کرو ] [الصَّدَقٰتِ : صدقات کو ] [فَنِعِمَّا : تو کیا ہی اچھا ہے ] [ہِیَ : وہ ] [وَاِنْ : اور اگر ] [تُخْفُوْہَا : تم لوگ چھپائو اس کو ] [وَتُؤْتُوْہَا : اور پہنچائو اسے ] [الْفُقَرَآئَ : حاجت مندوں کو ] [فَہُوَ : تو وہ (بھی) ] [خَیْرٌ : بہتر ہے ] [لَّــکُمْ : تم لوگوں کے لیے ] [وَیُکَفِّرُ : اور وہ دور کرے گا ] [عَنْکُمْ : تم سے ] [مِّنْ سَیِّاٰتِکُمْ : تمہاری برائیوں کو ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [بِمَا : اس سے جو ] [تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے ہو ] [خَبِیْرٌ : آگاہ ہے ]
خی
خَفِیَ (س) خُفْیَۃً : پوشیدہ ہونا ‘ چھپا ہوا ہونا۔{ وَمَا یَخْفٰی عَلَی اللّٰہِ…
Read the full tafseer →صدقات کو ظاہر کر کے یا پوشیدہ طریقہ پر دینا
اس آیت شریفہ میں صدقات دینے کے بارے میں ایک بہت اہم بات ذکر فرمائی ہے اور وہ صدقات ظاہر کرکے دینے اور چھپا کردینے کے متعلق ہے اول تو یہ سمجھنا چاہئے کہ ریا کاری جس کا نام ہے وہ خواہ مخواہ چپکتی نہیں پھرتی وہ تو نیت اور ارادہ کا نام ہے، جو کوئی شخص نماز پڑھے یا ذکر کرے یا زکوٰۃ دے یا صدقہ نافلہ دے اور اس کی نیت یہ ہو کہ لوگ مجھے نیک سمجھیں، میرا نام ہو، میری شہرت ہو تو یہ ریا کاری ہوگی اور گناہ ہوگا جس سے اعمال اکارت ہوجائیں گے، لیکن اگر کوئی شخص صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے جانی و مالی عبادت کرے چاہے لوگوں کے سامنے ہی ہو اور اس سے نام و نمود شہرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–274
بیان بقیہ آداب صدقات وذکر مصارف خیر۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا انفقوا من طیبت ماکسبتم۔۔ الی۔۔ یحزنون۔
ربط) ۔ اب ان آیات میں ان امور کو بیان فرماتے ہیں کہ جن کی صدقہ اور خیرات میں رعایت ضروری ہے اور بعدازاں یہ بیان فرمائیں گے کہ کن لوگوں کو صدقہ دینا جائز ہے اور صدقہ اور خیرات کے اصل مستحق کون لوگ ہیں چناچہ فرماتے ہیں، اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ جو چیز تم نے اپنی تجارت یا صنعت وحرفت سے کمائی ہے اس میں سے پاکیزہ یعنی حلال اور عمدہ چیز خدا کی راہ میں خرچ کرو اور علی ہذا ہم نے جو چیز تمہارے لیے زمین سے نکالی ہے اس میں سے بھی پاکیزہ اور عمدہ ہی چیز خرچ کرو اور خراب اور گندی چیز کا…
Read the full tafseer →533 صدقات سے یہاں جمہور کے نزدیک نفلی صدقات مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اگر نفلی صدقات علانیہ غریبوں کو دئیے جائیں تو یہ بھی اچھا ہے کیونکہ اس سے دوسروں کے دلوں میں بھی خیرات کا جذبہ بیدار ہوگا اور اگر نفلی صدقات پوشیدہ طور پر مستحقین کو دے دئیے جائیں تو یہ علانیہ دینے سے بہتر ہے کیونکہ اس طرح عمل ریاکاری سے محفوظ رہتا ہے لیکن اعمال مفروضہ مثلاً زکوۃ، صوم رمضان اور فرض نماز کا اظہار بہتر ہے۔ تاکہ ترک فرض کے الزام سے محفوظ رہے۔ والمراد من الصدقات علی ما ذھب الیہ جمھور المفسرین صدقات التطوع (روح ص 44 ج 3) ذھب جمہور المفسرین الی ان ھذہ الایۃ فی صدقۃ التطوع لان الاخفاء فیھا افضل من الاظھار وکذالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 271–272
ربط آیات
اس سے پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں صدقات و خیرات کے متعلق سات اصول بیان کیے ہیں ، جن میں سے چار کا ذکر گزشتہ آیات میں آ چکا ہے۔ آج کے درس میں پانچویں بات کا بیان ہے کہ صدقات و خیرات ظاہری طور پر بھی ادا کیا جاسکتا ہے اور باطنی پوشیدہ طور پر بھی ، تا ہم خفیہ طور پر دنیا زیادہ بہتر ہے۔ اس کے بعد چھٹی بات کا ذکر ہے کہ صدقہ و خیرات غیر مسلم کو بھی دیا جاسکتا ہے۔ ساتویں بات کا ذکر آئندہ درس میں آئے گا ۔
ابدایا اخفا
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ صدقہ خیرات سے متعلق سب سے اہم چیز دینے والے کی نیت ہے اگر خدا نخواستہ نیت میں فتور آ گیا ہے کسی کو احسان جتلانے یا ایذا پہنچانے کے…
Read the full tafseer →اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ہِىَ 0 ۚ وَاِنْ تُخْفُوْھَا وَتُؤْتُوْھَا الْفُقَرَاۗءَ فَھُوَخَيْرٌ لَّكُمْ 0 ۭ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَيِّاٰتِكُمْ 0 ۭ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ 271
بدا
بَدَا الشیء بُدُوّاً وبَدَاءً أي : ظهر ظهورا بيّنا، قال اللہ تعالی: وَبَدا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ ما لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ [ الزمر/ 47]
( ب د و ) بدا
( ن ) الشئ یدوا وبداء کے معنی نمایاں طور پر ظاہر ہوجانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ وَبَدا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ ما لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ [ الزمر/ 47] اور ان کیطرف سے وہ امر ظاہر ہوجائے گا جس کا ان کو خیال بھی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 268–271
ترکیب : الشیطان مبتداء یعدکم الخ جملہ خبر ‘ واللّٰہ مبتداء یعدکم خبر ‘ منہ صفت ہے مغفرۃ کی جو مفعول ثانی ہے یعد کا۔ یوتی الحکمۃ جملہ صفت ہے علیم کی۔ وما انفقتم الخ شرط فان اللّٰہ الخ جواب ان تبدوا شرط فنعماھی جواب کے لیے نعما اصل میں نعم ماتھا باہم ادغام کردیا ہے مبتداء موخر نعم فعل مانکرہ بمعنی شے اس کا فاعل مجموعہ خبر اور یوں بھی ہے کہھی مخصوص بالمدح خبر مبتداء محذوف کی ہو تقدیر الکلام نعم الشیء شیئاھی۔
تفسیر : خیرات و صدقات سے اکثر خیالات فاسدہ منع کیا کرتے ہیں کہ مال جا کر پھر کہاں سے آئے گا۔ تمہارے بال بچے ہیں ٗ آیندہ کیا کیا ضرورتیں پیش آنی ہیں جن کا منشاء انسان کا طبعی بخل ہے۔ شیطان ان…
Read the full tafseer →اِنْ تُبْدُوا الصّٰدَقٰتِ فَنِعِمَّا ہِیَ ج وَاِنْ تُخْفُوْہَا وَ تُؤْتُوْہَا الْفُقَرَآئَ فَھُوَ خَیْرٌلَّـکُمْ ط وَیُکَفِّرُ عَنْـکُمْ مِّنْ سَیِّاٰ تِکُمْ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔
(اگر تم اپنے صدقات ظاہر کر کے دو تو وہ بھی اچھا ہے اور اگر تم انھیں چھپائو اور چپکے سے غریبوں کو دے دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو مٹا دے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو اس کی خبر رکھنے والا ہے) (271)
پوشیدہ اور علانیہ انفاق کے دو طریقے
اس آیت کے اسلوب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں جن صدقات کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ صدقاتِ واجبہ یعنی زکوۃ و عشر وغیرہ نہیں بلکہ صدقاتِ نافلہ ہیں۔…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : صدقہ کے متعلق وضاحت اور اخروی فائدہ۔
نیت خالص ہو تو دوسرے کی خود داری کو مدنظر رکھ کر حالات کے مطابق خفیہ کی بجائے علانیہ صدقہ دیا جاسکتا ہے۔ کچھ اہل علم کا خیال ہے کہ زکوٰۃ اور فرضی صدقات علانیہ طور پر دینا چاہییں تاکہ لوگوں کو ترغیب دی جاسکے۔ عام صدقات خفیہ طور پر دینا زیادہ افضل ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شریعت کا مزاج یہی ہے کیونکہ اکثر اوقات خفیہ طور پر صدقہ کرنے سے دینے اور لینے والوں پر نہایت ہی دور رس اور پاکیزہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جس سے مسکین کی خود داری اور صدقہ کرنے والے کی لِلّٰہیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم یہ بات انسان کی نیت اور مساکین کے حالات پر منحصر ہے…
Read the full tafseer →آیت 271 :
اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّاہِیَ (اور اگر تم صدقات کو ظاہر کرو تو وہ بہت خوب ہے) پس اس کا اظہار بہت خوب ہے۔
نعمّا کا ماؔ نکرہ ہے لیکن نہ موصولہ اور نہ موصوفہ اور مخصوص بالمدح ہِیَ ہے
قراءت : ابوعمرو اور مدنی نے نعِمّا کو نون کے کسرہ اور سکون عین کے ساتھ نِعْمَا۔ مگر ورش نے نِعَمَا پڑھا ہے۔
دوسرے قراء نے نِعَمَّا عین کے فتحہ اور میم کی تشدید کے ساتھ پڑھا۔
وَاِنْ تُخْفُوْہَا وَتُؤْتُوْہَا الْفُقَرَآئَ (اگر تم اس کو چھپائو اور فقراء کو دو ) یعنی تم ان اموال کو اخفاء کے ساتھ مصارف تک پہنچانے والے ہو۔
فَہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ (پس وہ بہت بہتر ہے تمہارے لئے) یعنی اخفاء تمہارے لئے…
Read the full tafseer →271۔ (آیت)” ان تبدوالصدقات “۔ اگر تم ظاہر کرکے صدقہ دو ) یعنی تم ان صدقات کو ظاہر کرو (فنعماھی تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے) تو یہ نعمت خصلت ہے ، مامحل رفع میں اور ” ھی “ محل نصب میں واقع ہے ، جیسا کہ کہا جاتا ہے ” نعم الرجل رجلا ، فاذا عرفت رفعت “۔ اس کے جواب میں کہا جائے ” نعم الرجل زید “ یہ اصل میں اس طرح تھا ” نعم ما وصلت “ اہل مدینہ وغیرہ نے ” نعم “ کو غیر پڑھا ہے ۔ فنعما “ نون کے کسرہ اور عین ساکن کے ساتھ ، ابن عامر ، حمزہ ، کسائی نے نون کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور ابن کثیر ونافع کی روایت کے ساتھ ، یعقوب وحفص نے ان دونوں کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے ، یہ ساری لغات صحیح ہیں اور اسی طرح سورة نساء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–271
(267 ۔ 271) ۔ حاکم ‘ ترمذی ابن ماجہ ابو داؤد اور نسائی میں معتبر سند سے چند صحابیوں کی روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ لوگ صدقہ دینے میں کچھ تو تنگی کرتے تھے اور کچھ بیکار اور بری چیز صدقہ میں دیتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات غنی ہے 1۔ اس کو تمہارے صدقہ اور تمہاری خیرات کی کچھ پرواہ نہیں ہے صرف تمہارے بھلے کے لئے تم کو خیرات کا حکم دیا ہے تاکہ خالص دل سے تم ایک پیسہ یا ایک پیسہ کی چیز خیرات کرو تو جس قدر تمہارا خلوص ہوا اس کی موافق ایک کے بدلے دس سے سات سو تک تم کو دنیا میں اور بیشمار عقبیٰ میں اجر عنایت فرمائے گا اس طرح کی دل سے اتری ہوئی…
Read the full tafseer →آیت 271
(ان تبدوالصدقت) ” اگر تم صدقے خیرات کو ظاہر کرو۔ “ یعنی علانیہ خیرات کرو، جبکہ اس کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہو : (فیعماھی) ” تو وہ بھی اچھا ہے۔ “ کیونکہ اس سے مقصود حاصل ہوجاتا ہے۔ (وان تخفوھا وتوتوھا الفقرآء فھوخیرلکم) ” اور اگر تم اسے پوشید ہمسکینوں کو دے دو ، تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ “ اس میں یہ نکتہ ہے کہ غریب آدمی کو پوشیدہ طور پر صدقہ دینا، ظاہر کر کے دینے سے افضل ہے لیکن جب غریبوں کو صدقات نہ دیے جا رہے ہوں تو اس آیت میں اشارہ ہے کہ اس صورت میں پوشیدہ طور پر صدقہ کرتا ظاہر کرنے سے افضل نہیں۔ یعنی اس کا دار و مدار مصلحت اور فائدے پر ہے۔ اگر اس کے ظاہر کرنے سے ایک دینی حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 269–271
قول باری ہے (ان تبدوا الصدقات فنعماھی وان تخفوھا وتوتوھا الفقراء فھو خیر لکم، (a) اگر اپنے صدقات علانیہ دو تو یہ بھی اچھا ہے لیکن اگر چھپا کر حاجت مندوں کو دو تو یہ بھی اچھا ہے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ آیت نفلی صدقہ کے بارے میں ہے لیکن صدقہ واجبہ کا اظہار افضل ہے تاکہ عدم ادائیگی کے الزام سے دامن بچا رہے۔
حسن بصری، یزید بن ابی حبیب اور قتادہ کا قول ہے کہ تمام صدقات میں اخفا افضل ہے اللہ تعالیٰ نے صدقہ کے اظہار کی اسی طرح تعریف کی ہے جس طرح صدقہ کے اخفاء کی۔
قول باری ہے (الذین ینفقون اموالھم باللیل والنھار سراً وعلانیۃ فلھم اجرھم عند ربھم، (a) جو لوگ اپنا مال رات اور دن میں چھپا کر…
Read the full tafseer →779 ابداء صدقات کی اجازت اور اس کے فوائد : سو اس سے ظاہر فرما دیا گیا کہ صدقات کو ظاہر کرکے دینا بھی جائز ہے کہ اس میں بھی کئی فائدے ہیں کہ تمہارے اس نیک عمل کو دیکھ کر دوسرے تمہاری اتباع کریں گے، تو اس طرح تمہارا یہ عمل " اَلدَّالُ عَلَی الْخَیْر کَفَاعِلِہ " کے ضابطہ عمومی کے مطابق تمہارے لئے دوہرے اور دوگنے اجر وثواب کا ذریعہ بن جائے گا۔ نیز دوسرے لوگ تمہاری اس سخاوت کو دیکھ کر تمہارے لئے دعاء کریں گے، اور دوسری طرف اس سے محتاجوں اور مستحقوں کے دلوں میں بھی تمہارے لئے محبت و اکرام اور خیر خواہی کے جذبات ابھریں گے، اور وہ بھی تمہارے لئے دعا کرینگے کہ اس شخص کی دولت ہم جیسے ضرورت مندوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 270–271
خیرات کیسے کی جائے
تشریح : اس آیت میں نذر کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ نذر یا منت مان لینا ناجائز نہیں کیونکہ یہ کسی نیک کام کے پورا ہونے پر انسان اپنے اوپر واجب کرلیتا ہے۔ یعنی کوئی یہ کہے کہ اللہ میرا فلاں کام پورا کر دے تو میں اتنی رقم خیرات کر دونگا اتنے فقیروں کو کھانا کھلاؤں گا یا اتنے نفل پڑھوں گا یا اتنے روزے رکھوگا تو مقصد پورا ہونے پر اس مانی ہوئی بات کو پورا کرنا واجب اور ضروری ہوجاتا ہے۔ یہاں بھی تاکید اسی بات کی ہے کہ ایک تو نیت خالص اور دوسرے نیک، بھلائی کے اور اچھے کام کے لئے نذر مانی جائے تو ضرور قبول ہوگی اجر بھی ضرور ملے گا لیکن اگر نیت خالص نہ ہو یا ناجائز کام ہو یا ناجائز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–273
آیات 267- 273
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا انفقوا ھن طیبت……………واعلموا ان اللہ غنی حمید۔
اے ایمان والو ! اپنی کمائی سے صاف ستھری چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ اپنی کمائی سے خرچ کرو ، ظاہر ہے کہ کمائی تو حلال ہی ہوگی ورنہ ناجائز ذرائع سے دولت پیدا کرنے کو کسب نہیں کہا جاتا۔ بلکہ ایسے لوگ خود اپنے ناجائز ذرائع کو لوگوں کی نظروں سے بچا کر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ، پھر اس میں سے جو راہ خدا میں دے وہ کھری اور اچھی چیز ہونی چاہیے اگر غلہ یا پھل یا کوئی اور جنس اللہ کی راہ میں دے ، اور اگر حرام مال سے دے گا توہ عنداللہ مقبول ہی نہیں ہوگا۔ کہ ایک حدیث پاک میں ارشاد ہے کہ برے کو…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی صدقہ علا نیہ دینا بھی گو اچھا ہے مگر پوشیدہ طو پر دینا زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے نفلی صدقات مراد ہیں۔ (شوکانی) اس کے بر عکس فرض زکوہ گوپوشیدہ طور پر دینا جائز ہے مگر اس کا اظہار افضل ہے۔ اما طبری لکھتے ہیں کہ اس امت کا اجماع ہے۔ (فتح الباری ج 6 ص 22) متعدد احادیث میں نفلی صدقت کو پوشیدہ طور پر دینے کی فضیلت آئی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ نفلی صدقہ چھپا کردینے والا قیامت کے دن ان سات شخصو میں سے ایک ہوگا جنکو اللہ تعالیٰ اپنے سایہ میں جگہ دے گا جس روز کہ کوئی اور سایہ نہیں ہوگا۔ (بخاری مسلم )
Read the full tafseer →(2:271) ان تبدوا الصدقت۔ جملہ شرطیہ ہے۔ فنعما ہی جواب شرط۔ ان شرطیہ تبدوا مضارع مجزوم جمع مذکر حاضر۔ ابداء (افعال) مصدر (اگر) تم ظاہر کرو۔ الصدقت صدقۃ کی جمع۔ خیراتیں۔ زکوتیں۔ فنعما میںجواب شرط کے لئے ہے نعما ہی وہ کیا ہی اچھا ہے۔ اصل میں نعم ما ہی تھا۔ دونوں میموں میں ادغام ہوگیا اور عین پر جوان نون کی وجہ سے کسرہ آگیا۔ ہی ضمیر واحد مؤنث مراد اظہار الصدقہ ہے۔
وان تخفوھا۔ جملہ شرطیہ۔ ان شرطیہ۔ تخفوا مضارع جمع مذکر حاضر۔ اخفاء (افعال) مصدر۔ ان شرطیہ کے آنے سے نون اعرابی مضارع سے ساقط ہوگیا ۔ ھا ای الصدقۃ ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب۔
وتؤتوھا الفقرا۔ واؤ عاطفہ جملہ کا عطف جملہ ماقبل پر ہے ای…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 271–272
لغات القرآن : آیت نمبر 271 تا 272
تبدوا (تم ظاہر کرتے ہو) ۔ نعما (بہتر ہے) ۔ تخفوا (تم چھپاتے ہو) ۔ تؤتوا (تم دیتے ہو) ۔ یکفر (وہ دور کر دے گا) ۔ سیات (گناہ، خطائیں) ۔ یھدی (ہدایت دیتا ہے) ۔ یوف (پورا کردیا جائے گا) ۔
تشریح : آیت نمبر 271 تا 272
صدقات کی ادائیگی میں بنیادی بات تو یہی ہے کہ اس کو اس انداز سے دیا جائے کہ داہنے ہاتھ سے دینے پر بائیں ہاتھ کو خبر تک نہ ہو۔ لیکن اگر ظاہر کرنے میں دوسروں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دینا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب کہ کسی اجتماعی مہم کے لئے لوگوں کو ابھارنا اور شوق دلانا مقصود ہو تو اس میں یہ دکھاوا اور ریا کاری نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–271
صدقہ کا طریقہ شان نزول : حاکم، ترمذی، ابن ماجہ، ابوداؤد اور نسائی میں معتبر سند سے چند صحابیوں سے روایتیں ہیں۔ جن کا حاصل یہ ہے کہ لوگ صدقہ دینے میں کچھ تو تنگی کرتے تھے اور بیکار بری چیز صدقہ دیتے تھے، ان پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جتلایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات غنی ہے۔ اس کو تمہاری خیرات کی کچھ پروا نہیں ہے۔ صرف تمہارے بھلے کے لئے تم کو خیرات کا حکم دیا ہے تاکہ خالص دل سے تم ایک پیسہ یا ایک پیسہ کی چیز کی خیرات کرو تو جس قدر تمہارا خلوص ہے اس کے موافق ایک کے بدلے دس سے سات سو تک تم کو دنیا میں اور بیشمار عقبیٰ میں اجر عنایت فرماوے۔ اسی طرح دل سے اتری ہوئی ( بےکار) چیزیں اگر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 270–274
[281] نذر اس نفلی مالی یا بدنی عبادت کو کہتے ہیں جو آدمی اپنی کسی مراد کے پورا ہونے پر اپنے اوپر لازم کرے۔ اگر یہ مراد کسی جائز یا حلال امر کے لئے ہو تو اس کا پورا کرنا باعث ثواب ہے ورنہ بصورت دیگر ایسی نذر کا ماننا اور اس کا پورا کرنا دونوں کام گناہ کے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 270–271
(ف 2) ان آیات میں بتایا ہے کہ صدقات کا اظہار واعلان اگر نیک نیتی کے ساتھ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ، اسی طرح اگر اخفاء ریا کے ڈر سے ہو تو بہتر ہے اور یہ کہ اس سے تکفیریات ہوتی رہتی ہے یعنی جب ہم دوسروں کی ضروریات کو پورا کردیتا ہے اور ہمارے گناہوں پر خط عفو کھینچ دیتا ہے ، کتنی بڑی حوصلہ افزائی ہے ۔
حل لغات :
الباب : جمع لب بمعنی عقل ۔
نذر : منت ماننا ۔
تبدوا مصدر ابدآء بمعنی اظہار ۔
Read the full tafseer →ف 2 اگر تم اپنے صدقات ظاہر کر کے دو اور علانیہ خیرات کردو تو بھی یہ اچھی بات ہے اگر ان صدقات کو پوشیدہ رکھو اور پوشیدہ طور پر فقیروں کو پہنچا دو اور فقرا کو دیدو تو یہ چھپا کر فقیروں کو دینا تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے کچھ گناہ تم سے دور کر دے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ تمہارے کئے ہئے سب کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔ (تیسیر)
چونکہ لوگوں کے حالات مختلف ہیں کوئی علانیہ دینے کو پسند کرتا ہے کوئی چاہتا ہے چھپا کر دے حضرت حق تعالیٰ نے دونوں طرح دینے کی اجازت فرما دی اگرچہ اخفا کو ترجیح دی کہ یہ طریقہ ہر اعتبار سے مامون و محفوظ ہے اس میں ریا کا بھی کوئی موقعہ نہیں اور…
Read the full tafseer →ف 6۔ یہ آیت فرض اور نفل صدقات کو شامل ہے اور سب میں اخفاء ہی افضل ہے اور مراد فضیلت اخفاء ہی افضل ہے اور مراد افضلیت اخفاء سے آیت میں افضلیت فی نفسی ہے پس اگر کسی مقام پر کسی عارض سے مثلا رفع تہمت یا امید کو ترجیح ہوجائے تو افضلیت فی نفسہ کے منافی نہیں اور یہ جو کہا کچھ گناہ تو وجہ اس کی یہ ہے کہ ایسے حسنات سے صرف صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →ؕصدقہ و خیرات ظاہر طور پر دو یا چھپا کر ، دونوں طرح جائز ہے :
472: صدقہ و خیرات لوگوں کے سامنے علیٰ الاعلان دینا اور خاموشی کے ساتھ چھپا کردینا دونوں طریقوں سے جائز اور درست ہے۔ اگر رفاہ عامہ کیلئے دینا ہے ، مذہبی و ملکی ضرورتوں میں صرف کرنا ہے تو اعلاناً دینا ہی مفید ہوگا تاکہ دوسروں کی ترغیب و تشویق کا باعث ہو اور اگر فقراء و مساکین کو دینا ہو تو چھپا کردینا مفید ہوگا۔ اصل چیز تو حسن نیت ہے اور اخلاص ہے۔ جب یہ ہے تو چھوٹے سے چھوٹا کام بھی مفید و نافع ہوگا۔
صدقہ و خیرات کے مخفی ادا کرنے کی حقیقت تو ظاہر ہی ہے لیکن زندگی میں ایسے مواقع بھی برابر پیش آتے رہتے ہیں جہاں نیکی کا اعلان و اظہار بھی…
Read the full tafseer →(5) Verse 271: إِن تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ (الی قولہ) وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِير : "If you give the alms openly, it is good enough, ... and Allah is All-Aware of what you do"
Obviously, this verse covers all types of charity, whether obligatory or supererogatory, and it is more preferable to perform all of them as secretly as possible. To observe secrecy in a charitable act has religious merits, because it is far from the possibility of riya' ریاء (show off), and more graceful for the receiver who can feel shy about receiving charity in public. It is also beneficial…
Read the full tafseer →311. If charity is of an obligatory nature it is preferable to dispense it openly. Non-obligatory charity should preferably be dispensed secretly. This principle applies to all acts. As a rule, it is more meritorious to perform obligatory acts openly and non-obligatory acts of goodness, secretly .
312. The performance of good deeds in secret leads to the continual improvement of one's life and character. One's good qualities develop fully and one's bad qualities gradually wither away. This makes a man so acceptable to God that He pardons the sins that he might have committed.
Read the full tafseer →