Al-Baqara 2:270

Al-Baqara · from ayah 270

2:270

وَمَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ ؕ— وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ۟وَمَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ نَّفَقَةٍ اَوۡ نَذَرۡتُمۡ مِّنۡ نَّذۡرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُهٗ ؕ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ

اور تم (خدا کی راہ میں) جس طرح کا خرچ کرو یا کوئی نذر مانو خدا اس کو جانتا ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And whatever you spend of expenditures or make of vows - indeed, Allah knows of it. And for the wrongdoers there are no helpers.

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 37 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:270

تم نے جو کچھ بھی خرچ کیا ہو اور جو نذر بھی مانی ہو، اللہ کو اُس کا علم ہے، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم (خدا کی راہ میں) جس طرح کا خرچ کرو یا کوئی نذر مانو خدا اس کو جانتا ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

تم جتنا کچھ خرچ کرو یعنی خیرات اور جو کچھ نذر مانو اسے اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا ہے، اور ﻇالموں کا کوئی مددگار نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تم جو کوئی خرچ کرو یا کوئی منت مانو اللہ اسے جانتا ہے۔ اور ظالموں کو کسی طرح کے مددگار میسر نہیں آئیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تم جو خرچ کرو یا منت مانو اللہ کو اس کی خبر ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تم جو کچھ بھی خرچ کرو یا تم جو مَنّت بھی مانو تو اﷲ اسے یقینا جانتا ہے، اور ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تم جو بھی خرچ کرو، کوئی خرچ، یا نذر مانو، کوئی نذر تو بیشک اللہ اسے جانتا ہے اور ظالموں کے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو کچھ بھی تم (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو یا کوئی نذر مانو تو اللہ اسے خوب جانتا ہے اور ظالموں (اللہ کے حکم کے خلاف خرچ کرنے والوں) کا کوئی مددگار نہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو گے یا جو کچھ بھی نذر مانو گے تو یاد رکھو کہ اللہ اس سے اچھی طرح واقف ہے اور ان لوگوں کا کوئی بھی مددگار نہ ہوگا جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (یاد رکھو کہ) جو بھی کوئی خرچہ تم لوگ کرتے ہو اور جو بھی کوئی نذر تم مانتے ہو، تو (یقینا اس کا پھل تمہیں ملے گا کہ) بیشک اللہ اس کو پوری طرح جانتا ہے، اور (یاد رکھو کہ) ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو یا جو نذر مانتے ہو یقیناً اللہ (سب کچھ) جانتا ہے اور ناانصافوں کا حامی کوئی بھی نہ ہوگا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو کچھ بھی تم خرچ کرتے ہو (صدقہ و خیرات دیتے ہو) یا جو بھی تم (اللہ کے نام پر) منتّ مانتے ہو تو یقیناً اللہ تعالیٰ اس سب کو جانتا ہے اور (یاد رکھو کہ) ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تم نے جو کچھ بھی خرچ کیا یا جو بھی نذر مانی اللہ کو اس کا علم ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely Allah knows whatever you may have spent and whatever vow you may have made, and the wrong-doers (who spend in the way of Satan) shall have no helpers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Whatever expenditure you spend and whatever vow you make, Allah knows all of it, and for the unjust, there are no supporters.

— Muhammad Taqi Usmani

Whatever expenditure you spend and whatever vow you make, Allah knows all of it, and for the unjust, there are no supporters.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And whatever you spend for spendings (e.g., in Sadaqah) or whatever vow you make, be sure Allah knows it all. And for the wrongdoers there are no helpers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Whatever alms ye spend or vow ye vow, lo! Allah knoweth it. Wrong-doers have no helpers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And whatever you spend of expenditures or make of vows - indeed, Allah knows of it. And for the wrongdoers there are no helpers.

— Saheeh International

God knows all about whatever you spend for His cause or any vows that you make. The unjust people have no helper.

— Muhammad Sarwar

And whatever alms you give or (whatever) vow you vow, surely Allah knows it; and the unjust shall have no helpers.

— Muhammad Habib Shakir

And whatever expense ye expend or whatever VOW ye vow, verily Allah knoweth it: and for the wrong doers there will be no helpers.

— Abdul Majid Daryabadi

And whatever ye spend in charity or devotion, be sure Allah knows it all. But the wrong-doers have no helpers.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:270

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 270–271

نیک اور بد لوگ ظاہر اور درپردہ حقیقت اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ہر ایک خرچ اور نذر کو اور ہر بھلے عمل کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے وہ اپنے نیک بندوں کو جو اس کا حکم بجا لاتے ہیں اس سے ثواب کی امید رکھتے ہیں، اس کے وعدوں کو سچا جانتے ہیں، اس کے فرمان پر ایمان رکھتے ہیں، بہترین بدلہ عطا فرمائے گا اور ان کے خلاف جو لوگ اس کی حکم برداری سے جی چراتے ہیں گناہ کا کام کرتے ہیں، اس کی خبروں کو جھٹلاتے ہیں اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں، یہ ظالم ہیں قیامت کے دن قسم قسم کے سخت بدترین اور المناک عذاب انہیں ہوں گے اور کوئی نہ ہوگا جو انہیں چھڑائے یا ان کی مدد میں اٹھے۔ پھر فرمایا کہ ظاہر کرکے صدقہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 310 خرچ خواہ راہ خدا میں کیا ہو یا راہ شیطان میں، اور نذر خواہ اللہ کے لیے مانی ہو یا غیر اللہ کے لیے، دونوں صورتوں میں آدمی کی نیت اور اس کے فعل سے اللہ خوب واقف ہے۔ جنہوں نے اس کے لیے خرچ کیا ہوگا اور اس کی خاطر نذر مانی ہوگی، وہ اس کا اجر پائیں گے اور جن ظالموں نے شیطانی راہوں میں خرچ کیا ہوگا اور اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کے لیے نذر مانی ہوں گی ان کو خدا کی سزا سے بچانے کے لیے کوئی مددگار نہ ملے گا۔ نذر یہ ہے کہ آدمی اپنی کسی مراد کے بر آنے پر کسی ایسے خرچ یا کسی ایسی خدمت کو اپنے اوپر لازم کرلے، جو اس کے ذمے فرض نہ ہو۔ اگر یہ مراد کسی حلال و جائز امر کی ہو، اور اللہ سے مانگی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ (الیٰ قولہٖ) وَمَا للظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ کسی قسم کے خرچ کرنے میں سب خرچ آگئے وہ بھی جس میں سب شرائط مذکورہ کی رعایت ہو اور وہ بھی بھی جس میں کل کی یا بعض کی رعایت نہ ہو مثلاً فی سبیل اللہ نہ ہو بلکہ معصیت میں ہو یا انفاق میں ریاء شامل ہو یا انفاق کرکے اس پر احسان جتلاناہو، یا حلال یا عمدہ مال نہ ہو، اسی طرح نذر کے عموم میں سب نذریں آگئیں مثلا عبادت مالیہ کی نذر، اور اسی مناسبت سے انفاق کے ساتھ نذر کو لائے ہیں یا عبادت بدنیہ کی نذر ہو پھر وہ مطلق ہو یا کسی امر پر معلق ہو پھر یہ کہ اس کا ایفاء کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو اور مقصود اس کہنے سے یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

نذر کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی منت مانے کہ اگر میری فلاں مراد پوری ہوگئی تو میں فلاں مراد پوری ہوگئی تو میں فلاں عبادت یا ریاضت یا اتنا صدقہ کروں گا۔ اسلام میں میں جیسا کہ احادیث سے واضح ہے، منت ماننے کو مستحسن نہیں قرار دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک قسم کا عہد ہے جو منت ماننے والا اپنے رب سے کر رہا ہے اور عہد چھوٹا ہو یا بڑا اگر خلاف شریعت نہیں تو اس کو پورا کرنا ضروری ہے اس لیے کہ خدا کے ہاں ہر عہد سے متعلق، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، پرسش ہونی ہے۔ ہم سورة مائدہ میں بتائیں گے کہ تمام شریعت اور اور تمام اخلاق کی بنیاد عہد ہی پر ہے اس وجہ سے اسلام نے اس پہلو میں کسی ڈھیل کو گوارا نہیں کیا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

270۔ 1 نَذَرِ کا مطلب ہے میرا فلاں کام ہوگیا یا فلاں مشکل سے نجات مل گئی تو میں اللہ کی راہ میں اتنا صدقہ کرونگا۔ اس نذر کا پورا کرنا ضروری ہے اگر کسی نافرمانی یا ناجائز کام کی نذر مانی ہے تو اس کا پورا کرنا ضروری نہیں نذر بھی نماز روزہ کی طرح عبادت ہے اس لئے اللہ کے سوا کسی اور کے نام کی نذر ماننا اس کی عبادت کرنا شرک ہے۔ جیسا کہ آج کل مشہور قبروں پر نذر ونیاز کا یہ سلسلہ عام ہے اللہ تعالیٰ اس شرک سے بچائے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 266–271

181: صدقات کو برباد کرنے کی یہ دوسری مثال ہے۔ جس طرح ایک آگ سے بھرا بگولا ہرے بھرے باغ کو یکایک تباہ کر ڈالتا ہے، اسی طرح ریاکاری یا صدقہ دے کر احسان جتلانا یا کسی اور طرح غریب آدمی کو ستانا صدقے کے عظیم ثواب کو برباد کر ڈالتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

انسان اپنی دولت میں سے جو کچھ خرچ کرتا ہے ، اس پر صدقہ کا اطلاق ہوتا ہے ۔ زکوٰۃ خیرات وصدقات اور جہاد فی سبیل اللہ کے لئے دیاجانے والا مال سب صدقات کے ضمن میں آتے ہیں ۔ نذر بھی انفاق فی سبیل اللہ کی ایک قسم ہے ۔ صرف فرق یہ ہوتا ہے کہ انفاق کرنے والا ایک معلوم چیز کو اپنے اوپر لازم کردیتا ہے ۔ اللہ کے سوا کسی کے لئے ، کسی کی راہ میں ، کسی کی وجہ سے ، کسی قسم کی نذر ونیاز دینا منع ہے ۔ اللہ کے سوا ، اس کے بندوں میں کسی کی نذر ماننا ایک گونا شرک ہے ۔ جس طرح مشرکین اپنے الٰہوں اور بتوں کے استہانوں پر مختلف جانور ذبح کرتے تھے اور یہ کام جاہلیت کے مختلف ادوار میں ہوتا رہتا ہے۔ وَمَا أَنْفَقْتُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی جو کچھ خیرات کی جائے تھوڑی یا بہت بھلی نیت سے یا بری نیت سے چھپا کر یا لوگوں کو دکھا کر یا منت مانی جائے کسی طرح کی تو بیشک خدا تعالیٰ کو پورا علم ہے سب کا اور جو لوگ انفاق مال اور نذر میں حکم الہٰی کے خلاف کرتے ہیں ان کا کوئی مددگار نہیں اللہ جو چاہے ان پر عذاب کرے منت قبول کرنے سے واجب ہوجاتی ہے اب اگر ادا نہ کی تو گنہگار ہوگا اور نذر اللہ کے سوا کسی کی جائز نہیں مگر یہ کہے کہ اللہ کے واسطے فلانے شخص کو دونگا یا اس نذر کا ثواب فلاں کو پہنچے تو کچھ مضائقہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 269–270

آیت 269 یُّؤْتِی الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَآءُ ج۔ یہ حکمت کی باتیں ہیں ‘ جن کا سمجھنا ہر کس و ناکس کے لیے ممکن نہیں۔ ایک چیزوں کا ظاہر ہے اور ایک باطن ہے ‘ جو حکمت سے نظر آتا ہے۔ ظاہر تو سب کو نظر آ رہا ہے ‘ لیکن کسی شے کی حقیقت کیا ہے ‘ یہ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے : ؂ اے اہل نظر ! ذوق نظر خوب ہے لیکن جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا ؟ جس کسی پر یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے وہ حکیم ہے۔ اور حکمت اصل میں انسان کی عقل اور شعور کی پختگی کا نام ہے۔ استحکام اسی حکمت سے ہی بنا ہے۔ اللہ تعالیٰ عقل و فہم اور شعور کی یہ پختگی اور حقائق تک پہنچ جانے کی صلاحیت جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ وَمَنْ یُّؤْتَ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

386 نذر یہ ہے کہ آدمی اپنی کسی مراد کے بر آنے پر کوئی ایسا نیک کام یا صدقہ کرنے کا اللہ سے عہد کرے جو اس کے ذمے فرض نہ ہو۔ اگر یہ مراد کسی حلال اور جائز کام کے لیے ہو اور اللہ سے ہی مانگی گئی ہو اور اس کے بر آنے پر جو عمل کرنے کا عہد آدمی نے کیا ہے وہ اللہ ہی کے لیے ہو تو ایسی نذر کا پورا کرنا درست اور باعث اجر وثواب ہے اگر یہ نذر کسی ناجائز کام یا غیر اللہ کے لیے ہو تو ایسی نذر کا ماننا بھی کار معصیت اور اس کا پورا کرنا بھی موجب عذاب ہے۔ ایسی نذر اگر کوئی مان چکا ہو تو اس کے عوض استغفار کرنا چاہیے اور وہ کام نہ کرنا چاہیے، علاوہ ازیں نذر ماننا شرعی نکتہ نگاہ سے کوئی اچھا کام نہیں۔ چناچہ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1050 ۔ (یوم جزا میں) (آیت) ماانفقتم “۔ جو کچھ خرچ کرتے ہو، اچھے برے کسی مصرف میں (آیت) ” من نذر “۔ نذر وہ چیز ہے جسے عوامی اردو میں منت ماننا کہتے ہیں۔ فقہ میں اس کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ وہ کسی مراد کے پورے ہونے پر اپنے اوپر کوئی ایسی چیز لازم کرلینا ہے جو واجب نہ تھی۔ النذر عقد، ترتب علی شیء والتزامہ علی وجہ مخصوص (روح) النذر ما یلتزمہ الانسان بایجابہ علی نفسہ (کبیر) یہ نذر عبادت بدنی کی صورت میں بھی ہوسکتی ہے مثلا نماز یا روزہ اور عبادت مالی کی صورت میں بھی۔ (آیت) ” یعلمہ “۔ یعنی اس کا علم رکھتا ہے کہ وہ کس نیت سے اور کس کی راہ میں مانی گئی ہے اور اس علم کامل کے مطابق جزاوسزا بھی ہوگی۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 269–270

” حکمت “ کے معنی اور تفسیر : یُؤْتِی الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَآءُ ، حکمت سے مراد صحیح بصیرت اور صحیح قوت فیصلہ ہے یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ جس شخص کے پاس حکمت کی دولت ہوگی وہ ہرگز شیطان کی بتائی ہوئی راہ پر نہ چلے گا، بلکہ اس کشادہ راہ کو اختیار کرے گا جو اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے، شیطان کے تنگ نظر مریدوں میں یہ بڑی ہوشیاری اور علمندی ہے کہ آدمی اپنی دولت کو سنبھال کر رکھے اور ہر وقت کمائی کی فکر میں لگا رہے لیکن جن کو اللہ کی جانب سے نور نصیرت کی دولت ملی ہے ان کی نظر میں یہ عین بےوقوفی ہے، حکمت اور دانائی ان کے نزدک یہ ہے کہ آدمی جو کچھ کمائے اس سے اپنی متوسط ضروریات پوری کرنے کے بعد باقی کو دل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ : اور تم جو کچھ خرچ کرتے ہو کسی طرح کا خرچ ہو تھوڑا ہو یا بہت سب کے سامنے ہو یا چھپا کر حق راستہ میں ہو یا باطل راستہ میں۔ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ ( اور جو اللہ کی نذر مانتے ہو یعنی اللہ کی فرمانبرداری کا جو کام ( عبادت ہو یا مالی صرف) تم اپنے اوپرواجب کرلیتے ہو خواہ نذر کسی شرط کے ساتھ مشروط ہو ( جیسے اللہ اگر میرا یہ کام کردے گا تو میں دس روزے رکھوں گا یا دس مسکینوں کو کھانا کھلاؤں گا) یا بلاشرط ہو۔ فَاِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُهٗ (بلاشبہ اللہ اس کو جانتا ہے) تم کو اس کا بدلہ دے گا۔ وَمَا للظّٰلِمِيْنَ لیکن جو لوگ بےجا حرکتیں کرنے والے ہیں راہ خدا میں خرچ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(270) اور جو تم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو اور اطاعت خداوندی کے دائرہ میں منت مان کر اس کو پورا کرتے ہو جب کہ نیت خالص ہو تو اللہ تعالیٰ اسے قبول کرتے ہیں اور اس پر ثواب دیتے ہیں اور مشرکین سے عذاب خداوندی کو کوئی چیز نہیں ٹال سکتی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ۔۔ : نذر کا معنی ہے، اپنے آپ پر وہ چیز فرض کرلینا جو فرض نہیں تھی، مثلاً کوئی نفل نماز یا نفل روزہ یا صدقہ یا نفل حج وغیرہ۔ اس کی دو قسمیں ہیں : ایک نذر مطلق اور دوسری نذر معلق۔ نذر مطلق یہ ہے کہ کوئی شرط لگائے بغیر صرف اللہ کی رضا کے لیے اپنے آپ پر کوئی نیکی لازم کرلے، مثلاً یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لیے ہمیشہ یا اتنے دن تہجد پڑھوں گا، یا عمرہ کروں گا۔ یہ نذر اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے اور اسے پورا کرنا ضروری ہے۔ نذر معلق یہ ہے کہ کسی شرط کے ساتھ نذر مانے کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو میں فلاں نیکی کروں گا، مثلاً…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 270۔ یہ شرط اور جواب شرط ہے، عربوں کے رواج میں منتیں کثرت سے مانی جاتی تھیں، پس اللہ تعالیٰ نے دو قسمیں بیان کی ہیں، ایک وہ جو آدمی بطور نفل اور تبرع فعل کرتا ہے اور ایک وہ جو آدمی اپنے لئے اسے لازم کرنے کے بعد وہ فعل کرتا ہے، اور آیت میں وعدہ اور وعید کا معنی موجود ہے، یعنی وہ آدمی جس کی نیت میں اخلاص ہوا اسے ثواب دیا جائے گا اور جس نے ریا کاری یا کسی اور معنی مثلا احسان جتلانے اور دکھ پہنچانے کے لئے خرچ کیا تو وہ ظالم ہوگا۔ اس کا علم باطل ہوجائے گا اور وہ اپنے لئے اس میں کوئی معاون و مددگار نہیں پائے گا اور ” یعلمہ “ کا معنی ہے وہ اسے شمار کرتا ہے اور سمجھتا ہے، یہ مجاہد نے کہا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” وما انفقتم من نفقۃ او نذرتم من نذر فان اللہ یعملہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ یعلمہ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ اس کو شمار کرتا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ کثرت عطیہ کا واقعہ (2) عبد الرزاق اور بخاری نے ابن شہاب کے طریق سے عوف بن حرث بن طفیل (رح) سے روایت کیا جو حضرت عائشہ ؓ کے ماں شریک بھتیجے تھے کہ حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ عبد اللہ بن زبیر ؓ نے اس عطیہ کے بارے میں فرمایا جو حضرت عائشہ ؓ نے عطا کیا تھا کہ اللہ قسم ! حضرت عائشہ (اس سخاوت سے) باز آجائیں یا میں ان پر پابندیاں لگادوں گا (یہ بات جب ان کو پہنچی) تو انہوں نے پوچھا کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَآ : اور جو ] [اَنْفَقْتُمْ : تم لوگ خرچ کرتے ہو ] [مِّنْ نَّـفَقَۃٍ : کسی قسم کا خرچہ ] [اَوْ نَذَرْتُمْ : یا منت مانتے ہو ] [مِّنْ نَّذْرٍ : کسی قسم کی منت ] [فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [یَعْلَمُہٗ : جانتا ہے اس کو ] [وَمَا : اور نہیں ہیں ] [لِلظّٰلِمِیْنَ : ظلم کرنے والوں کے لیے ] [مِنْ اَنصَارٍ : کسی قسم کے مددگار ] ترکیب : ” وَمَا اَنْفَقْتُمْ “ میں ” مَا “ موصولہ ‘ شرطیہ ہے۔ ” اَنْفَقْتُمْ “ سے ” مِنْ نَذْرٍ “ تک شرط ہے۔ اس میں افعالِ ماضی استعمال ہوئے ہیں ‘ اس لیے ان پر مجزوم ہونے کا عمل ظاہر نہیں ہوا اور وہ محلاً مجزوم ہیں۔ ” فَاِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُہٗ “ پورا جملہ جوابِ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

جو کچھ خرچ کرو گے یا نذر مانو گے اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی فضیلت اور ریا اور من و اذیٰ سے بچنے کی تاکید اور مال طیب خرچ کرنے کا حکم فرمانے اور شیطان کے وسوسوں پر عمل نہ کرنے اور خدائی وعدوں کے مطابق اعمال کے ثواب کی امید رکھنے کا حکم دینے کے بعد اب اجمالی طور پر یہ فرمایا ہے کہ تم جو بھی کوئی خرچہ کم یا زیادہ دکھا کر یا پوشیدہ طور پر خرچ کرو گے یا کوئی نذر مانو گے تو اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے وہ نیت اور عمل سب کو جانتا ہے اسی کے مطابق وہ جزا دے گا۔ یہ ایک اعتبار سے گزشتہ مضامین کی تاکید ہے، نفقہ کے ساتھ نذر کا ذکر بھی فرمایا ہے کوئی شخص اگر نذر مان لے بشرطیکہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 267–274

بیان بقیہ آداب صدقات وذکر مصارف خیر۔ قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا انفقوا من طیبت ماکسبتم۔۔ الی۔۔ یحزنون۔ ربط) ۔ اب ان آیات میں ان امور کو بیان فرماتے ہیں کہ جن کی صدقہ اور خیرات میں رعایت ضروری ہے اور بعدازاں یہ بیان فرمائیں گے کہ کن لوگوں کو صدقہ دینا جائز ہے اور صدقہ اور خیرات کے اصل مستحق کون لوگ ہیں چناچہ فرماتے ہیں، اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ جو چیز تم نے اپنی تجارت یا صنعت وحرفت سے کمائی ہے اس میں سے پاکیزہ یعنی حلال اور عمدہ چیز خدا کی راہ میں خرچ کرو اور علی ہذا ہم نے جو چیز تمہارے لیے زمین سے نکالی ہے اس میں سے بھی پاکیزہ اور عمدہ ہی چیز خرچ کرو اور خراب اور گندی چیز کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

531 تم جو صدقہ کرتے ہو خواہ فرضی ہو خواہ نفلی۔ اللہ کی راہ میں یا شیطان کی راہ میں تھوڑا ہو یا زیادہ۔ اسی طرح تم جو نذریں مانتے ہو۔ خواہ وہ اللہ کی تعظیم ورضا کے لیے ہوں خواہ غیر اللہ کی تعظیم اور خوشنودی کیلئے۔ اللہ ان سے بیخبر نہیں سب کو جانتا ہے اور ہر ایک پر اس کے مطابق جزا دے گا۔ وما انفقتم من نفقة فی سبیل اللہ او فی سبیل الشیطان او نذرتم من نذر فی طاعة اللہ او فی معصیة فان اللہ یعلمہ لا یخفی علیہ وھو مجازیکم علیہ (مدارک ص 106 ج 1) حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ نذر کے دو معنی آتے ہیں ایک معنی مشہور جس کا صلہ علی آتا ہے۔ دوسرا معنی عہد وپیمار کرنا جس کا صلہ الی ہوتا ہے یہاں معنی ثانی مراد…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 269–270

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے صدقہ و خیرات کی قبولیت سے متعلق چار شرائط کا ذکر فرمایا ہے جن میں خیرات دیکر احسان نہ جتلانا ، ایذا نہ پہنچانا ، ریا کاری سے اجتناب اور پاکیزگی مال شامل ہیں ۔ باقی شرائط کا ذکر اگلے دروس میں آئے گا ۔ یہاں درمیان میں اللہ تعالیٰ نے حکمت کی تشریح بیان کی ہے اور اسے خیر کثیر سے تعبیر کیا ہے۔ اس میں نذر ماننے کے متعلق بیان بھی ہے کہ یہ کس حد تک جائز ہے۔ حکمت کا مفہوم ارشاد ربانی ہے ۔ یوتی الحکمۃ من یشاء اللہ تعالیٰ جسے چاہے حکمت عطا کرتا ہے ، حکمت کا مادہ احکام سے نکلا ہے ، جو پختگی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ، لہٰذا حکمت سے مراد وہ چیز ہے جو پختہ ہو اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَۃٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللہَ يَعْلَمُہٗ۝ 0 وَمَا لِلظّٰلِـمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ۝ 270 نفق نَفَقَ الشَّيْءُ : مَضَى ونَفِدَ ، يَنْفُقُ ، إِمَّا بالبیع نحو : نَفَقَ البَيْعُ نَفَاقاً ، ومنه : نَفَاقُ الأَيِّم، ونَفَقَ القَوْمُ : إذا نَفَقَ سُوقُهُمْ ، وإمّا بالمَوْتِ نحو : نَفَقَتِ الدَّابَّةُ نُفُوقاً ، وإمّا بالفَنَاءِ نحو : نَفِقَتِ الدَّرَاهِمُ تُنْفَقُ وأَنْفَقْتُهَا . والإِنْفَاقُ قد يكون في المَالِ ، وفي غَيْرِهِ ، وقد يكون واجباً وتطوُّعاً ، قال تعالی: وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ البقرة/ 195] ، وأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْناكُمْ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 268–271

ترکیب : الشیطان مبتداء یعدکم الخ جملہ خبر ‘ واللّٰہ مبتداء یعدکم خبر ‘ منہ صفت ہے مغفرۃ کی جو مفعول ثانی ہے یعد کا۔ یوتی الحکمۃ جملہ صفت ہے علیم کی۔ وما انفقتم الخ شرط فان اللّٰہ الخ جواب ان تبدوا شرط فنعماھی جواب کے لیے نعما اصل میں نعم ماتھا باہم ادغام کردیا ہے مبتداء موخر نعم فعل مانکرہ بمعنی شے اس کا فاعل مجموعہ خبر اور یوں بھی ہے کہھی مخصوص بالمدح خبر مبتداء محذوف کی ہو تقدیر الکلام نعم الشیء شیئاھی۔ تفسیر : خیرات و صدقات سے اکثر خیالات فاسدہ منع کیا کرتے ہیں کہ مال جا کر پھر کہاں سے آئے گا۔ تمہارے بال بچے ہیں ٗ آیندہ کیا کیا ضرورتیں پیش آنی ہیں جن کا منشاء انسان کا طبعی بخل ہے۔ شیطان ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 268–270

اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَاْمُرُکُمْ بِالْفَحْشَآئِ ط وَاللّٰہُ یَعِدُکُمْ مَّغْفِرَۃً مِّنْہُ وَ فَضْلًا ط وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔ لا صلے یُّؤْتِی الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَآئُ ج وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا ط وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّآ اُولُوالْاَلْبَابِ ۔ (شیطان تمہیں تنگدستی سے ڈراتا ہے اور تمہیں بےحیائی کا حکم دیتا ہے اور اللہ تم سے اپنی طرف سے مغفرت اور فضل کا وعدہ فرماتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا اور بڑا علم رکھنے والا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا فرماتا ہے۔ اور جسے حکمت عطا کی گئی یقینا اسے خیر کثیر دے دی گئی۔ اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر عقل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ مضمون سے پیوستہ۔ ایسا کام جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کسی آدمی نے خود اپنے آپ پر لازم قرار دے لیا ہو اسے منّت یا نذر سے تعبیر کیا گیا ہے اس کا کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ غیر اللہ کے نام کی نذر ماننا شرک ہے جس کی ہرگز اجازت نہیں۔ نذر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ہونی چاہیے یہ جسمانی عبادت بھی ہوسکتی ہے اور صدقہ بھی۔ اگر کسی نے غلطی یا بےعلمی سے کوئی غیر شرعی کام کرنے کی نذر مانی ہو تو اسے پورا نہیں کرنا چاہیے۔ اگر نذر مانتے وقت قسم اٹھائی ہو تو غلط کام پر اٹھائی ہوئی قسم کا کفارہ دینا چاہیے جس کی تفصیل دیکھنے کے لیے سورة المائدۃ آیت 89 کی تلاوت کیجیے۔ نذر ماننے کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 270 : وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَۃٍ (جو تم خرچ کرتے ہو کسی طرح کا خرچ) یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں یا شیطان کی راہ میں۔ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ (یا تم نذر مانتے ہو) یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی خاطر یا معصیت کی خاطر۔ فَاِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُہٗ (پس اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہیں) یعنی اس پر کچھ بھی مخفی نہیں اور وہ اس پر تمہیں بدلہ دے گا۔ ظالم سے مراد کون ؟ وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ (اور ظالموں کا نہیں) ظالم سے مراد وہ لوگ ہیں جو صدقات سے باز رہتے ہیں۔ یا اپنے مال گناہوں کے راستہ میں خرچ کرتے ہیں۔ یا گناہوں کی نذر مانتے ہیں۔ یا نذر مان کر پوری نہیں کرتے۔ مِنْ اَنْصَارٍ (کوئی مددگار)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 270۔: (آیت)” وما انفقتم من نفقۃ “۔ (اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو کسی طرح کا خرچ ہو) جو تمہارے اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض کیا گیا ہے (آیت)” اونذرتم من نذر “ یا تم کسی طرح نذر مانتے ہو ۔ جو تم اپنے اوپر واجب کرتے ہو ، اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اس کو پورا کرو ( (آیت)” فان اللہ یعلمہ “۔ بیشک اللہ اس کو جانتا ہے) اللہ کے ہاں وہ محفوظ ہے یہاں تک کہ تم اس کو ادا کر دو اور کہ گیا ” یعلمہ “ یعلمھا “ نہیں کہا کیونکہ نذر والا مال ایک انسان دوسرے کی طرف لوٹاتا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” ومن یکسب خطیئہ اواثما ثم یرم بہ بریئا “۔ اگر تو چاہے تو اس کا بوجھ اپنے اوپر لے لے ، اس کا قول…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 267–271

(267 ۔ 271) ۔ حاکم ‘ ترمذی ابن ماجہ ابو داؤد اور نسائی میں معتبر سند سے چند صحابیوں کی روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ لوگ صدقہ دینے میں کچھ تو تنگی کرتے تھے اور کچھ بیکار اور بری چیز صدقہ میں دیتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات غنی ہے 1۔ اس کو تمہارے صدقہ اور تمہاری خیرات کی کچھ پرواہ نہیں ہے صرف تمہارے بھلے کے لئے تم کو خیرات کا حکم دیا ہے تاکہ خالص دل سے تم ایک پیسہ یا ایک پیسہ کی چیز خیرات کرو تو جس قدر تمہارا خلوص ہوا اس کی موافق ایک کے بدلے دس سے سات سو تک تم کو دنیا میں اور بیشمار عقبیٰ میں اجر عنایت فرمائے گا اس طرح کی دل سے اتری ہوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 270 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس خرچ کا اللہ نے حکم دیا ہے وہ واجب ہو یا مستحب، کم ہو یا زیاد، ہر خرچ کا ثواب ملتا ہے۔ نذر اسے کہتے ہیں جسے کوئی مکلف انسان خود اپنے ذمے لے لے اور اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے کیونکہ اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ یہ عمل خلوص سے کیا گیا ہے یا کسی اور نیت سے۔ اگر صرف اللہ کی رضا کے لئے اخلاص کے ساتھ کیا گیا ہے تو اللہ اس کی جزا کے طور پر عظیم فضل اور کثیر ثواب عطا فرماتا ہے۔ اگر بندہ واجب اخراجات نہ کرے، یا مانی ہوئی نذر پوری نہ کرے۔ یا یہ عمل مخلوق کی خوشنودی کے لئے کرے تو وہ ظالم بن جاتا ہے کیونکہ اس نے ایک چیز کو غلط مقام پر رکھ دیا ہے۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 269–271

قول باری ہے (ان تبدوا الصدقات فنعماھی وان تخفوھا وتوتوھا الفقراء فھو خیر لکم، (a) اگر اپنے صدقات علانیہ دو تو یہ بھی اچھا ہے لیکن اگر چھپا کر حاجت مندوں کو دو تو یہ بھی اچھا ہے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ آیت نفلی صدقہ کے بارے میں ہے لیکن صدقہ واجبہ کا اظہار افضل ہے تاکہ عدم ادائیگی کے الزام سے دامن بچا رہے۔ حسن بصری، یزید بن ابی حبیب اور قتادہ کا قول ہے کہ تمام صدقات میں اخفا افضل ہے اللہ تعالیٰ نے صدقہ کے اظہار کی اسی طرح تعریف کی ہے جس طرح صدقہ کے اخفاء کی۔ قول باری ہے (الذین ینفقون اموالھم باللیل والنھار سراً وعلانیۃ فلھم اجرھم عند ربھم، (a) جو لوگ اپنا مال رات اور دن میں چھپا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

778 ظالموں کیلئے کوئی مددگار نہیں : کہ انہوں نے اپنے اختیار کردہ ظلم کے باعث خود کو ایسے اعوان و انصار اور مددگاروں سے محروم کردیا، جو ان کو مشکل وقت میں کام آسکتے اور وہ ان کو اللہ کی طرف سے مل سکتے تھے، اور جو مددگار ان لوگوں نے از خود گھڑ رکھے تھے، وہ سب فرضی وہمی اور بےبنیاد تھے۔ پس جس طرح حکمت کا مقتضی ہر چیز کو اس کے صحیح موقع و محل میں رکھنا ہے، اسی طرح ظلم کا مفہوم اس کے بالکل برعکس اس کو بےموقع صرف کرنا، اور غلط جگہ رکھنا ہے۔ پس ان کیلئے کوئی ایسا مددگار نہیں ہوگا جو ان کو قیامت کے اس ہولناک عذاب سے بچا سکے اور ان کے کچھ کام آسکے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ظالم لوگ ظلم کے ارتکاب سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 270–271

خیرات کیسے کی جائے تشریح : اس آیت میں نذر کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ نذر یا منت مان لینا ناجائز نہیں کیونکہ یہ کسی نیک کام کے پورا ہونے پر انسان اپنے اوپر واجب کرلیتا ہے۔ یعنی کوئی یہ کہے کہ اللہ میرا فلاں کام پورا کر دے تو میں اتنی رقم خیرات کر دونگا اتنے فقیروں کو کھانا کھلاؤں گا یا اتنے نفل پڑھوں گا یا اتنے روزے رکھوگا تو مقصد پورا ہونے پر اس مانی ہوئی بات کو پورا کرنا واجب اور ضروری ہوجاتا ہے۔ یہاں بھی تاکید اسی بات کی ہے کہ ایک تو نیت خالص اور دوسرے نیک، بھلائی کے اور اچھے کام کے لئے نذر مانی جائے تو ضرور قبول ہوگی اجر بھی ضرور ملے گا لیکن اگر نیت خالص نہ ہو یا ناجائز کام ہو یا ناجائز…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 267–273

آیات 267- 273 اسرارو معارف یایھا الذین امنوا انفقوا ھن طیبت……………واعلموا ان اللہ غنی حمید۔ اے ایمان والو ! اپنی کمائی سے صاف ستھری چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اپنی کمائی سے خرچ کرو ، ظاہر ہے کہ کمائی تو حلال ہی ہوگی ورنہ ناجائز ذرائع سے دولت پیدا کرنے کو کسب نہیں کہا جاتا۔ بلکہ ایسے لوگ خود اپنے ناجائز ذرائع کو لوگوں کی نظروں سے بچا کر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ، پھر اس میں سے جو راہ خدا میں دے وہ کھری اور اچھی چیز ہونی چاہیے اگر غلہ یا پھل یا کوئی اور جنس اللہ کی راہ میں دے ، اور اگر حرام مال سے دے گا توہ عنداللہ مقبول ہی نہیں ہوگا۔ کہ ایک حدیث پاک میں ارشاد ہے کہ برے کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی اللہ تعالیٰ ہرحال میں تمہاری نیت اور عمل سے واقف ہے۔ اس میں ایک طرف مخلصین کے لیے وعدہ ہے اور دوسری طرف ریاکار اور غیر اللہ کی نذریں ماننے والوں کے لیے وعید بھی ہے کہ ایسے لوگ ظالم ہیں اور انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کسی صورت رہائی نہیں ہوسکے گی۔ نذر یہ ہے کہ انسان اپنی مراد کے پوراہو جانے کی صورت میں اپنے اوپر کسی ایسے نفقہ یا کام کو لازم قرار دے لے جو اس پر لازم نہ ہو۔ (کبیر) پھر اگر یہ مراد جائز کام کی ہو اور اللہ تعالیٰ سے مانگی گئی ہو اور جس کام یا خرچ کی نذر مانی گئی ہے وہ بھی جائز ہو تو ایسی نذر کا پوراکر نا بھی واجب ہے ورنہ اس کا ماننا ارپورا کرنا لازم نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:270) وما انفقتم ۔۔ من نذر جملہ شرطیہ ہے فان اللہ یعلم جواب شرط۔ ما انفقتم میں ما موصولہ ہے انفقتم۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ انفاق (افعال) مصدر۔ جو کچھ تم نے خرچ کیا۔ نفقۃ اسم مجرور۔ خرچ۔ یعنی صدقہ، خیرات، زکوۃ۔ نذرتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ نذر (باب ضرب) تم نے منت مانی۔ النذر کے معنی کسی حادثہ کی وجہ سے غیر واجب چیز کو اپنے اوپر واجب کرلینے کے ہیں (راغب) ۔ نذر کسی ایسی عبادت کو اپنے اوپر لازم کرلینے کو کہتے ہیں کہ اگر وہ عبادت یہ خود اپنے اوپر واجب نہ کرے تو وہ عبادت اس پر لازم نہیں ہوتی۔ (قرطبی) مطلب یہ کہ تم خدا کی راہ میں جس طرح کا خرچ کرو یا نذر مانو۔ اللہ تعالیٰ یقینا اسے جانتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 267–270

لغات القرآن : آیت نمبر 267 تا 270 طیبت (طیبۃ، پاکیزہ) لا تیمموا (تم نیت نہ کرو، تم نہ چھانٹو) ۔ الخبیث (گندی چیز) ۔ لستم (تم نہ ہوں) ۔ باخذیہ (اس کو لینے والے (ب، اخذین ، ہ) ۔ ان تغمضوا (یہ کہ تم آنکھیں بند کرلو) ۔ یعد (وعدہ کرتا ہے) ۔ الفقر (تنگی، محتاجی) ۔ الحکمۃ (عقل و دانائی اور سمجھ کی بات) ۔ یؤت (دیا گیا) ۔ نذرتم (تم نے منت مانی) ۔ انصار (مددگار) ۔ تشریح : آیت نمبر 267 تا 270 ان آیتوں کو سمجھنے سے پہلے خراج اور عشر کو سمجھ لینا چاہئے۔ کیونکہ پہلی ہی آیت میں زمین سے پیداوار پر اس میں سے خرچ کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے ۔ غیر مسلموں کی زمین سے پیدا وار پر جو حصہ لیا جاتا ہے اس کو خراج کہتے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 267–271

صدقہ کا طریقہ شان نزول : حاکم، ترمذی، ابن ماجہ، ابوداؤد اور نسائی میں معتبر سند سے چند صحابیوں سے روایتیں ہیں۔ جن کا حاصل یہ ہے کہ لوگ صدقہ دینے میں کچھ تو تنگی کرتے تھے اور بیکار بری چیز صدقہ دیتے تھے، ان پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جتلایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات غنی ہے۔ اس کو تمہاری خیرات کی کچھ پروا نہیں ہے۔ صرف تمہارے بھلے کے لئے تم کو خیرات کا حکم دیا ہے تاکہ خالص دل سے تم ایک پیسہ یا ایک پیسہ کی چیز کی خیرات کرو تو جس قدر تمہارا خلوص ہے اس کے موافق ایک کے بدلے دس سے سات سو تک تم کو دنیا میں اور بیشمار عقبیٰ میں اجر عنایت فرماوے۔ اسی طرح دل سے اتری ہوئی ( بےکار) چیزیں اگر کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 270–274

[281] نذر اس نفلی مالی یا بدنی عبادت کو کہتے ہیں جو آدمی اپنی کسی مراد کے پورا ہونے پر اپنے اوپر لازم کرے۔ اگر یہ مراد کسی جائز یا حلال امر کے لئے ہو تو اس کا پورا کرنا باعث ثواب ہے ورنہ بصورت دیگر ایسی نذر کا ماننا اور اس کا پورا کرنا دونوں کام گناہ کے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 270–271

(ف 2) ان آیات میں بتایا ہے کہ صدقات کا اظہار واعلان اگر نیک نیتی کے ساتھ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ، اسی طرح اگر اخفاء ریا کے ڈر سے ہو تو بہتر ہے اور یہ کہ اس سے تکفیریات ہوتی رہتی ہے یعنی جب ہم دوسروں کی ضروریات کو پورا کردیتا ہے اور ہمارے گناہوں پر خط عفو کھینچ دیتا ہے ، کتنی بڑی حوصلہ افزائی ہے ۔ حل لغات : الباب : جمع لب بمعنی عقل ۔ نذر : منت ماننا ۔ تبدوا مصدر ابدآء بمعنی اظہار ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1 اور تم لوگ جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو اور جس قدر خرچ کرتے ہو اور جس طرح بھی خرچ کرتے ہو اور جہاں کہیں خرچ کرتے ہو یا تم کسی قسم کی نذر اور منت مانتے ہو سو اللہ تعالیٰ اس سب کو جانتا ہے اور بےجا کام کرنے والوں کا کوئی مددگار اور ساتھی اور حمایتی نہ ہوگا۔ (تیسیر) نذر کہتے ہیں دل سے کسی چیز کو اپنے اوپر لازم کرلینا خواہ وہ اچھی ہو یا بری ہو اور شرعاً نذر کا مطلب یہ ہے کہ کسی ایسینی کی کو جس کی شریعت اسلامیہ میں نظیر موجود ہو اپنے اوپر لازم کرلینا خواہ وہ عبادت مالیہ ہو یا مدنی خواہ مشروط ہو یا غیر مشروط بہرحال صدقات اور خیرات کے ساتھ نذر کو بھی شامل کردیا کیونکہ نذر کرنے اور منت ماننے کے بعد اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ بےجاکام کرنے والوں سے وہ لوگ مراد ہیں جو ضروری شرائط کا لحاظ نہیں کرتے بلکہ احکام کی مخالفت کرتے ہیں ان کو تصریحا وعید سنادی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

صدقہ و خیرات اور نذر کا فرق اور یہ کہ نذر کیا ہے ؟ 471: ” نَذَرٌ “ نذر کیا ہے ؟ نذر وہ چیز ہے جسے عوامی اردو میں منت ماننا کہتے ہیں ، اس کی تعریف اس طرح بھی کی گئی ہے کہ وہ کسی مراد کے پورے ہونے پر اپنے اوپر کوئی ایسی چیز لازم کرلینا ہے جو عام حالت میں واجب نہ تھی۔ یہ نذر عبادت بدنی کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے مثلاً نماز نفل یا روزہ اور عبادت مالی کی صورت میں بھی۔ ” یَعْلَمُهٗ 1ؕ “ یعنی اللہ تعالیٰ اس کا علم رکھتا ہے کہ وہ کس نیت سے اور کس کی راہ میں مانی گئی ہے اور اس علم کامل کے مطابق جزا و سزا بھی ہوگی۔ مال و دولت کے صرف کرنے اور علم و حکمت کی نشر و اشاعت کے لیے تمام شرطوں کو وضاحت کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

(4) Verse 270: وَمَا أَنفَقْتُم مِّن نَّفَقَةٍ (الی قولہ) وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ‌: "And whatever spending you do ... and for the unjust, there are no supporters." Here, "and whatever spending you do" covers all spendings - those in which all related conditions are observed and those too, in which all or some conditions are not observed. For instance, it may not be in the way of Allah but be in the ways of sin; or the act of giving may be mixed up with hypocrisy; or may be followed by making a show of the favour before the receiver; or it may not be حلال halal (lawful) and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

310. Whether or not a man spends in the way of God, and whether or not he vows to spend in the way of God, God is fully aware both of his intentions and deeds. All those who either spend for the sake of God or vow to spend for the sake of God will be adequately rewarded. As for those who have either spent or have vowed to spend for others than God, no one will save them from God's chastisement. 'Vow' means either a man's pledge to spend something or to perform some act of goodness which is not obligatory on him providing a particular wish of his is fulfilled. Provided that this vow is related…

Read the full tafseer →