Explained with ayahs 267–269
خراب اور حرام مال کی خیرات مسترد
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیتا ہے کہ مال تجارت جو اللہ جل شانہ نے تمہیں دیا ہے سونا چاندی اور پھل اناج وغیرہ جو اس نے تمہیں زمین سے نکال کر دئیے ہیں، اس میں سے بہترین مرغوب طبع اور پسند خاطر عمدہ عمدہ چیزیں اللہ کی راہ میں دو۔ ردی، واہیات، سڑی گلی، گری پڑی، بےکار، فضول اور خراب چیزیں راہ اللہ نہ دو ، اللہ خود طیب ہے وہ خبیث کو قبول نہیں کرتا، ہم اس کے نام پر یعنی گویا اسے وہ خراب چیز دینا چاہتے ہو جسے اگر تمہیں دی جاتی تو نہ قبول کرتے پھر اللہ کیسے لے لے گا ؟ ہاں مال جاتا دیکھ کر اپنے حق کے بدلے کوئی گری پڑی چیز بھی مجبور ہو کرلے لو تو…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 309
حکمت سے مراد صحیح بصیرت اور صحیح قوت فیصلہ ہے۔ یہاں اس ارشاد سے مقصود یہ بتانا ہے کہ جس شخص کے پاس حکمت کی دولت ہوگی، وہ ہرگز شیطان کی بتائی ہوئی راہ پر نہ چلے گا، بلکہ اس راہ کشادہ کو اختیار کرے گا جو اللہ نے دکھائی ہے۔ شیطان کے تنگ نظر مریدوں کی نگاہ میں یہ بڑی ہوشیاری اور عقل مندی ہے کہ آدمی اپنی دولت کو سنبھال سنبھال کر رکھے اور ہر وقت مزید کمائی کی فکر ہی میں لگا رہے۔ لیکن جن لوگوں نے اللہ سے بصیرت کا نور پایا ہے، ان کی نظر میں یہ عین بےوقوفی ہے۔ حکمت و دانائی ان کے نزدیک یہ ہے کہ آدمی جو کچھ کمائے، اسے اپنی متوسط ضروریات پوری کرنے کے بعد دل کھول کر بھلائی کے کاموں…
Read the full tafseer →حکمت کے معنے اور تفسیر
يُّؤ ْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَاۗءُ لفظ حکمت قرآن کریم میں بار بار آیا ہے اور ہر جگہ اس کی تفسیر میں مختلف معنی بیان کئے گئے ہیں، تفسیر بحر محیط میں اس جگہ تمام اقوال مفسرین کو جمع کیا ہے وہ تقریبا تیس ہیں مگر آخر میں فرمایا کہ درحقیقت یہ سب اقوال متقارب ہیں ان میں کوئی اختلاف نہیں صرف تعبیرات کا فرق ہے کیونکہ لفظ حکمت احکام بالکسر کا مصدر ہے جس کے معنی ہیں کسی عمل یا قول کو اس کے تمام اوصاف کے ساتھ مکمل کرنا۔
اسی لئے بحر محیط میں آیت بقرہ اٰتٰهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ (251: 2) جو حضرت داؤد ؑ کے متعلق ہے اس کی تفسیر میں فرمایا
والحکمۃ وضع الامور فی محلہا علی…
Read the full tafseer →انفاق کی حکمت کے خزانے کی کلید ہے : لفظ“ حکمت ”کی تشریح ہم اسی سورة کی آیت 151 کے تحت کرچکے ہیں۔ یہاں اس کا دہرانا باعث طوالت ہوگا۔ البتہ اتنی بات یاد رکھنی چاہئے کہ اس کی اصل روح ایمان اور عمل کی وہ پختگی ہے جس کی بنیاد گہری بصیرت پر ہو۔ جس کو یہ چیز حاصل ہوتا ہے وہ اپنا خزانہ اس دنیائے فانی میں نہیں جمع کرتا بلکہ اپنے خدا کے پاس جمع کرتا ہے۔ وہ شیطان کے ڈراو وں سے نہیں ڈرتا بلکہ اپنے پروردگار کے وعدوں پر اعتماد کرتا ہے اور اس دنیا کے خزف ریزے نہیں جمع کرتا بلکہ ان کے بدلے میں حکمت کے خزانے کا طالب بنتا ہے اور یہ حکمت کا خزانہ بہت بڑی چیز ہے۔ اتنی بڑی کہ دنیا کا کوئی خزانہ بھی اس کے آگے کوئی…
Read the full tafseer →269۔ 1 حکمۃ سے بعض کے نزدیک عقل وفہم، علم اور بعض کے نزدیک اصابت رائے، قرآن کے ناسخ و منسوخ کا علم وفہم، قوت فیصلہ اور بعض کے نزدیک صرف سنت یا کتاب وسنت کا علم وفہم ہے یا سارے ہی مفہوم اس کے مصداق میں شامل ہوسکتے ہیں صحیحین وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ دو شخصوں پر رشک کرنا جائز ہے ایک وہ شخص جس کو اللہ نے مال دیا اور وہ اسے راہ حق میں خرچ کرتا ہے دوسرا وہ جسے اللہ نے حکمت دی جس سے وہ فیصلہ کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے " (صحیح بخاری، کتاب العلم، باب الاغتباط فی العلم والحکمۃ۔ مسلم کتاب صلاۃ المسافرین، باب فضل من یقوم بالقرآن ویعلمہ۔۔)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 266–271
181: صدقات کو برباد کرنے کی یہ دوسری مثال ہے۔ جس طرح ایک آگ سے بھرا بگولا ہرے بھرے باغ کو یکایک تباہ کر ڈالتا ہے، اسی طرح ریاکاری یا صدقہ دے کر احسان جتلانا یا کسی اور طرح غریب آدمی کو ستانا صدقے کے عظیم ثواب کو برباد کر ڈالتا ہے۔
Read the full tafseer →يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا ................” جس کو چاہتا ہے ، حکمت عطا کرتا ہے اور جس کو حکمت ملی ، اسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی ۔ “
اسے میانہ روی دی گئی اور اعتدال نصیب ہوا ، اس لئے وہ انتہاپسندی اور حد سے تجاوز سے محفوظ ہوگیا ۔ اسے تمام چیزوں کے اسباب ونتائج سمجھائے گئے۔ اس لئے وہ ان اشیاء کی قدروقیمت کے تعین میں غلطی نہیں کرتا ، اسے روشن بصیرت دی گئی ، اس لئے وہ حرکات و سکنات اور اعمال وافعال میں سے صالح اور صائب کا انتخاب کرتا ہے اور یہ ایک ایسی دولت ہے جو مختلف رنگوں میں ظاہر ہوتی ہے ۔
وَمَا يَذَّكَّرُ إِلا أُولُو…
Read the full tafseer →1 یعنی جس کو چاہتا ہے دین کی باتوں میں دانائی اور خیرات کرنے میں سمجھ عنایت کرتا ہے کہ کس نیت سے اور کس مال سے اور کس کو اور کس طرح محتاج کو دینا چاہیے اور جس کو سمجھ عنایت ہوئی اس کو بڑی نعمت اور بڑی خوبی ملی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 269–270
آیت 269 یُّؤْتِی الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَآءُ ج۔
یہ حکمت کی باتیں ہیں ‘ جن کا سمجھنا ہر کس و ناکس کے لیے ممکن نہیں۔ ایک چیزوں کا ظاہر ہے اور ایک باطن ہے ‘ جو حکمت سے نظر آتا ہے۔ ظاہر تو سب کو نظر آ رہا ہے ‘ لیکن کسی شے کی حقیقت کیا ہے ‘ یہ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے :
اے اہل نظر ! ذوق نظر خوب ہے لیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا ؟
جس کسی پر یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے وہ حکیم ہے۔ اور حکمت اصل میں انسان کی عقل اور شعور کی پختگی کا نام ہے۔ استحکام اسی حکمت سے ہی بنا ہے۔ اللہ تعالیٰ عقل و فہم اور شعور کی یہ پختگی اور حقائق تک پہنچ جانے کی صلاحیت جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔
وَمَنْ یُّؤْتَ…
Read the full tafseer →385 حکمت کی کئی تعریفیں کی جاسکتی ہیں اور وہ اپنے اپنے مقام پر سب ہی درست ہیں۔ مثلاً ارشاد نبوی ہے رَاسُ الْحِکْمَۃ مَخَافَۃُ اللّٰہ ِ یعنی سب سے بڑی حکمت تو اللہ کا خوف (تقویٰ ) ہے کیونکہ تقویٰ ہی وہ چیز ہے جو انسان کو بچتے بچاتے سیدھی راہ پر گامزن رکھنے والی ہے اور امام شافعی نے اپنی تصنیف الرسالہ میں بیشمار دلائل سے ثابت کیا ہے کہ جہاں بھی قرآن کریم میں کتاب و حکمت کے الفاظ اکٹھے آئے ہیں تو وہاں حکمت سے مراد سنت رسول اللہ ﷺ ہے اور حکمت کا لغوی مفہوم کسی کام کو ٹھیک طور پر سر انجام دینے کا طریق کار ہے۔ یعنی کسی حکم کی تعمیل میں صحیح بصیرت اور درست قوت فیصلہ ہے۔ اس آیت میں یہ بتلایا گیا ہے…
Read the full tafseer →1048 ۔ (آیت) ” واسع “۔ جس کے مقابل دنیا کی کوئی اور نعمت نہیں) ۔ (آیت) ” الحکمۃ “۔ حکمت کی تشریحیں بہت سی کی گئی ہیں۔ لیکن بہترین اور جامع ترین تشریح یہ ہے کہ وہ امور دین میں فہم صحیح کا نام ہے۔ اور اس فہم صحیح میں بخل سے بیزاری اور مصارف میں توازن بھی شامل ہے۔ (آیت) ” من یشآء “۔ یہ حکمت کی تقسیم عطامشیت تکوینی کے ماتحت ومطابق ہوتی رہتی ہے۔ (آیت) ” من یؤتی الحکمۃ “ یہ حکمت و دانائی ہرگز نہیں کہ جو کچھ بھی کمایا جائے سب یہیں اپنے نفس کی لذتوں اور خواہشوں پر اڑا دیا جائے۔ عین دانائی اور حکمت یہ ہے کہ آج سے کل کا ذخیرہ جمع کیا جائے۔ آج تخم ریزی ایسی کی جائے کہ کل پھل ہی پھل ہاتھ لگیں اور ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 269–270
” حکمت “ کے معنی اور تفسیر : یُؤْتِی الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَآءُ ، حکمت سے مراد صحیح بصیرت اور صحیح قوت فیصلہ ہے یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ جس شخص کے پاس حکمت کی دولت ہوگی وہ ہرگز شیطان کی بتائی ہوئی راہ پر نہ چلے گا، بلکہ اس کشادہ راہ کو اختیار کرے گا جو اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے، شیطان کے تنگ نظر مریدوں میں یہ بڑی ہوشیاری اور علمندی ہے کہ آدمی اپنی دولت کو سنبھال کر رکھے اور ہر وقت کمائی کی فکر میں لگا رہے لیکن جن کو اللہ کی جانب سے نور نصیرت کی دولت ملی ہے ان کی نظر میں یہ عین بےوقوفی ہے، حکمت اور دانائی ان کے نزدک یہ ہے کہ آدمی جو کچھ کمائے اس سے اپنی متوسط ضروریات پوری کرنے کے بعد باقی کو دل…
Read the full tafseer →يُّؤْتِي الْحِكْمَةَ : اللہ حکمت عطا فرماتا ہے حکمت سے مراد ہے مفید صحیح علم اور اس کے مطابق عمل جو اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ ہو۔ ایسا علم بغیر وحی کے نہیں حاصل ہوسکتا ہے اور وحی انبیاء کے پاس آتی ہے لہٰذا حکمت سب سے پہلے انبیاء کو حاصل ہوتی ہے اور انبیاء کی معرفت دوسروں کو۔
ابن مردویہ (رح) نے بطریق جو یبراز ضحاک حضرت ابن عباس کی مرفوع حدیث نقل کی ہے کہ حکمت سے مراد قرآن ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : قرآن سے مراد تفسیر قرآن کیونکہ قرآن تو نیک بیک سب ہی پڑھتے ہیں۔
مَنْ يَّشَاۗءُ : جس کو چاہتا ہے یہ مفعول اوّل ہے (الحکمۃ مفعول دوئم ہے) اس جگہ اہمیت مفعول دوئم کی تھی اس لیے اس کو…
Read the full tafseer →(269) اب اللہ تعالیٰ اپنی بخششوں کا ذکر فرماتے ہیں :
کہ رسول اکرم ﷺ کو نبوت عطا فرمائی اور حکمت کی تفسیر معانی قرآن کے ساتھ بھی کی گئی ہے اور قول وفعل اور رائے کی درستگی بہت بڑی چیز ہے اور امثال قرآنی اور حکمت قرآنیہ سے نصیحت عقلمند انسان ہی حاصل کرسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →يُّؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚ: یہاں ”الْحِكْمَةَ“ سے مراد دین کا صحیح فہم اور علم وفقہ میں صحیح بصیرت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”رشک دو خوبیوں کے سوا کسی پر جائز نہیں، ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا، پھر اسے (راہ) حق میں خرچ کرنے کی مکمل قدرت (توفیق) دی اور ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا فرمائی، تو وہ اس کے مطابق فیصلے کرتا اور دوسروں کو اس کی تعلیم دیتا ہے۔“ [ بخاری، العلم، باب الاغتباط فی۔۔ : 73، عن ابن مسعود ؓ ]
اُولُوا الْاَلْبَابِ :”اَلْبَابٌ“ جمع ہے ”لُبٌّ“ کی، جس کے معنی صاف ستھری اور پاکیزہ عقل کے ہیں، ہر عقل کو ”لُبٌّ“ نہیں کہتے۔ (راغب) ”اُولُوا…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 269۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” یؤتی الحکمۃ من یشآئ “ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے حکمت عطا فرما دیتا ہے، یہاں حکمت کے مفہوم کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، سدی نے کہا ہے : اس سے مراد نبوت ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے : حکمت سے مراد قرآن کریم کی معرفت ہے یعنی اس کی فقاہت، نسخ، محکم، غریب اور مقدم ومؤخر آیات کا علم۔
حضرت قتادہ ؓ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : حکمت سے مراد قرآن کریم کی سمجھ اور فقاہت ہے، حضرت مجاہد ؓ نے کہا ہے : امام مالک بن انس (رح) نے کہا ہے : حکمت سے مراد اللہ تعالیٰ کی اطاعت وپیروی، دین میں فقاہت اور اس کے مطابق عمل کرنا ہے، حضرت ربیع بن انس…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور نحاس نے اپنی ناسخ میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یؤتی الحکمۃ من یشاء “ حکمت سے مراد ہے قرآن کے ناسخ اور منسوخ اس کے محکم اور متشابہ اس کے مقدم اور مؤخر اس کے حلال اور حرام اور اس کی مثالوں کی معرفت ہے۔
(2) ابن مردویہ، جو پیر کے طریق سے ضحاک سے حضرت ابن عباس ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ لفظ آیت ” یؤتی الحکمۃ “ سے مراد قرآن ہے یعنی اس کی تفسیر۔ اور ابن عباس ؓ سے فرمایا اس کی وجہ سے اس قرآن کو نیکوکار اور فاجر پڑھتا ہے یعنی حکمت سے مراد نیکی اور برائی کا جان لینا۔
(3) ابن الضریس نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کہ لفظ آیت ” یؤتی الحکمۃ “ سے مراد…
Read the full tafseer →[یُّؤْتِی : وہ دیتا ہے ] [الْحِکْمَۃَ : دانائی ] [مَنْ : اس کو جس کو ] [یَّشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [وَمَنْ : اور جس کو ] [یُّؤْتَ : دی جاتی ہے ] [الْحِکْمَۃَ : دانائی ] [فَقَدْ اُوْتِیَ : تو اس کو دی گئی ہے ] [خَیْرًا کَثِیْرًا : ایک کثیر بھلائی ] [وَمَا یَذَّکَّرُ : اور نصیحت نہیں حاصل کرتے ] [اِلَّآ : مگر ] [اُولُوا الْاَلْبَابِ : سوجھ بوجھ والے لوگ ]
ترکیب : ” یُـؤْتِیْ “ کا فاعل اس میں ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو اللہ کے لیے ہے۔ ” اَلْحِکْمَۃَ “ اس کا مفعول اوّل ہے اور ” مَنْ “ مفعول ثانی ہے۔ اس کے آگے ” وَمَنْ “ شرطیہ ہے۔ ” یُؤْتَ الْحِکْمَۃَ “ شرط ہے اور ” فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 268–269
شیطان تنگدستی سے ڈراتا ہے اور اللہ تعالیٰ مغفرت اور فضل کا وعدہ فرماتا ہے
اس آیت شریفہ میں ہدایت فرمائی ہے کہ شیطان کے بہکانے اور ڈرانے میں نہ آئیں جب تم اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا ارادہ کرو گے تو شیطان تمہارے دل میں وسوسے ڈالے گا۔ اور یوں کہے گا کہ صدقہ دو گے تو مال کم ہوجائے گا۔ تنگدستی آجائے گی اپنی کل کی ضرورت کے لیے مال بچا کر رکھو، بچوں کے کام آئے گا، اگر خرچ کرنے ہی لگو گے تو پھر وہ گھٹیا مال خرچ کرنے کی ترغیب دے گا وہ تنگدستی سے ڈراتا ہے۔ بخل پر ابھارتا ہے اور اس کے علاوہ بےحیائی کے کاموں کا بھی حکم کرتا ہے وہ گناہوں کی ترغیب دیتا ہے، تم اس کے کہنے میں نہ آؤ، اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–274
بیان بقیہ آداب صدقات وذکر مصارف خیر۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا انفقوا من طیبت ماکسبتم۔۔ الی۔۔ یحزنون۔
ربط) ۔ اب ان آیات میں ان امور کو بیان فرماتے ہیں کہ جن کی صدقہ اور خیرات میں رعایت ضروری ہے اور بعدازاں یہ بیان فرمائیں گے کہ کن لوگوں کو صدقہ دینا جائز ہے اور صدقہ اور خیرات کے اصل مستحق کون لوگ ہیں چناچہ فرماتے ہیں، اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ جو چیز تم نے اپنی تجارت یا صنعت وحرفت سے کمائی ہے اس میں سے پاکیزہ یعنی حلال اور عمدہ چیز خدا کی راہ میں خرچ کرو اور علی ہذا ہم نے جو چیز تمہارے لیے زمین سے نکالی ہے اس میں سے بھی پاکیزہ اور عمدہ ہی چیز خرچ کرو اور خراب اور گندی چیز کا…
Read the full tafseer →529 حکمت سے مراد دین ودنیا کی صحیح سمجھ ہے جو ہر قول اور عمل میں انسان کی صحیح رہنمائی کرے۔ قال مجاھد الاصابة فی القول والفعل (قرطبی ص 330 ج 3) او عن مجاھد انھا الاصابة فی القول والعمل (روح ص 41 ج 3) دولت کو صحیح مصارف میں خرچ کرنے اور دیگر اعمال واقوال میں ہر لحاظ سے صحیح اور سیدھی راہ اختیار کرنے کی سجھ اور ملکہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے وہ جسے چاہتا ہے اس سے سرفراز فرماتا ہے۔ یہ ایک ایسی دولت ہے کہ اس کے ذریعے سے انسان دینی اور دنیوی فوائد حاصل کرسکتا اور دونوں قسم کے نقصانات سے بچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکمت خیر کثیر فرمایا۔530 پند ونصیحت سن تو ہر کوئی لیتا ہے مگر اس سے فائدہ وہی لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 269–270
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے صدقہ و خیرات کی قبولیت سے متعلق چار شرائط کا ذکر فرمایا ہے جن میں خیرات دیکر احسان نہ جتلانا ، ایذا نہ پہنچانا ، ریا کاری سے اجتناب اور پاکیزگی مال شامل ہیں ۔ باقی شرائط کا ذکر اگلے دروس میں آئے گا ۔ یہاں درمیان میں اللہ تعالیٰ نے حکمت کی تشریح بیان کی ہے اور اسے خیر کثیر سے تعبیر کیا ہے۔ اس میں نذر ماننے کے متعلق بیان بھی ہے کہ یہ کس حد تک جائز ہے۔
حکمت کا مفہوم
ارشاد ربانی ہے ۔ یوتی الحکمۃ من یشاء اللہ تعالیٰ جسے چاہے حکمت عطا کرتا ہے ، حکمت کا مادہ احکام سے نکلا ہے ، جو پختگی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ، لہٰذا حکمت سے مراد وہ چیز ہے جو پختہ ہو اور…
Read the full tafseer →يُؤْتِي الْحِكْمَۃَ مَنْ يَّشَاۗءُ 0 ۚ وَمَنْ يُّؤْتَ الْحِكْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِيَ خَيْرًا كَثِيْرًا 0 ۭ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ 269
أتى
الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40]
( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 268–271
ترکیب : الشیطان مبتداء یعدکم الخ جملہ خبر ‘ واللّٰہ مبتداء یعدکم خبر ‘ منہ صفت ہے مغفرۃ کی جو مفعول ثانی ہے یعد کا۔ یوتی الحکمۃ جملہ صفت ہے علیم کی۔ وما انفقتم الخ شرط فان اللّٰہ الخ جواب ان تبدوا شرط فنعماھی جواب کے لیے نعما اصل میں نعم ماتھا باہم ادغام کردیا ہے مبتداء موخر نعم فعل مانکرہ بمعنی شے اس کا فاعل مجموعہ خبر اور یوں بھی ہے کہھی مخصوص بالمدح خبر مبتداء محذوف کی ہو تقدیر الکلام نعم الشیء شیئاھی۔
تفسیر : خیرات و صدقات سے اکثر خیالات فاسدہ منع کیا کرتے ہیں کہ مال جا کر پھر کہاں سے آئے گا۔ تمہارے بال بچے ہیں ٗ آیندہ کیا کیا ضرورتیں پیش آنی ہیں جن کا منشاء انسان کا طبعی بخل ہے۔ شیطان ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 268–270
اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَاْمُرُکُمْ بِالْفَحْشَآئِ ط وَاللّٰہُ یَعِدُکُمْ مَّغْفِرَۃً مِّنْہُ وَ فَضْلًا ط وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔ لا صلے یُّؤْتِی الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَآئُ ج وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا ط وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّآ اُولُوالْاَلْبَابِ ۔
(شیطان تمہیں تنگدستی سے ڈراتا ہے اور تمہیں بےحیائی کا حکم دیتا ہے اور اللہ تم سے اپنی طرف سے مغفرت اور فضل کا وعدہ فرماتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا اور بڑا علم رکھنے والا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا فرماتا ہے۔ اور جسے حکمت عطا کی گئی یقینا اسے خیر کثیر دے دی گئی۔ اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر عقل…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے احکامات کو سمجھنا اور اس کی راہ میں حلال و طیب مال خرچ کرنا عقل و دانش کا کام ہے۔
اہل علم نے حکمت کے بیشمار معانی بیان فرمائے ہیں لیکن حکمت کا سب سے جامع معنیٰ حدیث رسول ہے کیونکہ رسول محترم ﷺ نے قرآن کا وہی مفہوم بیان فرمایا جو اللہ تعالیٰ کی منشا ہے۔ تفسیر بحر المحیط کے مصنف سورة البقرہ آیت 251 کی تفسیر میں حضرت داوٗد (علیہ السلام) کے حوالے سے لکھتے ہیں :
(اَلْحِکْمَۃُ وَضْعِ الْاُمُوْرِ فِیْ مَحَلِّہَا عَلَی الصَّوَابِ وَکَمَالِ ذٰلِکَ اَنَّمَا یَحْصِلُ بالنَّبُوَّۃِ )
” حکمت کا حقیقی معنی ہر چیز کو ٹھیک طور پر اس کے مقام پر رکھنا ہے۔ حکمت کی تکمیل نبوت…
Read the full tafseer →آیت 269 :
یُؤْتِی الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَآئُ (وہ حکمت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے) حکمت سے مراد علم قرآن و سنت ہے یا علم نافع جو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی تک پہنچانے والا ہے اور اس پر عمل کرنے تک پہنچانے والا ہے۔
حکیم۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ہے جو کہ عالم عامل ہو۔
وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ (جس کو حکمت ملی) اسے یعقوب نے مَنْ یُّؤْتِ پڑھا ہے۔ یعنی جس کو اللہ تعالیٰ حکمت دیتا ہے۔
فائدئہ تنوین :
فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا (اس کو بہت سی بھلائی دی گئی) خَیْرًا کَثِیْرًا میں تنوین تنکیر تعظیم کو ظاہر کرتی ہے۔ یعنی اس کو بہت سی بھلائی دی گئی۔
وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ (اور نہیں…
Read the full tafseer →269۔ (یؤتی الحکمۃ من یشاء اللہ تعالیٰ حکمت عطا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے) امام سدی (رح) فرماتے ہیں کہ حکمت سے مراد نبوت ہے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد قرآن کا علم ہے اس کے ناسخ منسوخ محکم متشابہ ، مقدم ومؤخر اس کے حلال و حرام اور اس کی امثال کا علم ہے ، امام ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ حکمت سے مراد قرآن اور اس کا فہم ہے اور فرمایا کہ قرآن میں ایک سو نو (109) آیات ناسخ منسوخ ہیں اور ایک ہزار آیات حلال و حرام کے متعلق ہیں، مؤمنین میں سے کوئی بھی شخص ان آیات کو ضرور سیکھتا ہے اور کوئی بھی اہل نھروان کی طرح نہیں کہ انہوں نے قرآن کی ان آیات میں تاویلات کیں جو اہل قبلہ اور اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–271
(267 ۔ 271) ۔ حاکم ‘ ترمذی ابن ماجہ ابو داؤد اور نسائی میں معتبر سند سے چند صحابیوں کی روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ لوگ صدقہ دینے میں کچھ تو تنگی کرتے تھے اور کچھ بیکار اور بری چیز صدقہ میں دیتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات غنی ہے 1۔ اس کو تمہارے صدقہ اور تمہاری خیرات کی کچھ پرواہ نہیں ہے صرف تمہارے بھلے کے لئے تم کو خیرات کا حکم دیا ہے تاکہ خالص دل سے تم ایک پیسہ یا ایک پیسہ کی چیز خیرات کرو تو جس قدر تمہارا خلوص ہوا اس کی موافق ایک کے بدلے دس سے سات سو تک تم کو دنیا میں اور بیشمار عقبیٰ میں اجر عنایت فرمائے گا اس طرح کی دل سے اتری ہوئی…
Read the full tafseer →آیت 269
چونکہ اللہ تعالیٰ نے بہت عظیم احکامات نازل فرمائے ہیں جن میں بہت سے اسرار اور بہت سی حکمتیں ہیں اور ان پر عمل کی توفیق ہر کسی کو نہیں ملتی بلکہ صرف اسی کو ملتی ہے جس پر اللہ کا خاص احسان ہو اور اسے اللہ حکمت عطا فرما دے۔ حکمت سے مراد علم نافع، عمل صالح اور شریعت کے اسرار اور حکمتوں سے واقفیت ہے۔ جسے اللہ ایسی حکمت دے دے اسے اللہ نے بہت بھلائی عطا فرما دی۔ اس بھلائی سے عظیم تر بھلائیک ون سی ہوسکتی ہے جس میں دنیا اور آخرت کی خوش نصیبی پنہاں ہو، اور جس کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی بدنصیبی سے نجات مل جائے ؟ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نعمت خاص خاص لوگوں کو ملتی ہے اور یہ انبیاء کا ترکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 269–271
قول باری ہے (ان تبدوا الصدقات فنعماھی وان تخفوھا وتوتوھا الفقراء فھو خیر لکم، (a) اگر اپنے صدقات علانیہ دو تو یہ بھی اچھا ہے لیکن اگر چھپا کر حاجت مندوں کو دو تو یہ بھی اچھا ہے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ آیت نفلی صدقہ کے بارے میں ہے لیکن صدقہ واجبہ کا اظہار افضل ہے تاکہ عدم ادائیگی کے الزام سے دامن بچا رہے۔
حسن بصری، یزید بن ابی حبیب اور قتادہ کا قول ہے کہ تمام صدقات میں اخفا افضل ہے اللہ تعالیٰ نے صدقہ کے اظہار کی اسی طرح تعریف کی ہے جس طرح صدقہ کے اخفاء کی۔
قول باری ہے (الذین ینفقون اموالھم باللیل والنھار سراً وعلانیۃ فلھم اجرھم عند ربھم، (a) جو لوگ اپنا مال رات اور دن میں چھپا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 268–269
775 شیطان کی ایک شیطنت کا ذکر وبیان : سو شیطان کی ایک شیطنت کے ذکر وبیان کے طور پر واضح فرمایا گیا کہ شیطان کا کام فقر و فاقہ کا خوف دلا کر صدقات و خیرات سے روکنا ہے کہ صدقہ و خیرات کرنے سے مال کم ہوجائے گا، اور تمہاری فلاں فلاں ضرورتیں پوری نہیں ہونگی، وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ نصوص قرآن و سنت اس کی تصریح کرتی ہیں، اور تجربہ و عمل سے اس کی تائید و تصدیق ہوتی ہے، کہ اللہ تعالیٰ کے نام پر، اور اس کی رضا کیلئے دینے سے اور اس کے نام پاک پر خرچ کرنے سے کمی نہیں ہوتی، بلکہ اس سے مال و دولت میں ترقی و اضافہ اور برکت و بڑھوتری نصیب ہوتی ہے، جیسا کہ آگے کچھ ہی آیات کریمہ کے بعد ارشاد فرمایا جا رہا ہے {…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 268–269
اللہ کے وعدے اور انعام
تشریح : اس آیت میں واضح کیا گیا ہے کہ شیطان تو شروع دن سے انسان کا دشمن ہے۔ وہ ہمیشہ برے خیالات کی طرف انسان کو متوجہ کرتا ہے۔ جیسا کہ جب بھی انسان اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرنے لگتا ہے تو شیطان اس کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے کہ مت خرچ کرو۔ ایسا نہ ہو تم غریب ہوجاؤ۔ حالانکہ جو بھی شخص اللہ کی راہ میں خوش دلی اور نیک نیتی سے خرچ کرتا ہے تو اللہ کا وعدہ ہے کہ اس کے مال میں ہرگز کمی نہیں آتی۔ بلکہ اس میں برکت ہی ہوتی چلی جاتی ہے اور جو اجر آخرت میں ملے گا وہ علیحدہ فائدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے یہ بھی اللہ کا دیا ہوا ہے اور وہ بڑے فضل و کرم والا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–273
آیات 267- 273
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا انفقوا ھن طیبت……………واعلموا ان اللہ غنی حمید۔
اے ایمان والو ! اپنی کمائی سے صاف ستھری چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ اپنی کمائی سے خرچ کرو ، ظاہر ہے کہ کمائی تو حلال ہی ہوگی ورنہ ناجائز ذرائع سے دولت پیدا کرنے کو کسب نہیں کہا جاتا۔ بلکہ ایسے لوگ خود اپنے ناجائز ذرائع کو لوگوں کی نظروں سے بچا کر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ، پھر اس میں سے جو راہ خدا میں دے وہ کھری اور اچھی چیز ہونی چاہیے اگر غلہ یا پھل یا کوئی اور جنس اللہ کی راہ میں دے ، اور اگر حرام مال سے دے گا توہ عنداللہ مقبول ہی نہیں ہوگا۔ کہ ایک حدیث پاک میں ارشاد ہے کہ برے کو…
Read the full tafseer →ف 4 یہاں الحکمہ سے مراد دین دین کا صحیح فہم۔ علم وفقہ میں صحیح بصیرت اور خشیت الہی سب چیزیں ہوسکتی ہیں۔ حدیث میں ہے راس الحکمتہ مخافتہ اللہ کہ اللہ تعالیٰ کا خوف حکمت کی جڑ ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مرفو عا مروی ہے کہ جن دو آدمیوں پر رشک کرنا چاہیے ان میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت دی اور وہ رات دن اس حکمت سے لوگوں کے فیصلے کرتا ہے۔ (ابن کثیر بحوالہ صحیحین)
Read the full tafseer →(2:269) یؤتی الحکمۃ۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ایتاء (افعال) مصدر۔ وہ دیتا ہے۔ الحکمۃ۔ عقل مندی، علم، تدبیر، عقل، دانش، سمجھ، علم و عقل کے ذریعے حق بات دریافت کرلینے کا نام حکمت ہے۔ جب حکمت کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے تو اس سے اشیاء کی معرفت اور ان کا بہترین طریقہ پر ایجاد کرنا مراد ہے۔ اور جب بندہ کی طرف نسبت کی جائے تو اس سے موجودات کی معرفت اور نیک کاموں کا انجام دینا مقصود ہوتا ہے۔ قرآن مجید کو حکیم اس لحاظ سے کہا گیا ہے کہ اس میں حکمت کی باتیں ہیں۔
الحکمۃ۔ مفعول ہے یؤتی کا اور من یشاء جملہ مفعول ثانی ہے۔ سارا جملہ یؤتی الحکمۃ من یشاء صفت ہے علیم کی۔
یؤت۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–270
لغات القرآن : آیت نمبر 267 تا 270
طیبت (طیبۃ، پاکیزہ) لا تیمموا (تم نیت نہ کرو، تم نہ چھانٹو) ۔ الخبیث (گندی چیز) ۔ لستم (تم نہ ہوں) ۔ باخذیہ (اس کو لینے والے (ب، اخذین ، ہ) ۔ ان تغمضوا (یہ کہ تم آنکھیں بند کرلو) ۔ یعد (وعدہ کرتا ہے) ۔ الفقر (تنگی، محتاجی) ۔ الحکمۃ (عقل و دانائی اور سمجھ کی بات) ۔ یؤت (دیا گیا) ۔ نذرتم (تم نے منت مانی) ۔ انصار (مددگار) ۔
تشریح : آیت نمبر 267 تا 270
ان آیتوں کو سمجھنے سے پہلے خراج اور عشر کو سمجھ لینا چاہئے۔ کیونکہ پہلی ہی آیت میں زمین سے پیداوار پر اس میں سے خرچ کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے ۔ غیر مسلموں کی زمین سے پیدا وار پر جو حصہ لیا جاتا ہے اس کو خراج کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–271
صدقہ کا طریقہ شان نزول : حاکم، ترمذی، ابن ماجہ، ابوداؤد اور نسائی میں معتبر سند سے چند صحابیوں سے روایتیں ہیں۔ جن کا حاصل یہ ہے کہ لوگ صدقہ دینے میں کچھ تو تنگی کرتے تھے اور بیکار بری چیز صدقہ دیتے تھے، ان پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جتلایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات غنی ہے۔ اس کو تمہاری خیرات کی کچھ پروا نہیں ہے۔ صرف تمہارے بھلے کے لئے تم کو خیرات کا حکم دیا ہے تاکہ خالص دل سے تم ایک پیسہ یا ایک پیسہ کی چیز کی خیرات کرو تو جس قدر تمہارا خلوص ہے اس کے موافق ایک کے بدلے دس سے سات سو تک تم کو دنیا میں اور بیشمار عقبیٰ میں اجر عنایت فرماوے۔ اسی طرح دل سے اتری ہوئی ( بےکار) چیزیں اگر کوئی…
Read the full tafseer →[181] صحیح بصیرت اور صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت۔
Read the full tafseer →حکمت اللہ کی نعمت ہے :
(ف 1) اسراف وامساک میں فرق محسوس کرنا ، بخل وسخاوت میں تفاوت جاننا اور ہر برائی کے نقصانات اور نیکی کے فوائد کا علم رکھنا حکمت ہے پس وہ لوگ جو دنیا کی بےثباتی و بےوقعتی اور آخرت کی اہمیت و حرمت کو جانتے ہیں حکیم ہیں اور سمجھ دار ہیں اور وہ جو اپنی تگ ودو صرف دنیا تک محدود رکھتے ہیں بیوقوف ہیں ، کیونکہ عاجل کو صرف اس لئے ترجیح دیتا ہے کہ وہ نقد ہے اور آجل کو ترک کردینا کہ وہ نسیہ ہے بغیر یہ جاننے کے کہ دونوں میں کوئی نسبت ہی نہیں ‘ حماقت ہے ، قرآن حکیم حکمت کو پسند کرتا ہے ، اس کے مخاطب بھی سمجھ دار لوگ ہیں ، جو نفع ونقصان پر گہری نظر رکھتے ہیں ، بےپرواہ اور بےخوف انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 268–269
ف 3 شیطان تم کو مفلسی اور محتاجی سے ڈراتا ہے اور تم کو ناشائستہ اور بری باتوں کی ترغیب اور مشورہ دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ تم کو اپنی طرف سے گناہ بخشنے اور زیادہ دینے کا وعدہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا صاحب وسعت بڑا فیاض اور ہر چیز کا جاننے والا ہے وہ جس کو چاہتا ہے صحیح فہم عطا فرما دیتا ہے اور یقین جانو کہ جس کو صحیح فہم دے دیا گیا اس کو بہت بڑی بھلائی اور خیر کثیر سے نوازا گیا اور نصیحت تو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو صحیح اور خالص عقل رکھتے ہیں۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ شیطان تم کو یہ کہہ کر ڈراتا ہے کہ دیکھو اگر خیرات کرو گے یا عمدہ اور نفیس چیزیں بانٹ کر بیٹھ جائو گے تو دیوالیہ نکل جائے گا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–269
ف 2۔ یہ اس شخص کے لیے جس کے پاس عمدہ چیز ہو اور پھر وہ بری اور نکمی چیز خرچ کرے اور جس کے پاس اچھی چیز ہو ہی نہیں وہ اس ممانعت سے بری ہے اور اس کی وہ بری مقبول ہے۔
Read the full tafseer →حکمت کیا ہے ؟ خیر کثیر ہے :
470: حکمت کی تشریح میں بہت کچھ لکھا گیا ہے اور فی الحقیقت بہت کچھ ہی لکھا جاسکتا ہے ، جب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ جو حکمت دیا گیا اس کو خیر کثیر دے دی گئی تو گویا اب حکمت کیا ہوئی ؟ خیر کثیر ۔ تو پھر وہ کیا چیز ہے جو باقی رہ گئی کیونکہ خیر کثیر میں تو سب کچھ آگیا۔ امام راغب اصفہانی (رح) نے مفردات القرآن میں فرمایا ہے کہ لفظ حکمت جب اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال کیا جائے تو معنی تمام اشیاء کی پوری معرفت اور مستحکم ایجاد کے ہوتے ہیں اور جب غیر اللہ کی طرف اس کی نسبت کی جاتی ہے تو موجودات کی صحیح معرفت اور اس کے مطابق عمل مراد ہوتا ہے۔
پھر اس مفہوم کی تعبیریں مختلف…
Read the full tafseer →Al-Hikmah: Meaning and Explanation
(3). Verse 269 يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَن يَشَاءُ : "He gives wisdom to whom He wills." The word, الْحِكْمَةَ (al-hikmah: wisdom) appears repeatedly in the Holy Qur'an, and at every place, its meaning has been explained differently. In Tafsir al-Bahr al-Muhit البحر المحیط ، all positions taken by commentators have been assembled at this point. These come to nearly thirty, however, towards the end it was said that all these positions are close together and there is no contradiction among them. The only difference is that of interpretations. The word, hikmah…
Read the full tafseer →309. 'Wisdom' signifies sound perception and sound judgement. The purpose of this statement is to point out that one who is possessed of wisdom will follow God's path rather than that of Satan. The followers of Satan believe that it is the height of wisdom and shrewdness to be constantly concerned with saving out of one's earnings, and to be perpetually on the look-out for higher income. But for those endowed with Divine perception such an attitude is sheer folly. True wisdom consists in using one's resource moderately to meet one's needs and in spending whatever is left for charitable…
Read the full tafseer →