Explained with ayahs 267–269
خراب اور حرام مال کی خیرات مسترد
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیتا ہے کہ مال تجارت جو اللہ جل شانہ نے تمہیں دیا ہے سونا چاندی اور پھل اناج وغیرہ جو اس نے تمہیں زمین سے نکال کر دئیے ہیں، اس میں سے بہترین مرغوب طبع اور پسند خاطر عمدہ عمدہ چیزیں اللہ کی راہ میں دو۔ ردی، واہیات، سڑی گلی، گری پڑی، بےکار، فضول اور خراب چیزیں راہ اللہ نہ دو ، اللہ خود طیب ہے وہ خبیث کو قبول نہیں کرتا، ہم اس کے نام پر یعنی گویا اسے وہ خراب چیز دینا چاہتے ہو جسے اگر تمہیں دی جاتی تو نہ قبول کرتے پھر اللہ کیسے لے لے گا ؟ ہاں مال جاتا دیکھ کر اپنے حق کے بدلے کوئی گری پڑی چیز بھی مجبور ہو کرلے لو تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–268
سورة الْبَقَرَة 308
ظاہر ہے کہ جو خود اعلیٰ درجہ کی صفات سے متصف ہو، وہ برے اوصاف رکھنے والوں کو پسند نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ خود فیاض ہے اور اپنی مخلوق پر ہر آن بخشش وعطا کے دریا بہا رہا ہے۔ کس طرح ممکن ہے کہ وہ تنگ نظر، کم حوصلہ اور پست اخلاق لوگوں سے محبت کرے۔
Read the full tafseer →اَلشَّيْطٰنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ (الیٰ قولہ) وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ جب کسی کے دل میں یہ خیال آئے کہ اگر کروں گا تو مفلس ہوجاؤں گا اور حق تعالیٰ کی تاکید سن کر بھی اس کی ہمت نہ ہو اور دل چاہے کہ اپنا مال خرچ نہ کرے اور وعدہ الہٰی سے اعراض کرکے وعدہ شیطانی پر طبیعت کو میلان اور اعتماد ہو تو اس کو یقین کرلینا چاہئے کہ یہ مضمون شیطان کی طرف سے ہے، یہ نہ کہے کہ شیطان کی تو ہم نے کبھی صورت بھی نہیں دیکھی حکم کرنا تو درکنار رہا اور اگر یہ خیال آوے کہ صدقہ و خیرات سے گناہ بخشے جائیں گے اور مال میں بھی ترقی اور برکت ہوگی تو جان لے کہ یہ مضمون اللہ کی طرف سے آیا ہے، اور خدا کا…
Read the full tafseer →“ فحشاء ”سے مراد : فحشاء کے معنی کھلی ہوئی بےحیائی اور بدکاری کے ہیں ہیں۔ قرآن میں اس سے زنا، لواطت اور عریانی وغیرہ جیسے کھلے جرائم کو تعبیر کیا گیا ہے، امر کا لفظ جس طرح حکم دینے کے معنی میں آتا ہے اسی طرح مشورہ دینے اور سمجھانے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ تحقیق اس کی ہم دوسری جگہ بیان کر آئے ہیں۔
انفاق کی راہ کی مزاحمتیں : یہ ان مزاحمتوں کی طرف اشارہ ہے جو شیطان اور اس کی ذریات کی طرف سے انفاق کی راہ میں پیش آتی ہیں۔ آدمی جب کسی نیک کام میں خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو شیطان اور اس کے ایجنٹ اس کو دو طرح سے اس کے ارادے سے ہٹانے کی کوشش کرتے رہیں۔ ایک تو مستقبل کے موہوم خطرات سے اس کو ڈراتے ہیں…
Read the full tafseer →268۔ 1 یعنی بھلے کام میں مال خرچ کرنا ہو تو شیطان ڈراتا ہے کہ مفلس اور قلاش ہوجاؤ گے لیکن برے کام پر خرچ کرنا ہو تو ایسے اندیشوں کو نزدیک نہیں پھٹکنے دیتا بلکہ ان برے کاموں کو اس طرح سجا اور سنوار کر پیش کرتا ہے جس پر انسان بڑی سے بڑی رقم بےدھڑک خرچ کر ڈالتا ہے دیکھا گیا ہے کہ مسجد، مدرسے یا اور کسی کار خیر کے لئے کوئی چندہ لینے پہنچ جائے تو صاحب مال سو دو سو کے لئے بار بار اپنے حساب کی جانچ پڑتال کرتا ہے مانگنے والے کو بسا اوقات کئی کئی بار دوڑاتا اور پلٹاتا ہے لیکن یہی شخص سینما شراب، بدکاری اور مقدمے بازی وغیرہ کے جال میں پھنستا ہے تو اپنا مال بےتحاشہ خرچ کرتا ہے اور اسے کسی قسم کی ہچکچاہٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 266–271
181: صدقات کو برباد کرنے کی یہ دوسری مثال ہے۔ جس طرح ایک آگ سے بھرا بگولا ہرے بھرے باغ کو یکایک تباہ کر ڈالتا ہے، اسی طرح ریاکاری یا صدقہ دے کر احسان جتلانا یا کسی اور طرح غریب آدمی کو ستانا صدقے کے عظیم ثواب کو برباد کر ڈالتا ہے۔
Read the full tafseer →شیطان تمہیں فقر اور تنگ دستی کا خوف دلاتا ہے ۔ اس وجہ سے تمہارے نفوس کے اندر حرص ، بخل پیدا کرتا ہے ۔ شیطان تمہیں فحاشی کا حکم دیتا ہے ۔ عربی زبان میں فحاشی ہر اس معصیت کو کہتے ہیں ، جس میں انسان حد سے تجاوز کرجائے ۔ اگرچہ زیادہ تر اس کا استعمال ایک خاص معصیت میں ہوتا ہے ۔ تاہم یہ لفظ عام ہے ۔ تنگدستی کا یہ خوف ہی تھا ، جس کی وجہ سے ایام جاہلیت میں اقوام عرب اپنی بچیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے جو ایک قسم کی فحاشی تھی ۔ اسی طرح زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹنے کا جذبہ انہیں سود خوری پر آمادہ کرتا تھا ۔ جو ایک قسم کی فحاشی تھا ۔ نیز یہ خوف کہ انفاق فی سبیل اللہ سے وہ تنگدست ہوجائیں گے بجائے خود فحاشی…
Read the full tafseer →4 جب کسی کے دل میں خیال آئے کہ اگر خیرات کروں گا تو مفلس رہ جاؤں گا اور حق تعالیٰ کی تاکید سن کر بھی یہی ہمت ہو اور دل چاہے کہ اپنا مال خرچ نہ کرے اور وعدہ الہٰی سے اعراض کر کے وعدہ شیطانی پر طبیعت کو میلان اور اعتماد ہو اس کو یقین کرلینا چاہیے کہ یہ مضمون شیطان کی طرف سے ہے یہ نہ کہے کہ " شیطان کی تو ہم نے کبھی صورت بھی نہیں دیکھی حکم کرنا تو درکنار رہا " اور اگر یہ خیال آوے کہ صدقہ خیرات سے گناہ بخشے جائیں گے اور مال میں بھی ترقی اور برکت ہوگی تو جان لیوے کہ یہ مضمون اللہ کی طرف سے آیا ہے اور خدا کا شکر کرے اور اللہ کے خزانہ میں کمی نہیں سب کے ظاہر و باطن نیت عمل کو خوب جانتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 268 اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَاْمُرُکُمْ بالْفَحْشَآءِ ج وَاللّٰہُ یَعِدُکُمْ مَّغْفِرَۃً مِّنْہُ وَفَضْلاً ط
اب دیکھ لو ‘ تمہیں کون سا طرز عمل اختیار کرنا ہے :
رُخِ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں
اُدھر جاتا ہے دیکھیں یا ادھر پروانہ آتا ہے !
شیطان تمہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے روکتا ہے کہ اس طرح تمہارا مال کم ہوجائے گا اور تم فقر و فاقہ میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ اب اگر واقعی تم یہ خوف رکھتے ہو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھ پر فقر آجائے ‘ لہٰذا مجھے اپنا مال سنبھال سنبھال کر ‘ سینت سینت کر رکھنا چاہیے تو تم شیطان کے جال میں پھنس چکے ہو ‘ تم اس کی پیروی کر رہے ہو۔ اور اگر تم…
Read the full tafseer →384 معلوم ہوا کہ اگر صدقہ کرتے وقت کسی کے دل میں احتیاج، دوسری ضرورتوں اور مفلسی یا کسی بری بات کا خیال آئے تو یہ شیطانی وسوسہ ہوتا ہے وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ شیطان کی تو ہم نے کبھی صورت تک نہیں دیکھی۔ اس کا حکم قبول کرنا دور کی بات ہے اور اگر کسی کو ایسا خیال آئے کہ اس سے گناہ معاف ہوں گے اور مال میں بھی ترقی اور برکت ہوگی تو سمجھ لے کہ یہ بات اللہ کی طرف سے القاء ہوتا ہے۔ چناچہ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39) 34 ۔ سبأ :39) یعنی تم جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اللہ تمہیں اس کا نعم البدل عطا فرما…
Read the full tafseer →1045 ۔ (کہ راہ خدا میں خرچ کرڈالو گے تو خود مفلس رہ جاؤ گے) روز مرہ کا تجربہ ہے کہ جو چیز نیکی اور بھلائی کے کاموں میں صرف کرنے سے روکتی ہے۔ وہ یہی خیال ہوتا ہے کہ سب کچھ خرچ کر ڈالنے کے بعد پھر اپنی ضرورتوں کے لیے کیا رہ جائے گا ؟ قرآن مجید نے (آیت) ” الشیطن یعدکم “ کے بلیغ الفاظ سے یہ تعلیم دے دی کہ یہ خیال تمامتر ایک وسوسۂ شیطانی ہے۔ اور یوں اس خیال کے باطل ہونے کا بہترین پیرایہ اختیار کرلیا (آیت) ” الفحشآء “ عربی میں فحش وفحشاء کا اطلاق ہر شدید برائی، ہر بری صفت پر ہوتا ہے۔ ھو کل ما یشتد قبحہ من الذنوب والمعاصی (تاج) وقیل کل خصلۃ قبیحۃ فھی فاحشۃ من الاقوال والافعال (تاج) لیکن بخل پر فاحش…
Read the full tafseer →اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُکُمْ الْفَقْرَ وَیَاْمُرُکُمْ بِالْفَحْشَآءِ ، بھلے اور نیک کام میں اگر مال خرچ کرنا ہو تو شیطان ڈراتا ہے کہ مفلس اور قلاش ہوجاؤ گے اور تمہارا فلاں کام رک جائے گا البتہ اگر برے کام میں خرچ کرنا ہو تو بڑی سے بڑی رقم خرچ کرواڈالتا ہے چناچہ دیکھا گیا ہے کہ مسجد و مدرسہ یا کسی اور کارخیر کے لئے کوئی تعاون کے لیے پہنچ جائے تو صاحب خیر ایک معمولی رقم کے لیے بار بار حساب کی جانچ پڑتال کرتا ہے، اور چندہ والے کو بسا اوقات کئی کئی بار بلاتا ہے لیکن اگر سینما، ٹیلی وژن، شراب، بدکاری، اور مقدمہ بازی میں خرچ کرنا ہو تو یہی شخص بڑی سے بڑی رقم بےتحاشا خرچ کر ڈالتا ہے۔
Read the full tafseer →اَلشَّيْطٰنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ (شیطان تم کو مفلس ہوجانے سے ڈراتا ہے) لفظ وعد کا استعمال خیر و شر ( اچھے برے) دونوں میں ہوتا ہے لیکن اگر کوئی خصوصی قرینہ نہ ہو تو خیر کا وعدہ مراد ہوتا ہے اور شر کے لیے ایعاد ( ڈرانا۔ باب افعال) استعمال ہوتا ہے فقر کا معنی ہے بدحالی اور مال کی کمی۔ یہ لفظ فِقَار الظَّھر سے بنا ہے ( فِقَار الظَّھر پشت کے مہرے ‘ 12) مطلب یہ ہے کہ شیطان تم کو ڈراتا ہے کہ اگر صدقات دو گے تو مفلس ہوجاؤ گے۔
وَيَاْمُرُكُمْ بالْفَحْشَاۗءِ : اور تم کو گناہ کا حکم دیتا ہے۔ الفحشائ سے مراد زکوٰۃ نہ دینا یا عام معصیت کوئی ہو۔ کلبی نے کہا سوائے اس آیت کے قرآن میں ہر جگہ فحشاء سے مراد زنا…
Read the full tafseer →(268) شیطان صدقہ وخرات کے وقت تمہیں محتاجی سے ڈراتا ہے اور اس طریقہ پر زکوٰۃ سے منع کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ زکوٰۃ و خیرات کی ادائیگی پر گناہوں کی معافی، اموال کی زیادتی اور آخرت میں ثواب کا وعدہ فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ بخششوں اور گناہوں کی معافی میں بہت وسعت اور فراخی والے اور تمہاری نیتوں اور تمہارے صدقات کو اچھی طرح جاننے والے ہیں۔
شان نزول : یا ایھا الذین امنوا انفقوا (الخ)
امام حاکم ؒ ، ترمذی ؒ ، ابن ماجہ ؒ وغیرہ نے حضرت براء ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ہم انصاریوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی کہ ہم کھجوروں کے باغوں والے تھے ہم میں سے ہر ایک شخص اپنی کھجوروں میں سے ان کی کمی زیادتی کے لحاظ…
Read the full tafseer →بِالْفَحْشَاۗءِ ۚ : کوئی بھی قول یا فعل جس میں بہت بڑی قباحت ہو (راغب) مثلاً زنا، قوم لوط کا عمل وغیرہ، یہاں بہت قبیح درجے کا بخل مراد ہے۔
اوپر کی آیت میں عمدہ مال خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی تھی، اب یہاں شیطان کے وسوسے سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ (رازی)
اَلشَّيْطٰنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ : یعنی انسان کے دل میں وہم اور وسوسے پیدا کرتا رہتا ہے کہ اگر نیک کاموں میں خرچ کرو گے تو فقیر ہوجاؤ گے اور ”فَحْشَاءُ“ یعنی شرمناک بخل کی ترغیب دیتا اور اس پر اکساتا رہتا ہے۔ ”فَحْشَاءُ“ سے بےحیائی اور بدکاری کے کام بھی مراد ہوسکتے ہیں کہ شیطان ان میں مال صرف کرنے کی ترغیب دیتا ہے، مگر اس کے مقابلے…
Read the full tafseer →(آیت) ” 268۔
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” الشیطن “۔ شیطان اور اس کے مادہ اشتقاق کا معنی پہلے گزر چکا ہے دوبارہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور یعدکم کا معنی ہے : توہ تمہیں ڈراتا ہے۔ (آیت) ” الفقر “ تنگدستی سے تاکہ تم خرچ نہ کرو۔
یہ آیت ماقبل سے متصل ہے اور یہ کہ شیطان کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے انسان کو باز رکھنے میں خاصہ دخل ہے اور وہ اس کے ساتھ ساتھ فحشاء (بےحیائی) کا حکم دیتا ہے اور فحشاء سے مراد معاصی اور ان میں خرچ کرنا ہے اور کہا گیا ہے یعنی اس طرح کہ تم صدقہ نہ کرو تم گنہگار ہوجاؤ گے اور آپس میں جدا جدا ہوجاؤ گے اور الفقر فاء کے ضمہ کے ساتھ بھی…
Read the full tafseer →(1) ترمذی اور اس کو حسن کہا نسائی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن حبان اور بیہقی نے شعب میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بنی آدم کے دل میں شیطان کی طرف سے خیال آتا ہے اور ایک فرشتے کی طرف سے بھی خیال آتا ہے شیطان کا خیال یہ ہے کہ اسے برائی اور حق کو جھٹلانے کا خیال آتا ہے اور فرشتے کا یہ خیال ہے کہ اسے نیکی کرنے اور حق کی تصدیق کا خیال آتا ہے سو تم میں سے جو شخص ایسی کیفیت پائے تو وہ جان لے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے لہٰذا اللہ کی حمد کرے اور جو شخص دوسری کیفیت پائے تو شیطان سے محفوظ رہنے کے لیے اللہ کی پناہ مانگے۔ یہ بات بیان فرما کر آنحضرت ﷺ نے یہ…
Read the full tafseer →[اَلشَّیْطٰنُ : شیطان ] [یَعِدُ : وعدہ دیتا ہے ] [کُمُ : تم لوگوں کو ] [الْفَقْرَ : مفلسی کا ] [وَیَاْمُرُ : اور ترغیب دیتا ہے ] [کُمْ : تم لوگوں کو ] [بِالْفَحْشَآئِ : اعلانیہ بےحیائی کی ] [وَاللّٰـہُ : اور اللہ ] [یَعِدُ : وعدہ کرتا ہے ] [کُمْ : تم لوگوں سے ] [مَّغْفِرَۃً : مغفرت کا ] [مِّنْہُ : اس سے (یعنی اپنی) ] [وَفَضْلاً : اور (اپنے ) فضل کا ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [وَاسِعٌ : وسعت والا ہے ] [عَلِیْمٌ: جاننے والا ہے ]
ق ر
فَقَرَ (ن) فَقْرًا : کھودنا ‘ توڑنا۔
فَاقِرٌ (اسم الفاعل) : توڑنے والا۔ { تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِھَا فَاقِرَۃٌ ۔ } (القیٰمۃ) ” وہ گمان کریں گے کہ کیا جائے گا ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 268–269
شیطان تنگدستی سے ڈراتا ہے اور اللہ تعالیٰ مغفرت اور فضل کا وعدہ فرماتا ہے
اس آیت شریفہ میں ہدایت فرمائی ہے کہ شیطان کے بہکانے اور ڈرانے میں نہ آئیں جب تم اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا ارادہ کرو گے تو شیطان تمہارے دل میں وسوسے ڈالے گا۔ اور یوں کہے گا کہ صدقہ دو گے تو مال کم ہوجائے گا۔ تنگدستی آجائے گی اپنی کل کی ضرورت کے لیے مال بچا کر رکھو، بچوں کے کام آئے گا، اگر خرچ کرنے ہی لگو گے تو پھر وہ گھٹیا مال خرچ کرنے کی ترغیب دے گا وہ تنگدستی سے ڈراتا ہے۔ بخل پر ابھارتا ہے اور اس کے علاوہ بےحیائی کے کاموں کا بھی حکم کرتا ہے وہ گناہوں کی ترغیب دیتا ہے، تم اس کے کہنے میں نہ آؤ، اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–274
بیان بقیہ آداب صدقات وذکر مصارف خیر۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا انفقوا من طیبت ماکسبتم۔۔ الی۔۔ یحزنون۔
ربط) ۔ اب ان آیات میں ان امور کو بیان فرماتے ہیں کہ جن کی صدقہ اور خیرات میں رعایت ضروری ہے اور بعدازاں یہ بیان فرمائیں گے کہ کن لوگوں کو صدقہ دینا جائز ہے اور صدقہ اور خیرات کے اصل مستحق کون لوگ ہیں چناچہ فرماتے ہیں، اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ جو چیز تم نے اپنی تجارت یا صنعت وحرفت سے کمائی ہے اس میں سے پاکیزہ یعنی حلال اور عمدہ چیز خدا کی راہ میں خرچ کرو اور علی ہذا ہم نے جو چیز تمہارے لیے زمین سے نکالی ہے اس میں سے بھی پاکیزہ اور عمدہ ہی چیز خرچ کرو اور خراب اور گندی چیز کا…
Read the full tafseer →528 یعد، وعد سے مشتق ہے اور وعد اصل لغت کے اعتبار سے خیر وشر دونوں میں مستعمل ہے۔ یہاں بقرینہ ما بعد شر کے لیے ہے اور اس کے معنی تخویف یعنی ڈرانے کے ہیں اور الفحشاء ہر بری خصلت کو کہتے ہیں۔ مگر یہاں اس سے بخل مراد ہے۔ ای الخصلۃ الفحشاء وھی البخل وترک الصدقات (روح ص 40 جلد 3) المراد بھا فی حذا الموضع البخل (جصاص) حضرت شیخ (رح) نے فرمایا کہ فحشاء سے یہاں بخل مراد ہے اور باقی اکثر جگہوں میں اس سے زنا مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان تمہارے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ اگر مال خرچ کریں گے تو دولت کم ہوجائے گی اور مفلس ہوجاؤ گے۔ اس قسم کے وسوسے ڈال کر بخل اور کنجوسی پر اکساتا ہے۔ وَاللّٰهُ يَعِدُكُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–268
ربط آیات
صدقات کی قبولیت کے متعلق تین شرائط کا پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ کسی کو خیرات دے کر نہ تو اس پر احسان جتلایا جائے ، نہ اسے تکلیف پہنچائی جائے اور نہ خرچ کرنے میں ریا کاری کا عنصر شامل ہو ، یعنی خالص نیک نیتی کے ساتھ رضائے الٰہی مقصود ہو ، اگر یہ چیزیں موجود ہوں گی ، تو صدقہ باطل ہوجائے گا ۔ اور دینے والا گناہ گار ہو کر الٹا وبال میں پڑجائے گا ۔ آج کے درس میں قبولیت کی چوتھی شرط مال کی پاکیزگی کا بیان ہے۔
قبولیت کی چوتھی شرط پاکیزگی مال
ارشاد ہوتا ہے ۔ یایھا الذین امنوا انفقوا من طیبت ما کسبتم اے ایمان والو ! خرچ کرو پاک اور ستھری چیزیں جو تم نے کمائی ہیں ۔ گویا قبولیت صدقہ کے لیے یہ بھی…
Read the full tafseer →اَلشَّيْطٰنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاۗءِ 0 ۚ وَاللہُ يَعِدُكُمْ مَّغْفِرَۃً مِّنْہُ وَفَضْلًا 0 ۭ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ 268
شطن
الشَّيْطَانُ النون فيه أصليّة «3» ، وهو من : شَطَنَ أي : تباعد، ومنه : بئر شَطُونٌ ، وشَطَنَتِ الدّار، وغربة شَطُونٌ ، وقیل : بل النون فيه زائدة، من : شَاطَ يَشِيطُ : احترق غضبا، فَالشَّيْطَانُ مخلوق من النار کما دلّ عليه قوله تعالی: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15]: الشّيطان اسم لكلّ عارم من الجنّ والإنس والحیوانات . قال تعالی: شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112]
( ش ط ن ) الشیطان
اس میں نون اصلی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 268–271
ترکیب : الشیطان مبتداء یعدکم الخ جملہ خبر ‘ واللّٰہ مبتداء یعدکم خبر ‘ منہ صفت ہے مغفرۃ کی جو مفعول ثانی ہے یعد کا۔ یوتی الحکمۃ جملہ صفت ہے علیم کی۔ وما انفقتم الخ شرط فان اللّٰہ الخ جواب ان تبدوا شرط فنعماھی جواب کے لیے نعما اصل میں نعم ماتھا باہم ادغام کردیا ہے مبتداء موخر نعم فعل مانکرہ بمعنی شے اس کا فاعل مجموعہ خبر اور یوں بھی ہے کہھی مخصوص بالمدح خبر مبتداء محذوف کی ہو تقدیر الکلام نعم الشیء شیئاھی۔
تفسیر : خیرات و صدقات سے اکثر خیالات فاسدہ منع کیا کرتے ہیں کہ مال جا کر پھر کہاں سے آئے گا۔ تمہارے بال بچے ہیں ٗ آیندہ کیا کیا ضرورتیں پیش آنی ہیں جن کا منشاء انسان کا طبعی بخل ہے۔ شیطان ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 268–270
اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَاْمُرُکُمْ بِالْفَحْشَآئِ ط وَاللّٰہُ یَعِدُکُمْ مَّغْفِرَۃً مِّنْہُ وَ فَضْلًا ط وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔ لا صلے یُّؤْتِی الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَآئُ ج وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا ط وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّآ اُولُوالْاَلْبَابِ ۔
(شیطان تمہیں تنگدستی سے ڈراتا ہے اور تمہیں بےحیائی کا حکم دیتا ہے اور اللہ تم سے اپنی طرف سے مغفرت اور فضل کا وعدہ فرماتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا اور بڑا علم رکھنے والا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا فرماتا ہے۔ اور جسے حکمت عطا کی گئی یقینا اسے خیر کثیر دے دی گئی۔ اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر عقل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–268
فہم القرآن
ربط کلام : سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے مومنوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ جو تم کمائی کرتے ہو یا جو کچھ ہم تمہارے لیے زمین سے نکالتے ہیں اس میں سے پاک اور طیّب مال اللہ تعالیٰ کے راستے میں صدقہ کیا کرو۔
یہاں طیّب سے مراد حلال، پاک اور نفیس مال ہے کیونکہ ایسا مال خرچ کرنے سے منع کیا گیا ہے جو آدمی کسی سے خود لینے کے لیے تیار نہ ہو۔ اس حرکت سے نفرت دلانے کے لیے ایسے صدقے اور مال کو خبیث کہا گیا ہے جس میں وہ تمام نقائص شامل ہوجائیں جو ایک شریف آدمی کے لیے نہایت ہی ناگوار ہوتے ہیں۔ فرمایا کہ تم ایسے مال کو کسی مجبوری یا چشم پوشی کے سوا قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تو اللہ تعالیٰ کے بارے…
Read the full tafseer →آیت 268 :
اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُکُمُ (شیطان تم سے وعدہ کرتا ہے) یعنی انفاق کے متعلق
الْفَقْرَ (تنگ دستی کا) یعنی تمہیں کہتا ہے کہ تمہارے انفاق کا انجام یہ ہے کہ تم فقیر ہوجائو گے۔ اَلْوَعْدُ ۔
وعد کا لفظ خیر و شر میں استعمال ہوتا ہے۔
وَیَاْمُرُکُمْ بِالْفَحْشَآئِ (وہ تمہیں بےحیائی کا حکم دیتا ہے) یعنی تمہیں بےحیائی کا حکم دیتا ہے اور تمہیں بخل پر آمادہ کرتا ہے اور صدقات سے روکتا ہے۔ اغراء کسی مامور کو حکم دینا۔ الفاحش۔ عرب بخیل کو کہتے ہیں۔
وَاللّٰہُ یَعِدُکُمْ (اللہ تعالیٰ تم سے وعدہ کرتے ہیں) یعنی انفاق میں۔
مَّغْفِرَۃً مِّنْہُ (مغفرت کا اپنی طرف سے) یعنی تمہارے گناہوں کی مغفرت کا اور گناہوں…
Read the full tafseer →(تفسیر) 268۔:
(الشیطان یعدکم الفقر شیطان تم کو مفلس ہوجانے سے ڈراتا ہے) تمہیں وہ فقر وفاقہ سے ڈراتا ہے کہا جاتا ہے ” وعدتہ خیرا ووعدتہ شرا “۔ یعنی کبھی تو وہ خیر سے ڈراتا ہے اور کبھی شر سے ، اللہ تعالیٰ خیر کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ (آیت)” وعدکم اللہ مغانم کثیرۃ “ کہ اللہ تم سے کثیر مال غنیمت کا وعدہ کرتا ہے اور شر کے متعلق ارشاد فرمایا (آیت)” النار وعدھا اللہ الذین کفروا “ (کہ ان لوگوں کے لیے آگ کا وعدہ ہے جو کفر کرتے ہیں) لیکن جب نہ خیر کا قرینہ مراد ہو اور نہ شر کا تو پھر خیر ہی مراد ہوتا ہے اور شر کا استعمال باب افعال سے ہی ہوتا ہے ۔
فقر کہتے ہیں بری حالت اور مال کی کمی کو ، یہ اصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–271
(267 ۔ 271) ۔ حاکم ‘ ترمذی ابن ماجہ ابو داؤد اور نسائی میں معتبر سند سے چند صحابیوں کی روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ لوگ صدقہ دینے میں کچھ تو تنگی کرتے تھے اور کچھ بیکار اور بری چیز صدقہ میں دیتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات غنی ہے 1۔ اس کو تمہارے صدقہ اور تمہاری خیرات کی کچھ پرواہ نہیں ہے صرف تمہارے بھلے کے لئے تم کو خیرات کا حکم دیا ہے تاکہ خالص دل سے تم ایک پیسہ یا ایک پیسہ کی چیز خیرات کرو تو جس قدر تمہارا خلوص ہوا اس کی موافق ایک کے بدلے دس سے سات سو تک تم کو دنیا میں اور بیشمار عقبیٰ میں اجر عنایت فرمائے گا اس طرح کی دل سے اتری ہوئی…
Read the full tafseer →آیت 268
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس نے انہیں جس کمائی کی توفیق دی ہے اور ان کے لئے زمین سے جو کچھ نکالا ہے، اس میں سے کچھ پاکیزہ اموال خرچ کریں۔ جس طرح اس نے تم پر احسان کیا ہے کہ اس کا حصول تمہارے لئے آسان فرما دیا، اسی طرح اس کا شکر ادا کرنے کے لئے، اپنے بھائیوں کے کچھ حقوق ادا کرنے کے لئے اور اپنے مالوں کو پاک کرنے کے لئے اس میں سے کچھ حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ خرچ کرنے کے لئے وہ عمدہ چیز منتخب کرو، جو تمہیں اپنے لئے پسند ہے۔ ایسی نکمی چیز دینے کا قصد نہ کرو، جو خود تمہیں پسند نہیں اور جسے تم خود دوسروں سے وصول کرنا پسند نہیں کرتے۔ (واعلموآ ان اللہ غنی حمید) ” اور…
Read the full tafseer →قول باری ہے (الشیطان یعدکم الفقر ویامرکم بالفحشاء، (a) شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور شرمناک طرز عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے) اس کے متعلق ایک قول ہے کہ لفظ فحشاء، (a) کا اطلاق کئی معانی پر ہوتا ہے لیکن اس جگہ اس سے مراد بخل ہے۔ عرب کے لوگ بخیل کو ’ فاحش ‘ (a) اور بخل کو ’ فحش ‘ (a) کہتے ہیں۔ ایک شاعر کا شعر ہے۔
ادی الموت یعتام الکرام ویصطفی عقیلۃ مال الفاحش المتشدد (a)
میں موت کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ عمدہ صفات کے حامل افراد کو چن لیتی ہے۔ یعنی انہیں جلد موت آجاتی ہے جس طرح کہ سخت قسم کے بخیل انسان کے مال مویشی میں سے عمدہ جانور چن لئے جائیں۔ یہاں شاعر نے الفاحش کو بخیل کے معنی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 268–269
775 شیطان کی ایک شیطنت کا ذکر وبیان : سو شیطان کی ایک شیطنت کے ذکر وبیان کے طور پر واضح فرمایا گیا کہ شیطان کا کام فقر و فاقہ کا خوف دلا کر صدقات و خیرات سے روکنا ہے کہ صدقہ و خیرات کرنے سے مال کم ہوجائے گا، اور تمہاری فلاں فلاں ضرورتیں پوری نہیں ہونگی، وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ نصوص قرآن و سنت اس کی تصریح کرتی ہیں، اور تجربہ و عمل سے اس کی تائید و تصدیق ہوتی ہے، کہ اللہ تعالیٰ کے نام پر، اور اس کی رضا کیلئے دینے سے اور اس کے نام پاک پر خرچ کرنے سے کمی نہیں ہوتی، بلکہ اس سے مال و دولت میں ترقی و اضافہ اور برکت و بڑھوتری نصیب ہوتی ہے، جیسا کہ آگے کچھ ہی آیات کریمہ کے بعد ارشاد فرمایا جا رہا ہے {…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 268–269
اللہ کے وعدے اور انعام
تشریح : اس آیت میں واضح کیا گیا ہے کہ شیطان تو شروع دن سے انسان کا دشمن ہے۔ وہ ہمیشہ برے خیالات کی طرف انسان کو متوجہ کرتا ہے۔ جیسا کہ جب بھی انسان اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرنے لگتا ہے تو شیطان اس کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے کہ مت خرچ کرو۔ ایسا نہ ہو تم غریب ہوجاؤ۔ حالانکہ جو بھی شخص اللہ کی راہ میں خوش دلی اور نیک نیتی سے خرچ کرتا ہے تو اللہ کا وعدہ ہے کہ اس کے مال میں ہرگز کمی نہیں آتی۔ بلکہ اس میں برکت ہی ہوتی چلی جاتی ہے اور جو اجر آخرت میں ملے گا وہ علیحدہ فائدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے یہ بھی اللہ کا دیا ہوا ہے اور وہ بڑے فضل و کرم والا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–273
آیات 267- 273
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا انفقوا ھن طیبت……………واعلموا ان اللہ غنی حمید۔
اے ایمان والو ! اپنی کمائی سے صاف ستھری چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ اپنی کمائی سے خرچ کرو ، ظاہر ہے کہ کمائی تو حلال ہی ہوگی ورنہ ناجائز ذرائع سے دولت پیدا کرنے کو کسب نہیں کہا جاتا۔ بلکہ ایسے لوگ خود اپنے ناجائز ذرائع کو لوگوں کی نظروں سے بچا کر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ، پھر اس میں سے جو راہ خدا میں دے وہ کھری اور اچھی چیز ہونی چاہیے اگر غلہ یا پھل یا کوئی اور جنس اللہ کی راہ میں دے ، اور اگر حرام مال سے دے گا توہ عنداللہ مقبول ہی نہیں ہوگا۔ کہ ایک حدیث پاک میں ارشاد ہے کہ برے کو…
Read the full tafseer →ف 3 اوپر کی آیت میں عمدہ مال خرچ کرنے کی تر غیب دی گئی تھی۔ اب یہاں شیطان کے وسوسہ سے ہو شیار رہنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ (کبیر) ڈراتا ہے محتا جی سے " یعنی انسان کے دل میں وہم اور سوسہ سے پیدا کرتا رہتا ہے کہ اگر نیک کاموں میں خرچ کروگے تو فقیر ہوجاؤ گے اور فحشاء یعنی بخل کی ترغیب دیتا ہے اور اس پر اکساتا رہتا ہے۔ اور فحشاء سے بدکاری اور بےحیائی کے کام بھی مراد ہوسکتے ہیں کہ شیطان ان میں مال صرف کرنے کی ترغیب دیتا ہے مگر اس کے مقا بلہ میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ یہ ہے کہ صدقہ خیرات تمہارے گناہوں کا کفارہ بھی ہوگا اور اس پر کئی گنا زیادہ اجر بھی ملے گا اور مال میں برکت بھی ہوگی۔ حدیث میں ہے کہ ہر…
Read the full tafseer →(2:268) یعدکم الفقر۔ یعد فعل کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر الفقر مفعول ثانی۔ یعد مضارع واحد مذکر غائب وعد (باب ضرب) مصدر بمعنی ڈرانا۔ وہ تم کو محتاجی سے ڈراتا ہے وہ تم کو تنگ دستی کا خوف دلاتا ہے۔
الفقر۔ اسم فعل اور مصدر۔ تنگ دستی۔ ناداری۔ مفلسی۔ محتاجی۔ امام راغب نے لکھا ہے کہ فقہ کا استعمال چار طور پر ہوا ہے :۔
(1) زندگی کی بنیادی ضروریات کا نہ پایا جانا۔ اسی اعتبار سے انسان کیا کائنات کی ہر شے فقیر (محتاج) ہے۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا ہے : یایھا الناس انتم الفقراء الی اللہ (35:15) لوگو تم سب خدا کے محتاج ہو۔
(2) ضروریات زندگی کا کما حقہ پورا نہ ہونا۔ مثلاً للفقراء الذین احصروا ۔۔ من التفعع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–270
لغات القرآن : آیت نمبر 267 تا 270
طیبت (طیبۃ، پاکیزہ) لا تیمموا (تم نیت نہ کرو، تم نہ چھانٹو) ۔ الخبیث (گندی چیز) ۔ لستم (تم نہ ہوں) ۔ باخذیہ (اس کو لینے والے (ب، اخذین ، ہ) ۔ ان تغمضوا (یہ کہ تم آنکھیں بند کرلو) ۔ یعد (وعدہ کرتا ہے) ۔ الفقر (تنگی، محتاجی) ۔ الحکمۃ (عقل و دانائی اور سمجھ کی بات) ۔ یؤت (دیا گیا) ۔ نذرتم (تم نے منت مانی) ۔ انصار (مددگار) ۔
تشریح : آیت نمبر 267 تا 270
ان آیتوں کو سمجھنے سے پہلے خراج اور عشر کو سمجھ لینا چاہئے۔ کیونکہ پہلی ہی آیت میں زمین سے پیداوار پر اس میں سے خرچ کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے ۔ غیر مسلموں کی زمین سے پیدا وار پر جو حصہ لیا جاتا ہے اس کو خراج کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–271
صدقہ کا طریقہ شان نزول : حاکم، ترمذی، ابن ماجہ، ابوداؤد اور نسائی میں معتبر سند سے چند صحابیوں سے روایتیں ہیں۔ جن کا حاصل یہ ہے کہ لوگ صدقہ دینے میں کچھ تو تنگی کرتے تھے اور بیکار بری چیز صدقہ دیتے تھے، ان پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جتلایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات غنی ہے۔ اس کو تمہاری خیرات کی کچھ پروا نہیں ہے۔ صرف تمہارے بھلے کے لئے تم کو خیرات کا حکم دیا ہے تاکہ خالص دل سے تم ایک پیسہ یا ایک پیسہ کی چیز کی خیرات کرو تو جس قدر تمہارا خلوص ہے اس کے موافق ایک کے بدلے دس سے سات سو تک تم کو دنیا میں اور بیشمار عقبیٰ میں اجر عنایت فرماوے۔ اسی طرح دل سے اتری ہوئی ( بےکار) چیزیں اگر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 266–268
[180] یعنی جس طرح ایک آدمی اپنی ساری عمر باغ لگانے میں صرف کر دے اور سمجھے کہ اس کی پیداوار بڑھاپے میں کام آئے گی لیکن جب بڑھاپا آئے تو دیکھے کہ سارا باغ جل کر ویران ہوگیا ہے ایسا ہی حال اس شخص کا ہے جو ساری عمر دکھاوے کی نیکیاں کرتا رہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ عاقبت میں کام آئیں گی لیکن جب عاقبت کا دن آئے گا تو دیکھے گا کہ اس کی ساری محنت رائیگاں گئی اور کوئی چیز بھی اس کے دفتر عمل میں ایسی نہیں جو اس کے کام آسکے۔
Read the full tafseer →افلاس کا ڈر :
(ف 2) جب خدا کی راہ میں خرچ کیجئے شیطان وسوسہ اندازی کرتا ہے اور کہتا ہے کیوں مال ضائع کرتے ہو ، اس طرح تو تم غریب ہوجاؤ گے ، البتہ اگر فضول خرچی اور اسراف کا سوال ہو یا برائی کی اعانت کا موقع ہو تو اس وقت شیطان کہتا ہے کہ دل کھول کر کیوں خرچ نہیں کرتے کیا چند روپے عزت وناموس کے لئے خرچ کردینے سے تم مفلس وقلاش ہوجاؤ گے ، مگر اللہ تعالیٰ کی جانب سے مغفرت وفضل کا وعدہ ہے ، وہ کہتا ہے کہ تم میری راہ میں خرچ کرو ، میں تمہارے مال و دولت میں برکت دوں گا ۔ میں تمہارے لئے رزق کے مواقع پیدا کروں گا جس قدر تم مجھے دو کے میں اس سے کہیں زیادہ دوں گا غرضیکہ شیطان افلاس پر آمادہ کرتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 268–269
ف 3 شیطان تم کو مفلسی اور محتاجی سے ڈراتا ہے اور تم کو ناشائستہ اور بری باتوں کی ترغیب اور مشورہ دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ تم کو اپنی طرف سے گناہ بخشنے اور زیادہ دینے کا وعدہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا صاحب وسعت بڑا فیاض اور ہر چیز کا جاننے والا ہے وہ جس کو چاہتا ہے صحیح فہم عطا فرما دیتا ہے اور یقین جانو کہ جس کو صحیح فہم دے دیا گیا اس کو بہت بڑی بھلائی اور خیر کثیر سے نوازا گیا اور نصیحت تو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو صحیح اور خالص عقل رکھتے ہیں۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ شیطان تم کو یہ کہہ کر ڈراتا ہے کہ دیکھو اگر خیرات کرو گے یا عمدہ اور نفیس چیزیں بانٹ کر بیٹھ جائو گے تو دیوالیہ نکل جائے گا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–269
ف 2۔ یہ اس شخص کے لیے جس کے پاس عمدہ چیز ہو اور پھر وہ بری اور نکمی چیز خرچ کرے اور جس کے پاس اچھی چیز ہو ہی نہیں وہ اس ممانعت سے بری ہے اور اس کی وہ بری مقبول ہے۔
Read the full tafseer →شیطان کی دعوت کبھی نیکی کی دعوت نہیں ہو سکتی :
469: کسی فعل کا نتیجہ اور رزلٹ گویا اس فعل کا وعدہ ہے۔ فعل اچھا ہے تو اللہ کی مدد سے اور اس کے قانون مکافات سے اس کا نتیجہ بھی اچھا ہوگا اور یہ گویا اللہ کا وعدہ ہے ، فعل برا ہے تو سمجھ لو کہ اللہ کی مدد اس میں شامل نہیں بلکہ یہ تمہارے نفس کی خرابی ہے اور شیطان کا وعدہ ہے جو اس نے ہر طرف سے ورغلانے کے متعلق کیا ہوا ہے۔ جب ایک شخص اللہ کی راہ میں خرچ کرنے لگتا ہے تو اگر اسے خیال پیدا ہوتا ہے کہ میں غریب و مفلس بن جاؤں گا۔ اپنی ضرورت کے لیے کچھ نہیں رہے گا۔ ابھی کتنی ضرورتیں ہیں جو منہ کھولے بیٹھی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ تمام وساوس شیطانی ہیں۔ ایک…
Read the full tafseer →(2) Verses 268-269: وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ (الٰی قولہ): "Satan frightens you of poverty ... and only the men of understanding do observe the advice."
When a person is obsessed with the idea that spending in charity will cause him poverty, when he does not pick up the courage to go ahead and spend - even after hearing the warning of Allah Almighty - and continues feeling that he should not spend out of what he has, and when, turning away from the Divine promise, his mind takes him to rely on the promise of Satan, he should better be…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–268
308. It is obvious that He Who is invested with the best attributes cannot be appreciative of those possessed of low and evil qualities. God is, for instance, Generous and Beneficent, and constantly showers His favours and bounties on His creatures. How is it possible for Him, then, to love those who are mean, niggardly and vicious?
Read the full tafseer →