Explained with ayahs 267–269
خراب اور حرام مال کی خیرات مسترد
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیتا ہے کہ مال تجارت جو اللہ جل شانہ نے تمہیں دیا ہے سونا چاندی اور پھل اناج وغیرہ جو اس نے تمہیں زمین سے نکال کر دئیے ہیں، اس میں سے بہترین مرغوب طبع اور پسند خاطر عمدہ عمدہ چیزیں اللہ کی راہ میں دو۔ ردی، واہیات، سڑی گلی، گری پڑی، بےکار، فضول اور خراب چیزیں راہ اللہ نہ دو ، اللہ خود طیب ہے وہ خبیث کو قبول نہیں کرتا، ہم اس کے نام پر یعنی گویا اسے وہ خراب چیز دینا چاہتے ہو جسے اگر تمہیں دی جاتی تو نہ قبول کرتے پھر اللہ کیسے لے لے گا ؟ ہاں مال جاتا دیکھ کر اپنے حق کے بدلے کوئی گری پڑی چیز بھی مجبور ہو کرلے لو تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–268
سورة الْبَقَرَة 308
ظاہر ہے کہ جو خود اعلیٰ درجہ کی صفات سے متصف ہو، وہ برے اوصاف رکھنے والوں کو پسند نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ خود فیاض ہے اور اپنی مخلوق پر ہر آن بخشش وعطا کے دریا بہا رہا ہے۔ کس طرح ممکن ہے کہ وہ تنگ نظر، کم حوصلہ اور پست اخلاق لوگوں سے محبت کرے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو (نیک کام میں) خرچ کرو عمدہ چیز کو اپنی کمائی میں سے اور (عمدہ چیز کو) اس میں سے جو کہ ہم نے تمہارے (کام میں لانے کے) لئے زمین سے پیدا کیا اور ردی (ناکارہ) چیز کی طرف نیت مت لے جایا کرو کہ اس میں سے خرچ کردو حالانکہ (ویسی ہی چیز اگر کوئی تم کو تمہارے حق واجب کے عوض یا سوغات میں دینے لگے تو) تم کبھی اس کے لینے والے نہیں ہاں مگر چشم پوشی (اور رعایت) کرجاؤ (تو اور بات ہے) اور یہ یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ کسی کے محتاج نہیں (جو ایسی ناکارہ چیزوں سے خوش ہوں) تعریف کے لائق ہیں (یعنی ذات وصفات میں کامل ہیں تو ان کے دربار میں چیز بھی کامل تعریف کے لائق ہی پیش کرنا چاہئے) شیطان…
Read the full tafseer →‘ طیبات ’ کا مفہوم : مِنْ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ (اپنی کمائی کے پاکیزہ حصے میں سے) طیبات کا لفظ بیک وقت دو باتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک تو یہ کہ اپنی کمائی میں سے وہی مال خرچ کرو جو پاکیزہ طریقہ سے آیا ہو، غلط یا مشتبہ طریقہ سے نہ آیا ہو۔ دوسری یہ مال بجائے کود اچھا ہو، بےوقعت، گھٹیاں اور نکما نہ ہو۔ غلط طریقہ سے آئے ہوئے یا نکمے مال سے نہ تو خدا کی خوشنودی حاصل ہو سکتی ہے اور نہ نفس کی وہ تربیت ہوسکتی جس کا ذکر اوپر تثبیت کے لفظ سے ہوا ہے۔
وَمِمَّآ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ کا علیحدہ ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ مما کسبتم والے ٹکڑے سے مراد وہ مال ہے جو تجارت وغیرہ کے طریقوں سے حاصل ہوتا…
Read the full tafseer →267۔ 1 صدقے کی قبولیت کے لئے جس طرح ضروری ہے کہ ریاکاری سے پاک ہو جیسا کہ گزشتہ آیات میں بتایا گیا ہے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ وہ حلال اور پاکیزہ کمائی سے ہو چاہے وہ کاروبار (تجارت و صنعت) کے ذریعے سے ہو یا فصل اور باغات کی پیداوار سے اور یہ فرمایا کہ خبیث چیزوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا قصد مت کرو خبیث سے ایک تو وہ چیزیں مراد ہیں جو غلط کمائی سے ہوں اللہ تعالیٰ اسے قبول نہیں فرماتا حدیث میں ہے ان اللہ طیب لا یقبل الا طیبا (اللہ تعالیٰ پاک ہے پاک حلال چیز ہی قبول فرماتا ہے) دوسرے خبیث کے معنی ردی اور نکمی چیز کے ہیں ردی چیزیں بھی اللہ کی راہ میں خرچ نہ کی جائیں جیسا کہ آیت (لَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 266–271
181: صدقات کو برباد کرنے کی یہ دوسری مثال ہے۔ جس طرح ایک آگ سے بھرا بگولا ہرے بھرے باغ کو یکایک تباہ کر ڈالتا ہے، اسی طرح ریاکاری یا صدقہ دے کر احسان جتلانا یا کسی اور طرح غریب آدمی کو ستانا صدقے کے عظیم ثواب کو برباد کر ڈالتا ہے۔
Read the full tafseer →انفاق فی سبیل اللہ کے آداب اور نتائج کے بیان کے بعد اب یہاں سیاق کلام ، انفاق فی سبیل اللہ کے دستور کو لے کر اب مزید آگے بڑھتا ہے ۔ انفاق کی حقیقت ، انفاق کا طریقہ کار اور لوازمات کو بیان کیا جاتا ہے۔
اس آیت سے پہلی آیات میں انفاق فی سبیل اللہ کے لئے جو قواعد اور اساسات متعین کئے گئے تھے اور جن پر اس کی عمارت اٹھانے کا حکم دیا تھا ، ان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں بہترین مال خرچ کیا جائے ۔ اللہ کی راہ میں ردی اور گھٹیا اشیاء خرچ کرنے کا ارادہ ہی نہ کیا جائے جن میں خود مالک کی کوئی دلچسپی نہیں رہتی۔ ایسی اشیاء اگر خود ایسے شخص کو کسی سودے یا بیوپار میں دی جائیں تو وہ ان کے دعوض حقیر قیمت…
Read the full tafseer →3 یعنی عند اللہ صدقہ کے مقبول ہونے کی یہ بھی شرط ہے کہ مال حلال کمائی کا ہو، حرام کا مال اور شبہ کا مال نہ ہو اور اچھی سے اچھی چیز اللہ کی راہ میں دے بری چیز خیرات میں نہ لگائے کہ اگر کوئی ایسی ویسی چیز دے تو جی نہ چاہے لینے کو مگر شرما شرمائی۔ پر خوشی سے ہرگز نہ لے اور جان لو کہ اللہ بےپرواہ ہے تمہارا محتاج نہیں اور خوبیوں والا ہے اگر بہتر سے بہتر چیز دل کے شوق اور محبت سے دے تو پسند فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 267 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ
اللہ کے دین کے لیے خرچ کرنا ہے ‘ اللہ کے نام پر دینا ہے تو جو کچھ تم نے کمایا ہے اس میں سے اچھی چیز ‘ پاکیزہ چیز ‘ بہتر چیز نکالو۔
وَمِمَّآ اَخْرَجْنَا لَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ
ظاہر بات ہے کہ زمین سے جو بھی نباتات باہر آرہی ہیں ان کا پیدا کرنے والا اللہ ہے۔ چاہے کوئی چراگاہ ہے تو اس کے اندر جو ہریاول ہے وہ اللہ ہی نے پیدا کی ہے۔ کھیت کے اندر آپ نے محنت کی ہے ‘ ہل چلایا ہے ‘ بیج ڈالے ہیں ‘ لیکن فصل کا اگانا تو آپ کے اختیار میں نہیں ہے ‘ یہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ع پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون ؟ چناچہ…
Read the full tafseer →383 براء بن عازب کہتے ہیں کہ یہ آیت ہم گروہ انصار کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ ہم کھجوروں والے تھے۔ ہم میں سے ہر کوئی اپنی قلت و کثرت کے موافق کھجوریں لے کر آتا، کوئی ایک خوشہ، کوئی دو خوشے اور انہیں مسجد میں لٹکا دیتا۔ اہل صفہ کا یہ حال تھا کہ ان کے پاس کھانے کو کچھ نہ ہوتا تھا۔ ان میں سے جب کوئی آتا تو عصا سے خوشہ کو ضرب لگاتا تو اس سے تر اور خشک کھجوریں گر پڑتیں جنہیں وہ کھا لیتا اور جنہیں نیکی کی رغبت نہ ہوتی تھی وہ ایسے خوشے لاتے جن میں ناقص اور ردی کھجوریں ہوتیں اور ٹوٹے پھوٹے خوشے لے کر آتے تب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ براء کہتے ہیں کہ اس کے بعد ہر شخص اچھی کھجوریں لاتا۔ (ترمذی، ابو اب…
Read the full tafseer →1041 ۔ (اللہ کی راہ میں، نیک کاموں میں) (آیت) ” ماکسبتم “۔ جو کچھ تم نے کمایا ہے جائز، پاک طریقہ سے، طیبات کا اطلاق صرف پاک ہی کمائی پر ہوسکتا ہے۔ فقہاء نے بہ قاعدہ اشارۃ النص (آیت) ” ماکسبتم “۔ ہی سے نکالا ہے کہ زکوٰۃ اس مال میں ہے جو اپنا کمایا ہوا ہو، او جو اضطرارا حاصل ہوجائے، اس میں زکوٰۃ نہیں۔
1042 ۔ یعنی نباتات، معدنیات وغیرہ۔ (آیت) ’ ’ لکم “ یعنی تمہارے کام کے لیے۔ (آیت) ” من الارض “۔ یہ نکتہ بھی نکالا ہے کہ زکوٰۃ زمینی پیداوار (زراعت، معدنیات وغیرہ) پر واجب ہوئی، برخلاف موتی، مونگے وغیرہ کے کہ وہ زمین سے نہیں سمندر سے نکلتے ہیں۔
1043 ۔ مطلب یہ ہوا کہ ایسی ناکارہ، ناقص، ردی چیزیں کہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 267 تا 273
ترجمہ : اے ایمان والو ! جو مال تم نے کمایا ہے اس میں سے عمدہ چیزیں خرچ کرو زکوٰۃ دو اور اس سے بھی عمدہ چیزیں جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے پیدا کی ہیں۔ (مثلاً ) غلہ اور پھل اور مذکورہ چیزوں میں سے خراب چیز کا قصد بھی نہ کرو کہ اس میں سے زکوٰۃ میں خرچ کرو گے تنفقون، تیمموا کی ضمیر سے حال ہے، حالانکہ تم خود بھی اس خراب چیز کو لینے والے نہیں ہو اگر وہ چیز تمہارے حقوق میں دی جائے مگر نرمی اور چشم پوشی کرتے ہوئے، تم نظر انداز کر جاؤ تو پھر تم خراب چیز سے اللہ کا حق کس طرح ادا کرتے ہو اور سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے خرچے سے بےنیاز اور ہرحال میں ستودہ صفات ہے، شیطان تمہیں محتاجی…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ : اے اہل ایمان اپنی پاکیزہ کمائی میں سے راہ خدا میں خرچ کرو۔ طیّبات سے مراد عمدہ کھری چیزیں۔ لیکن حضرت ابن مسعود ؓ اور مجاہد نے اس کی تشریح میں فرمایا : کہ حلال چیزیں مراد ہیں حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : جو بندہ حرام مال کما کر اس میں سے خیرات کرتا ہے اس کی خیرات قبول نہیں ہوتی۔ نہ حرام مال خرچ کرنے میں برکت حاصل ہوتی ہے اور جو کچھ اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے وہ دوزخ تک جانے کا اس کے لیے سامان ہوجاتا ہے وہ برے ( عذاب) کو بری ( کمائی کی) خیرات سے مٹا نہیں سکتا بلکہ برے کو بھلے سے مٹا سکتا ہے…
Read the full tafseer →(267) سونا اور چاندی اور زمین سے جو مختلف اقسام کے غلے اور پھل پیدا کیے ہیں، ان میں سے عمدہ اور حلال چیز کو خرچ کرو اور اپنے اموال میں سے ردی چیز کے خرچ کرنے کا ارادہ بھی نہ کیا کرو، حالاں کہ اگر ایسی ردی چیز تمہیں کوئی تمہارے حق میں واجب کے عوض میں دے تو تم کبھی بھی اسے قبول نہ کرو مگر یہ کہ چشم پوشی کرجاؤ اور اپنے بعض حق کو چھوڑ دو (تو اور بات ہے) ایس طرح اللہ تعالیٰ تم سے ایسی بیکار اور ردی چیز کو قبول نہیں فرماتے اور اللہ تعالیٰ تمہارے خرچ کا محتاج نہیں اور وہ اپنے تمام امور میں قابل ستائش ہیں۔
اور ایک یہ بھی تفسیر کی گئی ہے کہ وہ تھوڑی چیز کو قبول کرتا ہے اور ثواب بہت زیادہ دیتا ہے، یہ…
Read the full tafseer →اَنْفِقُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ۔۔ : اوپر کی آیات میں بتایا ہے کہ صدقہ و خیرات اور انفاق فی سبیل اللہ کی قبولیت کے لیے شرط یہ ہے کہ اخلاص و ایمان ہو اور یہ بھی بتایا ہے کہ ریا کاری، احسان جتلانے اور تکلیف دینے سے صدقہ ضائع ہوجاتا ہے اور پھر مثالوں سے وضاحت کرکے سمجھایا ہے۔ اب اس آیت میں قبولیت صدقہ کے لیے ایک اور شرط بیان کی ہے کہ صدقہ میں دی جانے والی چیز کا عمدہ اور طیب ہونا ضروری ہے، اگر کوئی شخص ردی چیز دے گا تو وہ اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوگی۔ براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ہم انصار کے بارے میں اتری، ہم کھجوروں والے تھے تو ہر آدمی اپنے درختوں میں سے زیادہ یا کم درختوں کے مطابق لے کر آتا…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 267۔
اس میں گیارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ (آیت) ” یایھا الذین امنوا انفقوا “۔ یہ خطاب حضور نبی رحمت ﷺ کی تمام امت کو ہے اور یہاں انفاق سے جو معنی مراد ہے اس میں علماء کا اختلاف ہے۔
حضرت علی بن ابی طالب، عبیدہ سلیمانی اور ابن سیرین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے کہا ہے : اس سے مراد وہ زکوۃ ہے جو فرض کی گئی ہے۔ اس میں عمدہ شے کی بجائے ردی اور گھٹیا چیز خرچ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
ابن عطیہ نے کہا ہے : حضرت براء بن عازب، حسن اور قتادہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے قول سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آیت نفلی صدقہ کے بارے میں ہے اور لوگوں پر مستحب قرار دیا گیا ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر نے حضرت علی ابن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا انفقوا من طیبت ما کسبتم “ سے مراد ہے کہ سونے اور چاندی (میں سے خرچ کرو یعنی زکوٰۃ ادا کرو) (اور) لفظ آیت ” ومما اخرجنا لکم من الارض “ سے مراد ہے کہ پھلوں میں سے بھی (زکوٰۃ ادا کرو) ۔
عشر کی ادائیگی کا حکم
(3) مالک، شافعی، ابن ابی شیبہ، بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور دار قطنی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پانچ وسق سے کم کھجور میں صدقہ نہیں ہے اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں صدقہ (یعنی زکوٰۃ) نہیں ہے اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں۔ اور مسلم شریف میں یوں ہے کہ…
Read the full tafseer →[یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو ! جو ] [اٰمَنُوْآ : ایمان لائے ] [اَنْفِقُوْا : تم لوگ خرچ کرو ] [مِنْ طَیِّبٰتِ مَا : اس کے پاکیزہ میں سے جو ] [کَسَبْتُمْ : تم لوگوں نے کمایا ] [وَمِمَّآ : اور اس میں سے جو ] [اَخْرَجْنَا : ہم نے نکالا ] [لَـکُمْ : تمہارے لیے ] [مِّنَ الْاَرْضِ : زمین سے ] [وَلاَ تَـیَمَّمُوا : اور تم لوگ ارادہ مت کرو ] [الْخَبِیْثَ : ناکارہ کا ] [مِنْہُ : اس میں سے (جس سے ) ] [تُنْفِقُوْنَ : تم لوگ خرچ کرتے ہو ] [وَلَسْتُمْ : حالانکہ تم لوگ نہیں ہو ] [بِاٰخِذِیْہِ : اس کو پکڑنے والے ] [اِلَّآ اَنْ : مگر یہ کہ ] [تُغْمِضُوْا : تم چشم پوشی کرتے ہو ] [فِیْہِ : اس سے ]…
Read the full tafseer →اللہ کی رضا کے لیے عمدہ مال خرچ کرنے کا حکم
گزشتہ آیات میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کا ثواب ذکر فرمایا ہے اور خرچ کرنے کے آداب بتائے ہیں اس آیت میں اپنے کمائے ہوئے مالوں میں سے طیب عمدہ حلال اور اچھی چیزیں خرچ کرنے کا حکم فرمایا، حرام کمانا تو حرام ہے جو حلال مال ہے اس میں سے بھی عمدہ چیز کو اللہ کی راہ میں دینا چاہئے۔ اسباب النزول صفحہ 82 میں اس آیت کا سبب نزول بتاتے ہوئے حضرت براء بن عازب ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی، جب فصل پر کھجوروں کے پھل کاٹتے تھے تو کھجوروں کے خوشے رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں ستونوں کے درمیان بندھی ہوئی رسی پر لا کر ٹانگ دیتے تھے جس میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–274
بیان بقیہ آداب صدقات وذکر مصارف خیر۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا انفقوا من طیبت ماکسبتم۔۔ الی۔۔ یحزنون۔
ربط) ۔ اب ان آیات میں ان امور کو بیان فرماتے ہیں کہ جن کی صدقہ اور خیرات میں رعایت ضروری ہے اور بعدازاں یہ بیان فرمائیں گے کہ کن لوگوں کو صدقہ دینا جائز ہے اور صدقہ اور خیرات کے اصل مستحق کون لوگ ہیں چناچہ فرماتے ہیں، اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ جو چیز تم نے اپنی تجارت یا صنعت وحرفت سے کمائی ہے اس میں سے پاکیزہ یعنی حلال اور عمدہ چیز خدا کی راہ میں خرچ کرو اور علی ہذا ہم نے جو چیز تمہارے لیے زمین سے نکالی ہے اس میں سے بھی پاکیزہ اور عمدہ ہی چیز خرچ کرو اور خراب اور گندی چیز کا…
Read the full tafseer →526 یہاں یہ حکم دیا گیا ہے کہ کہ اللہ کی راہ میں حلال وطیب اور عمدہ چیزیں خرچ کرو۔ مال حرام اور بےکار چیزیں خدا کی راہ میں نہ دو ۔ یہاں امر وجوب کے لیے ہے اور اس سے مراد زکوۃ مفروضہ ہے۔ جیسا کہ حضرت علی ؓ، عبدیہ سلمانی اور ابن سیرین سے منقول ہے۔ عن عبیدة السمانی قال سالت علیا کرم اللہ تعالیٰ وجھہ عن ھذہ الایة فقال نزلت فی الزکاة المفروضة (روح ص 39 ج 3) فقال علی بن ابی طالب عبیدة السلمانی وابن سیرینھی الزکاةا لمفروضة (قرطبی ص 320 ج 3) مَا كَسَبْتُمْ ۔ سے مال تجارت اور وَمِمَّآ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ ۠۔ سے زمین کی پیداوار مثلاً غلہ اور مع دنیا وغیرہ تو اس سے معلوم ہوا کہ زکوۃ جس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–268
ربط آیات
صدقات کی قبولیت کے متعلق تین شرائط کا پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ کسی کو خیرات دے کر نہ تو اس پر احسان جتلایا جائے ، نہ اسے تکلیف پہنچائی جائے اور نہ خرچ کرنے میں ریا کاری کا عنصر شامل ہو ، یعنی خالص نیک نیتی کے ساتھ رضائے الٰہی مقصود ہو ، اگر یہ چیزیں موجود ہوں گی ، تو صدقہ باطل ہوجائے گا ۔ اور دینے والا گناہ گار ہو کر الٹا وبال میں پڑجائے گا ۔ آج کے درس میں قبولیت کی چوتھی شرط مال کی پاکیزگی کا بیان ہے۔
قبولیت کی چوتھی شرط پاکیزگی مال
ارشاد ہوتا ہے ۔ یایھا الذین امنوا انفقوا من طیبت ما کسبتم اے ایمان والو ! خرچ کرو پاک اور ستھری چیزیں جو تم نے کمائی ہیں ۔ گویا قبولیت صدقہ کے لیے یہ بھی…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّآ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ 0 ۠ وَلَا تَـيَمَّمُوا الْخَبِيْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ وَلَسْتُمْ بِاٰخِذِيْہِ اِلَّآ اَنْ تُغْمِضُوْا فِيْہِ 0 ۭ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ غَنِىٌّ حَمِيْدٌ 267
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 266–267
ترکیب : من نخیل صفت جنت کی کہ تجری اور لہ فیہا الخ واصابہ الکبر جملہ بحذف قد حال ہے احد سے ولہ ذریۃً حال ہے اصابہ کی ضمیر سے ولا تیمموا ای لا تقصدوا فعل۔ الخبیث مفعول منہ جار مجرور متعلق تنفقون سے اور تقدیم تخصیص کے لیے پس یہ جملہ اعنی تنفقون منہ حال ہے الخبیث سے ولستم باخذیہ الخ جملہ حال ہے فاعل تنفقون سے۔
تفسیر : یہ ایک اور مثال اس شخص کے لیے بیان کی گئی کہ جو خیرات و صدقہ خلوص نیت سے نہیں دیتا یا دے کر احسان جتلاتا اور سائل کو طعن اور عار کی باتوں سے ایذا دیتا ہے۔ وہ یہ کہ کسی کے پاس ایک ایسا عمدہ باغ ہو کہ جس میں اکثر کھجور اور انگور ہوں اور اس میں نہریں بھی ہوں یعنی آب رواں اور علاوہ اس…
Read the full tafseer →یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ وَمِمَّـآ اَخْرَجْنَا لَـکُمْ مِنَ الْاَرْضِ ص وَلَاتَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْہِ اِلَّآ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْہِ ط وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ۔
(اے ایمان والو ! خرچ کرو اپنے کمائے ہوئے پاکیزہ مال سے اور ان چیزوں سے جنھیں ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالا ہے اور ارادہ بھی نہ کرو اپنی کمائی میں سے ردی چیز کا کہ تم اسے خرچ کرو اور تم خود اس چیز کو لینے والے نہیں ہو بجز اس کے کہ تم آنکھیں میچ لو اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ غنی اور ستودہ صفات ہے) (267)
ربطِ کلام
گزشتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–268
فہم القرآن
ربط کلام : سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے مومنوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ جو تم کمائی کرتے ہو یا جو کچھ ہم تمہارے لیے زمین سے نکالتے ہیں اس میں سے پاک اور طیّب مال اللہ تعالیٰ کے راستے میں صدقہ کیا کرو۔
یہاں طیّب سے مراد حلال، پاک اور نفیس مال ہے کیونکہ ایسا مال خرچ کرنے سے منع کیا گیا ہے جو آدمی کسی سے خود لینے کے لیے تیار نہ ہو۔ اس حرکت سے نفرت دلانے کے لیے ایسے صدقے اور مال کو خبیث کہا گیا ہے جس میں وہ تمام نقائص شامل ہوجائیں جو ایک شریف آدمی کے لیے نہایت ہی ناگوار ہوتے ہیں۔ فرمایا کہ تم ایسے مال کو کسی مجبوری یا چشم پوشی کے سوا قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تو اللہ تعالیٰ کے بارے…
Read the full tafseer →آیت 267 :
یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ ۔ (اے ایمان والو ! تم اپنی پاکیزہ کمائی میں سے خرچ کرو) طیبات سے مراد عمدہ کمائی۔
مالِ تجارت میں زکوٰۃ :
فائدہ : اس میں دلیل ہے کہ اموال تجارت میں زکوٰۃ لازم ہے۔
وَمِمَّآ اَخْرَجْنَا لَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ (اور اس میں سے جو ہم تمہارے لئے زمین میں سے نکالیں) یعنی غلہ جات ٗ پھل ٗ معدنیات وغیرہ۔
تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ من طیبات ما اخرجنا لکم۔ ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تمہارے لئے نکالی ہیں۔ البتہ طیبات کے ذکر پر اکتفا کرتے ہوئے اس کو چھوڑ دیا۔
وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ (اور قصد نہ کرو ردی مال کا)…
Read the full tafseer →(تفسیر) 267۔:
(یایھا ۔۔۔۔۔۔ طیبات اے ایمان والو ! اپنی پاکیزہ چیزیں اللہ کے راستے میں خرچ کرو) اپنے اختیار سے خرچ کرو ، ابن مسعود ؓ اور مجاہد (رح) کا قول ہے کہ اس سے حلال اشیاء مراد ہیں ، (ماکسبتم جو تم کماتے ہو) تجارت کے ذریعے سے ہو یا صناعت کے ذریعے سے ہو اور یہ بات دلالت کرتی ہے کہ کمائی کرنا مباح ہے ، کمائی کی دو اقسام ہیں حلال اور حرام ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بیشک پاکیزہ مال وہ ہے جو بندہ اپنی کمائی کرکے کھاتا ہے اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی سے کھاتی ہے ، خالد بن معدان نے مقدام بن معدی کرب ؓ سے روایت کی کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–271
(267 ۔ 271) ۔ حاکم ‘ ترمذی ابن ماجہ ابو داؤد اور نسائی میں معتبر سند سے چند صحابیوں کی روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ لوگ صدقہ دینے میں کچھ تو تنگی کرتے تھے اور کچھ بیکار اور بری چیز صدقہ میں دیتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات غنی ہے 1۔ اس کو تمہارے صدقہ اور تمہاری خیرات کی کچھ پرواہ نہیں ہے صرف تمہارے بھلے کے لئے تم کو خیرات کا حکم دیا ہے تاکہ خالص دل سے تم ایک پیسہ یا ایک پیسہ کی چیز خیرات کرو تو جس قدر تمہارا خلوص ہوا اس کی موافق ایک کے بدلے دس سے سات سو تک تم کو دنیا میں اور بیشمار عقبیٰ میں اجر عنایت فرمائے گا اس طرح کی دل سے اتری ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 266–267
آیت 266
یہ مثال اس شخص کی ہے جو صدقہ وغیرہ نیکی کا کام اللہ کی رضا کے لئے کرتا ہے، پھر کوئی ایسا کام کردیتا ہے جس سے وہ نیکی تباہ ہوجائے۔ اس کی مثال ایک باغ کے مالک کی سی ہے جس کے باغ میں ہر قسم کے پھل ہیں۔ ان میں سے کھجور اور انگور کا ذکر خاص طور پر کیا گیا ہے کیونھ کہ یہ دوسروں سے افضل ہیں اور ان کے فوائد بھی زیادہ ہیں۔ ان کا استعمال خوراک کے طور پر بھی ہوتا ہے اور میوہ کے طور پر (لطف اندوزی کے لئے) بھی ہے۔ اس باغ میں نہریں بھی چل رہی ہیں، جن کی وجہ سے آب پاشی میں کوئی مشقت نہیں ہوتی۔ اس کا مالک اس پر خوشی ہے، لوگ رشک کرتے ہیں۔ یہ آدمی بوڑھا ہوگیا، کام کاج کے قابل نہیں رہا۔ اس لئے اب اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 263–267
کمائی کرنے کا بیان
قول باری ہے (یآ ایھا الذین امنوا انفقوا من طیبات ما کسبتم ومما اخرجنا لکم من الارض ۔ (a) اے ایمان والو ! جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ تم نے زمین سے تمہارے لئے نکالا ہے اس میں سے بہتر حصہ راہ خدا میں خرچ کرو) ۔
اس آیت میں کمائی کی صورتوں کی اباحت کا ذکر ہے اور یہ بیان ہے کہ کمائیوں میں پاکیزہ صورتیں بھی موجود ہیں۔ کمائی دو طرح سے ہوتی ہے۔ اموال اور ان کے منافع کی ادلا بدلی کے ذریعے اور چیزوں سے حاصل شدہ فوائد کی ادلا بدلی کے ذریعے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلی صورت کی اباحت کا کئی مواقع پر صراحتہً ذکر فرمادیا ہے۔
ارشاد ہے (واحل اللہ البیع، (a) اللہ نے بیع یعنی خریدو فروخت کو…
Read the full tafseer →771 اپنی کمائی میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی تعلیم و تلقین : سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ خرچ کرو ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو تم نے کمائی ہیں۔ یعنی اللہ کی راہ میں اور اس کی رضاء کیلئے تم خرچ کرو ایسی پاکیزۃ چیزوں میں سے جو تم نے اپنی محنت و مشقت، صنعت و حرفت، اور کاروبار و تجارت، وغیرہ مختلف ذرائع و وسائل سے کمائی ہیں، بشرطیکہ وہ حلال پاکیزہ اور عمدہ ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی جناب اقدس و اعلیٰ میں ایسی ہی چیزیں شرف قبولیت پاسکتی ہیں۔ اور یہی تقاضا ہے تمہارے ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کا۔ اور یہی تقاضا ہے اس خالق کل اور مالک مطلق کی عبادت و بندگی کا ۔ وباللہ…
Read the full tafseer →اللہ کی راہ میں اچھی چیز دو
تشریح : اس آیت میں صدقہ و خیرات دینے کا ایک اور طریقہ بتایا جارہا ہے کہ جس سے ہمیں اس کا پورا پورا اجر وثواب مل سکے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : اے مسلمانو ! جب بھی تم کوئی چیزخیرات و صدقہ میں کسی غریب محتاج کو دو تو اپنے مال میں سے ایسی بہتر چیز دو جو خود تمہیں پسند ہو اور ایسی چیز ہرگز نہ دو جو اگر تمہیں دی جائے تو تم اس کو لینا پسند نہ کرو۔ سوائے اس کے کہ کسی مجبوری کی وجہ سے وہ خراب اور غیر معیاری چیز تمہیں لینی پڑے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود فیاض ہے اور اپنی مخلوق پر ہر وقت نعمتوں اور برکتوں کی بارش کرتا رہتا ہے تو یہ بات کس طرح درست ہوسکتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–273
آیات 267- 273
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا انفقوا ھن طیبت……………واعلموا ان اللہ غنی حمید۔
اے ایمان والو ! اپنی کمائی سے صاف ستھری چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ اپنی کمائی سے خرچ کرو ، ظاہر ہے کہ کمائی تو حلال ہی ہوگی ورنہ ناجائز ذرائع سے دولت پیدا کرنے کو کسب نہیں کہا جاتا۔ بلکہ ایسے لوگ خود اپنے ناجائز ذرائع کو لوگوں کی نظروں سے بچا کر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ، پھر اس میں سے جو راہ خدا میں دے وہ کھری اور اچھی چیز ہونی چاہیے اگر غلہ یا پھل یا کوئی اور جنس اللہ کی راہ میں دے ، اور اگر حرام مال سے دے گا توہ عنداللہ مقبول ہی نہیں ہوگا۔ کہ ایک حدیث پاک میں ارشاد ہے کہ برے کو…
Read the full tafseer →ف 2 اوپر کی آیات میں بتایا ہے کہ صدق ہ و خیرات اور انفاق فی سبیل اللہ کی قبولیت کے لیے شرط یہ ہے کہ اخلاص و ایمان ہو اور یہ بھی بتایا ہے کہ ریاری احسان جتلانے اور تکلیف دینے سے صدقہ ضائع ہوجاتا ہے اور پھر مثالوں سے وضاحت کر کے سمجھا یا ہے۔ (کبیر) اب اس آیت میں قبولیت صدقہ کے لیے ایک اور شرط بیان کی ہے کہ صدقہ میں دی جانے والی چیز کا عمدہ اور طیب ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص ردی چیز دے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول نہ ہوگی حضرت برابن عازب ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ہم انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے جب کھجور کا موسم آجاتا تو کچھلوگ کھجوروں کی ڈالیا لا کر مسجد نبوی کے ستونوں پر لٹکا جاتے۔ اصحاب…
Read the full tafseer →انفقوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ انفاق (افعال) مصدر تم خرچ کرو۔
طیبت۔ طیبۃ۔ کی جمع ہے مؤنث کا صیغہ ہے۔ اس کا مذکر طیب ہے جو طاب بطیب (باب ضرب) طیب مصدر سے صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ اس کے معنی ہیں پاک ۔ پاکیزہ۔ ستھرا۔ حلال ۔ طیبت ستھری چیزیں۔ نفیس اشیائ۔ پاکیزہ چیزیں ۔ عمدہ چیزیں۔ من طیبت ما کسبتم۔ من حرف جار طیبت مضاف ما موصولہ کسبتم اس کا صلہ موصول و صلہ مل کر مضاف الیہ۔ مضاف و مضاف الیہ مل کر مجرور۔
وہ جو تم نے کمایا اس میں سے پاکیزہ عمدہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو۔ من تبعیضیہ ہے۔
ومما ۔۔ الخ واؤ عاطفہ۔ مما مرکب ہے من تبعیضیہ اور ما موصولہ سے۔ اور نیز وہ چیزیں خرچ کرو جو ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–270
لغات القرآن : آیت نمبر 267 تا 270
طیبت (طیبۃ، پاکیزہ) لا تیمموا (تم نیت نہ کرو، تم نہ چھانٹو) ۔ الخبیث (گندی چیز) ۔ لستم (تم نہ ہوں) ۔ باخذیہ (اس کو لینے والے (ب، اخذین ، ہ) ۔ ان تغمضوا (یہ کہ تم آنکھیں بند کرلو) ۔ یعد (وعدہ کرتا ہے) ۔ الفقر (تنگی، محتاجی) ۔ الحکمۃ (عقل و دانائی اور سمجھ کی بات) ۔ یؤت (دیا گیا) ۔ نذرتم (تم نے منت مانی) ۔ انصار (مددگار) ۔
تشریح : آیت نمبر 267 تا 270
ان آیتوں کو سمجھنے سے پہلے خراج اور عشر کو سمجھ لینا چاہئے۔ کیونکہ پہلی ہی آیت میں زمین سے پیداوار پر اس میں سے خرچ کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے ۔ غیر مسلموں کی زمین سے پیدا وار پر جو حصہ لیا جاتا ہے اس کو خراج کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–271
صدقہ کا طریقہ شان نزول : حاکم، ترمذی، ابن ماجہ، ابوداؤد اور نسائی میں معتبر سند سے چند صحابیوں سے روایتیں ہیں۔ جن کا حاصل یہ ہے کہ لوگ صدقہ دینے میں کچھ تو تنگی کرتے تھے اور بیکار بری چیز صدقہ دیتے تھے، ان پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جتلایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات غنی ہے۔ اس کو تمہاری خیرات کی کچھ پروا نہیں ہے۔ صرف تمہارے بھلے کے لئے تم کو خیرات کا حکم دیا ہے تاکہ خالص دل سے تم ایک پیسہ یا ایک پیسہ کی چیز کی خیرات کرو تو جس قدر تمہارا خلوص ہے اس کے موافق ایک کے بدلے دس سے سات سو تک تم کو دنیا میں اور بیشمار عقبیٰ میں اجر عنایت فرماوے۔ اسی طرح دل سے اتری ہوئی ( بےکار) چیزیں اگر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 266–268
[180] یعنی جس طرح ایک آدمی اپنی ساری عمر باغ لگانے میں صرف کر دے اور سمجھے کہ اس کی پیداوار بڑھاپے میں کام آئے گی لیکن جب بڑھاپا آئے تو دیکھے کہ سارا باغ جل کر ویران ہوگیا ہے ایسا ہی حال اس شخص کا ہے جو ساری عمر دکھاوے کی نیکیاں کرتا رہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ عاقبت میں کام آئیں گی لیکن جب عاقبت کا دن آئے گا تو دیکھے گا کہ اس کی ساری محنت رائیگاں گئی اور کوئی چیز بھی اس کے دفتر عمل میں ایسی نہیں جو اس کے کام آسکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 265–267
(ف 1) ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا کی راہ میں پاکیزہ چیزیں دو گری پڑی اشیاء کا تصدق کسی طرح موزوں نہیں ۔ اس لئے کہ جب تک اللہ کی راہ میں دینے سے دل تکلیف محسوس نہ کرے نفس اور ضمیر میں ایک جنگ بپانہ ہو ، نفس کی اصلاح نہیں ہو سکتی اور نہ بخل دور ہو سکتا ہے ، یہ ظاہر ہے کہ خدائے تعالیٰ رب السموت والارض ہے جس کے خزانے معمور ہیں ، ہمارے صدقات کا قطعا محتاج نہیں ، وہ تو غنی ہے ، بےنیاز ہے ، اس لئے تقاضا یہ ہے کہ خدا کی راہ میں دے کر ہمیں کیا ملتا ہے ؟ کیا طبعیت کا بخل دور ہوگیا ہے ؟ کیا دل میں خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے آمادگی کا احساس بڑھ گیا ہے یا کیا ؟ پھر فرمایا کہ تم دنیا میں تحائف…
Read the full tafseer →ف 2 اے ایمان والو ! تم اپنی کمائی میں سے اور ان چیزوں میں سے جو ہم نے تمہارے بھلے کے لئے زمین سے نکالی اور پیدا کی ہیں اچھی عمدہ اور حلال چیزیں خدا کی راہ میں خرچ کیا کرو اور ناکارہ اور نکمی چیزوں کا قصد اور ارادہ نہ کیا کرو کہ ان میں سے خدا کی راہ میں خرچ کرو حالانکہ تم خود کبھی اس خراب اور ناکارہ چیز کو لینے پر آمادہ نہیں ہوتے مگر ہاں اس کے لینے میں چشم پوشی اور رعایت سے کام لو تو یہ دوسری بات ہے اور اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری خیرات سے مستغنی ہے وہ تمہاری خیرات کا محتاج نہیں ہے اور وہ جملہ صفات کمالیہ سے متصف اور سزا وار حمد و ثنا ہے۔ (تیسیر)
یہاں طیب کو خبیث کے مقابلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–269
ف 2۔ یہ اس شخص کے لیے جس کے پاس عمدہ چیز ہو اور پھر وہ بری اور نکمی چیز خرچ کرے اور جس کے پاس اچھی چیز ہو ہی نہیں وہ اس ممانعت سے بری ہے اور اس کی وہ بری مقبول ہے۔
Read the full tafseer →جائز طریقوں سے کمائے ہوئے حلال مال میں سے وہ خرچ کرو جو بڑھیا ہو :
466: ” كَسَبْتُمْ “ کسب وہ ہے جس میں انسان اپنے آپ کو لگاتا ہے ، جس سے نفع اٹھانے اور فائدہ حاصل کرنے کی غرض ہو۔ ” طَیِّبٰتِ “ کا اطلاق صرف پاک کمائی ہی پر ہو سکتا ہے۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ زکوٰۃ اسی مال پر ہے جو اپنا کمایا ہوا ہو گویا لفظ ” کسب “ کے اندر بہت کچھ آگیا اور ” طیب “ کی قید نے مزید وضاحت کردی مثلاً باسی روٹی یا سالن پڑا ہے لیکن سڑ نہیں گیا ، اس میں بُو نہیں آتی ، کھانا چاہے تو کھایا جاسکتا ہے ، حلال ہے لیکن جب تازہ روٹی اور تازہ سالن بھی موجود ہوگا تو اس کی موجودگی میں وہ باسی روٹی گویا طیب نہ رہی۔ وہ مال…
Read the full tafseer →Commentary
The preceding section dealt with spending in the way of Allah. Now further details related to this appear in the seven verses of the present section. These are as follows:
(1) Verse 267 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا (الٰی قولہ) غَنِيٌّ حَمِيدٌ:O those who believe, spend ... Allah is A11-Independent, Ever-Praised.'
On the basis of the circumstances in which this verse was revealed, the word: (tayyib: plural, tayyibat طَيِّبَاتِ ) has been interpreted to mean 'good' since some people used to bring things which were bad and that was why this verse was revealed. Some…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 267–268
308. It is obvious that He Who is invested with the best attributes cannot be appreciative of those possessed of low and evil qualities. God is, for instance, Generous and Beneficent, and constantly showers His favours and bounties on His creatures. How is it possible for Him, then, to love those who are mean, niggardly and vicious?
Read the full tafseer →