Al-Baqara 2:266

Al-Baqara · from ayah 266

2:266

اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّاَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ۙ— لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ ۙ— وَاَصَابَهُ الْكِبَرُ وَلَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ ۪ۖ— فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ ؕ— كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ ۟۠اَيَوَدُّ اَحَدُكُمۡ اَنۡ تَكُوۡنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّاَعۡنَابٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُۙ لَهٗ فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ الثَّمَرٰتِۙ وَاَصَابَهُ الۡكِبَرُ وَلَهٗ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَآءُ ۖۚ فَاَصَابَهَاۤ اِعۡصَارٌ فِيۡهِ نَارٌ فَاحۡتَرَقَتۡ‌ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَتَفَكَّرُوۡنَ

بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لئے ہر قسم کے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آپکڑے اور اس کے ننھے ننھے بچے بھی ہوں۔ تو (ناگہاں) اس باغ پر آگ کا بھرا ہوا بگولا چلے اور وہ جل کر (راکھ کا ڈھیر ہو) جائے۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو (اور سمجھو)

— Fateh Muhammad Jalandhari

Would one of you like to have a garden of palm trees and grapevines underneath which rivers flow in which he has from every fruit? But he is afflicted with old age and has weak offspring, and it is hit by a whirlwind containing fire and is burned. Thus does Allah make clear to you [His] verses that you might give thought.

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 36 of surah · Ruku 4 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:266

کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس ایک ہرا بھرا باغ ہو، نہروں سے سیراب، کھجوروں اور انگوروں اور ہرقسم کے پھلوں سے لدا ہوا، اور وہ عین اُس وقت ایک تیز بگولے کی زد میں آ کر جھلس جائے، جبکہ وہ خود بوڑھا ہو اور اس کے کم سن بچے ابھی کسی لائق نہ ہوں؟ اس طرح اللہ اپنی باتیں تمہارے سامنے بیان کرتا ہے، شاید کہ تم غور و فکر کرو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لئے ہر قسم کے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آپکڑے اور اس کے ننھے ننھے بچے بھی ہوں۔ تو (ناگہاں) اس باغ پر آگ کا بھرا ہوا بگولا چلے اور وہ جل کر (راکھ کا ڈھیر ہو) جائے۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو (اور سمجھو)

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا تم میں سے کوئی بھی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو، جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور ہر قسم کے پھل موجود ہوں، اس شخص کا بڑھاپا آگیا ہو، اس کے ننھے ننھے سے بچے بھی ہوں اور اچانک باغ کو بگوﻻ لگ جائے جس میں آگ بھی ہو، پس وه باغ جل جائے، اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آیتیں بیان کرتا ہے تاکہ تم غوروفکر کرو

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں (اور) اس کو اس باغ میں اور بھی ہر طرح کے پھل حاصل ہوں، اور بڑھاپے نے اسے آپکڑا ہو، اور اس کے بچے ابھی کمزور ہوں، اتنے میں ایک آگ سے بھرا بگولا آکر اس کو اپنی زد میں لے لے اور پورا باغ جل کر رہ جائے ؟ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم غور کرو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا تم میں کوئی اسے پسند رکھے گا کہ اس کے پاس ایک باغ ہو کھجوروں اور انگوروں کا جس کے نیچے ندیاں بہتیں اس کے لئے اس میں ہر قسم کے پھلوں سے ہے اور اسے بڑھاپا آیا اور اس کے ناتوان بچے ہیں تو آیا اس پر ایک بگولا جس میں آگ تھی تو جل گیا ایسا ہی بیان کرتا ہے اللہ تم سے اپنی آیتیں کہ کہیں تم دھیان لگاؤ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں اس کے لئے اس میں (کھجوروں اور انگوروں کے علاوہ بھی) ہر قسم کے پھل ہوں اور (ایسے وقت میں) اسے بڑھاپا آپہنچے اور (ابھی) اس کی اولاد بھی ناتواں ہو اور (ایسے وقت میں) اس باغ پر ایک بگولا آجائے جس میں (نِری) آگ ہو اور وہ باغ جل جائے (تو اس کی محرومی اور پریشانی کا عالم کیا ہو گا)، اسی طرح اﷲ تمہارے لئے نشانیاں واضح طور پر بیان فرماتا ہے تاکہ تم غور کرو (سو کیا تم چاہتے ہو کہ آخرت میں تمہارے اعمال کا باغ بھی ریاکاری کی آگ میں جل کر بھسم ہو جائے اور تمہیں سنبھالا دینے والا بھی کوئی نہ ہو)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو، جس کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں، اس کے لیے اس میں ہر قسم کے کچھ نہ کچھ پھل ہوں اور اسے بڑھاپا آپہنچے اور اس کے کمزور بچے ہوں، پھر اسے ایک بگولا آپہنچے، جس میں ایک آگ ہو تو وہ بالکل جل جائے۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے کھول کر آیات بیان کرتا ہے، تاکہ تم سوچو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کا کھجور اور انگور کا ایک باغ ہو جس میں ہر طرح کے میوے پیدا ہوتے ہوں اور اسے بڑھاپا آلے اور اس کی اولاد چھوٹی چھوٹی ہو۔ (ان حالات میں) اس کے باغ کو ایک بگولا آلے جس میں آگ ہو اور وہ باغ کو جلا ڈالے ؟ اللہ تعالیٰ اسی انداز سے اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم (ان میں) غور و فکر کرو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا تم میں سے کوئی بھی یہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو، نیچے اس کے نہریں بہہ رہی ہوں، اس میں اس کے واسطے ہر قسم کے پھل ہوں اور وہ بوڑھا ہوجائے اور اس کے بچے ابھی ناتواں ہوں اور باغ پر سموم کا بگولا پھرجائے اور وہ جل کر خاک ہوجائے۔ اللہ اس طرح اپنی باتیں تمہارے لیے واضح کرتا ہے تاکہ تم غور کرو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا تم میں سے کوئی شخص (اپنے لئے) یہ بات پسند کرے گا کہ اس کے لئے ایک ایسا (عمدہ اور ہرا بھرا) باغ کھجوروں اور انگوروں کا، کہ اس کے نیچے سے بہہ رہی ہوں نہریں، اور اس کے لئے اس میں ہر قسم کے پھل ہوں، اور آپہنچے اس کو بڑھاپا (اپنی بیماریوں اور کمزوریوں کے ساتھ) اور اس کی ضعیف (و ناتواں) اولاد بھی ہو، ایسے میں آپہنچے اس باغ کو ایک ایسا بگولہ جس میں آگ ہو، جس سے وہ باغ جل کر (راکھ ہو) جائے، اللہ اسی طرح کھول کر بیان فرماتا ہے تمہارے لئے اپنی آیتوں کو، تاکہ تم لوگ غور و فکر سے کام لو،

— مولانا اسحاق مدنی

کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کا ایک باغ کھجوروں اور انگوروں کا ہو جس کے نیچے نہریں پڑی بہہ رہی ہوں (اور) اس کے ہاں اس باغ میں (اور بھی) ہر قسم کے میوے ہوں اور اس کا بڑھاپا آچکا ہو اور اس کے عیال کمزور ہوں اس (باغ) پر ایک بگولا آئے کہ اس میں آگ ہو تو وہ (باغ) جل جائے اللہ اسی طرح تمہارے لیے کھول کر نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم فکر سے کام لو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو جس کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں اس کے لیے اس باغ میں ہر طرح کے پھل ہوں اور اس پر بڑھاپا طاری ہوجائے جبکہ اس کی اولاد ابھی ناتواں ہو اور عین اس وقت اس باغ پر ایک ایسا بگولا پھرجائے جس میں آگ ہو اور وہ باغ جھلس کر رہ جائے ؟ اس طرح اللہ تعالیٰ اپنی آیات تمہارے لیے واضح کرتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو اس کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور عین اس وقت ایک تیز بگولے کی زد میں آکر بھسم ہوجائے، جبکہ وہ خود بوڑھا ہو اور اس کے بچے کمسن جو ابھی کسی لائق نہ ہوں اس طرح اللہ اپنی باتیں تمہارے سامنے بیان کرتا ہے۔ شاید کہ تم غور و فکر کرو

— محترمہ رفعت اعجاز

Would anyone of you wish that he should have a green garden of palm trees and vines, watered by canals and laden with all sorts of fruit and then it should be consumed by a fiery whirlwind at the very time when he himself has grown very old and his small children are too feeble to earn anything? Thus Allah makes His revelations clear and plain to you that you may ponder over them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Would any of you wish to have a garden of dates and grapes, with rivers flowing beneath it, in which there are all kinds of fruit for him, and old age befalls him, and he has children who are (too) weak (to earn livelihood) , then a whirlwind comes upon it with fire in it, and it is all burnt? This is how Allah makes the signs clear to you, so that you may ponder.

— Muhammad Taqi Usmani

Would any of you wish to have a garden of dates and grapes, with rivers flowing beneath it, in which there are all kinds of fruit for him, and old age befalls him, and he has children who are (too) weak (to earn livelihood) , then a whirlwind comes upon it with fire in it, and it is all burnt? This is how Allah makes the signs clear to you, so that you may ponder.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Would any of you wish to have a garden with date palms and vines, with rivers flowing underneath, and all kinds of fruits for him therein, while he is striken with old age, and his children are weak (not able to look after themselves), then it is struck with a fiery whirlwind, so that it is burnt Thus does Allah make clear His Ayat to you that you may give thought.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Would any of you like to have a garden of palm-trees and vines, with rivers flowing underneath it, with all kinds of fruit for him therein; and old age hath stricken him and he hath feeble offspring; and a fiery whirlwind striketh it and it is (all) consumed by fire. Thus Allah maketh plain His revelations unto you, in order that ye may give thought.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Would one of you like to have a garden of palm trees and grapevines underneath which rivers flow in which he has from every fruit? But he is afflicted with old age and has weak offspring, and it is hit by a whirlwind containing fire and is burned. Thus does Allah make clear to you [His] verses that you might give thought.

— Saheeh International

(What do you think of the case) of one of you who wishes to have a garden of palm-trees and grapes with water flowing therein and producing all kinds of fruits, especially if he is well advanced in age and has weak children who need support, and then a hurricane with fire in it strikes the garden and burns it to the ground? This is how God explains to you His evidence so that you may think.

— Muhammad Sarwar

Does one of you like that he should have a garden of palms and vines with streams flowing beneath it; he has in it all kinds of fruits; and old age has overtaken him and he has weak offspring, when, (lo!) a whirlwind with fire in it smites it so it becomes blasted; thus Allah makes the communications clear to you, that you may reflect.

— Muhammad Habib Shakir

Fain would any of you that there be for him a garden of date-palms and grape-vines whereunder rivers flow end with every fruit therein for him, and that old age should befall him while he hath a progeny of weaklings, and that a whirlwind wherein is fire should then smite it, so that it is all consumed! In this wise Allah expoundeth unto you the signs that haply ye may ponder.

— Abdul Majid Daryabadi

Does any of you wish that he should have a garden with date-palms and vines and streams flowing underneath, and all kinds of fruit, while he is stricken with old age, and his children are not strong (enough to look after themselves)- that it should be caught in a whirlwind, with fire therein, and be burnt up? Thus doth Allah make clear to you (His) Signs; that ye may consider.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:266

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

کفر اور بڑھاپا صحیح بخاری شریف میں ہے کہ امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب نے ایک دن صحابہ سے پوچھا جانتے ہو کہ یہ آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی ؟ انہوں نے کہا اللہ زیادہ جاننے والا، آپ نے ناراض ہو کر فرمایا تم جانتے ہو یا نہیں ؟ اس کا صاف جواب دو ، حضرت ابن عباس نے فرمایا امیرالمومنین میرے دل میں ایک بات ہے آپ نے فرمایا بھتیجے کہو اور اپنے نفس کو اتنا حقیر نہ کرو، فرمایا ایک عمل کی مثال دی گئی ہے، پوچھا کون سا عمل ؟ کہا ایک مالدار شخص جو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے کام کرتا ہے پھر شیطان اسے بہکاتا ہے اور وہ گناہوں میں مشغول ہوجاتا ہے اور اپنے نیک اعمال کو کھو دیتا ہے، پس یہ روایت اس آیت کی پوری…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 307 یعنی اگر تم یہ پسند کرتے کہ تمہاری عمر بھر کی کمائی ایک ایسے نازک موقع پر تباہ ہوجائے، جبکہ تم اس سے فائدہ اٹھانے کے سب سے زیادہ محتاج ہو اور ازسر نو کمائی کرنے کا موقع بھی باقی نہ رہا ہو، تو یہ بات تم کیسے پسند کر رہے ہو کہ دنیا میں مدت العمر کام کرنے کے بعد آخرت کی زندگی میں تم اس طرح قدم رکھو کہ وہاں پہنچ کر یکایک تمہیں معلوم ہو کہ تمہارا پورا کارنامہ حیات یہاں کوئی قیمت نہیں رکھتا، جو کچھ تم نے دنیا کے لیے کمایا تھا، وہ دنیا ہی میں رہ گیا، آخرت کے لیے کچھ کما کر لائے ہی نہیں کہ یہاں اس کے پھل کھا سکو۔ وہاں تمہیں اس کا کوئی موقع نہ ملے گا کہ ازسرنو اب آخرت کے لیے کمائی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

چھٹی آیت میں صدقہ و خیرات میں شرائط مذکورہ کی خلاف ورزی کرنے پر صدقہ کے باطل و مردود ہونے کا بیان بھی ایک مثال میں اس طرح واضح فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی کو یہ بات پسند ہے کہ اس کا ایک باغ ہو کھجور اور انگوروں کا اس کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور اس شخص کے باغ میں ہر قسم کے میوے ہوں اور اس شخص کا بڑھاپا آگیا ہو اور اس کے اہل و عیال بھی ہوں جن میں قوت نہیں ان حالات میں اس باغ پر ایک بگولہ آوے میں جس میں آگ ہو پھر وہ باغ جل جاوے اللہ تعالیٰ اسی طرح نظائر بیان فرماتے ہیں تمہارے لئے تاکہ تم سوچا کرو۔ مطلب یہ ہے کہ خلاف شرائط صدقہ کرنے کی مثال ایسی ہی ہے کہ بظاہر وہ صدقہ کرکے آخرت کے لئے بہت سا ذخیرہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

باغ کے معاملے میں اہل عرب کا ذوق : جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّاَعْنَابٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ۙ لَهٗ فِيْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ یہ عرب کے تصور کے مطابق ایک اچھے باغ کی تصویر ہے۔ ان کے ہاں اچھے باغ کا تسور یہ ہے کہ اس کے کنارے کنارے کھجوروں کے درخت ہوں، بیچ میں انگور کی بیلیں ہوں، مناسب مواقع سے مختلف فصلوں کی کاشت کے لیے قطعات ہوں، باغ بلندی پر ہو، اس کے نیچے نہر بہہ رہی ہو جس کی نالیاں باغ کے اندر دوڑا دی گئی ہوں۔ قرآن نے دوسری جگہ ایک باغ کی تصویر اس طرح کھینچی ہے۔ جَعَلْنَا لأحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ أَعْنَابٍ وَحَفَفْنَاهُمَا بِنَخْلٍ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرْعًا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

266۔ 1 اسی ریاکاری کے نقصانات کو واضح کرنے اور اس سے بچنے کے لیے مزید مثال دی جا رہی ہے جس طرح ایک شخص کا باغ ہو جس میں ہر طرح کے پھل ہوں (یعنی بھرپور آمدنی کی امید ہو) وہ شخص بوڑھا ہوجائے اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں ضعیفی کی وجہ سے محنت اور مشقت سے عاجز ہوچکا ہو اور اولاد بھی اسکے بڑھاپے کا بوجھ اٹھانے کی بجائے خود اپنا بوجھ اٹھانے کے قابل بھی نہ ہو اس حالت میں تیز اور تند ہوائیں چلیں اور سارا باغ جل جائے اب نہ وہ خود دوبارہ اس باغ کو آباد کرنے کے قابل رہا اور نہ اس کی اولاد یہی حال ان ریاکار خرچ کرنے والوں کا قیامت کے دن ہوگا کہ نفاق و ریاکاری کی وجہ سے ان کے سارے اعمال اکارت چلے جائیں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 266–271

181: صدقات کو برباد کرنے کی یہ دوسری مثال ہے۔ جس طرح ایک آگ سے بھرا بگولا ہرے بھرے باغ کو یکایک تباہ کر ڈالتا ہے، اسی طرح ریاکاری یا صدقہ دے کر احسان جتلانا یا کسی اور طرح غریب آدمی کو ستانا صدقے کے عظیم ثواب کو برباد کر ڈالتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہاں صدقہ کو اپنی حقیقت اور اپنے آثار کے اعتبار سے ایک محسوس شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَأَعْنَابٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ لَهُ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ ................ ” یہ صدقہ گویا ایک باغ ہے جو نہروں سے سیراب ہے ۔ کھجوروں اور انگوروں اور ہر قسم کے پھلوں سے لدا ہوا۔ “ اس کی چھاؤں گھنی ہے ، خوشگوار اور تروتازہ ہے ۔ اس میں ہر قسم کے پھل کثرت سے ہیں جس طرح یہ باغ مفید ہے اس طرح صدقہ بھی مفید اور فائدہ بخش اور فرحت بخش تھا ۔ یہ صدقہ دینے والے کے لئے بھی مفید تھا ۔ لینے والے کے لئے بھی مفید تھا اور پورے معاشرے کے لئے بھی مفید تھا ۔ جس کے روحانی فائدے بیشمار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یہ مثال ان کی ہے جو لوگوں کو دکھانے کو صدقہ خیرات کرتے ہیں یا خیرات کر کے احسان رکھتے ہیں اور ایذاء پہنچاتے ہیں یعنی جیسے کسی شخص نے جوانی اور قوت کے وقت باغ تیار کیا تاکہ ضعیفی اور بڑھاپے میں اس سے میوہ کھائے اور ضرورت کے وقت کام آئے۔ پھر جب بڑھاپا آیا اور میوے کی پوری حاجت ہوئی تب وہ باغ عین حالت احتیاج میں جل گیا یعنی صدقہ مثل باغ میوہ دار کے ہے کہ اس کا میوہ آخرت میں کام آئے۔ جب کسی کی نیت بری ہے تو وہ باغ جل گیا پھر اس کا میوہ جو ثواب ہے کیونکر نصیب ہو حق سبحانہ، اسی طرح کھول کر سمجھاتا ہے تم کو آیتیں تاکہ غور کرو اور سمجھو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 266 اَیَوَدُّ اَحَدُکُمْ اَنْ تَکُوْنَ لَہٗ جَنَّۃٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّاَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ لا اہل عرب کے نزدیک یہ ایک آئیڈیل باغ کا نقشہ ہے ‘ جس میں کھجور کے درخت بھی ہوں اور انگور کی بیلیں بھی ہوں ‘ پھر اس میں آب پاشی کا قدرتی انتظام ہو۔ لَہٗ فِیْہَا مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ لا وَاَصَابَہُ الْکِبَرُ وَلَہٗ ذُرِّیَّۃٌ ضُعَفَآءُص فَاَصَابَہَآ اِعْصَارٌ فِیْہِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ ط یعنی ایک انسان ساری عمر یہ سمجھتا رہا کہ میں نے تو نیکیوں کے انبار لگائے ہیں ‘ میں نے خیراتی ادارے قائم کیے ‘ میں نے فاؤنڈیشن بنائی ‘ میں نے مدرسہ قائم کیا ‘ میں نے یتیم خانہ بنادیا ‘ لیکن…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

382 ایک دفعہ حضرت عمر ؓ نے صحابہ ؓ سے اس آیت کا مطلب پوچھا : صحابہ ؓ نے کہا واللہ اعلم حضرت عمر ؓ نے غصہ سے کہا (یہ کیا بات ہوئی) صاف کہو کہ ہمیں معلوم ہے یا نہیں معلوم۔ اس وقت ابن عباس ؓ کہنے لگے : امیر المومنین ! میرے دل میں ایک بات آئی ہے آپ نے کہا : بھتیجے بیان کرو اور اپنے آپ کو چھوٹا نہ سمجھو۔ ابن عباس ؓ کہنے لگے : اللہ نے یہ عمل کی مثال بیان کی ہے۔ حضرت عمر ؓ نے پوچھا : کون سے عمل کی ؟ ابن عباس ؓ اس کا کچھ جواب نہ دے سکے تو حضرت عمر ؓ نے کہا : یہ ایک مال دار شخص کی مثال ہے جو اللہ کی اطاعت میں عمل کرتا رہتا ہے۔ پھر اللہ شیطان کو اس پر غالب کردیتا ہے وہ گناہوں میں مصروف ہوجاتا ہے اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1040 ۔ (اور اپنے انجام کو سوچ کر اس کے مطابق عمل کرتے رہو) (آیت) ’ ’ میں نخیل واعناب “۔ تصریح کے ساتھ نام انہیں میووں کا لیا گیا جو اہل عرب کے لیے خاص اہمیت اور خصوصی معنویت رکھتے تھے ملاحظہ ہوں حواشی تفسیر انگریری۔ (آیت) ” تحتھا الانھر “۔ یہ ظاہر کرنے کو ہے کہ وہ باغ خوب سرسبز و شاداب بھی تھا۔ (آیت) ” من کل الثمرت “۔ یہ مالک باغ کی مرفہ الحالی اور شان غنا ظاہر کرنے کو ہے۔ (آیت) ”‘ اصابہ الکبر “۔ یعنی وہ مالک باغ اب محنت ومشقت کے قابل نہ رہے۔ تمثیل کے پیرایہ میں بیان اس کا ہے کہ قیامت کا دن آجائے اور اس شخص کی عمل سے معذوری اس پر عیاں ہوجائے (آیت) ” ذریۃ ضعفآء “۔ یعنی اولاد بھی اس قابل نہ ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

اَیَوَدُّ اَحَدُکُمْ أَنآ تَکُوْنَ لَہٗ جَنَّۃٌ، یعنی اگر تم یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہاری عمر بھر کی کمائی ایک ایسے نازک موقع پر تباہ ہوجائے جب کہ تم اس سے فائدہ اٹھانے کے سب سے زیادہ محتاج ہو اور ازسرنو کمائی کرنے کا موقع بھی باقی نہ رہا ہو تو تم یہ بات کیسے پسند کر رہے ہو کہ دنیا میں مدت العمر عمل کرنے کے بعد آخرت کی زندگی میں تم اس طرح قدم رکھو کہ وہاں پہنچ کر یکایک تمہیں معلوم ہو کہ تمہارا پورا کارنامہ حیات یہاں کوئی قیمت نہیں رکھتا، جو کچھ تم نے دنیا کے لیے کمایا تھا وہ دنیا ہی میں رہ گیا آخرت کے لیے کچھ کما کر لائے ہی نہیں کہ یہاں اس کے پھل کھا سکو، آخرت میں تمہیں اس کا کوئی موقع نہ ملے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اَيَوَدُّ اَحَدُكُمْ : ہمزۂ استفہامیہ انکاریہ ہے اور اس آیت کا ارتباط آیت : لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِکُمْ بالْمَنِّ وَالْاَذَی سے ہے۔ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّاَعْنَابٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ۙ لَهٗ فِيْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ ۔ باغ میں درخت تو دوسرے بھی ہیں لیکن کھجور و انگور کی فضیلت اور ان کے منافع کی کثرت کی وجہ سے خصوصیت کے ساتھ انہی دونوں پھلوں کا ذکر کیا اور آخر میں فیھا من کل الثمرات بھی اس لیے فرما دیا کہ کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ باغ میں صرف کھجوریں اور انگور ہی ہیں اور کوئی پھل نہیں ہے یعنی اگر تم میں سے کسی کا ایک باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(266) بھلا تم میں سے کسی شخص کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ اس کے پاس انگوروں کا باغ ہو اور درختوں اور مکانات کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں اور اس باغ میں مختلف قسموں کے پھل ہوں پھر وہ بڑھاپے کی وجہ سے کسی کام کا نہ رہے اور اچانک یہ باغ ایک گرم یا ٹھنڈے بگولے کی لپیٹ میں آجائے، جس سے وہ بالکل ختم ہوجائے (تم میں سے کوئی بھی شخص یہ چیز گوارا نہیں کرسکتا) اللہ تعالیٰ اوامرو نواہی کی یہ نشانیاں بیان فرماتے ہیں تاکہ قرآنی مثالوں پر غور کرو، آخرت میں کافروں کی یہی مثال ہوگی کہ وہاں بغیر کسی تدبیر کے باقی رہ جائے گا اور نہ دنیا ہی میں پھر لوٹ کر آنے کا موقع ملے گا جیسا کہ بوڑھا بغیر تدبیر کے رہ جاتا ہے کہ اب…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَيَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ۔۔ : یعنی بڑھاپے میں باغ جلنے پر نہ خود اس میں اتنی طاقت ہے کہ باغ دوبارہ لگا سکے اور نہ اس کی اولاد اس قابل ہے کہ اس کی مدد کرسکے، اسی طرح منافق صدقہ و خیرات کرتا ہے مگر ریا کاری سے کام لیتا ہے تو قیامت کے دن، جو نہایت احتیاج کا وقت ہوگا، اس کا ثواب ضائع ہوجائے گا اور اس وقت ثواب حاصل کرنے کے لیے دوبارہ نیکی کا وقت بھی نہیں ہوگا۔ صحیح بخاری میں ابن عباس ؓ سے اس کی ایک دوسری تفسیر آئی ہے، جس کی تائید عمر ؓ نے کی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ یہ مثال اس شخص کی ہے جو عمر بھر نیک عمل کرتا رہتا ہے، لیکن آخر عمر میں اس کی سیرت بدل جاتی ہے اور نیک عمل کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 266۔ قولہ تعالیٰ (آیت) ” ایود احدکم ان تکون لہ جنۃ من نخیل واعناب “۔ الایۃ طبری نے سدی سے بیان کیا ہے کہ یہ آیت ریا کے نفقہ کی دوسری مثال ہے اور آپ نے اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : اور حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہی روایت ہے، آپ نے بیان فرمایا : یہ مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے ریاکاروں کے اعمال کے بارے بیان فرمائی ہے جنہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ باطل کر دے گا جن کی طرف وہ زیادہ محتاج ہوگا، جیسا کہ اس آدمی کی مثال جس کا ایک باغ ہو اور اس کے بچے ہوں اور وہ اسے کوئی نفع اور فائدہ نہ دیں اور وہ بوڑھا ہوجائے اور باغ کو بگولہ آپہنچے یعنی ایسی تیز آندھی جس میں آگ ہو اور وہ جل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن المبارک نے زہد میں، عبد بن حمید، بخاری، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے ایک دن نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے پوچھا یہ آیت لفظ آیت ” ایود احدکم ان تکون لہ جنۃ “ کس کے بارے میں نازل ہوئی ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا اللہ تعالیٰ ہی جاننے والے ہیں، (یہ جواب سن کر) حضرت عمر ؓ غضبناک ہوگئے اور فرمایا تم یوں کہو ہم جانتے ہیں یا نہیں جانتے ؟ ابن عباس ؓ نے فرمایا اے امیر المؤمنین ! میرے دل میں ایک خیال ہے حضرت عمر ؓ نے فرمایا یہ عمل کے لیے مثال بیان کرو اور اپنے آپ کو حقیر نہ سمجھو۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا (بس) عمل کے لیے حضرت عمر ؓ نے فرمایا اس غنی آدمی کے لیے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَیَوَدُّ : کیا چاہتا ہے ] [اَحَدُکُمْ : تم میں کا (کوئی) ایک ] [اَنْ : کہ ] [تَـکُوْنَ : ہو ] [لَـہٗ : اس کے لیے ] [جَنَّــۃٌ : ایک باغ ] [مِّنْ نَّخِیْلٍ : کچھ کھجوروں سے ] [وَّاَعْنَابٍ : اور کچھ انگوروں سے ] [تَجْرِیْ : بہتی ہوں ] [مِنْ تَحْتِہَا : ان کے نیچے سے ] [الْاَنْہٰرُ : نہریں ] [ لَـہٗ : اس کے لیے ہو ] [فِیْہَا : اس میں ] [مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ : تمام پھلوں میں سے (ایک حصہ) ] [وَاَصَابَہُ : اور آلگے اس کو ] [الْـکِبَرُ : بڑھاپا ] [وَ : اس حال میں کہ ] [لَـہٗ : اس کی ہوں ] [ذُرِّیَّـۃٌ ضُعَفَآئُ : کچھ کمزور اولادیں ] [فَاَصَابَہَآ : پھر آ لگے اس کو ] [اِعْصَارٌ : ایک بگولہ ]…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

عبادات اور طاعات کو باطل کردینے والوں کی مثال اس آیت شریفہ میں ان لوگوں کے بارے میں ایک مثال بیان فرمائی ہے۔ جو اعمال صالحہ انجام دیتے ہیں لیکن ان کو ریا کاری یا مَنّ و اذیٰ کی وجہ سے یا کسی ایسے عمل کے کرنے سے جو حبط اعمال کا سبب ہو برباد کردیتے ہیں، ارشاد فرمایا کہ کسی شخص کا باغ ہو جس میں کھجوروں اور انگوروں کے درخت ہوں اور ان کے علاوہ بھی ہر قسم کے پھل ہوں اس کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہوں وہ خود بوڑھا ہوگیا ہو اور اس کے اہل و اولاد ضعیف ہوں۔ خود بھی کچھ نہیں کرسکتا اور اولاد بھی کسی قابل نہیں، گزارہ کا راستہ صرف یہی باغ ہے اپنا خرچ بھی اسی سے ہے اور بال بچوں کا سہارا بھی یہی باغ ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

مثال نفقات و طاعات غیرمقبولہ۔ قال تعالی، ایود احدکم ان تکون۔۔۔ الی۔۔ تتفکرون۔ کیا تم میں سے کوئی یہ بات پسند کرتا ہے کہ اس کا ایک باغ ہو کھجوروں کا اور انگوروں کا کہ اس کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں اور اس باغ میں علاوہ کھجوروں اور انگوروں کے اس کے لیے ہر قسم کے پھل اور میوے ہوں اور اس کو بڑھاپا آپہنچا کہ جس وقت میں چل پھر کر کمانے پر قدرت نہیں رہی اور بڑھاپے کی وجہ سے ضرورت اور لاچارگی بڑھ گئی اور اس کی اولاد ہیں ضعیف اور ناتواں جو کمانے پر قادر نہیں اور بجائے اس کے کہ وہ بوڑھے باپ کی خدمت کریں خود محتاج ہیں یہ وقت باپ کے لیے بڑی پریشانی کا ہے کہ خود بھی عاجز اور مجبور اور بچے بھی کمزور اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

525 یہ ریاکاروں کے اعمال کے ضائع اور بےنتیجہ ہونے کی دوسری تمثیل ہے۔ یعنی ایک آدمی جو بوڑا ہوچکا ہو اور روزی کمانے کے لائق نہ رہا ہو اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہو جو ابھی کمانے کے قابل نہ ہوں۔ اس کا ایک کھجوروں اور انگوروں کا سرسبز و شاداب باغ ہو اور اس کو بگولا جلا دے یعنی عین اس وقت وہ باغ جل کر تباہ ہوجائے۔ جب کہ مالک اس کے پھل کا سخت محتاج ہو۔ یہی ریاکاروں کے اعمال کا حشر ہوگا۔ کہ میدان حشر میں جب ان کی سخت ضرورت ہوگی وہ کام نہیں آسکیں گے۔ کیونکہ وہ تو دنیا ہی میں ریاکاری کے بگولوں سے جل کر راکھ ہوچکے ہوں گے۔ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ ۔ اللہ تعالیٰ اس طرح تمثیلات کے ذریعے اپنے احکام…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 264–266

ابطلال صدقہ کی پہلی دو وجوہات ابطال صدقہ کے متعلق دو وجوہات کا ذکر گزشتہ درس میں بھی آ چکا ہے۔ آج کے درس میں ان کا تذکرہ دوبارہ آ رہا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ یایھا الذین امنوا لا تبطلوا صدقتکم بالمن والاذی اے اہل ایمان ! اپنے صدقات و خیرات کو احسان جتلا کر اور تکلیف پہنچا کر باطل نہ کرو ۔ یہی دو چیزیں پہلے بھی بیان ہوئی ہیں وہاں فرمایا تھا ثم لا یتبعون ما انفقوا مناولا اذی گویا دونوں مقامات پر احسان اور اذیت کو ابطلال صدقہ کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ ایسا کرنے سے نہ صرف صدقہ بےمقصد ہوجاتا ہے بلکہ الٹا انسان گناہ گارہو کر عذاب کا مستحق ہوجاتا ہے گویا یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَيَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَہٗ جَنَّۃٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّاَعْنَابٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ۝ 0 ۙ لَہٗ فِيْہَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ۝ 0 ۙ وَاَصَابَہُ الْكِبَرُ وَلَہٗ ذُرِّيَّۃٌ ضُعَفَاۗءُ ۝ 0 ۠ۖ فَاَصَابَہَآ اِعْصَارٌ فِيْہِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ۝ 0 ۭ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللہُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۝ 266 ۧ ودد الودّ : محبّة الشیء، وتمنّي كونه، ويستعمل في كلّ واحد من المعنيين علی أن التّمنّي يتضمّن معنی الودّ ، لأنّ التّمنّي هو تشهّي حصول ما تَوَدُّهُ ، وقوله تعالی: وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21] ( و د د ) الود ۔ کے معنی کسی چیز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 266–267

ترکیب : من نخیل صفت جنت کی کہ تجری اور لہ فیہا الخ واصابہ الکبر جملہ بحذف قد حال ہے احد سے ولہ ذریۃً حال ہے اصابہ کی ضمیر سے ولا تیمموا ای لا تقصدوا فعل۔ الخبیث مفعول منہ جار مجرور متعلق تنفقون سے اور تقدیم تخصیص کے لیے پس یہ جملہ اعنی تنفقون منہ حال ہے الخبیث سے ولستم باخذیہ الخ جملہ حال ہے فاعل تنفقون سے۔ تفسیر : یہ ایک اور مثال اس شخص کے لیے بیان کی گئی کہ جو خیرات و صدقہ خلوص نیت سے نہیں دیتا یا دے کر احسان جتلاتا اور سائل کو طعن اور عار کی باتوں سے ایذا دیتا ہے۔ وہ یہ کہ کسی کے پاس ایک ایسا عمدہ باغ ہو کہ جس میں اکثر کھجور اور انگور ہوں اور اس میں نہریں بھی ہوں یعنی آب رواں اور علاوہ اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَیَوَدُّ اَحَدُکُمْ اَنْ تَـکُوْنَ لَـہٗ جَنَّۃٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّاَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْھٰرُلا لَـہٗ فِیْہَا مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ لا وَاَصَابَہُ الْـکِبَرُ وَلَـہٗ ذُرِّیَّۃٌ ضُعَفَـآئُ صلے ص فَاَصَابَہَـآ اِعْصَارٌ فِیْہِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ ط کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَـکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّـکُمْ تَتَـفَـکَّرُوْنَ ۔ ع کیا پسند کرے گا تم میں سے کوئی کہ اس کے پاس ایک باغ ہو کھجوروں کا اور انگوروں کا جس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں۔ اس کے لیے اس میں ہر قسم کے اور پھل بھی ہوں۔ اور وہ بوڑھا ہوجائے اور اس کے بچے بھی ابھی کمزور ہوں۔ پس پھرجائے اس باغ پر سموم کا بگولا اور وہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 265–266

فہم القرآن ربط کلام : ریا کاری ‘ احسان جتلانے اور تکلیف والے صدقہ کے مقابلہ میں لِوَجْہِ اللّٰہِ کیے گئے صدقہ کے ثمرات و انجام۔ یہاں دو مثالوں کے ذریعے دو قسم کا کردار واضح کیا جارہا ہے۔ پہلی مثال میں ایسے سخی کی بات تھی جو کسی کو صدقہ دینے کے بعد احسان جتلاتا اور اذیّت دے کر اپنے صدقے کو اس طرح ضائع کر بیٹھتا ہے جیسے نمود و نمائش کرنے والے کا اللہ تعالیٰ اور آخرت پر یقین نہیں ہوتا جس وجہ سے اس کا اجر ضائع ہوجاتا ہے۔ اس صدقے کی مثال ایک چٹان اور اس پر پڑی ہوئی مٹی سے دی گئی تھی جو بارش کے چند قطروں سے صاف ہوجائے۔ گویا کہ ریا کار اور اس قسم کے آدمی کے صدقے کی حیثیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ حالانکہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 266 : اَیَوَدُّ اَحَدُکُمْ (کیا چاہتا ہے تم میں سے کوئی ایک) ہمزہ انکار کے لئے ہے۔ اَنْ تَکُوْنَ لَہٗ جَنَّۃ ٌ(کہ اس کے پاس باغ ہو) جنت کا معنی باغ ہے۔ مِّنْ نَّخِیْلِ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ لَہٗ (کھجور اور انگوروں کا جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں) لہ میں ہٗ ضمیر باغ والے کی طرف لوٹتی ہے۔ فِیْہَا (اس میں) ہَاء کی ضمیر جنت کی طرف لوٹتی ہے یعنی باغ میں۔ ثمرات کی مراد : مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ (ہر قسم کے پھل ہوں) مراد ثمرات سے وہ منافع ہیں۔ جو باغ سے اس کو حاصل ہوتے ہیں۔ دوسرا قول : کھجور اور انگور جب درختوں میں عمدہ اور منافع میں برتر ہیں۔ اسی لئے تمام پھلوں میں انکا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

266۔ (ایوداحدکم ۔۔۔۔۔۔ الانھار) (کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس کھجور وانگور کا باغ ہو اور اس کے نیچے نہریں بہتی ہوں) اس آیت کا تعلق اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (آیت)” یا ایھا الذین امنوا لا تبطلوا صدقاتکم بالمن والاذی ایود “ کے ساتھ ہے ، کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے لیے کوئی باغ ہو کھجور وانگور کا جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں (فیھا من کل ۔۔۔۔۔۔۔ ضعفائ “ اس شخص کے ہاں اس باغ میں ہر قس کے میوے ہوں اور اس کو بڑھاپا آپہنچے اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں) چھوٹی اولاد چونکہ وہ کھانے میں کمزور ہوتے ہیں (فاصابھا اعصار پھر اس اس باغ پر ایک آندھی آئے) اعصار سے مراد وہ تیز…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 265–266

(265 ۔ 266) ۔ دنیا کے ہر ایک باغ کے جس طرح دو موسم ہوتے ہیں ایک پھل کھانے کی نیت سے باغ میں ہر طرح کے پودے لگانے کا موسم اور پھر ان پودوں کے لگ جانے اور بڑھ جانے اور ان میں پھل آجانے پر ان کے پھل کھانے کا موسم اسی طرح انسان کے عملوں کے دو زمانہ ہیں ایک دنیا میں نیک عملوں کا اجر پانے کا جس کو باغ کے پھل کھانے کے موسم کے ساتھ پوری مشابہت ہے۔ ان ہی مشابتو وں کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں لوگوں کے نیک و بد عملوں کی مثال دو باغوں کا ذکر فرما کر لوگوں کو سمجھائی ہے ایک باغ تو وہ ہے جو اونچی جگہ پر ہر طرح کی پامالی سے بچا ہوا ہے۔ مینہ۔ اوس۔ سب کچھ اس کی ترقی کا سبب ہے۔ اس لئے امید سے زیادہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 266–267

آیت 266 یہ مثال اس شخص کی ہے جو صدقہ وغیرہ نیکی کا کام اللہ کی رضا کے لئے کرتا ہے، پھر کوئی ایسا کام کردیتا ہے جس سے وہ نیکی تباہ ہوجائے۔ اس کی مثال ایک باغ کے مالک کی سی ہے جس کے باغ میں ہر قسم کے پھل ہیں۔ ان میں سے کھجور اور انگور کا ذکر خاص طور پر کیا گیا ہے کیونھ کہ یہ دوسروں سے افضل ہیں اور ان کے فوائد بھی زیادہ ہیں۔ ان کا استعمال خوراک کے طور پر بھی ہوتا ہے اور میوہ کے طور پر (لطف اندوزی کے لئے) بھی ہے۔ اس باغ میں نہریں بھی چل رہی ہیں، جن کی وجہ سے آب پاشی میں کوئی مشقت نہیں ہوتی۔ اس کا مالک اس پر خوشی ہے، لوگ رشک کرتے ہیں۔ یہ آدمی بوڑھا ہوگیا، کام کاج کے قابل نہیں رہا۔ اس لئے اب اسے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 263–267

کمائی کرنے کا بیان قول باری ہے (یآ ایھا الذین امنوا انفقوا من طیبات ما کسبتم ومما اخرجنا لکم من الارض ۔ (a) اے ایمان والو ! جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ تم نے زمین سے تمہارے لئے نکالا ہے اس میں سے بہتر حصہ راہ خدا میں خرچ کرو) ۔ اس آیت میں کمائی کی صورتوں کی اباحت کا ذکر ہے اور یہ بیان ہے کہ کمائیوں میں پاکیزہ صورتیں بھی موجود ہیں۔ کمائی دو طرح سے ہوتی ہے۔ اموال اور ان کے منافع کی ادلا بدلی کے ذریعے اور چیزوں سے حاصل شدہ فوائد کی ادلا بدلی کے ذریعے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلی صورت کی اباحت کا کئی مواقع پر صراحتہً ذکر فرمادیا ہے۔ ارشاد ہے (واحل اللہ البیع، (a) اللہ نے بیع یعنی خریدو فروخت کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

768 ریاکانہ اعمال کے ضیاع کی تمثیل : سو اس سے اپنے اعمال کو ریاکاری وغیرہ کے ذریعے ضائع کردینے والوں کی تمثیل پیش فرمائی گئی ہے۔ بڑھاپے کی حالت زار اور اس سے درس عبرت و بصیرت لینے کی ضرورت ہے جس کے باعث ایسا انسان کمانے اور محنت کرنے کے قابل بھی نہ رہے، کہ اس کی قوت و شباب کا دور گزر چکا ہو۔ اور مزید یہ کہ اس کی ایسی چھوٹی چھوٹی اور کمزور و ناتواں اولاد بھی ہو، جو کمانے کھلانے اور اس کی خدمت کرنے سے بھی عاجز ہو، اور الٹا اس کا بوجھ بھی اس شخص پر ہو، اور اس طرح وہ نہایت ہی قابل رحم حالت کو پہنچ جائے۔ اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے اپنی رحمت بھری تعلیمات میں اپنی امت کو بڑھاپے کی عمر میں وسعت رزق کیلئے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

دکھلاوے کا خرچ اور اس کی مثال تشریح : یہ آیت بھی پچھلی آیت سے ملتی جلتی ہے، کیونکہ اس میں بھی ریاکاری کو مثال دے کر واضح کیا گیا تھا اور اس میں بھی ریاکاری کے نقصان کو ایک اور مثال دے کر واضح کیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ اس بیان پر غور و فکر کرو تو نقصان سے بچ سکتے ہو۔ اللہ تعالیٰ اس طرح کی مثال دیتے ہیں کہ کیا تم میں سے کوئی بھی شخص اس بات کو پسند کرے گا کہ اس کی تمام عمر کی کمائی اس وقت برباد ہوجائے، جبکہ وہ بوڑھا ہوچکا ہو کمانے کے قابل نہ ہو اور اس کے بچے بھی ابھی اس قابل نہ ہوں کہ کماکر کھاسکیں اور باپ کو کھلائیں۔ یہ کہانی بالکل ایسی ہی ہے کہ ایک آدمی دنیا میں خوب کماتا اور کھاتا رہا۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 261–266

آیات 261- 266 اسرارو معارف مثل الذین ینفقون اموالھم……………واللہ غنی حلیم اللہ کی راہ میں خرچ کرنا مومن کے لئے ایسے ہے جیسے کاشتکار کہ وہ کھیتی بوتا ہے تو بظاہر کھیتی تیار کرنے کی مشقت اٹھاتا ہے پھر اپنی محنت سے کمائے ہوئے غلے کو اس میں بکھیردیتا ہے جو بظاہر محنت اور اثاثہ دونوں کا ضیاع نظر آتا ہے لیکن صرف اس شخص کو جو اس سارے کام کے انجام سے بیخبر ہے جو انجام کی اطلاع رکھتا ہے وہ پھر اس کی رکھوالی کرتا ہے حتیٰ کہ ایک وقت آتا ہے جب ایک ایک دانے سے سات سات خوشے نکلتے ہیں یعنی خوب اعلیٰ پودا اگتا ہے جس پر اس قدر خوشے لگتے ایسے صحتمند کہ ہر خوشے میں سو سو دانا ہوتا ہے وہ تھوڑا سا غلہ جو اس نے بیجا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی نہ خود اس میں اتنی طاقت کہ باغ دوبارہ لگا سکے اور نہ اس کی اولاد اس قابل ہے کہ اس کی مدد کرسکے اسی طرح منافق صدقہ و خیرات کرتا ہے مگر ریاکاری سے کام لیتا ہے تو قیامت کے دن جو نہایت احتیاج کا وقت ہوگا اس کا ثواب ضائع ہوجائے گا۔ اور اس وقت ثواب حاصل کرنے کے لیے دوبارہ نیکی کا وقت بھی نہیں ہوگا صحیح بخاری میں حضرت ان عباس ؓ سے اس کی ایک دوسری تفسیر منقول ہے جسے حضرت عمر ؓ بھی پسند فرمایا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ مثال اس شخص کی ہے جو عمر بھر نیک عمل کر تارہتا ہے لیکن آخر عمر میں اس کی سیرت بد جاتی ہے اور نیک عمل کی بجائے برے عمل کرنے لگتا ہے اس طرح وہ اپنی پہلی نیکیاں بھی بر باد کرلیتا ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:266) ایود۔ ا ہمزہ استفہام انکاری ہے۔ یود مضارع واحد مذکر غائب مودۃ (باب سمع) سے مصدر وہ پسند کرتا ہے وہ پسند کرے گا۔ وہ خواہش کرتا ہے۔ آرزو کرتا ہے۔ ان یکون لہ۔ میں ان مصدریہ ہے۔ کہ ہو اس کے لئے ایک باغ۔ من نخیل واعناب۔ کھجوروں اور انگوروں کا۔ صفت ہے جنۃ کی۔ تجری من تحتھا الانھر۔ دوسری صفت جنۃ کی اور لہ فیہا من کل الثمرات۔ تیسری صفت ہے جنۃ کی۔ نخیل کھوریں۔ کھجور کے درخت۔ اعناب۔ عنب کی جمع بمعنی انگور۔ تجری۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ جری وجریان (باب ضرب) مصدر وہ بہتی ہے وہ چلتی ہے۔ وہ جاری ہے من تحتہا۔ اس کے نیچے سے۔ تحت ضد ہے فوق کی۔ اسم ظرف ہے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جس کا مرجع جنۃ ہے۔ تجری…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

لغات القرآن : آیت نمبر 266 ایود (کیا پسند ہے (ا، یود) ۔ احدکم (تم میں سے کسی کو بھی) ۔ نخیل (کھجور) ۔ اعناب (انگور (عنب کی جمع) تجری۔ ۔۔ چلتی ہو ، بہتی ہو) ۔ الکبر (بڑھاپا) ۔ ذریۃ ضعفاء (چھوٹے ناتواں بچے ہوں) ۔ اعصار (بگولا) ۔ احترقت (اس نے جلا ڈالا) ۔ تشریح : آیت نمبر 266 اس مثال میں اللہ تعالیٰ نے یہ سوال کیا ہے کہ جب ایک شخص اس بات کو گوارا نہیں کرسکتا کہ اس کی زندگی بھر کی پونچی یوں اس کی نظروں کے سامنے برباد ہوجائے فرمایا کہ سوچ لو قیامت کا دن بھی ایسا ہی ہوگا جب کچھ بھی کمانے کا موقع نہیں ہوگا، کوئی تمہاری امداد نہیں کرسکتا اس روز تمہیں اپنی زندگی بھر کے نیک اعمال کی کتنی شدید ضرورت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 265–266

دنیا کے ہر ایک باغ کے دو موسم ہوتے ہیں : ایک پودے لگانے کا موسم، دوسرا پھل آنے پر پھل کھانے کا موسم۔ اسی طرح انسان کے عملوں کے دو زمانے ہیں : ایک دنیا میں نیک عمل کرنے کا زمانہ، دوسرا عقبیٰ میں ان نیک عملوں کا اجر پانے کا۔ جس کو باغ کے پھل کھانے کے موسم کے ساتھ پوری پشابہت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 266–268

[180] یعنی جس طرح ایک آدمی اپنی ساری عمر باغ لگانے میں صرف کر دے اور سمجھے کہ اس کی پیداوار بڑھاپے میں کام آئے گی لیکن جب بڑھاپا آئے تو دیکھے کہ سارا باغ جل کر ویران ہوگیا ہے ایسا ہی حال اس شخص کا ہے جو ساری عمر دکھاوے کی نیکیاں کرتا رہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ عاقبت میں کام آئیں گی لیکن جب عاقبت کا دن آئے گا تو دیکھے گا کہ اس کی ساری محنت رائیگاں گئی اور کوئی چیز بھی اس کے دفتر عمل میں ایسی نہیں جو اس کے کام آسکے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 265–267

(ف 1) ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا کی راہ میں پاکیزہ چیزیں دو گری پڑی اشیاء کا تصدق کسی طرح موزوں نہیں ۔ اس لئے کہ جب تک اللہ کی راہ میں دینے سے دل تکلیف محسوس نہ کرے نفس اور ضمیر میں ایک جنگ بپانہ ہو ، نفس کی اصلاح نہیں ہو سکتی اور نہ بخل دور ہو سکتا ہے ، یہ ظاہر ہے کہ خدائے تعالیٰ رب السموت والارض ہے جس کے خزانے معمور ہیں ، ہمارے صدقات کا قطعا محتاج نہیں ، وہ تو غنی ہے ، بےنیاز ہے ، اس لئے تقاضا یہ ہے کہ خدا کی راہ میں دے کر ہمیں کیا ملتا ہے ؟ کیا طبعیت کا بخل دور ہوگیا ہے ؟ کیا دل میں خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے آمادگی کا احساس بڑھ گیا ہے یا کیا ؟ پھر فرمایا کہ تم دنیا میں تحائف…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1 بھلا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند کرتا ہے اور اس امر کو دوست رکھتا ہے کہ اس کا ایک باغ ہو کھجوروں اور انگوروں کا اس باغ کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں اور اس باغ میں علاوہ کھجوروں اور انگوروں کے اور بھی مختلف قسم کے بکثرت پھل موجود ہوں اور اس باغ کے مالک کی یہ حالت ہو کہ اس کو بڑھاپا پہنچ چکا ہو اور اس کا بڑھاپا آگیا ہو اور اس کی اولاد کمزور اور ناتواں ہو کام سنبھالنے کے قابل نہ ہو اور باغ کی دیکھ بھال کی صلاحیت نہ رکھتی ہو ایسی حالت میں جبکہ وہ خود بوڑھا ہو اور بچے ناتواں ہوں اس باغ پر ایک ایسا گرم بگولہ آجائے جس میں تیز آگ ہو اور وہ باغ آگ بھرے بگولے سے جل جائے اور خاکستر ہوجائے جس طرح…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ ظاہر یہ بات ہے کہ کسی کو اپنے لیے یہ بات پسند نہیں آسکتی پس جب تم اس مثال کے واقعہ کو پسند نہیں کرتے تو ابطال طاعات کو کیسے گوارا کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فطرتِ انسانی سے استشہاد کی ایک مثال : 463: احسان جتانے ، دکھ دینے اور ریاکاری کرنے سے صدقات و خیرات پر کس طرح تباہی آتی ہے اس کی یہ تیسری مثال بیان کی جا رہی ہے کہ خلاف شرائط صدقہ کرنے کی مثال ایسی ہی ہے کہ بظاہر وہ صدقہ کر کے آخرت کے لیے بہت سا ذخیرہ جمع کر رہا ہے لیکن اللہ کے نزدیک یہ ذخیرہ کچھ بھی کام نہیں آتا۔ اور اس مثال میں جو چند قیدیں بڑھائی گئی ہیں کہ اس کو بڑھاپا آگیا ، اس کے اولاد بھی ہے اور اولاد بھی چھوٹے بچے جو ضعیف و کمزور ہیں۔ ان قیدوں کا مقصد یہ ہے کہ جوانی کی حالت میں کسی کا باغ یا کھیتی جل جائے تو اسے یہ امید ہو سکتی ہے کہ پھر باغ لگا لوں گا اور جس شخص کے اولاد نہ ہو اس کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In verse 266, the sixth under discussion, the statement, that صدقہ sadaqah can be rendered void and rejected if one acts against conditions set forth for the acceptance of charitable spendings, has been illustrated with yet another example. It was asked: Does anyone among you like that he owns a fruit farm, growing dates and grapes with streams flowing underneath, and trees laden with all sorts of fruits -- then comes old age for the owner and he has children and a family that can-not stand on their own. Under these conditions comes a whirlwind through the farm with fire in it and which burns…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

307. It is obvious that a man does not like to see the earnings of his lifetime destroyed in his old age, when he needs them badly and when he can no longer earn. How is it, then, that he can contemplate stepping into the realm of the Hereafter and finding suddenly that he is empty-handed; that he has sown nothing from which he can reap the fruit? In the Next World there will he no opportunity to begin earning anew. Whatever one can do towards ensuring one's well-being in the Hereafter must he done in this world. If one devotes oneself totally to the pursuit of the riches of this world rather…

Read the full tafseer →