سدابہار عمل
یہ مثال مومنوں کے صدقات کی دی جن کی نیتیں اللہ کو خوش کرنے کی ہوتی ہیں اور جزائے خیر ملنے کا بھی پورا یقین ہوتا ہے، جیسے حدیث میں ہے جس شخص نے رمضان کے روزے ایمانداری کے ساتھ ثواب ملنے کے یقین پر رکھے۔۔ ربوہ کہتے ہیں اونچی زمین کو جہاں نہریں چلتی ہیں اس لفظ کو بربوۃ اور بربوۃ بھی پڑھا گیا ہے۔ وابل کے معنی سخت بارش کے ہیں، وہ دگنا پھل لاتی ہے یعنی بہ نسبت دوسرے باغوں کی زمین کے، یہ باغ ایسا ہے اور ایسی جگہ واقع ہے کہ بالفرض بارش نہ بھی ہو تاہم صرف شبنم سے ہی پھلتا پھولتا ہے یہ ناممکن ہے کہ موسم خالی جائے، اسی طرح ایمانداروں کے اعمال کبھی بھی بےاجر نہیں رہتے۔ وہ ضرور بدلہ دلواتے…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 306
”زور کی بارش“ سے مراد وہ خیرات ہے، جو انتہائی جذبہ خیر اور کمال درجے کی نیک نیتی کے ساتھ کی جائے۔ اور ایک ہلکی پھوار سے مراد ایسی خیرات ہے، جس کے اندر جذبہ خیر کی شدت نہ ہو۔
Read the full tafseer →پانچویں آیت میں صدقہ مقبولہ اور انفاق مقبول کی ایک مثال بیان فرمائی ہے کہ جو لوگ اپنے مال خالص اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کی نیت سے خرچ کرتے ہیں کہ اپنے نفسوں میں پختگی پیدا کریں ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی باغ ہو کسی ٹیلے پر اور اس پر زور کی بارش پڑی ہو پھر وہ اپنا پھل لایا ہو دو چند اور اگر ایسے زور کی بارش بھی نہ پڑے تو ہلکی پھوار بھی اس کے لئے کافی ہے، اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو خوب دیکھتے جانتے ہیں۔
اس میں اخلاص نیت اور رعایت شرائط مذکورہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی بڑی فضیلت اس مثال سے واضح کردی گئی کہ نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ تھوڑا بھی خرچ کیا جائے تو وہ کافی اور…
Read the full tafseer →تَثْبِيْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ :“ تثبیت ”کا مفہوم : تثبیت کے معنی مضبوط کرنے، جمانے اور مستحکم کرنے کے ہیں۔ یعنی وہ اپنے مال خدا کی خوشنودی کے ساتھ ساتھ اس مقصد سے بھی خرچ کرتے ہیں کہ اس طرح وہ اپنے نفس کی تربیت کریں کہ وہ دین کے احکام کی تعمیل میں اچھی طرح پختہ ہوجائے۔ مِنْ یہاں گویا تَثْبِیتاً کے مفعول پر داخل ہے۔
انفاق تربیت نفس کے لیے ریاضت ہے : جس طرح روزے سے مقصود نفس کی تربیت ہے کہ آدمی تقوی کے مطالبات پورے کرنے کے لیے اچھی طرح مضبور ہجائے اسی طرح انفاق بھی ایک ریاضت ہے جس سے انسان اپنے نفس پر قابو پاتا ہے اور خدا کے قرب کی راہ اس کے لیے آسان ہوتی ہے۔ اس سے ایک طرف تو یہ بات نکلی کہ…
Read the full tafseer →265۔ 1 یہ ان اہل ایمان کی مثال ہے جو اللہ کی رضا کے لئے خرچ کرتے ہیں ان کا خرچ کیا ہوا مال اس باغ کی مانند ہے جو پر فضا اور بلند چوٹی پر ہو کہ اگر زوردار بارش ہو تو اپنا پھل دوگنا دے ورنہ ہلکی سی پھوار اور شبنم بھی اسکو کافی ہوجاتی ہے اس طرح ان کے نفقات بھی چاہے کم ہو یا زیادہ عند اللہ کئی کئی گنا اجر وثواب کے باعث ہونگے۔ جَنْۃُ اس زمین کو کہتے ہیں جس میں اتنی کثرت سے درخت ہوں جو زمین کو ڈھانک لیں یا وہ باغ جس کے چاروں طرف باڑ ہو اور باڑ کی وجہ سے باغ نظروں سے پوشیدہ ہو۔ یہ جن سے ماخوذ ہے جن اس مخلوق کا نام ہے جو نظر نہیں آتی پیٹ کے بچے کو جنین کہا جاتا ہے کہ وہ بھی نظر نہیں آتا دیوانگی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 264–265
180: چٹان پر اگر مٹی جمی ہو تو یہ امید ہوسکتی ہے کہ اس پر کوئی چیز کاشت کرلی جائے ؛ لیکن اگر بارش مٹی کو بہالے جائے تو چٹان کے چکنے پتھر کاشت کے قابل نہیں رہتے، اسی طرح صدقہ خیرات سے آخرت کے ثواب کی امید ہوتی ہے ؛ لیکن اگر اس کے ساتھ ریا کاری یا احسان جتانے کی خرابی لگ جائے تو وہ صدقے کو بہالے جاتی ہے اور ثواب کی کوئی امید نہیں رہتی۔
Read the full tafseer →اس منظر کے بالمقابل ایک دوسرا منظر ہے ، جو اس کے بالکل متضاد ہے ۔ ایک دل ہے جو ایمان سے بھرا ہوا ہے ۔ وہ ایمان کی تروتازگی سے سرشار ہے ۔ وہ اپنے مال کو محض رضائے الٰہی کی خاطر خرچ کرتا ہے ۔ اسے پورا پورا یقین ہے کہ وہ جو کچھ خرچ کررہا ہے اس کا وہ اجر ضرور پائے گا۔ اور یہ خرچ وہ محض اپنے ایمان اور نظریہ کے تقاضے کے طور پر کرتا ہے ۔ یہ نظریہ اس کے دل کی گہرائیوں میں رچا بسا ہے ۔ ایک طرف یہاں ریاکار دل ہے ، اس کو ایک ایسے پتھر کے ساتھ مشابہت دی گئی ہے جس پر مٹی کا ایک خفیف سا پردہ ہے۔ اور دوسری جانب ایک ایسا دل ہے جو ایمان سے بھرپور ہے اور اسے ایک سرسبز باغ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جس کی زمین…
Read the full tafseer →1 زور کے مینہ سے مراد بہت مال خرچ کرنا اور پھوار سے مراد تھوڑا مال خرچ کرنا اور دلوں کو ثابت کرنے سے مراد یہ ہے کہ ثابت کریں دلوں کو ثواب پانے میں یعنی ان کو یقین ہے کہ خیرات کا ثواب ضرور ملے گا سو اگر نیت درست ہے تو بہت خرچ کرنے میں بہت ثواب ملے گا اور تھوڑی خیرات میں بھی فائدہ ہوگا جیسے خالص زمین پر باغ ہے تو جتنا مینہ برسے گا اتنا ہی باغ کو فائدہ پہنچے گا اور نیت درست نہیں تو جس قدر زیادہ خرچ کرے اتنا ہی مال ضائع ہوگا اور نقصان پہنچے گا کیونکہ زیادہ مال دینے میں ریا اور دکھاوا بھی زیادہ ہوگا جیسا پتھر پر دانہ اگے گا تو جتنا زور کا مینہ برسے گا اتنا ہی ضرر زیادہ ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت 265 وَمَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَات اللّٰہِ وَتَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِہِمْ کَمَثَلِ جَنَّۃٍم بِرَبْوَۃٍ
جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں کہ قدرتی باغ کا یہی تصور ہوتا تھا کہ ذرا اونچائی پر واقع ہے ‘ اس کے دامن میں کوئی ندی بہہ رہی ہے جس سے خود بخود آب پاشی ہو رہی ہے اور وہ سیراب ہو رہا ہے۔
[ قادیانیوں نے اسی لفظ ربوہ کے نام پر پاکستان میں اپنا شہر بنایا۔ ]
اَصَابَہَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُکُلَہَا ضِعْفَیْنِ ج فَاِنْ لَّمْ یُصِبْہَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ
لہٰذا تم دروں بینی intro spection کرتے رہا کرو کہ تم جو یہ مال خرچ کر رہے ہو…
Read the full tafseer →381 ربوۃ ربو سے مشتق ہے جس کا معنی بڑھنا اور پھلنا پھولنا ہے اور ربوۃ سے مراد ایسی زمین ہے جس کی سطح عام زمین سے قدرے بلند ہو اور قدرے نرم ہو۔ ایسی زمین عموماً سرسبز اور شاداب ہوتی ہے۔ پنجابی زبان میں اسے میرا زمین کہتے ہیں اور وابل یا زور دار بارش سے مراد انتہائی خلوص نیت سے اللہ کی رضا کے لیے اور اپنے دل کی پوری پوری خوشی سے مال خرچ کرنا ہے اور پھوار سے مراد ایسی خیرات ہے جس میں یہ دونوں باتیں موجود تو ہوں، مگر اتنے اعلیٰ درجہ کی نہ ہوں۔ دونوں صورتوں میں اجر وثواب تو ضرور ملے گا۔ مگر پہلی صورت میں جو اجر وثواب ملے گا وہ پچھلی صورت سے بہرحال کئی گنا زیادہ ہوگا۔
Read the full tafseer →1036 ۔ (جیسا کہ ہر مومن مخلص کا شیوہ ہوتا ہے۔ ) (آیت) ” تثبیتا من انفسھم “۔ اتنے ٹکڑے میں نفسیات بشری کی ایک گہری حقیقت بیان ہوئی۔ معصیت کی طرح ہر طاعت کا بھی خاصہ ہے کہ وہ متجانس اعمال کو کھینچتی ہے۔ چناچہ ہر عمل صالح کے بعد نفس میں دوسرے اعمال صالح کے لیے آمادگی و پختگی پیدا ہوجاتی ہے۔ نفس بشری کا خاصہ ہے کہ ہر عمل سے تکرار و عادت کے بعد اس عمل سے متعلق ایک ملکہ راسخہ پیدا ہوجاتا ہے اور اس سے مزاحمت کی قوت مغلوب و ضعیف ہوتی جاتی ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں دلیل ہے کہ عمل صالح سے جس طرح حصول اجر مقصود ہوتا ہے اسی طرح اصلاح نفس بھی مقصود ہوتی ہے۔ یہ معنی تو ظاہرہی ہیں کہ وہ خرچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 263–265
قَوْلٌ مَعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَۃٌ خَیْرٌا (الآیۃ) سائل سے نرمی اور شفقت سے بولنا اور دعائیہ کلمات کہنا مثلاً یہ کہ اللہ تعالیٰ تم کو اور ہم کو بھی اپنے فضل و کرم سے نوازے۔ یہ قول معروف ہے اور مغفرۃ کا مطلب ہے کہ اگر سائل کی زبان سے کوئی نازیبا کلمہ نکل جائے تو اس سے چشم پوشی کرتے ہوئے درگزر کرنا۔ یہ نرمی اور چشم پوشی اور درگزر اس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد اس کو لوگوں میں رسوا و ذلیل کرے یا احسان جتائے۔ کسی سے کلمہ خیر کہنا اور خندہ پیشانی سے ملنا بھی صدقہ ہے۔ (مسلم کتاب البر)
فَمَثَلُہٗ ، کَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْہِ تُرَابٌ فَاَصَابَہٗ وَابِلٌ فَتَرَکَہٗ صَلْدًا یہ ایک تمثیل ہے جس میں ریاکار کے…
Read the full tafseer →وَمَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمُ ابْتِغَاۗءَ مَرْضَات اللّٰهِ وَتَثْبِيْتًا (اور ان لوگوں کی حالت جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی طلب اور اسلام کو مضبوط بنانے اور اللہ کے وعدۂ جزاء کی تصدیق کرنے اور ثواب کی امید رکھنے کی وجہ سے اپنا مال راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں۔ یہ بھی احتمال ہے کہ تثبیت سے مراد تثبیت مالی ہو یعنی مال کے نفع اخروی کو قائم رکھنے کی غرض سے خرچ کرتے ہیں کیونکہ قائم رہنے والا وہی مال ہے جو آخرت میں صاحب مال کے لیے سود مند ہو اس کے علاوہ ہر مال فانی ہے حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کس کو اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ پیارا ہے ؟…
Read the full tafseer →(265) اور ان لوگوں کے اموال کی مثال جو خالص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اپنے نفوس کو سچائی کے لیے ثواب ملنے کا یقین کامل رکھتے ہوئے خرچ کرتے ہیں، ایک باغ کی طرح ہے جو کسی صاف بلند مقام پر ہو اور اس پر خوب زور کی بارش ہو، جس کی وجہ سے باغوں میں دو چند وہ پھل لایا اور اگر ایسی زور کی بارش نہ ہو تو ہلکی سی پھوار کی طرح بارش بھی اس کے لیے کافی ہے۔
یعنی مومن کی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی مثال ہے، خواہ وہ کم خرچ کرے یا زیادہ، جب کہ اخلاص اور خشیت خداوندی کے ساتھ ہو اللہ تعالیٰ اس ثواب کو دوگنا فرماتا ہے، جیسا کہ ایسے باغ کے پھلوں کو زیادہ کرتا ہے اور جو تم خرچ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے اچھی طرح…
Read the full tafseer →ابْتِغَاۗءَ مَرْضَات اللّٰهِ : یہ ریا کاروں کے مقابلے میں مخلص مومنوں کی مثال ہے، یعنی جو لوگ محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے خرچ کرتے ہیں اور دل کے اس اطمینان کے ساتھ خرچ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انھیں اس کا وافر اجر عطا فرمائے گا اور ان کا عمل ضائع نہیں ہوگا۔ دل کو ثابت رکھتے ہوئے خرچ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ نہ انھیں خرچ کرتے ہوئے کوئی تردد یا پریشانی ہوتی ہے نہ بعد میں کوئی پشیمانی۔ ان کے خرچ کرنے کی مثال اس باغ کی سی ہے جو کسی پر فضا اور بلند مقام پر ہو، اگر اس پر زور کی بارش ہو تو دوسرے باغوں سے دگنا پھل دے اور اگر زور کی بارش نہ بھی ہو تو ہلکی بارش ہی کافی رہے۔ یہی حالت مومن کے عمل کی…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 265 :
قولہ تعالیٰ (آیت) ” ومثل الذین ینفقون اموالھم ابتغآء مرضات اللہ وتثبیتا من انفسھم “۔ اس میں ابتغاء مفعول من اجلہ ہے، اور تثبیتا من انفسھم “ اس پر معطوف ہے اور مکی نے المشکل میں کہا ہے : یہ دونوں مفعول من اجلہ ہیں۔
ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ مردود ہے اور تثبیتا ‘ کو مفعول من اجلہ بنانا صحیح نہیں ہے، کیون کی انفاق (خرچ کرنا) تثبیت (پختہ ہوجانا) کی وجہ سے نہیں ہے : اور ابتغآء کو حال کے محل میں مصدر ہونے کی بنا پر نصب دی گئی ہے اور اس میں نصب مفعول من اجلہ کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے، لیکن مصدر کی بنا پر نصب دینا اس وجہ سے درست ہے کہ اس پر (آیت) ” تثبیتا “ مصدر کا عطف ہے۔ جب اللہ…
Read the full tafseer →(1) ابن ابی حاتم نے، ربیعہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا یہ مثال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ مومن کے عمل کی مثال بیان فرمائی۔
(2) مقاتل بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ابتغاء مرضات “ سے مراد ہے ثواب کی امید رکھتے ہوئے (عمل کرے) ۔
(3) حسن ؓ سے روایت کیا کہ وہ نہیں ارادہ کرتے شہرت کا اور نہ دکھاوے گا۔
(4) عبد بن حمید اور ابن جریر نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ ” وتثبیتا من انفسہم “ سے مراد ہے تصدیق کرتے ہوئے اور یقین کرتے ہوئے۔
(5) ابن جریر نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وتثبیتا من انفسہم “ سے مراد ہے اپنے پاس سے یقین کرتے ہوئے۔
(6) عبد بن حمید، اور ابن جریر نے مجاہد…
Read the full tafseer →[وَمَثَلُ الَّذِیْنَ : اور ان لوگوں کی مثال جو ] [یُنْفِقُوْنَ : خرچ کرتے ہیں ] [اَمْوَالَہُمُ : اپنے مالوں کو ] [ابْتِغَآئَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ : اللہ کی رضا کی جستجو کرتے ہوئے ] [وَتَثْبِیْتًا : اور جماتے ہوئے ] [مِّنْ اَنْفُسِہِمْ : اپنے آپ کو ] [کَمَثَلِ جَنَّۃٍم : ایک ایسے باغ کی مثال کی مانند ہے جو ] [بِرَبْوَۃٍ : ایک ٹیلے پر ہے ] [اَصَابَہَا : آ لگی اس کو ] [وَابِلٌ: ایک موٹے ] [قطروں والی بارش ] [فَاٰتـَتْ : تو اس نے دیا ] [اُکُلَہَا : اپنا پھل ] [ضِعْفَیْنِ : دوگنا ] [فَاِنْ لَّـمْ یُصِبْہَا : پھر اگر نہیں لگی اس کو ] [وَابِلٌ : کوئی موٹے قطروں والی بارش ] [فَطَلٌّ : تو (آ لگی اس کو)…
Read the full tafseer →اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنیوالوں کی مثال
اس آیت شریفہ میں مؤمنین صالحین مخلصین کے مال خرچ کرنے کی ایک مثال بتائی ہے اور اس مثال میں ان کے ثواب کی کثرت اور عنداللہ مقبولیت ظاہر فرمائی ہے، ارشاد فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں اور اس خرچ کرنے میں ان کی یہ بھی نیت ہے کہ ان کے نفس اس نیکی کرنے میں پختہ ہوجائیں تاکہ نفس خرچ کرنے کے خوگر رہیں اور کنجوسی کو پاس نہ آنے دیں تو ایسے لوگوں کے خرچ کرنے کی ثواب کے اعتبار سے ایسی مثال ہے جیسے کسی ٹیلے پر ایک باغیچہ ہو (ٹیلوں کی آب و ہوا باغوں کے لیے نہایت مناسب ہوتی ہے) پھر اوپر سے زور داربارش بھی ہوجائے تو زمین کو…
Read the full tafseer →مثال نفقات مقبولہ۔
قال تعالی، ومثل الذین یفقون اموالھم۔۔۔ الی۔۔۔ بصیر۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں صدقات غیر مقبولہ کی مثال بیان فرمائی اب ان آیات میں صدقات مقبولہ کی مثال بیان فرماتے ہیں اور مثال ان لوگوں کی جو اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں محض اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور خوشنودی طلب کرنے کے لیے اور دلی تصدیق اور یقین کی بناء پر یعنی ان کو یقین کامل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صدقات پر جزاء اور ثواب کا وعدہ کیا ہے وہ حق ہے اور ان کے دلوں کو یقین اور اطمینان ہے کہ قیامت کے دن ان کو پورا بدلہ ملے گا جیسے حدیث میں آیا ہے، من صام رمضان ایمانا واحتسابا غفرلہ ماتقدم من ذنبہ۔ پس ان لوگوں کے صدقات اور خیرات کی مثال…
Read the full tafseer →524 ریاکاروں اور منافقوں کی مثال بیان کرنے کے بعد ان مومنین کے صدقات کی مثال بیان فرمائی جو محض اللہ کی رضا جوئی اور تزکیہ نفوس حاصل کرنے کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ ابتغاء مفعول لہ ہے۔ تثبیتاً اس پر معطوف ہے۔ من انفسہم میں من ابتدائیہ ہے۔ یعنی وہ اللہ کی رضاجوئی اور دل کے کامل یقین اور ایمان کی وجہ سے خرچ کرتے ہیں۔ وقال الشعبی والسدی وقاتادة ایضا وابن زید وابو صالح وغیرھم تثبیتا معناہ وتیقنا ای ان نفوسھم بھا بصائر فھی تثبتھم علی الانفاق فی طاعة اللہ تعالیٰ تثبیتا (قرطبی ص 314 ج 3) ربوة کے معنی ہیں۔ ٹیلہ یعنی وہ جگہ جو دوسری زمین کی نسبت کچھ اونچی ہو۔ اور طل سے یہاں شبنم مراد نہیں۔ بلکہ ہلکی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 264–266
ابطلال صدقہ کی پہلی دو وجوہات
ابطال صدقہ کے متعلق دو وجوہات کا ذکر گزشتہ درس میں بھی آ چکا ہے۔ آج کے درس میں ان کا تذکرہ دوبارہ آ رہا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ یایھا الذین امنوا لا تبطلوا صدقتکم بالمن والاذی اے اہل ایمان ! اپنے صدقات و خیرات کو احسان جتلا کر اور تکلیف پہنچا کر باطل نہ کرو ۔ یہی دو چیزیں پہلے بھی بیان ہوئی ہیں وہاں فرمایا تھا ثم لا یتبعون ما انفقوا مناولا اذی گویا دونوں مقامات پر احسان اور اذیت کو ابطلال صدقہ کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ ایسا کرنے سے نہ صرف صدقہ بےمقصد ہوجاتا ہے بلکہ الٹا انسان گناہ گارہو کر عذاب کا مستحق ہوجاتا ہے گویا یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ کا…
Read the full tafseer →وَمَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمُ ابْتِغَاۗءَ مَرْضَاتِ اللہِ وَتَثْبِيْتًا مِّنْ اَنْفُسِہِمْ كَمَثَلِ جَنَّۃٍؚبِرَبْوَۃٍ اَصَابَہَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَہَا ضِعْفَيْنِ 0 ۚ فَاِنْ لَّمْ يُصِبْہَا وَابِلٌ فَطَلٌّ 0 ۭ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ 265
وأمّا الابتغاء
فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی کان الطلب لشیء محمود فالابتغاء فيه محمود نحو : ابْتِغاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ [ الإسراء/ 28] ، وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20]
( ب غ ی ) البغی
الا بتغاء
یہ خاص کر کوشش کے ساتھ کسی چیز کو طلب کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ اگر اچھی چیز کی طلب ہو تو یہ کوشش بھی محمود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 264–265
ترکیب : کالذی کاف موضع نصب میں ہے لغت ہے مصدر محذوف کی تقدیرہ ابطالا کا بطال الذی ینفق ریاء الناس مفعول لہٗ ہے ینفق کاریاء کی پہلی ہمزہ نفس کلمہ ہے کہ یہ رای سے ہے اور لغیر بدل ہے سے صفوان جنس ہے وقیل جمع صفواتہ علیہ تراب جملہ موضع جر میں صفت ہے صفوان کی ابتغاء مفعول لہ ہے ینفقون کا اور تثبیتًا اس پر معطوف ہے اور یہ مصدر ہے فعل متعدی کا ای یثبتون اعمالہم باخلاص النیۃ اور ممکن ہے کہ بمعنی ثبت ہو۔ ربوۃ بضم الراء و فتحہا بلندی یا پھولی ہوئی نرم زمین ‘ اصابہا وابل جملہ صفت ہے جنۃ کی وابل وبل سے مشتق ہے یقال اوبل فہو موبل۔ اکل سکون کاف اور ضمہ دونوں طرح جائز ہے۔ یہ جمع ہے واحد اس کا اکلۃ ہے بمعنی…
Read the full tafseer →وَمَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمُ ابْتِغَـآئَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ وَتَثْبِیْتًامِّنْ اَنْفُسِہِمْ کَمَثَلِ جَنَّۃٍ م بِرَبْوَۃٍ اَصَابَہَا وَابِلٌ فَاٰ تَتْ اُکُلَہَا ضِعْفَیْنِ ج فَاِنْ لَّمْ یُصِبْہَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔
(اور مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی خوشنودیاں حاصل کرنے اور اپنے دلوں کو جمائے رکھنے کے لیے۔ ان کی مثال اس باغ جیسی ہے جو بلندی پر واقع ہو ‘ اس پر زور کا مینہ برسے تو وہ دو چند پھل لائے۔ پس اگر اس پر بارش نہ برسی تو پھوار بھی کافی ہوگئی۔ اور اللہ تعالیٰ جو تم کر رہے ہو سب دیکھ رہا ہے) (265)
انفاق… تربیت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 265–266
فہم القرآن
ربط کلام : ریا کاری ‘ احسان جتلانے اور تکلیف والے صدقہ کے مقابلہ میں لِوَجْہِ اللّٰہِ کیے گئے صدقہ کے ثمرات و انجام۔
یہاں دو مثالوں کے ذریعے دو قسم کا کردار واضح کیا جارہا ہے۔ پہلی مثال میں ایسے سخی کی بات تھی جو کسی کو صدقہ دینے کے بعد احسان جتلاتا اور اذیّت دے کر اپنے صدقے کو اس طرح ضائع کر بیٹھتا ہے جیسے نمود و نمائش کرنے والے کا اللہ تعالیٰ اور آخرت پر یقین نہیں ہوتا جس وجہ سے اس کا اجر ضائع ہوجاتا ہے۔ اس صدقے کی مثال ایک چٹان اور اس پر پڑی ہوئی مٹی سے دی گئی تھی جو بارش کے چند قطروں سے صاف ہوجائے۔ گویا کہ ریا کار اور اس قسم کے آدمی کے صدقے کی حیثیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ حالانکہ…
Read the full tafseer →آیت 265 … مومن کے انفاق کی مثال :
وَمَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمُ ابْتِغَآئَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ وَتَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِہِمْ (ان لوگوں کی حالت جو اپنے مال اللہ تعالیٰ کی رضا مندی چاہنے اور اپنے نفسوں کو ثواب پہنچانے کیلئے خرچ کرتے ہیں یعنی اسلام کی تصدیق اور اپنے دلوں میں جزاء پر یقین کے لئے۔ اس لئے کہ جب مسلمان اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تصدیق اور ثواب پر اس کا ایمان دل کی گہرائی سے ہے اور دل کے اخلاص سے ہے۔
نحو : مِنْ ابتدائے غایت کے لئے ہے یہ مفعول لہ ٗپر معطوف ہے یعنی ابتغآء اور تثبیت کی خاطر۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے خرچہ کی مثال…
Read the full tafseer →(تفسیر) 265۔:
(ومثل الذین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مرضات اللہ) (اور ان لوگوں کی مثال جو اللہ کی رضا کے لیے اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے وہ خرچ کرتے ہیں (وتثبیتا من انفسھم) امام قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد احتساب ہے ، امام شعبی (رح) ، کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ خرچ کرنا اپنے نفسوں کی طرف سے ہوتا تھا کسی کے دباؤ کی وجہ سے نہیں ہوتا ، اور یہ صدقہ اور زکوۃ پاکیزہ مال سے نکالتے ثواب کی امید رکھتے ہوئے اور اللہ کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ جو کچھ ہم نے خرچ کرلیا وہ ہمارے لیے بہتر ہے اس سے جو باقی رہ گیا ہے ۔
بعض نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 265–266
(265 ۔ 266) ۔ دنیا کے ہر ایک باغ کے جس طرح دو موسم ہوتے ہیں ایک پھل کھانے کی نیت سے باغ میں ہر طرح کے پودے لگانے کا موسم اور پھر ان پودوں کے لگ جانے اور بڑھ جانے اور ان میں پھل آجانے پر ان کے پھل کھانے کا موسم اسی طرح انسان کے عملوں کے دو زمانہ ہیں ایک دنیا میں نیک عملوں کا اجر پانے کا جس کو باغ کے پھل کھانے کے موسم کے ساتھ پوری مشابہت ہے۔ ان ہی مشابتو وں کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں لوگوں کے نیک و بد عملوں کی مثال دو باغوں کا ذکر فرما کر لوگوں کو سمجھائی ہے ایک باغ تو وہ ہے جو اونچی جگہ پر ہر طرح کی پامالی سے بچا ہوا ہے۔ مینہ۔ اوس۔ سب کچھ اس کی ترقی کا سبب ہے۔ اس لئے امید سے زیادہ…
Read the full tafseer →آیت 265
یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو اپنے مال اس انداز سے خرچ کرتے ہیں کہ ان کے صدقات قبول ہوتے اور بڑھتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا : (ومثل الذین ینفقون اموالھم ابتغآء مرضات اللہ) ” ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال اللہ کی رضامندی کی طلب میں خرچ کرتے ہیں۔ “ یعنی ان کا مقصد اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنا ہوتا ہے۔ : (وتثبیتاً من انفسھم) ” دل کی خوشی اور یقین کے ساتھ “ یعنی جب وہ خرچ کرتے ہیں تو ان کے دلوں میں سخاوت اور خوشی کی کیفیت ہوتی ہے۔ تردد کے ساتھ بادل نخواستہ خرچ نہیں کرتے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے نیک عمل پر دو طرح کی آفتیں آتی ہیں یا تو انسان کا یہ ارادہ ہوتا ہے کہ لوگ تعریف کریں۔ یہ ریا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 263–267
کمائی کرنے کا بیان
قول باری ہے (یآ ایھا الذین امنوا انفقوا من طیبات ما کسبتم ومما اخرجنا لکم من الارض ۔ (a) اے ایمان والو ! جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ تم نے زمین سے تمہارے لئے نکالا ہے اس میں سے بہتر حصہ راہ خدا میں خرچ کرو) ۔
اس آیت میں کمائی کی صورتوں کی اباحت کا ذکر ہے اور یہ بیان ہے کہ کمائیوں میں پاکیزہ صورتیں بھی موجود ہیں۔ کمائی دو طرح سے ہوتی ہے۔ اموال اور ان کے منافع کی ادلا بدلی کے ذریعے اور چیزوں سے حاصل شدہ فوائد کی ادلا بدلی کے ذریعے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلی صورت کی اباحت کا کئی مواقع پر صراحتہً ذکر فرمادیا ہے۔
ارشاد ہے (واحل اللہ البیع، (a) اللہ نے بیع یعنی خریدو فروخت کو…
Read the full tafseer →764 تَثْبِیْتًا مِنْ عِنْد اَنْفُسِہِمْ کا مطلب ؟ : یعنی ایسی تصدیق اور ایسے یقین کی بناء پر جو ان کے دلوں سے نکلا ہوا ہو (معارف للکاندہلوی (رح) ) کہ ہمیں اس انفاق پر اپنے خالق ومالک حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے اس کا اجر وثواب اور صلہ وبدلہ ملے گا۔ اس لئے وہ اپنے مقدور کی حد تک شرک و ریاکاری اور نمود و نمائش کے ہر شائبہ سے بچنے کی پوری کوشش کرتے ہیں، اور اپنے دلوں کے اس یقین و اعتماد کے سوا اور کوئی چیز ان کو اس انفاق پر ابھارنے والی نہیں ہوتی۔ اور ان کا مقصود رضائ خداوندی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ پس یہ ارشاد ربانی ایسے ہی ہے جیسا کہ حدیث میں صیام رمضان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا " مَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 264–265
ریا کاری اور احسان جتلانے کی ممانعت
تشریح : اس آیت میں ریاکاری کی مذمت بیان کی گئی ہے اور ریا کار آدمی کو تو مومن کی شان سے ہی نکال دیا گیا ہے۔ صدقہ اگر ریا کاری کے لئے دیا جائے تو وہ بالکل بےکار بےفائدہ ہوجاتا ہے۔ اس کی مثال رب العزت اس طرح دیتے ہیں کہ یوں سمجھو کہ ایک دانہ ایسے پتھر پر بویا گیا کہ جس پر ہلکی سی مٹی پڑی ہوئی تھی۔ اس پر زور کی بارش ہوگئی تو اس سے نہ مٹی باقی رہی اور نہ دانہ۔ ظاہر ہے اس دانے سے کچھ حاصل نہ ہوا بالکل اسی طرح دکھاوے سے دیا ہوا مال کوئی فائدہ کوئی ثواب نہیں دلواتا۔ حالانکہ مال تو خرچ کیا مگر نیت خالص نہ تھی صرف دکھاوے کی نیت تھی جو کہ منافقت کی نشانی ہے اس لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 261–266
آیات 261- 266
اسرارو معارف
مثل الذین ینفقون اموالھم……………واللہ غنی حلیم
اللہ کی راہ میں خرچ کرنا مومن کے لئے ایسے ہے جیسے کاشتکار کہ وہ کھیتی بوتا ہے تو بظاہر کھیتی تیار کرنے کی مشقت اٹھاتا ہے پھر اپنی محنت سے کمائے ہوئے غلے کو اس میں بکھیردیتا ہے جو بظاہر محنت اور اثاثہ دونوں کا ضیاع نظر آتا ہے لیکن صرف اس شخص کو جو اس سارے کام کے انجام سے بیخبر ہے جو انجام کی اطلاع رکھتا ہے وہ پھر اس کی رکھوالی کرتا ہے حتیٰ کہ ایک وقت آتا ہے جب ایک ایک دانے سے سات سات خوشے نکلتے ہیں یعنی خوب اعلیٰ پودا اگتا ہے جس پر اس قدر خوشے لگتے ایسے صحتمند کہ ہر خوشے میں سو سو دانا ہوتا ہے وہ تھوڑا سا غلہ جو اس نے بیجا…
Read the full tafseer →ف 5 یہ ریاکاروں کے مقابلہ میں مخلص مومنوں کی دوسری مثال ہے یعنی جو لوگ محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے خرچ کرتے ہیں اور دل کے اس اطمینان کے ساتھ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس کا وافر اجر عطا فرمائے گا اور ان کا عمل ضائع نہیں ہوگا۔ (کبیر) ان کے خرچ کرنے کی مثال اس باغ کی ہے جو کسی پر فضا اور بلند مقام پر ہو اگر اس پر زور کی بارش ہو تو وہ دوسرے باغوں سے دگنا پھل دے اور اگر زور کی بارش ہو تو ہلکی بارش ہی کا فی رہے۔ یہی حالت مومن کے عمل کی ہے وہ کسی صورت بھی ضائع نہ ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزادے گا۔ (ابن کثیر) شاہ صاحب لکھتے ہیں : زور کے…
Read the full tafseer →(2:265) ابتغاء مرضات اللہ۔ مرضات اللہ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ ۔ ابتغائ۔ مضاف۔ ابتغاء منصوب بوجہ مفعول لہ ینفقون کا۔ جو اپنا مال خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ ابتغاء بروزن (افتعال) مصدر ہے بمعنی چاہنا ۔ تلاش کرنا۔ مرضات مصدر میمی واسم مصدر۔ پسند کرنا۔ رضا مند ہونا۔ پسندیدگی۔ خوشنودی۔ رضا مندی۔ اسی سے ہے راضی اسم فاعل رضوان خوب رضا مندی۔
وتثبیتا من انفسھم۔ واؤ عاطفہ ہے تثبیتا بھی منصوب بوجہ مفعول لہ ہے ای ولتثبت (ایمان و اعتقاد کے استحکام کے واسطے ) تثبیت (باب تفعیل) مصدر ہے بمعنی ثابت قدم کرنا۔ ثابت رکھنا۔ مستحکم کرنا۔ مضبوطی ۔ تاکید۔ اپنے نفسوں کے (ایمان و اعتقاد میں )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 261–265
لغات القرآن : آیت نمبر 261 تا 265
ینفقون (خرچ کرتے ہیں) ۔ حبۃ (دانہ) ۔ انبتت (اگتا ہے۔ (پیدا ہوتی ہے) ۔ سبع (سات) سنابل (بالیں ۔ (سنبلۃ) بال جس میں دانے ہوتے ہیں) ۔ یضعف (دوگنا کرتا ہے) ۔ لا یتبعون (وہ پیچھے نہیں لگتے) ۔ منا (احسان (احسان جتانا) ۔ اذی (تکلیف) ۔ قول معروف (قاعدے کی بات (اچھی بات) ۔ مغفرۃ (معاف کرنا، درگذر کرنا) ۔ غنی (بےپرواہ، بےنیاز) ۔ لا تبطلوا (ضائع نہ کرو۔ (باطل نہ کرو) ۔ رئاء الناس (لوگوں کو دکھانا) ۔ صفوان (صاف پتھر) ۔ تراب (مٹی، (ریت) ۔ وابل (بارش) صلد (صاف (پتھر) ۔ لا یقدرون (وہ قدرت و طاقت نہیں رکھتے) ۔ ابتغاء (تلاش کرنا) ۔ مرضات اللہ (اللہ کی مرضی و خوشنودی) ۔ تثبیتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 265–266
دنیا کے ہر ایک باغ کے دو موسم ہوتے ہیں : ایک پودے لگانے کا موسم، دوسرا پھل آنے پر پھل کھانے کا موسم۔ اسی طرح انسان کے عملوں کے دو زمانے ہیں : ایک دنیا میں نیک عمل کرنے کا زمانہ، دوسرا عقبیٰ میں ان نیک عملوں کا اجر پانے کا۔ جس کو باغ کے پھل کھانے کے موسم کے ساتھ پوری پشابہت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 260–265
[179] مطلب یہ ہے کہ ایمان کے درجے تک تو یقین اب بھی حاصل ہے۔ صرف یہ چاہتا ہوں کہ مشاہدے کے بعد اطمینان اور زیادہ ہوجائے۔ اس چیز کو اصطلاح میں عین الیقین کہتے ہیں یعنی وہ یقین جو مشاہدہ عینی سے حاصل ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 265–267
(ف 1) ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا کی راہ میں پاکیزہ چیزیں دو گری پڑی اشیاء کا تصدق کسی طرح موزوں نہیں ۔ اس لئے کہ جب تک اللہ کی راہ میں دینے سے دل تکلیف محسوس نہ کرے نفس اور ضمیر میں ایک جنگ بپانہ ہو ، نفس کی اصلاح نہیں ہو سکتی اور نہ بخل دور ہو سکتا ہے ، یہ ظاہر ہے کہ خدائے تعالیٰ رب السموت والارض ہے جس کے خزانے معمور ہیں ، ہمارے صدقات کا قطعا محتاج نہیں ، وہ تو غنی ہے ، بےنیاز ہے ، اس لئے تقاضا یہ ہے کہ خدا کی راہ میں دے کر ہمیں کیا ملتا ہے ؟ کیا طبعیت کا بخل دور ہوگیا ہے ؟ کیا دل میں خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے آمادگی کا احساس بڑھ گیا ہے یا کیا ؟ پھر فرمایا کہ تم دنیا میں تحائف…
Read the full tafseer →ف 3 اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور خوشنودی کی جستجو کرنے کی غرض سے اور اپنے دلوں کو مضبوط کرنے اور تقویت پہنچانے کے لئے اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان کے خرچ کئے ہئے مالوں کی حالت ایسی ہے ۔ جیسے ایک باغ کی حالت کہ وہ باغ کسی بلند مقام پر اور ٹیلے پر واقع ہو پھر اس پر زور کی بارش ہو اجئے اور اس پر خوب مبینہ پڑجائے تو وہ دگنا اور چوگنا پھل لائے اور اگر اس پر زور کی بارش نہ بھی بر سے تو معمولی سی پھوار اور ہلکی سی بارش بھی اس کے لئے کافی ہے اور تمہارے تمام اعمال کو جو تم کرتے رہتے ہو اللہ تعالیٰ خوب دیکھتا ہے۔
اوپر کی آیت میں ان لوگوں کا ذکر تھا جن کا صدقہ اجر کے اعتبار سے ایسا تھا جیسے دھلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 264–265
ف 5۔ معلوم ہوتا ہے کہ انفاق کے لیے ایمان کے ساتھ ایک شرط صحت اخلاص بھی ہے اور ترک من واذی شرط بقاء ہے اس لیے منافق اور مرائی کے انفاق کو باطل کہا گیا اس میں شرط صحت مفقوف ہے اور من واذی کو بھی مبطل کہا گیا کہ اس میں شرط بقا مفقود ہے۔
Read the full tafseer →رضائے الٰہی کی خاطر مال خرچ کرنے والوں کا حال :
460: فرمایا : دوسرے وہ لوگ ہیں جو اپنے مال کو محض اس لیے خرچ کرتے ہیں کہ اللہ کی رضامندی حاصل ہو اور نفس میں پختگی پیدا ہو۔ یہ اصول طے شدہ ہے کہ جس کام میں نفس کو تکلیف برداشت کرنا پڑتی ہے اس کے بار بار کرنے سے عادت ہوجاتی ہے اور پھر طبیعت میں وہی ملکہ راسخ ہوجاتا ہے ، نفس کی مزاحمت جاتی رہتی ہے اور دوسرے اعمال صالح میں بھی دقت نہیں پیدا ہوتی پھر اس پختگی کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ چونکہ ہم اپنی عزیز ترین متاع حیات اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو جس چیز کیلئے اس کو خرچ کریں گے خود اس سے بھی ایک قسم کا ربط وتعلق قائم ہوجائے گا۔ اس سے اللہ کی…
Read the full tafseer →In verse 265, the fifth under discussion, the acts of charity which are acceptable in the sight of Allah Almighty as valid spendings, have been illustrated with an example. It is said that those who spend in the way of Allah, solely and sincerely, to seek nothing but His pleasure, and thus fortify their selves with steadfastness, are in a situation where there is a fruit farm located on some mound, then it is hit by heavy rains, then it brings forth double of its usual yield. And should it be that the rain is not that heavy, a light drizzle would become sufficient for it and Allah Almighty…
Read the full tafseer →306. 'Heavy rain' signifies here charity motivated by a high degree of benevolence and sincerity. 'Light shower' refers to charity deficient in sincerity and goodness, though not altogether devoid of them.
Read the full tafseer →