Explained with ayahs 262–264
مخیر حضرات کی تعریف اور ہدایات
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے ان بندوں کی مدح و تعریف کرتا ہے جو خیرات و صدقات کرتے ہیں اور پھر جسے دیتے ہیں اس پر احسان نہیں جتاتے اور نہ اپنی زبان سے یا اپنے کسی فعل سے اس شخص کو کوئی نقصان پہنچاتے ہیں، ان سے ایسے جزائے خیر کا وعدہ فرماتا ہے کہ ان کا اجر وثواب رب دو عالم کے ذمہ ہے۔ ان پر قیامت کے دن کوئی ہول اور خوف و خطر نہ ہوگا اور نہ دنیا اور بال بچے چھوٹ جانے کا انہیں کوئی غم و رنج ہوگا، اس لئے کہ وہاں پہنچ کر اس سے بہتر چیزیں انہیں مل چکی ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ کلمہ خیر زبان سے نکالنا، کسی مسلمان بھائی کیلئے دعا کرنا، درگزر کرنا، خطاوار کو معاف کردینا اس صدقے…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 303
اس کی ریاکاری خود ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خدا اور آخرت پر یقین نہیں رکھتا۔ اس کا محض لوگوں کو دکھانے کے لیے عمل کرنا صریحاً یہ معنی رکھتا ہے کہ خلق ہی اس کی خدا ہے جس سے وہ اجر چاہتا ہے، اللہ سے نہ اس کو اجر کی توقع ہے اور نہ اسے یقین ہے کہ ایک روز اعمال کا حساب ہوگا اور اجر عطا کیے جائیں گے۔
سورة الْبَقَرَة 304
اس تمثیل میں بارش سے مراد خیرات ہے۔ چٹان سے مراد اس نیت اور اس جذبے کی خرابی ہے، جس کے ساتھ خیرات کی گئی ہے۔ مٹی کی ہلکی تہہ سے مراد نیکی کی وہ ظاہری شکل ہے، جس کے نیچے نیت کی خرابی چھپی ہوئی ہے۔ اس توضیح کے بعد مثال اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔ بارش کا فطری…
Read the full tafseer →چوتھی آیت میں اسی مضمون کو دوسرے عنوان سے اور بھی تاکید کے ساتھ اس طرح ارشاد فرمایا کہ اپنے صدقات کو برباد نہ کرو زبان سے احسان جتلا کر یا برتاؤ سے ایذاء پہنچا کر۔
اس سے واضح ہوگیا کہ جس صدقہ و خیرات کے بعد احسان جتلانے یا مستحقین کو ایذاء پہنچانے کی صورت ہوجائے وہ صدقہ باطل کالعدم ہے اس پر کوئی ثواب نہیں، اس آیت میں صدقہ کے قبول ہونے کی ایک اور شرط کا اس طرح بیان فرمایا ہے کہ جو شخص لوگوں کے دکھاوے اور نام ونمود کے واسطے خرچ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتا اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی صاف پتھر پر کچھ مٹی جم جائے اور اس میں کوئی دانہ بوئے پھر اس پر زور کی بارش پڑجائے اور…
Read the full tafseer →“ وابل ”کے معنی : وابل کے عنی ہیں زور کی بارش۔ زور کا دونگڑا۔
“ صلد ”کے معنی :‘ صلد ’ کے معنی سخت اور چکنی چیز کے ہیں۔ ارض صلد، یا مکان صلد، اس زمین کو کہیں گے جہاں کوئی چیز اگتی نہ ہو۔ راس صلد، ایسے سر کو کہیں گے جس پر بال نہ اگتے ہوں۔
تمثیل میں مدنظر صورت : پہاڑوں پر بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی بڑی چٹان پر ادھر ادھر سے مٹی آ خر جم جاتی ہے جس سے ایک موٹی تہ بن جاتی ہے۔ کسان بعض اوقات اس کو زرخیز پا کر اس پر کھیتی شروع کردیتے ہیں۔ اس قسم کی زمینوں کو کبھی یہ خطرناک صورت پیش آتی ہے کہ پہاڑ کے بالائی حصے میں زور کی بارش ہوئی اور اس کا ریلا جو آیا تو اس نے ساری مٹی والی سطح وادی کی طرف پھسلا…
Read the full tafseer →264۔ 1 اس میں ایک تو یہ کہا گیا ہے صدقہ اور خیرات کر کے احسان جتلانا اور تکلیف دہ باتیں کرنا اہل ایمان کا شیوا نہیں بلکہ ان لوگوں کا وطیرہ ہے جو منافق ہیں اور ریاکاری کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ دوسرے ایسے خرچ کی مثال صاف پتھر چٹان کی طرح ہے جس پر مٹی ہو کوئی شخص پیداوار حاصل کرنے کے لئے اس میں بیج بو دے لیکن بارش کا ایک جھٹکا پڑتے ہی وہ ساری مٹی اس سے اتر جائے اور وہ پتھر مٹی سے بالکل صاف ہوجائے۔ یعنی جس طرح بارش اس پتھر کے لئے نفع بخش ثابت نہیں ہوئی اس طرح ریا کار کو بھی اس کے صدقے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 264–265
180: چٹان پر اگر مٹی جمی ہو تو یہ امید ہوسکتی ہے کہ اس پر کوئی چیز کاشت کرلی جائے ؛ لیکن اگر بارش مٹی کو بہالے جائے تو چٹان کے چکنے پتھر کاشت کے قابل نہیں رہتے، اسی طرح صدقہ خیرات سے آخرت کے ثواب کی امید ہوتی ہے ؛ لیکن اگر اس کے ساتھ ریا کاری یا احسان جتانے کی خرابی لگ جائے تو وہ صدقے کو بہالے جاتی ہے اور ثواب کی کوئی امید نہیں رہتی۔
Read the full tafseer →یہ ہے وہ پہلا منظر یہ ایک مکمل اور دواجزاء سے مرکب منظر ہے ، جو اپنی شکل وضع اور اپنے نتائج کے اعتبار سے ایک دوسرے کے متضاد مناظر ہیں ۔ ہر منظر کے پھر مختلف اجزاء ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ متناسق ہیں ۔ وہ تعبیر اور مشاہدے کے اعتبار سے بھی باہم متوافق اور ہم رنگ ہیں ۔ اور معانی اور جذبات کے اعتبار سے بھی جو معانی اور جو جذبات اس منظر کشی سے پیدا کرنے مطلوب تھے ۔ جن کا اظہار اس پوری منظرکشی سے مطلوب تھا یا جو شعور ان مناظر کی وجہ سے پیدا کیا جانا مطلوب تھا۔
پہلے منظر میں ہمیں ایک ایسے دل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو پتھر سے بھی سخت ہے۔ كَالَّذِي يُنْفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلا يُؤْمِنُ…
Read the full tafseer →4 یعنی صدقہ دے کر محتاج کو ستانے اور اس پر احسان رکھنے سے صدقہ کا ثواب جاتا رہتا ہے یا اوروں کو دکھا کر اس لئے صدقہ دیتا ہے کہ لوگ سخی جانیں اس طرح کی بھی خیرات کا ثواب کچھ نہیں ہوتا باقی یہ فرمانا کہ وہ یقین نہیں رکھتا ہے اللہ پر اور قیامت کے دن پر یہ ابطال صدقہ کے لئے قید و شرط نہیں ہیں کیونکہ صدقہ تو صرف ریا سے ہی باطل ہوسکتا ہے اگرچہ خرچ کرنیوالا مومن ہی کیوں نہ ہو مگر اس قید کو صرف اس نفع کی غرض سے بڑھایا کہ یہ معلوم ہوجائے کہ ریاکاری مومن کی شان سے بعید ہے بلکہ یہ امر منافقین کے مناسب حال ہے۔
5 اوپر مثال بیان فرمائی تھی خیرات کی کہ ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا اور اس سے سات سو دانے پیدا…
Read the full tafseer →آیت 264 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِکُمْ بالْمَنِّ وَالْاَذٰیلا
کَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَہٗ رِءَآء النَّاسِ
اگرچہ اپنا مال خرچ کر رہا ہے ‘ لوگوں کو صدقات دے رہا ہے ‘ بڑے بڑے خیراتی ادارے قائم کردیے ہیں ‘ لیکن یہ سب کچھ ریاکاری کے لیے ‘ سرکار دربار میں رسائی کے لیے ‘ کچھ اپنے ٹیکس بچانے کے لیے اور کچھ اپنی ناموری کے لیے ہے۔ یہ سارے کام جو ہوتے ہیں اللہ جانتا ہے کہ ان میں کس کی کیا نیت ہے۔
وَلاَ یُؤْمِنُ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ط
جو کوئی ریاکاری کر رہا ہے وہ حقیقت میں اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ ریا اور ایمان ایک دوسرے کی ضد ہیں ‘ جیسا کہ یہ…
Read the full tafseer →380 ریا کار کی چونکہ نیت ہی درست نہیں ہوتی اور نیت ہی اصل بیج ہے۔ لہذا ایسا بیج بار آور نہیں ہوسکتا۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی۔ جیسے ایک صاف چکنا سا پتھر ہو جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو، اس میں وہ اپنا بیج ڈالتا ہے اور جب بارش ہوتی ہے تو پانی مٹی کو بھی بہا لے جاتا ہے اور بیج بھی اس مٹی کے ساتھ بہہ جاتا ہے۔ لہذا اب پیداوار کیا ہوسکتی ہے ؟ ریاکار کا دراصل اللہ پر اور روز آخرت پر پوری طرح ایمان ہی نہیں ہوتا وہ تو لوگوں کو خوش کرنے کے لیے ہی عمل کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر وثواب پانے کی اس کی نیت ہی نہیں ہوتی۔ چناچہ حدیث میں آیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →1031 ۔ (آیت) ” لا تبطلوا صدقتکم “ یعنی ان ممنوع طریقوں سے اضافہ اجروازدیاد ثواب کو مٹانہ دو ۔ فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ جس طرح صدقہ کا ابطال یہاں حرام وممنوع قرار دیا گیا ہے، اسی طرح کوئی سا بھی نیک عمل ہو اسے باطل کر ڈالنا حرام اور ممنوع ہے۔ چناچہ نفل نماز کی نیت باندھ کر اسے توڑ ڈالنے کی حرمت وممانعت اسی قاعدہ کے ماتحت ہے۔
1032 ۔ (اور یہ شخص صدقہ کے نفس اجروثواب ہی کو ضائع کرکے رہتا ہے) دو صورتیں الگ الگ بیان ہوئی ہیں، دونوں کا فرق ملحوظ رہے، پہلی صورت میں خطاب اہل ایمان سے ہے، نفس صدقہ تو ان لوگوں کا قبول ہوجائے گا لیکن احسان جتلانے یا اذیت پہنچانے سے ترقی درجات واضافہ اجر سب سلب ہوجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 263–265
قَوْلٌ مَعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَۃٌ خَیْرٌا (الآیۃ) سائل سے نرمی اور شفقت سے بولنا اور دعائیہ کلمات کہنا مثلاً یہ کہ اللہ تعالیٰ تم کو اور ہم کو بھی اپنے فضل و کرم سے نوازے۔ یہ قول معروف ہے اور مغفرۃ کا مطلب ہے کہ اگر سائل کی زبان سے کوئی نازیبا کلمہ نکل جائے تو اس سے چشم پوشی کرتے ہوئے درگزر کرنا۔ یہ نرمی اور چشم پوشی اور درگزر اس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد اس کو لوگوں میں رسوا و ذلیل کرے یا احسان جتائے۔ کسی سے کلمہ خیر کہنا اور خندہ پیشانی سے ملنا بھی صدقہ ہے۔ (مسلم کتاب البر)
فَمَثَلُہٗ ، کَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْہِ تُرَابٌ فَاَصَابَہٗ وَابِلٌ فَتَرَکَہٗ صَلْدًا یہ ایک تمثیل ہے جس میں ریاکار کے…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بالْمَنِّ وَالْاَذٰى (اے وہ لوگو جو ایمان لاچکے ہو اپنی خیرات کے ثواب کو سائل پر احسان رکھنے اور دکھ دینے سے اکارت نہ بناؤ یعنی دونوں میں سے کوئی فعل کرکے صدقہ کو رائیگاں نہ کرو۔ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک احسان رکھنے سے مراد ہے اللہ پر احسان رکھنا اور عام مفسرین نے لینے والے پر احسان رکھنا مراد لیا ہے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ راوی ہیں کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : دینے کے بعد احسان جتانے والا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔ ( یعنی جب تک لینے والا اس کو معاف نہ کردے اور ماں باپ راضی نہ ہوجائیں) ۔…
Read the full tafseer →(264) احسان جتلانے والے اور مشرک کے صدقہ کی مثال چکنے پتھر کی طرح ہے جس پر کچھ مٹی آگئی ہو اور پھر اس پرزور کی بارش پڑگئی تو اس نے جیسا وہ چکنا صاف تھا، پھر اسی طرح کردیا، دنیا میں اس طرح کے خرچ کرنے والوں کو آخرت میں کسی بھی قسم کا ثواب نہیں ملے گا، اور اللہ تعالیٰ منافقین اور لوگوں کے دکھلاوے لیے خرچ کرنے والوں اور اسی طرح صدقہ خیرات پر احسان جتانے والوں کو ان کے صدقات پر کسی قسم کا کوئی ثواب نہیں عطا کریں گے۔
Read the full tafseer →لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بالْمَنِّ وَالْاَذٰى ۙ۔۔ : یعنی کسی کو صدقہ دینے کے بعد اس پر احسان جتلا کر یا اسے تکلیف دے کر اس منافق کی طرح اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو جو صرف ریا کاری کے جذبہ کے تحت اپنا مال خرچ کرتا ہے اور اس کا اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں ہے۔ (ابن کثیر)
كَمَثَلِ صَفْوَانٍ : یعنی یہ ریا کار بظاہر اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں اس کی مثال اس صاف چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی جمی ہوئی ہو (”تُرَابٌ“ کی تنوین تقلیل کے لیے ہے) اور دیکھنے والا اسے قابل کاشت زمین خیال کرے، لیکن جونہی بارش ہو اس کی تمام مٹی دھل جائے اور وہ صاف چٹان کی چٹان رہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 264۔
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ (آیت) ” بالمن والاذی۔ ان کا معنی پہلے گزر چکا ہے اللہ تعالیٰ نے عدم قبول اور ثواب سے محروم ہونے کو ابطال سے تعبیر کیا ہے اور مراد وہ صدقہ ہے جس کے ساتھ وہ احسان جتلاتا ہے اور دکھ پہنچاتا ہے، جو اس کے سوا ہو وہ مراد نہیں، اور عقیدہ یہ ہے کہ گناہ (سیئات) نیکیوں (حسنات) کو نہ باطل کرتے ہیں اور نہ ہی انہیں بالکل بےکار بنا دیتے ہیں، پس صدقہ میں احسان جتلانا اور دکھ پہنچانا بھی اس صدقہ کے سوا کسی صدقہ کو باطل نہیں کرتا۔
جمہور علماء نے اس آیت میں کہا ہے : بیشک وہ صدقہ جس کے دینے والے کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ…
Read the full tafseer →(1) المنذر نے ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا جو شخص (کچھ) خرچ کرتا ہے پھر اس کے ساتھ احسان جتاتا ہے یا اس شخص کو تکلیف پہنچاتا ہے جس کو اس نے مال دیا تھا تو اس کا اجر ضائع ہوگیا اللہ تعالیٰ نے اس کی مثال بیان فرمائی کہ جیسے مثال ایک پتھر کی ہے کہ جس پر مٹی ہو اور اس کو زور دار بارش پہنچ جائے تو اس پر مٹی کا ذرا بھی باقی نہی رہے گا اس طرح اللہ تعالیٰ اس شخص کے اجر کو ختم فرما دیتے ہیں جو صدقہ دے کر بھی احسان جتاتا ہے جیسا کہ بارش اس مٹی کو ختم کردیتی ہے۔
(2) ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والون سے فرمایا کہ اپنے صدقات کو احسان جتانے…
Read the full tafseer →[ یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو ! جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [لاَ تُبْطِلُوْا : تم لوگ باطل مت کرو ] [صَدَقٰـتِکُمْ : اپنے صدقات کو ] [ بِالْمَنِّ : احسان جتانے سے ] [وَالْاَذٰی : اور ستانے سے ] [کَالَّذِیْ : اس کی مانند جو ] [یُنْفِقُ : خرچ کرتا ہے ] [مَالَہٗ : اپنے مال کو ] [رِئَــآئَ النَّاسِ : لوگوں کو دکھاتے ہوئے ] [وَ : اس حال میں کہ ] [لَا یُؤْمِنُ : وہ ایمان نہیں لاتا ] [بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ : اور آخری دن (آخرت) پر ] [فَمَثَلُہٗ : تو اس کی مثال ] [کَمَثَلِ صَفْوَانٍ : ایک ایسے صاف پتھر کی مثال کی مانند ہے ] [عَلَیْہِ : جس پر ] [تُرَابٌ : کچھ مٹی ہے ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 262–264
فی سبیل اللہ خرچ کرنے کے آداب اور ریا کاروں کے صدقات کی مثال
ان آیات میں اول تو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی فضیلت بتائی ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کے لیے اجر وثواب ہے نہ ان پر کوئی خوف ہے نہ وہ رنجیدہ ہوں گے، اور ساتھ ہی دو باتوں پر تنبیہ فرمائی ہے، اول یہ کہ جس کسی کو مال دیں اس پر احسان نہ دھریں اور اسے تکلیف نہ پہنچائیں، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ صدقہ دینے کے بعد احسان جتانے اور تکلیف پہنچانے سے صدقہ باطل ہوجاتا ہے، بہت سے لوگوں کی جو یہ عادت ہوتی ہے کہ تھوڑا بہت صدقہ دے کر ان لوگوں پر احسان دھرتے ہیں جن لوگوں کو کچھ دیا۔ اور خاص کر ان لوگوں پر جو رشتہ دار ہیں یا اپنے شہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 261–264
فضیلت انفاق فی سبیل اللہ وزکر بعض شرائط قبول۔
قال تعالی، مثل الذین ینفقون۔۔۔۔ الی۔۔۔ القوم الکافرین۔
ان آیات میں عالم آخرت کے لیے سازوسامان تیار کرنے کی ترغیب کے لیے ایک مثال بیان فرماتے ہیں جو ضمنا اثبات قیامت کی بھی دلیل ہے اس لیے کہ جو ذات پاک زمین ایک دانہ ڈالنے اور سات سودانے اگانے پر قادر ہے وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے چناچہ فرماتے ہیں جو لوگ اپنے مالوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے کہ ایک دانہ زمین میں ڈالاجائے جو کہ سات بالیں اگائے اور ہر بال میں سودانے ہوں اسی طرح صدقہ دینے والا بمنزلہ مزارع کے ہے اور مال بمنزلہ تخم اور دانہ کے ہے اور سبیل اللہ بمنزلہ…
Read the full tafseer →522 اب یہاں نہایت تاکید کے ساتھ من اور اذی سے منع فرمایا ہے اور واضح کردیا ہے کہ من اور اذی سے صدقہ باطل ہوجتا ہے اور اس کا کوئی ثواب نہیں ملتا۔ الَّذِيْ يُنْفِقُسے مراد منافق یا مشرک ہے۔ و غالب المفسرین قال ان المراد بہ المنافق (روح ص 35 ج 3) رئاء۔ ینفق کا مفعول لہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک منافق ریا کار کی مثال دے کر ایمان والوں کو سمجھایا کہ جس طرح وہ منافق محض لوگوں کے دکھلاوے کے لیے خیرات کرتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ پر اس کا ایمان ہے اور نہ محاسبہ آخرت پر طو ظاہر ہے کہ رضائے الٰہی اور ثواب آخرت کی طلب کا تو اس کے دل میں کھٹکا تک نہیں ہوگا تو جس طرح اس ریا کار منافق کی خیرات بالکل رائیگاں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 264–266
ابطلال صدقہ کی پہلی دو وجوہات
ابطال صدقہ کے متعلق دو وجوہات کا ذکر گزشتہ درس میں بھی آ چکا ہے۔ آج کے درس میں ان کا تذکرہ دوبارہ آ رہا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ یایھا الذین امنوا لا تبطلوا صدقتکم بالمن والاذی اے اہل ایمان ! اپنے صدقات و خیرات کو احسان جتلا کر اور تکلیف پہنچا کر باطل نہ کرو ۔ یہی دو چیزیں پہلے بھی بیان ہوئی ہیں وہاں فرمایا تھا ثم لا یتبعون ما انفقوا مناولا اذی گویا دونوں مقامات پر احسان اور اذیت کو ابطلال صدقہ کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ ایسا کرنے سے نہ صرف صدقہ بےمقصد ہوجاتا ہے بلکہ الٹا انسان گناہ گارہو کر عذاب کا مستحق ہوجاتا ہے گویا یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ کا…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰى 0 ۙ كَالَّذِيْ يُنْفِقُ مَا لَہٗ رِئَاۗءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ 0 ۭ فَمَثَلُہٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْہِ تُرَابٌ فَاَصَابَہٗ وَابِلٌ فَتَرَكَہٗ صَلْدًا 0 ۭ لَا يَـقْدِرُوْنَ عَلٰي شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا 0 ۭ وَاللہُ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ 264
بطل
البَاطِل : نقیض الحق، وهو ما لا ثبات له عند الفحص عنه، قال تعالی: ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْباطِلُ [ الحج/ 62]
( ب ط ل ) الباطل
یہ حق کا بالمقابل ہے اور تحقیق کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 264–265
ترکیب : کالذی کاف موضع نصب میں ہے لغت ہے مصدر محذوف کی تقدیرہ ابطالا کا بطال الذی ینفق ریاء الناس مفعول لہٗ ہے ینفق کاریاء کی پہلی ہمزہ نفس کلمہ ہے کہ یہ رای سے ہے اور لغیر بدل ہے سے صفوان جنس ہے وقیل جمع صفواتہ علیہ تراب جملہ موضع جر میں صفت ہے صفوان کی ابتغاء مفعول لہ ہے ینفقون کا اور تثبیتًا اس پر معطوف ہے اور یہ مصدر ہے فعل متعدی کا ای یثبتون اعمالہم باخلاص النیۃ اور ممکن ہے کہ بمعنی ثبت ہو۔ ربوۃ بضم الراء و فتحہا بلندی یا پھولی ہوئی نرم زمین ‘ اصابہا وابل جملہ صفت ہے جنۃ کی وابل وبل سے مشتق ہے یقال اوبل فہو موبل۔ اکل سکون کاف اور ضمہ دونوں طرح جائز ہے۔ یہ جمع ہے واحد اس کا اکلۃ ہے بمعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 263–264
قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَۃٌ خَیْرٌمِّنْ صَدَقَۃٍ یَّتْبَعُہَآ اَذًی ط وَاللّٰہُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ۔
(دلداری کا ایک کلمہ کہہ دینا اور در گزر کرنا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دل آزاری لگی ہوئی ہو۔ اور اللہ بےنیاز اور بردبار ہے) (263)
قرآن کریم چونکہ اللہ کا کلام ہے اس لیے اس میں صرف حسن عمل کی ترغیب اور اس کے طریقے ہی نہیں بتائے گئے بلکہ کسی عمل میں حسن جس نزاکتِ احساس سے پیدا ہوتا ہے اس کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ اور ویسے بھی اسلام کا اصل موضوع انسان کی اصلاح ہے اور انسان کی اصلاح اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس کے دل کی اصلاح نہ ہو۔ اس کے احساسات اور تصورات اس راستے پر نہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے عمومی انداز میں سمجھایا گیا تھا کہ اللہ کے لیے خرچ کرو اور صدقہ لینے والے کو تکلیف نہ دو اور نہ ہی اس پر احسان جتلاؤ۔ یاد رکھو کہ حقیقی غنی وہ ذات اقدس ہے جس نے اپنی غنا کے خزانوں سے تمہیں عطا فرمایا ہے۔ تم تو تھوڑا سادے کر بےحوصلہ ہوجاتے ہو اس مالک کی طرف دیکھو جو تمہیں صبح وشام کھلانے پلانے اور خزانے عطا کرنے کے باوجود تمہاری گستاخیاں اور نافرمانیاں برداشت کرتا ہے۔
اب براہ راست صاحب ایمان لوگوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ ایذاء رسانی اور احسان جتلا کر اپنے صدقات کو ہرگز ضائع نہ کرنا۔ کیونکہ جس حاجت مند کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا جائے اس کے دل میں صدقہ دینے والے…
Read the full tafseer →264 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَاتُبْطِلُوْا صَدَقٰتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَ ذٰی کَالَّذِیْ (اے ایمان والو ! مت باطل کرو اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح) کَالَّذِیْکا کاف مصدر محذوف کی صفت کے طور پر منصوب ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے ابطالا مثل ابطال الذی۔ باطل کرنا اس کے باطل کرنے کی طرح۔
احسان جتلانے کا نقصان :
یُنْفِقُ مَالَہٗ رِئَآئَ النَّاسِ وَلَایُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ (جو اپنے مال کو لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا) یعنی نہ باطل کرو اپنے صدقات کا ثواب احسان جتا کر اور دکھ دے کر اس…
Read the full tafseer →264۔ (یایھا الذین ۔۔۔۔۔۔۔ صدقاتکم اے ایمان والو ! تم اپنے اعمال کو برباد نہ کرو یعنی صدقات کا ثواب احسان جتلا کر ضائع نہ کرو (بالمن احسان جتلا کر) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ن ے اس کی تفسیر کی ہے کہ اللہ پر احسان رکھنا اور عامر مفسرین نے لینے والے پر احسان رکھنا مراد لیا ہے (والاذی اور ایذاء پہنچا کر) اس سائل کو جس پر احسان کیا ، پھر اس کی مثال بیان کی ، (کالذی ینفق مالہ جس طرح وہ شخص جو اپنا مال خرچ کرتا ہے) یعنی اپنے خرچ کیے ہوئے مال کو ضائع کردیتے ہیں (رئاء الناس لوگوں کو دکھانے کے لیے) دکھاوے اور شہرت کے لیے خرچ کرے تاکہ دینے والا یہ کہے کہ دیکھو فلاں شخص کتنا سخی ہے (ولا یؤمن باللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 262–264
(262 ۔ 264) ۔ غزوہ تبوک میں حضرت عثمان ؓ نے ایک ہزار اونٹ مع سامان اور عبد الرحمن بن عوف ؓ نے چار ہزار درہم بطور خیرات کے دیے تھے اس پر یہ آیت اتری 1۔ اور آیت کے اول حصہ میں لوگوں نے عام طور پر ان لوگوں کی تعریف فرمائی ہے جو خیرات کے بعد اپنے دیے کا کسی پر احسان نہیں رکھتے نہ اپنے دیے کو جتلا کر کسی کو شرمندگی اٹھانے کی ایذا و تکلیف دیتے ہیں بلکہ وہ جو کچھ عقبیٰ کے اجر کی نیت سے دیتے ہیں اس سے نہ کسی پر احسان جتانے کی ان کی نیت ہے نہ کسی کو شرمندہ کر کے ایذا دینے کی پھر آیت کے دوسرے حصہ میں ان لوگوں کو ہوشیار کیا ہے جن کی عادت اس کے برخلاف ہے اور فرمایا ہے کہ جو لوگ دنیا کے دکھاوے کو کچھ دیتے…
Read the full tafseer →آیت 264
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت و شفقت فرماتے ہوئے انہیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ وہ احسان جتلا کر اور تکلیف دے کر اپنے صدقے ضائع کر بیٹھیں۔ اس میں اشارہ ہے کہ احسان جلانے اور تنگ کرنے سے صدقہ کالعدم ہوجاتا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ گندا ہوں کے ارتکاب کے نتیجے میں نیک اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ جیسے ارشاد ربانی ہے : (ولا تجھروالہ بالقول کجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لاتشعرون) (الحجرات :2/79) ” نبی سے اونچی آواز سے بات نہ کرو، جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال اکارت جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ “ چناچہ جس طرح نیکیوں کی وجہ سے گناہ معاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 263–267
کمائی کرنے کا بیان
قول باری ہے (یآ ایھا الذین امنوا انفقوا من طیبات ما کسبتم ومما اخرجنا لکم من الارض ۔ (a) اے ایمان والو ! جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ تم نے زمین سے تمہارے لئے نکالا ہے اس میں سے بہتر حصہ راہ خدا میں خرچ کرو) ۔
اس آیت میں کمائی کی صورتوں کی اباحت کا ذکر ہے اور یہ بیان ہے کہ کمائیوں میں پاکیزہ صورتیں بھی موجود ہیں۔ کمائی دو طرح سے ہوتی ہے۔ اموال اور ان کے منافع کی ادلا بدلی کے ذریعے اور چیزوں سے حاصل شدہ فوائد کی ادلا بدلی کے ذریعے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلی صورت کی اباحت کا کئی مواقع پر صراحتہً ذکر فرمادیا ہے۔
ارشاد ہے (واحل اللہ البیع، (a) اللہ نے بیع یعنی خریدو فروخت کو…
Read the full tafseer →760 منّ و اذی باعث خسران و ضیاع ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنے صدقات کو منّ اور اذی کے ذریعے ضائع اور اکارت مت کرو۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ ایذاء رسانی اور احسان جتلانے سے صدقات و خیرات ضائع ہوجاتے ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ الٹا گناہ اور تباہی کا باعث بن جاتے ہیں، جیسا کہ صحیح احادیث میں نبئ اکرم ﷺ سے اس کی تصریح وارد ہوئی ہے۔ چناچہ صحیح مسلم میں حضرت ابوذر ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز نہ ان سے کلام فرمائیگا، نہ ان کو نظر رحمت سے دیکھے گا، اور نہ ہی ان کو پاک کریگا، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 264–265
ریا کاری اور احسان جتلانے کی ممانعت
تشریح : اس آیت میں ریاکاری کی مذمت بیان کی گئی ہے اور ریا کار آدمی کو تو مومن کی شان سے ہی نکال دیا گیا ہے۔ صدقہ اگر ریا کاری کے لئے دیا جائے تو وہ بالکل بےکار بےفائدہ ہوجاتا ہے۔ اس کی مثال رب العزت اس طرح دیتے ہیں کہ یوں سمجھو کہ ایک دانہ ایسے پتھر پر بویا گیا کہ جس پر ہلکی سی مٹی پڑی ہوئی تھی۔ اس پر زور کی بارش ہوگئی تو اس سے نہ مٹی باقی رہی اور نہ دانہ۔ ظاہر ہے اس دانے سے کچھ حاصل نہ ہوا بالکل اسی طرح دکھاوے سے دیا ہوا مال کوئی فائدہ کوئی ثواب نہیں دلواتا۔ حالانکہ مال تو خرچ کیا مگر نیت خالص نہ تھی صرف دکھاوے کی نیت تھی جو کہ منافقت کی نشانی ہے اس لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 261–266
آیات 261- 266
اسرارو معارف
مثل الذین ینفقون اموالھم……………واللہ غنی حلیم
اللہ کی راہ میں خرچ کرنا مومن کے لئے ایسے ہے جیسے کاشتکار کہ وہ کھیتی بوتا ہے تو بظاہر کھیتی تیار کرنے کی مشقت اٹھاتا ہے پھر اپنی محنت سے کمائے ہوئے غلے کو اس میں بکھیردیتا ہے جو بظاہر محنت اور اثاثہ دونوں کا ضیاع نظر آتا ہے لیکن صرف اس شخص کو جو اس سارے کام کے انجام سے بیخبر ہے جو انجام کی اطلاع رکھتا ہے وہ پھر اس کی رکھوالی کرتا ہے حتیٰ کہ ایک وقت آتا ہے جب ایک ایک دانے سے سات سات خوشے نکلتے ہیں یعنی خوب اعلیٰ پودا اگتا ہے جس پر اس قدر خوشے لگتے ایسے صحتمند کہ ہر خوشے میں سو سو دانا ہوتا ہے وہ تھوڑا سا غلہ جو اس نے بیجا…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی کسی کو صدقہ دینے کے بعد اس پر احسان جتلا کرے اسے تکلیف دے کر اس منافع کی طر اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو جو صرف ریاکاری کے جذبہ کے تحت اپنا مال خرچ کرتا ہے اور اس کا اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں ہے۔ (ابن کثیر) سف 4 یعنی یہ ریا کار بظاہر اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کرتا نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں وہ صدقہ اس مٹی کی طرح ہے جو کسی صاف چٹان پر جمع ہوئی ہو اور دیکھنے والا اسے قابل کاشت زمین خیال کرے لیکن جو نہی بارش ہو اس کی تمام مٹی دھل جائے اور وہ صاف چٹان کی چٹان رہ جائے ہ اسی طرح ریاکاروں کے عمل ان کے صحیفہ اعمال سے مٹ جائیں گے اور نہ انھیں ان کا کوئی اجر ملے گا۔ اوپر کی آتی میں…
Read the full tafseer →(2:264) لاتبطلوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ ابطال (افعال) مصدر۔ تم باطل مت کرو۔ تم ضائع مت کرو۔ تم رائیگاں مت کرو۔
کالذی۔ میں ک حرف تشبیہ ہے۔ محل نصب میں ہے۔ نصب یا تو مفعول مطلق ہونے کی صورت میں ہے ای ابطالا کا بطال الذی ینفق۔ ترجمہ ہوگا : اس شخص کے ثواب کو رائیگاں کرنے کی طرح اپنے ثواب کو اکارت نہ کرو جو ۔۔ الخ۔ یا حال ہونے کی بناء پر۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا : کہ ثواب کو برباد کرنے میں اس شخص کی مانند نہ ہوجاؤ۔
ینفق مالہ رئاء الناس۔ رئاء کے منصوب ہونے کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :
(1) منصوب مفعول لہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ یعنی لوگوں کو دکھانے کی غرض سے وہ خرچ کرتا ہے۔
(2) حال ہونے کی بنا پر منصوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 261–265
لغات القرآن : آیت نمبر 261 تا 265
ینفقون (خرچ کرتے ہیں) ۔ حبۃ (دانہ) ۔ انبتت (اگتا ہے۔ (پیدا ہوتی ہے) ۔ سبع (سات) سنابل (بالیں ۔ (سنبلۃ) بال جس میں دانے ہوتے ہیں) ۔ یضعف (دوگنا کرتا ہے) ۔ لا یتبعون (وہ پیچھے نہیں لگتے) ۔ منا (احسان (احسان جتانا) ۔ اذی (تکلیف) ۔ قول معروف (قاعدے کی بات (اچھی بات) ۔ مغفرۃ (معاف کرنا، درگذر کرنا) ۔ غنی (بےپرواہ، بےنیاز) ۔ لا تبطلوا (ضائع نہ کرو۔ (باطل نہ کرو) ۔ رئاء الناس (لوگوں کو دکھانا) ۔ صفوان (صاف پتھر) ۔ تراب (مٹی، (ریت) ۔ وابل (بارش) صلد (صاف (پتھر) ۔ لا یقدرون (وہ قدرت و طاقت نہیں رکھتے) ۔ ابتغاء (تلاش کرنا) ۔ مرضات اللہ (اللہ کی مرضی و خوشنودی) ۔ تثبیتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 261–264
آداب صدقہ
شان نزول : اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب اور اس خرچ کے اجر کے بڑھنے کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائی ہیں کہ جس مال میں سے اللہ کے نام پر کچھ خیرات کی جائے وہ مال نیک کمائی کا ہو وے۔ خیرات کر کے کسی پر احسان نہ جتائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 260–265
[179] مطلب یہ ہے کہ ایمان کے درجے تک تو یقین اب بھی حاصل ہے۔ صرف یہ چاہتا ہوں کہ مشاہدے کے بعد اطمینان اور زیادہ ہوجائے۔ اس چیز کو اصطلاح میں عین الیقین کہتے ہیں یعنی وہ یقین جو مشاہدہ عینی سے حاصل ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 3) پیشتر کی آیات میں انفاق فی سبیل اللہ کے ساتھ ساتھ خلوص وحسن نیت کی بزور تاکید کی ہے اور فرمایا ہے کہ احسان جتلا کر اپنے اعمال کو ضائع نہ کروان آیات میں معیار اعمال کی نہایت بلیغ مثال سے تشریح کی ہے ۔
فرمایا ہے کہ وہ شخص جو خدا پر ایمان نہیں رکھتا جس کا آخرت پر عقیدہ نہیں ، اس کے اعمال ہرگز درخور اعتنا نہیں ، اس کے اعمال کی مثال پتھر کی ایک چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور مینہ کا ایک پرزور چھینٹا اسے بہا کرلے جائے ، اور وہ لوگ جو خدا کی رضا جوئی کے لئے اور دل کی پاکیزگی و طہارت کے لئے روپیہ صرف کرتے ہیں ان کا فعل ثمر آوری میں اس سرسبز و شاداب باغ کی طرح ہے جو عام زمین سے ذرا…
Read the full tafseer →ف 2 اے ایمان والو ! تم احسان جتا کر یا سائل کو ایذا پہنچا کر اپنے صدقات کے ثواب کو اس شخص کی طرح ضائع نہ کرو جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہے اور وہ نہ تو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے اور نہ یوم آخرت پر اس کو یقین ہے، لہٰذا اس منافق کی حالت ایسی ہے جیسے فرض کرو ایک صاف چکنا پتھر کہ اس پر تھوڑی سی مٹی جمع ہوئی ہو پھر اس پتھر پر زور کی بارش ہوجائے اور وہ بارش اس پتھر کو بالکل صاف کر کے چھوڑ دے یعنی جیسا تھا ویسا ہی کر دے۔ لہٰذا ایسے لوگوں کو اپنی کمائی میں سے کچھ بھی نفع حاصل نہ ہوگا اور یہ لوگ اپنے کئے ہوئے کاموں سے کوئی فائدہ حاصل نہ کرسکیں گے اور ا ن کی کمائی ذرا بھی ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 264–265
ف 5۔ معلوم ہوتا ہے کہ انفاق کے لیے ایمان کے ساتھ ایک شرط صحت اخلاص بھی ہے اور ترک من واذی شرط بقاء ہے اس لیے منافق اور مرائی کے انفاق کو باطل کہا گیا اس میں شرط صحت مفقوف ہے اور من واذی کو بھی مبطل کہا گیا کہ اس میں شرط بقا مفقود ہے۔
Read the full tafseer →ایمان والوں کو تاکید مزید ہے کہ اپنے خرچ کیے ہوئے کو مٹا نہ دو :
457: لکھ کر کاٹا ہوا کبھی لکھنے والے کے لیے مفید نہیں ہوتا۔ اس طرح راہ الٰہی میں خرچ کرنے کے بعد ضائع کردینے والے کے لیے یہ عمل کب مفید ہوگا ؟ مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے صدقات و خیرات کو احسان اور اذی سے برباد نہ کریں اور یہ تو ایک مسلم کی شان ہی نہیں کہ وہ لوگوں کو دکھانے کے لیے کچھ خرچ کرے بلکہ یہ تو اس شخص کا کام ہو سکتا ہے جس کو اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ جس کو نہ اللہ پر یقین ہے اور نہ یوم آخرت پر۔ اس کی ریاکاری خود ہی اس کی دلیل ہے کہ وہ اللہ اور آخرت پر یقین نہیں رکھتا۔ اس کا محض لوگوں کو دکھانے کے لیے عمل کرنا صریحاً یہ…
Read the full tafseer →In the fourth verse, the same subject has been taken up differently with a little more emphasis. It was said: Do not waste your charities: verbally -- by causing your favour to be known; or practically by causing pain.
This makes it clear that any form of favour-flashing or needy-bashing, after an act of charity renders such charity null and void. There is no reward for it.
In this verse, one more condition governing the acceptance of sadaqah صدقہ has been added by saying that one who spends for public exposure, for name and fame, and does not believe in Allah Almighty and the Day of…
Read the full tafseer →303. The desire to display one's good deeds itself proves that the person concerned does not truly believe in God and the Hereafter. One who does good merely in order to impress people with his righteousness clearly regards those persons as his god. Such a person neither expects reward from God nor is he concerned that his good deeds will some day be reckoned to his credit.
304. In this parable, 'heavy rain' signifies charity, and 'rock' the wicked intent and motive which lie behind external acts of charity. The expression, 'with a thin coating of earth upon it' signifies the external aspect…
Read the full tafseer →