Explained with ayahs 262–264
مخیر حضرات کی تعریف اور ہدایات
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے ان بندوں کی مدح و تعریف کرتا ہے جو خیرات و صدقات کرتے ہیں اور پھر جسے دیتے ہیں اس پر احسان نہیں جتاتے اور نہ اپنی زبان سے یا اپنے کسی فعل سے اس شخص کو کوئی نقصان پہنچاتے ہیں، ان سے ایسے جزائے خیر کا وعدہ فرماتا ہے کہ ان کا اجر وثواب رب دو عالم کے ذمہ ہے۔ ان پر قیامت کے دن کوئی ہول اور خوف و خطر نہ ہوگا اور نہ دنیا اور بال بچے چھوٹ جانے کا انہیں کوئی غم و رنج ہوگا، اس لئے کہ وہاں پہنچ کر اس سے بہتر چیزیں انہیں مل چکی ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ کلمہ خیر زبان سے نکالنا، کسی مسلمان بھائی کیلئے دعا کرنا، درگزر کرنا، خطاوار کو معاف کردینا اس صدقے…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 302
اس ایک فقرے میں دو باتیں ارشاد ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تمہاری خیرات کا حاجت مند نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ چونکہ خود بردبار ہے، اس لیے اسے پسند بھی وہی لوگ ہیں، جو چھچورے اور کم ظرف نہ ہوں، بلکہ فراخ حوصلہ اور بردبار ہوں۔ جو خدا تم پر زندگی کے اسباب و وسائل کا بےحساب فیضان کر رہا ہے اور تمہارے قصوروں کے باوجود تمہیں بار بار بخشتا ہے، وہ ایسے لوگوں کو کیونکر پسند کرسکتا ہے، جو کسی غریب کو ایک روٹی کھلادیں، تو احسان جتا جتا کر اس کی عزت نفس کو خاک میں ملا دیں۔ اسی بنا پر حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو قیامت کے روز شرف ہم کلامی اور نظر عنایت سے محروم رکھے گا،…
Read the full tafseer →تیسری آیت قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ میں بھی صدقات و خیرات کے اللہ کے نزدیک مقبول ہونے کی ان دو شرطوں کی مزید وضاحت کی گئی ہے جن کا بیان اس سے پہلی آیت میں ہوچکا ہے ایک یہ کہ مال اللہ کی راہ میں خرچ کر کے کسی پر احسان نہ جتائیں دوسرے یہ کہ جس کو دیں اس کے ساتھ کوئی ایسا برتاؤ نہ کریں جس سے وہ اپنی ذلت و حقارت محسوس کرے یا جس سے اس کو ایذاء پہنچے۔
وضاحت اس طرح کی گئی کہ ناداری یا معذوری کی حالت میں سائل کے جواب میں کوئی معقول و مناسب عذر پیش کردینا اور اگر سائل بدتمیزی سے غصہ دلادے تو اس سے درگذر کرنا ہزار درجے بہتر ہے ایسی خیرات دینے سے جس کے بعد اس کو ایذاء پہنچائی جائے اور اللہ تعالیٰ خود غنی وحلیم…
Read the full tafseer →یہاں اگرچہ صرف“ اذیً ”(دل آزاری) کا ذکر ہوا، احسان جتانے کا ذکر نہیں ہوا لیکن ظاہرہ کہ مراد دونوں ہی باتیں ہیں۔ ایک کے حذف کردینے کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ یہ درحقیقت ایک ہی کردار کے دو پہلو ہیں۔ جہاں احسان جتانا ہے وہاں ایذا ہے، جہاں ایذا ہے وہاں احسان جتانا بھی ہے۔
دلداری کا ایک کلمہ اس خیرات سے بہتر ہے جس کے ساتھ دل آزاری ہو : فرمایا کہ دلداری کا ایک کلمہ اور درگزر کرنا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دل آزاری لگی ہوئی ہو۔ سائلوں اور محتاجوں سے اچھے انداز میں بات کرنے اور ان کے غلط رویہ سے درگزر کرنے کی ہدایت قرآن میں بار بار ہوئی ہے اس کے وجوہ پر ہم اسی سورة کی آیت…
Read the full tafseer →263۔ 1 سائل سے نرمی اور شفقت سے بولنا یا دعائیہ کلمات (اللہ تعالیٰ تجھے بھی اور ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے نوازے وغیرہ) سے اس کو جواب دینا قول معروف ہے اور مغَفِرَتْ کا مطلب سائل کے فقر اور اس کی حاجت کا لوگوں کے سامنے عدم اظہار اور اس کی پردہ پوشی ہے اور اگر سائل کے منہ سے کوئی نازیبا بات نکل جائے تو یہ چشم پوشی بھی اس میں شامل ہے یعنی سائل سے نرم اور شفقت اور چشم پوشی، پردہ پوشی، اس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد اس کو لوگوں میں ذلیل اور رسوا کر کے اسے تکلیف پہنچائی جائے۔ اس لئے حدیث میں کہا گیا ہے۔ الکلمۃ الطیبۃ صدقۃ (پاکیزہ کلمہ بھی صدقہ ہے) نیز نبی ﷺ نے فرمایا تم کسی بھی معروف (نیکی) کو حقیر…
Read the full tafseer →179: مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی سائل کسی سے مانگے اور کسی وجہ سے دے نہ سکتا ہو تو اس سے نرم الفاظ میں معذرت کرلینا اور اگر وہ مانگنے پر ناروا اصرار کرے تو اس کی غلطی سے درگزر کرنا اس سے کہیں بہتر ہے کہ انسان دے تو دے مگر بعد میں احسان جتلائے یا اسے ذلیل کرکے تکلیف پہنچائے
Read the full tafseer →یہاں یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ جس صدقہ کے بعد نادار کو اذیت دی جاتی ہو ، ایسے صدقے کے سرے سے ضرورت ہی نہیں ہے ۔ اس سے تو ایک میٹھا بول اور ایک نرم بات ہی بہتر ہے ۔ ایک اچھی بات سے دلوں کے زخم جڑجاتے ہیں ۔ اس سے خوشی اور رضاجوئی پیدا ہوتی ہے ، جس سے زخم بھر آتے ہیں ۔ معافی اور چشم پوشی سے دلوں کی میل دور ہوجاتی ہے ۔ اور اس کے بدلے بھائی چارہ اور دوستی پیدا ہوجاتی ہے ۔ ایسے حالات میں میٹھابول اور عفو و درگزر دوستی اور اخوت کے راستے میں خشت اول کا کام دیتے ہیں ۔ اس سے نفوس میں پاکیزگی اور دودلوں میں یگانگت پیدا ہوتی ہے ۔
یہ بات کہنے کے بعد کہ صدقہ عطا کنندہ کی طرف سے گیرندپر کوئی برتری نہیں اس…
Read the full tafseer →3 یعنی مانگنے والے کو نرمی سے جواب دینا اور اس کے اصرار اور بدخوئی پر درگزر کرنا بہتر ہے اس خیرات سے کہ بار بار اسکو شرمائے یا احسان رکھے یا طعنہ دے اور اللہ غنی ہے کسی کے مال کی اس کو حاجت نہیں جو صدقہ اس کی راہ میں کرتا ہے اپنے واسطے کرتا ہے اور حلیم ہے کہ ستانے پر عذاب بھیجنے میں جلدی نہیں فرماتا۔
Read the full tafseer →آیت 263 قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَۃٍ یَّتْبَعُہَآ اَذًی ط
اگر آپ کے پاس کوئی ضرورت مند آگیا ہے ‘ کسی نے ہاتھ پھیلا دیا ہے تو اگر آپ اس کی مدد نہیں کرسکتے تو دلداری کا ایک کلمہ کہہ دیجیے ‘ نرمی کے ساتھ جواب دے دیجیے ‘ معذرت کر لیجیے۔ یا اگر کسی سائل نے آپ کے ساتھ درشت رویہ اختیار کیا ہے تو پھر بھی اسے ڈانٹئے نہیں : وَاَمَّا السَّآءِلَ فَلَا تَنْھَرْ الضحٰی بلکہ درگزر سے کام لیجیے۔ یہ طرز عمل اس سے کہیں بہتر ہے کہ ضرورت مند کو کچھ دے تو دیا لیکن اس کے بعد اسے دوچار جملے بھی سنا دیے ‘ اس کی دلآزاری بھی کردی۔ تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
وَاللّٰہُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ
وہ…
Read the full tafseer →379 آپ نے فرمایا : ہر مسلمان کو صدقہ دینا ضروری ہے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ جس کے پاس مال نہ ہو ؟ آپ نے فرمایا : وہ ہاتھ سے محنت کرے خود بھی فائدہ اٹھائے اور خیرات بھی کرے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اگر یہ بھی نہ ہو سکے ؟ : فرمایا : اچھی بات پر عمل کرے اور بری سے پرہیز کرے۔ اس کے لیے یہ بھی صدقہ ہے۔ (بخاری۔ کتاب الزکوٰۃ، باب علی کل مسلم صدقہ۔۔ الخ)
2۔ نیز آپ نے فرمایا : آگ سے بچو، خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا صدقہ کرنے سے ہی ہو۔ (بخاری، کتاب الزکوٰۃ، باب اتقوا النار ولو بشق تمرۃ۔۔ الخ)
3۔ ایک آدمی نے آپ سے پوچھا : یا رسول اللہ ! کونسا صدقہ اجر کے لحاظ سے بڑا ہے ؟ فرمایا : جو رمضان میں دیا…
Read the full tafseer →1029 ۔ (آیت) ” قول معروف “۔ یعنی معذرت کی نرم بات کہہ دینا (آیت) ” مغفرۃ “ یعنی سائل یا حاجت مند کی بات کو اس وقت ٹال جانا جب وہ سختی یا بدتہذیبی سے پیش آنے لگے۔ آیت میں صاف یہ تعلیم ہے کہ صدقہ یا خیرات مقصود بالذات نہیں، مقصود اصلاح قلب ہے اور اس کے بعد دینے والا لینے والے پر کوئی احسان نہیں رکھتا۔ بلکہ دینا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ بلکہ الٹا لینے والے کا شکر گزار ہوتا ہے کہ اس نے قبول کرکے اس کو ایک بار سے ہلکا کردیا۔ (آیت) ”۔ اذی “۔ کا لفظ عام ہے۔ ہر قسم کے آزار کو شامل۔ زبان سے یا عمل سے احسان جتانا بھی اس میں آگیا۔ (آیت) ” خیر “۔ ناداری کے وقت نرمی سے جواب دے دینا اور سائل کی سختی کو پی جانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 263–265
قَوْلٌ مَعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَۃٌ خَیْرٌا (الآیۃ) سائل سے نرمی اور شفقت سے بولنا اور دعائیہ کلمات کہنا مثلاً یہ کہ اللہ تعالیٰ تم کو اور ہم کو بھی اپنے فضل و کرم سے نوازے۔ یہ قول معروف ہے اور مغفرۃ کا مطلب ہے کہ اگر سائل کی زبان سے کوئی نازیبا کلمہ نکل جائے تو اس سے چشم پوشی کرتے ہوئے درگزر کرنا۔ یہ نرمی اور چشم پوشی اور درگزر اس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد اس کو لوگوں میں رسوا و ذلیل کرے یا احسان جتائے۔ کسی سے کلمہ خیر کہنا اور خندہ پیشانی سے ملنا بھی صدقہ ہے۔ (مسلم کتاب البر)
فَمَثَلُہٗ ، کَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْہِ تُرَابٌ فَاَصَابَہٗ وَابِلٌ فَتَرَکَہٗ صَلْدًا یہ ایک تمثیل ہے جس میں ریاکار کے…
Read the full tafseer →قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ (بھلی بات اور نرمی سے سائل کو رد کردینا) کلبی نے کہا اس سے مراد وہ نیک دعا ہے جو کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں کرتا ہے۔ ضحاک نے کہا باہمی نزاع کو دور کرنے کے متعلق اس آیت کا نزول ہوا۔ (یعنی قول معروف سے وہ بات مراد ہے جو مسلمانوں کے باہمی نزاع کو دور کرنے کے لیے کہی جائے) ۔
وَّمَغْفِرَةٌ (اور معاف کردینا یعنی جو سائل اصرار کے ساتھ سوال کرتا ہے اور پیچھے پڑجاتا ہے اس کو مناسب الفاظ کے ساتھ رد کرنا اور در گذر کرنا ( زجر نہ کرنا اور سخت الفاظ استعمال نہ کرنا) بغوی (رح) نے لکھا ہے کہ مغفرت سے مراد یہ ہے کہ سائل کا پردہ فاش نہ کرے اور اسکی محتاجی پر…
Read the full tafseer →(263) اپنے مسلمان بھائی کے پیٹھ پیچھے اس کے لیے اچھی طرح بات کہنا اور اس کے حق میں دعا کرنا اور اس کی غلطیوں سے درگزر کرنا یہ تیرے لیے اور اس کے لیے ایسے صدقہ خیرات سے اچھا اور بہتر ہے کہ جس کے بعد تو اس پر احسان جتلانے والے کے صدقہ سے غنی ہیں اور حلیم ہیں کہ ایسے شخص پر جلد عذاب نازل نہیں کرتے۔
جس کو دیا ہے اس کے ساتھ تکبر کرکے اور اس سے تکلیف پہنچا کر اپنے صدقات کے ثواب کو اس شخص کی طرح ضائع نہ کرو جو دکھاوے کے لیے صدقہ کرتا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ قیامت کے دن پر بھی ایمان نہیں رکھتا۔
Read the full tafseer →قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ۔۔ : یعنی اگر کوئی صدقہ نہیں کرسکتا تو اچھے الفاظ کے ساتھ معذرت کرلے اور سائل کے اصرار اور بدتمیزی پر غصے ہونے کے بجائے مغفرت یعنی معافی اور درگزر سے کام لے اور سوچ لے کہ اللہ تعالیٰ کتنا غنی ہے، پھر بھی کتنا بردبار ہے جو ہماری خطاؤں کے باوجود حلم سے کام لیتا ہے۔ ہمیں بھی اس طرح حلم سے کام لینا چاہیے۔
جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”ہر نیکی صدقہ ہے اور نیکی میں سے یہ بھی ہے کہ تو اپنے بھائی کو کھلے چہرے کے ساتھ ملے اور یہ کہ اپنے ڈول میں سے اس کے ڈول میں (پانی) انڈیل دے۔“ [ ترمذی، البر والصلۃ، باب ما جاء فی طلاقۃ۔۔ : 1970، و صححہ الألبانی ]
Read the full tafseer →آیت : نمبر 263۔
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ (آیت) ” قول معروف “۔ یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر محذوف ہے، یعنی قول معروف اولی وامثل (اچھی بات کرنا اولی اور عمدہ ہے) اس کا ذکر نحاس اور مہدوی نے کیا ہے، نحاس نے کہا ہے : یہ بھی جائز ہے کہ (آیت) ” قول معروف “۔ خبر ہو اور مبتدا محذوف ہو۔ یعنی الذین امرتم بہ قول معروف “۔ (وہ جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے وہ اچھی بات کرنا ہے) اور قول معروف سے مراد دعا کرنا، انس اور غمخواری کا اظہار کرنا اور جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اس کی آرزو کرنا ہے، یہ صدقہ سے بہتر ہے، کیونکہ یہ ظاہر میں صدقہ ہے اور اپنے باطن میں کوئی شی نہیں ہے اور قول معروف کے…
Read the full tafseer →(1) ابن ابی حاتم نے عمرو بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی صدقہ زیادہ محبوب نہیں (اچھی) بات کہنے سے کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا لفظ آیت ” قول معروف ومغفرۃ خیر من صدقۃ یتبعھا اذی “۔
(2) ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا افضل صدقہ یہ ہے کہ مسلمان آدمی علم حاصل کرے پھر وہ (دوسرے) اپنے مسلمان بھائی کو سکھائے۔
علم سیکھانا بڑا ہدیہ ہے
(3) مرہبی نے فضل العلم میں اور بیہقی نے شعب میں عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ کسی مسلمان نے اپنے بھائی کو حکمت کے کلمہ سے بڑھ…
Read the full tafseer →[قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ : ایک بھلی بات ] [وَّمَغْفِرَۃٌ : اور درگزر ] [خَیْرٌ : زیادہ بہتر ہے ] [مِّنْ صَدَقَۃٍ : ایسے صدقے سے ] [یَّتْبَعُہَآ : پیچھے پیچھے آتا ہے جس کے ] [اَذًی : ستانا ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [غَنِیٌّ : بےنیاز ہے ] [حَلِیْمٌ : بردبار ہے ]
غ ن ی
غَنِیَ (س) غَنِیً : (1) کسی قسم کی کوئی ضرورت لاحق نہ ہونا ‘ ضروریات سے بےنیاز ہونا (یہ مفہوم صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے) ۔ (2) ضروریات پوری کرنے کے ذرائع میسر ہونا ‘ مالدار ہونا ‘ بےفکر و بےپرواہ ہونا (یہ مفہوم غیر اللہ کے لیے ہے) ۔
مَغْنًی : اپنا وجود قائم رکھنا ‘ یعنی زندہ رہنا ‘ کسی جگہ رہنا۔ { کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَاط }…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 262–264
فی سبیل اللہ خرچ کرنے کے آداب اور ریا کاروں کے صدقات کی مثال
ان آیات میں اول تو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی فضیلت بتائی ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کے لیے اجر وثواب ہے نہ ان پر کوئی خوف ہے نہ وہ رنجیدہ ہوں گے، اور ساتھ ہی دو باتوں پر تنبیہ فرمائی ہے، اول یہ کہ جس کسی کو مال دیں اس پر احسان نہ دھریں اور اسے تکلیف نہ پہنچائیں، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ صدقہ دینے کے بعد احسان جتانے اور تکلیف پہنچانے سے صدقہ باطل ہوجاتا ہے، بہت سے لوگوں کی جو یہ عادت ہوتی ہے کہ تھوڑا بہت صدقہ دے کر ان لوگوں پر احسان دھرتے ہیں جن لوگوں کو کچھ دیا۔ اور خاص کر ان لوگوں پر جو رشتہ دار ہیں یا اپنے شہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 261–264
فضیلت انفاق فی سبیل اللہ وزکر بعض شرائط قبول۔
قال تعالی، مثل الذین ینفقون۔۔۔۔ الی۔۔۔ القوم الکافرین۔
ان آیات میں عالم آخرت کے لیے سازوسامان تیار کرنے کی ترغیب کے لیے ایک مثال بیان فرماتے ہیں جو ضمنا اثبات قیامت کی بھی دلیل ہے اس لیے کہ جو ذات پاک زمین ایک دانہ ڈالنے اور سات سودانے اگانے پر قادر ہے وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے چناچہ فرماتے ہیں جو لوگ اپنے مالوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے کہ ایک دانہ زمین میں ڈالاجائے جو کہ سات بالیں اگائے اور ہر بال میں سودانے ہوں اسی طرح صدقہ دینے والا بمنزلہ مزارع کے ہے اور مال بمنزلہ تخم اور دانہ کے ہے اور سبیل اللہ بمنزلہ…
Read the full tafseer →521 قول معروف سے مراد ہے سائل کو نرمی سے ٹال دینا اور مغفرۃ سے مراد یہ ہے کہ اگر سائل درشتی سے پیش آئے تو اس سے درگذر کیا جائے اور ناشائستہ الفاظ استعمال نہ کیے جائیں۔ ای کلام جمیل یرد بہ السائل مثلا یرحمک اللہ ویرزقکم اللہ انشاء اللہ تعالیٰ اعطیک بعد ھذا ومغفۃ ای ستر لما وقع من السائل من الالحاف فی المسئلۃ وغیرہ مما یثقل علی المسئول وصفح عنہ (روح ص 34 ج 3) وَاللّٰهُ غَنِىٌّ حَلِيْمٌ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو تمہارے صدقات کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سے تمہاری ہی اصلاح مقصود ہے اور وہ برد با رہے۔ گناہوں پر فوراً گرفت نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 261–263
ربط آیات انفاق فی سبیل اللہ
آیت الکرسی میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا بیان تھا ، جو دین کا اصل الاصول اور بنیاد ہے اس آیت میں اللہ کی صفات کا ذکر بھی آ چکا ہے۔ گزشتہ رکوع کی تین آیات میں تین واقعات بیان ہوئے ہیں ، جن کو جان لینے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ۔ وہ جسے چاہے ہدایت سے نوازتا ہے اور جسے چاہے اس سے محروم رکھتا ہے ، زندگی اور موت بھی اللہ جل جلالہٗ کے دست قدرت میں ہے کسی اور کے اختیار میں نہیں ۔ اس سے پہلے بنی اسرائیل کے جہاد کا واقعہ بھی بیان ہوا کہ کس طرح ان لوگوں نے جہاد سے گریز کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں سزا میں مبتلا کردیا اللہ…
Read the full tafseer →قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَۃٌ خَيْرٌ مِّنْ صَدَقَۃٍ يَّتْبَعُہَآ اَذًى 0 ۭ وَاللہُ غَنِىٌّ حَلِيْمٌ 263
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122]
والقَوْلُ يستعمل علی أوجه :
أظهرها أن يكون للمرکّب من الحروف المبرز بالنّطق، مفردا کان أو جملة، فالمفرد کقولک : زيد، وخرج . والمرکّب، زيد منطلق، وهل خرج عمرو، ونحو ذلك، وقد يستعمل الجزء الواحد من الأنواع الثلاثة أعني : الاسم والفعل والأداة قَوْلًا، كما قد تسمّى القصیدة والخطبة ونحوهما قَوْلًا .
الثاني :
يقال للمتصوّر في النّفس قبل الإبراز باللفظ : قَوْلٌ ، فيقال : في نفسي قول لم أظهره . قال تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 261–263
ترکیب : مثل الذین الخ جملہ مبتدا ای مثل انفاق الذین الخ کمثل حبۃ الخ خبر۔ انبتت سبع الخ جملہ موضع جر میں صفت ہے حبۃ کی مائۃ حبۃ مبتداء فی کل سنبلۃ خبر یہ جملہ صفت ہے سنابل کی الذین ینفقون صلہ وموصول مبتدا لہم اجرھم الخ خبر قول معروف موصوف و صفت مبتدا خیر الخ خبر یتبعہا اذی جملہ صفت ہے صدقۃ کی۔
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور عالم آخرت کا ثبوت قطعی کرچکا تو اب عالم آخرت کے لیے ساز و سامان کی ترغیب دیتا ہے کہ وہاں کے لیے کچھ دیا کرو ٗ وہ ضائع نہیں جاتا۔ وہ خدائے قادر کہ جو مردہ کو زندہ کرتا ہے اور جس کے اوصاف مذکور ہوئے اس خیرات کے اجر کو عالم مثالی میں قائم کرتا ہے جس طرح کوئی یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 263–264
قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَۃٌ خَیْرٌمِّنْ صَدَقَۃٍ یَّتْبَعُہَآ اَذًی ط وَاللّٰہُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ۔
(دلداری کا ایک کلمہ کہہ دینا اور در گزر کرنا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دل آزاری لگی ہوئی ہو۔ اور اللہ بےنیاز اور بردبار ہے) (263)
قرآن کریم چونکہ اللہ کا کلام ہے اس لیے اس میں صرف حسن عمل کی ترغیب اور اس کے طریقے ہی نہیں بتائے گئے بلکہ کسی عمل میں حسن جس نزاکتِ احساس سے پیدا ہوتا ہے اس کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ اور ویسے بھی اسلام کا اصل موضوع انسان کی اصلاح ہے اور انسان کی اصلاح اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس کے دل کی اصلاح نہ ہو۔ اس کے احساسات اور تصورات اس راستے پر نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 262–263
فہم القرآن
ربط کلام : انفاق فی سبیل اللہ سے ثواب میں اضافہ تب ہی ہوگا جب احسان جتلانے اور تکلیف دینے سے صدقہ پاک ہوگا۔ احسان جتلانے اور تکلیف سے بہتر ہے کہ آدمی دوسرے سے معذرت ہی کرلے۔
صدقہ کا بھاری اور بےانتہا اجر انہیں موصول ہوگا۔ جنہوں نے حالت ایمان میں انفاق فی سبیل اللہ کی شرائط پوری کرتے ہوئے اپنے صدقہ کو ایذاء اور احسان سے محفوظ رکھا ہو۔ ضروری نہیں کہ احسان اور تکلیف زبان سے ہی دی جائے۔ بسا اوقات صدقہ کرنے والا اپنے ملازم سے اس لیے زیادہ کام لیتا ہے کہ تنخواہ کے علاوہ بھی اسے کچھ دیتا ہے۔ اپنا اعزہ و اقرباء پر خرچ کرنے والے اکثر لوگ ان سے خدمت اور غیر معمولی احترام کی توقع کرتے ہیں۔…
Read the full tafseer →263 : قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ (اچھی بات) یعنی اچھے انداز سے جواب
وَّمَغْفِرَۃٌ(اور بخشش) اور سائل کو معاف کرنا جبکہ اس سے مسئول کو ناگواری ہو۔
دوسرا قول : اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش ملتی ہے اچھے جواب کی بناء پر۔
خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَۃٍ یَّتْبَعُہَآاَذًی (وہ بہت بہتر ہے ایسے صدقہ سے جس کے بعد ایذاء پہنچائی جائے قول اگرچہ نکرہ ہے مگر صفت کے ساتھ مخصوص ہونے کی بناء پر اس کا مبتداء بننا صحیح ہے۔
وَاللّٰہُ غَنِیٌّ(اور اللہ تعالیٰ غنی ہیں) اس کو کوئی ضرورت نہیں کسی ایسے خرچ کرنے والے کی جو احسان جتائے اور ایذاء دے۔ (یعنی ایسے منفق سے اس کو نفرت ہے)
حَلِیْمٌ (وہ بردبار ہیں) جلدی سزا نہیں دیتے۔
یہ ایسے شخص…
Read the full tafseer →(تفسیر) 263۔ :
(قول معروف بھلی بات اور نرمی کرنا) اس سے مراد اچھا کلام کرنا اور مسائل کو نرمی کے ساتھ لوٹا دینا ، بعض نے کہا کہ وہ نیکیوں کو شمار کرے ، امام کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ نیک دعا ہے جو کوئی اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں اس کے لیے کرتا ہے، ضحاک فرماتے ہیں کہ اس آیت کا نزول باہمی نزاع کو دور کرنے کے متعلق ہوا (ومغفرۃ اور درگزر کرنا) یعنی پیٹھ پیچھے اس کا پردہ فاش نہ کرنا اور اس کو محتاجگی پر پردہ ڈالنا مراد ہے ، کلبی (رح) اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ جو شخص بھی اس کے ساتھ ظلم کرے اس کو معاف کرے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ فقیر جب مانگنے میں شدت اختیار کرے تو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 262–264
(262 ۔ 264) ۔ غزوہ تبوک میں حضرت عثمان ؓ نے ایک ہزار اونٹ مع سامان اور عبد الرحمن بن عوف ؓ نے چار ہزار درہم بطور خیرات کے دیے تھے اس پر یہ آیت اتری 1۔ اور آیت کے اول حصہ میں لوگوں نے عام طور پر ان لوگوں کی تعریف فرمائی ہے جو خیرات کے بعد اپنے دیے کا کسی پر احسان نہیں رکھتے نہ اپنے دیے کو جتلا کر کسی کو شرمندگی اٹھانے کی ایذا و تکلیف دیتے ہیں بلکہ وہ جو کچھ عقبیٰ کے اجر کی نیت سے دیتے ہیں اس سے نہ کسی پر احسان جتانے کی ان کی نیت ہے نہ کسی کو شرمندہ کر کے ایذا دینے کی پھر آیت کے دوسرے حصہ میں ان لوگوں کو ہوشیار کیا ہے جن کی عادت اس کے برخلاف ہے اور فرمایا ہے کہ جو لوگ دنیا کے دکھاوے کو کچھ دیتے…
Read the full tafseer →آیت 263
جو لوگ اپنے مال اللہ کی فرماں برداری کے کاموں میں اور اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ اس کے بعد ایسے کام نہیں کرتے جن سے عمل میں نقص واقع ہوجائے یا عمل ضائع ہوجائے۔ یعنی جس کو دیا ہے اس پر زبان سے یا دل سے احسان نہیں دھرتے مثلاً اپنے احسانات گن گن کر بتانا اور اس کے بدلے ان سے کسی چیز کا مطالبہ کرنا، نہ زبانی نہ عملی طور پر ایذا دیتے ہیں، تو ان کو وہ ثواب ملے گا جو ان کے شایان شان ہوگا۔ انہیں کوئی خوف یا غم بھی لاحق نہیں ہوگا۔ لہٰذا انہیں ہر خیر حاصل ہوجائے گی اور ہر برائی ان سے دور ہوجائے گی۔ کیونکہ انہوں نے اللہ کے لئے ایسی نیکی کی تھی، جو ضائع کرنے والے اسباب سے پاک تھی۔ (قول معروف) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 263–267
کمائی کرنے کا بیان
قول باری ہے (یآ ایھا الذین امنوا انفقوا من طیبات ما کسبتم ومما اخرجنا لکم من الارض ۔ (a) اے ایمان والو ! جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ تم نے زمین سے تمہارے لئے نکالا ہے اس میں سے بہتر حصہ راہ خدا میں خرچ کرو) ۔
اس آیت میں کمائی کی صورتوں کی اباحت کا ذکر ہے اور یہ بیان ہے کہ کمائیوں میں پاکیزہ صورتیں بھی موجود ہیں۔ کمائی دو طرح سے ہوتی ہے۔ اموال اور ان کے منافع کی ادلا بدلی کے ذریعے اور چیزوں سے حاصل شدہ فوائد کی ادلا بدلی کے ذریعے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلی صورت کی اباحت کا کئی مواقع پر صراحتہً ذکر فرمادیا ہے۔
ارشاد ہے (واحل اللہ البیع، (a) اللہ نے بیع یعنی خریدو فروخت کو…
Read the full tafseer →759 اللہ تعالیٰ کی صفت غنا اور حلم کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ بڑا ہی بےنیاز نہایت ہی بردبار ہے۔ پس اس غنی مطلق ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے نام پاک پر دینے کو تم لوگ اپنی سب سے بڑی سعادت اور خوش نصیبی جانو اور احسان جتلانے کی بجائے اپنے اوپر اس کا احسان مانو کہ وہ تم کو ایسے مواقع فراہم فرماتا ہے جن میں خرچ کرنے سے خود تمہاری ہی سعادت و بھلائی ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہان میں بھی۔ اور وہ غنی مطلق اور بےنیاز ہونے کے ساتھ ساتھ بڑا ہی حلیم اور بردبار بھی ہے۔ پس وہ اگر کسی کو اس کے جرم و گناہ پر فوراً نہیں پکڑتا تو اس سے کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے کہ یہ اس حلیم…
Read the full tafseer →اچھی بات کرنا بھی صدقہ ہے
تشریح : ارشاد ہوتا ہے کہ خوش خلقی نرمی اللہ کو بےحد پسند ہے۔ اس لئے اگر کسی سوالی کو تم کچھ دے نہ سکو تو اس کو جھڑکو بھی نہیں۔ بلکہ بڑے نرم طریقہ سے اس سے معذرت کرلیا کرو اور اگر کچھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں تم ان کو دے دو تو یہ تمہارے لئے بڑے ثواب کا کام ہے اور اس بات کا خیال رکھو کہ اگر کسی کی مدد اس لئے کرو کہ بعد میں اس کو تنگ یا ذلیل کرو تو یہ دیا ہوا مال بالکل بےکار ہوگا۔ اس کا کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ اگر کوئی سوالی بار بار تنگ کرے تو بھی غصہ نہ کرو۔ بلکہ بڑی ہی نرمی اور درگزر سے کام لو کیونکہ اللہ تعالیٰ خود بردبار بےنیاز اور حلیم ہے وہ حلیم طبع یعنی نرم مزاج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 261–266
آیات 261- 266
اسرارو معارف
مثل الذین ینفقون اموالھم……………واللہ غنی حلیم
اللہ کی راہ میں خرچ کرنا مومن کے لئے ایسے ہے جیسے کاشتکار کہ وہ کھیتی بوتا ہے تو بظاہر کھیتی تیار کرنے کی مشقت اٹھاتا ہے پھر اپنی محنت سے کمائے ہوئے غلے کو اس میں بکھیردیتا ہے جو بظاہر محنت اور اثاثہ دونوں کا ضیاع نظر آتا ہے لیکن صرف اس شخص کو جو اس سارے کام کے انجام سے بیخبر ہے جو انجام کی اطلاع رکھتا ہے وہ پھر اس کی رکھوالی کرتا ہے حتیٰ کہ ایک وقت آتا ہے جب ایک ایک دانے سے سات سات خوشے نکلتے ہیں یعنی خوب اعلیٰ پودا اگتا ہے جس پر اس قدر خوشے لگتے ایسے صحتمند کہ ہر خوشے میں سو سو دانا ہوتا ہے وہ تھوڑا سا غلہ جو اس نے بیجا…
Read the full tafseer →ف 2 صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : اچھی بات صدقہ ہے اور یہ بھی نیکی ہے کہ تم اپنے بھائی کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آؤ۔ (فتح البیان)
Read the full tafseer →(2:263) قول معروف۔ اچھی بات، مناسب بات یعنی معذرت کی نرم بات کہنا۔ قول معروف موصوف و صفت۔ مبتدائ۔ خیر من صدقۃ یتبعھا اذی خبر۔
مغفرۃ۔ معاف کرنا۔ درگزر کرنا۔ غفر یغفر کا مصدر باب ضرب ہے۔ مغفرۃ کے مندرجہ ذیل معانی ہوسکتے ہیں :
(1) خدا سے مغفرت مانگنا (ا) اپنے لئے سائل کو کچھ نہ دے سکا۔ (ب) سائل کے لئے کہ سوال کرنا معیوب ہے۔
(2) سائل کے الحاح اور تلخ کلامی پر چشم پوشی کرنا۔ (بیضاوی)
(3) سائل سے معافی مانگنا اور معذرت کرنا۔ (بیضاوی۔ کشاف)
(4) سائل کی پردہ پوشی کرنا۔ (الخازن)
بعض نے اس آیت کی تقدیر یوں کی ہے : قول معروف اولی والمغفرۃ خیر من صدقۃ یتبعھما اذی۔ یعنی نرم بات کہنا بہت اچھا ہے لیکن مغفرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 261–265
لغات القرآن : آیت نمبر 261 تا 265
ینفقون (خرچ کرتے ہیں) ۔ حبۃ (دانہ) ۔ انبتت (اگتا ہے۔ (پیدا ہوتی ہے) ۔ سبع (سات) سنابل (بالیں ۔ (سنبلۃ) بال جس میں دانے ہوتے ہیں) ۔ یضعف (دوگنا کرتا ہے) ۔ لا یتبعون (وہ پیچھے نہیں لگتے) ۔ منا (احسان (احسان جتانا) ۔ اذی (تکلیف) ۔ قول معروف (قاعدے کی بات (اچھی بات) ۔ مغفرۃ (معاف کرنا، درگذر کرنا) ۔ غنی (بےپرواہ، بےنیاز) ۔ لا تبطلوا (ضائع نہ کرو۔ (باطل نہ کرو) ۔ رئاء الناس (لوگوں کو دکھانا) ۔ صفوان (صاف پتھر) ۔ تراب (مٹی، (ریت) ۔ وابل (بارش) صلد (صاف (پتھر) ۔ لا یقدرون (وہ قدرت و طاقت نہیں رکھتے) ۔ ابتغاء (تلاش کرنا) ۔ مرضات اللہ (اللہ کی مرضی و خوشنودی) ۔ تثبیتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 261–264
آداب صدقہ
شان نزول : اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب اور اس خرچ کے اجر کے بڑھنے کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائی ہیں کہ جس مال میں سے اللہ کے نام پر کچھ خیرات کی جائے وہ مال نیک کمائی کا ہو وے۔ خیرات کر کے کسی پر احسان نہ جتائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 260–265
[179] مطلب یہ ہے کہ ایمان کے درجے تک تو یقین اب بھی حاصل ہے۔ صرف یہ چاہتا ہوں کہ مشاہدے کے بعد اطمینان اور زیادہ ہوجائے۔ اس چیز کو اصطلاح میں عین الیقین کہتے ہیں یعنی وہ یقین جو مشاہدہ عینی سے حاصل ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 2) ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ اگر دل میں وسعت نہ ہو اور فراخ دلی سے خدا کی راہ میں خرچ نہ کرسکو تو یہی بہتر ہے کہ نرمی سے سائل کو مطمئن کردو ۔ اسے جھڑکنا اور گالیاں دینا اور دل آزار کلمات سے مخاطب کرنا درست نہیں (آیت) ” واللہ غنی حلیم “۔ کہہ کے یہ بتایا ہے کہ خدا کے راہ میں دینا اپنے نفس کی پاکیزگی کے لئے ہے ، خدا کو تمہارے صدقات کی ضرورت نہیں ‘ اس لئے جب کبھی بھی دو تو یہ دیکھ لو کہ تمہارے دل کی اصلاح کس حد تک اس سے وابستہ ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 262–263
ف 1 جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں پھر خرچ کرنے کے بعد نہ تو سائل پر جس کو دیا ہے کوئی احسان جتاتے ہیں اور نہ اس کو کوئی تکلیف دیتے ہیں تو ایسے لوگوں کو ان کے پروردگار کے ہاں ان کا ثواب ملے گا اور ان کا اجر ان کے رب کے پاس موجود ہے اور ان کو کسی قسم کا خوف پیش آئے گا اور نہ وہ کبھی غمگین اور مغموم ہوں گے سائل کو نرم ، بھلی اور مناسبت بات کہہ دینا یعنی جب دینے کو کچھ نہ ہو اور سائل کو معاف کردینا اور اس کو درگذر کردینا یہ اس صدقہ اور خیرات سے کہیں بہتر ہے جس کے پیچھے ایذا رسانی اور سائل کو تکلیف پہونچانا ہو اور اللہ تعالیٰ تمہاری خیرات سے بےنیاز اور بےپروا ہے اور نافرمانوں…
Read the full tafseer →ف 4۔ ناداری کی قید اس لیے لگائی کہ استطاعت کے وقت حاجت مند کی اعانت نہ کرنا خود برا ہے اس کو بہتر کیوں کہا جاتا البتہ ناداری کے وقت نرمی سے جواب دے دینا اور سائل کو سختی کو ٹال دینا چونکہ موجب ثواب ہے اس لیے اس کو خیر فرمایا گیا۔
Read the full tafseer →سیدھے منہ کی بات اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد اذیت ہو :
456: اپنی حاجت کا اظہار کرنے والے کی بات سن کر معذرت کی نرم بات کہہ دینا یعنی سائل یا حاجت مند کی بات کو سن کر اس وقت ٹال جانا خصوصاً جب وہ سختی یا بدتہذیبی سے پیش آنے لگے۔ گویا آیت میں صاف صاف یہ تعلیم ہے کہ صدقہ یا خیرات مقصود بالذات نہیں ، مقصود اصلاح قلب ہے اور اس کے بعد دینے والا لینے والے پر کوئی احسان نہیں رکھتا بلکہ دینا اپنا فرض سمجھتا ہے بلکہ الٹا لینے والے کا شکر گزار ہوتا ہے کہ اس نے قبول کر کے اس کو ایک بار سے ہلکا کردیا۔
” اذی “ کا لفظ عام ہے ہر قسم کی دل آزاری کو شامل ہے۔ زبان سے یا عمل سے احسان جتانا بھی اس میں داخل ہے۔…
Read the full tafseer →In the third verse: قَوْلٌ مَّعْرُوفٌ (saying something proper), these two conditions for acceptance of charitable gifts in the sight of Allah have been further explained. Incidentally, these were introduced in the earlier verse. To repeat, when you spend in the way of Allah, do not show off the favour, and when you give something to somebody do nothing to make him feel insulted, or to cause him pain.
This was explained by saying that it is a thousand times better to offer some reasonable and appropriate excuse before the person who asks, if the giver feels he is unable to give under…
Read the full tafseer →302 This implies two things. First, Allah does not stand in need of anybody's charity, for He is Self-Sufficient. Secondly, He likes those people who are generous and large-hearted, but does not like frivolous and narrow-minded people, for He Himself is Generous, Clement and Forbearing. How, then Allah, Who bestows on the people the necessities of life without stint, and forgives and pardons them over and over again in spite of their errors, would like those who mar the self-respect of a person by sending repeated reminders of their charity and making pointed references to it even though they…
Read the full tafseer →