Explained with ayahs 104–105
ارادہ نہ ہو تو بات نہیں بنتی
جو اللہ کے ذکر سے منہ موڑے، اللہ کی کتاب سے غفلت کرے، اللہ کی باتوں پر ایمان لانے کا قصد ہی نہ رکھے ایسے لوگوں کو اللہ بھی دور ڈال دیتا ہے انہیں دین حق کی توفیق ہی نہیں ہوتی آخرت میں سخت درد ناک عذابوں میں پھنستے ہیں۔ پھر بیان فرمایا کہ یہ رسول سلام علیہ اللہ پر جھوٹ و افترا باندھنے والے نہیں، یہ کام تو بدترین مخلوق کا ہے جو ملحد و کافر ہوں ان کا جھوٹ لوگوں میں مشہور ہوتا ہے اور آنحضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تو تمام مخلوق سے بہتر و افضل دین دار، اللہ شناس، سچوں کے سے ہیں۔ سب سے زیادہ کمال علم و ایمان، عمل و نیکی میں آپ کو اصل ہے۔ سچائی میں، بھلائی میں، یقین میں، معرفت میں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
سورة النَّحْل 108
دوسرا ترجمہ اس آیت کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”جھوٹ تو وہ لوگ گھڑا کرتے ہیں جو اللہ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے“۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–105
خلاصہ تفسیر
ربط آیات اس سے پہلی آیت میں تلاوت قرآن کے وقت اعوذ باللہ پڑھنے کی ہدایت تھی جس میں اشارہ ہے کہ شیطان تلاوت کے وقت انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے مذکورہ آیات میں اسی طرح کے وساوس شیطانی کا جواب ہے ،
نبوت پر کفار کے شبہات کا جواب مع تہدید
اور جب ہم کسی آیت کو بجائے دوسری آیت کے بدلتے ہیں (یعنی ایک آیت کو لفظا یا معنی منسوخ کر کے اس کی جگہ دوسرا حکم بھیجدیتے ہیں) اور حالانکہ اللہ تعالیٰ جو حکم (پہلی مرتبہ یا دوسری مرتبہ) بھیجتا ہے (اس کی مصلحت و حکمت کو) وہی خوب جانتا ہے (کہ جن کو یہ حکم دیا گیا ہے ان کے حالات کے اعتبار سے ایک وقت میں مصلحت کچھ تھی پھر حالت بدل جانے سے مصلحت اور…
Read the full tafseer →اِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ۔
پیغمبر کو مفتری سمجھنے والوں کی لغویت : اوپر آیت 101 میں یہ بات گزر چکی ہے کہ یہ لوگ پیغمبر ﷺ کو) ایک مفتری قرار دیتے ہیں۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مفتری ہمارا پیغمبر نہیں ہے بلکہ مفتری وہ لوگ ہیں جو اللہ کی آیات پر تو ایمان نہیں لاتے جو اللہ کی ہدایت معلوم کرنے کا واحد ذریعہ ہیں لیکن ایک دین انہوں نے تصنیف کر رکھا ہے اور اس کو اللہ کا دین بتاتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ بالکل جھوٹا افتراء ہے اور اس کے تصنیف کرنے والے ہی اصل جھوٹے ہیں۔
Read the full tafseer →15۔ 1 اور ہمارا پیغمبر تو ایمانداروں کا سردار اور ان کا قائد ہے، وہ کس طرح اللہ پر افترا باندھ سکتا ہے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے اس پر نازل نہ ہوئی ہو، اور وہ یونہی کہہ دے کہ یہ کتاب مجھ پر اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ اس لئے جھوٹا ہمارا پیغمبر نہیں، یہ خود جھوٹے ہیں جو قرآن کے منزل من اللہ ہونے کے منکر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–105
45: مکہ مکرمہ میں ایک لوہار تھا جو آنحضرت ﷺ کی باتیں دل لگا کر سنا کرتا تھا، اس لئے آپ ﷺ کبھی کبھی اس کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے اور وہ کبھی کبھی آپ کو انجیل کی کوئی بات بھی سنادیا کرتا تھا، مکہ مکرمہ کے بعض کافروں نے اس کو بنیاد بناکر یہ کہنا شروع کردیا کہ آنحضرت ﷺ یہ قرآن اس لوہار سے سیکھتے ہیں، یہ آیت کریمہ اس اعتراض کی لغویت کو بیان کررہی ہے کہ وہ بیچارہ لوہار تو عرب نہیں ہے، عجمی ہے، وہ عربی زبان کے اس فصیح وبلیغ کلام کا مصنف کیسے ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →انما یفتری الکذب الذین لا یومنون بایت اللہ واولئک ھم الکذبون (61 : 501) ”(جھوٹی باتیں نبی نہیں گھڑتا بلکہ) جھوٹ وہ لوگ گھڑ رہے ہیں جو اللہ کی آیات کو نہیں مانتے ، وہی حقیقت میں جھوٹے ہیں “۔
جھوٹ اس قدر گھنائونا گناہ ہے کہ کوئی مومن کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا۔ حضور اکرم ﷺ نے ایک حدیث میں صاف فرمایا ہے کہ کوئی مسلم جھوٹ نہیں بول سکتا اگرچہ مسلم سے دوسرے گناہ سرزد ہوسکتے ہیں۔
اب یہاں سے آگے ان لوگوں کے احکام بیان کیے جات ہیں جو ایمان کے بعد کفر اختیار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →6 یعنی آپ کو کہتے ہیں " اِنَّمَا اَنْتَ مُفْتَرٍ " حالانکہ آپ کی امانت و راستبازی پہلے سے مسلم اور ہر ایک چال ڈھال سے ظاہر تھی۔ کیا جھوٹ بنانے والوں کا چہرہ اور طور و طریق ایسا ہوتا ہے ؟ جھوٹ بنانا تو ان اشقیاء کا شیوہ ہے جو خدا کی باتیں سن کر اور اس کے نشانات دیکھ کر بھی یقین نہ کریں۔ اس سے بڑا جھوٹ کیا ہوگا کہ آدمی خدا کی باتوں کو جھوٹا کہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
آیت 104 اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ۙ لَا يَهْدِيْهِمُ اللّٰهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ
اللہ کا یہ طریقہ نہیں کہ کسی کو زبردستی کھینچ کر ہدایت کی طرف لے آئے۔
Read the full tafseer →110 افترا کا الزام لگانے والے قریش خود مفتری تھے :۔ قریش یہ جانتے تھے کہ اس نبی نے زندگی بھر نہ کبھی جھوٹ بولا اور نہ ہی کوئی جھوٹی بات کسی کے ذمہ لگائی ہے۔ تو کیا اب وہی شخص اللہ کے ذمہ جھوٹی بات لگا سکتا ہے ؟ اور انھیں یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ کلام مجھ پر اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے درآنحالیکہ واقعتا ایسی بات نہ ہو ؟ بلکہ حقیقتاً جھوٹے اور افتراء پرداز تو یہ لوگ خود ہیں جو سب کچھ جانتے بوجھتے نبی کے متعلق ایسی غلط باتیں کرتے ہیں اور اللہ کی طرف سے نازل شدہ کلام کو دوسروں کی طرف منسوب کرنے لگتے ہیں۔
Read the full tafseer →167۔ (کہ جو صادق اور سرتاسر صدق ہے، اسے کاذب ومفتری بتا رہے ہیں، اور خالق کے کلام کو مخلوق کا کلام ٹھیرا رہے ہیں) (آیت) ” اولٓئک ھم الکذبون “۔ یعنی پکے جھوٹے، اول نمبر کے لپاڑیے۔ الکاملون فی الکذب (کشاف) بعض محققین نے یہاں سے یہ نکالا ہے کہ کذب ایک بدترین کبیرہ ہے۔ (آیت) ” انما “۔ کے کلمہ حصر کے ساتھ کذب کا ذکر آنا گویا یہ معنی رکھتا ہے کہ کذب کا ارتکاب تو بس انہیں لوگوں سے ممکن ہے جو سرے سے آیات الہی پر ایمان ہی نہیں رکھتے فی ھذہ الایۃ دلالۃ قویۃ علی ان الکذب من اکبر الکبائر وافحش الفواحش والدلیل علیہ ان کلمۃ انما للحصر والمعنی ان الکذب والفریۃ لایقدم علیھما الامن کان غیر مومن بایات اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–110
آیت نمبر 101 تا 110
ترجمہ : اور جب ہم کوئی آیت منسوخ کرکے اس کی جگہ دوسری آیت بندوں کی مصلحت کیلئے نازل کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نازل کرتا ہے وہ خوب جانتا ہے تو کفار نبی ﷺ سے کہتے ہیں تم تو افترا پر داز ہو جھوٹے ہو، قرآن اپنی طرف سے گھڑ کو لاتے ہو، (ایسا نہیں ہے) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ قرآن کی حقیقت اور نسخ کے فائدہ سے واقف نہیں ہیں آپ ان کو بتادیجئے کہ اس کو جبرئیل آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کرتے ہیں (بالحق) نَزَّلَ کے متعلق ہے کہ اہل ایمان کو اس کے ذریعہ ایمان پر ثابت رکھے اور مسلمانوں کے لئے ہے اور وہ ایک نصرانی لوہار ہے، نبی ﷺ اس کے پاس جایا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون بایت اواولئک ھم الکذبون بس جھوٹ تراشنے والے تو یہی لوگ ہیں جو اللہ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے اور یہی لوگ پورے جھوٹے ہیں۔ یعنی حقیقت میں یہی جھوٹے ہیں ‘ ایمان لانے والے جھوٹے نہیں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے دور میں تمام صحابہ سچے اور عادل تھے۔ یا یہ مطلب ہے کہ کامل جھوٹے اور پورے پورے کاذب یہی لوگ ہیں کیونکہ ظہور معجزات کے بعد اللہ کے معصوم نبی اور اللہ کی آیات کا انکار اور اللہ کے رسول ﷺ پر تہمت تراشی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ یا ھُمُ الْکٰذِبُوْن سے یہ مراد ہے کہ یہ لوگ جھوٹ بولنے کے عادی ہیں ‘ ان کو جھوٹ سے کوئی چیز نہیں روک سکتی نہ شرافت ‘ نہ دین۔ یا یہ مطلب ہے کہ یہ…
Read the full tafseer →(105) سو جھوٹ اور بہتان لگانے والے تو یہی لوگ ہیں جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان نہیں لاتے اور یہی لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →اِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِيْنَ۔۔ : کفار کا قول جو اوپر آیت (101) میں ذکر ہوا ہے ”اِنَّمَا اَنْتَ مُفْتَرٍ“ (تو تو گھڑ کر لانے والا ہے) یہ اس کا رد ہے کہ جھوٹ تو ان لوگوں کا کام ہے جو ایمان نہیں رکھتے، کیونکہ انھیں اللہ کا خوف نہیں ہوتا، جسے اللہ کا خوف ہو وہ جھوٹ نہیں بولتا۔ باقی رہا نبی تو وہ اہل ایمان کا سردار ہوتا ہے، اس سے قطعی بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایک لفظ بھی جھوٹ باندھے۔
وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ : ”وَاُولٰۗىِٕكَ“ سے مراد اللہ پر ایمان نہ رکھنے والے ہیں، یعنی انھی کی عادت جھوٹ ہوتی ہے، کیونکہ وہ ایمان ہی سے محروم ہیں، جو آدمی کو گناہ سے باز رکھتا ہے۔
3 ابوہریرہ ؓ سے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 105
قولہ تعالیٰ : انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون بایت اللہ یہ اس کا جواب ہے جو انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ کی طرف افتراء پردازی کی نسبت کی۔ واولئک ھم الکذبون یہ انہیں کذب کے ساتھ متصف کرنے میں مبالغے کا اظہار ہے، یعنی ہر جھوٹ کی نسبت سے قلیل اور تھوڑا ہے۔ اور کہا جاتا ہے : کذب فلان (فلاں نے جھوٹ بولا) اور یہ نہیں کہا جاتا : انہ کاذب (بےشک وہ جھوٹا ہے) کیونکہ فعل کبھی لازم ہوتا ہے اور کبھی لازم نہیں ہوتا۔ اور رہی لغت (صفت) تو وہ لازم ہوتا ہے اور اسی لئے کہا جاتا ہے : عصی ادم ربک فغویٰ ۔ (طہٰ ) (اور حکم عدولی ہوگئی آدم سے اپنے رب کی سو وہ بامراد نہ ہوا) ۔ اور یہ نہیں کہا جاتا : إنہ عاص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–105
1:۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے سند ضعیف کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں ایک غلام کو تعلیم دیتے تھے اس کا نام بلعام تھا وہ عجمی زبان والا تھا مشرکوں نے آپ کو بلعام کے پاس آتا جاتا دیکھ کر کہا کہ ان کو بلعام سکھاتا ہے تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” ولقد نعلم انہم یقولون انما یعلمہ بشر “ (الآیہ ) ۔
2:۔ حاکم اور بیہقی نے شعب میں حاکم نے صحیح بھی کہا ہے۔ ابن عباس ؓ سے (آیت) ” انما یعلمہ بشر “ کے بارے میں روایت کیا کہ مشرکین نے کہا کہ محمد ﷺ کو عبدۃ بن حضرمی سکھاتا ہے اور وہ صاحب کتاب ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی…
Read the full tafseer →[انمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ يَفْتَرِي : گھڑتے ہیں ] [ الْكَذِبَ : جھوٹ کو ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ جو ] [ لَا يُؤْمِنُوْنَ : ایمان نہیں لاتے ] [ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ۚ : اللہ کی آیتوں پر ] [ وَاُولٰۗىِٕكَ : اور وہ لوگ ] [ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ : ہی جھوٹ کہنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (اِنَّمَا یَفْتَرِی الْکَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْکٰذِبُوْنَ ) (جھوٹ کے افتراء کا کام وہی لوگ کرتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے) اس میں ان لوگوں کی تردید ہے جو یہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے پاس سے بنا کر یا کسی سے سن کر اپنی باتوں کو اللہ کی طرف نسبت کردیتے ہیں ان لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ محمد رسول اللہ ﷺ افتراء کرنے والے نہیں ہیں افتراء کرنے والے وہی ہیں جو اللہ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے اور یہ بات جانتے ہوئے کہ ایک امی شخص ایسی عبارت نہیں بنا سکتا اور جس کی طرف نسبت کرتے ہیں کہ اس نے سکھا دیا وہ عجمی ہے پھر بھی ضد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–105
منکرین نبوت کے چند شبہات اور ان کے جوابات
قال اللہ تعالیٰ : واذا بدلنا ایۃ مکان ایۃ .... الیٰ .... واولئک ہم الکذبون۔
(ربط) اب یہاں سے منکرین نبوت کے چند شبہات نقل کرکے اس کا جواب دیتے ہیں۔ اصول دین میں پہلی اصل توحید ہے اور دوسری اصل نبوت ہے دلائل توحید کے بعد نبوت کے متعلق چند شبہات کا جواب دیتے ہیں۔ قرآن مجید کا جب کوئی حکم منسوخ ہوجاتا تو کفار کہتے کہ محمد ﷺ اپنے اصحاب سے مسخرہ پن کرتے ہیں کبھی ایک چیز کا حکم دیتے ہیں اور پھر اس سے منع کردیتے ہیں۔ واذا بدلنا ایۃ فکان ایۃ میں اس شبہ کا ذکر فرمایا اور بتلا دیا کہ نسخ احکام کے مصالح کو ہم خوب جانتے ہیں تم نہیں جانتے۔ اللہ کا ہر حکم مصلحت پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
87:۔ یہ معاندین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ یعنی جو لوگ محض ضد وعناد کی وجہ سے اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لانا چاہتے اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت کی توفیق ہی نہیں دیتا اور آخرت میں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ ” انما یفتری الخ “ یہ ظالم میرے پیغمبر ﷺ پر افتراء کا بہتان لگاتے ہیں۔ حالانکہ مفتری یہ خود ہیں کیونکہ افترء وہی شخص کرسکتا ہے جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہ لائے اس لیے جھوٹے اور مفتری یہ خود ہی ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے اور پیغمبر (علیہ السلام) پر قرآن اپنی طرف سے بنانے کا افتراء کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–105
ربط آیات
گذشتہ درس میں آداب تلاوت قرآن سکھائے گئے تھے ، اللہ نے فرمایا کہ تلاوت کرتے وقت شیطان مردود سے اللہ کے ساتھ پناہ پکڑ لیں تاکہ آپ اس کے وسوسے سے بچ جائیں ، فرمایا شیطان کا تسلط ان لوگوں پر ہوتا ہے جو اس سے دوستانہ رکھتے ہیں اور پھر اسی کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، البتہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنے والے کامل الایمان لوگوں پر شیطان کا داؤ نہیں چلتا ۔
اب آج کی آیات میں قرآن پاک ہی سے متعلق مشرکین کے بعد شکوک و شبہات کا دلائل کے ساتھ ازالہ کیا گیا ہے ، اس طرح گویا ان آیات کا گذشتہ مضمون کے ساتھ ربط ہے ، دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کریم کو پڑھنے بغیر ایمانیات اور دین کے صحیح اصول…
Read the full tafseer →اِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ 105
فری
الفَرْيُ : قطع الجلد للخرز والإصلاح، والْإِفْرَاءُ للإفساد، والِافْتِرَاءُ فيهما، وفي الإفساد أكثر، وکذلک استعمل في القرآن في الکذب والشّرک والظّلم . نحو : وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] ،
(ری ) القری ( ن )
کے معنی چمڑے کو سینے اور درست کرنے کے لئے اسے کاٹنے کے ہیں اور افراء افعال ) کے معنی اسے خراب کرنے کے لئے کاٹنے کے ۔ افتراء ( افتعال کا لفظ صلاح اور فساد دونوں کے لئے آتا ہے اس کا زیادہ تر استعمال افسادی ہی کے معنوں میں ہوتا ہے اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–105
ترکیب : اذا شرطیہ واللہ اعلم بماینزل جملہ معترضہ شرط اور جزا ہیں۔ قالوا جملہ جواب شرط، مفتر صیغہ اسم فاعل افتریٰ یفتری سے ی گر گئی مفتری تھا وھدیً و بشرٰی دونوں محل نصب میں ہیں مفعول لہ ہونے کی وجہ سے ان کا لیثبت پر عطف ہے تقدیرہ لان یثبت۔ اعجمی لسان الذی کی خبر۔ لایہدیہم خبر ہے ان کی الذین یفتری کا فاعل۔ افترا کسی پر جھوٹ سے کوئی بات بنانا۔ العجمۃ الاحقاء وھی ضدالبیان والعرب یقال رجل اعجمی و امراء ۃ عجمیۃ ورجل اعجم وامرۃ عجماء اے لایفصحان۔ وقیل العجمی منسوب الی العجم والاعجمی من لایفصح سواء کان من العرب اوالعجم وقیل الاعجمی من لایفصح والاعجم الذی من العجم وقال الراغب الاصفہانی بالعکس یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
اِنَّ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ لا لاَ یَھْدِیْھِمُ اللّٰہُ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ اِنَّمَا یَفْتَرِی الْکَذِبَ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ج وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْکٰذِبُوْنَ ۔
(سورۃ النحل : 104۔ 105)
(بیشک جو لوگ ایمان نہیں لاتے اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر اللہ تعالیٰ انھیں ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ وہی لوگ جھوٹ تراشا کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے اور یہی لوگ جھوٹے ہیں۔ )
ہدایت سے متعلق اللہ تعالیٰ کا قانون
آنحضرت ﷺ کی دعوت دین کی غیرمعمولی مساعی کو دیکھ کر ہمیشہ یہ خیال دل میں پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف آنحضرت ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–105
فہم القرآن
ربط کلام : منکرین قرآن کے تیسرے اعتراض کا جواب :
حقیقت کا باربار انکار کرنے کی وجہ سے اکثر اوقات آدمی بوکھلاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسے اس بات کی خبر نہیں رہتی کہ میں نے اس حقیقت کا انکار کرتے ہوئے پہلے کونسی بات کی اور حقیقت پیش کرنے والے پر کونسا الزام لگایا تھا یہی حالت مکہ کے کفار کی تھی۔ کبھی یہ الزام لگاتے کہ یہ نبی اپنی طرف سے قرآن گھڑ لیتا ہے اور کبھی یہ کہتے کہ روم کے فلاں شخص سے بالواسطہ سیکھ کر ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ قرآن مجید نے اس کا کئی پہلووں سے جواب دیا ہے جن میں سے ایک جواب یہ ہے کہ جس شخص یا جن افراد کو تم محمد عربی ﷺ کا استاد کہتے ہو وہ سب کے سب عجمی ہیں یعنی وہ…
Read the full tafseer →دوسرا جواب :
105: اِنَّمَا یَفْتَرِی الْکَذِبَ (بیشک اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھنے والے وہ لوگ ہیں) الَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ (جو اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے) یعنی افتراء تو ان لوگوں کا طرز و طریق ہے۔ جن میں ایمان نہیں۔ کیونکہ وہ اس پر سزا کے قائل نہیں۔ اس میں اِنَّمَا اَنْتَ مُفْتَرکی تردید ہے۔ وَاُولٰٓپکَ (وہ) سے لَا یُؤْمِنُوْنَ کی طرف اشارہ ہے۔ ھُمُ الْکٰذِبُوْنَ (وہی جھوٹے ہیں) فی الحقیقت اور کذب میں کمال درجہ حاصل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب عظیم ترین جھوٹ ہے۔ نمبر 2۔ وہ انماانت مفتر کہنے میں جھوٹے ہیں۔
Read the full tafseer →” انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون بآیات اللہ واولئک ھم الکذبون “ یہ سب لوگ جھوٹے ہیں نہ کہ محمد ﷺ اور انکے صحابہ ؓ ۔ سوال یہ ہوتا ہے کہ جب پہلے یہ کہہ دیا ” انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون “ پھر آگے ۔ ” اولٰئک ھم الکذبون “ کا معنی کیا ہے ؟ جواب یہ کہ ” انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون “ ان کے فعل کی خبر دینا ہے اور ” وھم الکاذبون “ ان کی صفت ہے ۔ جیسے کوئی شخص دوسرے کو کہے کہ تونے جھوٹ بولا اور تو جھوٹا ہے ۔ ” ای کذبت فی ھذالقول “ کہ تم اپنی بات میں جھوٹ ہو ۔
حضرت عبد اللہ بن جراد سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ ) کیا مؤمن زنا کرسکتا ہے ؟ فرمایا کبھی ایساہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
104۔ 105۔ جو لوگ خدا کی نشانیوں پر ایمان نہیں لاتے اور خدا کے ذکر سے منہ پھیرتے ہیں اور اس کے کلام کی تصدیق نہیں کرتے وہ ہرگز ہدایت نہیں پاسکتے اور نہ زبردستی خدا انہیں راہ راست پر لائے گا کیونکہ ان کی بدبختی پہلے ہی خداوند عالم کے علم ازلی میں ظاہر ہوچکی ہے۔ اس لئے آخرت میں ان کے واسطے بہت ہی درد ناک عذاب مقرر کیا گیا ہے یہ لوگ یہ جو کہتے ہیں کہ قرآن محمد نے آپ جی سے گھڑ کر بنایا ہے یا کسی بشر نے انہیں سکھلایا ہے یہ ان لوگوں کا جھوٹ ہے کہ ایسے شخص کو نہایت راست گو مشہور ہیں انہیں جھٹلاتے ہیں جس وقت ابو سفیان سے روم کے بادشاہ ہرقل نے آنحضرت ﷺ کے چال چلن اور صفات کو دریافت کیا اور پوچھا کہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–105
آیت : (103-105)
اللہ تبارک و تعالیٰ پانے رسول ﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین کے قول کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ (انھم یقولون انما یعلمہ) ” وہ کہتے ہیں کہ اس کو تو سکھلاتا ہے “ یعنی یہ قرآن جسے رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں (بشر) ” ایک آدمی “ اور وہ شخص جس کی طرف یہ لوگ اشارہ کرتے ہیں عجمی زبان رکھتا ہے (وھذا) اور یہ قرآن (لسان عربی مبین) ” زبان عرنی سے صاف “ کیا یہ بات ممکن ہے ؟ کیا اس بات کا ذرا بھی احتمال ہوسکتا ہے ؟ مگر جھوٹا شخص جھوٹ بولتا ہے اور وہ نہیں سوچتا کہ اس کا جھوٹ اسی کی طرف لوٹ آئے گا۔ اس کی بات ایسے تناقض اور فسا د کی حامل ہوگی جو محض تصور ہی سے اس بات کی تردید کا موجب ہوگا۔
(ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–105
استعاذہ کا بیان
قرآن پڑھنے سے پہلے اعوذ باللہ پڑھنا ضروری ہے
قول باری ہے (فاذا قرات القرآن فاستعذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ پھر جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان رجیم سے خدا کی پناہ مانگ لیا کرو) عمرو بن مرہ نے عباد بن عاصم سے، انہوں نے نافع بن جبیربن مطعم سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو نماز شروع کرتے وقت یہ پڑھتے ہوئے سنا تھا (اللھم اعوذ بک من الشیطان من ھمزہ و نفخہ و نفشہ اے اللہ ! میں شیطان سے ، اس کے خطرات سے ، اس کی پھونک سے اور اس کے وسوسے سے تیری پناہ میں آتا ہوں) حضرت ابو سعید خدری نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نماز کے اندر قرأت سے پہلے تعوذ پڑھا کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
226۔ جھوٹ گھڑنا بےایمانوں کا کام۔ والعیاذ باللہ :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور ” انما “ کے کلمہ حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ جھوٹ تو وہی لوگ گھڑتے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے اللہ کی آیتوں پر کہ ان کو نہ خدا کا خوف ہے نہ آخرت کا ڈر۔ پس ایسے بےایمانوں کا اصل کام جھوٹ بولنا ہے۔ اور سچ اگر یہ لوگ بولیں گے بھی تو وہ عارضی اور وقتی فوائد کے اعتبار سے اور کسی دنیوی مفاد و مصلحت کے پیش نظر کہ ان کے نزدیک اصل چیز متاع دنیا اور اس کا حطام فانی وزائل ہی ہے۔ جس کو دوسرے مقام پر (یستحبوں الحیوۃ الدنیا علی الآخرۃ) کے ارشاد سے بیان فرمایا گیا ہے۔ سوابنائے دنیا کا حال کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے کہ متاع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–114
کفار کے کرتوت اور ان کا انجام
تشریح : ان آیات میں پچھلی آیات کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ پر جو الزام لگایا گیا کہ یہ چند غلاموں سے پوچھ کر قرآن بنا لائے ہیں تو یہ ہر صورت بہتان ہے کیونکہ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ تو ہمیشہ سے پاکباز اور سچے اور امین مشہور ہیں وہ ہرگز کبھی جھوٹ نہیں بول سکتے دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کی سچائی بیشمار طریقوں سے ثابت ہوچکی ہے۔
سیدنا عمار بن یاسر ؓ کے سامنے ان کے والد یاسر اور ان کی والدہ سمیہ کو شہید کیا گیا (چونکہ عمار اور ان کے والدین ابو جہل کے غلام تھے) چناچہ عمار ؓ نے وہ کچھ کہہ دیا جو کفار آپ سے کہلوانا چاہتے تھے، پھر رسول کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–110
(رکوع نمبر 14)
اسرارومعارف
شیطانی وساوس میں گرفتار کفار کو اس بات پہ بھی اعتراض ہے کہ قرآن پاک کی آیات منسوخ یا تبدیل کیوں ہوتی ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اللہ کا کلام ہوتا تو بھلا اللہ کو کیا پہلے معلوم نہ تھا کہ ایک حکم دیا پھر اسے بدل کر دوسرا دے دیا ، ایسا نہیں ہو سکتا بلکہ آپ ﷺ اللہ پر جھوٹ گھڑتے ہیں ، کلام خود بناتے ہیں اور کہتے ہیں اللہ جل جلالہ کا ہے ، یہ ان کی جہالت کے باعث ہے ، ورنہ اللہ جل جلالہ تو انسانوں کی سہولت اور بہتری کے لیے منسوخ فرماتے ہیں جبکہ ایک حال میں ایک حکم بہتر تھا ، وہ ارشاد فرمایا جب حالت بدل گئی تو حکم تبدیل کردیا گیا کہئے کہ یہ احکام تو رب جلیل کا پاک فرشتہ لاتا…
Read the full tafseer →ف 7 باقی رہا نبی تو وہ اہل ایمان کا سردار ہوتا ہے اس سے قطعی بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایک لفظ بھی جھوٹ باندھے یہ کفار کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ محمد ﷺ کو خود تصنیف کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔
Read the full tafseer →(16:105) یفتری۔ مضارع واحد مذکر غائب وہ بہتان باندھتا ہے۔ یہاں صیغہ واحد جمع کے لئے استعمال ہوا ہے۔ نیز ملاحظہ ہو 16:101
آیت کا ترجمہ یوں ہے۔ حقیقۃً جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے وہی جھوٹ اور افتراء باندھتے ہیں۔ (انما کے حصر کے ساتھ کذب کا ارتکاب آیات قرآنی پر ایمان نہ رکھنے والوں کے لئے مخصوص ہوگیا) فی ھذہ الایۃ ولا لۃ قویۃ علی ان الکذب من اکبر الکبائر و افحش الفواحش والد لیل علیہ ان کلمۃ انما للحصروا لمعنی ان الکذب والفریۃ لا یقدم علیہما الا من کان غیر مومن بایت اللہ تعالیٰ والامن کان کافرا وھذا تھدید فی النہایۃ۔
اس آیت میں اس امر کی قوی دلیل ہے کہ کذب بدترین گناہ اور بدترین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–105
لغات القرآن آیت نمبر 101 تا 105
بدلنا ہم نے بدل دیا۔ ینزل وہ نازل کرتا ہے۔ مفتر گھڑنے والا۔ روح القدس پاکیزہ روح جبریل امین۔ لیثبت تاکہ وہ پکا کر دے۔ یعلم سکھاتا ہے۔ یلحدون (الحاد) اشارہ کرتے ہیں۔ عربی مبین واضح عربی، فصیح عربی زبان۔
تشریح : آیت نمبر 101 تا 105
حضرت عیسیٰ (جن کو اللہ نے آسمانوں کی طرف اٹھا لیا ہے) ان کے ساڑھے پانچ سو سال کے بعد جزیرۃ العرب میں مذہبی، تمدنی ، عاشرتی، اخلاقی، تہذیبی اور رسم و رواج میں اتنی تبدیلیاں آ چکی تھیں کہ کفار مکہ زبان سے تو یہ کہہ کر فخر کرتے تھے کہ ہم حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی اولاد یا ان کے ماننے والے ہیں لیکن اس نسبت کے باوجود وہ ہر طرح کی جہالت اور…
Read the full tafseer →یہاں فرمایا کہ یہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ قرآن حضرت محمد ﷺ نے اپنے جی سے گھڑ کر بنایا ہے یا کسی بشر نے انہیں سکھایا ہے، یہ ان لوگوں کا جھوٹ ہے ایسے شخص کو جو نہایت راست گو مشہور ہیں انہیں جھٹلاتے ہیں، یعنی اللہ کے رسول کی صداقت کی شہرت کے بعد پھر جو یہ لوگ ان کو جھٹلاتے ہیں تو یہی لوگ جھوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–112
[65] یہاں کسی خاص شخص کا نام مذکور نہیں صرف اس کے عجمی ہونے کی تصریح ہے، مفسرین نے یہاں ایک سے زیادہ ناموں کا ذکر کیا ہے قرآن کو اس کے نام سے بحث نہیں صرف اعتراض سے بحث ہے اور اسی کا جواب اس نے دیا ہے مطلب یہ ہے کہ کفار مکہ سے قرآن کے معانی اور حقائق تک تو پہنچنے کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی لیکن ان کو اپنی زبان دانی پر بڑا ناز ہے تو کم از کم اس کی زبان کی بےمثال فصاحت پر ہی غور کرتے تو ان پر اپنے اعتراض کی لغویت واضح ہوجاتی کہ عجمی تو درکنار خود ان کے کسی شاعر یا خطیب کے بس میں بھی یہ نہیں کہ اس طرح کا کلام پیش کرسکے۔ یہاں تک کہ خود پیغمبر کے اپنے کلام اور قرآن کے کلام میں زمین و آسمان کا فرق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–105
(ف 2) مخالفین کا خیال تھا کہ حضور ﷺ نے قرآنی معارف کو کسی شخص سے سیکھ لیا ہے ، اور ان کے اپنے علم وبصیرت کا یہ نتیجہ وثمرہ نہیں ہے ، اور وہ آدمی جس سے حضور ﷺ نے سیکھا ہے عجمی ہے ، اس لئے نام میں اختلاف ہے کوئی کہتا ہے یعیش ہے ، کیس کے خیال میں عداس ہے کسی کی رائے میں ابو مسیرہ ہے ، بہرحال وہ کوئی عجمی ہے ۔
قرآن کہتا ہے اگر حضور ﷺ نے عجمی سے سیکھا ہے تو قرآن میں یہ فصاحت وبلاغت کیوں ہے ؟ کیوں عجمی اثرات اس میں نمایاں نہیں ۔
بات یہ ہے کہ اصل میں اس نوع کے اعتراض محض حاسدانہ ہے ورنہ حضور ﷺ کی ساری زندگی مخالفین کے سامنے ہے آپ نے اپنی ساری زندگی میں کہیں تعلیم حاصل نہیں کی ایک وہ دو صحبتوں میں…
Read the full tafseer →105 ۔ آگے حضور ﷺ کو معاذ اللہ مفتری کہنے کا جواب ہے ارشاد ہوتا ہے سوائے اس کے کچھ نہیں کہ جھوٹی افترا پردازی کے تو وہ ہی لوگ مرتکب ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور وہی لوگ پورے اور کامل جھوٹے ہیں ۔ یعنی معاذ اللہ جو پیغمبر ﷺ کو مفتری بتاتے ہیں یہ لوگ خود ہی جھوٹے افترا پر دازیاں کرنے کے عاری اور خوگر ہیں اور یہ لوگ واقعی جھوٹے ہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–109
ف 9۔ مراد اس سے ایک عجمی رومی، نصرانی غلام یالوہار ہے جس کا نام بلعام یا مقیس تھا وہ رسول اللہ کی باتیں جی لگا کر سنتا تھا تو حضور ﷺ کبھی اس کے پاس جاکر بیٹھ جاتے اور وہ انجیل وغیرہ کچھ جانتا تھا تو کافروں نے ایک یہ بات نکالی کہ حضور کو یہ سکھلا دیتا ہے اللہ جواب دیتے ہیں کہ قرآن مجید تو مجموعہ لفظ ومعنی کا نام ہے سو اگر معنی کی جزالت خارقہ کے ادرات کی تم کو تمیز نہیں تو الفاظ بلاغت خارقہ کو تو سمجھ سکتے ہو پس اگر فرض کرلیا جائے کہ مضامین وہ شخص سکھلا دیتا ہے تو یہ تو سوچو کہ یہ الفاظ کہاں سے آگئے۔
Read the full tafseer →جھوٹوں کا کیا کام ہے کہ سچوں کو جلدی سے جھوٹے کہہ دیں :
119۔ غور کرو کہ خود جھوٹے ہی جھوٹ بولتے ہیں اور ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر بولتے ہیں اور پھر اتنے جھوٹے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ جیسے رات باز انسان کو مفتری اور کذاب کہتے ہیں حالانکہ جھوٹ تو ایمان کے منافی ہے ایک سچا ایماندار آدمی جھوٹ نہیں بول سکتا ۔ جو اللہ تعالیٰ کی وحی کو جھوٹ سے تشبیہ دیتے ہیں حالانکہ وہ یہ بات کہہ کر خود جھوٹ کے مرتکب ہو رہے ہیں اور ناقابل تردید دلائل کے باوجود اپنی ضد سے باز نہیں آتے اور یہی وہ بدنصیب ہیں جن کے مقدر میں گمراہی لکھ دی گئی ہے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ خود جھوٹے ہیں اور سچے کو جھوٹا کہہ رہے ہیں حالانکہ حقیقت یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–105
Sequence of Verses
In the previous verse (98), there was an instruction to say اَعُوذ بِاللہ 'a udhu bil-lah' (I seek protection with Allah) while reciting the Qur’ an which indicates that the Shaitan puts scruples in the heart when one recites the Qur'an. In the verses cited above, there is a refutation of such Satanic instigations.
Read the full tafseer →108. This verse can also be rendered like this: A Prophet does not forge any false thing but those, who do not believe in the revelations of Allah, invent falsehoods.
Read the full tafseer →