Explained with ayahs 73–76
اپنے اوپر چوری کی تہمت سن کر برادران یوسف کے کان کھڑے ہوئے اور کہنے لگے تم ہمیں جان چکے ہو ہمارے عادات وخصائل سے واقف ہوچکے ہو ہم ایسے نہیں کہ کوئی فساد اٹھائیں ہم ایسے نہیں ہیں کہ چوریاں کرتے پھریں۔ شاہی ملازموں نے کہا اچھا اگر جام و بیمانے کا چور تم میں سے ہی کوئی ہو اور تم جھوٹے پڑو تو اس کی سزا کیا ہونی چاہئے ؟ جواب دیا کہ دین ابراہیمی کے مطابق اس کی سزا یہ ہے کہ وہ اس شخص کے سپرد کردیا جائے، جس کا مال اس نے چرایا ہے، ہماری شریعت کا یہی فیصلہ ہے۔ اب حضرت یوسف ؑ کا مطلب پورا ہوگیا۔ آپ نے حکم دیا کہ ان کی تلاشی لی جائے چناچہ پہلے بھائیوں کے اسباب کی تلاشی لی، حالانکہ معلوم تھا کہ ان کی…
Read the full tafseer →59۔ یہاں یہ امر غور طلب ہے کہ اس پورے سلسلہ واقعات میں وہ کون سی تدبیر ہے جو حضرت یوسف کی تائید میں براہ راست خدا کی طرف سے کی گئی ؟ ظاہر ہے کہ پیالہ رکھنے کی تدبیر جو حضرت یوسف نے خود کی تھی، یہ بھی ظاہر ہے کہ سرکاری ملازموں کا چوری کے شبہ میں قافلے والوں کو روکنا بھی حسب معمول وہ کام تھا جو ایسے مواقع پر سب سرکاری ملازم کیا کرتے ہیں، پھر وہ خاص خدائی تدبیر کون سی ہے ؟ اوپر کی آیات میں تلاش کرنے سے اس کے سوا کسی دوسری چیز کو اس کا مصداق نہیں ٹھہرایا جاسکتا کہ سرکاری ملازموں نے خلاف معمول خود مشتبہ ملزموں سے چور کی سزا پوچھی اور انہوں نے وہ سزا بتائی جو شریعت ابراہیمی کی رو سے چور کو دی جاتی…
Read the full tafseer →فَبَدَاَ بِاَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَاۗءِ اَخِيْهِ یعنی سرکاری تفتیش کرنے والوں نے اصل سازش پر پردہ ڈالنے کے لئے پہلے سب بھائیوں کے سامان کی تلاشی لی پہلے ہی بنیامین کا سامان نہیں کھولا تاکہ ان کو شبہ نہ ہو جائے
ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَاۗءِ اَخِيْهِ یعنی آخر میں بنیامین کا سامان کھولا گیا تو اس میں سے صواع الملک کو برآمد کرلیا اس وقت تو سب بھائیوں کی گردنیں شرم سے جھک گئیں اور بنیامین کو سخت سست کہنے لگے کہ تو نے ہمارا منہ کالا کردیا،
كَذٰلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ ۭ مَا كَانَ لِيَاْخُذَ اَخَاهُ فِيْ دِيْنِ الْمَلِكِ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ یعنی اس طرح ہم نے تدبیر کی یوسف کے لئے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–76
تفیسر آیات 70۔ تا 76:۔ فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِيْ رَحْلِ اَخِيْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَيَّــتُهَا الْعِيْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَقَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَيْهِمْ مَّاذَا تَفْقِدُوْنَ۔ قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَنْ جَاۗءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِيْرٍ وَّاَنَا بِهٖ زَعِيْمٌ۔ قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْاَرْضِ وَمَا كُنَّا سٰرِقِيْنَ۔ قَالُوْا فَمَا جَزَاۗؤُهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِيْنَ۔ قَالُوْا جَزَاۗؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِيْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَاۗؤُهٗ ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ۔ فَبَدَاَ بِاَوْعِيَتِهِمْ…
Read the full tafseer →76۔ 1 پہلے بھائیوں کے سامان کی تلاشی لی۔ آخر میں بنیامین کا سامان دیکھا تاکہ انھیں شبہ نہ ہو کہ یہ کوئی سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔
76۔ 2 یعنی ہم نے وحی کے ذریعے سے یوسف ؑ کو یہ تدبیر سمجھائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی صحیح غرض کے لئے ایسا طریقہ اختیار کرنا جس کی ظاہری صورت حیلہ کی ہو، جائز ہے بشرطیکہ وہ طریقہ کسی نص شرعی کے خلاف نہ ہو (فتح القدیر)
76۔ 3 یعنی بادشاہ مصر میں جو قانون اور دستور رائج تھا، اس کی روح سے بنیامین کو اس طرح روکنا ممکن نہیں تھا اس لئے انہوں نے اہل قافلہ سے پوچھا کہ بتلاؤ اس جرم کی سزا کیا ہو۔
76۔ 4 جس طرح یوسف ؑ کو اپنی عنایات اور مہربانیوں سے بلند مرتبہ عطا کیا۔
76۔ 5 یعنی ہر…
Read the full tafseer →49: پہلے دوسرے بھائیوں کی تلاشی اس لیے شروع فرمائی تاکہ تلاشی غیر جانب دار نہ سمجھی جائے۔
50: یہ سارے بھائی خوشی خوشی یہ سمجھ رہے تھے کہ ہم نے اپنا مقصد پالیا۔ لیکن ان کو یہ علم نہیں تھا کہ چلتے چلتے کیا ہونے والا ہے ؟ کوئی شخص کتنے ہی بڑے علم کا دعویٰ کرتا ہو اللہ تعالیٰ کا علم اس پر یقیناً فائق ہے۔
Read the full tafseer →فبدا باوعیتھم۔۔۔۔۔۔۔۔ وعاء اخیہ (12 : 76) “ تب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی سے پہلے ان کی خرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی پھر اپنے بھائی کی خرجی سے گم شدہ چیز برآمد کرلی ”۔
اس مرحلے پر قرآن اس دہشت اور پریشانی کو بیان نہیں کرتا جس سے برادران یوسف اچانک دو چار ہوگئے۔ ان کو تو سو فیصدی یقین تھا کہ وہ بےگناہ ہیں۔ انہوں نے بیان حلفی بھی دے دیا تھا اور بیک آواز دے دیا تھا۔ قرآن کریم نے منظر کا یہ حصہ انسانی تخیل پر چھوڑ دیا کیونکہ ایسے مواقع پر ایسے تاثرات خود بخود ظاہر ہوتے ہیں۔ اس تاثر کو انسانی خیال پر چھوڑ دیا گیا اور واقعہ پر ایک تبصرہ کردیا گیا تا کہ ابنائے یعقوب جس دہشت اور شرمندگی سے دو…
Read the full tafseer →2 یعنی اس گفتگو کے بعد محافظین ان کو " عزیز مصر " (یوسف علیہ السلام) کے پاس لے گئے اور سب ماجرا کہہ سنایا۔ انہوں نے تفتیش کا حکم دیا۔ پہلے دوسرے بھائیوں کی خرجیاں (زنبیلیں اور بیگ وغیرہ) دیکھے گئے، پیالہ برآمد نہ ہوا۔ اخیر میں بنیامین کے اسباب کی تلاشی ہوئی، چناچہ پیالہ اس میں سے نکل آیا۔
3 یا یوں تدبیر کی ہم نے یوسف کے لیے۔
4 یعنی بھائیوں کی زبان سے آپ ہی نکلا کہ جس کے پاس مال نکلے غلام بنا لو۔ اس پر پکڑے گئے ورنہ حکومت مصر کا قانون یہ نہ تھا۔ اگر ایسی تدبیر نہ کی جاتی کہ وہ خود اپنے اقرار میں بندھ جائیں تو ملکی قانون کے موافق کوئی صورت بنیامین کو روک لینے کی نہ تھی۔
5 یعنی جسے چاہیں حکمت و…
Read the full tafseer →كَذٰلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ
یہ ایک ایسی تدبیر تھی جس میں توریے کا سا انداز تھا اور اس سے مقصود کسی کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ اس پورے خاندان کو آپس میں ملانا تھا۔ اس تدبیر کی ذمہ داری اللہ نے خود لی ہے کہ حضرت یوسف نے اپنی طرف سے ایسا نہیں کیا تھا بلکہ اللہ نے آپ کے لیے یہ ایک راہ نکالی تھی۔ یہ وضاحت اس لیے ضروری تھی تاکہ کسی ذہن میں یہ اشکال پیدا نہ ہو کہ ایسی تدبیر اختیار کرنا شان نبوت کے منافی ہے۔ یہاں پر یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اختیار بھی مطلق ہے اور اس کا علم بھی ہر شے پر محیط ہے۔ اللہ کو تو علم تھا کہ یہ عارضی سا معاملہ ہے اور اس سے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
مَا…
Read the full tafseer →71 اللہ کی تدبیر کیا تھی ؟ سیدنا یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی بن یمین کو اپنے پاس ہی روک رکھنا چاہتے تھے۔ اور یہ بھی چاہتے تھے کہ ان کے بھائیوں پر ابھی اپنے بادشاہ ہونے کی حقیقت کا راز فاش نہ ہو۔ اسی لیے پیالہ بن یمین کے سامان میں رکھنے کی تدبیر کی گئی تھی اور جو تدبیر اللہ نے سیدنا یوسف کے لیے کی وہ یہ تھی کہ آپ اس کو شاہ مصر کے قانون تعزیرات کے مطابق گرفتار کرکے جیل میں نہ بھیجیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے برادران یوسف کے منہ ہی سے یہ بات نکلوا دی کہ ہمارے ہاں چور کی سزا یہ ہوتی ہے کہ جو شخص چوری کرے وہ ایک سال کے لیے اس شخص کی غلامی کرے جس کا اس نے مال چرایا ہے۔ اس طرح باعزت طور پر بن یمین کو…
Read the full tafseer →140۔ (بنیامین کو پاس رکھ لینے کی) (آیت) ” کدنا “۔ صیغہ متکل لاکرگویا یہ صاف کردیا کہ سلسلہ میں جو کچھ بھی مخفی کاروائیاں تھیں سب ہمارے ایماء سے ہوئیں، یوسف (علیہ السلام) کسی منزل پر بھی قابل الزام نہیں 4۔ (آیت) ” فبدا “۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ تلاشی یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ ہی سے لی ہو۔ ان کے کسی نائب کا فعل بھی انہی کا سمجھا جائے گا۔ کید۔ مکر کے قسم کے الفاظ جب حق تعالیٰ کے لئے استعمال ہوتے ہیں تو ان سے مراد ان اعمال کی منتہائے مقصود اور حاصل غرض ہوتی ہے نہ کہ ان اعمال کے ابتدائی مدارج۔ انا ذکر نا قانونا معتبرا فی ھذا الباب وھو ان امثال ھذہ الالفاظ تحمل علی نھایات الاغراض لاعلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–79
آیت نمبر 69 تا 79
ترجمہ : اور جب (برادران یوسف) یوسف کے حضور پہنچے تو (یوسف نے) اپنے بھائی (بنیامین) کو اپنے پاس ٹھہرایا اور کہا میں تیرا وہی بھائی ہوں (جو گم ہوگیا تھا) لہٰذا اب تم اس حرکت پر جو یہ ہم سے حسد کی بنا پر کرتے رہے ہیں رنجیدہ نہ ہو، اور اس سے یہ بھی کہہ دیا کہ تم اس کی خبر ان کو نہ دینا، اور دونوں نے اس بات پر اتفاق کرلیا کہ عنقریب کوئی ایسا حیلہ کیا جائیگا کہ اس کے ذریعہ اس کو اپنے پاس روک لے اور جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو سامان ٹھیک ٹھاک کرکے دیا تو اپنے بھائی بنیامین کے سامان میں پیالہ رکھ دیا وہ پیالہ سونے کا تھا اور اس پر جواہر جڑے ہوئے تھے، پھر ایک آواز دینے…
Read the full tafseer →فبد اباوعیتھم قبل وعاء اخیہ پس اپنے بھائی کے تھیلے سے پہلے (دوسرے) بھائیوں کے تھیلوں کی تلاشی شروع کی۔ یعنی بنیامین کے سامان کی تلاشی سے پہلے ایک ایک کر کے بھائیوں کے سامان کی تلاشی لی اور انہی کی تلاشی سے آغاز کیا تاکہ کسی کو شبہ نہ ہو۔ قتادہ نے کہا : ہم سے بیان کیا گیا ہے کہ جب بھی کسی کے سامان کو کھولتے اور اس کے تھیلے کے اندر دیکھتے تھے تو تہمت لگانے کے گناہ کے خوف سے استغفر اللہ کہتے تھے (کیونکہ جانتے تھے کہ میں تلاشی غلط لے رہا ہوں ‘ یہ شخص چور نہیں ہے) جب سب کی تلاشی ہوچکی اور صرف بنیامین رہ گیا تو خود ہی بولے : میرے خیال میں اس نے نہیں لیا ہے (اس کی تلاشی لینے کی ضرورت نہیں) بھائیوں…
Read the full tafseer →(76) چنانہ حضرت یوسف ؑ کے نوکروں نے بنیامین کے تھیلے سے پہلے دوسرے بھائیوں کے تھیلوں کی تلاشی لی ان میں وہ پیمانہ نہیں ملا پھر آخرکار انہوں نے اس برتن کو بنیامین کے تھیلے سے برآمد کیا اس تلاش کرنے والے نے بنیامین کو دعا دی کہ اللہ تعالیٰ تم پر آسانی فرمائے جیسا کہ تم نے مجھ پر آسانی کی۔ ہم نے حضرت یوسف ؑ کی خاطر اس طرح تدبیر فرمائی اور ہم نے یوسف ؑ کو علم و حکمت، فہم و نبوت اور بادشاہت کے ذریعے عزت و کرامت عطا فرمائی حضرت یوسف ؑ اپنے بھائی کو بادشاہ مصر کے قانون سے نہیں لے سکتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت یہی تھی کہ حضرت یوسف ؑ اپنے بھائی کو بادشاہ کے قانون سے نہ لیں کیوں کہ بادشاہ کے قانون…
Read the full tafseer →فَبَدَاَ بِاَوْعِيَتِهِمْ۔۔ : یعنی پیمانے کی گم شدگی کا اعلان کرنے والے نے (اللہ کی تدبیر کے مطابق) اتفاق سے پہلے دوسرے بھائیوں کی بوریوں کی تلاشی لی اور آخر میں اس (یوسف) کے بھائی کے سامان کی تلاشی لی تو اس میں سے پیمانہ نظر آگیا جو اس تلاشی لینے والے نے نکال لیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یوسف کے لیے یہ تدبیرہم نے کی، بادشاہ مصر کے قانون کی رو سے وہ کسی طرح اپنے بھائی کو نہیں رکھ سکتے تھے، مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ خود بھائیوں کے ہاں رائج قانون کے مطابق جو انھوں نے خود بتایا، ان کے لیے بھائی کو یوسف ؑ کے پاس چھوڑے بغیر کوئی چارہ نہ رہا۔
نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۗءُ : یعنی ہم جسے چاہتے ہیں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 76
قولہ تعالیٰ : فبداباوعیتھم قبل وعآء اخیہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کی خورجیوں سے شروع کیا کیونکہ اگر اپنے بھائی کی
خورجی سے شروع کرتے تو ان کے دلوں میں الزام اور شک پیدا ہوسکتا تھا تو گویا اس طرح الزام اور شک کی نفی کردی۔ الوعاء واو کے کسرہ اور ضمہ کے ساتھ دو لغتیں ہیں : اور اس سے مراد وہ چیز ہے جس میں سامان کی حفاظت کی جاتی ہے اور اسے بچایا جاتا ہے۔ ثم استخرجھا من وعآء اخیہ یعنی بنیامین کی خورجی سے نکالا : استخرج کے ساتھ آنے والی ھاضمیر سے مراد سقایۃ ہے یا پھر صواع ہے یہ آدمی کے نزدیک ہوگا جو اسے مونث سمجھتا ہے : اور ولمن جآء بہٖ فرمایا یہ ضمیر مذکر کی ہے تو یہ اسکے نزدیک ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” اوی الیہ اخاہ “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے بنیامین کو اپنے ساتھ ملا لیا اور اس کو اپنے پاس ٹھہرایا (آیت) ” فلا تبتئس “ یعنی نہ غم کر اور نہ مایوس ہو اور (آیت ) ” فلما جھزھم بجھازہم “ جب ان کی ضرورت پوری کردی اور ان کا غلہ ناپ دیا۔ (آیت) ” جعل السقایۃ “ بادشاہ کا وہ پیالہ جس سے وہ شراب پیتا تھا (آیت) ” فی رحل اخیہ “ اپنے بھائی کی بوری میں رکھ دیا۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابن الانباری رحمہما اللہ نے المصاحف میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جعل السقایۃ “ وہ ایک پیالہ تھا ہر چیز جس میں پیا جائے وہ صواع…
Read the full tafseer →[فَبَدَاَ : تو انھوں (علیہ السلام) نے ابتدا کی ] [ بِاَوْعِيَتِهِمْ : ان لوگوں کے تھیلوں (کی تلاشی) سے ] [قَبْلَ وِعَاۗءِ اَخِيْهِ : اپنے بھائی کے تھیلے سے پہلے ] [ ثُمَّ : پھر ] [اسْتَخْرَجَهَا : انھوں (علیہ السلام) نے نکالا اس (پیالے) کو ] [ مِنْ وِّعَاۗءِ اَخِيْهِ : اپنے بھائی کے تھیلے سے ] [ كَذٰلِكَ : اس طرح ] [كِدْنَا : ہم نے (یعنی اللہ نے) خفیہ تدبیر کی ] [ لِيُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) کے لئے ] [ مَا كَان : (ممکن) نہیں تھا ] [ لِيَاْخُذَ : کہ وہ (علیہ السلام) پکڑیں ] [اَخَاهُ : اپنے بھائی کو ] [فِيْ دِيْنِ الْمَلِكِ : بادشاہ کے دستور میں ] [ اِلَّآ ان : سوائے اس کے کہ (جو)] […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–76
برادران یوسف کے سامان کی تلاشی لینا اور بنیامین کے سامان سے پیمانہ نکل آنا اور اس کو بہانہ بنا کر بنیامین کو روک لینا
جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے خود ہی یہ کہہ دیا کہ جس کے سامان میں آپ لوگوں کا گمشدہ پیمانہ نکل آئے اس کی ذات ہی کو اس کے بدلہ میں غلام بنا لیا جائے اور یہ بھی کہہ دیا کہ ہم اسی طرح چور کو سزا دیا کرتے ہیں یعنی یہ اسی شریعت کے مطابق ہے جس پر ہم چلتے ہیں تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کے سامانوں کی تلاشی لینا شروع کردی ‘ پہلے دوسرے بھائیوں کے کجاو وں کو دیکھا پھر جب اپنے حقیقی بھائی کے کجا وہ کو ٹٹولا تو اس میں سے پیمانہ کو نکال لیا ‘ رکھا تو خود ہی تھا اور معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–87
بار دوم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولما دخلوا علی یوسف اوی الیہ اخاہ .... الیٰ .... عندہ انا اذا لظلمون
(ربط) یہاں تک برادران یوسف (علیہ السلام) کی پہلی بار آمد کا ذکر تھا اب آئندہ آیات میں ان کی دوسری بار آمد کا ذکر ہے اور جب بار دوم یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت کے مطابق گیارہ بھائی یعنی دس بھائی سابق مع بنیامین کے مختلف دروازوں سے مصر میں داخل ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور بنیامین کو پیش کرکے کہا کہ ہم آپ کے حکم کے مطابق اپنے اس علاتی بھائی کو اپنے ساتھ لائے ہیں جو آپ کے سامنے ہے یوسف (علیہ السلام) نے دو دو بھائیوں کو ایک ایک جگہ ٹھہرا دیا بنیامین اکیلے رہ…
Read the full tafseer →64:۔ سب کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے حاضر کیا گیا انہوں نے پہلے بڑے بھائیوں کے سامان کی تلاشی لی اور آخر میں بنیامین کے سامان سے پیمانہ برآمد ہوگیا۔ ” کَذٰلِکَ کِدْنَا لِیُوْسُفَ “ کاف بیان کمال کے لیے ہے یعنی ہم نے یوسف کو یوں تدبیر سجھائی ورنہ بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ اپنے بھائی کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے کیونکہ شاہ مصر کا دستور یہ تھا کہ چور سے مال مسروقہ کی قیمت سے دوگنا جرمانہ وصول کر کے اسے چھوڑ دیا جائے (کبیر) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
ربط آیات
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ پانی پینے کا پیالہ بن یامین کے سامان میں رکھ دیا گیا اور پھر ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اے قافلے والو تم چور ہو۔ برادران یوسف نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو ہم زمین میں فساد برپا کرنے کے لئے آئے ہیں اور نہ ہی ہم چور ہیں۔ پھر بادشاہ کے کارندوں نے کہا کہ اگر چوری ثابت ہوجائے تو چور کی سزا کیا ہے تو بھائیوں نے کہا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی شریعت کے مطابق چور کو ایک سال تک مسروقہ مال کے مالک کی غلامی کرنا پڑتی ہے۔ اب آج کے درس میں بھائیوں کے سامان کی تلاشی اور پیالہ برآمد ہونے کا ذکر آ رہا ہے۔
سامان کی تلاشی
ارشاد ہوتا ہے فبدآء…
Read the full tafseer →فَبَدَاَ بِاَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَاۗءِ اَخِيْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَاۗءِ اَخِيْهِ ۭ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ ۭ مَا كَانَ لِيَاْخُذَ اَخَاهُ فِيْ دِيْنِ الْمَلِكِ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ ۭ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۗءُ ۭ وَفَوْقَ كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ 76
بدأ
يقال : بَدَأْتُ بکذا وأَبْدَأْتُ وابْتَدَأْتُ ، أي : قدّمت، والبَدْءُ والابتداء : تقدیم الشیء علی غيره ضربا من التقدیم . قال تعالی: وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسانِ مِنْ طِينٍ [ السجدة/ 7]
( ب د ء ) بدء ات
بکذا وابتدءات میں نے اسے مقدم کیا ۔ اس کے ساتھ ابتدا کی ۔ البداء والابتداء ۔ ایک چیز کو دوسری پر کسی طور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–104
2 ؎ تو اور کوئی سامان بنیامین کے روکنے کا کردیتا 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–76
فَلَمَّا جَھَّزَھُمْ بِجَھَازِھِمْ جَعَلَ ا لسِّقَایَۃَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْہِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُھَا الْعِیْرُ اِنَّکُمْ لَسٰرِقُوْنَ ۔ قَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَیِھْمْ مَّاذَا تَفْقِدُوْنَ ۔ قَالُوْا نَفْقِدُصُوَاعَ الْمَلِکِ وَلِمَنْ جَآئَ بِہٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّاَنَا بِہٖ زَعِیْمٌ۔ قَالُوْا تَاللّٰہِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَمَا کُنَّا سٰرِقِیْنَ ۔ قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُہٗٓ اِنْ کُنْتُمْ کٰذِبِیْنَ ۔ قَالُوْا جَزَآؤُہٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِہٖ فَھُوَجَزَآؤُہٗ ط کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ ۔ فَبَدَاَبِاَوْعِیَتِھِمْ قَبْلَ وِعَآئِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ قافلے والوں کا انتظامیہ کو جواب اور حلف۔
قافلے والے رک کر کہنے لگے کہ جناب آپ کو معلوم ہے کہ ہم چوری کرنے نہیں آئے۔ ہم تو بھوک کے مارے ہوئے اپنے وطن سے آپ کے ملک میں غلہ لینے کے لیے آئے ہیں۔ ہمارا چوری چکاری سے کیا تعلق۔ لیکن انتظامیہ کے لوگ تلاشی لینے کے سوا کسی دلیل کو نہیں مانتے۔ یہ بیچارے قسم پر قسم اٹھائے جا رہے ہیں کہ یقین کرو کہ ہم نے چوری نہیں کی۔ ہمارا خاندان ایسا ویسا نہیں ہے ہم تو انبیاء کی اولاد ہیں۔ نہ معلوم انہوں نے کس کس انداز سے پولیس افسر کو یقین دلانے کی کوشش کی ہوگی۔ بالآخر پولیس والے کہنے لگے کہ چلو یہ بتاؤ کہ اگر تم جھوٹے ثابت ہوئے…
Read the full tafseer →76: فَبَدَاَبِاَوْ عِیَتِہِمْ قَبْلَ وِعَآ ئِ اَخِیْہِ (پس اس نے شروع کی تلاشی ان کے تھیلوں سے اپنے بھائی کے تھیلہ سے پہلے) پس اس نے تلاشی ان کے تھیلوں سے شروع کی بنیامین کے تھیلے سے پہلے تاکہ الزام نہ آئے۔ جب اس کے تھیلے تک پہنچے تو ایک نے کہا میرا خیال تو نہیں کہ اس نے کچھ لیا ہو۔ انہوں نے کہا اللہ کی قسم ہم اس کو تلاشی سے مستثنیٰ نہیں رہنے دیں گے اس میں آپ کے اور ہمارے لئے تسلی ہے۔ ثُمَّ اسْتَخْرَجَھَا (پھر پیمانہ برآمد کرلیا) ھاؔ کی ضمیر صاع کی طرف راجع ہے مِنْ وِّعَآئِ اَخِیْہِ (اپنے بھائی کے سامان والے تھیلے سے) بار بار صاع کی طرف ضمائر لائے پھر مؤنث ضمیرلائے تاکہ تانیث سقایۃؔ پر دلالت…
Read the full tafseer →76۔” فبدا ً باوعیتھم “ تہمت کو دور کرنے کے لیے ” قبل وعاء اخیہ “ ان سب کے سامان کی باری باری تلاشی لی گی ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں ہمیں یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ وہ جس کا سامان کھول کر اس میں دیکھتے تو اللہ تعالیٰ سے گناہ کی معافی مانگتے کہ ان پر تہمت لگائی ہے۔ یہاں تک کہ صرف بنیا مین باقی رہ گئے تو کہا میرا خیال نہیں کہ اس نے وہ پیالہ لیا ہوگا تو ان کے بھائیوں نے کہا اللہ کی قسم ! آپ ان کے سامان کو بھی ضرور دیکھیں کیونکہ اس سے تمہارے اور ہمارے دلوں کو اطمینان ہوجائے گا ۔ جب انہوں نے بنیا مین کا سامان کھولا تو اس سے پیالا نکال لیا تو یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے ۔ ثم استخر جھا من وعاء اخیہ “ ”…
Read the full tafseer →76۔ جس تدبیر کا اوپر ذکر ہوا اس تدبیر سے بنیامین نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو چھوڑ کر جانے کا افسوس ظاہر کیا بلکہ یہ کہا کہ میں تم کو چھوڑ کر نہ جاؤں گا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دل میں یہ باتیں چھپا دینے کا حیلہ ڈالا اور اس حیلہ کے بعد بھی بنیامین کا مصر میں رہنا مشکل تھا کیوں کہ بادشاہ مصر کے رواج سے چور کی سزا یہ تھی کہ چور کو کچھ کوڑے مارے جاتے تھے اور چوری کی چیز کی دوگنی قیمت بطور جرمانہ کے چور سے وصول کی جاتی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دل میں ڈال دیا کہ وہ اپنے بھائیوں سے پوچھوادیں کہ اگر تم میں سے کوئی چور نکل آیا تو آخر اس کی کیا…
Read the full tafseer →(آیت) ” پھر انہوں نے اپنے بھائی کے سامان سے پہلے ان کے سامان کو دیکھنا شروع کیا۔ “ یعنی تلاشی لینے والے نے پہلے یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی خرجیوں کی تلاشی لی، تاکہ وہ شک زائل ہوجائے کہ سب کچھ قصداً کیا گیا ہے۔ (آیت) ” پھر “ یعنی جب بھائیوں کی خرجیوں سے کچھ نہ ملا، تو (آیت) ” اس برتن کو نکال لیا اپنے بھائی کی خرجی سے “ یعنی حقیقت واقعہ کی رعایت رکھتے ہوئے (آیت) یا (آیت) نہیں کہا۔
اس طرح یوسف (علیہ السلام) کے اس منصوبے کی تکمیل ہوگئی جس کے مطابق وہ اپنے بھائی کو اس طرح اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے کہ ان کے بھائیوں کو اصل صورت حال کا علم نہ ہو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اس طرح تدبیر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–80
قول باری ہے (قالو جزاء ہ من وجد فی رحلہ فھو جزاء ہ۔ انہوں نے کہا ” اس کی سزا ؟ جس کے سامان سے یہ چیز نکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے “ ) حسن، ابو اسحاق، معمر اور سدی کا قول ہے کہ اس کے ہاں یہ دستور تھا کہ وہ چور کو غلام بنا لیا کرتے تھے۔ اس طرح ترتیب عبارت یہ ہوگی۔ اس کی سزا یہ ہے کہ جس شخص کے سامان سے وہ چیز برآمد ہوجائے گی اسے غلام بنا کر رکھ لیا جائے گا۔ ہمارے نزدیک ایسے شخص کی یہی سزا ہے جس طرح تمہارے نزدیک اس کی یہی سزا ہے “ جب وہ پیمانہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی کے سامان سے برآمد ہوگیا تو انہوں نے شرط کے مطابق اپنے بھائی کو چوری کی سزا میں پکڑ لیا، اس پر برادران یوسف نے…
Read the full tafseer →122۔ سامان کی تلاشی کا آغاز :
ان کے بھائی کے سامان سے پہلے تاکہ اس طرح کسی شبہ اور بدگمانی کی گنجائش نہ رہے اور کسی کو اعتراض کرنے کا کوئی موقع نہ مل سکے۔ اور اس طرح آخرکاروہ پیالہ ان کے بھائی کے سامان سے برآمد کرلیا۔ اور بھائیوں کی تجویز کے مطابق بنیامین کو اپنے پاس روک لیا۔ اور یہی اصل مقصود تھا اس ساری کارروائی کا۔ تاکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بنیامین کو وہیں روک لیا جائے۔ کسی کو اس اصل مقصدکا پتہ بھی نہ چلے اور مصر کے اس وقت کے کافرانہ قانون پر عمل کرنے کی نوبت بھی نہ آئے۔ سو اس طرح حضرت یوسف (علیہ السلام) کے مقصد کی تکمیل کے لیے قدرت کی طرف سے ان کے لیے اس تدبیرکا انتظام فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–101
یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں
تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔
1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–79
آیات 69 تا 79
اسرارومعاف
جب یوسف (علیہ السلام) کے حضور پہنچے تو انھوں نے سب کو عزت واحترام سے ٹھہرایا اور بنیامین کو الگ سے بتایا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں میں تمہارا بھائی یوسف ہوں اگر میری جدائی بھی بہت تکلیف دہ تھی جو بھائیوں کے ہاتھوں واقع ہوئی مگر اب ملاقات انشاء اللہ تعالیٰ سب غم رفع کردے گی اور وقت آنے پر والد گرامی کو بھی یہ خوشی نصیب ہوگی لیکن ابھی رب جلیل کو یہ منظور ہے کہ تم بھی یہیں رہ جاؤ ۔ شاید یہ غم کا پہاڑ ابھی قلب یعقوب (علیہ السلام) پہ ٹوٹنا باقی ہے ۔
تربیت قلوب
اس سے ثابت ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کا فعل تو اللہ کے حکم سے تھا جیسے آگے مذکور ہے اصل بات یہ ہے کہ اللہ کریم…
Read the full tafseer →ف 9 ۔ یا اس طرح ہم نے یوسف ( علیہ السلام) کے لئے (بنیامین کو رکھ لینے کی) تدبیر کی۔
1 ۔ کیونکہ مصر کا شاہی قانون یہ تھا کہ چور کو پیٹا جائے اور اس سے چوری کے مال کے علاوہ اتنا ہی مال اور لے کر اس شخص کو دے دیا جائے جس کا مال چوری ہوا ہے۔ اس قانون کی رو سے چور کو غلام نہیں بنایا جاسکتا تھا۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) ۔
2 ۔ یعنی یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خود بھائیوں سے دریافت کیا کہ اگر تم چور نکلو تو تمہاری کیا سزا ہونی چاہیے اور پھر یہ جو ان بھائیوں کی زبان سے نکلا کہ جس کے پاس ہوا سے غلام بنا لیا جائے، یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ اللہ نے ایسا چاہا اور اسی نے تدبیر فرمائی۔ ورنہ اگر اللہ نہ چاہتا تو…
Read the full tafseer →(12: 76) بدا۔ اس نے شروع کیا۔ اس نے ابتداء کی۔ بدء سے باب فتح ماضی واحد مذکر غائب۔ فعل میں فاعل کی ضمیر کا مرجع کون ہے۔ اس کے متعلق دو مختلف اقوال ہیں۔ (1) اس کا مرجع المؤذن ہے۔ پکارنے والا۔ یعنی جس نے پہلے پکار کر کہا تھا۔ ایتہا العیر انکم لسارقون (آیہ : 70) (2) اس کا مرجع حضرت یوسف نے خود ان کے متاع کی تلاشی لی۔ (یا اپنے سامنے دوسروں سے تلاشی کروائی۔ قبل وعاء اخیہ (اپنے بھائی کے سامان (کی تلاشی) سے پہلے) میں اخیہ کی ضمیر واحد مذکر غائب بلا شک وشبہ حضرت یوسف کی طرف راجع ہے۔ جس اس امر کو تقویت پہنچتی ہے کہ بدأ کے فاعل حضرت یوسف خود تھے۔
اوعیتہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ اوعیۃ وعاء کی جمع ہے وعاء اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 76
(اوی اس نے ٹھکانا دیا۔ (پاس بٹھایا) ( لاتبتئس تو رنجیدہ نہ ہو ) (جھز تیار کردیا) ( جھاز سامان ) (السقایۃ جس سے پانی پیا جاتا ہے۔ پیالہ ) (رحل سامان) ( اذن پکارا) ( موذن پکارنے والا ) (ایتھا اے العیر : قافلہ ) (سارقون چوری کرنے والے ) (اقبلوا وہ متوجہ ہوئے، سامنے ہوئے) ( ماذا حرف سوال، حرف استفہام) ( تفقدون تم گم پاتے ہو ) (صواع پیمانہ، جس سے چیزوں کو تولا جاتا ہے) ( جاء بہ جو اس کو لے آئے گا ) (حمل بعیر ایک اونٹ کا بوجھ، جتنا سامان ایک اونٹ پر آتا ہے) ( زعیم ذمہ داری لینے والا ) (تاللہ اللہ کی قسم) ( ماجئنا ہم نہیں آئے ) (ماجزاء کیا بدلہ ہے ؟ کیا سزا ہے ؟ ) (وجد…
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اسی طرح تعلیم کی تھی اور اسی تدبیر سے بنیامین مصر میں آگئے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کو آرزدہ پاکر بھائیوں سے علیحدہ بتلادیا تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو یہ بات زیبا نہ تھی کہ بادشاہ کے قاعدے کے موافق اپنے بھائی کو جو چور قرار پایا تھا سزا دے۔ اس واسطے کہ بادشاہ کا حکم چور کی نسبت یہ تھا کہ اسے مارو اور دونا مال لے لینا مقرر تھا۔ یہ بات خدا کی مشیت سے ہوئی کہ ان کے دل میں ڈال دیا کہ سزا بھائیوں سے دریافت کریں اور ان کے دل میں یہ ڈالا وہ اپنی سلطنت کے مطابق جواب دیں۔ پھر فرمایا کہ خدا نے جو چاہا یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ وہ کیا ہم…
Read the full tafseer →[24] مصری قانون میں چوری کی سزا غلامی نہیں جرمانہ و تازیانہ تھیں۔
[25] یعنی اللہ نے محض اپنی مشیت تکوینی سے یہ بات شاہی کارندوں کے دل میں ڈال دی کہ خود انہوں نے برادران یوسف (علیہ السلام) سے ان کے ہاں کے قانون کی بابت سوال کرلیا اور اللہ ہی نے بھائیوں کے دل میں بھی یہ ڈال دیا کہ اسرائیلی شریعت کے مطابق جواب دیں کہ ہم میں سے جس کی بھی چوری ثابت ہو اسے غلام بنا لو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–76
حضرت یوسف کا حسن تدبیر :
(ف 1) حضرت یوسف کے قصہ میں بات صرف یہ ہے کہ بنیامین آپ کا سگا بھائی ہے ، مدت کے بعد ملاقات ہوئی ہے ، آپ بوجہ بوجہ شفقت و محبت اسے اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں ، اس لئے بہانے سے اسے طلب کیا ہے ، جبرا وقہرا روک لینا مناسب نہیں ، اس لئے ایک تدبیر کی ہے جو نہایت حکیمانہ ہے ، اناج ناپنے کا پیمانہ بنیامین کی بوری میں رکھوا دیا ، اور اس کے بعد تلاش ہوئی ، برادران یوسف کو طلب کیا گیا اور کہا گیا کہ بادشاہ کا کٹورا غائب ہے ، کہیں تمہارے پاس تو نہیں ہے ، انہوں نے انکار کیا اور صفائی میں کہا تم ہماری حالات سے آگاہ نہیں ہو ، ہم چور نہیں اور نہ اس غرض سے آئے ہیں کہ ایسی بداخلاقی کا…
Read the full tafseer →76 ۔ لہٰذا ! اس تجویز کے بعد ان کے سامان کی تلاشی شروع ہوئی اور یوسف (علیہ السلام) نے بن یامین کے سامان اور ان کی بوری سے پہلے اپنے علاقی بھائیوں کی بوریوں کی تلاشی لی پھر اس برتن کو اپنے بھائی کی بوری میں سے نکال لیا اور مال مسروقہ برآمد کرلیا ہم نے اس طرح یوسف (علیہ السلام) کے لئے بن یامین کو روکنے کی تدبیر کی ورنہ یوسف (علیہ السلام) کو اپنے بھائی کو بادشاہ مصر کے قانون سے ہرگز نہ حاصل ک سکتا ۔ الایہ کہ خدا ہی کو منظور ہوتا ہم جس کو چاہتے ہیں ۔ علم میں مخصوص درجات تک بلند کردیتے ہیں اور پہنچا دیتے ہیں اور ہر صاحل علم سے اوپر ایک اور عالم موجود ہے ، یعنی اس خوبی اور حسن تدبیر سے بھائی کو…
Read the full tafseer →ف 5۔ یعنی یوسف (علیہ السلام) بڑے عالم عاقل تھے مگر پھر بھی ہمارے القاء تدبیر کے محتاج تھے وجہ یہ کہ کسی کا علم ذاتی اور محیط نہیں۔
Read the full tafseer →کارندوں نے سامان کی تلاشی شروع کردی تو ” صاع الملک “ بنیامین کے سامان سے نکل آیا
۔ 88 کارندوں نے جب یہ جواب سنا تو پہلے اس کے کہ وہ یوسف کے بھائی بنیامین کے سامان کی تلاشی کرتے دوسرے سارے بھائیوں کے سامان کی ایک ایک کر کے تلاشی لی لیکن ” صاع “ نہ نکلا اور پھر بالاخر جب بنیامین کے سامان کی تلاشی لی تو اس سے وہ (صاع “ نکل آیا۔ انہوں نے قافلہ کو واپس لوٹا لیا اور عزیز مصر یعنی یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں معاملہ پیش کردیا اور ساری صورت حال بھی ان کے سامنے رکھ دی اور پچھلی ساری باتیں جو کارندوں اور برادران یوسف کے درمیان ہوئی تھیں بیان کردیں۔ حضرت یوسف نے معاملہ کی نوعیت کو اچھی طرح سنا اور ہر…
Read the full tafseer →Said in verse 75 was: فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَاءِ أَخِيهِ , that is, to cover up the real plan, the state officials first searched through the baggage of all brothers. They did not open Benyamin's baggage first lest that causes any doubts.
Then, as said in the first sentence of the next verse (76): ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَاءِ أَخِيهِ , Benyamin's baggage was opened up last of all and recovered from it was the ` bowl of the king.' At that sight, all brothers were put to shame. They started chiding Benyamin for having disgraced them.
After that, it was said: كَذَٰلِكَ…
Read the full tafseer →59. Now let us consider the question: How did Allah directly support Prophet Joseph with His plan? It is obvious that the plan of placing the cup in Benjamin’s pack was thought out and executed by Joseph himself. And it is also obvious that the royal servants checked their packs as a matter of routine for such is the procedure that is generally followed on such occasions. There is nothing in this passage that might be called supernatural support by Allah except that the servants asked the brothers to prescribe the punishment for the thief, and they answered that he should be made a bondsman.…
Read the full tafseer →