Explained with ayahs 73–76
اپنے اوپر چوری کی تہمت سن کر برادران یوسف کے کان کھڑے ہوئے اور کہنے لگے تم ہمیں جان چکے ہو ہمارے عادات وخصائل سے واقف ہوچکے ہو ہم ایسے نہیں کہ کوئی فساد اٹھائیں ہم ایسے نہیں ہیں کہ چوریاں کرتے پھریں۔ شاہی ملازموں نے کہا اچھا اگر جام و بیمانے کا چور تم میں سے ہی کوئی ہو اور تم جھوٹے پڑو تو اس کی سزا کیا ہونی چاہئے ؟ جواب دیا کہ دین ابراہیمی کے مطابق اس کی سزا یہ ہے کہ وہ اس شخص کے سپرد کردیا جائے، جس کا مال اس نے چرایا ہے، ہماری شریعت کا یہی فیصلہ ہے۔ اب حضرت یوسف ؑ کا مطلب پورا ہوگیا۔ آپ نے حکم دیا کہ ان کی تلاشی لی جائے چناچہ پہلے بھائیوں کے اسباب کی تلاشی لی، حالانکہ معلوم تھا کہ ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
58۔ خیال رہے کہ یہ بھائی خاندان ابراہیمی کے افراد تھے لہذا انہوں نے چوری کے معاملہ میں جو قانون بیان کیا وہ شریعت ابراہیمی کا قانون تھا یعنی یہ کہ چور اس شخص کی غلامی میں دے دیا جائے جس کا مال اس نے چرایا ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) قَالُوْا جَزَاۗؤ ُ هٗ مَنْ وُّجِدَ فِيْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَاۗؤ ُ هٗ ۭكَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ یعنی برادران یوسف نے کہا کہ جس شخص کے سامان میں مال مسروقہ برآمد ہو وہ شخص خود ہی اس کی جزا ہے ہم چوروں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ شریعت یعقوب ؑ میں چور کی سزا یہ ہے کہ جس شخص کا مال چرایا ہے وہ شخص اس چور کو اپنا غلام بنا کر رکھے، سرکاری ملازمین نے اس طرح خود برادران یوسف سے چور کی سزا شریعت یعقوبی کے مطابق معلوم کر کے ان کو اس کا پابند کردیا کہ بنیامین کے سامان میں مال مسروقہ برآمد ہو تو وہ اپنے ہی فیصلہ کے مطابق بنیامین کو یوسف ؑ کے سپرد کرنے پر مجبور ہوجائیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–76
تفیسر آیات 70۔ تا 76:۔ فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِيْ رَحْلِ اَخِيْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَيَّــتُهَا الْعِيْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَقَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَيْهِمْ مَّاذَا تَفْقِدُوْنَ۔ قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَنْ جَاۗءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِيْرٍ وَّاَنَا بِهٖ زَعِيْمٌ۔ قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْاَرْضِ وَمَا كُنَّا سٰرِقِيْنَ۔ قَالُوْا فَمَا جَزَاۗؤُهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِيْنَ۔ قَالُوْا جَزَاۗؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِيْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَاۗؤُهٗ ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ۔ فَبَدَاَ بِاَوْعِيَتِهِمْ…
Read the full tafseer →75۔ 1 یعنی چور کو کچھ عرصے کے لئے اس شخص کے سپرد کردیا جاتا ہے جس کی اس نے چوری کی ہوتی تھی۔ یہ حضرت یعقوب ؑ کی شریعت میں سزا تھی، جس کے مطابق یوسف ؑ کے بھائیوں نے یہ سزا تجویز کی۔
75۔ 2 یہ قول بھی برادران یوسف ؑ ہی کا ہے، بعض کے نزدیک یہ یوسف ؑ کے مصاحبین کا قول ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم بھی ظالموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ لیکن آیت کا اگلا ٹکڑا کہ ' بادشاہ کے دین میں وہ اپنے بھائی کو پکڑ نہ سکتے تھے ' اس قول کی نفی کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
48: یعنی یعقوب ؑ کی شریعت میں یہی حکم ہے کہ جو چوری کرے، اسے گرفتار کرکے رکھ لیا جائے، اس طرح اللہ تعالیٰ نے خود ان بھائیوں سے یہ بات کہلوادی کہ چور کو یہ سزا ملنی چاہیے، چنانچہ جو سزا دی گئی وہ حضرت یعقوب ؑ کی شریعت کے مطابق دی گئی، ورنہ بادشاہ کے قانون میں چور کی پٹائی کی جاتی تھی، اور جرمانہ عائد کیا جاتا تھا، حضرت یوسف ؑ نے بھائیوں سے یہ سوال اس لئے فرمایا کہ انہیں حضرت یعقوب ؑ کی شریعت کے خلاف فیصلہ نہ کرنا پڑے اور بھائی کو اپنے پاس رکھنے کا موقع بھی مل جائے۔
Read the full tafseer →قالوا جزؤہ ۔۔۔۔۔۔ الظلمین “ انہوں نے کہا اس کی سزا ؟ جس کے سامان میں سے چیز نکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے۔ ہمارے ہاں تو ایسے ظالموں کو سزا دینے کا یہی طریقہ ہے ”۔
یہ سب گفتگو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی موجودگی میں ہو رہی تھی اور وہ یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہے تھے ۔ اس لیے کہ انہوں نے تلاشی کا حکم دیا اور ان کی دانش مندی نے انہیں یہ سمجھایا کہ دوسرے بھائیوں کے باروں کی تلاشی پہلے لی جائے تا کہ تفتیش اور تدبیر کے بارے میں کوئی شبہ نہ ہو۔
Read the full tafseer →1 یہ شریعت ابراہیمی میں چور کی سزا تھی۔ یعنی جس کے پاس سے چوری نکلے وہ ایک سال تک غلام ہو کر رہے۔ برادران یوسف نے اپنے قانون شرعی کے موافق بےتامل سزا کا ذکر کردیا۔ کیونکہ انھیں پورا یقین تھا کہ ہم چور نہیں۔ نہ چوری کا مال ہمارے پاس سے برآمد ہوسکتا ہے۔ اس طرح اپنے اقرار سے خود پکڑے گئے۔
Read the full tafseer →آیت 75 قَالُوْا جَزَاۗؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِيْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَاۗؤُهٗ ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ
انہوں نے کہا کہ ہاں اگر ایسا ہوا تو پھر جس کے سامان میں سے آپ کا جام نکل آئے سزا کے طور پر آپ لوگ اسے اپنے پاس رکھ لیں وہ آپ کا غلام بن جائے گا۔ ہمارے ہاں تو شریعت ابراہیمی کی رو سے چوری کے جرم کی یہی سزا رائج ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
70 کنعان میں چوری کی سزا :۔ برادران یوسف کہنے لگے ہم شریف خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ہم چور یا فسادی قسم کے لوگ نہیں۔ کنعان سے یہاں غلہ لینے آئے تھے اور اب غلہ لے کر واپس جارہے ہیں تعاقب کرنے والوں نے کہا : یہ ٹھیک ہے مگر تم اپنا سامان ہمیں دکھا دو ، اور یہ بھی بتادو کہ اگر بالفرض تم میں سے کسی کے سامان سے مسروقہ مال برآمد ہوجائے تو پھر اس کی کیا سزا ہے ؟
پیالہ کی برآمدگی :۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے ملک میں چور کو یہ سزا دی جاتی ہے کہ جس شخص کے سامان میں سے یا گھر سے مسروقہ مال برآمد ہوجائے تو جس کا مال چوری ہوا ہو، چور کو سال بھر کے لیے اسی کے حوالہ کردیا جاتا ہے۔ ضامن بولا ! ٹھیک ہے، ہمیں…
Read the full tafseer →139۔ یعنی ہماری شریعت اسرائیلی میں چور کی سزا یہی ہے توریت میں جو سزائیں درج ہیں، خیال رہے کہ وہ شریعت موسوی کی ہیں، شریعت اسرائیلی سے کئی سال بعد کی۔ (آیت) ” فھوجزآؤہ “۔ یعنی چوری کی سزا میں صاحب مال چور کو اپنا غلام بنا لے، والمعنی ان استعبادہ ھو جزاء ذلک الجرم (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–79
آیت نمبر 69 تا 79
ترجمہ : اور جب (برادران یوسف) یوسف کے حضور پہنچے تو (یوسف نے) اپنے بھائی (بنیامین) کو اپنے پاس ٹھہرایا اور کہا میں تیرا وہی بھائی ہوں (جو گم ہوگیا تھا) لہٰذا اب تم اس حرکت پر جو یہ ہم سے حسد کی بنا پر کرتے رہے ہیں رنجیدہ نہ ہو، اور اس سے یہ بھی کہہ دیا کہ تم اس کی خبر ان کو نہ دینا، اور دونوں نے اس بات پر اتفاق کرلیا کہ عنقریب کوئی ایسا حیلہ کیا جائیگا کہ اس کے ذریعہ اس کو اپنے پاس روک لے اور جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو سامان ٹھیک ٹھاک کرکے دیا تو اپنے بھائی بنیامین کے سامان میں پیالہ رکھ دیا وہ پیالہ سونے کا تھا اور اس پر جواہر جڑے ہوئے تھے، پھر ایک آواز دینے…
Read the full tafseer →قالوا جزاؤہ من وجد في رحلہ فھو جزاؤہ کذلک نجزی الظلمین انہوں نے جواب دیا :
اس (چور) کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان میں پیمانہ نکلے تو سامان والا ہی اس کا عوض ہے (یعنی اسی کو غلام بنا لیا جائے) اور ہم ظالموں (یعنی چوروں) کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔
حضرت یعقوب کی شریعت میں چور کی یہی سزا تھی کہ جب چوری ثابت ہوجائے تو چور کو صاحب مال کے سپرد کردیا جائے اور وہ چور کو اپنا غلام بنا لے۔ اس پر منادی نے کہا : اچھا ! تو تمہارے سامان کی تلاشی لی جائے گی۔
روایت میں آیا ہے کہ سرکاری آدمی ان سب کو لوٹا کرلے گئے اور حضرت یوسف نے سامان کی تفتیش کا حکم دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
(74۔ 75) حضرت یوسف ؑ کے نوکروں نے کہا کہ اگر تم جھوٹے نکلے تو پھر چور کی کیا سزا ہے، ان لوگوں نے جواب دیا کہ جس کے مال میں تمہاری گم شدہ چیز ہے وہی چور ہے اور اس کے لیے چوری کی سزا ہے (یعنی تم اسے اپنا غلام بنالینا) ہم لوگ اپنی سرزمین میں چوروں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →مَنْ وُّجِدَ فِيْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَاۗؤُهٗ : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب ؑ کے ہاں چور کی سزا یہ تھی کہ وہ مسروقہ چیز کے مالک کا ہمیشہ یا کچھ مدت کے لیے غلام یا قیدی بن جاتا۔ آیت میں مدت کی وضاحت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
آیت نمبر 73 تا 75
قولہ تعالیٰ : قالوا تاللہ لقد علمتم ماجئنالنفسد فی الارض روایت ہے کہ وہ کسی پر ظلم نہیں کرتے تھے اور نہ ہی کسی کی کھیتی کا
نقصان کرتے تھے انہوں نے اپنے اونٹوں کے مونہوں کو باندھا ہوا تھا تاکہ وہ لوگوں کی کھیتیوں کو خراب نہ کریں۔ پھر کہا : وما کنا سٰرقین روایت ہے کہ انہوں نے وہ سامان واپس لوٹا دیا جو ان کی خورجیوں میں تھا : تو اس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ جو آدمی حاصل شدہ مال واپس لوٹا دے وہ چور کیسے ہوسکتا ہے ؟
قالوا فما جزآؤہٓ ان کنتم کٰذبین معنی یہ ہوگا : اگر تمہارا جھوٹ ظاہر ہوجائے تو پھر ایسا کرنے والے کی سزا کیا ہوگی ؟ تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے جواب دیا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” اوی الیہ اخاہ “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے بنیامین کو اپنے ساتھ ملا لیا اور اس کو اپنے پاس ٹھہرایا (آیت) ” فلا تبتئس “ یعنی نہ غم کر اور نہ مایوس ہو اور (آیت ) ” فلما جھزھم بجھازہم “ جب ان کی ضرورت پوری کردی اور ان کا غلہ ناپ دیا۔ (آیت) ” جعل السقایۃ “ بادشاہ کا وہ پیالہ جس سے وہ شراب پیتا تھا (آیت) ” فی رحل اخیہ “ اپنے بھائی کی بوری میں رکھ دیا۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابن الانباری رحمہما اللہ نے المصاحف میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جعل السقایۃ “ وہ ایک پیالہ تھا ہر چیز جس میں پیا جائے وہ صواع…
Read the full tafseer →[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ جَزَاۗؤُهٗ : اس کا بدلہ ] [ مَنْ : وہ ہے ] [وُّجِدَ : وہ (پیالہ) پایا گیا ] [ فِيْ رَحْلِهٖ : جس کے تھیلے میں ] [ فَهُوَ : تو وہ ہی ] [جَزَاۗؤُهٗ : اس کا بدلہ ہے ] [ كَذٰلِكَ : اس طرح ] [نَجْزِي : ہم بدلہ دیتے ہیں ] [الظّٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والوں کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–76
برادران یوسف کے سامان کی تلاشی لینا اور بنیامین کے سامان سے پیمانہ نکل آنا اور اس کو بہانہ بنا کر بنیامین کو روک لینا
جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے خود ہی یہ کہہ دیا کہ جس کے سامان میں آپ لوگوں کا گمشدہ پیمانہ نکل آئے اس کی ذات ہی کو اس کے بدلہ میں غلام بنا لیا جائے اور یہ بھی کہہ دیا کہ ہم اسی طرح چور کو سزا دیا کرتے ہیں یعنی یہ اسی شریعت کے مطابق ہے جس پر ہم چلتے ہیں تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کے سامانوں کی تلاشی لینا شروع کردی ‘ پہلے دوسرے بھائیوں کے کجاو وں کو دیکھا پھر جب اپنے حقیقی بھائی کے کجا وہ کو ٹٹولا تو اس میں سے پیمانہ کو نکال لیا ‘ رکھا تو خود ہی تھا اور معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–87
بار دوم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولما دخلوا علی یوسف اوی الیہ اخاہ .... الیٰ .... عندہ انا اذا لظلمون
(ربط) یہاں تک برادران یوسف (علیہ السلام) کی پہلی بار آمد کا ذکر تھا اب آئندہ آیات میں ان کی دوسری بار آمد کا ذکر ہے اور جب بار دوم یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت کے مطابق گیارہ بھائی یعنی دس بھائی سابق مع بنیامین کے مختلف دروازوں سے مصر میں داخل ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور بنیامین کو پیش کرکے کہا کہ ہم آپ کے حکم کے مطابق اپنے اس علاتی بھائی کو اپنے ساتھ لائے ہیں جو آپ کے سامنے ہے یوسف (علیہ السلام) نے دو دو بھائیوں کو ایک ایک جگہ ٹھہرا دیا بنیامین اکیلے رہ…
Read the full tafseer →63:۔ انہوں نے کہا اگر تم جھوٹے ثابت ہوجاؤ اور تم ہی میں سے کوئی چور ہو تو پھر اس کی سزا کیا ہوگی۔ انہوں نے جواب دیا جس کے سامان سے پیمانہ برآمد ہو اسے غلام بنا لیا جائے اور ہمارے یہاں یہی دستور ہے۔ آل یعقوب (علیہ السلام) میں دستور تھا جو شخص چوری کرے وہ ایک سال تک صاحب مال کی غلامی کرے (مدارک) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–75
ربط آیات
حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا ذکر ہورہا ہے۔ دوسری دفعہ مصر جانے کے لیے انہوں نے باپ کو آمادہ کرلیا کہ وہ سب سے چھوٹے بھائی بن یامین کو بھی ہمراہ لے جائیں گے کیونکہ اس کی عدم موجودگی میں عزیز مصر انہیں اناج نہیں دیگا۔ چناچہ باپ سے عہد و پیمان کیے کہ وہ بن یامین کو بھی ضرور واپس لائیں گے ‘ چلتے وقت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کو بعض حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی نصیحت بھی کی کہ مصر میں داخل ہوتے وقت کسی ایک دروازے سے سب کے سب اکھٹے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔ مقصد یہ تھا کہ اکٹھا داخل ہونے کی صورت میں کوئی حادثہ پیش نہ آجائے یا کسی کی نظر نہ لگ جائے۔ اب…
Read the full tafseer →قَالُوْا جَزَاۗؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِيْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَاۗؤُهٗ ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ 75
وجد
الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه .
ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة اللہ تعالی، ومعرفة النّبوّة، وما ينسب إلى اللہ تعالیٰ من الوجود فبمعنی العلم المجرّد، إذ کان اللہ منزّها عن الوصف بالجوارح والآلات . نحو : وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] .
( و ج د ) الو جود
( ض) کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–75
1 ؎ نظرِ بد کے لحاظ سے بھی ایک دروازہ سے داخل ہونے کو منع کیا کیونکہ سب خوبصورت تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سب کے سب کے مل کر جانے میں خواہ مخواہ ایک چرچا ہوگا اور جو کچھ یوسف (علیہ السلام) ان سے سلوک کریں گے اس میں غمازوں کو موقع ملے گا کیونکہ مصری لوگ پردیسیوں سے گونہ نفرت رکھتے اور ان کا سلطنت سے مستفید ہونا پسند نہیں کرتے تھے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–76
فَلَمَّا جَھَّزَھُمْ بِجَھَازِھِمْ جَعَلَ ا لسِّقَایَۃَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْہِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُھَا الْعِیْرُ اِنَّکُمْ لَسٰرِقُوْنَ ۔ قَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَیِھْمْ مَّاذَا تَفْقِدُوْنَ ۔ قَالُوْا نَفْقِدُصُوَاعَ الْمَلِکِ وَلِمَنْ جَآئَ بِہٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّاَنَا بِہٖ زَعِیْمٌ۔ قَالُوْا تَاللّٰہِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَمَا کُنَّا سٰرِقِیْنَ ۔ قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُہٗٓ اِنْ کُنْتُمْ کٰذِبِیْنَ ۔ قَالُوْا جَزَآؤُہٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِہٖ فَھُوَجَزَآؤُہٗ ط کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ ۔ فَبَدَاَبِاَوْعِیَتِھِمْ قَبْلَ وِعَآئِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ قافلے والوں کا انتظامیہ کو جواب اور حلف۔
قافلے والے رک کر کہنے لگے کہ جناب آپ کو معلوم ہے کہ ہم چوری کرنے نہیں آئے۔ ہم تو بھوک کے مارے ہوئے اپنے وطن سے آپ کے ملک میں غلہ لینے کے لیے آئے ہیں۔ ہمارا چوری چکاری سے کیا تعلق۔ لیکن انتظامیہ کے لوگ تلاشی لینے کے سوا کسی دلیل کو نہیں مانتے۔ یہ بیچارے قسم پر قسم اٹھائے جا رہے ہیں کہ یقین کرو کہ ہم نے چوری نہیں کی۔ ہمارا خاندان ایسا ویسا نہیں ہے ہم تو انبیاء کی اولاد ہیں۔ نہ معلوم انہوں نے کس کس انداز سے پولیس افسر کو یقین دلانے کی کوشش کی ہوگی۔ بالآخر پولیس والے کہنے لگے کہ چلو یہ بتاؤ کہ اگر تم جھوٹے ثابت ہوئے…
Read the full tafseer →75: قَالُوْا جَزَآؤُہٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِہٖ (انہوں نے کہا اسکی سزا وہ خود ہے جس کے کجاوے میں وہ مل جائے) آل یعقوب میں چور کی سزا یہ تھی کہ ایک سال تک اپنا غلام بنا کر رکھے اسی لئے ان سے سوال کیا گیا فَھُوَ جَزَآؤُہٗ (پس وہ خود اس کا بدلہ ہے) یہ حکم کی وضاحت ہے کہ وہ چور بذات خود اس سلسلہ میں ماخوذ ہوگا۔ دوسرا نہیں نمبر 2۔ جَزَآؤُہُ مبتداء ہے اور جملہ شرطیہ اسکی خبر ہے۔ کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ (ہم ظالموں کو اسی طرح کی سزا دیا کرتے ہیں) ظالم سے یہاں چور مراد ہے اور سزا سے غلام بنانا۔
Read the full tafseer →تفسیر : 75۔” قالوا “ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی کہنے لگے ” جزائوہ من وجد فی رحلہ فھو جزائوہ “ پس چور اس کی جزاء ہے کہ یہ چور کو چوری کے مال کے ساتھ جس کی چوری کی ہے اس کے حوالے کردیا جائے گا وہ اس کو ایک سال غلام بنائے رکھے گا ۔ چور کے بارے میں یہی آل یعقوب (علیہ السلام) کا طریقہ تھا اور ملک مصر کا قانون چور کے بارے میں یہ تھا کہ چور کو مارا رجائے گا کہ وہ چوری کیے ہوئے مال کے دگنے مال کا تاوان دے گا تو یوسف (علیہ السلام) نے ارادہ کیا کہ اپنے بھائی کو اپنے پاس روک لیں تو فیصلہ کا اختیار انہی کو دے دیا تا کہ ان کے قانون کے مطابق اپنے بھائی کو روک سکیں ۔ ” کذالک نجزی الظالمین “ غیر کا مال چوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
73۔ 75۔ جب یوسف (علیہ السلام) کے خدمت گاروں نے ان کے بھائیوں کو پکار کر کہا کہ اے قافلہ والو ٹھہر جاؤ تم چور معلوم ہوتے ہو تو ان لوگوں نے تعجب کی راہ سے اپنے پروردگار کی قسم کھائی اور کہا کہ تم جانتے ہو کہ ہم یہاں فساد کرنے نہیں آئے ہیں اور نہ ہم چور ہیں کیونکہ تم اس سے پہلے ہمارے یہاں آنے کی وجہ سے ہماری حالت سے کسی قدر واقف ہوچکے ہو اور ہم جو دوبارہ آئے ہیں اس کی وجہ بھی تمہیں معلوم ہے کہ غلہ کی قیمت ہماری گٹھڑیوں میں چلی گئی تھی جس کے واپس کردینے کا ہمیں خیال تھا۔ یہ بات سن کر یوسف (علیہ السلام) کے خدمت گاروں نے کہا کہ اگر تم برخلاف اپنے قول کے چور ثابت ہوگئے تو تمہاری کیا سزا ہے انہوں نے…
Read the full tafseer →(آیت) ” انہوں نے کہا، اس کی جزا یہی ہے کہ جس کے سامان میں وہ پیالہ پایا جائے تو وہی، یعنی جس کے سامان میں موجود ہوگا (آیت) ” اس کی جزا ہے۔ “ یعنی جس کی چوری کی گئی ہے وہ اس کا مالک بن جائے گا، ان کے دین میں چوری کی سزا یہ تھی کہ اگر اس پر چوری کا الزام ثابت ہوجاتا ہے تو وہ مال مسروقہ کے مالک کی ملکیت بن جاتا ہے، اسی لئے انہوں نے کہا : (آیت) ” ہم ظالموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–80
قول باری ہے (قالو جزاء ہ من وجد فی رحلہ فھو جزاء ہ۔ انہوں نے کہا ” اس کی سزا ؟ جس کے سامان سے یہ چیز نکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے “ ) حسن، ابو اسحاق، معمر اور سدی کا قول ہے کہ اس کے ہاں یہ دستور تھا کہ وہ چور کو غلام بنا لیا کرتے تھے۔ اس طرح ترتیب عبارت یہ ہوگی۔ اس کی سزا یہ ہے کہ جس شخص کے سامان سے وہ چیز برآمد ہوجائے گی اسے غلام بنا کر رکھ لیا جائے گا۔ ہمارے نزدیک ایسے شخص کی یہی سزا ہے جس طرح تمہارے نزدیک اس کی یہی سزا ہے “ جب وہ پیمانہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی کے سامان سے برآمد ہوگیا تو انہوں نے شرط کے مطابق اپنے بھائی کو چوری کی سزا میں پکڑ لیا، اس پر برادران یوسف نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
121۔ تمہاری کیا سزا ہوگی اگر تم جھوٹے ثابت ہوگئے ؟ :
اپنی پاکیزگی اور براءت کے اس دعوے میں ؟ سو منادی کرنے والے نے جب یہ دیکھا کہ یہ لوگ جب اس تہدید و ملامت اور اس انعام و کفالت کے باوجود ماننے اور اقرار کرنے کو تیار نہیں ہوتے تو اس نے ان سے کہا کہ اچھا تو یہ بتلاؤکہ اگر تم لوگ اپنے اس دعوے میں جھوٹے نکلے اور تم سے مسروقہ مال برآمد ہوگیا تو پھر تمہاری کیا سزا ہوگئی ؟ تو انہوں نے کہا کہ جس کے سامان سے وہ کٹورا برآمد ہو اسی کو اس کے بدلے میں روک لیا جائے۔ ہم ایسے ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں تو ان کے جواب کے بعدسامان کی تلاشی شروع کردی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–101
یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں
تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔
1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–79
آیات 69 تا 79
اسرارومعاف
جب یوسف (علیہ السلام) کے حضور پہنچے تو انھوں نے سب کو عزت واحترام سے ٹھہرایا اور بنیامین کو الگ سے بتایا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں میں تمہارا بھائی یوسف ہوں اگر میری جدائی بھی بہت تکلیف دہ تھی جو بھائیوں کے ہاتھوں واقع ہوئی مگر اب ملاقات انشاء اللہ تعالیٰ سب غم رفع کردے گی اور وقت آنے پر والد گرامی کو بھی یہ خوشی نصیب ہوگی لیکن ابھی رب جلیل کو یہ منظور ہے کہ تم بھی یہیں رہ جاؤ ۔ شاید یہ غم کا پہاڑ ابھی قلب یعقوب (علیہ السلام) پہ ٹوٹنا باقی ہے ۔
تربیت قلوب
اس سے ثابت ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کا فعل تو اللہ کے حکم سے تھا جیسے آگے مذکور ہے اصل بات یہ ہے کہ اللہ کریم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
ف 8 ۔ مفسرین (رح) کہتے ہیں کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے خاندان میں چور کی یہی سزا مقرر تھی کہ وہ ایک برس تک اس شخص کی غلامی میں دیدیا جائے جس کا مال اس نے چرایا ہو۔ (فتح القدیر) ۔
Read the full tafseer →(12: 75) فہو جزاء ہ۔ وہ خود اپنی سزا ہے۔ یعنی چوری کی سزا میں خود چور صاحب ِ مال کا غلام بن جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 76
(اوی اس نے ٹھکانا دیا۔ (پاس بٹھایا) ( لاتبتئس تو رنجیدہ نہ ہو ) (جھز تیار کردیا) ( جھاز سامان ) (السقایۃ جس سے پانی پیا جاتا ہے۔ پیالہ ) (رحل سامان) ( اذن پکارا) ( موذن پکارنے والا ) (ایتھا اے العیر : قافلہ ) (سارقون چوری کرنے والے ) (اقبلوا وہ متوجہ ہوئے، سامنے ہوئے) ( ماذا حرف سوال، حرف استفہام) ( تفقدون تم گم پاتے ہو ) (صواع پیمانہ، جس سے چیزوں کو تولا جاتا ہے) ( جاء بہ جو اس کو لے آئے گا ) (حمل بعیر ایک اونٹ کا بوجھ، جتنا سامان ایک اونٹ پر آتا ہے) ( زعیم ذمہ داری لینے والا ) (تاللہ اللہ کی قسم) ( ماجئنا ہم نہیں آئے ) (ماجزاء کیا بدلہ ہے ؟ کیا سزا ہے ؟ ) (وجد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
جب یوسف (علیہ السلام) کے خدمت گاروں نے ان کے بھائیوں کو پکار کہا :'' تم چور معلوم ہوتے ہو '' تو انہوں نے قسم کھائی اور کہا کہ تم جانتے ہو کہ ہم یہاں فساد کرنے نہیں آئے ہیں اور نہ ہم چور ہیں، ہم پہلے بھی آچکے ہیں اب دوبارہ آئے ہیں۔ اس کی وجہ بھی تمہیں معلوم ہے کہ غلہ کی قیمت پہلی دفعہ ہماری گٹھڑیوں میں چلی گئی تھی جس کے واپس کردینے کا ہمیں خیال یہ تھا، یہ بات سن کر یوسف علیہ السلا کے خدمت گاروں نے کہا کہ : اگر تم برخلاف اپنے قول کے چور ثابت ہوگئے تو تمہاری کیا سزا ہے ''۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں سے جس کے پاس وہ برتن نکلے اسی کو سزا ملے، یعقوب (علیہ السلام) کی شریعت میں چور کو ایک سال تک غلام بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
[23] یہ شریعت اسرائیلی میں چور کی سزا تھی۔ یعنی جس کے پاس سے چوری کا مال نکلے وہ ایک سال تک غلام ہو کر رہے۔ برادران یوسف (علیہ السلام) نے بےتامل سزا کا ذکر کردیا کیونکہ انھیں پورا یقین تھا کہ وہ چور نہیں ہیں اور نہ چوری کا مال ان کے پاس سے برآمد ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–76
حضرت یوسف کا حسن تدبیر :
(ف 1) حضرت یوسف کے قصہ میں بات صرف یہ ہے کہ بنیامین آپ کا سگا بھائی ہے ، مدت کے بعد ملاقات ہوئی ہے ، آپ بوجہ بوجہ شفقت و محبت اسے اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں ، اس لئے بہانے سے اسے طلب کیا ہے ، جبرا وقہرا روک لینا مناسب نہیں ، اس لئے ایک تدبیر کی ہے جو نہایت حکیمانہ ہے ، اناج ناپنے کا پیمانہ بنیامین کی بوری میں رکھوا دیا ، اور اس کے بعد تلاش ہوئی ، برادران یوسف کو طلب کیا گیا اور کہا گیا کہ بادشاہ کا کٹورا غائب ہے ، کہیں تمہارے پاس تو نہیں ہے ، انہوں نے انکار کیا اور صفائی میں کہا تم ہماری حالات سے آگاہ نہیں ہو ، ہم چور نہیں اور نہ اس غرض سے آئے ہیں کہ ایسی بداخلاقی کا…
Read the full tafseer →75 ۔ انہوں نے کہا جس کے سامان میں سے مال مسروقہ برآمد ہو اس کی سزا یہی کہ وہی اس کی جزا اور بدلہ اور ہم تو ظالموں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں ۔ یعنی چوری کی سزا یہ کہ وہ ایک مدت تک اس کا غلام رہے جس کے ہاں اس نے چوری کی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے دین میں تھا کہ چور غلام ہو رہے ایک برس تک ۔ 12
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی چوری کرنے کے عوض میں خود اس کی ذات کو صاحب مال اپناغلام بنالے۔
4۔ یعنی ہماری شریعت میں یہی مسئلہ اور عمل ہے۔
Read the full tafseer →برادران یوسف نے کارندوں کو جواب دیا کہ چور تمہارا غلام ہو گا
۔ 87 برادران یوسف نے جواب دیا کہ وہ آپ اپنی سزا ہے یعنی وہ تمہارے حوالے کردیا جائے گا تاکہ وہ اپنے جرم کی پاداش میں پکڑا جائے اور ہم اپنے ہاں ایسی زیادتی کرنے والوں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →The answer given was: قَالُوا جَزَاؤُهُ مَن وُجِدَ فِي رَحْلِهِ فَهُوَ جَزَاؤُهُ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِين ، that is, the brothers of suf said: ` It's punishment is that he, in whose baggage it is found, shall him-self be the punishment. This is how we punish the wrongdoers.'
The sense of the statement is that the punishment for theft in the Shari` ah of Sayyidna Ya` qub11 allowed the person whose property had been stolen to take the thief as his slave. Thus, the state functionaries made the brothers of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) to tell them the punishment of a thief as in…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
58. It should be kept in mind that these people were the descendants of Prophet Abraham. Therefore they put forward his law regarding a thief, that is, the thief should be made the bondsman of the one whose goods he had stolen.
Read the full tafseer →