Explained with ayahs 1–4
تعارف قرآن حکیم
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جو حروف سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان کی پوری تفصیل اس تفسیر کے شروع میں سورة بقرہ کے ان حروف کے بیان میں گزر چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں فرمان ہے کہ یہ قرآن لفظوں میں محکم اور معنی میں مفصل ہے۔ پس مضمون اور معنی ہر طرح سے کامل ہے۔ یہ اس للہ کا کلام ہے جو اپنے اقوال و احکام میں حکیم ہے۔ جو کاموں کے انجام سے خبردار ہے۔ یہ قرآن اللہ کی عبادت کرانے اور دوسروں کی عبادت سے روکنے کے لیے اترا ہے۔ سب رسولوں پر پہلی وحی توحید کی آتی رہی ہے۔ سب سے یہی فرمایا گیا ہے کہ لوگ اللہ کی عبادت کریں۔ اس کے سوا اور کسی کی پرستش نہ کریں۔ پھر فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة هُوْد 1
”کتاب“ کا ترجمہ یہاں انداز بیان کی مناسبت سے ”فرمان“ کیا گیا ہے۔ عربی زبان میں یہ لفظ کتاب اور نوشتے ہی کے معنی میں نہیں آتا بلکہ حکم اور فرمان شاہی کے معنی میں بھی آتا ہے اور خود قرآن میں متعدد مواقع پر یہ لفظ اسی معنی میں مستعمل ہوا ہے۔
سورة هُوْد 2
یعنی اس فرمان میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں وہ پکی اور اٹل ہیں۔ خوب جچی ٹلی ہیں۔ نری لفاظی نہیں ہے خطابت کی ساحری اور تخیل کی شاعری نہیں ہے۔ ٹھیک ٹھیک حقیقت بیان کی گئی ہے اور اس کا ایک لفظ بھی ایسا نہیں جو حقیقت سے کم یا زیادہ ہو۔ پھر یہ آیتیں مفصل بھی ہیں، ان میں ایک ایک بات کھول کھول کر واضح طریقے سے ارشاد ہوئی ہے۔ بیان الجھا…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں متذکرہ آیات کا بیان ایک سب سے اہم اور مقدم چیز سے شروع ہوتا ہے یعنی حق تعالیٰ کی توحید، ارشاد ہوتا ہے (آیت) اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ یعنی ان آیات میں جو مضامین بیان کئے گئے ہیں ان میں سب سے اہم اور مقدم یہ ہے کہ ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت اور پرستش نہ کی جائے۔
اس کے بعد ارشاد فرمایا (آیت) اِنَّنِيْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ، یعنی ان آیات میں رسول کریم ﷺ کو یہ حکم فرمایا ہے کہ وہ سارے جہاں کے لوگوں سے کہہ دیں کہ میں اللہ کی طرف سے تم کو ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں، مراد یہ ہے کہ نافرمانی اور اپنی ناجائز خواہشات کا اتباع کرنے والوں کو اللہ کے عذاب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ 4۔ الۗرٰ ۣ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ۔ الرا اس سورة کا قرآنی نام ہے۔ یہی نام پچھلی سورة کا بھی ہے اور یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ عمود و مضمون کے اعتبار سے دونوں سورتیں باہم ملتی جلتی ہیں چنانہ آگے آپ دیکھیں گے کہ ان دونوں میں فرق صرف اجمال و تفصیل کا ہے۔ پچھلی سورة میں جو پہلو مجمل رہ گئے تھے وہ اس میں وضاحت سے سامنے آگئے ہیں۔ یہ فرق یوں تو ہر پہلو میں نمایاں ہے لیکن خاص طور پر واقعات کے بیان میں یہ فرق بہت زیادہ نظر آئے گا۔ اجمال کے بعد تفصیل کا یہ طریقہ، جو قرآن نے اختیار کیا ہے، یہ صرف تنوع کی خاطر نہیں اختیار کیا ہے بلکہ تعلیم و تربیت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
اس سورت میں بھی ان قوموں کا تذکرہ ہے جو آیات الہی اور پیغمبروں کی تکذیب کر کے عذاب الہی کا نشانہ بنیں اور تاریخ کے صفحات سے یا تو حرف غلط کی طرح مٹ گئیں یا اوراق تاریخ پر عبرت کا نمونہ بنی موجود ہیں۔ اسی لیے حدیث میں آتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ کیا بات ہے آپ بوڑھے سے نظر آتے ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے سورة ہود، واقعہ، عم یتسآءلون، اور اذالشمس کورت وغیرہ نے بوڑھا کردیا ہے۔ (ترمذی)
1۔ 1 یعنی الفاظ و نظم کے اعتبار سے اتنی محکم اور پختہ ہیں کہ ان کی ترکیب اور معنی میں کوئی خلل نہیں۔
1۔ 2 پھر اس میں احکام و شرائع، مواعظ و قصص، عقائد و ایمانیات اور آداب و اخلاق جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1: جیسا کہ پچھلی سورت میں عرض کیا گیا، ان حروف کو مقطعات کہتے ہیں، اور ان کے صحیح معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہیں
2: مضبوط کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اس میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں وہ دلائل کے لحاظ سے مکمل ہیں اور ان میں کوئی نقص نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
درس نمبر 99 ایک نظر میں
یہ پہلا سبق ایک مقدمے کی شکل میں ہے اس کے بعد قصص کا حصہ اور آخر میں نتائج اور تبصرے تبصرے ہیں۔ اس تمہیدی حصے میں وہ تمام اساسی باتیں کہی گئیں ہیں جو اسلامی نظریہ حیات کی اساسی باتیں ہیں اور بنیادی حقائق ہیں۔ یعنی اطاعت اور بندگی صرف اللہ وحدلہ لا شریک کی ہوگی اور دین صرف اللہ کا ہوگا۔ اور یہ اعتقاد رکھنا لازم ہوگا کہ ایک دن ہم نے جزاء و سزا اور حساب و کتاب کے لیے اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اور یہ حساب و کتاب دنیا میں اچھے اور برے اعمال کی اساس پر ہوگا۔ کیونکہ دنیا دار الامتحان ہے۔ اس ابتدائیہ میں اللہ کی معرفت اور اللہ کی صفات کو اس زاویہ سے بیان کیا گیا ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →4 یعنی اس محکم و مفصل کتاب کے نازل کرنے کا بڑا مقصد یہ ہے کہ دنیا کو صرف خدائے واحد کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے اور اس کے طریقے سکھائے جائیں۔ اسی عظیم و جلیل مقصد کے لیے پہلے انبیاء تشریف لائے تھے۔ (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ ) 21 ۔ الانبیآء :25) (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ) 16 ۔ النحل :36)
5 یعنی جو کتاب کو مانے اور شرک چھوڑ کر خدائے واحد کی عبادت کرے اسے فلاح دارین کی خوشخبری سناتے ہیں۔ جو نہ مانے اور کفر و شرک اختیار کرے اس کو…
Read the full tafseer →آیت 2 اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ ۭ اِنَّنِيْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ
انبیاء ورسل کے لیے قرآن میں بشیر اور نذیر کے الفاظ بار بار آتے ہیں۔ جیسے سورة النساء میں فرمایا : رُسُلاً مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لِءَلاَّ یَکُوْنَ للنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌم بَعْدَ الرُّسُلِط وَکَان اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا اور سورة الانعام میں فرمایا : وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ الاَّ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ آیت 48
Read the full tafseer →2 فساد فی الارض کا علاج صرف دعوت توحید ہے :۔ یہ آیت بھی لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ ہی کی تفصیل ہے کہ جب اللہ کے سوا کوئی الٰہ یعنی معبود برحق موجود نہیں تو عبادت بھی اسی کی کی جانی چاہئے یہی وہ حکم ہے جس سے تمام انبیاء نے اپنی دعوت کا آغاز کیا ہے اور یہ تو واضح ہے کہ تمام انبیاء کی بعثت ایسے اوقات میں ہوتی رہی جب تمام آباد دنیا ظلم و جور سے بھر جاتی تھی یہ ظلم و جور خواہ کفر و شرک جیسے گندے عقائد سے تعلق رکھتا ہو خواہ کردار و اعمال سے۔ بہرحال فساد فی الارض کی جتنی بھی قسمیں ہیں ان سب کا واحد اور بنیادی علاج یہی ہے کہ انھیں ایک اللہ کی خالصتاً عبادت کی دعوت دی جائے اور ان میں اللہ تعالیٰ کی صحیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
3۔ یعنی مدت حیات تک، آیت سے صاف معلوم ہورہا ہے کہ تقوی و طہارت کی زندگی اختیار کرنے سے دنیا کا عیش کچھ گھٹ نہیں جاتا بلکہ یہ صالحانہ زندگی حصول راحت و سکون میں اور معین ہی ہوتی ہے۔ (آیت) ” ان ستغفرواربکم “۔ یعنی کفر وشرک وغیرہ کے گناہوں سے معافی چاہو۔ اور ایمان صحیح اختیار کرو، (آیت) ” ثم توبوا الیہ “۔ یہ رجوع اللہ کی طرف طاعت، عبادت عمل صالح کے ذریعہ سے رہنا چاہیے۔ (آیت) ” یمتعکم متاعا حسنا الی اجل مسمی “۔ اس سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ نظام صالح کے ماتحت صالحانہ زندگی گذارنا دنیوی عیش و راحت کا بھی سبب بن جاتا ہے۔
4۔ (آخرت میں) یعنی جو عالی ہمت طالبان حق ہیں، انہیں آخرت میں مرتبے بھی انہی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
آیت نمبر 1 تا 5
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان بڑا رحم والا ہے الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیات عجیب نظم اور انوکھے معانی کے ذریعہ محکم کی گئی ہیں، پھر حکیم باخبر یعنی اللہ کی طرف سے احکام اور واقعات اور نصائح کے اعتبار سے صاف صاف بیان کی گئی ہیں، یہ کہ اللہ کے سوا کسی کو بندگی نہ کرو میں اس کی طرف سے تم کو عذاب سے ڈرانے والا ہوں اگر تم کفر کرو گے اور ثواب کی خوشخبری دینے والا ہوں اگر تم ایمان لاو گے اور یہ کہ تم اپنے رب سے شرک سے مغفرت طلب کرو پھر طاعت ل کے ذریعہ اس کی طرف رجوع کرو وہ دنیا میں تم کو معینہ مدت تک اچھا سامان…
Read the full tafseer →الا تعبدوآ الا اللہ انني لکم منہ نذیر وبشیر۔ کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو۔ میں اس کی طرف سے (ایمان نہ لانے والوں کو عذاب سے) ڈرانے والا اور (ایمان دار نیکوکاروں کو نجات وثواب کی) خوشخبری دینے والا ہوں۔
یعنی شرک کے عذاب سے ڈرانے والا اور توحید کے ثواب کی بشارت دینے والا ہوں۔
Read the full tafseer →(2) جس نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ اسکے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کی جائے اور جو اس کی عبادت کرتا ہے اور جو عبادت نہیں کرتا اس کو ان سب کی پوری خبر ہے اور اس کا بڑا مقصد یہی ہے کہ تم توحید خداوندی کو مانو اور میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوزخ سے ڈرانے والا اور جنت کی خوشخبری سنانے والا ہوں۔
Read the full tafseer →اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ : یعنی یہ قرآن اس لیے نازل کیا گیا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، بلکہ ہر رسول کو اللہ تعالیٰ نے اسی لیے بھیجا، فرمایا : (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ) [ الأنبیاء : 25 ] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“ سورة نحل (36) میں بھی ہر رسول کے بھیجنے کا مقصد ایک اللہ کی عبادت کا حکم اور طاغوت سے اجتناب کی تاکید بیان فرمایا ہے۔
اِنَّنِيْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
آیات نمبر 1 تا 4
اللہ تعالیٰ کا ارشاد الٓرٰ اس کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ کتٰبٌسے مراد ھذا کتاب ہے۔ احکمت اٰیٰتہٗ یہ محل رفع میں ہے کتاب کی صفت ہے۔ احکمت اٰیٰتہٗ کے معنی کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس میں سب سے عمدہ قول حضرت قتادہ کا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اس سارے کے سارے کو محکم بنا دیا گیا ہے نہ اس میں کوئی خلل ہے اور نہ ہی یہ باطل ہے۔ الاحکام سے مراد کلام کا فساد سے محفوظ ہوتا ہے یعنی اس کی نظم، نظم محکم ہے نہ اس میں تناقض ہے اور نہ کوئی خلل۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا کہ اس سے مراد ہے کہ کسی کتاب نے اس کو منسوخ نہیں کیا بخلاف تورات اور انجیل کے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ اس کی بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الٓرکتب احکمت ایتہ “ فرمایا یہ سب آیات مکی ہیں اور محکم ہیں یعنی سورة ھود (آیت) ” ثم فصلت “ یعنی پھر محمد ﷺ کا ذکر کیا گیا اور اس میں فیصلہ فرمایا آپ ﷺ اور آپ کے مخالفین کے درمیان اور ساری آیات کو دو فریقوں کی مثل پڑھا پھر ذکر کیا گیا قوم نوح کا پھر قوم ھود کا یہ تفصیل ہے اس کی اور اس کا اصل محکم ہے زید بن اسلم نے کہا کہ حضرت ابی ؓ اسی طرح کہتے تھے۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم ابوالشیخ رحمہم اللہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” کتب احکمت ایتہ ثم فصلت “ کے بارے میں فرمایا کہ مستحکم کیا گیا ہے ساتھ امر ونہی کے…
Read the full tafseer →اَلَّا تَعْبُدُوْٓا [ کہ تم لوگ بندگی مت کرو ] اِلَّا [مگر ] اللّٰهَ ۭ [ اللہ کی ] اِنَّنِيْ [ بیشک میں ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ] مِّنْهُ [ اس (کی طرف ) سے ] نَذِيْرٌ [ایک خبر دار کرنے والا ہوں ] وَّبَشِيْرٌ [ اور ایک بشارت دینے والا ہوں ]
نوٹ ۔ 1: آیت 2: 78 کی لغت میں لفظ ” امۃ “ کے دو مفہوم دئیے گئے ہیں ۔ (1) دین (2) کسی دین کے پیروکار لوگ ۔ اب نوٹ کرلیں کہ اس کا ایک تیسرا مفہوم بھی ہے ۔ کسی دین یا اس کے پیروکاروں کے عروج کی مدت یا عرصہ۔ اس مفہوم میں یہ لفظ قرآن مجید میں دو جگہ آیا ہے ۔ ایک زیر مطالعہ آیت ۔ 8 اور پھر سورة یوسف کی آیت ۔ 45 میں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور اس کے حضور توبہ کرنے پر انعام کا وعدہ اور اعراض کرنے والوں کیلئے وعید
یہاں سے سورة ہود شروع ہے اس کا بیشتر حصہ (از رکوع 3 تا رکوع 8) متعدد حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی قوموں کے واقعات پر مشتمل ہے یہ قومیں ‘ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی اور ایمان قبول نہ کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئیں ‘ ان کے واقعات میں امت حاضرہ کیلئے بڑی عبرت ہے ‘ ان واقعات کے شروع کرنے سے پہلے توحید کی دعوت دی ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق وایجاد کا اور منکرین کی ہٹ دھرمی کا تذکرہ فرمایا ہے آخرت کے عذاب سے ڈرایا اور اہل ایمان کو بشارت دی ہے۔ ارشاد فرمایا کہ یہ کتاب ایسی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة ھود
اثبات حقانیت قرآن و توحید ورسالت وتذکیر آخرت
الرا۔ کتب احکمت ایتہ۔۔ الی۔۔ انہ علیم بذات الصدور
(ربط): اول قرآن حکیم کا منزل من اللہ ہونا بیان کیا کہ اس کتاب کے نزل کرنے سے مقصود یہ ہے کہ تم ایک اللہ کی عبادت کرو پھر آں حضرت ﷺ کا مرسل من اللہ وہنا بیان کیا کہ آپ کو بشارت اور آخرت اور قیامت کو یاد دلایا جس دن بندوں کو ان کے اعمال کی جزا وسزا ملے گی۔ تاکہ پہلے سے تیاری کرلیں۔ اور چونکہ جزا وسزا کے لیے علم کامل اور قدرت کاملہ کا ہونا ضروری ہے کہ حاکم کو مجرم کے جرم کا علم ہو اور اس کے سزا دینے پر اس کو قدرت اور اختیار بھی ہو اس لیے الی اللہ مرجعکم کے بعد وھو علی کل شیئ قدیر۔ سے اپنی قدرت…
Read the full tafseer →5: یہ پہلا دعوی ہے یعنی یہ سورت جس مسئلہ کی تفصیل کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور غیر اللہ کو مت پکارو۔ اَنْ سے پہلے حرف جار محذوف ہے امام ابن جریر، کسائی اور فراء کے نزدیک اصل میں بِاَلَّا تھا اور جار مجرور فُصِّلَتْ کے متعلق ہے اور مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب مسئلہ توحید اور نفی شرک کی تفصیل ہے ثم فصلت بالا تعبدوا الا اللہ وحدہ لا شریک لہ وتخلعوا الالھۃ والانداد (ابن جریر ج 11 ص 180) قال الکسائی والفراء ای بالا۔ ای احکمت ثم فصلت بالا تعبدوا الا اللہ اِنَّنِیْ لَکُمْ مِّنْہُ الخ (قرطبی ج 9 ص 3) ۔ امام زجاج فرماتے ہیں اَنْ سے پہلے لام تعلیلیہ مقدر ہے ای احکمت ثم فصلت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة ہود ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے عظیم رسول تھے جو حضرت نوع ح کے بعد قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے ، اس سورة میں آپ کی تبلیغ کے حالات بیان ہوئے ہیں ، اس لحاظ سے اس سورة کا نام آپ کے نام پر سورة ہود رکھا گیا ہے۔
گذشتہ سورة یونس کی طرح یہ بھی مکی سورة ہے۔ سورة یونس اور سورة ہود ہجرت سے پہلے مکی زندگی کی آخری سورتیں ہیں اور ان کا زمانہ نزول قریب قریب ہی ہے۔ اس سورة مبارکہ کی ایک سو تیئس آیات اور دس رکوع ہیں۔ ا س میں ایک ہزار چھو سو پچیس کلمات اور چھ ہزار نو سو پانچ سو پانچ حروف ہیں۔
مضامین سورة
اس سورة کا مرکزی مضمون دعوت الی التوحید ہے۔ اس کے…
Read the full tafseer →اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللہَ 0 ۭ اِنَّنِيْ لَكُمْ مِّنْہُ نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ 2 ۙ
عبادت
العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان :
عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود .
وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] .
( ع ب د ) العبودیۃ
کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : الر اسم ہے اس سورة کا مبتداء کتاب موصوف حکمت الخ صفت مجموعہ خبر یا مبتداء محذوف کی خبر یا بالعکس ان لا تعبدوا الخ مفعول لہ ہے فصلت کا اے فصلت لا جل ان لاتعبدوا وقیل ان مفسرۃ لان فی تفصیل الآیات معنی القول وان استغفروا اس پر معطوف الاحین کا عامل یعلم۔
تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں اسی ہنگامہ میں نازل ہوئی ہے کہ جب جہالت اور بت پرستی کا بازار گرم تھا۔ خدا پرستی کا نام لینے والے پر نہ صرف انگلیاں ہی اٹھتی تھیں بلکہ زہر آلود تیروں کا تودہ بنایا جاتا تھا۔ اس میں منجملہ حالات دیگر انبیاء کے حضرت ہود (علیہ السلام) کا قصہ نہایت عبرت انگیز ہے جس لئے ان کے نام سے یہ سورة نامزد کی جاتی ہے اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
الٓرٰ قف کِتٰبٌ اُحْکِمَتْ اٰیٰتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَکِیْمٍ خَبِیْرٍ ۔ اَلاَّ تَعْبُدُوْآ اِلاَّ اللّٰہَط اِنَّنِیْ لَکُمْ مِّنْہُ نَذِیْرٌ وَّبَشِیْرٌ۔ وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْآ اِلَیْہِ یُمَتِّعْکُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّ یُؤْتِ کُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَہٗط وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ کَبِیْرٍ ۔ اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْج وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔
الٓرٰ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں پہلے محکم کی گئیں پھر ان کی وضاحت کی گئی خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے۔ کہ تم عبادت نہ کرو مگر اللہ کی۔…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : سورة یونس کے اختتام میں حکم دیا گیا تھا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کی جائے سورة ہود کا آغاز قرآن مجید کے تعارف سے ہوا۔ پہلے کی طرح اس میں صرف اور صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کا حکم صادر فرمایا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور جنات کی تخلیق کا مقصد بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے۔ کہ اے انسانو اور جنو ! میں نے تمہیں صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ (الذاریات : 56۔ 58) انسان کو اس کی زندگی کا مقصد سمجھانے کے لیے کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار کے قریب انبیائے عظام مبعوث کیے گئے۔ قرآن مجید ہمیں آگاہ کرتا ہے کہ تمام کے تمام انبیاء اپنی دعوت کا آغاز اسی مقصد حیات سے کرتے تھے۔ آٹھویں…
Read the full tafseer →توحید و استغفار کا حکم :
2: اَلَّا تَعْبُدُوْا اِلَّا اللّٰہَ (یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کے سواء کسی کی عبادت نہ کرو) نمبر 1۔ یہ مفعول لہٗ ہے یعنی لئلا تعبدواتا کہ تم عبادت نہ کرو۔ نمبر 2۔ ان مفسرہ ہے کیونکہ تفصیل آیات میں قول کا معنی پایا جاتا ہے گویا کلام اس طرح ہے قال لا تعبدوا الا اللہ اس نے فرمایا کہ نہ عبادت کرو مگر اللہ تعالیٰ ہی کی۔ نمبر 3۔ امر کم الاتعبدوا الا اللہ اس نے تمہیں حکم دیا کہ تم اللہ تعالیٰ کے سواء کسی کی عبادت نہ کرو۔ اِنَّنِیْ لَکُمْ مِّنْہُ نَذِیْرٌ وَّبَشِیْرٌ (بیشک میں تمہارے لئے اسکی طرف سے ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔
Read the full tafseer →تفسیر 2:۔ ” ان لا تعبدوا الا اللہ “ یعنی اس کتاب میں یہ حکم ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو تو اس صورت میں ان محل رفع میں ہوگا اور بعض نے کہا ہے کہ یہ محل جر میں ہے۔ اصل عبارت ہے ” یان لا تعبدوا الا اللہ “ ۔۔۔ ” انی لکم منہ “ اللہ سے ” نذیر “ نافرمانوں کے لیے ڈرانے والے ” بشیر “ اطاعت گزاروں کے لیے خوشخبری دینے والے ہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ 4 الر بھی حروف مقطعات میں سے ہے جس کے معنے سوائے خدا کے اور کسی کو نہیں معلوم جیسے الم وغیرہ چناچہ اس کی تفصیل سورة بقر اور سورة آل عمران میں گزر چکی ہے ان آیتوں میں اللہ پاک نے قرآن مجید کی تعریف بیان فرمائی ہے کہ یہ کتاب ایسی ہے کہ اس کی کل آیتیں شروع سے آخر تک بالکل مضبوط ہیں جیسے ایک دیوار کی بنیاد کہ کبھی اس میں ردو بدل ہونے والا نہیں ہے جیسے پہلی کتابیں توریت و انجیل وغیرہ کہ ایک کے بعد ایک منسوخ ہوتی گئیں پہلے یہ کتاب لوح محفوظ میں تھی پھر اللہ پاک نے اپنے سچے رسول پر تفصیل کے ساتھ اس کو نازل فرمایا اور حرام حلال کی تفصیل بتلادی جو قیامت تک قائم رہے گی فرمایا کہ تم لوگ سوائے خدا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
تفسیر سورة ھود
آیت : ( 1-4)
(کتب) یہ عظیم کتاب اور بہترین فضل و عنایت ہے۔ (احکمت ایتہ) ” جس کی آیتیں مستحکم ہیں۔ “ یعنی اس کی آیات کو بہت اچھے اور محکم طریقے سے بیان کیا گیا ہے ‘ اس کی خبریں سچی ‘ اس کے او امر و نواہی عدل پر مبنی ‘ اس کے الفاظ نہایت فصیح اور اس کے معانی بہت خوبصورت ہیں۔ (ثم فصلت) ” پھر ان کی تفصیل بیان کردی گئی “ یعنی ان کو علیحدہ علیحدہ اور معانی وبیان کی بہترین انواع کے ذریعے سے کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ (من لدن حکیم) ” حکمت والے کی طرف سے “ وہ تمام اشیاء کو ان کے مناسب مقام پر رکھتا ہے اور ان کے لائق جگہ پر نازل کرتا ہے۔ صرف اسی چیز کا حکم دیا ہے اور اسی چیز سے روکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 ۔ قرآن حکیم کی سب ہی آیتیں محکم ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ایک ایسی عظیم الشان کتاب ہے جس کی آیتوں کو محکم کیا گیا ہے نظم و ترکیب اور معانی و مضامین دونوں کے اعتبار سے۔ پس نہ اس کے ظاہر پر کسی اعتراض کی کوئی گنجائش ہے اور نہ اس کے باطن اور معانی کے لحاظ سے کسی شک و شبہ کے لیے کوئی مساغ و مجال اور نہ کسی اور کتاب سے اس کے منسوخ ہونے کا کوئی سوال و احتمال۔ (المراغی، المحاسن وغیرہ) سو اس اعتبار سے قرآن حکیم کی جملہ آیتیں محکم ہیں۔ " احکام " کے معنی گھانٹھنے اور مضبوط کرنے کے ہیں۔ سو نظم قرآنی کے محکم اور مضبوط ہونے کے اس عام مفہوم کے علاوہ جو کہ ابھی اوپر بیان ہوا ایک اور مفہوم اس کا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
قرآن کے نزول کا مقصد
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ قرآن مجید اور اس کی آیات کو محکم اور مفصل قرار دیا ہے اور اللہ کی خالص عبادت اور رسول اکرم ﷺ کے دو وصف نذیر اور بشیر ہونے کی خبر دی گئی ہے۔ اس کے بعد توبہ بخشش، نیک اعمال اور سزا و جزا کا بیان ہے۔ دیکھا جائے تو انسان کی زندگی کا مقصد ہی عبادت ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب پر اسلام کو اس لیے فوقیت اور برتری حاصل ہے کیونکہیہ دین فطرت کے عین مطابق ہے اور قابل عمل بھی۔ ہر انسان جانتا ہے کہ اس کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ بس تو پھر سوچنے کی کیا بات ہے ؟ جس نے پیدا کیا ہے اسی کی عبادت کرو۔ یعنی صرف اسی کے سامنے سر جھکائو اسی سے مدد مانگو اسی سے بخشش مانگو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیات 1 تا 8
اسرار و معارف
الر حروف مقطعات ہیں جن کا علم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ہے یا جیسے رب چاہے سمجھ عطاکردے مگر تلاوت سب کے لئے ہے اور فائدہ بھی سب کو پہنچتا ہے۔
یہ ایسی بےمثال کتاب ہے کہ اس کی آیات محکم یعنی ناقابل تبدیل ہیں اگرچہ پہلے بھی آسمانی کتب نازل ہوتی رہیں مگر ان کی آیات اور احکام خاص قوموں یا ملکوں کے لئے اور خاص زمانوں کے لئے تھے جو بعد میں نزول قرآن سے بھی کلی طور پر منسوخ ہوگئے مگر یہ کتاب بیک وقت ساری انسانیت کے لئے تمام ملکوں کے لئے اور سب زمانوں کے لئے ہے اور اس کے احکام ہر دور اور ہر ملک میں قابل عمل بھی ہیں لہٰذا یہ ہمیشہ کے لئے ہے اور کسی بھی امر میں کوئی بات ڈھکی…
Read the full tafseer →ف 5 ۔ یا زندگی میں اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔
6 ۔ یعنی اس کے عذاب سے ڈرانے والا اور اس کے ثواب کی خوشخبری دینے والا۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(11:2) الا تعبدوا الا اللہ۔ یہ مفعول لہٗ ہے ہر دو فعل احمکت وفصلت کا۔ بمعنی اس کی آیات کو محکم اور مضبوط بنایا گیا ہے۔ اور ان کو مکمل وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یا یہ کلام ماقبل سے منقطع ہے اور یہاں سے الگ کلام ہے۔ رسول اکرم ﷺ کی زبان مبارک سے۔ تقدیر کلام یوں ہے قل لہم یا محمد الا تعدبوا الا اللہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 4
احکمت (مضبوط کی گئی ہے) فصلت (کھول کھول کر بیان کی گئی) الاتعبدوا (یہ کہ تم عبادت نہ کرو گے) نذیر (برے انجام سے ڈرانے والا) بشیر (اچھے اعمال پر خوش خبری دینے والا) استغفروا (تم گناہوں کی معافی مانگو) تو بوا (تم توبہ کرو، توجہ کرو) یمتع (وہ سامان (زندگی) دے گا مسمی (مقرر ، متعین) یوت (وہ دے گا) ذی فضل (فضل والا، زیادہ کام کرنے والا) اخاف (میں ڈرتا ہوں)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 4
سورئہ ھود کی ان چار آیات میں سمندر کو کو زے میں سمیٹ دیا گیا ہے۔ ان آیات کی مختصر تشریح ملاحظہ کر لیجیے۔
1) آلر
اس سورت کا آغاز حروف مقطعات سے کیا گیا ہے۔ یعنی جن حروف کے معنی اور مراد کا علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
سوائے خدا تعالیٰ کے کسی کی عبادت جائز نہیں
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ حکم اس کتاب میں سب سے زیادہ ضروری اور اول درجے کا یہ ہے کہ سوائے معبود حقیقی کے اور کسی کی عبادت نہ کرو اور یہ بھی ان سے کہہ دو کہ میں بشارت دینے والا بھی ہوں اور ڈرانے والا بھی ہوں۔ اگر تم خدا کا حکم مانو گے تو تمہارے لئے جنت کی بشارت ہے اور اگر نہ مانو گے تو تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے۔ صرف اللہ ہی کی عبادت ہونی چاہیے اور جو کچھ تم پہلے کرچکے اس سے استغفار کرو اور آئندہ کے لئے توبہ کرلو۔ خدا اس کا نفع تمہیں دنیا میں بہت ہی اچھا دے گا، تمہارے رزق بڑھائے گا عیش و آرام میں رکھے گا اور آخرت میں ہر شخص کے عمل کے موافق دس گونہ فضل کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(ف 2) قرآن حکیم کی دو خصوصیتیں بیان فرمائی ہیں ایک احکام ، دوسری تفصیل ۔
احکام سے غرض یہ ہے کہ قرآن حکیم نظم وترتیب کے لحاظ سے اس انداز کا حامل ہے کہ انسانی دخل کا اس میں امکان نہیں ، نہایت محکم اور عجیب طرز بیان ہے ۔
تفصیل سے مراد تو اصل آیات کا بیان ہے ، اور یا ضروریات دین کا موقع موقع اظہار ،
یعنی آیات کے اواخر کلمات قرآن حکیم میں نہایت دلکش وزن اور عجیب طرز کے ساتھ واقع ہوئے ہیں جن کے ادا کرنے میں ایک خاص قسم کے ترنم اور سامعہ نوازی کا سامان موجود ہے اور بایہ غرض ہے کہ جس قدر دین ودنیوی ضروریات ہیں قرآن ان سب پر حاوی ہے ۔
وکیل : ذمہ دار ۔
Read the full tafseer →2 اس کتاب کے مقاصد میں سے بڑا مقصد یہ ہے کہ تم لوگ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور کی عبادت نہ کرو یقین جانو ! کہ میں خدا کی طرف سے نافرمانوں کو ڈرانے والا اور فرمانبرداروں کو بشارت دینے والا ہوں یعنی حکیم با خبر نے جو کتاب بھیجی ہے وہ اصلاح انسانی کے بیشمار مقاصد کو مشتمل ہے منجملہ ان کے بڑا مقصد اصلاح عقائد ہے یعنی خدا کی عبادت میں کسی کی شرکت نہ ہو میں اس کی طرف سے بھیجا گیا ہوں میرا کام یہ ہے کہ ایمان نہ لانے والوں کو خدا کے عذاب سے ڈرائوں اور ایمان لانے والوں کو ثواب کی بشارت دوں۔
Read the full tafseer →اس کا سب سے پہلا اعلان وہی عالم گیر اعلان ہے جو ساری دعوتوں کا پیغام اول ہے
4 ؎ قرآن کریم کو اس شان و عظمت سے نازل کرنے کا مدعا کیا ہے ؟ صرف اس بات کا اعلان جو اول دن سے تمام دعوتوں کا عالمگیر اعلان رہا ہے کہ :
1۔ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ 2۔ میں اس رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے مامور ہوں اور اس لئے مامور ہوں کہ تشیر اور تنذیرکا فرض رسالت ادا کروں اور ایمان و نیک عمل کی کامرانیوں کی خوش خبری سنا دوں ۔ 3۔ میرا پیام یہ ہے کہ تمہاری جبین نیاز صرف اس کی بارگاہ صمدیت میں زمین بوس ہو اور تم ہر جائی نہ بنو ، تمہاری جبہہ فرسائی کلئے صرف اور صرف ایک ہی ذات گرامی ہو جو سب کا معبود و الٰہ ہے۔
Read the full tafseer →From the second verse begins the delineation of one of the most important and foremost themes, that of Tauhid, the Oneness of Allah Ta` ala. It is said: أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّـهَ (that you worship none but Allah). It means that among things stated in these verses the most important and foremost is that no one else should be worshipped except the One Allah.
After that, it was said: إِنَّنِي لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ (Surely, I am for you a warner from Him, and a bearer of glad tidings). It means that the noble messenger of Allah, ﷺ has been commanded to tell the whole world…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1. In keeping with the context, the word Kitab has here been rendered as 'Divine command'. The word Kitab in its Arabic usage denotes not only book or inscription, but also writ and command. There are several instances in the Qur'an of the use of the word in the latter sense. (See, for instance, al-Baqarah 2: 235, al-Ra'd 13: 38. The significance of 'command' is especially evident from the usage of k t b derivates in the passive tense: see al-Baqarah 2: 180, 183, 216, 246, etc. - Ed.)
2. The contents of this 'command' are firm and unalterable. In addition, the Qur'an is free from the…
Read the full tafseer →