Hud 11:1

11. Hudهود

Hud · Meccan · 123 ayahs · 10 rukus

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

11:1

الٓرٰ ۫— كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍ ۟ۙالٓرٰ‌ ۚكِتٰبٌ اُحۡكِمَتۡ اٰيٰـتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتۡ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ خَبِيۡرٍۙ

الٓرا۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں اور خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے بہ تفصیل بیان کردی گئی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Alif, Lam, Ra. [This is] a Book whose verses are perfected and then presented in detail from [one who is] Wise and Acquainted.

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:1

ا ل ر فرمان ہے، جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہوئی ہیں، ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

الٓرا۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں اور خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے بہ تفصیل بیان کردی گئی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

الرٰ، یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیتیں محکم کی گئی ہیں، پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں ایک حکیم باخبر کی طرف سے

— مولانا محمد جوناگڑہی

الر یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتوں کو (دلائل سے) مضبوط کیا گیا ہے، پھر ایک ایسی ذات کی طرف سے ان کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جو حکمت کی مالک اور ہر بات سے باخبر ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ ایک کتاب ہے جس کی آیتیں حکمت بھری ہیں پھر تفصیل کی گئیں حکمت والے خبردار کی طرف سے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

الف، لام، را (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں، یہ وہ) کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم بنا دی گئی ہیں، پھر حکمت والے باخبر (رب) کی جانب سے وہ مفصل بیان کر دی گئی ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

الۤرٰ۔ ایک کتاب ہے جس کی آیات محکم کی گئیں، پھر انھیں کھول کر بیان کیا گیا ایک کمال حکمت والے کی طرف سے جو پوری خبر رکھنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ا۔ ل۔ ر یہ ایسی کتاب ہے جس کی آیات کو محکم بنایا گیا ہے اور یہ حکیم وخبیر ہستی کی طرف سے تفصیلاً بیان کی گئی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ الف، لام، را ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں پہلے محکم کی گئیں پھر خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے ان کی تفصیل کی گئی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

الر۔ یہ ایک ایسی (عظیم الشان) کتاب ہے جس کی آیتوں کو محکم کیا گیا پھر ان کی تفصیل کردی گئی، ایک نہایت ہی حکمت والی اور بڑی ہی باخبر ذات کی طرف سے

— مولانا اسحاق مدنی

الف۔ لام۔ را یہ ایک کتاب کہ اس کی آیتیں مضبوط کی گئی ہیں پھر کھول کر بیان کی گئی ہیں۔ ایک حکیم باخبر کی طرف سے ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

الۗرٰ۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیات (پہلے) پختہ کی گئی ہیں پھر ان کی تفصیل بیان کی گئی ہے اس ہستی کی طرف سے جو حکیم اور خبیر ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

الٓرا۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں محکم ہیں اور اللہ حکیم وخبیر کی طرف سے باوضاحت بیان کردی گئی ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Alif. Lam. Ra. This is a Divine Command whose contents have been made firm and set forth in detail from One Who is All-Wise, All-Aware

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Alif , Lam , Ra . (This is) a book the verses of which have been made firm, and elaborated by the One who is All Wise, All Aware,

— Muhammad Taqi Usmani

Alif , Lam , Ra . (This is) a book the verses of which have been made firm, and elaborated by the One who is All Wise, All Aware,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Alif Lam Ra. (This is) a Book, the Ayat whereof are perfect (in every sphere of knowledge), and then explained in detail from One (Allah), Who is All-Wise Well-Acquainted (with all things).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Alif. Lam. Ra. (This is) a Scripture the revelations whereof are perfected and then expounded. (It cometh) from One Wise, Informed,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Alif, Lam, Ra. [This is] a Book whose verses are perfected and then presented in detail from [one who is] Wise and Acquainted.

— Saheeh International

Alif. Lam. Ra. This is a Book from One who is All-wise and All-aware. Its verses are well composed and distinctly arranged (from one another)

— Muhammad Sarwar

Alif Lam Ra (This is) a Book, whose verses are made decisive, then are they made plain, from the Wise, All-aware:

— Muhammad Habib Shakir

Alif. Lam. Ra. A Book this, the verses whereof are guarded, and then detailed, from before the Wise, the Aware.

— Abdul Majid Daryabadi

A. L. R. (This is) a Book, with verses basic or fundamental (of established meaning), further explained in detail,- from One Who is Wise and Well-acquainted (with all things):

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–4

تعارف قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جو حروف سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان کی پوری تفصیل اس تفسیر کے شروع میں سورة بقرہ کے ان حروف کے بیان میں گزر چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں فرمان ہے کہ یہ قرآن لفظوں میں محکم اور معنی میں مفصل ہے۔ پس مضمون اور معنی ہر طرح سے کامل ہے۔ یہ اس للہ کا کلام ہے جو اپنے اقوال و احکام میں حکیم ہے۔ جو کاموں کے انجام سے خبردار ہے۔ یہ قرآن اللہ کی عبادت کرانے اور دوسروں کی عبادت سے روکنے کے لیے اترا ہے۔ سب رسولوں پر پہلی وحی توحید کی آتی رہی ہے۔ سب سے یہی فرمایا گیا ہے کہ لوگ اللہ کی عبادت کریں۔ اس کے سوا اور کسی کی پرستش نہ کریں۔ پھر فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–2

سورة هُوْد 1 ”کتاب“ کا ترجمہ یہاں انداز بیان کی مناسبت سے ”فرمان“ کیا گیا ہے۔ عربی زبان میں یہ لفظ کتاب اور نوشتے ہی کے معنی میں نہیں آتا بلکہ حکم اور فرمان شاہی کے معنی میں بھی آتا ہے اور خود قرآن میں متعدد مواقع پر یہ لفظ اسی معنی میں مستعمل ہوا ہے۔ سورة هُوْد 2 یعنی اس فرمان میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں وہ پکی اور اٹل ہیں۔ خوب جچی ٹلی ہیں۔ نری لفاظی نہیں ہے خطابت کی ساحری اور تخیل کی شاعری نہیں ہے۔ ٹھیک ٹھیک حقیقت بیان کی گئی ہے اور اس کا ایک لفظ بھی ایسا نہیں جو حقیقت سے کم یا زیادہ ہو۔ پھر یہ آیتیں مفصل بھی ہیں، ان میں ایک ایک بات کھول کھول کر واضح طریقے سے ارشاد ہوئی ہے۔ بیان الجھا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر الۗر (کے معنی تو اللہ کو معلوم) یہ (قرآن) ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیتیں (دلائل سے) محکم کی گئی ہیں پھر (اس کے ساتھ) صاف صاف (بھی) بیان کی گئی ہیں (اور وہ کتاب ایسی ہے کہ) ایک حکیم باخبر (یعنی اللہ تعالیٰ) کی طرف سے (آئی ہے جس کا بڑا مقصد) یہ (ہے) کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو میں تم کو اللہ کی طرف سے (ایمان نہ لانے پر عذاب سے) ڈرانے والا اور (ایمان لانے پر ثواب کی) بشارت دینے والا ہوں اور (اس کتاب کے مقاصد میں سے) یہ (بھی ہے) کہ تم لوگ اپنے گناہ (شرک و کفر وغیرہ) اپنے رب سے معاف کراؤ یعنی ایمان لاؤ اور) پھر (ایمان لا کر) اس کی طرف (عبادت سے) متوجہ رہو (یعنی عمل صالح کرو پس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 1–4

1۔ 4۔ الۗرٰ ۣ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ۔ الرا اس سورة کا قرآنی نام ہے۔ یہی نام پچھلی سورة کا بھی ہے اور یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ عمود و مضمون کے اعتبار سے دونوں سورتیں باہم ملتی جلتی ہیں چنانہ آگے آپ دیکھیں گے کہ ان دونوں میں فرق صرف اجمال و تفصیل کا ہے۔ پچھلی سورة میں جو پہلو مجمل رہ گئے تھے وہ اس میں وضاحت سے سامنے آگئے ہیں۔ یہ فرق یوں تو ہر پہلو میں نمایاں ہے لیکن خاص طور پر واقعات کے بیان میں یہ فرق بہت زیادہ نظر آئے گا۔ اجمال کے بعد تفصیل کا یہ طریقہ، جو قرآن نے اختیار کیا ہے، یہ صرف تنوع کی خاطر نہیں اختیار کیا ہے بلکہ تعلیم و تربیت اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

اس سورت میں بھی ان قوموں کا تذکرہ ہے جو آیات الہی اور پیغمبروں کی تکذیب کر کے عذاب الہی کا نشانہ بنیں اور تاریخ کے صفحات سے یا تو حرف غلط کی طرح مٹ گئیں یا اوراق تاریخ پر عبرت کا نمونہ بنی موجود ہیں۔ اسی لیے حدیث میں آتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ کیا بات ہے آپ بوڑھے سے نظر آتے ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے سورة ہود، واقعہ، عم یتسآءلون، اور اذالشمس کورت وغیرہ نے بوڑھا کردیا ہے۔ (ترمذی) 1۔ 1 یعنی الفاظ و نظم کے اعتبار سے اتنی محکم اور پختہ ہیں کہ ان کی ترکیب اور معنی میں کوئی خلل نہیں۔ 1۔ 2 پھر اس میں احکام و شرائع، مواعظ و قصص، عقائد و ایمانیات اور آداب و اخلاق جس…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–2

1: جیسا کہ پچھلی سورت میں عرض کیا گیا، ان حروف کو مقطعات کہتے ہیں، اور ان کے صحیح معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہیں 2: مضبوط کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اس میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں وہ دلائل کے لحاظ سے مکمل ہیں اور ان میں کوئی نقص نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–4

درس نمبر 99 ایک نظر میں یہ پہلا سبق ایک مقدمے کی شکل میں ہے اس کے بعد قصص کا حصہ اور آخر میں نتائج اور تبصرے تبصرے ہیں۔ اس تمہیدی حصے میں وہ تمام اساسی باتیں کہی گئیں ہیں جو اسلامی نظریہ حیات کی اساسی باتیں ہیں اور بنیادی حقائق ہیں۔ یعنی اطاعت اور بندگی صرف اللہ وحدلہ لا شریک کی ہوگی اور دین صرف اللہ کا ہوگا۔ اور یہ اعتقاد رکھنا لازم ہوگا کہ ایک دن ہم نے جزاء و سزا اور حساب و کتاب کے لیے اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اور یہ حساب و کتاب دنیا میں اچھے اور برے اعمال کی اساس پر ہوگا۔ کیونکہ دنیا دار الامتحان ہے۔ اس ابتدائیہ میں اللہ کی معرفت اور اللہ کی صفات کو اس زاویہ سے بیان کیا گیا ہے کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی یہ قرآن کریم وہ عظیم الشان اور جلیل القدر کتاب ہے جس کی آیتیں لفظی و معنوی ہر حیثیت سے نہایت جچی تلی ہیں۔ نہ ان میں تناقض ہے نہ کوئی مضمون حکمت یا واقعہ کے خلاف ہے نہ باعتبار معجزانہ فصاحت و بلاغت کے ایک حرف پر نکتہ چینی ہوسکتی ہے جس مضمون کو جس عبارت میں ادا کیا ہے محال ہے کہ اس سے بہتر تعبیر ہو سکے۔ الفاظ کی قبا معانی کی قامت پر ذرا بھی نہ ڈھیلی ہے نہ تنگ۔ جن اصول و فروع، اخلاق و اعمال اور قیمتی پندو نصیحت پر یہ آیات مشتمل ہیں اور جو دلائل وبراہین اثبات دعاوی کے لیے استعمال کی گئی ہیں۔ وہ سب علم و حکمت کے کانٹے میں تلی ہوئی ہیں۔ قرآنی حقائق و دلائل ایسے مضبوط و محکم ہیں کہ زمانہ کتنی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1 الۗرٰ ۣ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرآن مجید میں شروع شروع میں جو سورتیں نازل ہوئی ہیں وہ حجم کے اعتبار سے تو چھوٹی ‘ لیکن بہت جامع اور گہرے مفہوم کی حامل ہیں ‘ جیسے کو زے میں سمندر کو بند کردیا گیا ہو۔ مثلاً سورة العصر ‘ جس کے بارے میں امام شافعی فرماتے ہیں : لَوْلَمْ یُنَزَّلْ مِنَ الْقُرْآنِ سِوَاھَا لَکَفَتِ النَّاس یعنی ”اگر اس سورت کے علاوہ قرآن میں کچھ بھی نازل نہ ہوتا تو بھی یہ سورت لوگوں کی ہدایت کے لیے کافی تھی“۔ امام شافعی سورة العصر کے بارے میں مزید فرماتے ہیں : لَوْ تَدَبَّرَ النَّاسُ ھٰذِہِ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

1 محکم آیات کا مفہوم :۔ سورة آل عمران کی آیت نمبر 7 میں بیان کیا گیا ہے کہ قرآن کریم کی بعض آیات محکم ہیں اور بعض دوسری متشابہ۔ لغوی لحاظ سے تو محکم ہر اس چیز کو کہا جاسکتا ہے جسے حکمت، دانائی اور تجربہ سے اس کو ساخت میں مضبوط بنادیا گیا ہو جیسے ارشاد باری ہے (ثُمَّ يُحْكِمُ اللّٰهُ اٰيٰتِهٖ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ 52؀ۙ ) 22 ۔ الحج :52) اور جب محکم کے مقابلے میں متشابہ کا لفظ آئے تو محکم کا معنی ایسی آیات ہیں جن میں کوئی لفظی یا معنوی اشتباہ نہ ہو بالفاظ دیگر اس کے معنی بالکل واضح ہوں جن کی کوئی اور تاویل نہ ہوسکتی ہو یعنی قرآن کی آیات محکم ہیں اور ان کی حکمت اور تفصیل بعض دوسرے مقامات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1۔ (اور متکلم کی حکمت اور باخبری کا ظہور کلام کے ایک ایک جزء سے بھی قدرۃ ہورہا ہے) (آیت) ” احکمت “۔ اس کی آیتیں مضبوط کی گئی ہیں دلائل و شواہد کے ساتھ۔ (آیت) ” ثم “۔ کا واضح ہوگا۔ (آیت) ” ثم “۔ کا یہاں یہ مطلب نہیں کہ آیتیں پہلے مضبوط کی گئیں اور اس کے بعد ان کی تفصیل کی گئی بلکہ مراد یہ ہے کہ ان میں قوت و پختگی واستحکام کے علاوہ دوسرا وصف تفصیل ووضاحت کا ہے۔ لیس معنا ھا التراخی فی الوقت ولکن فی الحال کما تقولھی محکمۃ احسن الاحکام ثم مفصلۃ احسن التفصیل (کشاف) ثم جاءت لترتیب الاخبار لا لترتیب الوقوع فی الزمان (بحر) 2۔ یعنی اس کتاب حکیم وخبیر کا سب سے اہم ومقدم مضمون یہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–5

آیت نمبر 1 تا 5 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان بڑا رحم والا ہے الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیات عجیب نظم اور انوکھے معانی کے ذریعہ محکم کی گئی ہیں، پھر حکیم باخبر یعنی اللہ کی طرف سے احکام اور واقعات اور نصائح کے اعتبار سے صاف صاف بیان کی گئی ہیں، یہ کہ اللہ کے سوا کسی کو بندگی نہ کرو میں اس کی طرف سے تم کو عذاب سے ڈرانے والا ہوں اگر تم کفر کرو گے اور ثواب کی خوشخبری دینے والا ہوں اگر تم ایمان لاو گے اور یہ کہ تم اپنے رب سے شرک سے مغفرت طلب کرو پھر طاعت ل کے ذریعہ اس کی طرف رجوع کرو وہ دنیا میں تم کو معینہ مدت تک اچھا سامان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ا آرٰوقف کِتْبٌ احکمت ایتہ ثم فصلت من لدن حکیم خیبر۔ ا ل ر ۔ یہ (قران) ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں دلائل سے محکم کی گئی ہیں ‘ پھر (اس کے ساتھ ساتھ) صاف صاف بیان بھی کی گئی ہیں ‘ یہ ایک حکیم باخبر کی طرف سے ہے۔ اُحْکِمَتْ یعنی اس کی آیات موتیوں کی طرح پروئی ہوئی ہیں ‘ ان کی ساخت پرداخت مضبوط ہے۔ نہ اس کے الفاظ میں کوئی نقص ہے نہ معنی میں کوئی عیب۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس کی آیات غیر منسوخ ہیں۔ یہ مطلب اس وقت صحیح ہوگا جب آیات کتاب سے صرف اس سورت کی آیات مراد ہوں کیونکہ اس سورت کی کوئی آیت منسوخ نہیں (باقی قرآن میں بعض آیات منسوخ ہیں) یا مضبوط کرنے سے مراد ہے دلائل اور براہین سے پختہ کی ہوئی۔ یا ”…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(1) یہ قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیات میں حلال و حرام اوامرو نواہی کا حکم دیا گیا ہے کہ اس میں کسی قسم کا کوئی ردوبدل نہیں ہوسکتا اور ان کو صاف صاف بھی بیان کیا گیا اور وہ کتاب ایک عالم باخبر کی طرف سے آئی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

سورة ہود الرا دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت۔ اس سورت میں توحید کی دعوت، انبیاء کی اس دعوت کے دوران میں عزیمت اور ان پر گزرنے والے حالات و واقعات، انھیں جھٹلانے والوں کا بدترین انجام اور ان پر آنے والے عذابوں کے تذکرے اور اہل ایمان کی نجات اور ان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات کا ذکر ہے۔ چونکہ اس میں انذار (ڈرانے) کا پہلو غالب ہے اس لیے رسول اللہ ﷺ پر اس کا بہت اثر ہوا، چناچہ عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر ؓ نے عرض کیا : (یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! قَدْ شِبْتَ ، قَالَ شَیَّبَتْنِیْ ھُوْدٌ وَالْوَاقِعَۃُ وَالْمُرْسَلاَتُ وَ (عَمَّ يَتَسَاۗءَلُوْنَ) وَ (اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ) [ ترمذی،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–4

آیات نمبر 1 تا 4 اللہ تعالیٰ کا ارشاد الٓرٰ اس کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ کتٰبٌسے مراد ھذا کتاب ہے۔ احکمت اٰیٰتہٗ یہ محل رفع میں ہے کتاب کی صفت ہے۔ احکمت اٰیٰتہٗ کے معنی کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس میں سب سے عمدہ قول حضرت قتادہ کا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اس سارے کے سارے کو محکم بنا دیا گیا ہے نہ اس میں کوئی خلل ہے اور نہ ہی یہ باطل ہے۔ الاحکام سے مراد کلام کا فساد سے محفوظ ہوتا ہے یعنی اس کی نظم، نظم محکم ہے نہ اس میں تناقض ہے اور نہ کوئی خلل۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا کہ اس سے مراد ہے کہ کسی کتاب نے اس کو منسوخ نہیں کیا بخلاف تورات اور انجیل کے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ اس کی بعض…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–4

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الٓرکتب احکمت ایتہ “ فرمایا یہ سب آیات مکی ہیں اور محکم ہیں یعنی سورة ھود (آیت) ” ثم فصلت “ یعنی پھر محمد ﷺ کا ذکر کیا گیا اور اس میں فیصلہ فرمایا آپ ﷺ اور آپ کے مخالفین کے درمیان اور ساری آیات کو دو فریقوں کی مثل پڑھا پھر ذکر کیا گیا قوم نوح کا پھر قوم ھود کا یہ تفصیل ہے اس کی اور اس کا اصل محکم ہے زید بن اسلم نے کہا کہ حضرت ابی ؓ اسی طرح کہتے تھے۔ 2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم ابوالشیخ رحمہم اللہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” کتب احکمت ایتہ ثم فصلت “ کے بارے میں فرمایا کہ مستحکم کیا گیا ہے ساتھ امر ونہی کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[الۗرٰ ۣ، قف ] كِتٰبٌ [ (یہ ) ایک کتاب ہے ] اُحْكِمَتْ [محکم کیا گیا ] اٰيٰتُهٗ [ اسکی آیتوں کو ] ثُمَّ [پھر ] فُصِّلَتْ [ ان کو کھولا گیا ] مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ [ ایک باخبر حکمت والے کے خزانے سے ] ترکیب : (آیت ۔ 1) کتب خبر ہے۔ اس کا مبتدا ھذا محذوف ہے ۔ احکمت اور فصلت کا نائب فاعل ایتہ ہے۔ لدن مضاف ہے اور حکیم خبیر اس کا مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے حالت جر میں ہیں ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–5

سورة ھود اثبات حقانیت قرآن و توحید ورسالت وتذکیر آخرت الرا۔ کتب احکمت ایتہ۔۔ الی۔۔ انہ علیم بذات الصدور (ربط): اول قرآن حکیم کا منزل من اللہ ہونا بیان کیا کہ اس کتاب کے نزل کرنے سے مقصود یہ ہے کہ تم ایک اللہ کی عبادت کرو پھر آں حضرت ﷺ کا مرسل من اللہ وہنا بیان کیا کہ آپ کو بشارت اور آخرت اور قیامت کو یاد دلایا جس دن بندوں کو ان کے اعمال کی جزا وسزا ملے گی۔ تاکہ پہلے سے تیاری کرلیں۔ اور چونکہ جزا وسزا کے لیے علم کامل اور قدرت کاملہ کا ہونا ضروری ہے کہ حاکم کو مجرم کے جرم کا علم ہو اور اس کے سزا دینے پر اس کو قدرت اور اختیار بھی ہو اس لیے الی اللہ مرجعکم کے بعد وھو علی کل شیئ قدیر۔ سے اپنی قدرت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

2: پہلا دعویٰ ۔ صرف اللہ ہی کو پکارو۔ یہ اصل مضمون کے لیے بمنزلہ تمہید ہے۔ کِتَابٌ مبتدا محذوف کی خبر ہے اي ھذا کتاب اور کتاب کی تنوین تعظیم کیلئے یہ عظیم الشان اور جلیل القدر کتاب ہے والتنوین فیه للتعظیم اي کتاب عظیم الشان جلیل القدر (روح ج 11 ص 203) ۔ اُحْکِمَتْ اٰیٰتُهٗ ، کِتَابٌ کی پہلی صفت ہے۔ آیتوں کے محکم اور مضبوط ہونے سے مراد یہ ہے وہ باہمی تناقض سے محفوظ ہیں، حکمت اور نفس الامر کے خلاف ان میں کوئی بات نہیں اور فصاحت و بلاغ کے اعتبار سے وہ تمام لفظی اور معنوی خوبیوں سے آراستہ ہے (روح) ، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں محکم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تورات و انجیل کی طرح اس کے بعد کوئی ناسخ کتاب…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة ہود ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے عظیم رسول تھے جو حضرت نوع ح کے بعد قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے ، اس سورة میں آپ کی تبلیغ کے حالات بیان ہوئے ہیں ، اس لحاظ سے اس سورة کا نام آپ کے نام پر سورة ہود رکھا گیا ہے۔ گذشتہ سورة یونس کی طرح یہ بھی مکی سورة ہے۔ سورة یونس اور سورة ہود ہجرت سے پہلے مکی زندگی کی آخری سورتیں ہیں اور ان کا زمانہ نزول قریب قریب ہی ہے۔ اس سورة مبارکہ کی ایک سو تیئس آیات اور دس رکوع ہیں۔ ا س میں ایک ہزار چھو سو پچیس کلمات اور چھ ہزار نو سو پانچ سو پانچ حروف ہیں۔ مضامین سورة اس سورة کا مرکزی مضمون دعوت الی التوحید ہے۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الۗرٰ۝ 0 ۣ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ۝ 1 ۙ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–4

ترکیب : الر اسم ہے اس سورة کا مبتداء کتاب موصوف حکمت الخ صفت مجموعہ خبر یا مبتداء محذوف کی خبر یا بالعکس ان لا تعبدوا الخ مفعول لہ ہے فصلت کا اے فصلت لا جل ان لاتعبدوا وقیل ان مفسرۃ لان فی تفصیل الآیات معنی القول وان استغفروا اس پر معطوف الاحین کا عامل یعلم۔ تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں اسی ہنگامہ میں نازل ہوئی ہے کہ جب جہالت اور بت پرستی کا بازار گرم تھا۔ خدا پرستی کا نام لینے والے پر نہ صرف انگلیاں ہی اٹھتی تھیں بلکہ زہر آلود تیروں کا تودہ بنایا جاتا تھا۔ اس میں منجملہ حالات دیگر انبیاء کے حضرت ہود (علیہ السلام) کا قصہ نہایت عبرت انگیز ہے جس لئے ان کے نام سے یہ سورة نامزد کی جاتی ہے اس میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–4

الٓرٰ قف کِتٰبٌ اُحْکِمَتْ اٰیٰتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَکِیْمٍ خَبِیْرٍ ۔ اَلاَّ تَعْبُدُوْآ اِلاَّ اللّٰہَط اِنَّنِیْ لَکُمْ مِّنْہُ نَذِیْرٌ وَّبَشِیْرٌ۔ وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْآ اِلَیْہِ یُمَتِّعْکُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّ یُؤْتِ کُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَہٗط وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ کَبِیْرٍ ۔ اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْج وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ الٓرٰ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں پہلے محکم کی گئیں پھر ان کی وضاحت کی گئی خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے۔ کہ تم عبادت نہ کرو مگر اللہ کی۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : سورة یونس اور ہود کا باہمی ربط (تفسیر): سورة یونس کا اختتام اس ارشاد پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہی حاکم ہے اور وہ بہترین حکم دینے والا ہے سورة ہود کی ابتدا اس بات سے ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے احکام محکم اور تفصیلی ہیں۔ اآر۔ حروف مقطعات میں سے ہیں جن کے بارے میں سورة البقرۃ کی ابتدا میں عرض کیا جا چکا ہے۔ کہ ان کا حقیقی معنی اور مفہوم۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا تفصیل کے لیے سورة البقرۃ کی ابتدملاحظہ فرمائیں۔ ارشاد ہوتا ہے کہ قرآن مجید ایسی کتاب ہے جس کے احکام محکم ہیں جو پہلی کتابوں کی طرح منسوخ نہیں ہوسکتے۔ اس میں جامعیت کے ساتھ تفصیلات بھی ہیں تاکہ ہر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قرآن محکم و مفصل : 1: الٰٓر کِتٰبٌ ( یعنی یہ کتاب ہے) کتاب خبر ہے اور مبتداء ہذا محذوف ہے۔ اُحْکِمَتْ اٰیٰتُہٗ (اسکی آیات محکم ہیں) یہ کتاب کی صفت ہے۔ یعنی مضبوط ومحکم لڑی میں پرویا گیا اس میں کوئی کمی و خلل واقع نہیں ہوسکتا ہے جیسا کہ مضبوط عمارت ثُمَّ فُصِّلَتْ (پھر اسکی تفصیل کردی گئی) جیسا یکتا روزگار موتیوں سے ہار جداکئے جاتے ہیں۔ یعنی دلائل توحید اور احکام، مواعظ، قصص سبھی پر مشتمل ہے۔ یا نمبر 2: ایک ایک سورت سے اسکی فصلیں بنادیں اور ایک ایک آیت الگ کردی یا نمبر 3۔ اکٹھا نہیں اتارا تھوڑا تھوڑا متفرق طور پر اتارا یا نمبر 4۔ جن چیزوں کی بندوں کو ضرورت پڑتی ہے وہ اس میں تفصیل سے بیان کردیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر : 1۔ ” الر کتاب “ یعنی یہ کتاب ” احکمت ایاتہ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کسی دوسری کتاب کے ذریعے منسوخ نہیں کی گئیں جیسے پہلی کتابیں اور شریعتیں قرآن کے ذریعے منسوخ کی گئی ہیں ۔ ” ثم فصلت “ احکام حلال و حرام کو بیان کیا گیا ۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ امرو نہی کے ذریعے محکم کی گئی اور وعدہ و عید کے ذریعے تفصیل کی گئی ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ احکمت یعنی اللہ نے اس کو محکم کیا کہ نہ اس میں کوئی اختلاف ہے اور نہ کوئی تنافض مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ” فصلت “ یعنی اس کی تفسیر کی گئی اور بعض نے کہا ” فصلت “ یعنی تھوڑی تھوڑ ی تاری گئی ۔ ” من لدن حکیم خبیر “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

1۔ 4 الر بھی حروف مقطعات میں سے ہے جس کے معنے سوائے خدا کے اور کسی کو نہیں معلوم جیسے الم وغیرہ چناچہ اس کی تفصیل سورة بقر اور سورة آل عمران میں گزر چکی ہے ان آیتوں میں اللہ پاک نے قرآن مجید کی تعریف بیان فرمائی ہے کہ یہ کتاب ایسی ہے کہ اس کی کل آیتیں شروع سے آخر تک بالکل مضبوط ہیں جیسے ایک دیوار کی بنیاد کہ کبھی اس میں ردو بدل ہونے والا نہیں ہے جیسے پہلی کتابیں توریت و انجیل وغیرہ کہ ایک کے بعد ایک منسوخ ہوتی گئیں پہلے یہ کتاب لوح محفوظ میں تھی پھر اللہ پاک نے اپنے سچے رسول پر تفصیل کے ساتھ اس کو نازل فرمایا اور حرام حلال کی تفصیل بتلادی جو قیامت تک قائم رہے گی فرمایا کہ تم لوگ سوائے خدا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–4

تفسیر سورة ھود آیت : ( 1-4) (کتب) یہ عظیم کتاب اور بہترین فضل و عنایت ہے۔ (احکمت ایتہ) ” جس کی آیتیں مستحکم ہیں۔ “ یعنی اس کی آیات کو بہت اچھے اور محکم طریقے سے بیان کیا گیا ہے ‘ اس کی خبریں سچی ‘ اس کے او امر و نواہی عدل پر مبنی ‘ اس کے الفاظ نہایت فصیح اور اس کے معانی بہت خوبصورت ہیں۔ (ثم فصلت) ” پھر ان کی تفصیل بیان کردی گئی “ یعنی ان کو علیحدہ علیحدہ اور معانی وبیان کی بہترین انواع کے ذریعے سے کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ (من لدن حکیم) ” حکمت والے کی طرف سے “ وہ تمام اشیاء کو ان کے مناسب مقام پر رکھتا ہے اور ان کے لائق جگہ پر نازل کرتا ہے۔ صرف اسی چیز کا حکم دیا ہے اور اسی چیز سے روکتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–2

1 ۔ قرآن حکیم کی سب ہی آیتیں محکم ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ایک ایسی عظیم الشان کتاب ہے جس کی آیتوں کو محکم کیا گیا ہے نظم و ترکیب اور معانی و مضامین دونوں کے اعتبار سے۔ پس نہ اس کے ظاہر پر کسی اعتراض کی کوئی گنجائش ہے اور نہ اس کے باطن اور معانی کے لحاظ سے کسی شک و شبہ کے لیے کوئی مساغ و مجال اور نہ کسی اور کتاب سے اس کے منسوخ ہونے کا کوئی سوال و احتمال۔ (المراغی، المحاسن وغیرہ) سو اس اعتبار سے قرآن حکیم کی جملہ آیتیں محکم ہیں۔ " احکام " کے معنی گھانٹھنے اور مضبوط کرنے کے ہیں۔ سو نظم قرآنی کے محکم اور مضبوط ہونے کے اس عام مفہوم کے علاوہ جو کہ ابھی اوپر بیان ہوا ایک اور مفہوم اس کا یہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–3

قرآن کے نزول کا مقصد تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ قرآن مجید اور اس کی آیات کو محکم اور مفصل قرار دیا ہے اور اللہ کی خالص عبادت اور رسول اکرم ﷺ کے دو وصف نذیر اور بشیر ہونے کی خبر دی گئی ہے۔ اس کے بعد توبہ بخشش، نیک اعمال اور سزا و جزا کا بیان ہے۔ دیکھا جائے تو انسان کی زندگی کا مقصد ہی عبادت ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب پر اسلام کو اس لیے فوقیت اور برتری حاصل ہے کیونکہیہ دین فطرت کے عین مطابق ہے اور قابل عمل بھی۔ ہر انسان جانتا ہے کہ اس کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ بس تو پھر سوچنے کی کیا بات ہے ؟ جس نے پیدا کیا ہے اسی کی عبادت کرو۔ یعنی صرف اسی کے سامنے سر جھکائو اسی سے مدد مانگو اسی سے بخشش مانگو۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

آیات 1 تا 8 اسرار و معارف الر حروف مقطعات ہیں جن کا علم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ہے یا جیسے رب چاہے سمجھ عطاکردے مگر تلاوت سب کے لئے ہے اور فائدہ بھی سب کو پہنچتا ہے۔ یہ ایسی بےمثال کتاب ہے کہ اس کی آیات محکم یعنی ناقابل تبدیل ہیں اگرچہ پہلے بھی آسمانی کتب نازل ہوتی رہیں مگر ان کی آیات اور احکام خاص قوموں یا ملکوں کے لئے اور خاص زمانوں کے لئے تھے جو بعد میں نزول قرآن سے بھی کلی طور پر منسوخ ہوگئے مگر یہ کتاب بیک وقت ساری انسانیت کے لئے تمام ملکوں کے لئے اور سب زمانوں کے لئے ہے اور اس کے احکام ہر دور اور ہر ملک میں قابل عمل بھی ہیں لہٰذا یہ ہمیشہ کے لئے ہے اور کسی بھی امر میں کوئی بات ڈھکی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 ۔ یعنی خوب پختہ اور اٹل ہیں جن میں کوئی عیب اور نقص نہیں ہے اور نہ ہو۔ مجموعی اختیار سے۔ توراۃ انجیل کی طرح منسوخ ہیں اور پھر معارضہ سے بھی بالا ہیں۔ (کذافی الوحیدی) ۔ 4 ۔ یعنی نہایت واضح کہ کس آیت کے مفہوم میں ابہام اور پیچیدگی نہیں ہے۔ (شوکانی) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:1) الر۔ حرف مقطعات۔ ملاحظہ ہو۔ کتب۔ ای ہو کتب۔ کتاب خبر ہے جس کا مبتدا محذوف ہے۔ یہ وہ کتاب ہے۔ احکمت۔ ماضی مجہول ۔ واحد مؤنث غائب احکام سے۔ جس کے معنی مضبوط اور محکم کرنے کے ہیں۔ یوں پختہ اور استوار کرنا کہ اس میں کسی خلل اور نقص کا گمان تک نہ رہے۔ بمعنی مضبوط اور مستحکم بنادی گئی ہیں۔ فصلت۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب ۔ تفصیل (تفعیل) سے کھول کر بیان کی گئی ہیں۔ لدن۔ ظرف مکان ہے۔ بمعنی طرف، پاس، عموماً اس سے پہلے من حرف جار آتا ہے جیسے قد بلغت من لدنی عذرا (18:76) تم کو میری طرف سے (اپنے ساتھ نہ رکھنے کا) عذر حاصل ہوگا۔ ربنا اتنا من لدنک رحمۃ (18:10) اے ہمارے رب ہم پر اپنے ہاں سے رحمت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–4

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 4 احکمت (مضبوط کی گئی ہے) فصلت (کھول کھول کر بیان کی گئی) الاتعبدوا (یہ کہ تم عبادت نہ کرو گے) نذیر (برے انجام سے ڈرانے والا) بشیر (اچھے اعمال پر خوش خبری دینے والا) استغفروا (تم گناہوں کی معافی مانگو) تو بوا (تم توبہ کرو، توجہ کرو) یمتع (وہ سامان (زندگی) دے گا مسمی (مقرر ، متعین) یوت (وہ دے گا) ذی فضل (فضل والا، زیادہ کام کرنے والا) اخاف (میں ڈرتا ہوں) تشریح : آیت نمبر 1 تا 4 سورئہ ھود کی ان چار آیات میں سمندر کو کو زے میں سمیٹ دیا گیا ہے۔ ان آیات کی مختصر تشریح ملاحظہ کر لیجیے۔ 1) آلر اس سورت کا آغاز حروف مقطعات سے کیا گیا ہے۔ یعنی جن حروف کے معنی اور مراد کا علم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

الرٰ بھی حروف مقطعات میں سے ہے جس کے معنی سوائے خدا کے کسی اور کو معلوم نہیں ہیں۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے قرآن مجید کی تعریف فرمائی ہے کہ یہ کتاب ایسی ہے کی کل آیتیں شروع سے آخر تک بلکل مضبوط ہیں۔ اس میں رد وبدل ہونے والا نہیں ہے۔ جیسے پہلی کتابیں توریت وانجیل وغیرہ کہ ایک کے بعد ایک منسوخ ہوتی گئیں۔ پہلے یہ کتاب لوح محفوظ میں تھی پھر اللہ پاک نے اپنے سچے رسول ﷺ پر تفصیل کے ساتھ اس کو نازل فرمایا اور حرام و حلال کی تفصیل بتلادی جو قیامت تک قائم رہے گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–2

(ف 2) قرآن حکیم کی دو خصوصیتیں بیان فرمائی ہیں ایک احکام ، دوسری تفصیل ۔ احکام سے غرض یہ ہے کہ قرآن حکیم نظم وترتیب کے لحاظ سے اس انداز کا حامل ہے کہ انسانی دخل کا اس میں امکان نہیں ، نہایت محکم اور عجیب طرز بیان ہے ۔ تفصیل سے مراد تو اصل آیات کا بیان ہے ، اور یا ضروریات دین کا موقع موقع اظہار ، یعنی آیات کے اواخر کلمات قرآن حکیم میں نہایت دلکش وزن اور عجیب طرز کے ساتھ واقع ہوئے ہیں جن کے ادا کرنے میں ایک خاص قسم کے ترنم اور سامعہ نوازی کا سامان موجود ہے اور بایہ غرض ہے کہ جس قدر دین ودنیوی ضروریات ہیں قرآن ان سب پر حاوی ہے ۔ وکیل : ذمہ دار ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

1 الر قف، یہ قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیتیں دلائل وبراہین سے محکم و مضبوط کی گئی ہیں پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں وہ ایک صاحب حکمت با خبر کی جانب سے نازل ہوئی ہے۔ یعنی حچی تلی استوار اور محکم آیتیں جن میں نہ کوئی تناقص نہ حکمت اور نہ واقع کے خلاف پھر اسی کے ساتھ مفصل یہ نہیں کہ دلائل کی وجہ سے مغلق ہوگئی ہوں پھر ایسے حکم و باخبر کی جانب سے آئی ہے جس میں قیامت تک کے احوال و حوادثات کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حروف مقطعات ان حروف کو کہتے ہیں جو حرف حرف کر کے پڑھے جائیں 1 ؎ قرآن کریم میں کل انتیس سورتیں ہیں جن کی ابتداء حروف مقطعات سے ہوتی ہیں اور حروف مقطعات میں کل چودہ حروف ہیں جو استعمال ہوئے ہیں اور ان کی تفصیل ہم نے سورة البقرہ ہی کی ابتداء میں کردی ہے بار بار بحث کی ضرورت نہیں اس لئے سورة البقرہ کی پہلی آیت ہی کی طرف مراجعت کریں۔ اس کی آیتیں مضبوط بھی ہیں اور کھول کر بیان بھی کی گئی ہیں 2 ؎ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں مضبوط ہیں اس لئے کہ ان کے ساتھ دلائل و شواہد موجود ہیں اور یہ کہ ان میں کسی طرح کا خلل اور نقص موجود نہیں اور نہ ہی ممکن ہے اور فصلت تفصیل سے ہے یعنی ان کا مدعا اتنا واضح کردیا گیا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Surah Hud is among the Surahs that describe the coming of several kinds of mass punishments triggered by Divine displeasure as well as the horrendous happenings of the fateful day of Judgment and its outcome in the form of individual reward and punishment, all in a manner that is unique. For this reason, when a few strands of hair in the blessed beard of the Holy Prophet ﷺ had turned visibly grey, Sayyidna Abu Bakr ؓ expressed his concern by saying: ` Ya Ras ulallah, you have become old.' He said: ` Yes, Surah Hud has made me old.' There are reports which also add Surah al-Waqi`…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

1. In keeping with the context, the word Kitab has here been rendered as 'Divine command'. The word Kitab in its Arabic usage denotes not only book or inscription, but also writ and command. There are several instances in the Qur'an of the use of the word in the latter sense. (See, for instance, al-Baqarah 2: 235, al-Ra'd 13: 38. The significance of 'command' is especially evident from the usage of k t b derivates in the passive tense: see al-Baqarah 2: 180, 183, 216, 246, etc. - Ed.) 2. The contents of this 'command' are firm and unalterable. In addition, the Qur'an is free from the…

Read the full tafseer →