Yunus 10:97

Yunus · from ayah 97

10:97

وَلَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ ۟وَلَوۡ جَآءَتۡهُمۡ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَ لِيۡمَ

جب تک کہ عذاب الیم نہ دیکھ لیں خواہ ان کے پاس ہر (طرح کی) نشانی آجائے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Even if every sign should come to them, until they see the painful punishment.

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 10 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:97

وہ کبھی ایمان لا کر نہیں دیتے جب تک کہ درد ناک عذاب سامنے آتا نہ دیکھ لیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب تک کہ عذاب الیم نہ دیکھ لیں خواہ ان کے پاس ہر (طرح کی) نشانی آجائے

— مولانا فتح محمد جالندہری

گو ان کے پاس تمام نشانیاں پہنچ جائیں جب تک کہ وه دردناک عذاب کو نہ دیکھ لیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

چاہے ہر قسم کی نشانی ان کے سامنے آجائے، یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اگرچہ سب نشانیاں ان کے پاس آئیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اگرچہ ان کے پاس سب نشانیاں آجائیں یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب (بھی) دیکھ لیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

خواہ ان کے پاس ہر نشانی آجائے، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

خواہ ان کے پاس کوئی بھی معجزہ آجائے تاآنکہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

خواہ ان کے پاس ساری ہی نشانیاں آجائیں جب تک وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اگرچہ ان کے پاس آجائے ہر نشانی یہاں تک کہ وہ دیکھ لیں اس بڑے دردناک عذاب کو

— مولانا اسحاق مدنی

خواہ ان کے پاس نشانیاں ساری (کی ساری) آجائیں جب تک کہ وہ عذاب دردناک (نہ) دیکھ لیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور چاہے ان کے پاس ساری ہی نشانیاں آجائیں (اب وہ ایمان نہیں لائیں گے) جب تک کہ عذاب الیم کو دیکھ نہ لیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب تک کہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں خواہ انکے پاس ہر طرح کی نشانی آجائے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

even if they witness every single sign that might come to them until they are face to face with the painful chastisement,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

even though every sign comes to them, unless they witness the painful punishment.

— Muhammad Taqi Usmani

even though every sign comes to them, unless they witness the painful punishment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Even if every sign should come to them, until they see the painful torment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Though every token come unto them, till they see the painful doom.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Even if every sign should come to them, until they see the painful punishment.

— Saheeh International

until they face the most painful torment.

— Muhammad Sarwar

Though every sign should come to them, until they witness the painful chastisement.

— Muhammad Habib Shakir

Even though every sign should come unto them, until they hehold an afflictive torment.

— Abdul Majid Daryabadi

Even if every Sign was brought unto them,- until they see (for themselves) the penalty grievous.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:97

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 94–97

ٹھوس دلائل کے باوجود انکار قابل مذمت ہے جب یہ آیت اتری تو حضور ﷺ نے فرمایا نہ مجھے کچھ شک نہ مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت۔ پس اس آیت سے مطلب صرف اتنا ہے کہ آپ کی امت کے ایمان کی مضبوطی کی جائے اور ان سے بیان کیا جائے کہ اگلی الٰہامی کتابوں میں بھی ان کے نبی کی صفتیں موجود ہیں، خود اہل کتاب بھی بخوبی واقف ہیں۔ جیسے (اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْل01507) 7۔ الاعراف :157) میں ہے۔ ان لوگوں پر تعجب اور افسوس ہے ان کی کتابوں میں اس نبی آخر الزمان کی تعریف و توصیف اور جان پہچان ہونے کے باوجود بھی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 96–97

سورة یُوْنُس 97 یعنی یہ قول کہ جو لوگ خود طالب حق نہیں ہوتے، اور جو اپنے دلوں پر ضد، تعصب اور ہٹ دھرمی کے قفل چڑھائے اور جو دنیا کے عشق میں مدہوش اور عاقبت سے بےفکر ہوتے ہیں انہیں ایمان کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 95–97

چو تھی، پانچویں اور چھٹی آیتوں میں اسی مضمون کی تائید و تاکید اور غفلت برتنے والوں کو تنبیہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 96–97

96۔ 97:۔ اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ۔ وَلَوْ جَاۗءَتْھُمْ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ۔ ایک سنت الٰہی : اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ۔۔۔ الایۃ، یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کا اشارہ پیچھے آیت 33 میں گزر چکا ہے کذلک حقت کلمۃ ربک علی الذین فسقوا انہم لایومنون (اسی طرح تیرے رب کی بات ان لوگوں پر پوری ہوچکی ہے جن لوگوں نے نافرمانی کی ہے، وہ ایمان نہیں لانے کے) یعنی جو لوگ حق واضح ہونے کے باوجود اندھے بہرے بنے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر کردیا کرتا ہے جس کے بعد ان کو ایمان کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ وَلَوْ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

97۔ 1 یہ وہی لوگ ہیں جو کفر و مصیت الٰہی میں اتنے غرق ہوچکے ہوتے ہیں کہ کوئی و عظ ان پر اثر نہیں کرتا اور کوئی دلیل ان کے کارگر نہیں ہوتی۔ اسلئے نافرمانیاں کرکے قبول حق کی فطری استعداد و صلاحیت کو وہ ختم کر لئے ہوتے ہیں، ان کی آنکھیں اگر کھلتی ہیں تو اس وقت، جب عذاب الٰہی ان کے سروں پر آجاتا ہے، تب وہ ایمان اللہ کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتا (فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَـنَا) (40۔ المومن۔ 85) ' جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے (اس وقت) ان کے ایمان نے انھیں کوئی فائدہ نہیں دیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 94–97

38: اس آیت میں اگرچہ بظاہر خطاب آنحضرت ﷺ کو ہے ؛ لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ آپ کو قرآن کریم کی سچائی میں کوئی شک ہو ہی نہیں سکتا اس لئے درحقیقت سنانا دوسروں کو مقصود ہے، جب آپ کو یہ انتباہ کیا جارہا ہے تو دوسروں کو تو اور زیادہ محتاط ہونا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ولوجاء تھم کل ایۃ اگرچہ آجائے ان کے پاس ہر نشانی۔ جو صداقت پر دلالت کر رہی ہو اور ایمان کی مقتضی ہو ‘ کیونکہ ایمان کا اصلی سبب تو اللہ کا ارادہ ہے اور مشیت ایمان نہیں تو پھر ایمان کیسے لا سکتے ہیں۔ حتی یروا العذاب الیم ۔ جب تک کہ دردناک عذاب (آنکھوں سے) نہ دیکھ لیں گے۔ یعنی مرنے کے وقت غرغرہ کی حالت میں ‘ یا مرنے کے بعد قبروں میں ‘ یا قیامت کے دن دوزخ میں اور یہ اوقات ایسے ہیں کہ ان میں ایمان لانا فرعون کیلئے سودمند نہ ہوا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 94–97

1 بظاہر یہ خطاب پیغمبر ﷺ کو ہے لیکن حقیقت میں آپ کو مخاطب بنا کر دوسروں کو سنانا مقصود ہے جو ایک امی کی زبان سے ایسے عظیم الشان حقائق و واقعات سن کر حیرت زدہ رہ جاتے ہیں اور جہل و تعصب کی وجہ سے ان کی واقعیت میں شک و تردد کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ آپ خود اپنی لائی ہوئی چیزوں میں کیسے شک و شبہ کرسکتے تھے اور جس کی طرف تمام دنیا کو دعوت دیتے اور پہاڑ سے زیادہ مضبوط یقین سننے والوں کے قلوب میں پیدا کردیتے تھے، اس کو خود اپنی زبان سے کیسے جھٹلاتے۔ چند آیات کے بعد صاف فرما دیا (قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْ دِيْنِيْ فَلَآ اَعْبُدُ الَّذِيْنَ تَعْبُدُوْنَ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 97 وَلَوْ جَآءَ تْہُمْ کُلُّ اٰیَۃٍ حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ جیسا کہ فرعون کا معاملہ ہوا کہ جب غرق ہونے لگا تب ایمان لایا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 96–97

105 شک کے مرتکب :۔ شک اور تکذیب کے کئی مراحل ہیں سب سے پہلے شک پیدا ہوتا ہے اگر اس کا ازالہ نہ کیا جائے اور شک ترقی کرکے جدل کی صورت اختیار کرلیتا ہے یعنی ایسا شخص دلیل بازیوں پر اتر آتا ہے اور دوسروں سے جھگڑا شروع کردیتا ہے۔ پھر اس کے بعد تکذیب کا درجہ آتا ہے یعنی ایسا انسان یکسر اللہ کی آیات کا انکار کردیتا ہے پھر جب وہ اس تکذیب میں پختہ ہوجاتا ہے تو پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ کوئی حق بات قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ اس سے قبول حق کی استعداد ہی چھن جاتی ہے۔ مہر کب لگتی ہے ؟ یہی وہ کیفیت ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر مہر لگنے سے تعبیر فرمایا ہے ایسے لوگوں کو اللہ کی کوئی بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 96–97

145۔ (اور اس وقت ” معائنہ “ عذاب کے بعد ایمان لانا بھی بےسود ہوگا) (آیت) ” حقت علیھم کلمت ربک “۔ کلمۃ رب ” پروردگار کی بات “ سے مراد اللہ تعالیٰ کا علم تکوینی ہے۔ اے وعیدہ انھم یصیرون الی العذاب (بحر) اے حکمہ وقضاء ہ المفسر عند الاشاعرۃ بارادتہ تعالیٰ (روح) (آیت) ” کل ایۃ “۔ یعنی توحید و رسالت کے کل شواہد و دلائل۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 93–103

آیت نمبر 93 تا 103 ترجمہ : اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانہ دیا اور وہ شام اور مصر تھا، اور ہم نے ان کو پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں، پھر انہوں نے اختلاف نہیں کیا مگر اس وقت جبکہ علم ان کے پاس آچکا بایں طور کہ بعض لوگ ایمان لائے اور بعض نے انکار کیا، یقیناً تیرا رب قیامت کے دن ان کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کر دے گا جس امر دین میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں مومنین کو نجات دے کر اور کافروں کو عذاب دیکر، پس اے محمد ! بالفرض اگر تم ان قصوں کے بارے میں جو ہم نے تمہاری طرف نازل کئے ہیں، شک میں ہو تو ان لوگوں سے پوچھ دیکھئے جو تم سے پہلی کتاب تورات کو پڑھتے ہیں اس لئے کہ وہ نازل کردہ (واقعات) ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولوجاء تھم کل ایۃ اگرچہ آجائے ان کے پاس ہر نشانی۔ جو صداقت پر دلالت کر رہی ہو اور ایمان کی مقتضی ہو ‘ کیونکہ ایمان کا اصلی سبب تو اللہ کا ارادہ ہے اور مشیت ایمان نہیں تو پھر ایمان کیسے لاسکتے ہیں۔ حتی یروا العذاب الیم۔ جب تک کہ دردناک عذاب (آنکھوں سے) نہ دیکھ لیں گے۔ یعنی مرنے کے وقت غرغرہ کی حالت میں ‘ یا مرنے کے بعد قبروں میں ‘ یا قیامت کے دن دوزخ میں اور یہ اوقات ایسے ہیں کہ ان میں ایمان لانا فرعون کیلئے سودمند نہ ہوا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(97) خواہ ان کے پاس تمام دلائل پہنچ جائیں جن کا وہ آپ سے مطالبہ کرتے ہیں، پھر بھی وہ ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ بدر، احد اور احزاب کے واقعات نہ دیکھ لیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَوْ جَاۗءَتْھُمْ كُلُّ اٰيَةٍ۔۔ : یعنی کوئی بھی نشانی یا معجزہ آجائے، وہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ عذاب الیم دیکھ لیں، مگر اس وقت انھیں ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکے گا، جیسا کہ فرعون اور اس کی قوم کو کچھ فائدہ نہیں ہوا اور اسی طرح دوسرے پیغمبروں کی امتوں کے کفار کو اللہ کا عذاب دیکھنے پر ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ دیکھیے سورة مومن (85) اس کی وجہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ اگر اس وقت ان کو چھوڑ دیا جائے تو وہ دوبارہ کفر کی روش پر چل نکلیں گے۔ دیکھیے سورة انعام (27، 28)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 96–97

آیت نمبر 96 قولہ تعالیٰ : (آیت) ان الذین حقت علیھم کلمت ربک لایوء منون اسی صورت میں اس کے بارے کلام پہلے گزرچکی ہے۔ حضرت قتادہ نے کہا ہے : یعنی وہ لوگ جن پر ان کی معصیت اور گناہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا غضب اور اس کی ناراضگی ثابت ہوچکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (آیت) ولو جاء تھم کل ایۃ اس میں کلا کو مونث ذکر کیا ہے اس لے کہ اس کلام کا معنی یہ ہے۔ ولوجاء تھم الآیات (اگر چہ ان کے پاس نشانیاں آجائیں) (آیت) حتی یروا العذاب الالیم یہاں تک کہ وہ درد ناک عذاب دیکھ لیں تو اس وقت وہ ایمان لائیں گے (لیکن) وہ انہیں نفع نہیں دے گا۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 96–97

1:۔ عبدالرزاق ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” ان الذین حقت علیہم کلمت ربک لایومنون (96) ولو جآ ءتہم کل ایۃ حتی یروا العذاب الالیم (97) سے مراد ہے کہ ان پر اللہ کا غصہ بہت ہوگیا بوجہ اس کے کہ انہوں نے نافرمانی کی۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَوْ [ اور اگرچہ (یعنی خواہ ) ] جَاۗءَتْھُمْ [ آئے ان کے پاس ] كُلُّ اٰيَةٍ [ ہر ایک نشانی ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] يَرَوُا [ وہ دیکھیں ] الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ ] درد ناک عذاب کو ] (آیت ۔ 97) حتی کا تعلق گزشتہ آیت کے لایؤمنون سے ہے ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَلَوْ جَآءَتْھُمْ کُلُّ اٰیَۃٍ حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ ) (اگرچہ ان کے پاس تمام دلیلیں آجائیں جب تک درد ناک عذاب کو نہ دیکھیں) اس وقت ایمان لانا معتبر نہ ہوگا اور اس وقت کا ایمان عذاب سے نہ بچا سکے گا۔ جیسا کہ فرعون نے ڈوبتے وقت یوں کہا کہ میں اسی معبود پر ایمان لایا جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے لیکن اس کا یہ ایمان اس کے لئے کچھ کام نہ آیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 94–100

اثبات حقانیت قرآن بطرز خاص قال اللہ تعالی۔ فان کنت فی شک مما انزلناالیک۔۔۔ الی۔۔ یروا العذاب الالیم (ربط) انبیاء سابقین کے واقعات بیان کرنے کے بعد قرآن کریم اوردین اسلام کی حقانیت معلوم کرنے کا ایک طریقہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر کفار قریش کو اس بارے میں شک ہے تو علماء اہل کتاب سے پوچھ لیں جن کے علم وفضل کا خود ان کو اقرار ہے چناچہ فرماتے ہیں سو اے انسان ! اگر تو اس قرآن کے من جانب اللہ ہونے کی طرف سے شک میں ہے جو ہم نے بواسطہ محمد رسول اللہ ﷺ تیری طرف اتارا ہے تو اس شک کے دفع کرنے کا سہل طریقہ یہ ہے کہ تو ان لوگوں سے پوچھ لے جو تجھ سے پہلے کتاب الہی پڑھتے ہیں یعنی توریت اور انجیل کے عالم ہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 96–97

106: جن لوگوں کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے وہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے اگرچہ تمام دلائل ان کے سامنے پیش کردئیے جائیں اور معجزات کا ان کو مشاہدہ کرادیا جائے۔ “ حَتّٰی یَرَوْا الخ ” ان لوگوں کے ایمان لانے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ وہ دردناک عذاب کی لپیٹ میں آجائیں مگر اس وقت کا ایمان بےسود ہوگا۔ “ اي عند الیاس فیومنون ولا ینفعھم او عند القیامة ولا یقبل منھم ” (مدارک ج 2 ص 135) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 93–97

ربط آیات گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے دو نافرمانوں قوموں کا حال بطور مثال ذکر کیا ہے تا کہ مشرکیں مکہ ، مشرکین عرب اور بعد میں آنے والے لوگوں کو عبرت حاصل ہو۔ ان میں سے ایک قوم نوح ہے جس کو اللہ نے کے نبی (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سا سال تک وعظ کیا اور قوم فرعون ہے جس کی طرف اللہ نے جلیل القدر انبیاء حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو مبعوث فرمایا۔ وہ مجرم قوم ایمان نہ لائی۔ انہوں نے ظلم وتعدی کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قوم نوح کو اللہ نے بذریعہ طوفان پانی میں ڈبویا جب کہ فرعون اور اس کے لشکر کو بحر قلزم کی موجوں میں لقمہ اجل بنایا۔ اللہ نے فرعون کی لاش کو عبرت کے لیے سمندر سے باہر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَوْ جَاۗءَتْھُمْ كُلُّ اٰيَۃٍ حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ۝ 97 لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 93–97

3 ؎ شام کے ملک میں یہ ان بنی اسرائیل کو جو حضرت موسیٰ کے بعد تھے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 97–98

فَلَوْلاَ کَانَتْ قَرْیَۃٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَہَآ اِیْمَانُہَآ اِلاَّ قَوْمَ یُوْنُسَ ط لَمَّآ اٰمَنُوْا کَشَفْنَا عَنْہُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَمَتَّعْنٰہُمْ اِلٰی حِیْنٍ ۔ (یونس : 98) (پس کیوں نہ ہوا کہ کوئی بستی ایمان لاتی کہ اس کا ایمان اس کو نفع دیتابجز یونس (علیہ السلام) کی قوم کے جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے دور کردیا ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں، اور ایک وقت تک ان کو زندگی سے بہرہ مند ہونے کا موقع دیا۔ ) قریش کو تربیت اس آیت کریمہ میں معلوم ہوتا ہے بالواسطہ مشرکین مکہ کو توجہ دلائی جارہی ہے کہ تم بھی گمراہ قوموں کی طرح ہمیشہ نبی کریم ﷺ سے معجزات طلب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 94–97

فہم القرآن ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی قوم کے مصائب کا تذکرہ کرنے کے بعد آپ ﷺ کو تسلی اور تشفی دی گئی ہے۔ اے رسول ﷺ ! جو کچھ ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے اگر آپ کو اس بارے میں کوئی شک ہے تو آپ ان لوگوں سے پوچھ لیں۔ جن کو آپ سے پہلے کتاب عنایت کی گئی ہے یقین فرمائیں کہ آپ کے پاس حق پہنچ چکا ہے لہٰذا آپ کو شک کرنے والوں کا ساتھی نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی ان لوگوں کا ساتھ دینا چاہیے جو اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ یہ لوگ ضرور نقصان پائیں گے۔ یقیناً آپ کے رب کا فرمان سچ ہے کہ اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے ان آیات میں رسول کریم ﷺ کی ذات کو مخاطب فرمانے کے کئی مقاصد ہیں۔ 1۔ قرآن مجید کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

97: وَلَوْجَآئَ تْھُمْ کُلُّ اٰیَۃٍ حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ (اور اگر ہر نشانی ان کے پاس آجائے یہاں تک کہ عذاب درد ناک کو نہ دیکھ لیں) یعنی ناامیدی کے وقت پس وہ ایمان لائیں اور ان کو وہ ایمان نفع نہ دے گا۔ نمبر 2۔ قیامت میں اس وقت کسی کا ایمان قابل قبول نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

97۔” ولو جاء تھم کل ایۃ “ دلالت ” حتی یروالعذاب العلیم “۔ اخفش فرماتے ہیں کل کے فعل کو مؤنث لایا گیا ہے اس لئے کہ یہ مؤنث کی صرف مضاف ہے اور وہ اس کا قول آیۃ ہے اور لفظ کل مذکر اور مؤنث کیلئے برابر استعمال ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 94–97

94۔ 97۔ اوپر یہود کی پھوٹ کا حال تھا کہ اس پھوٹ میں بعضے ان میں سے راہ راست پر آگئے اور جان گئے کہ تورات میں جن نبی آخر الزمان کے اوصاف ہیں بلاشک یہ وہی نبی ہیں اس ذکر کو پورا کرنے کے لئے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ ﷺ کہ اگر تمہیں اس میں کچھ شک ہو کہ آیا تمہارے اوصاف تفصیل سے تورات میں ہیں یا نہیں تو تم ان لوگوں سے دریافت کرلو جو اگلے رسولوں کی کتابیں دیکھے ہوئے ہیں کیوں کہ جو اہل کتاب تم پر ایمان لا چکے ہیں جیسے عبد اللہ بن سلام وہ اب کوئی بات چھپانے کے نہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے کہا کہ نہ میں شکی کرتا ہوں اور نہ مجھے پوچھنے کی ضرورت ہے 1 ؎ پھر اللہ جل شانہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 96–97

آیت : ( 96-97) (ان الذین حقت علیھم کلمت ربک) ” جن لوگوں کے بارے میں آپ کے رب کا حکم قرار پا چکا ہے۔ “ یعنی وہ لوگ جن پر یہ بات صادق آئی کہ وہ گمراہ ‘ بھٹکے ہوئے اور جہنمی ہیں ‘ تو یہ لابدی ہے کہ وہ وہی کچھ کریں گے جو اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر میں مقدر ہوچکا ہے اگر ان کے پاس ہر قسم کی نشانی اور معجزہ بھی آجائے ‘ تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ آیت و معجازات ان کی سرکشی اور گمراہی میں اضافہ ہی کرتے ہیں۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا ‘ بلکہ انہوں نے حق کو جھٹلا کر ‘ جب حق ان کے پاس پہلی مرتبہ آیا خود اپنے آپ پر ظلم کیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر ‘ کانوں پر اور آنکھوں پر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–109

قول باری ہے قد اجیبت دعوتکما تم دونوں کی دعا قبول کی گئی ۔ دعا کی نسبت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) دونوں کی طرف سے کی گئی ہے ۔ ابو العالیہ ، عکرمہ ، محمد بن کعب اور ربیع بن موسیٰ کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دعا مانگتے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے، اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو دعا مانگنے والے قرار دیا ۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ آمین بھی دعا ہے اور جب اس کا دعا ہونا ثابت ہوگیا تو پھر اس کا اخفاء اس کے جہر سے افضل ہوگا اس لیے کہ قول باری ہے ادعوا ربکم تضرعا ً و خفیۃ ۔ اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے پکارو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

165 ۔ ہٹ دھرموں نے کبھی ایمان نہیں لانا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے ہٹ دھرم لوگ کبھی ایمان نہیں لائیں گے اگرچہ ان کے پاس ہر نشانی بھی آجائے کہ ضد اور ہٹ دھرمی کا لازمی نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کے دلوں پر ایسی مہر لگ جاتی ہے کہ وہ حق اور ہدایت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو بات صرف معجزہ اور نشانی کی نہیں بلکہ اصل مدار طلب صادق اور آمادگی قبولیت پر ہے۔ اس کے بغیر اگر وہ ہر نشانی دیکھ لیں تو کبھی انہوں نے ایمان نہیں لانا۔ سو عناد اور ہٹ دھرمی محرومی کی جڑ اور بنیاد ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو انسان کے بناؤ بگاڑ اور اس کی صحت و فساد کا اصل دارومدار اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 94–98

نبی کو خطاب اور قوم یونس کی برأت تشریح : ان آیات میں رب العلمین اپنے پیارے رسول ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر تمہیں کبھی انسان ہونے کے ناطے کتاب (قرآن) پر کوئی شک یا وسوسہ پیدا ہو تو اس کو دور کرنے کے لیے اول تو کلام پاک خود ہی بہت بڑی دلیل محکم ہے اور بہترین ہے ہر پہلو سے مگر انسانی تسلی اور دلیل کے لیے بڑی ہی صاف راہ ایک یہ بھی ہے کہ اس کتاب کے بارے میں تمام اہل کتاب جن میں سب سے بڑی دو قومیں ہیں یہودی اور عیسائی۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابیں دی ہیں، یعنی تورات اور انجیل۔ ان کتابوں میں ہر قسم کے قوانین اصول لکھے ہوئے موجود ہیں اور نبی اکرم ﷺ کے بارے میں بڑی ہی وضاحت سے بتایا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 93–103

آیات 93 تا 103 اسرار و معارف پھر ان نعمتوں کا تذکرہ جو بنی اسرائیل کو عطاہوئیں کہ بظاہرفرعون اور اس کی ساری حکومت انھیں رسوا کرنے پہ کمرباندھے ہوئے تھی کوئی ظاہری سبب ان کی نجات کا نہ تھا کہ انھوں نے اللہ پر بھر وسہ کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی میں نکل کھڑے ہوئے تو فرعون اور اس کا لشکرتباہ ہوگئے اور نبی اسرائیل کو وہ خوبصورت اور سرسبز و شاداب وادی جو انبیائے سابقین کا مسکن بھی تھی اور دنیاوی ودینی اعتبار سے ان کی پسنددیدہ بھی تھی یعنی اردن و فلسطین کی ارض مقدسہ عطاہوئی اور سلطنت مصر بھی انہی کو مل گئی اور بہترین نعمتیں بھی بطور رزق نصیب ہوئیں۔ آباد گھر تنومنداولاداچھی بیویاں شاداب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 ۔ مگر اس وقت ایمان لانے کا کوئی فائدہ انہیں نہیں پہنچ سکے گا جیسا کہ فرعون اور اس کی قوم کو کچھفائدہ نہ ہوا۔ (ابن کثیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(10:97) لایؤمنون پر وقف نہیں ہے۔ عبارت یوں ہے۔ لایؤمنون ولو جاء تہم کل ایۃ۔ اگرچہ ان کے پاس ساری نشانیاں آجائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (حتی کہ وہ دردناک عذاب میں اپنے آپ کو گھرا ہوا پائیں گے اس وقت ان کا ایمان ان کو نفع بخش نہ ہوگا) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 94–97

لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 97 ان کنت (اگر تو ہے) اسئل (تو سوال کر) یفرء ون (وہ پڑھتے ہیں) لاتکونن (تو ہرگز نہ ہونا) الممترین (شک کرنے والے) حقت (ثابت ہوگئی) حتی بروا (جب تک وہ دیکھ نہ لیں گے) تشریح : آیت نمبر 94 تا 97 جب نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ اپنے اولین مخاطب کفار عرب کے سامنے قرآن کریم، اس کی آیات، حقائق اور گزشتہ انبیاء کرام کے واقعات بیان فرماتے تو وہ لوگ حرصت زدہ رہ جاتے۔ ایک بات کے سمجھ میں آنے کے باوجود یا تو محض ضد، حسد ، ہٹ دھرمی اور تعصب کی بنا پر ان آیات کا انکار کردیتے یا شک و شبہ کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کرنے تاکہ ان لوگوں کے قدم راہ حق سے ڈگمگا جائیں جو اس طرح…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 94–97

کفار سے علیحدہ رہنے کا حکم اوپر یہود کی پھوٹ کا حال تھا کہ اس پھوٹ میں بعضے ان میں سے راہ راست پر آگئے اور جان گئے کہ توراۃ میں جن نبی آخرالزماں کے اوصاف ہیں بلا شک یہ وہی نبی ہیں۔ اس ذکر کو پورا کرنے لئے ان آیتوں میں فرمایا :" اے رسول ﷺ اللہ کے ! اگر تمہیں اس میں کچھ شک ہو کہ آیا تمہارے اوصاف تفصیل سے توراۃ میں ہیں یا نہیں، تو تم آج لوگوں سے دریافت کرلو جو اگلے رسولوں کی کتابیں دیکھے ہوئے ہیں۔ کیونکہ جو اہل کتاب تم پر ایمان لا چکے ہیں جیسے عبداللہ بن سلام ؓ وہ اب کوئی بات چھپانے کے نہیں "۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ نہ میں شک کرتا ہوں اور نہ مجھے پوچھنے کی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 94–97

(ف 1) قرآن حکیم کا انداز بیان ہے کہ مخاطب حضور ﷺ کو کیا جاتا ہے اور مقصود دوسرے ہوتے ہیں ، کیونکہ آپ ترجمان وحی ہیں اور انسانیت کے وکیل بھی اس لئے اللہ تعالیٰ بالوحی انہیں سے تخاطب فرماتے ہیں ، ورنہ آنحضرت ﷺ شک وریب سے پاک ہیں ، وہ تو سراپا یقین و ایمان ہیں ، حضرت ابن عباس ؓ سعید بن جبیر ، ؓ قتادہ ؓ اور حسن بصری (رح) سے روایت ہے کہ ” لم یسئلک رسول اللہ “۔ یعنی حضور ﷺ کو کبھی شک نہیں پیدا ہوا ۔ اور غور فرمائیے جو دوسروں کو ایمان ویقین کی نعمتیں بانٹ رہا ہے ، جو دلوں کو نور ومعرف سے اجاگر کر رہا ہے کیا وہ خود سرمردود ہو سکتا ہے ۔ غرض یہ ہے کہ قرآن سابقہ کتب کا موید ہے توریت وانجیل میں صدہا پیش…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

97 جب تک درد ناک عذاب کو نہ دیکھ لیں گے یعنی جن لوگوں کے متعلق یہ بات ازل میں طے ہوچکی کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے وہ تمام نشانیوں کا معائنہ کرنے کے باوجود بھی ایمان نہیں لائیں گے تاوقتیکہ درد ناک عذاب کو نہ دیکھ لیں۔ ظاہر ہے کہ معائنہ عذاب کے بعد ایمان مقبول نہیں یا علم ازلی کی یہ بات کہ شیطان اور اس کے متبعین سے دوزخ کو بھر دوں گا یہ کہ جن پر حکم عذاب ثابت ہوچکا ہے ان کا احوال مذکور ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ٹھیک آئی بات یعنی ابلیس کو جو فرمایا تھا کہ تجھ کو اور تیرے ساتھیوں کو دوزخ میں بھر دوں گا 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 96–98

ف 1۔ مگر بعض حکمتوں کی وجہ سے یہ نہ چاہا اس لیے سب ایمان نہیں لائے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نہ ماننے والوں کے پاس کتنی ہی نشانیاں آجائیں وہ ایمان لانے کے نہیں 133 ؎ کتنے ہی لوگ ہیں جو ہماری آیتوں اور نشانیوں میں غور و فکر نہیں کرتے اور نہ ہی عبرت حاصل کرتے ہیں ورنہ اگر کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہے تو عالم کے ایک ایک زرہ میں ایسی نشانیاں موجود ہیں جن کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ اور اس کی قدرت کا ملہ کا پہچانا جاسکتا ہے لیکن جو لوگ جان بوجھ کر اندھے اور بہرے بنے رہیں اور دیکھنے اور سننے کی کوشش ہی نہ کریں وہ ان سے کیونکر فائدہ حاصل کرسکتے ہیں یہ لوگ ایسے مدہوش ہیں کہ اگر آنکھوں سے بھی اس عذاب کو دیکھ لیں تو بھی ماننے والے نہیں اگرچہ عذاب دیکھ کر ماننا بذات خود بھی سود مند نہیں ہو سکتا ۔ ہاں !…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 95–97

In the fourth (95), fifth (96) and sixth (97) verses, the same subject finds support and emphasis while carrying a warning to those who are heedless.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 96–97

97. The statement 'the word of your Lord has been fulfilled' refers to those who are not interested in seeking truth; who, by dint of their apathy, bigotry, stubbornness, excessive worldliness and total unconcern about the After-life, make their hearts immune to the truth. God's judgement about such persons is that they will not be blessed with faith.

Read the full tafseer →