Explained with ayahs 94–97
ٹھوس دلائل کے باوجود انکار قابل مذمت ہے
جب یہ آیت اتری تو حضور ﷺ نے فرمایا نہ مجھے کچھ شک نہ مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت۔ پس اس آیت سے مطلب صرف اتنا ہے کہ آپ کی امت کے ایمان کی مضبوطی کی جائے اور ان سے بیان کیا جائے کہ اگلی الٰہامی کتابوں میں بھی ان کے نبی کی صفتیں موجود ہیں، خود اہل کتاب بھی بخوبی واقف ہیں۔ جیسے (اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْل01507) 7۔ الاعراف :157) میں ہے۔ ان لوگوں پر تعجب اور افسوس ہے ان کی کتابوں میں اس نبی آخر الزمان کی تعریف و توصیف اور جان پہچان ہونے کے باوجود بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
سورة یُوْنُس 97
یعنی یہ قول کہ جو لوگ خود طالب حق نہیں ہوتے، اور جو اپنے دلوں پر ضد، تعصب اور ہٹ دھرمی کے قفل چڑھائے اور جو دنیا کے عشق میں مدہوش اور عاقبت سے بےفکر ہوتے ہیں انہیں ایمان کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
چو تھی، پانچویں اور چھٹی آیتوں میں اسی مضمون کی تائید و تاکید اور غفلت برتنے والوں کو تنبیہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
96۔ 97:۔ اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ۔ وَلَوْ جَاۗءَتْھُمْ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ۔
ایک سنت الٰہی : اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ۔۔۔ الایۃ، یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کا اشارہ پیچھے آیت 33 میں گزر چکا ہے کذلک حقت کلمۃ ربک علی الذین فسقوا انہم لایومنون (اسی طرح تیرے رب کی بات ان لوگوں پر پوری ہوچکی ہے جن لوگوں نے نافرمانی کی ہے، وہ ایمان نہیں لانے کے) یعنی جو لوگ حق واضح ہونے کے باوجود اندھے بہرے بنے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر کردیا کرتا ہے جس کے بعد ان کو ایمان کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔
وَلَوْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
95۔ 1 یہ بھی دراصل مخاطب امت کو سمجھایا جا رہا ہے کہ تکذیب کا راستہ خسران اور تباہی کا راستہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
38: اس آیت میں اگرچہ بظاہر خطاب آنحضرت ﷺ کو ہے ؛ لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ آپ کو قرآن کریم کی سچائی میں کوئی شک ہو ہی نہیں سکتا اس لئے درحقیقت سنانا دوسروں کو مقصود ہے، جب آپ کو یہ انتباہ کیا جارہا ہے تو دوسروں کو تو اور زیادہ محتاط ہونا چاہیے۔
Read the full tafseer →ان الذین حقت علیھم کلمت ربک لایؤمنون۔ بیشک جن لوگوں کیلئے آپ کے رب کا حکم (فیصلہ ازلی) طے ہوچکا (وہ ایمان نہیں لائیں گے) وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
حَقَّتْ واجب ہوگیا۔ کلمۂ رب سے مراد ہے ازلی فیصلہ کہ وہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ مالک ‘ ترمذی اور ابو داؤد نے مسلم بن یسار کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب سے آیت وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْم بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ وَذُرِّیَّتَھُمْ کا معنی دریافت کیا گیا تو آپ نے جواب دیا : میں نے خود سنا کہ جب اس آیت کا (مرادی اور تشریحی) معنی رسول اللہ (ﷺ) سے دریافت کیا گیا تو حضور (ﷺ) نے فرمایا : اللہ نے آدم کو پیدا کیا ‘ پھر ان کی پشت پر اپنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
1 بظاہر یہ خطاب پیغمبر ﷺ کو ہے لیکن حقیقت میں آپ کو مخاطب بنا کر دوسروں کو سنانا مقصود ہے جو ایک امی کی زبان سے ایسے عظیم الشان حقائق و واقعات سن کر حیرت زدہ رہ جاتے ہیں اور جہل و تعصب کی وجہ سے ان کی واقعیت میں شک و تردد کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ آپ خود اپنی لائی ہوئی چیزوں میں کیسے شک و شبہ کرسکتے تھے اور جس کی طرف تمام دنیا کو دعوت دیتے اور پہاڑ سے زیادہ مضبوط یقین سننے والوں کے قلوب میں پیدا کردیتے تھے، اس کو خود اپنی زبان سے کیسے جھٹلاتے۔ چند آیات کے بعد صاف فرما دیا (قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْ دِيْنِيْ فَلَآ اَعْبُدُ الَّذِيْنَ تَعْبُدُوْنَ…
Read the full tafseer →آیت 96 اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْہِمْ کَلِمَتُ رَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ
جو لوگ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے قانون خداوندی کی زد میں آ چکے ہیں اور ان کے دلوں پر آخری مہر لگ چکی ہے ‘ اب ایسے لوگوں کو ایمان نصیب نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
105 شک کے مرتکب :۔ شک اور تکذیب کے کئی مراحل ہیں سب سے پہلے شک پیدا ہوتا ہے اگر اس کا ازالہ نہ کیا جائے اور شک ترقی کرکے جدل کی صورت اختیار کرلیتا ہے یعنی ایسا شخص دلیل بازیوں پر اتر آتا ہے اور دوسروں سے جھگڑا شروع کردیتا ہے۔ پھر اس کے بعد تکذیب کا درجہ آتا ہے یعنی ایسا انسان یکسر اللہ کی آیات کا انکار کردیتا ہے پھر جب وہ اس تکذیب میں پختہ ہوجاتا ہے تو پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ کوئی حق بات قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ اس سے قبول حق کی استعداد ہی چھن جاتی ہے۔
مہر کب لگتی ہے ؟ یہی وہ کیفیت ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر مہر لگنے سے تعبیر فرمایا ہے ایسے لوگوں کو اللہ کی کوئی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
145۔ (اور اس وقت ” معائنہ “ عذاب کے بعد ایمان لانا بھی بےسود ہوگا) (آیت) ” حقت علیھم کلمت ربک “۔ کلمۃ رب ” پروردگار کی بات “ سے مراد اللہ تعالیٰ کا علم تکوینی ہے۔ اے وعیدہ انھم یصیرون الی العذاب (بحر) اے حکمہ وقضاء ہ المفسر عند الاشاعرۃ بارادتہ تعالیٰ (روح) (آیت) ” کل ایۃ “۔ یعنی توحید و رسالت کے کل شواہد و دلائل۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–103
آیت نمبر 93 تا 103
ترجمہ : اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانہ دیا اور وہ شام اور مصر تھا، اور ہم نے ان کو پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں، پھر انہوں نے اختلاف نہیں کیا مگر اس وقت جبکہ علم ان کے پاس آچکا بایں طور کہ بعض لوگ ایمان لائے اور بعض نے انکار کیا، یقیناً تیرا رب قیامت کے دن ان کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کر دے گا جس امر دین میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں مومنین کو نجات دے کر اور کافروں کو عذاب دیکر، پس اے محمد ! بالفرض اگر تم ان قصوں کے بارے میں جو ہم نے تمہاری طرف نازل کئے ہیں، شک میں ہو تو ان لوگوں سے پوچھ دیکھئے جو تم سے پہلی کتاب تورات کو پڑھتے ہیں اس لئے کہ وہ نازل کردہ (واقعات) ان کے…
Read the full tafseer →ان الذین حقت علیھم کلمت ربک لایؤمنون۔ بیشک جن لوگوں کیلئے آپ کے رب کا حکم (فیصلہ ازلی) طے ہوچکا (ہ ہ ایمان نہیں لائیں گے) وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
حَقَّتْ واجب ہوگیا۔ کلمۂ رب سے مراد ہے ازلی فیصلہ کہ وہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ مالک ‘ ترمذی اور ابو داؤد نے مسلم بن یسار کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب سے آیت وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْم بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ وَذُرِّیَّتَھُمْ کا معنی دریافت کیا گیا تو آپ نے جواب دیا : میں نے خود سنا کہ جب اس آیت کا (مرادی اور تشریحی) معنی رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا تو حضور ﷺ نے فرمایا : اللہ نے آدم کو پیدا کیا ‘ پھر ان کی پشت پر اپنا…
Read the full tafseer →(96) بیشک جن لوگوں کے متعلق میں علم ازلی میں عذاب ثابت ہوچکا ہے وہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حد تک ارادہ و اختیار دیا ہے، جس کے مطابق وہ نیکی یا بدی میں سے جس پر چاہے عمل کرسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کو وہ سب کچھ معلوم ہے جو شروع سے اب تک واقع ہوا، اسی طرح وہ آئندہ ہونے والی ہر بات کا بھی پورا علم رکھتا ہے اور اس کی رو سے اسے پہلے ہی معلوم ہے کہ اپنے ارادہ و اختیار کو استعمال کرتے ہوئے کون حق کو قبول کرے گا اور کون کفر کی راہ اختیار کرے گا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے اس ازلی علم کو ”کَلِمَتُ رَبِّکَ“ کہا گیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کفر میں اور اللہ کی نافرمانی میں اس قدر غرق ہوجاتے ہیں کہ ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
آیت نمبر 96
قولہ تعالیٰ : (آیت) ان الذین حقت علیھم کلمت ربک لایوء منون اسی صورت میں اس کے بارے کلام پہلے گزرچکی ہے۔ حضرت قتادہ نے کہا ہے : یعنی وہ لوگ جن پر ان کی معصیت اور گناہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا غضب اور اس کی ناراضگی ثابت ہوچکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (آیت) ولو جاء تھم کل ایۃ اس میں کلا کو مونث ذکر کیا ہے اس لے کہ اس کلام کا معنی یہ ہے۔ ولوجاء تھم الآیات (اگر چہ ان کے پاس نشانیاں آجائیں) (آیت) حتی یروا العذاب الالیم یہاں تک کہ وہ درد ناک عذاب دیکھ لیں تو اس وقت وہ ایمان لائیں گے (لیکن) وہ انہیں نفع نہیں دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
1:۔ عبدالرزاق ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” ان الذین حقت علیہم کلمت ربک لایومنون (96) ولو جآ ءتہم کل ایۃ حتی یروا العذاب الالیم (97) سے مراد ہے کہ ان پر اللہ کا غصہ بہت ہوگیا بوجہ اس کے کہ انہوں نے نافرمانی کی۔
Read the full tafseer →اِنَّ [ بیشک ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ ] حَقَّتْ [ حق ہوا ] عَلَيْهِمْ [ جن پر ] كَلِمَتُ رَبِّكَ [ آپ کے رب کا فرمان ] لَا يُؤْمِنُوْنَ [ وہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْھِمْ کَلِمَتُ رَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ) بلاشبہ جن لوگوں کے بارے میں آپ کے رب کی یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے وہ کبھی ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–100
اثبات حقانیت قرآن بطرز خاص
قال اللہ تعالی۔ فان کنت فی شک مما انزلناالیک۔۔۔ الی۔۔ یروا العذاب الالیم
(ربط) انبیاء سابقین کے واقعات بیان کرنے کے بعد قرآن کریم اوردین اسلام کی حقانیت معلوم کرنے کا ایک طریقہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر کفار قریش کو اس بارے میں شک ہے تو علماء اہل کتاب سے پوچھ لیں جن کے علم وفضل کا خود ان کو اقرار ہے چناچہ فرماتے ہیں سو اے انسان ! اگر تو اس قرآن کے من جانب اللہ ہونے کی طرف سے شک میں ہے جو ہم نے بواسطہ محمد رسول اللہ ﷺ تیری طرف اتارا ہے تو اس شک کے دفع کرنے کا سہل طریقہ یہ ہے کہ تو ان لوگوں سے پوچھ لے جو تجھ سے پہلے کتاب الہی پڑھتے ہیں یعنی توریت اور انجیل کے عالم ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
106: جن لوگوں کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے وہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے اگرچہ تمام دلائل ان کے سامنے پیش کردئیے جائیں اور معجزات کا ان کو مشاہدہ کرادیا جائے۔ “ حَتّٰی یَرَوْا الخ ” ان لوگوں کے ایمان لانے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ وہ دردناک عذاب کی لپیٹ میں آجائیں مگر اس وقت کا ایمان بےسود ہوگا۔ “ اي عند الیاس فیومنون ولا ینفعھم او عند القیامة ولا یقبل منھم ” (مدارک ج 2 ص 135) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–97
ربط آیات
گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے دو نافرمانوں قوموں کا حال بطور مثال ذکر کیا ہے تا کہ مشرکیں مکہ ، مشرکین عرب اور بعد میں آنے والے لوگوں کو عبرت حاصل ہو۔ ان میں سے ایک قوم نوح ہے جس کو اللہ نے کے نبی (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سا سال تک وعظ کیا اور قوم فرعون ہے جس کی طرف اللہ نے جلیل القدر انبیاء حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو مبعوث فرمایا۔ وہ مجرم قوم ایمان نہ لائی۔ انہوں نے ظلم وتعدی کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قوم نوح کو اللہ نے بذریعہ طوفان پانی میں ڈبویا جب کہ فرعون اور اس کے لشکر کو بحر قلزم کی موجوں میں لقمہ اجل بنایا۔ اللہ نے فرعون کی لاش کو عبرت کے لیے سمندر سے باہر…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْہِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 96 ۙ
كلم
الكلْمُ : التأثير المدرک بإحدی الحاسّتين، فَالْكَلَامُ : مدرک بحاسّة السّمع، والْكَلْمُ : بحاسّة البصر، وكَلَّمْتُهُ : جرحته جراحة بَانَ تأثيرُها،
( ک ل م ) الکلم ۔
یہ اصل میں اس تاثیر کو کہتے ہیں جس کا ادراک دو حاسوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہوسکے چناچہ کلام کا ادراک قوت سامعہ کیساتھ ہوتا ہے ۔ اور کلم ( زخم ) کا ادراک قوت بصر کے ساتھ ۔ محاورہ ہے ۔ کلمتہ ۔ میں نے اسے ایسا زخم لگایا ۔ جس کا نشان ظاہر ہوا اور چونکہ یہ دونوں ( یعنی کلام اور کلم ) معنی تاثیر میں مشترک ہیں ۔
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–97
3 ؎ شام کے ملک میں یہ ان بنی اسرائیل کو جو حضرت موسیٰ کے بعد تھے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْہِمْ کَلِمَتُ رَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔ وَلَوْ جَآئَ تْہُمْ کُلُّ اٰیَۃٍ حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ ۔ (یونس : 96، 97)
(بےشک جن لوگوں پر پوری ہوچکی ہے تیرے رب کی بات وہ ایمان نہیں لائیں گے خواہ ان کے پاس ساری ہی نشانیاں آجائیں جب تک وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ )
سُنتِ الٰہی
اللہ کے نبیوں کو دعوت و تبلیغ کی کٹھن ذمہ داری سے گزرنا پڑتا ہے اور اس کشمکش میں جو انسانی تجربات پیش آتے ہیں ان میں اتنا تنوع ہوتا ہے کہ اللہ کے نبی کی ذہنی کیفیتیں عجیب و غریب تغیرات سے دوچار رہتی ہیں وہ جس اخلاص و توانائی سے انذار وتبشیر کرتا ہے اور اپنے ایک ایک مخاطب کی باتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
فہم القرآن
ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی قوم کے مصائب کا تذکرہ کرنے کے بعد آپ ﷺ کو تسلی اور تشفی دی گئی ہے۔
اے رسول ﷺ ! جو کچھ ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے اگر آپ کو اس بارے میں کوئی شک ہے تو آپ ان لوگوں سے پوچھ لیں۔ جن کو آپ سے پہلے کتاب عنایت کی گئی ہے یقین فرمائیں کہ آپ کے پاس حق پہنچ چکا ہے لہٰذا آپ کو شک کرنے والوں کا ساتھی نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی ان لوگوں کا ساتھ دینا چاہیے جو اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ یہ لوگ ضرور نقصان پائیں گے۔ یقیناً آپ کے رب کا فرمان سچ ہے کہ اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے ان آیات میں رسول کریم ﷺ کی ذات کو مخاطب فرمانے کے کئی مقاصد ہیں۔
1۔ قرآن مجید کا…
Read the full tafseer →96: اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْھِمْ کَلِمَتُ رَبِّکَ (بیشک وہ لوگ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی) ان پر وہ بات ثابت ہوچکی جو لوح محفوظ میں ہے اور اسکی خبر ملائکہ کو دے دی گئی کہ ان کی موت کفر پر ہوگی یا نمبر 2۔ کلمۃ ربک سے سورة اعراف 18 لاملئنّ جہنّممراد ہے۔ لَایُؤْمِنُوْنَ ۔ (وہ ایمان نہیں لانے کے) اس پر وقف نہیں ہے کیونکہ ان کا ماقبل سے تعلق ہے۔
Read the full tafseer →96۔ ” ان الذین حقت علیھم کلمۃ ربک “ بعض نے کہا ہے کہ اس کی لعنت اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مراد ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول مراد ہے کہ یہ لوگ جہنم میں جائیں گے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ” لا یومنون “ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
94۔ 97۔ اوپر یہود کی پھوٹ کا حال تھا کہ اس پھوٹ میں بعضے ان میں سے راہ راست پر آگئے اور جان گئے کہ تورات میں جن نبی آخر الزمان کے اوصاف ہیں بلاشک یہ وہی نبی ہیں اس ذکر کو پورا کرنے کے لئے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ ﷺ کہ اگر تمہیں اس میں کچھ شک ہو کہ آیا تمہارے اوصاف تفصیل سے تورات میں ہیں یا نہیں تو تم ان لوگوں سے دریافت کرلو جو اگلے رسولوں کی کتابیں دیکھے ہوئے ہیں کیوں کہ جو اہل کتاب تم پر ایمان لا چکے ہیں جیسے عبد اللہ بن سلام وہ اب کوئی بات چھپانے کے نہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے کہا کہ نہ میں شکی کرتا ہوں اور نہ مجھے پوچھنے کی ضرورت ہے 1 ؎ پھر اللہ جل شانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
آیت : ( 96-97)
(ان الذین حقت علیھم کلمت ربک) ” جن لوگوں کے بارے میں آپ کے رب کا حکم قرار پا چکا ہے۔ “ یعنی وہ لوگ جن پر یہ بات صادق آئی کہ وہ گمراہ ‘ بھٹکے ہوئے اور جہنمی ہیں ‘ تو یہ لابدی ہے کہ وہ وہی کچھ کریں گے جو اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر میں مقدر ہوچکا ہے اگر ان کے پاس ہر قسم کی نشانی اور معجزہ بھی آجائے ‘ تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ آیت و معجازات ان کی سرکشی اور گمراہی میں اضافہ ہی کرتے ہیں۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا ‘ بلکہ انہوں نے حق کو جھٹلا کر ‘ جب حق ان کے پاس پہلی مرتبہ آیا خود اپنے آپ پر ظلم کیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر ‘ کانوں پر اور آنکھوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–109
قول باری ہے قد اجیبت دعوتکما تم دونوں کی دعا قبول کی گئی ۔ دعا کی نسبت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) دونوں کی طرف سے کی گئی ہے ۔ ابو العالیہ ، عکرمہ ، محمد بن کعب اور ربیع بن موسیٰ کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دعا مانگتے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے، اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو دعا مانگنے والے قرار دیا ۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ آمین بھی دعا ہے اور جب اس کا دعا ہونا ثابت ہوگیا تو پھر اس کا اخفاء اس کے جہر سے افضل ہوگا اس لیے کہ قول باری ہے ادعوا ربکم تضرعا ً و خفیۃ ۔ اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے پکارو۔
Read the full tafseer →164 ۔ عناد و ہٹ دھرمی کا نتیجہ و انجام دائمی محرومی۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں پر آپ کے رب کی بات پکی ہوگئی وہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔ پس ایسے محروم القسمت لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ صدمے میں نہ پڑیں کہ انہوں نے اپنے خبث باطن اور سوء اختیار کی بناء پر اپنے آپ کو خود اس شرف کی اہلیت اور صلاحیت سے محروم کردیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس ایسوں سے ایمان کی توقع ہی نہیں رکھنی چاہیے کہ انہوں نے ایمان لانا ہی نہیں۔ تاکہ اس قطع طمع کے بعد آپ کو پریشانی نہ ہو۔ سو اس ارشاد ربانی میں اس سنت الہی کا حوالہ ہے جو اللہ پاک کی اس کائنات میں کارفرما ہے کہ جو لوگ عناد اور ہٹ دھرمی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
نبی کو خطاب اور قوم یونس کی برأت
تشریح : ان آیات میں رب العلمین اپنے پیارے رسول ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر تمہیں کبھی انسان ہونے کے ناطے کتاب (قرآن) پر کوئی شک یا وسوسہ پیدا ہو تو اس کو دور کرنے کے لیے اول تو کلام پاک خود ہی بہت بڑی دلیل محکم ہے اور بہترین ہے ہر پہلو سے مگر انسانی تسلی اور دلیل کے لیے بڑی ہی صاف راہ ایک یہ بھی ہے کہ اس کتاب کے بارے میں تمام اہل کتاب جن میں سب سے بڑی دو قومیں ہیں یہودی اور عیسائی۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابیں دی ہیں، یعنی تورات اور انجیل۔ ان کتابوں میں ہر قسم کے قوانین اصول لکھے ہوئے موجود ہیں اور نبی اکرم ﷺ کے بارے میں بڑی ہی وضاحت سے بتایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–103
آیات 93 تا 103
اسرار و معارف
پھر ان نعمتوں کا تذکرہ جو بنی اسرائیل کو عطاہوئیں کہ بظاہرفرعون اور اس کی ساری حکومت انھیں رسوا کرنے پہ کمرباندھے ہوئے تھی کوئی ظاہری سبب ان کی نجات کا نہ تھا کہ انھوں نے اللہ پر بھر وسہ کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی میں نکل کھڑے ہوئے تو فرعون اور اس کا لشکرتباہ ہوگئے اور نبی اسرائیل کو وہ خوبصورت اور سرسبز و شاداب وادی جو انبیائے سابقین کا مسکن بھی تھی اور دنیاوی ودینی اعتبار سے ان کی پسنددیدہ بھی تھی یعنی اردن و فلسطین کی ارض مقدسہ عطاہوئی اور سلطنت مصر بھی انہی کو مل گئی اور بہترین نعمتیں بھی بطور رزق نصیب ہوئیں۔ آباد گھر تنومنداولاداچھی بیویاں شاداب…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ یعنی وہ کفر پر مرینگے اور اپنی ضد، تعصب اور ہٹ دھرمی کی بدولت انہیں ایمان لانے کی توفیق نصیب نہ ہوگی۔ (کذافی شوکانی) ۔
Read the full tafseer →(10:96) حقت علیہم کلمیت ربک۔ کے لفظی معنی ہیں جن پر تیرے رب کا کلمہ ثابت ہوچکا ہے۔ کلمہ بمعنی کلام۔ بات ۔ حکم۔ اور یہاں کلمہ رب سے کیا مراد ہے۔ مختلف مفسرین نے اس کے مختلف معانی لئے ہیں۔ ان پر حق کی حجت قائم ہوچکی ہے (ابن کثیر)
جن پر تیرے رب کا قول راست آگیا ہے ۔ یعنی یہ قول کہ جو لوگ حق کے طالب نہیں ہوئے وہ اپنے دلوں پر ضد۔ تعصب اور ہٹ دھرمی کے قفل چڑھائے رکھتے ہیں (تفہیم القرآن)
جن پر تیرے اللہ کا فرمان صادق آگیا (یعنی اسکا یہ قانون کہ جو آنکھیں بند کرلے گا اسے کچھ نظر نہیں آئے گا۔ (ترجمان القرآن)
تیرے رب کا حکم یعنی خلقت ھؤلاء للنار ان پر راست آگیا (الخازن)
اس کا وہ قول جو لوح محفوظ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 97
ان کنت (اگر تو ہے) اسئل (تو سوال کر) یفرء ون (وہ پڑھتے ہیں) لاتکونن (تو ہرگز نہ ہونا) الممترین (شک کرنے والے) حقت (ثابت ہوگئی) حتی بروا (جب تک وہ دیکھ نہ لیں گے)
تشریح : آیت نمبر 94 تا 97
جب نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ اپنے اولین مخاطب کفار عرب کے سامنے قرآن کریم، اس کی آیات، حقائق اور گزشتہ انبیاء کرام کے واقعات بیان فرماتے تو وہ لوگ حرصت زدہ رہ جاتے۔ ایک بات کے سمجھ میں آنے کے باوجود یا تو محض ضد، حسد ، ہٹ دھرمی اور تعصب کی بنا پر ان آیات کا انکار کردیتے یا شک و شبہ کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کرنے تاکہ ان لوگوں کے قدم راہ حق سے ڈگمگا جائیں جو اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
کفار سے علیحدہ رہنے کا حکم
اوپر یہود کی پھوٹ کا حال تھا کہ اس پھوٹ میں بعضے ان میں سے راہ راست پر آگئے اور جان گئے کہ توراۃ میں جن نبی آخرالزماں کے اوصاف ہیں بلا شک یہ وہی نبی ہیں۔ اس ذکر کو پورا کرنے لئے ان آیتوں میں فرمایا :" اے رسول ﷺ اللہ کے ! اگر تمہیں اس میں کچھ شک ہو کہ آیا تمہارے اوصاف تفصیل سے توراۃ میں ہیں یا نہیں، تو تم آج لوگوں سے دریافت کرلو جو اگلے رسولوں کی کتابیں دیکھے ہوئے ہیں۔ کیونکہ جو اہل کتاب تم پر ایمان لا چکے ہیں جیسے عبداللہ بن سلام ؓ وہ اب کوئی بات چھپانے کے نہیں "۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ نہ میں شک کرتا ہوں اور نہ مجھے پوچھنے کی…
Read the full tafseer →[40] یعنی اس کا یہ قانون کہ جو دل کی آنکھیں بند کرلے اسے کچھ نظر نہ آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
(ف 1) قرآن حکیم کا انداز بیان ہے کہ مخاطب حضور ﷺ کو کیا جاتا ہے اور مقصود دوسرے ہوتے ہیں ، کیونکہ آپ ترجمان وحی ہیں اور انسانیت کے وکیل بھی اس لئے اللہ تعالیٰ بالوحی انہیں سے تخاطب فرماتے ہیں ، ورنہ آنحضرت ﷺ شک وریب سے پاک ہیں ، وہ تو سراپا یقین و ایمان ہیں ، حضرت ابن عباس ؓ سعید بن جبیر ، ؓ قتادہ ؓ اور حسن بصری (رح) سے روایت ہے کہ ” لم یسئلک رسول اللہ “۔ یعنی حضور ﷺ کو کبھی شک نہیں پیدا ہوا ۔ اور غور فرمائیے جو دوسروں کو ایمان ویقین کی نعمتیں بانٹ رہا ہے ، جو دلوں کو نور ومعرف سے اجاگر کر رہا ہے کیا وہ خود سرمردود ہو سکتا ہے ۔
غرض یہ ہے کہ قرآن سابقہ کتب کا موید ہے توریت وانجیل میں صدہا پیش…
Read the full tafseer →96 یقینا جن لوگوں پر آپ کے پروردگار کا حکم عذاب ثابت ہوچکا ہے خواہ ان کے پاس تمام نشانیاں ہی کیوں نہ آجائیں وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
ف 1۔ مگر بعض حکمتوں کی وجہ سے یہ نہ چاہا اس لیے سب ایمان نہیں لائے۔
Read the full tafseer →ایمان نہ لانے کا قول جن لوگوں پر صادق آیا وہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے
132 ؎ فیصلہ الٰہی کو کون بدل سکتا ہے ؟ اس کے علم ازل میں جو دولت ایمان سے محروم ہیں انہیں ہزار دلائل وبراہین دکھائے جائیں وہ کبھی حق کو قبول نہیں کریں گے یعنی یہ بات کہ جو لوگ خود طالب حق نہیں ہوتے اور جو اپنے دلوں پر حسد ، تعصب اور ہٹ دھرمی کے قفل چڑھائے رکھتے ہیں اور جو دنیا کے عشق میں مدہوش اور عاقبت سے بےفکر ہوتے ہیں انہیں ایمان کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
In the fourth (95), fifth (96) and sixth (97) verses, the same subject finds support and emphasis while carrying a warning to those who are heedless.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
97. The statement 'the word of your Lord has been fulfilled' refers to those who are not interested in seeking truth; who, by dint of their apathy, bigotry, stubbornness, excessive worldliness and total unconcern about the After-life, make their hearts immune to the truth. God's judgement about such persons is that they will not be blessed with faith.
Read the full tafseer →