Explained with ayahs 94–97
ٹھوس دلائل کے باوجود انکار قابل مذمت ہے
جب یہ آیت اتری تو حضور ﷺ نے فرمایا نہ مجھے کچھ شک نہ مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت۔ پس اس آیت سے مطلب صرف اتنا ہے کہ آپ کی امت کے ایمان کی مضبوطی کی جائے اور ان سے بیان کیا جائے کہ اگلی الٰہامی کتابوں میں بھی ان کے نبی کی صفتیں موجود ہیں، خود اہل کتاب بھی بخوبی واقف ہیں۔ جیسے (اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْل01507) 7۔ الاعراف :157) میں ہے۔ ان لوگوں پر تعجب اور افسوس ہے ان کی کتابوں میں اس نبی آخر الزمان کی تعریف و توصیف اور جان پہچان ہونے کے باوجود بھی…
Read the full tafseer →سورة یُوْنُس 96
یہ خطاب بظاہر نبی ﷺ سے ہے مگر دراصل بات ان لوگوں کو سنانی مقصود ہے جو آپ کی دعوت میں شک کر رہے تھے۔ اور اہل کتاب کا حوالہ اس لیے دیا گیا ہے کہ عرب کے عوام تو آسمانی کتابوں کے علم سے بےبہرہ تھے، ان کے لیے یہ آواز ایک نئی آواز تھی، مگر اہل کتاب کے علماء میں سے جو لوگ متدین اور منصف مزاج تھے وہ اس امر کی تصدیق کرسکتے تھے کہ جس چیز کی دعوت قرآن دے رہا ہے یہ وہی چیز ہے جس کی دعوت تمام پچھلے انبیاء (علیہم السلام) دیتے رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
چو تھی، پانچویں اور چھٹی آیتوں میں اسی مضمون کی تائید و تاکید اور غفلت برتنے والوں کو تنبیہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
آگے کا مضمون۔ آیات 94۔ 109۔ آگے کا مضمون خاتمہ سورة کی حیثیت رکھتا ہے۔ پہلے نبی ﷺ کو خطاب کر کے مکذبین پر عتاب ہے کہ ان کی روش تمہیں کسی تردد میں نہ ڈالے۔ جو چیز تم پر اتاری گئی ہے اگر یہ لاخیرے قسم کے لوگ اس کی تکذیب کر رہے ہیں تو اس کا غم نہ کرو، ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو پہلے سے کتاب کے حامل رہے ہیں، ان سے پوچھو تو وہ اس حق کی تائید کریں گے۔ اس کے بعد نبی ﷺ کو تسلی دی کہ یہ نہ خیال کرو کہ جو لوگ تمہاری تکذیب کر رہے ہیں اگر ان کو ان کے حسب منشا کوئی نشانی دکھا دی جائے تو یہ مومن بن جائیں گے۔ جو لوگ خدا کے قانون کی زد میں آئے ہوئے ہوں ان کو دنیا جہان کی نشانیاں دکھا دو پھر بھی وہ ماننے والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
95۔ 1 یہ بھی دراصل مخاطب امت کو سمجھایا جا رہا ہے کہ تکذیب کا راستہ خسران اور تباہی کا راستہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
38: اس آیت میں اگرچہ بظاہر خطاب آنحضرت ﷺ کو ہے ؛ لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ آپ کو قرآن کریم کی سچائی میں کوئی شک ہو ہی نہیں سکتا اس لئے درحقیقت سنانا دوسروں کو مقصود ہے، جب آپ کو یہ انتباہ کیا جارہا ہے تو دوسروں کو تو اور زیادہ محتاط ہونا چاہیے۔
Read the full tafseer →ولا تکونن من الذین کذبوا الخ۔ اور نہ آپ ان لوگوں میں سے ہوجائیں جنہوں نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی ورنہ آپ تباہ ہوجانے والوں (کی جماعت میں) سے ہوجائیں گے۔
اس آیت میں بھی گزشتہ آیت کی طرح یا شک کرنے والوں کو خطاب ہے ‘ یا رسول اللہ (ﷺ) کو مگر مراد دوسرے لوگ ہیں ‘ یا رسول اللہ (ﷺ) کو ہی خطاب ہے مگر وجہ خطاب بالفرض ہے۔ یعنی بالفرض اگر تکذیب آیات کریں گے تو خاسرین میں سے ہوجائیں گے۔ یا خطاب کا مقصود ہے رسول اللہ (ﷺ) کو مزید ثبات کا حکم دینا کہ اپنے یقین پر جمے رہیں ‘ جیسے دوسری آیت میں آیا ہے : فَلاَ تَکُوْنَنَّ ظَھِیْرًا لِّلْکَافِرِیْنَ (یعنی کافروں کا مددگار نہ بننے پر آپ جمے رہیں) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
1 بظاہر یہ خطاب پیغمبر ﷺ کو ہے لیکن حقیقت میں آپ کو مخاطب بنا کر دوسروں کو سنانا مقصود ہے جو ایک امی کی زبان سے ایسے عظیم الشان حقائق و واقعات سن کر حیرت زدہ رہ جاتے ہیں اور جہل و تعصب کی وجہ سے ان کی واقعیت میں شک و تردد کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ آپ خود اپنی لائی ہوئی چیزوں میں کیسے شک و شبہ کرسکتے تھے اور جس کی طرف تمام دنیا کو دعوت دیتے اور پہاڑ سے زیادہ مضبوط یقین سننے والوں کے قلوب میں پیدا کردیتے تھے، اس کو خود اپنی زبان سے کیسے جھٹلاتے۔ چند آیات کے بعد صاف فرما دیا (قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْ دِيْنِيْ فَلَآ اَعْبُدُ الَّذِيْنَ تَعْبُدُوْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
آیت 94 فَاِنْ کُنْتَ فِیْ شَکٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ
یہاں خطاب بظاہر محمد رسول اللہ سے ہے ‘ لیکن اس بات کا تو قطعاً کوئی امکان نہیں کہ آپ کو اس میں کوئی شک ہوتا لہٰذا اصل میں روئے سخن اہل مکہ کی طرف ہے۔ بعض اوقات جس سے بات کرنا مقصود ہوتا ہے اس کے رویے کی وجہ سے اس سے اس قدر نفرت ہوجاتی ہے کہ اسے براہ راست مخاطب کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ ایسی صورت میں کسی دوسرے شخص سے بات کی جاتی ہے تاکہ اصل مخاطب بالواسطہ طور پر اسے سن لے۔ چناچہ اس کا مطلب یہی ہے کہ اے مشرکین مکہ ! اگر تم لوگوں کو اس کتاب کے بارے میں کوئی شک ہے جو ہم نے اپنے رسول پر نازل کی ہے :
لَقَدْ جَآءَ کَ الْحَقُّ مِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
104 شک کا علاج اہل علم سے تحقیق کرنا ہے :۔ بظاہر یہ خطاب رسول اللہ کی طرف ہے لیکن اس سے مراد دوسرے لوگ ہیں اور یہ خطاب محض تاکید مزید کی بنا پر ہے وجہ یہ ہے کہ ہر نبی منزل من اللہ وحی پر سب سے پہلے خود ایمان لاتا ہے پھر دوسروں کو دعوت دیتا ہے اور شک اور ایمان دو بالکل متضاد چیزیں ہیں۔ آپ بھلا اس بات میں کیسے شک کرسکتے تھے جس کی تمام دنیا کو دعوت دے رہے تھے اور سننے والوں کے دلوں میں بھی پہاڑ سے زیادہ مضبوط یقین پیدا کردیتے تھے اب اگر اللہ کی نازل کردہ وحی میں کسی شخص کو شک پیدا ہو کہ آیا یہ واقعی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے یا نہیں تو اس کا علاج یہ نہیں کہ وہ شک میں ہی پڑا رہے بلکہ یہ ہے کہ جن…
Read the full tafseer →144۔ (اے مخاطب ! ) خطاب یہاں عام انسان سے ہے۔ اوالخطاب لکل سامع یجوز علیہ الشک (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–103
آیت نمبر 93 تا 103
ترجمہ : اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانہ دیا اور وہ شام اور مصر تھا، اور ہم نے ان کو پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں، پھر انہوں نے اختلاف نہیں کیا مگر اس وقت جبکہ علم ان کے پاس آچکا بایں طور کہ بعض لوگ ایمان لائے اور بعض نے انکار کیا، یقیناً تیرا رب قیامت کے دن ان کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کر دے گا جس امر دین میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں مومنین کو نجات دے کر اور کافروں کو عذاب دیکر، پس اے محمد ! بالفرض اگر تم ان قصوں کے بارے میں جو ہم نے تمہاری طرف نازل کئے ہیں، شک میں ہو تو ان لوگوں سے پوچھ دیکھئے جو تم سے پہلی کتاب تورات کو پڑھتے ہیں اس لئے کہ وہ نازل کردہ (واقعات) ان کے…
Read the full tafseer →ولا تکونن من الذین کذبوا بایت اللہ فتکون من الخسرین۔ اور نہ آپ ان لوگوں میں سے ہوجائیں جنہوں نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی ورنہ آپ تباہ ہوجانے والوں (کی جماعت میں) سے ہوجائیں گے۔
اس آیت میں بھی گزشتہ آیت کی طرح یا شک کرنے والوں کو خطاب ہے ‘ یا رسول اللہ ﷺ کو مگر مراد دوسرے لوگ ہیں ‘ یا رسول اللہ ﷺ کو ہی خطاب ہے مگر وجہ خطاب بالفرض ہے۔ یعنی بالفرض اگر تکذیب آیات کریں گے تو خاسرین میں سے ہوجائیں گے۔ یا خطاب کا مقصود ہے رسول اللہ ﷺ کو مزید ثبات کا حکم دینا کہ اپنے یقین پر جمے رہیں ‘ جیسے دوسری آیت میں آیا ہے : فَلاَ تَکُوْنَنَّ ظَھِیْرًا لِّلْکَافِرِیْنَ (یعنی کافروں کا مددگار نہ بننے پر آپ جمے…
Read the full tafseer →(95) اے محمد ﷺ بیشک آپ کے رب کی طرف سے جبریل امین قرآن کریم آپ پر لے کر آئے ہیں جس میں گزشتہ اقوام کی بھی باتیں ہیں، سو آپ ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں (خطاب خاص ہے مراد عام لوگ ہیں) اور نہ ان لوگوں میں سے ہوں، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول کو جھٹلایا، کہیں نعوذ باللہ آپ اس سے اپنی ذات کو نقصان پہنچا بیٹھیں۔
Read the full tafseer →وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا۔۔ : یہاں بھی آپ ﷺ کو خطاب کرکے امت ہی کو سمجھایا جا رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
آیت نمبر 94 اور 95
قولہ تعالیٰ : (آیت) فان کنت فی شک مما انزلنا الیک یہ خطاب حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کو ہے اور مراد آپ کے سوا دوسرے ہیں، یعنی آپ تو شک میں نہیں ہیں لیکن آپ کے علاوہ دوسرے شک میں ہیں۔ ابو عمر محمد بن عبدالواحد الزاہد نے کہا ہے : میں نے دو اماموں ثعلب اور مبرد کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ (آیت) فان کنت فی شک کا معنی ہے : اے محمد ﷺ کافرکو فرمادیجئے اگر تو اس سے متعلق شک میں ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے۔ (آیت) فسئل الذین یقرء ون الکتاب من قبلک یعنی اے بتوں کی پوجا کرنے والے اگر تجھے قرآن کریم کے بارے میں کوئی شک ہے تو ان لوگوں سے دریافت کرلے جو یہود میں سے اسلام لاچکے ہیں، یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
قرآن کریم کتاب برحق ہے
1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والضیاء نے المختارۃ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) فان کنت فی شک مما انزلنا الیک فسئل الذین یقرون الکتب من قبلک “ کے بارے میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ کیا اور نہ آپ سے سوال کیا۔
2:۔ عبدالرزاق وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) فان کنت فی شک مما انزلنا الیک فسئل الذین یقرون الکتب من قبلک “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہ میں شک کرتا ہوں اور نہ میں سوال کرتا ہوں۔
3:۔ ابن جریر وابو الشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) فان کنت فی شک مما انزلنا الیک…
Read the full tafseer →وَلَا تَكُوْنَنَّ [ اور آپ ہرگز مت ہوں ] مِنَ الَّذِيْنَ [ ان لوگوں میں سے جنھوں نے ] كَذَّبُوْا [ جھٹلایا ] بِاٰيٰتِ اللّٰهِ [ اللہ کی نشانیوں کو ] فَتَكُوْنَ [ ورنہ آپ ہوجائیں گے ] مِنَ الْخٰسِرِيْنَ [ خسارہ اٹھانے والوں میں ]
(آیت ۔ 95) فتکون کا فاسببیہ ہے۔
نوٹ ۔ 2: آیات 94 ۔ 95 میں ایک خاص انداز خطاب اختیار کیا گیا ہے جس کے لئے پنجابی کی ایک کہاوت ہے کہ کہنا بیٹی کو تو سنانا بہو کو ، اس پر اتفاق رائے ہے کہ ان آیات میں یہی انداز خطاب اختیار کیا گیا ہے ۔ البتہ اس بات پر دو آراء ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرکے دراصل کس کو سنانا مقصود ہیں ۔
(1) حضرت قتادہ کا قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا…
Read the full tafseer →(وَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَتَکُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ) (اور ہرگز ان لوگوں میں سے نہ ہوجا جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا ورنہ تو تباہ کاروں میں سے ہوگا)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–100
اثبات حقانیت قرآن بطرز خاص
قال اللہ تعالی۔ فان کنت فی شک مما انزلناالیک۔۔۔ الی۔۔ یروا العذاب الالیم
(ربط) انبیاء سابقین کے واقعات بیان کرنے کے بعد قرآن کریم اوردین اسلام کی حقانیت معلوم کرنے کا ایک طریقہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر کفار قریش کو اس بارے میں شک ہے تو علماء اہل کتاب سے پوچھ لیں جن کے علم وفضل کا خود ان کو اقرار ہے چناچہ فرماتے ہیں سو اے انسان ! اگر تو اس قرآن کے من جانب اللہ ہونے کی طرف سے شک میں ہے جو ہم نے بواسطہ محمد رسول اللہ ﷺ تیری طرف اتارا ہے تو اس شک کے دفع کرنے کا سہل طریقہ یہ ہے کہ تو ان لوگوں سے پوچھ لے جو تجھ سے پہلے کتاب الہی پڑھتے ہیں یعنی توریت اور انجیل کے عالم ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
105: بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ نے ان کے صبر و استقامت کی بدولت بہت بڑے بڑے انعامات فرمائے ان کو فرعون کی غلامی سے نجات دی اور ملک شام اور مصر ان کے قبضہ میں دیدئیے اور ہر قسم کی فراخی عیش سے ان کو متمتع کیا مگر انہوں نے انعاماتِ الٰہی کی قدر نہ کی، ان کا شکر ادا نہ کیا اور جس دین توحید کی خاطر انہیں یہ سب کچھ ملا تھا اس کی حفاظت نہ کی بلکہ اسے بدل ڈالا۔ “ فَمَا اخْتَلَفُوْا الخ ” اس کے ساتھ “ بَغْیًا ” کی قید ملحوظ ہوگی بقرینہ “ وَمَاتَفَرَّقُوْا اِلَّا مِنْ بَعْدِ مَاجَاءَھُمُ الْعِلْمُ بَغْیًا بَیْنَھُمْ ” (شوری رکوع 2) ۔ یعنی انہوں نے دلائل وبراہین سے مسئلہ توحید واضح ہوجانے کے بعد محض ضد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–97
ربط آیات
گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے دو نافرمانوں قوموں کا حال بطور مثال ذکر کیا ہے تا کہ مشرکیں مکہ ، مشرکین عرب اور بعد میں آنے والے لوگوں کو عبرت حاصل ہو۔ ان میں سے ایک قوم نوح ہے جس کو اللہ نے کے نبی (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سا سال تک وعظ کیا اور قوم فرعون ہے جس کی طرف اللہ نے جلیل القدر انبیاء حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو مبعوث فرمایا۔ وہ مجرم قوم ایمان نہ لائی۔ انہوں نے ظلم وتعدی کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قوم نوح کو اللہ نے بذریعہ طوفان پانی میں ڈبویا جب کہ فرعون اور اس کے لشکر کو بحر قلزم کی موجوں میں لقمہ اجل بنایا۔ اللہ نے فرعون کی لاش کو عبرت کے لیے سمندر سے باہر…
Read the full tafseer →وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللہِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 95
خسر
ويستعمل ذلک في المقتنیات الخارجة کالمال والجاه في الدّنيا وهو الأكثر، وفي المقتنیات النّفسيّة کالصّحّة والسّلامة، والعقل والإيمان، والثّواب، وهو الذي جعله اللہ تعالیٰ الخسران المبین، وقال : الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَلا ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبِينُ [ الزمر/ 15] ،
( خ س ر) الخسروالخسران
عام طور پر اس کا استعمال خارجی ذخائر میں نقصان اٹھانے پر ہوتا ہے ۔ جیسے مال وجاء وغیرہ لیکن کبھی معنوی ذخائر یعنی صحت وسلامتی عقل و ایمان اور ثواب کھو بیٹھنے پر بولا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–97
3 ؎ شام کے ملک میں یہ ان بنی اسرائیل کو جو حضرت موسیٰ کے بعد تھے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
فَاِنْ کُنْتَ فِیْ شَکٍّ مِّمِّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَئُ وْنَ الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکَ لَقَدْ جَآئَ کَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ ۔ وَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَتَکُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ (یونس : 94، 95)
(پس اگر آپ شک میں ہیں اس چیز میں جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے تو پھر ان لوگوں سے پوچھئے جو آپ سے پہلے سے کتاب پڑھتے آرہے ہیں۔ بیشک آپ کے پاس حق آگیا آپ کے رب کی طرف سے پس آپ شک کرنے والوں سے نہ ہوں اور نہ آپ ان لوگوں میں سے ہوں جنھوں نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی کہ آپ بھی نقصان اٹھانے والوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
فہم القرآن
ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی قوم کے مصائب کا تذکرہ کرنے کے بعد آپ ﷺ کو تسلی اور تشفی دی گئی ہے۔
اے رسول ﷺ ! جو کچھ ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے اگر آپ کو اس بارے میں کوئی شک ہے تو آپ ان لوگوں سے پوچھ لیں۔ جن کو آپ سے پہلے کتاب عنایت کی گئی ہے یقین فرمائیں کہ آپ کے پاس حق پہنچ چکا ہے لہٰذا آپ کو شک کرنے والوں کا ساتھی نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی ان لوگوں کا ساتھ دینا چاہیے جو اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ یہ لوگ ضرور نقصان پائیں گے۔ یقیناً آپ کے رب کا فرمان سچ ہے کہ اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے ان آیات میں رسول کریم ﷺ کی ذات کو مخاطب فرمانے کے کئی مقاصد ہیں۔
1۔ قرآن مجید کا…
Read the full tafseer →آیات کی تکذیب مت کرو :
95: وَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَتَکُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ( اور ہرگز نہ ہو ان لوگوں میں سے جنہوں نے آیات اللہ کو جھٹلایا پس ہوجائو گے نقصان کرنے والوں میں سے) پس ثابت قدم رہ اور اپنے سے شک کی نفی میں مداوت مت کرو اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی نفی میں ہمیشگی اختیار کرو۔ یا نمبر 2۔ اس انداز سے آپ کو جوش دلانا اور بھڑکا نا مقصود ہو جیسا کہ سورة القصص کی آیت 86 فلا تکونن ظہیرًا للکافرین اور القصص آیت 87 ولا یصدنک عن آیات اللہ بعداذانزلت الیک۔ اور ثابت قدمی اور عصمت میں اضافہ کیلئے فرمایا گیا اسی لئے آپ (علیہ السلام) نے اس…
Read the full tafseer →95۔” ولا تکونن من الذین کذبوا بآیات اللہ فتکون من الخاسرین “ اور یہ تمام خطاب ہیں نبی کریم ﷺ کو اور مراد اس سے آپ (علیہ السلام) کو غیر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
94۔ 97۔ اوپر یہود کی پھوٹ کا حال تھا کہ اس پھوٹ میں بعضے ان میں سے راہ راست پر آگئے اور جان گئے کہ تورات میں جن نبی آخر الزمان کے اوصاف ہیں بلاشک یہ وہی نبی ہیں اس ذکر کو پورا کرنے کے لئے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ ﷺ کہ اگر تمہیں اس میں کچھ شک ہو کہ آیا تمہارے اوصاف تفصیل سے تورات میں ہیں یا نہیں تو تم ان لوگوں سے دریافت کرلو جو اگلے رسولوں کی کتابیں دیکھے ہوئے ہیں کیوں کہ جو اہل کتاب تم پر ایمان لا چکے ہیں جیسے عبد اللہ بن سلام وہ اب کوئی بات چھپانے کے نہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے کہا کہ نہ میں شکی کرتا ہوں اور نہ مجھے پوچھنے کی ضرورت ہے 1 ؎ پھر اللہ جل شانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
آیت : ( 94-95)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (فان کنتم فی شک مما انزلنا الیک) ” اگر آپ اس کی بابت شک میں ہیں جو ہم نے آپ کی طرف اتارا “ کہ آیا یہ صحیح ہے یہ غیر صحیح ہے ؟ (فسئل الذین یقرء ون الکتب من قبلک) ” تو ان سے پوچھ لیں جو آپ سے پہلے کتاب پڑھتے ہیں “ یعنی انصاف پسند اہل کتاب اور راسخ العلم علماء سے پوچھئے وہ اس چیز کی صداقت کا اقرار کریں گے جس کی آپ کو خبر دی گئی ہے اور یہ وہ بھی اعتراف کریں گے کہ وہ اس ہدایت کے موافق ہے جو ان کے پاس ہے۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اہل کتاب ‘ یعنی یہود و نصاریٰ میں سے بہت سے لوگوں نے ‘ بلکہ ان میں سے اکثر لوگوں نے رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–109
قول باری ہے قد اجیبت دعوتکما تم دونوں کی دعا قبول کی گئی ۔ دعا کی نسبت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) دونوں کی طرف سے کی گئی ہے ۔ ابو العالیہ ، عکرمہ ، محمد بن کعب اور ربیع بن موسیٰ کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دعا مانگتے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے، اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو دعا مانگنے والے قرار دیا ۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ آمین بھی دعا ہے اور جب اس کا دعا ہونا ثابت ہوگیا تو پھر اس کا اخفاء اس کے جہر سے افضل ہوگا اس لیے کہ قول باری ہے ادعوا ربکم تضرعا ً و خفیۃ ۔ اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے پکارو۔
Read the full tafseer →163 ۔ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب کا انجام ہولناک خسارہ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا پس تم کبھی ان لوگوں میں سے نہیں ہونا جنہوں نے جھٹلایا اللہ کی آیتوں کو کہ اس کے نتیجے میں تم خسارے میں پڑجاؤ کہ اللہ کی آیتوں کی تکذیب کا نتیجہ ہولناک خسارہ ہے۔ جس طرح کہ وہ لوگ ایمان کی دولت سے محروم ہو کر دنیا و آخرت دونوں کی سعادت اور فوز و فلاح سے محروم ہوگئے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس میں بھی وہی اوپر والا اسلوب بیان اختیار فرمایا گیا ہے کہ خطاب پیغمبر سے ہے لیکن سنانا دراصل دوسروں کو ہے۔ یعنی مشرکین مکہ کو۔ اور اس میں دراصل ان کے اس طمع اور لالچ کو ختم کرنا ہے کہ پیغمبر بھی ہماری بات مان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
نبی کو خطاب اور قوم یونس کی برأت
تشریح : ان آیات میں رب العلمین اپنے پیارے رسول ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر تمہیں کبھی انسان ہونے کے ناطے کتاب (قرآن) پر کوئی شک یا وسوسہ پیدا ہو تو اس کو دور کرنے کے لیے اول تو کلام پاک خود ہی بہت بڑی دلیل محکم ہے اور بہترین ہے ہر پہلو سے مگر انسانی تسلی اور دلیل کے لیے بڑی ہی صاف راہ ایک یہ بھی ہے کہ اس کتاب کے بارے میں تمام اہل کتاب جن میں سب سے بڑی دو قومیں ہیں یہودی اور عیسائی۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابیں دی ہیں، یعنی تورات اور انجیل۔ ان کتابوں میں ہر قسم کے قوانین اصول لکھے ہوئے موجود ہیں اور نبی اکرم ﷺ کے بارے میں بڑی ہی وضاحت سے بتایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–103
آیات 93 تا 103
اسرار و معارف
پھر ان نعمتوں کا تذکرہ جو بنی اسرائیل کو عطاہوئیں کہ بظاہرفرعون اور اس کی ساری حکومت انھیں رسوا کرنے پہ کمرباندھے ہوئے تھی کوئی ظاہری سبب ان کی نجات کا نہ تھا کہ انھوں نے اللہ پر بھر وسہ کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی میں نکل کھڑے ہوئے تو فرعون اور اس کا لشکرتباہ ہوگئے اور نبی اسرائیل کو وہ خوبصورت اور سرسبز و شاداب وادی جو انبیائے سابقین کا مسکن بھی تھی اور دنیاوی ودینی اعتبار سے ان کی پسنددیدہ بھی تھی یعنی اردن و فلسطین کی ارض مقدسہ عطاہوئی اور سلطنت مصر بھی انہی کو مل گئی اور بہترین نعمتیں بھی بطور رزق نصیب ہوئیں۔ آباد گھر تنومنداولاداچھی بیویاں شاداب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
ف 1 ۔ اس سورت کا اصل موضوع آنحضرت ﷺ کی نبوت کا ثبوت اور مخالفین کے شبہات کی تردید ہے۔ یہاں آخر سورة میں پھر اصل موضوع کی طرف التفات کیا ہے۔ (کبیر) مشرکینِ عرب چونکہ ان پڑھ اور اصمانی کتابوں کے علم سے بےبہرہ تھے اس لئے انکو توجہ دلائی ہے کہ اگر تمہیں خود علم نہیں ہے تو ان علمائے یہود سے دریافت کرلو جو توراۃ وغیرہ آسمانی کتابوں کا علم رکھتے ہیں۔ ان میں سے جو منصف مزاج اور خدا سے ڈرنے والے ہیں وہ اقرار کریں گے کہ قرآن واقعی آسمانی کتاب اور محمد ﷺ کے سچے رسول ہیں کیونکہ ان کی کتابوں میں جگہ جگہ آپ ﷺ کی آمد کی بشارتیں موجود ہیں اور آپ ﷺ کی علامات بیان کی گئی ہیں۔ الغرض یہ خطاب تو آنحضرت ﷺ سے ہے…
Read the full tafseer →(10:95) تکونن۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ بانون ثقیلہ۔ لاتکونن۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر بانون ثقیلہ ۔ تو ہرگز نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 97
ان کنت (اگر تو ہے) اسئل (تو سوال کر) یفرء ون (وہ پڑھتے ہیں) لاتکونن (تو ہرگز نہ ہونا) الممترین (شک کرنے والے) حقت (ثابت ہوگئی) حتی بروا (جب تک وہ دیکھ نہ لیں گے)
تشریح : آیت نمبر 94 تا 97
جب نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ اپنے اولین مخاطب کفار عرب کے سامنے قرآن کریم، اس کی آیات، حقائق اور گزشتہ انبیاء کرام کے واقعات بیان فرماتے تو وہ لوگ حرصت زدہ رہ جاتے۔ ایک بات کے سمجھ میں آنے کے باوجود یا تو محض ضد، حسد ، ہٹ دھرمی اور تعصب کی بنا پر ان آیات کا انکار کردیتے یا شک و شبہ کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کرنے تاکہ ان لوگوں کے قدم راہ حق سے ڈگمگا جائیں جو اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
کفار سے علیحدہ رہنے کا حکم
اوپر یہود کی پھوٹ کا حال تھا کہ اس پھوٹ میں بعضے ان میں سے راہ راست پر آگئے اور جان گئے کہ توراۃ میں جن نبی آخرالزماں کے اوصاف ہیں بلا شک یہ وہی نبی ہیں۔ اس ذکر کو پورا کرنے لئے ان آیتوں میں فرمایا :" اے رسول ﷺ اللہ کے ! اگر تمہیں اس میں کچھ شک ہو کہ آیا تمہارے اوصاف تفصیل سے توراۃ میں ہیں یا نہیں، تو تم آج لوگوں سے دریافت کرلو جو اگلے رسولوں کی کتابیں دیکھے ہوئے ہیں۔ کیونکہ جو اہل کتاب تم پر ایمان لا چکے ہیں جیسے عبداللہ بن سلام ؓ وہ اب کوئی بات چھپانے کے نہیں "۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ نہ میں شک کرتا ہوں اور نہ مجھے پوچھنے کی…
Read the full tafseer →[39] اس آیت میں بظاہر خطاب نبی ﷺ سے ہے مگر دراصل بات ان لوگوں کو سنانی مقصود ہے جو
آپ کی دعوت میں شک کررہے تھے یعنی مشرکین عرب جو آسمانی کتابوں کے علم سے ناآشنا تھے چناچہ ان سے کہا جا رہا ہے کہ تم اہل کتاب کے منصف مزاج علماء سے اس بات کی تصدیق کرسکتے ہو کہ جس چیز کی دعوت نبی ﷺ دے رہے ہیں اس میں اور پچھلے انبیاء کی دعوت میں کوئی بنیادی فرق نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
(ف 1) قرآن حکیم کا انداز بیان ہے کہ مخاطب حضور ﷺ کو کیا جاتا ہے اور مقصود دوسرے ہوتے ہیں ، کیونکہ آپ ترجمان وحی ہیں اور انسانیت کے وکیل بھی اس لئے اللہ تعالیٰ بالوحی انہیں سے تخاطب فرماتے ہیں ، ورنہ آنحضرت ﷺ شک وریب سے پاک ہیں ، وہ تو سراپا یقین و ایمان ہیں ، حضرت ابن عباس ؓ سعید بن جبیر ، ؓ قتادہ ؓ اور حسن بصری (رح) سے روایت ہے کہ ” لم یسئلک رسول اللہ “۔ یعنی حضور ﷺ کو کبھی شک نہیں پیدا ہوا ۔ اور غور فرمائیے جو دوسروں کو ایمان ویقین کی نعمتیں بانٹ رہا ہے ، جو دلوں کو نور ومعرف سے اجاگر کر رہا ہے کیا وہ خود سرمردود ہو سکتا ہے ۔
غرض یہ ہے کہ قرآن سابقہ کتب کا موید ہے توریت وانجیل میں صدہا پیش…
Read the full tafseer →95 اور نہ آپ ان لوگوں میں شامل ہوں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب کی ورنہ آپ بھی نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے یعنی ایسے لوگوں سے کنارہ کش ہی رہنا بھلا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
ف 5۔ ظاہر میں خطاب آپ کو ہے مگر مقصود خطاب دوسروں کو ہے اور نزول آیت کے وقت آپ نے اپنے مقصود بالخطاب نہ ہونے کو ان لفظوں سے ظاہر فرمادیا کہ لا اشک ولا اسال۔
Read the full tafseer →اے مخاطب ! ان لوگوں سے مت ہو جنہوں نے اللہ کی نشانیاں جھٹلائیں
131 ؎ اس آیت میں ان لوگوں کو جن کا شعار ہی انکار ہے ان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ زندگی کی فرصت کو غنیمت جانو اور انکار و سر کشی سے اب بھی باز آ جائو ورنہ ایک ایسا وقت آنے والا ہے جب توبہ کرو گے تو توبہ قبول نہیں ہوگی جیسا کہ فرعون پر آیا اور اس نے واشگاف الفاظ میں توبہ کی اور ایمان کا اقرار کیا لیکن اس کو کچھ بھی حاصل نہ ہو بلکہ اس کا نتیجہ یہ ٹھہرا کہ وہ نامراد و نامرام ہوگیا اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے انکار کا یہی انجام ہوتا ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
In the fourth (95), fifth (96) and sixth (97) verses, the same subject finds support and emphasis while carrying a warning to those who are heedless.
Read the full tafseer →96. Though this admonition is apparently addressed to the Prophet Muhammad (peace be on him), in point of fact it is directed to those who entertained doubts about the Prophet's message. Reference is made to the People of the Book because the common Arabs were not conversant with the Scriptures. But so far as the People of the Book were concerned, there were doubtlessly some pious religious scholars among them who were in a position to corroborate the fact that the Qur'anic message was essentially the same as that delivered by the earlier Prophets.
Read the full tafseer →