Explained with ayahs 94–97
ٹھوس دلائل کے باوجود انکار قابل مذمت ہے
جب یہ آیت اتری تو حضور ﷺ نے فرمایا نہ مجھے کچھ شک نہ مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت۔ پس اس آیت سے مطلب صرف اتنا ہے کہ آپ کی امت کے ایمان کی مضبوطی کی جائے اور ان سے بیان کیا جائے کہ اگلی الٰہامی کتابوں میں بھی ان کے نبی کی صفتیں موجود ہیں، خود اہل کتاب بھی بخوبی واقف ہیں۔ جیسے (اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْل01507) 7۔ الاعراف :157) میں ہے۔ ان لوگوں پر تعجب اور افسوس ہے ان کی کتابوں میں اس نبی آخر الزمان کی تعریف و توصیف اور جان پہچان ہونے کے باوجود بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
سورة یُوْنُس 94
یعنی مصر سے نکلنے کے بعد ارض فلسطین
سورة یُوْنُس 95
مطلب یہ ہے کہ بعد میں انہوں نے اپنے دین میں جو تفرقے برپا کیے اور نئے نئے مذہب نکالے اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان کو حقیقت کا علم نہیں دیا گیا تھا اور ناواقفیت کی بنا پر انہوں نے مجبورا ایسا کیا، بلکہ فی الحقیقت یہ سب کچھ ان کے اپنے نفس کی شرارتوں کا نتیجہ تھا۔ خدا کی طرف سے تو انہیں واضح طور پر بتادیا گیا تھا کہ دین حق یہ ہے، یہ اس کے اصول ہیں، یہ اس کے تقاضے اور مطالبے ہیں، یہ کفر واسلام کے امتیازی حدود ہیں، طاعت اس کو کہتے ہیں، معصیت اس کا نام ہے، ان چیزوں کی بازپرس خدا کے ہاں ہونی ہے، اور یہ وہ قواعد ہیں جن پر دنیا میں…
Read the full tafseer →تیسری آیت میں بظاہر خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے مگر یہ ظاہر ہے کہ آپ کو وحی میں شک ہونے کا احتمال نہیں، اس لئے اس خطاب کے ذریعہ مقصود امت کو سنانا ہے خود آپ مقصود نہیں، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ خطاب عام انسان کو ہو، کہ اے انسان اگر تجھ کو اس وحی الہٰی میں کوئی شک ہے جو بواسطہ محمد مصطفیٰ ﷺ تیری طرف بھجی گئی تو تو ان لوگوں سے دریافت کر جو تجھ سے پہلے اللہ کی کتاب تورات و انجیل پڑھتے تھے وہ تجھے بتلائیں گے کہ پچھلے تمام انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی کتابیں محمد مصطفیٰ ﷺ کی خوشخبری دیتی آئی ہیں، جس سے تیرے وساوس دور ہوجائیں گے۔
تفسیر مظہری میں ہے کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس شخص کو دین کے معاملہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
آگے کا مضمون۔ آیات 94۔ 109۔ آگے کا مضمون خاتمہ سورة کی حیثیت رکھتا ہے۔ پہلے نبی ﷺ کو خطاب کر کے مکذبین پر عتاب ہے کہ ان کی روش تمہیں کسی تردد میں نہ ڈالے۔ جو چیز تم پر اتاری گئی ہے اگر یہ لاخیرے قسم کے لوگ اس کی تکذیب کر رہے ہیں تو اس کا غم نہ کرو، ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو پہلے سے کتاب کے حامل رہے ہیں، ان سے پوچھو تو وہ اس حق کی تائید کریں گے۔ اس کے بعد نبی ﷺ کو تسلی دی کہ یہ نہ خیال کرو کہ جو لوگ تمہاری تکذیب کر رہے ہیں اگر ان کو ان کے حسب منشا کوئی نشانی دکھا دی جائے تو یہ مومن بن جائیں گے۔ جو لوگ خدا کے قانون کی زد میں آئے ہوئے ہوں ان کو دنیا جہان کی نشانیاں دکھا دو پھر بھی وہ ماننے والے…
Read the full tafseer →94۔ 1 یہ خطاب یا تو عام انسانوں کو ہے یا پھر نبی کے واسطے سے امت کو تعلیم دی جا رہی ہے۔ کیونکہ نبی کو تو وحی کے بارے میں کوئی شک ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ جو کتاب پڑھتے ہیں، ان سے پوچھ لیں ' کا مطلب ہے کہ قرآن مجید سے پہلے کی آسمانی کتابیں (تورات و انجیل وغیرہ) یعنی جن کے پاس یہ کتابیں موجود ہیں ان سے اس قرآن کی بابت معلوم کریں کیونکہ ان میں اس کی نشانیاں اور آخری پیغمبر کی صفات بیان کی گئی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
38: اس آیت میں اگرچہ بظاہر خطاب آنحضرت ﷺ کو ہے ؛ لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ آپ کو قرآن کریم کی سچائی میں کوئی شک ہو ہی نہیں سکتا اس لئے درحقیقت سنانا دوسروں کو مقصود ہے، جب آپ کو یہ انتباہ کیا جارہا ہے تو دوسروں کو تو اور زیادہ محتاط ہونا چاہیے۔
Read the full tafseer →فان کنت فی شک مما انزلنا الیک پس (اے انسان ! ) اگر تجھے شک ہو اس (قرآن و ہدایت) میں جو ہم نے (اپنے رسول محمد (ﷺ) کی زبانی) تیری طرف بھیجا ہے۔ (1) [ حضرت مفسر نے کنت کا مخاطب ہر انسان کو اس لئے قرار دیا کہ رسول اللہ (ﷺ) کو تو کوئی شک ہی نہ تھا۔ آپ کے پاس وحی آئی ‘ قرآن اترا ‘ احکام خداوندی نازل ہوئے۔ آپ کو اپنی جگہ ناقابل شک یقین اور ایسا ایمان تھا جس میں کسی وہم کی گنجائش نہ تھی ‘ پھر اہل کتاب سے تصدیق طلب کرنے کا کوئی معنی ہی نہیں۔ ہاں جاہل مشرک کے پاس اگر عقلی اور وجدانی شہادت نہ ہو تو وہ اہل علم سے تصدیق طلب کرنے کا محتاج ہوتا ہے ‘ اسلئے عام انسان کو خطاب فرمایا۔]
فسئل الذین یقرء ون الکتب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
1 بظاہر یہ خطاب پیغمبر ﷺ کو ہے لیکن حقیقت میں آپ کو مخاطب بنا کر دوسروں کو سنانا مقصود ہے جو ایک امی کی زبان سے ایسے عظیم الشان حقائق و واقعات سن کر حیرت زدہ رہ جاتے ہیں اور جہل و تعصب کی وجہ سے ان کی واقعیت میں شک و تردد کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ آپ خود اپنی لائی ہوئی چیزوں میں کیسے شک و شبہ کرسکتے تھے اور جس کی طرف تمام دنیا کو دعوت دیتے اور پہاڑ سے زیادہ مضبوط یقین سننے والوں کے قلوب میں پیدا کردیتے تھے، اس کو خود اپنی زبان سے کیسے جھٹلاتے۔ چند آیات کے بعد صاف فرما دیا (قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْ دِيْنِيْ فَلَآ اَعْبُدُ الَّذِيْنَ تَعْبُدُوْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
آیت 94 فَاِنْ کُنْتَ فِیْ شَکٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ
یہاں خطاب بظاہر محمد رسول اللہ سے ہے ‘ لیکن اس بات کا تو قطعاً کوئی امکان نہیں کہ آپ کو اس میں کوئی شک ہوتا لہٰذا اصل میں روئے سخن اہل مکہ کی طرف ہے۔ بعض اوقات جس سے بات کرنا مقصود ہوتا ہے اس کے رویے کی وجہ سے اس سے اس قدر نفرت ہوجاتی ہے کہ اسے براہ راست مخاطب کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ ایسی صورت میں کسی دوسرے شخص سے بات کی جاتی ہے تاکہ اصل مخاطب بالواسطہ طور پر اسے سن لے۔ چناچہ اس کا مطلب یہی ہے کہ اے مشرکین مکہ ! اگر تم لوگوں کو اس کتاب کے بارے میں کوئی شک ہے جو ہم نے اپنے رسول پر نازل کی ہے :
لَقَدْ جَآءَ کَ الْحَقُّ مِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
104 شک کا علاج اہل علم سے تحقیق کرنا ہے :۔ بظاہر یہ خطاب رسول اللہ کی طرف ہے لیکن اس سے مراد دوسرے لوگ ہیں اور یہ خطاب محض تاکید مزید کی بنا پر ہے وجہ یہ ہے کہ ہر نبی منزل من اللہ وحی پر سب سے پہلے خود ایمان لاتا ہے پھر دوسروں کو دعوت دیتا ہے اور شک اور ایمان دو بالکل متضاد چیزیں ہیں۔ آپ بھلا اس بات میں کیسے شک کرسکتے تھے جس کی تمام دنیا کو دعوت دے رہے تھے اور سننے والوں کے دلوں میں بھی پہاڑ سے زیادہ مضبوط یقین پیدا کردیتے تھے اب اگر اللہ کی نازل کردہ وحی میں کسی شخص کو شک پیدا ہو کہ آیا یہ واقعی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے یا نہیں تو اس کا علاج یہ نہیں کہ وہ شک میں ہی پڑا رہے بلکہ یہ ہے کہ جن…
Read the full tafseer →141۔ (اسرائیلیوں، فرعونیوں وغیرہ کی حکایات اور تاریخ سے متعلق) ذکر ابھی بالکل متصل اسرائیلی تاریخ کے بعض اجزاء اور فرعونیوں کی سرگزشت کا آیا ہے۔ اس لئے مماانزلنا الیک کا تعلق بھی انہی قصص و حکایات ہی سے متعلق معلوم ہوتا ہے اور مفسرین قدیم بھی یہی سمجھے ہیں۔ اے من القصص (بیضاوی) اے من القصص المنزلۃ الیک التی من جمل تھا قصۃ فرعون وقومہ واخبار بنی اسرائیل (روح) لیکن اگر یہ محدود معنی نہیں بلکہ وہ وسیع معنی مراد لئے جائیں جو ظاہر الفاظ سے نکلتے معلوم ہوتے ہیں۔ یعنی کل مضامین کتاب میں شک جب کوئی اشکال وارد نہیں ہوتا۔ قرآن نے تو یہ بات محض بہ طور فرض واحتمال کے کہی ہے اور قرآن نے اس سے بڑھ بڑھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–103
آیت نمبر 93 تا 103
ترجمہ : اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانہ دیا اور وہ شام اور مصر تھا، اور ہم نے ان کو پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں، پھر انہوں نے اختلاف نہیں کیا مگر اس وقت جبکہ علم ان کے پاس آچکا بایں طور کہ بعض لوگ ایمان لائے اور بعض نے انکار کیا، یقیناً تیرا رب قیامت کے دن ان کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کر دے گا جس امر دین میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں مومنین کو نجات دے کر اور کافروں کو عذاب دیکر، پس اے محمد ! بالفرض اگر تم ان قصوں کے بارے میں جو ہم نے تمہاری طرف نازل کئے ہیں، شک میں ہو تو ان لوگوں سے پوچھ دیکھئے جو تم سے پہلی کتاب تورات کو پڑھتے ہیں اس لئے کہ وہ نازل کردہ (واقعات) ان کے…
Read the full tafseer →فان کنت فی شک مما انزلنا الیک پس (اے انسان ! ) اگر تجھے شک ہو اس (قرآن و ہدایت) میں جو ہم نے (اپنے رسول محمد ﷺ کی زبانی) تیری طرف بھیجا ہے۔ (1) [ حضرت مفسر نے کنت کا مخاطب ہر انسان کو اس لئے قرار دیا کہ رسول اللہ ﷺ کو تو کوئی شک ہی نہ تھا۔ آپ کے پاس وحی آئی ‘ قرآن اترا ‘ احکام خداوندی نازل ہوئے۔ آپ کو اپنی جگہ ناقابل شک یقین اور ایسا ایمان تھا جس میں کسی وہم کی گنجائش نہ تھی ‘ پھر اہل کتاب سے تصدیق طلب کرنے کا کوئی معنی ہی نہیں۔ ہاں جاہل مشرک کے پاس اگر عقلی اور وجدانی شہادت نہ ہو تو وہ اہل علم سے تصدیق طلب کرنے کا محتاج ہوتا ہے ‘ اسلئے عام انسان کو خطاب فرمایا۔]
فسئل الذین یقرء ون الکتب من…
Read the full tafseer →(94) اے محمد ﷺ اگر بالفرض آپ اس کتاب یعنی قرآن کریم کے بارے میں کسی شک میں ہوں جس کو ہم نے بذریعہ جبریل امین آپ پر اتارا ہے تو آپ توریت کے پڑھنے والوں یعنی حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھیوں سے پوچھ لیجئے، چناچہ رسول اکرم ﷺ کو تو قرآن کریم کے کتاب خداوندی ہونے میں کسی قسم کا ذرہ برابر بھی شک نہیں تھا، اس لیے آپ نے کسی سے نہیں پوچھا بلکہ اللہ تعالیٰ کا مقصود اس کتاب خصوصی سے ذات اقدس ؓ نہیں ہیں بلکہ مراد آپ کی قوم ہے۔
Read the full tafseer →فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ۔۔ : اس سورت کا اصل موضوع رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا ثبوت اور مخالفین کے شبہات کی تردید ہے۔ یہاں سورت کے آخر میں پھر اصل موضوع کی طرف توجہ فرمائی ہے۔ مشرکین عرب چونکہ ان پڑھ اور آسمانی کتابوں کے علم سے بےبہرہ تھے، اس لیے ان کو توجہ دلائی کہ اگر تمہیں کوئی شک ہے، خود علم نہیں ہے تو ان علمائے یہود سے دریافت کرلو جو تورات وغیرہ کا آسمانی علم رکھتے ہیں۔ ان میں سے جو منصف مزاج اور اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہ اقرار کریں گے کہ قرآن واقعی آسمانی کتاب اور محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں، کیونکہ ان کی کتابوں میں جگہ جگہ آپ ﷺ کی بشارتیں موجود ہیں اور آپ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
آیت نمبر 94 اور 95
قولہ تعالیٰ : (آیت) فان کنت فی شک مما انزلنا الیک یہ خطاب حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کو ہے اور مراد آپ کے سوا دوسرے ہیں، یعنی آپ تو شک میں نہیں ہیں لیکن آپ کے علاوہ دوسرے شک میں ہیں۔ ابو عمر محمد بن عبدالواحد الزاہد نے کہا ہے : میں نے دو اماموں ثعلب اور مبرد کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ (آیت) فان کنت فی شک کا معنی ہے : اے محمد ﷺ کافرکو فرمادیجئے اگر تو اس سے متعلق شک میں ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے۔ (آیت) فسئل الذین یقرء ون الکتاب من قبلک یعنی اے بتوں کی پوجا کرنے والے اگر تجھے قرآن کریم کے بارے میں کوئی شک ہے تو ان لوگوں سے دریافت کرلے جو یہود میں سے اسلام لاچکے ہیں، یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
قرآن کریم کتاب برحق ہے
1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والضیاء نے المختارۃ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) فان کنت فی شک مما انزلنا الیک فسئل الذین یقرون الکتب من قبلک “ کے بارے میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ کیا اور نہ آپ سے سوال کیا۔
2:۔ عبدالرزاق وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) فان کنت فی شک مما انزلنا الیک فسئل الذین یقرون الکتب من قبلک “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہ میں شک کرتا ہوں اور نہ میں سوال کرتا ہوں۔
3:۔ ابن جریر وابو الشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) فان کنت فی شک مما انزلنا الیک…
Read the full tafseer →فَاِنْ [ پھر اگر ] كُنْتَ [ آپ ہیں ] فِيْ شَكٍّ [شک میں ] مِّمَّآ [ اس کے بارے میں جس کو ] اَنْزَلْنَآ [ ہم نے اتارا ] اِلَيْكَ [ آپ کی طرف ] فَسْــــَٔـلِ [ تو آپ پوچھیں ] الَّذِيْنَ [ ان سے جو ] يَقْرَءُوْنَ [ پڑھتے ہیں ] الْكِتٰبَ [ کتاب کو ] مِنْ قَبْلِكَ ۚ [ آپ سے پہلے سے ] لَقَدْ جَاۗءَكَ [ یقینا آچکا ہے آپ کے پاس ] الْحَقُّ [ حق ] مِنْ رَّبِّكَ [ آپ کے رب (کی طرف ) سے ] فَلَا تَكُوْنَنَّ [ تو آپ ہرگز مت ہوں ] مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ [ شک کرنے والوں میں سے ]
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا (فَاِنْ کُنْتَ فِیْ شَکٍّ مِّمَا اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ ) (اآایتین) ۔ اس میں بظاہر رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے لیکن حقیقت میں اس کے مخاطب وہ لوگ ہیں جو آپ کے بارے میں اور قرآن مجید کے بارے میں شک کرتے تھے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو وحی میں شک ہونے کا احتمال نہیں تھا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے (یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰہَ ) اور (یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ ) کہہ کر خطاب فرمایا ان میں صورت خطاب تو آپ کو ہے لیکن معنوی طور پر خطاب اہل ایمان کو ہے۔ اسی طرح آیت بالا میں ظاہری خطاب آپ کو ہے اور مقصود وہ لوگ ہیں جو شک کی دلدل میں پڑے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–100
اثبات حقانیت قرآن بطرز خاص
قال اللہ تعالی۔ فان کنت فی شک مما انزلناالیک۔۔۔ الی۔۔ یروا العذاب الالیم
(ربط) انبیاء سابقین کے واقعات بیان کرنے کے بعد قرآن کریم اوردین اسلام کی حقانیت معلوم کرنے کا ایک طریقہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر کفار قریش کو اس بارے میں شک ہے تو علماء اہل کتاب سے پوچھ لیں جن کے علم وفضل کا خود ان کو اقرار ہے چناچہ فرماتے ہیں سو اے انسان ! اگر تو اس قرآن کے من جانب اللہ ہونے کی طرف سے شک میں ہے جو ہم نے بواسطہ محمد رسول اللہ ﷺ تیری طرف اتارا ہے تو اس شک کے دفع کرنے کا سہل طریقہ یہ ہے کہ تو ان لوگوں سے پوچھ لے جو تجھ سے پہلے کتاب الہی پڑھتے ہیں یعنی توریت اور انجیل کے عالم ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
105: بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ نے ان کے صبر و استقامت کی بدولت بہت بڑے بڑے انعامات فرمائے ان کو فرعون کی غلامی سے نجات دی اور ملک شام اور مصر ان کے قبضہ میں دیدئیے اور ہر قسم کی فراخی عیش سے ان کو متمتع کیا مگر انہوں نے انعاماتِ الٰہی کی قدر نہ کی، ان کا شکر ادا نہ کیا اور جس دین توحید کی خاطر انہیں یہ سب کچھ ملا تھا اس کی حفاظت نہ کی بلکہ اسے بدل ڈالا۔ “ فَمَا اخْتَلَفُوْا الخ ” اس کے ساتھ “ بَغْیًا ” کی قید ملحوظ ہوگی بقرینہ “ وَمَاتَفَرَّقُوْا اِلَّا مِنْ بَعْدِ مَاجَاءَھُمُ الْعِلْمُ بَغْیًا بَیْنَھُمْ ” (شوری رکوع 2) ۔ یعنی انہوں نے دلائل وبراہین سے مسئلہ توحید واضح ہوجانے کے بعد محض ضد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–97
ربط آیات
گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے دو نافرمانوں قوموں کا حال بطور مثال ذکر کیا ہے تا کہ مشرکیں مکہ ، مشرکین عرب اور بعد میں آنے والے لوگوں کو عبرت حاصل ہو۔ ان میں سے ایک قوم نوح ہے جس کو اللہ نے کے نبی (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سا سال تک وعظ کیا اور قوم فرعون ہے جس کی طرف اللہ نے جلیل القدر انبیاء حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو مبعوث فرمایا۔ وہ مجرم قوم ایمان نہ لائی۔ انہوں نے ظلم وتعدی کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قوم نوح کو اللہ نے بذریعہ طوفان پانی میں ڈبویا جب کہ فرعون اور اس کے لشکر کو بحر قلزم کی موجوں میں لقمہ اجل بنایا۔ اللہ نے فرعون کی لاش کو عبرت کے لیے سمندر سے باہر…
Read the full tafseer →فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ فَسْــــَٔـلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ 0 ۚ لَقَدْ جَاۗءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ 94 ۙ
شكك
الشَّكُّ : اعتدال النّقيضين عند الإنسان وتساويهما،
والشَّكُّ :
ضرب من الجهل، وهو أخصّ منه، لأنّ الجهل قد يكون عدم العلم بالنّقيضين رأسا، فكلّ شَكٍّ جهل، ولیس کلّ جهل شكّا، قال اللہ تعالی: وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ [هود/ 110]
( ش ک ک ) الشک
کے معنی دونقیضوں کے ذہن میں برابر اور مساوی ہونے کے ہیں ۔
الشک :
شک جہالت ہی کی ایک قسم ہے لیکن اس سے اخص ہے کیونکہ جہل میں کبھی سرے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–97
3 ؎ شام کے ملک میں یہ ان بنی اسرائیل کو جو حضرت موسیٰ کے بعد تھے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
فَاِنْ کُنْتَ فِیْ شَکٍّ مِّمِّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَئُ وْنَ الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکَ لَقَدْ جَآئَ کَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ ۔ وَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَتَکُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ (یونس : 94، 95)
(پس اگر آپ شک میں ہیں اس چیز میں جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے تو پھر ان لوگوں سے پوچھئے جو آپ سے پہلے سے کتاب پڑھتے آرہے ہیں۔ بیشک آپ کے پاس حق آگیا آپ کے رب کی طرف سے پس آپ شک کرنے والوں سے نہ ہوں اور نہ آپ ان لوگوں میں سے ہوں جنھوں نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی کہ آپ بھی نقصان اٹھانے والوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
فہم القرآن
ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی قوم کے مصائب کا تذکرہ کرنے کے بعد آپ ﷺ کو تسلی اور تشفی دی گئی ہے۔
اے رسول ﷺ ! جو کچھ ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے اگر آپ کو اس بارے میں کوئی شک ہے تو آپ ان لوگوں سے پوچھ لیں۔ جن کو آپ سے پہلے کتاب عنایت کی گئی ہے یقین فرمائیں کہ آپ کے پاس حق پہنچ چکا ہے لہٰذا آپ کو شک کرنے والوں کا ساتھی نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی ان لوگوں کا ساتھ دینا چاہیے جو اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ یہ لوگ ضرور نقصان پائیں گے۔ یقیناً آپ کے رب کا فرمان سچ ہے کہ اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے ان آیات میں رسول کریم ﷺ کی ذات کو مخاطب فرمانے کے کئی مقاصد ہیں۔
1۔ قرآن مجید کا…
Read the full tafseer →آیات میں شک کرنے والے :
94: فَاِنْ کُنْتَ فِیْ شَکٍّ مِِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَئُ وْنَ الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکَ ( اگر تمہیں شک ہے اس چیز میں جو ہم نے آپ کی طرف اتاری تو ان لوگوں سے پوچھ لو جو کتاب آپ سے پہلے پڑھتے ہیں) جب بنی اسرائیل کا پہلے تذکرہ ہوا۔ اور وہ کتاب کو پڑھنے والے تھے۔ بنی اسرائیل کے متعلق بتلایا کہ علم ان کے پاس آچکا کیونکہ رسول ﷺ کا معاملہ تورات و انجیل میں لکھا ہوا ہے اور وہ آپ کو اس طرح پہچانتے ہیں۔ جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ تو ان کے علم کی تاکید صحت قرآن اور صحت نبوت ﷺ سے کردی اور اس میں مبالغہ کیا اور فرمایا اگر بالفرض والتقدیر آپ کو شک…
Read the full tafseer →تفسیر : 94” فان کنت فی شک مما انزل الیک “ یعنی قرآن ” فا سال الذین یقرون الکتاب من قلبک “ تو وہ آپ کو خبر دیں گے کہ ان کے پاس توریت میں بھی آپ (علیہ السلام) کو لکھا ہوا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور اس سے مراد آپ (علیہ السلام) کے علاوہ لوگ ہیں جیسے عرب کی عادت ہے کہ وہ کسی کو خطاب کرتے ہیں اور مراد کوئی اور ہوتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” یایھا النبی اتق اللہ “ یہاں نبی کریم ﷺ کو خطاب کیا حالانکہ مراد مؤمنین ہیں کیونکہ آگے چل کر فرمایا ” ان اللہ کان بما تعملون خبیرا “ ۔۔۔ ” بما تعمل “ نہیں کہا تو معلوم ہوا مؤمنین مراد ہے اور بعض نے کہا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
94۔ 97۔ اوپر یہود کی پھوٹ کا حال تھا کہ اس پھوٹ میں بعضے ان میں سے راہ راست پر آگئے اور جان گئے کہ تورات میں جن نبی آخر الزمان کے اوصاف ہیں بلاشک یہ وہی نبی ہیں اس ذکر کو پورا کرنے کے لئے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ ﷺ کہ اگر تمہیں اس میں کچھ شک ہو کہ آیا تمہارے اوصاف تفصیل سے تورات میں ہیں یا نہیں تو تم ان لوگوں سے دریافت کرلو جو اگلے رسولوں کی کتابیں دیکھے ہوئے ہیں کیوں کہ جو اہل کتاب تم پر ایمان لا چکے ہیں جیسے عبد اللہ بن سلام وہ اب کوئی بات چھپانے کے نہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے کہا کہ نہ میں شکی کرتا ہوں اور نہ مجھے پوچھنے کی ضرورت ہے 1 ؎ پھر اللہ جل شانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
آیت : ( 94-95)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (فان کنتم فی شک مما انزلنا الیک) ” اگر آپ اس کی بابت شک میں ہیں جو ہم نے آپ کی طرف اتارا “ کہ آیا یہ صحیح ہے یہ غیر صحیح ہے ؟ (فسئل الذین یقرء ون الکتب من قبلک) ” تو ان سے پوچھ لیں جو آپ سے پہلے کتاب پڑھتے ہیں “ یعنی انصاف پسند اہل کتاب اور راسخ العلم علماء سے پوچھئے وہ اس چیز کی صداقت کا اقرار کریں گے جس کی آپ کو خبر دی گئی ہے اور یہ وہ بھی اعتراف کریں گے کہ وہ اس ہدایت کے موافق ہے جو ان کے پاس ہے۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اہل کتاب ‘ یعنی یہود و نصاریٰ میں سے بہت سے لوگوں نے ‘ بلکہ ان میں سے اکثر لوگوں نے رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–109
قول باری ہے قد اجیبت دعوتکما تم دونوں کی دعا قبول کی گئی ۔ دعا کی نسبت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) دونوں کی طرف سے کی گئی ہے ۔ ابو العالیہ ، عکرمہ ، محمد بن کعب اور ربیع بن موسیٰ کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دعا مانگتے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے، اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو دعا مانگنے والے قرار دیا ۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ آمین بھی دعا ہے اور جب اس کا دعا ہونا ثابت ہوگیا تو پھر اس کا اخفاء اس کے جہر سے افضل ہوگا اس لیے کہ قول باری ہے ادعوا ربکم تضرعا ً و خفیۃ ۔ اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے پکارو۔
Read the full tafseer →162 ۔ خطاب پیغمبر سے اور عتاب مکذبین پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر آپ کو اے پیغمبر اس وحی و کتاب کے بارے میں کوئی شک و شبہ ہو جس کو ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے تو آپ ان لوگوں سے پوچھ دیکھیں جو آپ سے پہلے کتاب پڑھتے ہیں۔ سو اس ارشاد میں خطاب اگرچہ بظاہر آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن سنانا دراصل دوسروں کو ہے اور یہ بلاغت کا ایک خاص اسلوب ہے کہ خطاب کسی سے ہو اور سنانا کسی اور کو مطلوب ہو۔ پس یہاں پر خطاب اگرچہ بظاہر حضرت رسالت مآب ﷺ سے ہے کہ وحی کے اولین اور اصل مخاطب تو بہرحال آپ ﷺ ہی ہیں مگر سنانا درحقیقت دوسروں کو ہے۔ اور یہ بلاغت کا ایک خاص اور مشہور و معروف اسلوب ہے اور اس طرز خطاب اور اسلوب بیان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
نبی کو خطاب اور قوم یونس کی برأت
تشریح : ان آیات میں رب العلمین اپنے پیارے رسول ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر تمہیں کبھی انسان ہونے کے ناطے کتاب (قرآن) پر کوئی شک یا وسوسہ پیدا ہو تو اس کو دور کرنے کے لیے اول تو کلام پاک خود ہی بہت بڑی دلیل محکم ہے اور بہترین ہے ہر پہلو سے مگر انسانی تسلی اور دلیل کے لیے بڑی ہی صاف راہ ایک یہ بھی ہے کہ اس کتاب کے بارے میں تمام اہل کتاب جن میں سب سے بڑی دو قومیں ہیں یہودی اور عیسائی۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابیں دی ہیں، یعنی تورات اور انجیل۔ ان کتابوں میں ہر قسم کے قوانین اصول لکھے ہوئے موجود ہیں اور نبی اکرم ﷺ کے بارے میں بڑی ہی وضاحت سے بتایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–103
آیات 93 تا 103
اسرار و معارف
پھر ان نعمتوں کا تذکرہ جو بنی اسرائیل کو عطاہوئیں کہ بظاہرفرعون اور اس کی ساری حکومت انھیں رسوا کرنے پہ کمرباندھے ہوئے تھی کوئی ظاہری سبب ان کی نجات کا نہ تھا کہ انھوں نے اللہ پر بھر وسہ کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی میں نکل کھڑے ہوئے تو فرعون اور اس کا لشکرتباہ ہوگئے اور نبی اسرائیل کو وہ خوبصورت اور سرسبز و شاداب وادی جو انبیائے سابقین کا مسکن بھی تھی اور دنیاوی ودینی اعتبار سے ان کی پسنددیدہ بھی تھی یعنی اردن و فلسطین کی ارض مقدسہ عطاہوئی اور سلطنت مصر بھی انہی کو مل گئی اور بہترین نعمتیں بھی بطور رزق نصیب ہوئیں۔ آباد گھر تنومنداولاداچھی بیویاں شاداب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
ف 1 ۔ اس سورت کا اصل موضوع آنحضرت ﷺ کی نبوت کا ثبوت اور مخالفین کے شبہات کی تردید ہے۔ یہاں آخر سورة میں پھر اصل موضوع کی طرف التفات کیا ہے۔ (کبیر) مشرکینِ عرب چونکہ ان پڑھ اور اصمانی کتابوں کے علم سے بےبہرہ تھے اس لئے انکو توجہ دلائی ہے کہ اگر تمہیں خود علم نہیں ہے تو ان علمائے یہود سے دریافت کرلو جو توراۃ وغیرہ آسمانی کتابوں کا علم رکھتے ہیں۔ ان میں سے جو منصف مزاج اور خدا سے ڈرنے والے ہیں وہ اقرار کریں گے کہ قرآن واقعی آسمانی کتاب اور محمد ﷺ کے سچے رسول ہیں کیونکہ ان کی کتابوں میں جگہ جگہ آپ ﷺ کی آمد کی بشارتیں موجود ہیں اور آپ ﷺ کی علامات بیان کی گئی ہیں۔ الغرض یہ خطاب تو آنحضرت ﷺ سے ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
(10:93) بوانا۔ ہم نے جگہ دی۔ ہم نے مناسب مقام تیار کیا۔ ہم نے ٹھہرنے کی جگہ تیار کی۔ (ملاحظہ ہو 10:87) تبویۃ سے ماضی جمع متکلم۔ مبوا۔ اسم ظرف ۔ ٹھہرنے کی جگہ ، مسکن۔ بواء اس جگہ کو کہتے ہیں جو ہموار ہو اور اس کے کچھ اجزاء اوپر نیچے نہ ہوں۔
صدق۔ راستی۔ سچائی۔ نام ۔ نیک۔ سچی بات۔ عمدہ۔ پسندیدہ۔ صدق یصدق کا مصدر ہے اس کے معنی لغت میں سچ کہنے اور سچ کر دکھانے کے ہیں۔ اور چونکہ یہ ذکر خیر کا سبب ہے اس لئے مجازاً نیک نام ۔ ثناء اور ذکر خیر کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
الصدق۔ الکذب کی ضد ہے۔ اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں۔ خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا زمانہ مستقبل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 97
ان کنت (اگر تو ہے) اسئل (تو سوال کر) یفرء ون (وہ پڑھتے ہیں) لاتکونن (تو ہرگز نہ ہونا) الممترین (شک کرنے والے) حقت (ثابت ہوگئی) حتی بروا (جب تک وہ دیکھ نہ لیں گے)
تشریح : آیت نمبر 94 تا 97
جب نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ اپنے اولین مخاطب کفار عرب کے سامنے قرآن کریم، اس کی آیات، حقائق اور گزشتہ انبیاء کرام کے واقعات بیان فرماتے تو وہ لوگ حرصت زدہ رہ جاتے۔ ایک بات کے سمجھ میں آنے کے باوجود یا تو محض ضد، حسد ، ہٹ دھرمی اور تعصب کی بنا پر ان آیات کا انکار کردیتے یا شک و شبہ کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کرنے تاکہ ان لوگوں کے قدم راہ حق سے ڈگمگا جائیں جو اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
کفار سے علیحدہ رہنے کا حکم
اوپر یہود کی پھوٹ کا حال تھا کہ اس پھوٹ میں بعضے ان میں سے راہ راست پر آگئے اور جان گئے کہ توراۃ میں جن نبی آخرالزماں کے اوصاف ہیں بلا شک یہ وہی نبی ہیں۔ اس ذکر کو پورا کرنے لئے ان آیتوں میں فرمایا :" اے رسول ﷺ اللہ کے ! اگر تمہیں اس میں کچھ شک ہو کہ آیا تمہارے اوصاف تفصیل سے توراۃ میں ہیں یا نہیں، تو تم آج لوگوں سے دریافت کرلو جو اگلے رسولوں کی کتابیں دیکھے ہوئے ہیں۔ کیونکہ جو اہل کتاب تم پر ایمان لا چکے ہیں جیسے عبداللہ بن سلام ؓ وہ اب کوئی بات چھپانے کے نہیں "۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ نہ میں شک کرتا ہوں اور نہ مجھے پوچھنے کی…
Read the full tafseer →[38] یعنی اہل کتاب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
(ف 1) قرآن حکیم کا انداز بیان ہے کہ مخاطب حضور ﷺ کو کیا جاتا ہے اور مقصود دوسرے ہوتے ہیں ، کیونکہ آپ ترجمان وحی ہیں اور انسانیت کے وکیل بھی اس لئے اللہ تعالیٰ بالوحی انہیں سے تخاطب فرماتے ہیں ، ورنہ آنحضرت ﷺ شک وریب سے پاک ہیں ، وہ تو سراپا یقین و ایمان ہیں ، حضرت ابن عباس ؓ سعید بن جبیر ، ؓ قتادہ ؓ اور حسن بصری (رح) سے روایت ہے کہ ” لم یسئلک رسول اللہ “۔ یعنی حضور ﷺ کو کبھی شک نہیں پیدا ہوا ۔ اور غور فرمائیے جو دوسروں کو ایمان ویقین کی نعمتیں بانٹ رہا ہے ، جو دلوں کو نور ومعرف سے اجاگر کر رہا ہے کیا وہ خود سرمردود ہو سکتا ہے ۔
غرض یہ ہے کہ قرآن سابقہ کتب کا موید ہے توریت وانجیل میں صدہا پیش…
Read the full tafseer →94 پھر اگر بالفرض آپ کو اس چیز میں جو آپ کی طرف ہم نے نازل کی ہے کچھ شبہ ہو تو آپ ان لوگوں سے دریافت کر دیکھئے جو ان کتابوں کو پڑ تھے رہتے ہیں جو آپ سے پہلے نازل ہوئی ہیں بلاشبہ آپ کے پاس آپ کے رب کی جانب سے سچی کتاب آئی ہے لہٰذا آپ شک کرنیوالوں میں ہرگز شامل نہ ہوں یعنی اہل کتاب سے دریافت کیا جاسکتا ہے کہ اس قرآن کریم کی اور اس دین کی ان کی کتابوں میں پیشن گوئی ہے یا نہیں آپ کو شک نہیں پھر بھی شک فرمایا بطور مبالغہ اور ہوسکتا ہے کہ آپ کے واسطہ سے امت کو سنانا مقصود ہوا اور خطاب سے مقصود امت ہی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
ف 5۔ ظاہر میں خطاب آپ کو ہے مگر مقصود خطاب دوسروں کو ہے اور نزول آیت کے وقت آپ نے اپنے مقصود بالخطاب نہ ہونے کو ان لفظوں سے ظاہر فرمادیا کہ لا اشک ولا اسال۔
Read the full tafseer →نبی کریم ﷺ کو مخاطب فرما کر قوم مسلم سے خطاب کیا جا رہا ہے
129 ؎ قرآن کریم کا اسلوب بیان یہ ہے کہ مومنوں سے خطاب مقصود ہوتا ہے تو نبی کریم ﷺ کو مخاطب کیا جاتا ہے جیسے دوسری جگہ ہے کہ یایھا النبی اذا طلقتم النساء ( اطلاق 65 : 1) زیر نظر آیت میں بھی بظاہر خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے لیکن مخاطب دراصل مومنوں کی جماعت ہے جو آغاز دعوت کی بےچارگی اور مظلومی میں ایمان لائی تھی اور یہ بھی ممکن ہے کہ خطاب عام انسان کو ہو کہ اے انسان ! اگر تجھ کو اس وحی الٰی میں کوئی شک ہے جو بواسطہ محمد رسول اللہ ﷺ تیری طرف بھیجی گئی تو تو ان لوگوں سے دریافت کر جو تجھ سے پہلے اللہ کی کتاب تورات و انجیل پڑھتے تھے وہ تجھے…
Read the full tafseer →In the third verse (94), the address is obviously to the Holy Prophet ﷺ . But, it goes without saying that there is no probability of his doubting the revelation. Therefore, the purpose is to beam the message to the Muslim community through this address where he is not the intended recipient. Then, it is also possible that this address may be to human beings at large asking them if they had any doubts about the Divine revelation sent to them through Sayyidna Muhammad al-Mustafa ﷺ . If they had, let them ask those who recited the Torah and Injil before them. They would tell them that all past…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
93. God continues to confront people with instructive signs, even though most of them, in total disregard of such signs, fail to derive any lesson from them.
94. That is, God provided an abode for them in Palestine for their exodus from Egypt.
95. Here reference is made to the schisms and dissensions which the Israelites caused and the ever new religious cults which they invented. It is pointed out here that they had not acted in ignorance of the truth; their actions rather emanated from mischievous designs. For they had been provided by God with the true religion and they knew its…
Read the full tafseer →