افسوس انسان نے اکثر حق کی مخالفت کی
کسی بستی کے تمام باشندے کسی نبی پر کبھی ایمان نہیں لائے۔ یا تو سب نے ہی کفر کیا یا اکثر نے۔ سورة یٰسین میں فرمایا بندوں پر افسوس ہے ان کے پاس جو رسول آئے انہوں نے ان کا مذاق اڑایا۔ ایک آیت میں ہے ان سے پہلے رسول آئے، انہیں لوگوں نے جادوگر یا مجنون کا ہی خطاب دیا۔ تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب کو ان کی قوم کے سرکشوں ساہو کاروں نے یہی کہا کہ ہم نے تو اپنے بڑوں کو جس لکیر پر پایا اسی کے فقیر بنے رہیں گے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھ پر انبیاء پیش کئے گئے کسی نبی کے ساتھ تو لوگوں کا ایک گروہ تھا۔ کسی کے ساتھ صرف ایک آدمی کوئی محض تنہا۔ پھر آپ نے حضرت موسیٰ ؑ کی امت کی…
Read the full tafseer →سورة یُوْنُس 98
یونس ؑ جن کا نام بائیبل میں یوناہ ہے اور جن کا زمانہ سن 784 سے سن 860 ء قبل مسیح کے درمیان بتایا جاتا ہے ! اگرچہ اسرائیلی نبی تھے، مگر ان کو اشور (اسیریا) والوں کی ہدایت کے لیے عراق بھیجا گیا تھا اور اسی بنا پر اشوریوں کو یہاں قوم یونس کہا گیا ہے۔ اس قوم کا مرکز اس زمانہ میں نینوی کا مشہور شہر تھا جس کے وسیع کھنڈرات آج تک دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے پر موجودہ موصل کے عین مقابل پائے جاتے ہیں اور اسی علاقے میں یونس ؑ نبی کے نام سے ایک مقام بھی موجود ہے۔ اس قوم کے عروج کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ اس کا دارالسلطنت نینوی تقریبا 60 میل کے دور میں پھیلا ہوا تھا۔
سورة یُوْنُس 99
قرآن…
Read the full tafseer →ساتویں آیت میں غفلت شعار منکرین کو اس پر تنبیہ کی گئی ہے کہ زندگی کی فرصت کو غنیمت جانو، انکار و سرکشی سے اب بھی باز آجاؤ ورنہ ایک ایسا وقت آنے والا ہے جب توبہ کرو گے تو توبہ قبول نہ ہوگی، ایمان لاؤ گے تو ایمان مقبول نہ ہوگا اور وہ وقت وہ ہوگا جبکہ موت کے وقت آخرت کا عذاب سامنے آجائے، اسی سلسلہ میں حضرت یونس ؑ اور ان کی قوم کا ایک واقعہ ذکر فرمایا گیا جس میں بڑی عبرتیں اور نصیحتیں ہیں۔
اس آیت میں ارشاد ہے کہ ایسا کیوں نہ ہوا کہ منکر قومیں ایسے وقت ایمان لے آئیں کہ ان کا ایمان ان کو نفع دیتا یعنی موت کے وقت یا وقوع عذاب اور مبتلاء عذاب ہوچکنے کے بعد یا قیامت کے وقت جب کہ توبہ کا دروازہ بند…
Read the full tafseer →فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَآ اِيْمَانُهَآ اِلَّا قَوْمَ يُوْنُسَ ۭ لَمَّآ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْھُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنٰھُمْ اِلٰى حِيْنٍ۔
تاریخ کی روشنی میں پیغمبر ﷺ کو تسلی : یہ تاریخ کی روشنی میں پیغمبر ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تم سے پہلے جتنے بھی رسول آئے ان میں سے کسی رسول کی قوم کے لوگ بھی رسول پر اس وقت ایمان نہیں لائے جس وقت ایمان لانا نافع ہوا کرتا ہے بلکہ اللہ کا عذاب دیکھ کر ایمان لائے جب ایمان لانا بےسود ہوجاتا ہے۔ صرف ایک مثال قوم یونس کی اس سے مستثنی ہے۔ اس قوم کے لوگ بیشک عذاب کی گھڑی کے ظہور سے پہلے پہلے چوکنے ہوگئے۔ اللہ…
Read the full tafseer →98۔ 1 لولا یہاں تحضیض کے لیے ھلا کے معنی میں ہے یعنی جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا، ان میں کوئی ایک بستی بھی ایسی کیوں نہ ہوئی جو ایسا ایمان لاتی جو اس کے لئے فائدہ مند ہوتا۔ ہاں صرف یونس ؑ کی قوم ایسی ہوئی ہے کہ جب وہ ایمان لے آئی تو اللہ نے ان سے عذاب دور کردیا مختصر پس منظر یہ کہ یونس ؑ نے جب دیکھا کہ ان کی تبلیغ و دعوت سے ان کی قوم متاثر نہیں ہو رہی تو انہوں نے قوم میں اعلان کیا کہ فلاں فلاں دن تم پر عذاب آجائے گا اور وہ خود وہاں سے نکل گئے۔ جب عذاب بادل کی طرح ان پر امڈ آیا تو وہ بچوں عورتوں سمیت ایک میدان میں جمع ہوگئے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ و استفغار شروع کردیا۔ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →39: پچھلی آیتوں میں یہ حقیقت بیان فرمائی گئی تھی کہ کسی انسان کے لیے ایمان لانا اسی وقت کار آمد ہوتا ہے جب وہ موت سے پہلے اور عذاب الٰہی کا مشاہدہ کرنے سے ہپلے ایمان لائے۔ جب عذاب آجاتا ہے تو اس وقت ایمان لانا کار آمد نہیں ہوتا۔ اس اصول کے مطابق اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ پچھلی جتنی قوموں پر عذاب آیا، ان سب کا حال یہ تھا کہ وہ عذاب کو دیکھنے سے پہلے ایمان نہیں لائے، اس لیے عذاب کا شکار ہوئے۔ البتہ ایک یونس ؑ کی قوم ایسی تھی کہ وہ عذاب کے نازل ہونے سے ذرا پہلے ایمان لے آئی تھی۔ اس لیے اس کا ایمان منظور کرلیا گیا، اور اس کی وجہ سے اس پر آنے والا عذاب ہٹا لیا گیا۔ حضرت یونس ؑ کا واقعہ یہ ہوا…
Read the full tafseer →فلولا کانت قریۃ امنت فنفعھا ایمانھا الا قوم یونس قوم یونس کے علاوہ کوئی اور ایسی بستی کیوں نہیں ہوئی کہ (مشاہدۂ عذاب کے بعد) وہ ایمان لائی ہو اور ایمان اس کیلئے مفید ہوا ہو۔ قریہ سے مراد ہیں قریہ والے ‘ یعنی ان بستیوں والے جن کو اللہ نے (تکذیب رسول کی سزا میں) تباہ کردیا۔ اٰمَنَتْ یعنی عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے ایمان لے آئی ہو اور فرعون کی طرح وقت موت پر ایمان کو نہ ٹالا ہو۔ ایمان کے مفید ہونے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ نے ان کا ایمان قبول کرلیا ہو (اور آیا ہوا عذاب ٹال دیا ہو) ۔
حضرت ابن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اللہ اپنے بندہ کی توبہ قبول کرتا ہے جب تک غرغرہ نہ لگنے لگے۔ رواہ…
Read the full tafseer →2 یعنی جتنی بستیاں تکذیب انبیاء اور شرارتوں کی وجہ سے مستوجب عذاب ٹھہریں، ان میں سے کسی کو ایسی طرح ایمان لانے کی نوبت نہ آئی جو عذاب الٰہی سے نجات دیتا۔ صرف یونس (علیہ السلام) کی قوم کی ایک مثال ہے جس نے ایمان لا کر اپنے کو آسمانی عذاب سے بال بال بچا لیا جو بالکل ان کے سروں پر منڈلا رہا تھا۔ خدا نے ایمان کی بدولت دنیاوی زندگی میں ان پر سے آنے والی بلا ٹال دی اور جس وقت تک انھیں دنیا میں رہنا تھا یہاں کے فوائد و برکات سے منتفع کیا۔ مفسرین نے نقل کیا ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) سرزمین موصل میں اہل نینوا کی طرف مبعوث ہوئے وہاں کے لوگ بت پرست تھے۔ یونس (علیہ السلام) لگاتار سات سال تک پندو…
Read the full tafseer →آیت 98 فَلَوْلاَ کَانَتْ قَرْیَۃٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَہَآ اِیْمَانُہَآ اِلاَّ قَوْمَ یُوْنُسَ
حضرت یونس نینوا کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ آپ کی دعوت کے مقابلے میں آپ کی قوم انکار پر اڑی رہی۔ جب آخری حجت کے بعد ان لوگوں پر عذاب کا فیصلہ ہوگیا تو حضرت یونس حمیت دینی کے جوش میں انہیں چھوڑ کر چلے گئے اور جاتے جاتے انہیں یہ خبر دے گئے کہ اب تین دن کے اندر اندر تم پر عذاب آجائے گا ‘ جبکہ اللہ کی طرف سے آپ کو اپنی قوم کو چھوڑ کر جانے کی ابھی باضابطہ طور پر اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ رہی ہے کہ ایسے مواقع پر رسول اپنی مرضی سے اپنی بستی کو نہیں چھوڑ سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے باقاعدہ…
Read the full tafseer →106 سیدنایونس کا مرکز تبلیغ نینوا :۔ سیدنا یونس (علیہ السلام) کا ذکر یہاں پہلی دفعہ آیا ہے اور غالباً اسی وجہ سے اس سورة کا نام سورة یونس ہے البتہ آگے تین مقامات پر بھی اجمالی ذکر ہوگا یعنی سورة انبیاء کی آیات 87۔ 88 میں اور سورة الصافات کی آیات 139 تا 148 میں اور سورة قلم کی آیات 48 تا 50 میں، آپ تقریباً آٹھ سو سال قبل مسیح اہل نینوا کی طرف مبعوث ہوئے۔ نینوا اس زمانے میں دریائے دجلہ کے کنارے ایک بہت بڑا اور بارونق شہر تھا اور اس شہر کے کھنڈرات موجودہ شہر موصل (عراق) کے عین مقابل پائے جاتے ہیں یہی شہر اشوریوں (قوم یونس) کا دارالسلطنت تھا اور اس کے کھنڈرات سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شہر…
Read the full tafseer →146۔ (کہ صرف وہی وقت کے وقت ایمان لے آئی اور عذاب دنیوی سے نجات پاگئی) (آیت) ” فلولا کانت قریۃ امنت “۔ ذکر ان بستیوں کا ہورہا ہے جو تکذیب انبیاء کی بنا پر ہلاک وبرباد ہوئیں۔ (آیت) ” فنفعھا ایمانھا “۔ یعنی وقوع عذاب سے قبل وہ ایمان لے آتی اور تائب ہوجاتی۔ (آیت) ” قوم یونس “۔ یونس سے مراد پیغمبر برحق یونس (علیہ السلام) بن متی ہیں۔ توریت میں ان کا نام (JONAN) یایوناکر کرکے آیا ہے ان کا زمانہ آٹھویں صدی ق، م، کے وسط کا ہے۔ ان کا معاصر اسرائیلی بادشاہ یربعام تھا۔ جس کا زمانہ 781 ق، م ہے۔ باشندہ شہر نینوا کے تھے۔ جو اپنے زمانہ میں اسیر یا کی پر قوت سلطنت کا پایہ تخت تھا۔ اور آج ملک عراق میں جہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–103
آیت نمبر 93 تا 103
ترجمہ : اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانہ دیا اور وہ شام اور مصر تھا، اور ہم نے ان کو پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں، پھر انہوں نے اختلاف نہیں کیا مگر اس وقت جبکہ علم ان کے پاس آچکا بایں طور کہ بعض لوگ ایمان لائے اور بعض نے انکار کیا، یقیناً تیرا رب قیامت کے دن ان کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کر دے گا جس امر دین میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں مومنین کو نجات دے کر اور کافروں کو عذاب دیکر، پس اے محمد ! بالفرض اگر تم ان قصوں کے بارے میں جو ہم نے تمہاری طرف نازل کئے ہیں، شک میں ہو تو ان لوگوں سے پوچھ دیکھئے جو تم سے پہلی کتاب تورات کو پڑھتے ہیں اس لئے کہ وہ نازل کردہ (واقعات) ان کے…
Read the full tafseer →فلولا کانت قریۃ امنت فنفعھا ایمانھا الا قوم یونس قوم یونس کے علاوہ کوئی اور ایسی بستی کیوں نہیں ہوئی کہ (مشاہدۂ عذاب کے بعد) وہ ایمان لائی ہو اور ایمان اس کیلئے مفید ہوا ہو۔ قریہ سے مراد ہیں قریہ والے ‘ یعنی ان بستیوں والے جن کو اللہ نے (تکذیب رسول کی سزا میں) تباہ کردیا۔ اٰمَنَتْ یعنی عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے ایمان لے آئی ہو اور فرعون کی طرح وقت موت پر ایمان کو نہ ٹالا ہو۔ ایمان کے مفید ہونے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ نے ان کا ایمان قبول کرلیا ہو (اور آیا ہوا عذاب ٹال دیا ہو) ۔
حضرت ابن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ اپنے بندہ کی توبہ قبول کرتا ہے جب تک غرغرہ نہ لگنے لگے۔ رواہ…
Read the full tafseer →(98) چناچہ جن بستیوں والوں پر عذاب نازل ہوچکا ہے، نزول عذاب کے وقت ان میں سے کوئی بھی ایمان نہیں لایا کہ ایمان لانا اس کو نفع بخش ہوتا مگر نزول عذاب کے وقت کسی نے بھی بذریعہ ایمان نفع حاصل نہیں کیا، ہاں مگر حضرت یونس ؑ کی قوم کہ ان کا ایمان لانا انکو فائدہ مند ہوا جب وہ ایمان لائے تو اس سخت ترین عذاب کو ہم نے دنیاوی زندگی میں ان سے ٹال دیا اور مرنے تک بغیر عذاب کے ان کو رہنے دیا۔
Read the full tafseer →فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَآ اِيْمَانُهَآ۔۔ : یعنی کوئی ایسی بستی کیوں نہ ہوئی جو رسول کے عذاب سے ڈرانے پر ڈر جاتی اور عذاب آنے سے پہلے ایمان لے آتی، پھر اس کا ایمان اسے نفع دیتا، مگر ایسی کوئی بستی بھی نہ ہوئی، سب اس وقت ہی ایمان لائے جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا، سوائے یونس ؑ کی قوم کے کہ یونس ؑ کے کئی سال دعوت دینے کے باوجود جب وہ ایمان نہ لائے تو یونس ؑ نے ان پر عذاب کے لیے بددعا کی اور انھیں آگاہ کردیا کہ تم پر عذاب آنے ہی والا ہے اور خود وہاں سے ناراض ہو کر نکل گئے۔ دیکھیے سورة انبیاء (87) اور صافات (140) قوم جانتی تھی کہ یونس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، ان کے نکل…
Read the full tafseer →آیت نمبر 98
قولہ تعالیٰ : (آیت) فلولاکانت قریۃ امنت اخفش اور کسائی نے کہا ہے : فلولا بمعنی فھلا (پس کیوں ایسا نہ ہوا) ہے اور حضرت ابی اور حضرت ابن مسعود ؓ کے مصحف میں فھلا ہی ہے۔ دراصل کلام میں لولا تخضیض (ابھارنے اور برانگیختہ کرنے) کے لیے آتا ہے یا غیر کے پائے جانے کی وجہ سے کسی کام سے روکنے پر دلالت کرنے کے لیے۔ اور آیت کے معنی سے بستی والوں کے ایمان کی نفی سمجھی جارہی ہے پھر حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کی استثنا کی گئی ہے، پس یہ لفظ کے اعتبار سے تو استثنا منقطع ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے استثنا متصل ہے، کیونکہ اس کی تقدیر عبارت یہ ہے : ما امن اھل قریۃ الا قوم یونس (یعنی بستی والوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
1:۔ عبدالرزاق، ابن جریر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ ابن مسعود ؓ کے حرف اس طرح ہیں (آیت) ” فلولا کانت قریۃ امنت “
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” فلولا کانت قریۃ امنت “ کے بارے میں فرمایا کہ کوئی بستی نہیں تھی جو ایمان لاتی۔
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ہر (آیت) فلولا “ قرآن میں ” فھلا “ کے معنی میں ہے سوائے دو مقام کے (وہ فھلا کے معنی میں نہیں ہے) ایک سورة یونس میں ہے (آیت) ” فلولا کانت قریۃ امنت “ اور دوسرا (آیت) ” فلولا کانت قریۃ امنت “ (جو سورة ھود میں ہے)
4:۔ ابن منذر…
Read the full tafseer →فَلَوْلَا كَانَتْ [ پس کیوں نہ ہوئی ] قَرْيَةٌ [ کوئی ایسی بستی ] اٰمَنَتْ [ جو ایمان لاتی ] فَنَفَعَهَآ [ پھر نفع دیتا ان کو ] اِيْمَانُهَآ [ ان کا ایمان ] اِلَّا [ سوائے ] قَوْمَ يُوْنُسَ ۭ [ یونس کی قوم کے ] لَمَّآ [ جب ] اٰمَنُوْا [وہ لوگ ایمان لائے ] كَشَفْنَا [ تو ہم نے کھول دیا ] عَنْھُمْ [ ان سے ] عَذَابَ الْخِزْيِ [ رسوائی کے عذاب کو ] فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [ دنیوی زندگی میں ] وَمَتَّعْنٰھُمْ [ اور ہم نے فائدہ پہنچا یا ان کو ] اِلٰى حِيْنٍ [ ایک مدت تک ]
(آیت ۔ 98) فنفعھا ایمانھا میں ھا کی ضمیریں قریۃ کے لئے ہیں ۔ لفظی رعایت سے یہ ضمیریں واحد مؤنث آئی ہیں جبکہ یہاں قریۃ سے مراد…
Read the full tafseer →عذاب دیکھ کر حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کا ایمان لانا اور عذاب سے بچ جانا
اس سے پہلے فرعون کے تذکرہ میں فرمایا کہ وہ ڈوبنے لگا تو ایمان لے آیا ‘ لیکن اس کا ایمان لانا نا مقبول ہوا۔ دوسری آیات میں واضح طور پر بتایا کہ وہ دوزخ میں جائے گا۔ سورة ہود میں فرمایا (یَقْدُمُ قَوْمَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَاَوْرَدَھُمُ النَّارَ ) (وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور انہیں دوزخ میں داخل کر دے گا) اور سورة والنازعات میں فرمایا (فَاَخَذَہُ اللّٰہُ نَکَالَ الْاٰخِرَۃِ وَالْاُوْلیٰ ) (سو اللہ تعالیٰ نے اس کو آخرت کے اور دنیا کے عذاب میں پکڑا) اور سورة قصص میں فرمایا (فَاَخَذْنٰہُ وَجُنُوْدَہٗ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–100
اثبات حقانیت قرآن بطرز خاص
قال اللہ تعالی۔ فان کنت فی شک مما انزلناالیک۔۔۔ الی۔۔ یروا العذاب الالیم
(ربط) انبیاء سابقین کے واقعات بیان کرنے کے بعد قرآن کریم اوردین اسلام کی حقانیت معلوم کرنے کا ایک طریقہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر کفار قریش کو اس بارے میں شک ہے تو علماء اہل کتاب سے پوچھ لیں جن کے علم وفضل کا خود ان کو اقرار ہے چناچہ فرماتے ہیں سو اے انسان ! اگر تو اس قرآن کے من جانب اللہ ہونے کی طرف سے شک میں ہے جو ہم نے بواسطہ محمد رسول اللہ ﷺ تیری طرف اتارا ہے تو اس شک کے دفع کرنے کا سہل طریقہ یہ ہے کہ تو ان لوگوں سے پوچھ لے جو تجھ سے پہلے کتاب الہی پڑھتے ہیں یعنی توریت اور انجیل کے عالم ہیں…
Read the full tafseer →107: بہت سی بستیاں تکذیب انبیاء ورسل (علیہم السلام) کی وجہ سے سزاوار عذاب ٹھہریں اور اجل معین پر عذاب سے ان کو ہلاک کردیا گیا اگر وہ آثار عذاب کو دیکھ کر ایمان لے آتے تو ان کی نجات ہوجاتی اور ایمان سے ان کو فائدہ مل جاتا مگر کسی قوم کو یہ بات میسر نہ ہوئی البتہ قوم یونس (علیہ السلام) نے خوش قسمتی سے ایسا کیا جب انہوں نے آثار عذاب دیکھتے تو ڈر گئے اور ایمان لے آئے تو ہم نے عذاب اٹھا کر ان کو دنیا کی ذلت ورسوائی سے بچالیا۔ “ و المعنی ھلا کانت قریة واحدة من القرٹ التی اھلکنا ھا ثابت عن الکفر واخلصت فی الایمان قبل معاینة العذاب الا قوم یونس ولکن قوم یونس لما اٰمنوا فعلنا بھم کذا وکذا ” (کبیر ج 17…
Read the full tafseer →بطور عبرت اس سے پہلے قوم نوح اور قوم فرعون کے واقعات بیان ہوچکے ہیں ۔ اب یہ تیسرا واقعہ قوم یونس کا آرہا ہے۔ ان تینون واقعات میں ربط یہ ہے کہ اللہ کے تینوں انبیاء علیھم السلام حضرات نوح ، موسیٰ اور یونس (علیہم السلام) اپنی اپنی قوم کو لمبے عرصہ تک تبلیغ کرتے رہے مگر وہ ایمان نہ لائے اور آخر کار اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا۔ قوم نوح طوفان میں غرق ہوئی اور قوم فرعون بحر قلزم کی موجوں کی نذر ہوگئی البتہ اس تیسری قوم یونس پر بھی عذاب آیا مگر اس کی توبہ قبول ہوئی اور یہ عذاب الٰہی سے بچ گئی۔ اس لحاظ سے پوری تاریخ کائنات میں یہ واحد قوم ہے جس کی توبہ عذاب کے نظر آجانے کے بعد قبول ہوئی ، وگرنہ اللہ…
Read the full tafseer →فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَۃٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَہَآ اِيْمَانُہَآ اِلَّا قَوْمَ يُوْنُسَ 0 ۭ لَمَّآ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْھُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنٰھُمْ اِلٰى حِيْنٍ 98
قرية
الْقَرْيَةُ : اسم للموضع الذي يجتمع فيه الناس، وللناس جمیعا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] قال کثير من المفسّرين معناه : أهل القرية .
( ق ر ی ) القریۃ
وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر آباد ہوجائیں تو بحیثیت مجموعی ان دونوں کو قریہ کہتے ہیں اور جمع ہونے والے لوگوں اور جگہ انفراد بھی قریہ بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] بستی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–103
حضرت یونس (علیہ السلام) کے واقعہ کی طرف بڑے عبرت آمیز الفاظ میں اشارہ کرتا ہے فلولا کانت قریۃ آمنت فنفعہا ایمانہا الخ لولا کو بعض نے کلمہ نفی سمجھا ہے۔ امام واحد کا اسی طرف رجحان ہے۔ ان کے نزدیک یہ معنی ہوئے فما کانت قریۃً آمنت فنفعہا ایمانہا الا قوم یونس کہ ان گمراہ بستیوں میں سے کوئی بھی ایسی بستی نہیں ہوئی کہ جو ایمان لاتی اور ان کا ایمان نفع دیتا بجز قوم یونس کے یہ استثنیٰ منقطع ہے۔ ادل سے بعض علماء اس کو کلمہ تحریص و تخصیص کہتے ہیں بمعنی ہلاان کے نزدیک یہ معنی ہوئے کہ کوئی ایسی بستی بھی ہوتی کہ جو ایمان لاتی اور اس کا ایمان نفع دیتا مگر قوم یونس کہ وہ ایمان لائی۔ یونس بن متی (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
فَلَوْلاَ کَانَتْ قَرْیَۃٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَہَآ اِیْمَانُہَآ اِلاَّ قَوْمَ یُوْنُسَ ط لَمَّآ اٰمَنُوْا کَشَفْنَا عَنْہُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَمَتَّعْنٰہُمْ اِلٰی حِیْنٍ ۔ (یونس : 98)
(پس کیوں نہ ہوا کہ کوئی بستی ایمان لاتی کہ اس کا ایمان اس کو نفع دیتابجز یونس (علیہ السلام) کی قوم کے جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے دور کردیا ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں، اور ایک وقت تک ان کو زندگی سے بہرہ مند ہونے کا موقع دیا۔ )
قریش کو تربیت
اس آیت کریمہ میں معلوم ہوتا ہے بالواسطہ مشرکین مکہ کو توجہ دلائی جارہی ہے کہ تم بھی گمراہ قوموں کی طرح ہمیشہ نبی کریم ﷺ سے معجزات طلب…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قرآن کے منکرو ! اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے اس طرح فائدہ اٹھانا چاہیے جس طرح قوم یونس (علیہ السلام) نے مہلت سے فائدہ اٹھا کر سچی توبہ کی اور اپنے سروں پر منڈلاتے ہوئے عذاب سے بچ گئے تھے۔
حضرت یونس (علیہ السلام) عراق کی سرزمین نینوا کے علاقہ میں 800 قبل مسیح مبعوث کیے گئے۔ اس زمانے میں نینوا دنیا کے ترقی یافتہ بڑے شہروں میں شمار ہوتا تھا۔ قرآن مجید نے اس شہر کی آبادی ایک لاکھ سے زائد بتلائی ہے۔ ( الصافات : 147) شہر اور علاقے کے لوگ اشوری قوم سے تعلق رکھتے تھے جو بت پرستی میں مبتلا تھی۔ حضرت یونس (علیہ السلام) انہیں ایک مدت تک وعظ و نصیحت کرتے رہے مگر قوم نے ان کے ساتھ…
Read the full tafseer →قوم یونس ( علیہ السلام) کا واقعہ اور ان کی قابل رشک حالت :
98: فَلَوْلَاکَانَتْ قَرْیَۃٌ اٰمَنَتْ (کیوں نہ کوئی ایسی بستی ہوئی جو ایمان لاتی) کیونکر ان بستیوں میں سے جو کفر پر قائم رہیں اور ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ کوئی بستی ایسی نہ ہوئی جو معاینہ سے قبل مخلصانہ ایمان لاتی اور اس کو اس طرح مؤخر نہ کیا جاتا جیسا کہ فرعون کو گلا گھونٹنے تک مؤخر کیا گیا۔
فَنَفَعَھَآ اِیْمَانُھَآ (پس ان کو ان کا ایمان فائدہ دیتا) اس طرح کہ وقت اختیار میں ایمان لانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کو قبول کرلیا۔ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ (مگر قوم یونس علیہ السلام) نمبر 1۔ یہ مستثنیٰ منقطع ہے۔ یعنی لیکن قوم یونس…
Read the full tafseer →98۔ ” فلو لا کانت قریۃ “ اور معنی یہ ہے کہ نہیں تھے کوئی بستی والے اس لیے کہ استفہام انکار کی ایک قسم ہے۔” آمنت “ عذاب کے مشاہدہ کے وقت ” فنفعھا ایمانھا “ نا امیدی کی حالت میں ۔
98۔” الا قوم یونس “ کیونکہ اس وقت میں ان کو ان کے ایمان نے نفع دیا ۔ لفظ ” قوم “ استثناء منقطع کی وجہ سے منصوب ہے اور اصل عبارت ہے ” ولکن قوم یونس لما امنوا کشفنا عنھم عذاب الخزی فی الحیوۃ الدنیا و متعناھم الی حین “ اور وہ ان کی عمروں کے ختم ہونے کا وقت ہے اور اس میں اختلاف ہے کہ انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرلیا تھا یا نہیں ؟ تو بعض علماء نے فرمایا ہے کہ انہوں نے عذاب کی دلیل دیکھ لی تھی اور اکثر علماء اس بات پر ہیں کہ…
Read the full tafseer →98۔ اوپر ذکر تھا کہ یہ نافرمان لوگ جب تک آنکھوں سے عذاب کو دیکھ نہ لیویں گے اس وقت تک ایمان نہ لاویں گے اس آیت میں فرمایا کہ عذاب آتے ہوئے دیکھ کر ایمان لانے سے کسی قوم کو کسی بستی میں عذاب سے رہائی نہیں ہوئی مگر یونس (علیہ السلام) کی قوم کو ان کا پورا قصہ سورة صافات میں آئے گا لیکن صحیح طور پر عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے جو قصہ مسند امام احمد مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یونس (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ایمان لانے کو کہا۔ انہوں نے انکار کیا اس لئے یونس (علیہ السلام) نے ان سے کہا فلاں روز تم پر عذاب آئے گا اور خود وہاں سے نکل کر چلے گئے ان کی قوم بغداد کی سرزمین شہر موصل…
Read the full tafseer →آیت : (98)
(فلو لا کانت قریۃ) ” پس کیوں نہ ہوئی کوئی بستی “ یعنی جھٹلانے والی بستیوں میں سے ‘ (امنت) ” کہ وہ ایمان لائی “ جب انہوں نے عذاب دیکھا (فنفعھا) ایمانھا) ” پھر کام آیا ہو ان کو ان کا ایمان لانا “ یعنی ان تمام بستیوں میں سے کسی بستی کو عذاب دیکھ کرا یمان لانے کا کوئی فائدہ نہ ہوا جیسا کہ فرعون کے ایمان لانے کے بارے میں گزشتہ صفحات میں قریب ہی اللہ تعالیٰ کا ارشاد گزر چکا ہے اور جیسے فرمایا : (فلما راوا با سنا قالوا امنا باللہ وحدہ وکفرنا بما کنا بہ مشرکین۔ فلم یک ینفعھم ایمانھم لما راوابا سنا سنت اللہ التی قد خلت فی عبادہ) (المومن : 84-85/40) ” پس جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا ‘ تو کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–109
قول باری ہے قد اجیبت دعوتکما تم دونوں کی دعا قبول کی گئی ۔ دعا کی نسبت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) دونوں کی طرف سے کی گئی ہے ۔ ابو العالیہ ، عکرمہ ، محمد بن کعب اور ربیع بن موسیٰ کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دعا مانگتے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے، اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو دعا مانگنے والے قرار دیا ۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ آمین بھی دعا ہے اور جب اس کا دعا ہونا ثابت ہوگیا تو پھر اس کا اخفاء اس کے جہر سے افضل ہوگا اس لیے کہ قول باری ہے ادعوا ربکم تضرعا ً و خفیۃ ۔ اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے پکارو۔
Read the full tafseer →167 ۔ قوم یونس کے استثنائی قصے کا ذکر وبیان : سو قوم یونس کی اس استثنائی صورت کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ جب وہ لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے ان سے ٹال دیا ذلت و رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں اور ان کو متاع دنیا سے فائدہ اٹھانے دیا ایک خاص وقت تک کہ اس قوم کا ایمان دراصل عذاب آنے کے بعد نہیں بلکہ اس کی علامتوں اور نشانیوں کے ظہور کے فوری بعد کا تھا۔ جیسا کہ روایات میں وارد ہے کہ ان لوگوں کی مسلسل تکذیب کے بعد جب یونس (علیہ السلام) نے ان کو بتایا کہ تم پر اتنی مدت کے بعد عذاب آنے والا ہے اور اس کے بعد آپ ان لوگوں کے درمیان سے نکل گئے جس سے ان کے دلوں میں واقعۃ خوف پیدا ہوگیا کہ حضرت یونس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
نبی کو خطاب اور قوم یونس کی برأت
تشریح : ان آیات میں رب العلمین اپنے پیارے رسول ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر تمہیں کبھی انسان ہونے کے ناطے کتاب (قرآن) پر کوئی شک یا وسوسہ پیدا ہو تو اس کو دور کرنے کے لیے اول تو کلام پاک خود ہی بہت بڑی دلیل محکم ہے اور بہترین ہے ہر پہلو سے مگر انسانی تسلی اور دلیل کے لیے بڑی ہی صاف راہ ایک یہ بھی ہے کہ اس کتاب کے بارے میں تمام اہل کتاب جن میں سب سے بڑی دو قومیں ہیں یہودی اور عیسائی۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابیں دی ہیں، یعنی تورات اور انجیل۔ ان کتابوں میں ہر قسم کے قوانین اصول لکھے ہوئے موجود ہیں اور نبی اکرم ﷺ کے بارے میں بڑی ہی وضاحت سے بتایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–103
آیات 93 تا 103
اسرار و معارف
پھر ان نعمتوں کا تذکرہ جو بنی اسرائیل کو عطاہوئیں کہ بظاہرفرعون اور اس کی ساری حکومت انھیں رسوا کرنے پہ کمرباندھے ہوئے تھی کوئی ظاہری سبب ان کی نجات کا نہ تھا کہ انھوں نے اللہ پر بھر وسہ کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی میں نکل کھڑے ہوئے تو فرعون اور اس کا لشکرتباہ ہوگئے اور نبی اسرائیل کو وہ خوبصورت اور سرسبز و شاداب وادی جو انبیائے سابقین کا مسکن بھی تھی اور دنیاوی ودینی اعتبار سے ان کی پسنددیدہ بھی تھی یعنی اردن و فلسطین کی ارض مقدسہ عطاہوئی اور سلطنت مصر بھی انہی کو مل گئی اور بہترین نعمتیں بھی بطور رزق نصیب ہوئیں۔ آباد گھر تنومنداولاداچھی بیویاں شاداب…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ یہ تیسرا قصہ ہے یعنی جن قوموں پر انبیاء کی تکذیب کی بدولت عذاب بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ان میں یونس ( علیہ السلام) کی قوم کے سوا کسی کو یہ توفیق نصیب نہ ہوئی کہ عذاب ختم ہوجانے سے پہلے توبہ کر کیا ایمان لے آتی۔ اگر وہ ایسا کرتی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا اور اس سے عذاب ٹال دیتا۔ اول تو ان میں سے کوئی قوم ایمان نہیں لائی اور اگر لائی بھی تو اس وقت جب عذاب نے اسے آدبوچا (جیسے فرعون اور اس کے ساتھی) اور ظاہر ہے کہ اس وقت ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ (شوکانی) مفسرین کے عام بیان کے مطابق قوم یونس کا مرکز ” نینویٰ “ کا مشہور شہر تھا جس کے آثار آج بھی دجلہ کے مشرقی ساحل پر موجودہ…
Read the full tafseer →(10:98) فلولا کانت قریۃ امنت فنفعھا ایمانھا الا قوم یونس۔ لولا کی دو صورتیں ہیں :۔
(1) لولا نافیہ ہے اور فلولا کانت قریۃ۔ بمعنی فما کانت قریۃ ہے (کوئی بھی بستی ایسی نہ ہوئی) یہ ہروی کا قول ہے۔
(2) لولا استفہامیہ ہے۔ اور بمعنی ہلا برائے سرزنش اور توبیخ کے استعمال ہوا ہے۔ یعنی کیوں نہ کوئی بستی ایمان لائی کہ اس کا ایمان اس کے لئے نفع بخش ہوتا (اور وہ عذاب سے بچ جاتی)
الا حرف استثناء ہے قوم یونس مستثنیٰ ۔ اس میں مستثنیٰ کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) مستثنیٰ متصل۔ (2) مستثنیٰ منقطع
مستثنیٰ متصل وہ ہے جو مستثنیٰ منہ کی جنس سے ہو۔ جیسے جاءنی القوم الا زید۔ زید قوم میں داخل تھا۔ لیکن الا سے قوم سے الگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–103
لغات القرآن آیت نمبر 98 تا 103
قریۃ (بستی ، آبادی) کشفنا (ہم نے کھول دیا، ہٹا دیا ) الخزی (رسوائی) متعنا (ہم نے سامان دیا) حین (زمانہ، مدت) تکرہ (تو زبردستی کرے گا) یجعل (وہ بناتا ہے، ڈالتا ہے) الرجس (گندگی) لایعقلون (سمجھ نہیں رکھتے ہیں انظروا (تم دیکھو ) ماتغنی (کام نہیں آئی) النذر (ڈرانا، دھمکانا) ینتظرون (وہ انتظار کر رہے ہیں
تشریح : آیت نمبر 98 تا 103
اللہ تعالیٰ نے انسان کو خشکی اور تری میں برتری اور اس کائنات کی ہر مخلوق سے زیادہ عظمت عطا فرمائی ہے لیکن اس کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ وہ دنیا کے معاملات میں الجھ کر اس قدر غافل ہوجاتا ہے کہ اس کو آخرت کی یاد ہی نہیں آتی اور بھول کر وہ اپنے…
Read the full tafseer →منکرین قیامت کی کم عقلی کا ذکر اور ہدایت
اوپر ذکر تھا کہ یہ نافرمان لوگ جب تک آنکھوں سے عذاب کو نہ دیکھ لیں گے اس وقت تک ایمان نہ لاویں گے۔ اس آیت میں فرمایا کہ عذاب آتے ہوئے دیکھ کر ایمان لانے سے کسی قوم کو کسی بستی میں عذاب سے رہائی نہیں ہوئی مگر یونس (علیہ السلام) کی قوم کو ان کا قصہ سورة صافات میں آوے گا۔ خلاصہ یہ ہے کہ یونس (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ایمان لانے کو کہا مگر انہوں نے انکار کیا اس لئے انہوں نے کہا کہ فلاح روز تم پر عذاب آوے گا۔ اور خود وہاں سے نکل کر چلے گئے۔ جب قوم نے دیکھا کہ عذاب کا نمونہ آگیا تو سب نے جنگل میں جا کر گڑ گڑا کر دعا مانگی جس پر اللہ تعالیٰ کو رحم آگیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–109
[42] مفسرین نے عذاب ٹل جانے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ یونس (علیہ السلام) اپنی نافرمان قوم کو عذاب کی اطلاع دینے کے بعد اللہ کی اجازت کے بغیر بستی سے چلے گئے تھے۔ اس لئے جب آثار عذاب ظاہر ہونا شروع ہوئے تو پوری قوم نے اللہ تعالیٰ کے روبرو گریہ زاری شروع کی اور ایمان لے آئی لہذا عذاب ہٹا لیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
قوم یونس :
(ف 1) لولا تحضیضیہ ہے ، فھلا کے معنوں میں جیسا کہ حضرت ابی اور عبداللہ بن مسعود ؓ کے مصحف میں تصریح ہے ۔
غرض یہ ہے کہ تباہ شدہ قوموں نے آخری وقت ایمان و توبہ کا اظہار نہیں کیا آیت میں اظہار مستحسر ہے کہ کیوں ان قوموں کو توبہ کی توفیق نہ ہوئی اور کیوں عذاب الہی سے نہ بچ گئے ؟
(آیت) ” الا قوم یونس “۔ میں الا منقطعہ ہے غرض یہ ہے کہ صرف یونس (علیہ السلام) کی قوم ایسی ہے جنہوں نے عذاب کے علامات وآثار دیکھ کر خالص توبہ کی اور ان پر سے اللہ نے عذاب دور کردیا ،
یہ غلط فہمی نہ رہے کہ قرآن نے کسی عذاب کی پیشگوئی کا ذکر نہیں فرمایا ارشاد صرف یہ ہے کہ قوم یونس (علیہ السلام) کی نافرمانی کی وجہ…
Read the full tafseer →98 چناچہ کوئی بستی ایسی نہیں ہوئی کہ معائنہ عذاب کے وقت اس کے لوگ ایمان لاتے اور ان کو ان کا ایمان لانا نفع دیتا اور نافع ہوتا مگر ہاں ! یونس (علیہ السلام) کی قوم کہ جب وہ لوگ ایمان لائے تو ہم نے دنیوی زندگی میں ان پر سے رسوائی کے عذاب کو ہٹا یا اور عذاب کو ٹال دیا اور ایک مدت تک ان کو عیش سے بہرہ ور رکھا۔ یعنی فائدہ یہی ہے کہ عذاب آنے کے بعد ٹلتا نہیں اور اس وقت ایمان لانا مفید نہیں ہوتا مگر یونس (علیہ السلام) کی قوم کے ساتھ یہ سلوک نہیں کیا گیا بلکہ عذاب ان پر سے کھول دیا گیا اور ان کو م رتے دم تک سود مند رکھا حضرت یونس (علیہ السلام) نے جوان کو وعدہ دیا تھا اس میں کچھ غلطی ہوگئی تھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
ف 1۔ مگر بعض حکمتوں کی وجہ سے یہ نہ چاہا اس لیے سب ایمان نہیں لائے۔
Read the full tafseer →یونس (علیہ السلام) کی بستی کے سوا کوئی ایسی بستی نہ ہوئی کہ ایمان کی برکتوں سے فائدہ اٹھاتی
134 ؎ ذکر ان بستیوں کا ہو رہا ہے جو تکذیب انبیاء کی بناء پر ہلاکت و برباد ہوئیں اور ان پر افسوس کیا جا رہا ہے کہ ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب ان کے انبیاء کرام (علیہ السلام) نے ان کو عذاب کی دھمکی سنائی تو وہ ایمان نہ لائیں سوائے قوم یونس کے یعنی جس قوم کی طرف یونس (علیہ السلام) کو رسول بنا کر مبعوث کیا گیا اس بستی کی داستان اس طرح ہے کہ وہ حدود سے تجاوزکر رہی تھی کہ یونس (علیہ السلام) نے جن کا تعلق اس بستی سے تھا نبوت سے پہلے ہی ان کو دھمکی سنائی کہ اے لوگو ! اگر تم باز نہ آئے تو تم اللہ کے عذاب کی لپیٹ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–109
In the seventh verse (98), the heedless deniers of truth have been admonished for their failure to make the optimum use of the time of life allowed to them. There was still time for them to leave denial and contumacy. Otherwise, an ominous time was due to come when they will make Taubah but their Taubah will not be accepted. They will say that they believed but their belief will not be welcome. And that time will be the time when the punishment of the Hereafter will appear right before their eyes at the time of death. It was in this connection that an event relating to Sayyidna Yunus (علیہ…
Read the full tafseer →98. Even though the Prophet Yunus, called Jonah in the Bible (860-784 BC). was of Israeli descent, he was sent to Iraq in order to guide the Assyrians. The Assyrians are, therefore, called here 'the people of Yunus'. Ninevah. the famous ancient town, was their capital, a great many ruins of which are still to be found on the left bank of the Tigris, opposite the present city of Mosul. One of the mounds in this area is still named after the Prophet Jonah. The splendour of the Assyrians may be gauged from the fact that their capital, Ninevah. spread over a radius of sixty miles.
99. Although…
Read the full tafseer →