Explained with ayahs 84–86
اللہ پر مکمل بھروسہ ایمان کی روح
حضرت موسیٰ ؑ اپنی قوم بنی اسرائیل سے فرماتے ہیں کہ اگر تم مومن مسلمان ہو تو اللہ پر بھروسہ رکھو جو اس پر بھروسہ کرے وہ اسے کافی ہے عبادت و توکل دونوں ہم پلہ چیزیں ہیں۔ فرمان رب ہے (فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ ۭ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ01203) 11۔ ھود :123) اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ رکھ۔ ایک اور آیت میں اپنے نبی ﷺ کو ارشاد فرماتا ہے کہ کہہ دے کہ رب رحمن پر ہم ایمان لائے اور اسی کی ذات پاک پر ہم نے توکل کیا۔ فرماتا ہے مشرق و مغرب کا رب جو عبادت کے لائق معبود ہے، جس کے سوا پرستش کے لائق اور کوئی نہیں۔ تو اسی کو اپنا وکیل و کارساز…
Read the full tafseer →سورة یُوْنُس 81
ظاہر ہے کہ یہ الفاظ کسی کافر قوم کو خطاب کر کے نہیں کہے جاسکتے تھے۔ حضرت موسیٰ ؑ کا یہ ارشاد صاف بتارہا ہے کہ بنی اسرائیل کی پوری قوم اس وقت مسلمان تھی، اور حضرت موسیٰ ؑ ان کو یہ تلقین فرما رہے تھے کہ اگر تم واقعی مسلمان ہو، جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے، تو فرعون کی طاقت سے خوف نہ کھاؤ بلکہ اللہ کی طاقت پر بھروسہ کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
خلاصہ تفسیر
پس (جب عصا کا معجزہ ظاہر ہوا تو) موسیٰ ؑ پر (شروع شروع میں) ان کی قوم میں سے صرف قدرے قلیل آدمی ایمان لائے وہ بھی فرعون سے اور اپنے حکام سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں (ظاہر ہونے پر) ان کو تکلیف (نہ) پہنچاوے اور واقع میں (ڈرنا ان کا بےجا نہ تھا کیونکہ) فرعون اس ملک میں زور (سلطنت) رکھتا تھا اور یہ بھی بات تھی کہ وہ حد (انصاف) سے باہر ہوجاتا تھا (ظلم کرنے لگتا تھا پھر جو شخص حکومت کے ساتھ ظلم کرتا ہو اس سے تو ڈر لگتا ہی ہے) اور موسیٰ ؑ نے (جب ان کو خائف دیکھا تو ان سے) فرمایا اے میری قوم اگر تم (سچے دل سے) اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو (سوچ بچار مت کرو بلکہ) اسی پر توکل کرو اگر تم (اس کی) اطاعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
84۔ 86:۔ وَقَالَ مُوْسٰى يٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوْٓا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِيْنَ۔ فَقَالُوْا عَلَي اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ۔ وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ۔
وَقَالَ مُوْسٰى۔۔۔ الایۃ۔ یہ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کے لوگوں کو ایمان باللہ کی حقیقت سمجھائی ہے کہ اگر ایمان کا اظہار کیا ہے تو اس ایمان کے تقاضے پورے کرنے کی راہ میں کسی کا ڈر اور کسی کا لحاظ حائل نہیں ہونا چاہیے بلکہ سب سے بےنیاز و بےپروا ہو کر اللہ کی راہ میں بڑھنا چاہیے اور اللہ پر پورا بھروسہ رکھنا چاہیے کہ جس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
84۔ 1 بنی اسرائیل، فرعون کی طرف سے جس ذلت اور رسوائی کا شکار تھے، حضرت موسیٰ ؑ کے آنے کے بعد بھی اس میں کمی نہیں آئی، اس لئے وہ سخت پریشان تھے، بلکہ حضرت موسیٰ ؑ سے انہوں نے یہ تک کہہ دیا، اے موسٰی، جس طرح تیرے آنے سے پہلے ہم فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے تکلیفوں میں مبتلا تھے، تیرے آنے کے بعد بھی ہمارا یہی حال ہے۔ جس پر حضرت موسیٰ ؑ نے انھیں کہا تھا کہ امید ہے کہ میرا رب جلدی تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا۔ لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ تم صرف ایک اللہ سے مدد چاہو اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو (ملاحظہ ہو سورت الا عراف آیات 128، 129) (قَالَ مُوْسٰي لِقَوْمِهِ اسْتَعِيْنُوْا باللّٰهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
33: شروع میں حضرت موسیٰ ؑ پر بنو اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لائے تھے۔ اور وہ بھی فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ڈرتے، اور فرعون کے سرداروں کو ان نوجوانوں کا سردار اس لیے کہا گیا ہے کہ عملاً وہ ان کے حاکم تھے۔
Read the full tafseer →وقال موسیٰ یقوم کنتم امنتم باللہ فعلیہ توکلوا ان کنتم مسلمین۔ اور موسیٰ نے (جب مؤمنوں کو خوف زدہ دیکھا تو) کہا : اے میری قوم ! اگر تم اللہ پر ایمان لے آئے ہو تو اسی پر اعتماد اور بھروسہ کرو (فرعون اور اس کے آدمیوں سے مت ڈرو) اگر (ا اللہ کے فیصلہ کو) مانتے ہو اور مخلص ہو تو اللہ ہی پر توکل کرو۔ اِنْ کُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ کی جزاء محذوف ہے اور اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ کی جزاء فَعَلَیْہِ تَوَکَّلُوْٓا ہے۔ ایمان وجوب توکل کا مقتضی ہے ‘ اسلئے تَوَکَّلُوْا کا اٰمَنْتُمْ سے تعلق ہے اور جب تک دلوں میں اخلاص نہ ہو اور اپنی ہستی کو فیصلۂ خداوندی کے سپرد نہ کردیا جائے ‘ اس وقت تک حصول توکل نہیں ہو سکتا۔…
Read the full tafseer →5 یعنی گھبرانے اور خوف کھانے کی ضرورت نہیں۔ ایک فرمان بردار مومن کا کام اپنے مالک کی طاقت پر بھروسہ کرنا ہے جسے خدا کی لامحدود قدرت و رحمت پر یقین ہوگا، وہ یقینا ہر معاملہ میں خدا پر اعتماد کرے گا اور اس اعتماد کا اظہار جب ہی ہوسکتا ہے کہ بندہ اپنے کو بالکلیہ خدا کے سپرد کر دے، اسی کے حکم پر چلے اور تمام جدوجہد میں صرف اسی پر نظر رکھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
عَلٰی خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَمَلاَءِہِمْ اَنْ یَّفْتِنَہُمْ
اس وقت مصر پر قبطی قوم حکمران تھی ‘ جسے قرآن نے ”آل فرعون“ کہا ہے اور اسرائیلی ان کے محکوم تھے۔ حضرت موسیٰ اپنی قوم بنی اسرائیل کی آزادی کے علمبردار تھے ‘ لیکن اس کے باوجود بنی اسرائیل میں سے بھی صرف چند نوجوان لڑکوں نے ہی آپ کی دعوت پر لبیک کہا تھا۔ دراصل غلام ہونے کی وجہ سے وہ لوگ فرعون اور اس کے سرداروں کے مظالم سے خوف زدہ تھے۔ عام طور پر ہر محکوم قوم کے ساتھ اسی طرح ہوتا ہے کہ اس کے کچھ لوگ اپنی قوم سے غداری کر کے حکمرانوں سے مل جاتے ہیں اور حکمران انہیں مراعات اور خطابات سے نواز کر ان کی وفاداریاں خرید لیتے ہیں۔ چناچہ بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
94 ذریت کے معنی نوجوان جرأ تمند نسل :۔ لفظ ذریت کا لغوی معنی اولاد ہے اور یہاں ذریت سے مراد بنی اسرائیل کی نوجوان نسل ہے ان نوجوانوں میں سے بھی چند آدمیوں نے ہمت کرکے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا اعلان کردیا ورنہ بڑے بوڑھے لوگ تو فرعون کی چیرہ دستیوں سے اس قدر خائف تھے کہ دل سے ایمان لانے کے باوجود اپنے ایمان کا اظہار کرنے میں اپنی موت سمجھتے تھے۔ طویل مدت کی غلامی، بڑھاپے کی کمزوری اور فرعون کے مظالم نے انھیں اتنا پست ہمت بنادیا تھا کہ وہ اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہوئے بھی ڈرتے تھے۔ جادوگروں کے ایمان لانے کے بعد بنی اسرائیل کے یہ چند نوجوان ہی اتنے دلیر ثابت ہوئے کہ انہوں نے پیش…
Read the full tafseer →123۔ (اور خواہ مخواہ زیادہ حیران پریشان نہ ہو۔ وہی تمہاری مدد کرے گا) یہ آپ نے اس وقت فرمایا جب دیکھ لیا کہ حکومت فرعونی کے مظالم سے اسرائلی بلبلائے اٹھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–92
آیت نمبر 83 تا 92
ترجمہ : فرعون کی قوم کے نوجوانوں میں سے ایک مٹھی بھر نوجوانوں کے علاوہ کسی نے فرعون اور اپنے سرداروں کے خوف کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کی بات نہیں مانی کہ وہ ان کو تکلیف دیکر ان کے دین سے پھیر دیں گے اور اس میں شک نہیں کہ فرعون ملک مصر میں (زور وتکبر میں) بہت چڑھا ہوا تھا، اور وہ تھا ہی دعوائے ربوبیت کرکے حد سے تجاوز کرنے والوں میں اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو اگر تم فرمانبردار ہو، انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا اے ہمارے پروردگار تو ہم کو ظالموں کے لئے تختہ مشق نہ بنا یعنی تو ان کو ہم پر…
Read the full tafseer →وقال موسیٰ یقوم کنتم امنتم باللہ فعلیہ توکلوا ان کنتم مسلمین۔ اور موسیٰ نے (جب مؤمنوں کو خوف زدہ دیکھا تو) کہا : اے میری قوم ! اگر تم اللہ پر ایمان لے آئے ہو تو اسی پر اعتماد اور بھروسہ کرو (فرعون اور اس کے آدمیوں سے مت ڈرو) اگر (ا اللہ کے فیصلہ کو) مانتے ہو اور مخلص ہو تو اللہ ہی پر توکل کرو۔ اِنْ کُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ کی جزاء محذوف ہے اور اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ کی جزاء فَعَلَیْہِ تَوَکَّلُوْٓا ہے۔ ایمان وجوب توکل کا مقتضی ہے ‘ اسلئے تَوَکَّلُوْا کا اٰمَنْتُمْ سے تعلق ہے اور جب تک دلوں میں اخلاص نہ ہو اور اپنی ہستی کو فیصلۂ خداوندی کے سپرد نہ کردیا جائے ‘ اس وقت تک حصول توکل نہیں ہوسکتا۔…
Read the full tafseer →(84) حضرت موسیٰ ؑ نے یہ حالت دیکھ کر فرمایا کہ اسی پر بھروسہ کرو جب کہ تم مومن ہو۔
Read the full tafseer →وَقَالَ مُوْسٰى يٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ باللّٰهِ۔۔ : موسیٰ ؑ کے معجزات اور سچا نبی ثابت ہونے پر بھی فرعون کے ظلم میں کمی نہ آئی، بلکہ وہ اور بڑھ گیا۔ بنی اسرائیل نے موسیٰ ؑ سے شکوہ کیا کہ آپ کے آنے سے پہلے بھی اور آپ کے آنے پر بھی ہمیں ایذا ہی دی گئی تو موسیٰ ؑ نے انھیں صبر اور توکل کی تلقین فرمائی۔ دیکھیے سورة اعراف (128، 129) زیر تفسیر آیت میں اللہ پر توکل کو ایمان اور اسلام کا لازمی نتیجہ قرار دیا گیا، جیسا کہ دوسری آیات میں ایمان اور توکل یا عبادت اور توکل کو ایک ساتھ بیان فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة ہود (123) ، ملک (29) اور فاتحہ (4)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
آیت نمبر 85
قولہ تعالیٰ : (آیت) وقال موسیٰ یا قوم ان کنتم امنتم یعنی اگر تم نے تصدیق کی ہے۔ (آیت) باللہ فعلیہ توکلوا اللہ تعالیٰ کی تو اسی پر اعتماد کرو۔ (آیت) ان کنتم مسلمین شرط بطور تاکید مکرر ذکر کی گئی ہے اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ کمال ایمان امر کو اللہ تعالیٰ کے حوالے اور سپرد کرنے کے ساتھ ہوتا ہے۔ (آیت) فقالوا علی اللہ توکلنا انہوں نے عرض کی ہم نے اپنے امور اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیئے۔ اور ہم اس کی قضاء قدر کے ساتھ راضی ہیں اور ہماری انتہا اس کے امر تک ہے۔ (آیت) ربنا لاتجعلنا فتنۃ للقوم الظالمین یعنی تو ہمارے خلاف ان کی مدد نہ کر، پس وہ ہمارے لیے دین کے بارے فتنہ ہوجائے گا یا تو ہمیں نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم و ابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فما امن لموسی الا ذریۃ من قومہ “ یعنی ان کی تھوڑی اولاد موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائی۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ذریۃ من قومہ “ یعنی بنی اسرائیل میں۔
3:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فما امن لموسی الا ذریۃ من قومہ “ ان کی اولاد موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائی جس کے طرف آپ کو لمبے زمانہ تک بھیجا گیا تھا اور ان کے آباؤ اجداد مرچکے تھے۔
4:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ…
Read the full tafseer →وَقَالَ [ اور کہا ] مُوْسٰى [ موسیٰ نے ] يٰقَوْمِ [ اے میری قوم ] اِنْ [ اگر ] كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ [ تم لوگ ایمان رکھتے ہو ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] فَعَلَيْهِ [ تو اس پر ہی ] تَوَكَّلُوْٓا [ بھروسہ رکھو ] اِنْ [ اگر ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ہو ] مُّسْلِمِيْنَ [ فرمانبرداری کرنے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–86
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کی طرف مبعوث ہونا اور ان کے مقابلہ میں جادوگروں کا شکست کھانا
ان آیات میں اول تو اجمالی طور پر ان پیغمبروں کی آمد اور تبلیغ اور قوموں کی تکذیب کا حال بیان فرمایا جو حضرت نوح اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے درمیان تھے۔ جب لوگوں کے پاس حق آیا تو پہلے سے جس کفر پر جمے ہوئے تھے اسی پر جمے رہے اور حق کو قبول نہ کیا ان لوگوں کے عناد کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ لہٰذا حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہ رہی۔
اس کے بعد حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کی بعثت کا تذکرہ فرمایا کہ ان دونوں کو ہم نے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی طرف بھیجا جو ہماری آیات و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
اسباب نجات از فرعون وقوم او
قال اللہ تعالیٰ ٰ فما امن لموسی الا ذریۃ من قومہ۔۔۔ الی۔۔۔ وبشر ال مومن ین
پس باوجود ان زبردست معجزات دیکھنے کے بھی ابتداء میں موسیٰ پر سوائے چند آدمیوں کے جو اس کی قوم سے تھے کوئی ایمان نہ لایا یعنی شروع شروع میں جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے مصر آئے اور حق کی دعوت دینے لگے تو اس وقت ان کی قوم میں سے قدر قلیل لوگ ان پر ایمان لائے اور وہ بھی فرعون اور اپنے سرداروں سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں مبادا فرعون ان کے ایمان کی خبر پا کر ان کو مبتلائے مصیبت نہ کردے یعنی جو قدرے قلیل لوگ موسیٰ (علیہ السلام) پر ابتداء میں ایمان لائے وہ فرعون اور اپنے سرداروں سے ڈرتے ڈرتے ایمان لائے…
Read the full tafseer →100: جب بنی اسرائیل فرعون اور فرعونیوں کے مظالم و شدائد سے تنگ آگئے اور ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے شکویٰ کیا کہ آپ کی آمد سے پہلے ہم یکساں طور پر فرعون کی طرف سے مصائب و آلام میں مبتلا ہیں کیا ہم ہمیشہ اسی حال میں رہیں گے۔ “ اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ” (اعراف رکوع 15) ۔ اس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو تسلی دی کہ جب تم اللہ پر ایمان لا چکے ہو تو اللہ پر بھروسہ کرو اور تسلیم و رضا سے کام لو اللہ تمہاری مدد کرے گا۔ تمہارے دشمن کو ہلاک کر کے اس کے تمام مقبوضات کو تمہارے قبضہ میں دیدے گا۔ پھر تمہارا بھی پتہ چل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
ربط آیات
سرکش لوگوں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا حال بیان کیا۔ پھر موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کے مخالفین اور متکبرین فرعون اور اس کی قوم کا ذکر کیا۔ دراصل یہ مشرکین عرب اور ان کے بعد آنے والوں کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ اگر وہ بھی سابقہ اقوام کی طرح غرور اور تکبر کو اختیار کریں گے ، حق کے خلاف بغاوت کریں گے تو ان کا انجام بھی فرعون اور اس کے سرداروں سے مختلف نہیں ہوگا۔ فرعون کا واقعہ مختصرا پہلے بیان ہوچکا ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سامنے خدا تعالیٰ کا پیغام پیش کیا تو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے اسے سحر کہہ کر رد کردیا ، اور…
Read the full tafseer →وَقَالَ مُوْسٰى يٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللہِ فَعَلَيْہِ تَوَكَّلُوْٓا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِيْنَ 84
قوم
والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ،
( ق و م ) قيام
القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11]
وكل
والتَّوَكُّلُ يقال علی وجهين، يقال :
تَوَكَّلْتُ لفلان بمعنی: تولّيت له، ويقال : وَكَّلْتُهُ فَتَوَكَّلَ لي، وتَوَكَّلْتُ عليه بمعنی: اعتمدته قال عزّ وجلّ : فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–89
1 ؎ یعنی تیری اور تیرے بھائی ہارون کی 12 منہ
Read the full tafseer →وَقَالَ مُوْسٰی ٰیقَوْمِ اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰہِ فَعَلَیْہِ تَوَکَّلُـٓوْا اِنْ کُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ ۔
(یونس : 84)
( اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو پھر اسی پر بھروسہ کرو اگر تم مسلمان ہو۔ )
ایمان کی حقیقت
گزشتہ آیت کی تشریح میں ہم نے پڑھا ہے کہ بنی اسرائیل مسلمان ہوتے ہوئے بھی ایمان کی حقیقت سے آشنا نہ تھے یا یوں کہہ لیجئے کہ صدیوں سے کفر کی غلامی میں رہنے کے باوجود وہ مسلمان ہوتے ہوئے بھی ایمان کی روح سے بےبہرہ ہوچکے تھے۔ ان کے نزدیک اللہ کو دل میں ماننا اور تنہائی میں اس سے مناجات کرنا اور جب کبھی موقع ملے تو چھپ کر اس کی بندگی بجا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
فہم القرآن
ربط کلام : حق ثابت ہونے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے غالب آنے کے باوجود چند نوجوانوں کے سوا باقی لوگ ایمان نہ لائے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات دیکھ کر ملک کے نامی گرامی صاحب علم لاکھوں کے مجمع میں ہزاروں کی تعداد میں بیک وقت ایمان لے آئے، یاد رہے اس وقت مصر میں جادو ہی ترقی یافتہ علم سمجھا جاتا تھا۔
حق ثابت ہونے اور جادوگروں کے ایمان لانے کے باوجود فرعون کے جورو استبداد اور دبدبہ کی وجہ سے چند نوجوانوں کے سوا باقی لوگ ایمان نہ لائے کیونکہ فرعون بہت ظلم کرنے والا تھا۔ فرعون نے اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے ایک دفعہ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں کا قتل عام شروع کیا۔…
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کا دلاسہ :
84: وَقَالَ مُوْسٰی یٰـقَوْمِ اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰہِ ( اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہو) اگر تم نے سچے دل سے تصدیق کی اور اسکی آیات پر یقین کیا۔ فَعَلَیْہِ تَوَکَّلُوْا (تو اس پر ہی بھروسہ کرو) فرعون سے حفاظت کیلئے اپنے معاملے کو اسی ہی کے سپرد کرو۔ اِنْ کُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ (اگر تم فرمانبردار ہو) اسلام میں توکل کی شرط ہے اور اسلام اس بات کا نام ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کریں۔ یعنی اپنے نفوس کو سالم و خالص اللہ تعالیٰ ہی کیلئے کردیں کہ اس میں نفس و شیطان کا قطعا ًحصہ نہ ہو۔ کیونکہ توکل ملاوٹ کے…
Read the full tafseer →تفسیر : 84” وقال موسیٰ “ اپنی قوم کے مؤمنین کو ” یام قوم ان کنتم امنتم باللہ فعلیہ توکلوا ان کنتم مسلمین “ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
84۔ 86۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے جو ایمان لا چکے تھے یہ کہا کہ جب تم ایمان لاچکے اور مسلمان ہوگئے تو اب خدا ہی پر بھروسہ کرو اور فرعون اور اس کے گروہ کا کوئی خوف نہ کرو ان لوگوں نے کہا کہ ہاں ہم نے خدا پر بھروسہ کرلیا اور پھر خدا سے دعا کی اے خدا ہم کو اس ظالم قوم کے فتنہ سے بچائیو اور ان کو ہم پر فتحیاب نہ کیجیو نہیں تو فرعون اور اس کی ساری قوم یہی کہیں گے کہ ہم ہی حق پر ہیں اور ایسی باتیں دل میں سوچ کر اور زبان سے کہہ کر یہ لوگ فتنہ میں پڑیں گے۔ مجاہد ؓ کا یہی قول ہے کہ ان لوگوں نے یہی دعا کی تھی کہ یا اللہ تو ان کو ہم پر غلبہ نہ دے اور اپنی رحمت سے اس ظالم قوم کے ظلم سے بچا کیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–93
آیت : ( 75-93)
(ثم بعثنا من بعدھم) ” پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا “ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ (موسیٰ ) اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو ‘ جو ایک اولو العزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کئے گئے۔ (وھرون) اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ (الی فرعون وملاۂ ) ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف “ یعنی فرعون ‘ اس کے اکابرین اور رؤسائے سلطنت کی طرف ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–87
حلال و حرام خدا کی طرف سے ہوگا
قول باری ہے قل ارایتم ما انزل اللہ لکم من رزق فعجلتم منہ حراما ً وحلا لا قل اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون ۔ اے نبی ؐ! ان سے کہو تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا ۔ اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حلال اور کسی کو حرام ٹھہرا لیا۔ ان سے پوچھو ” اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو “ اس آیت سے بعض دفعہ کند ذہن قسم کے ایسے لوگ قیاس کے ابطال پر استدلال کرتے ہیں جو اس کے جو از کے قائل نہیں ہیں اس لیے کہ انکے خیال میں قیاس کرنے والا اپنے قیاس کے ذریعے تحلیل و تحریم کرتا رہتا ہے لیکن ان کا یہ قول دراصل ان کی…
Read the full tafseer →143 ۔ ایمان کا تقاضا کہ بھروسہ اللہ ہی پر کیا جائے : سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم لوگ اللہ ہی پر بھروسہ کرو اگر تم لوگ واقعی ایماندار اور مسلمان ہو کہ اللہ پر ایمان و یقین اور اس کی فرمانبرداری کا لازمی تقاضا یہی ہے کہ مومن کا توکل اور بھروسہ اللہ وحدہ لاشریک ہی پر ہو۔ مگر آج کا کلمہ گو مشرک ہے کہ ایمان کا دعویدار بھی ہے اور بھروسہ بھی اس نے اللہ کی بجائے اس کی مخلوق میں سے طرح طرح کی بےحقیقت و بےجان چیزوں پر کر رکھا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ اور اس نے طرح طرح کی فرضی وہمی اور بےحقیقت و بےبنیاد چیزوں اور مردہ ہستیوں میں نفع و نقصان کے اختیارات فرض کر رکھے ہیں جس کی بناء پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–92
سیدنا موسیٰ کی تعلیم، قوم کی گمراہی، تباہی اور عبرت کا سامان
تشریح : ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون کا ذکر اس لحاظ سے کیا گیا ہے کہ کفار کو عبرت دلائی جائے۔ اس سے پہلے قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود بھی نافرمانی کی وجہ سے مختلف عذابوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔ ان آیات میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) ان کی قوم اور فرعون کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی توحید کا سبق دینے پر مامور کیا گیا تھا۔ آپ کی امت زیادہ تھی۔ آپ جہاد پر مامور ہوئے آپ کو حسن تدبر میں کمال حاصل تھا حضرت ہارون (علیہ السلام) آپ کے مددگار بنائے گئے۔ آپ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–92
آیات 83 تا 92
اسرار و معارف
فرعون کے مظالم سے خوفزدہ چندنوجوان ایمان سے مشرف ہوئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی اطاعت اختیار کی کہ فرعون روئے زمین پر بیحد ظالم انسان تھا اور حد سے بڑھ کر زیادتیاں کرتا تھا لہٰذا اس کا اور اس کے امرا کے مظالم کا خوف فطری بات تھی مگر نور ایمان کی تڑپ ان سب باتوں کے باوجود اپنا اثررکھتی ہے ۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ایمان تو اعتبارہی کا نام ہے جب اللہ سے ایمان نصیب ہواتو اسی پر بھروسہ رکھو ، جس کو بچاناچا ہے بھلافرعون اس کا کیا بگاڑلے گا۔
کام کا بیڑہ اٹھانے کے لئے مل کردعا کی جائے
چنانچہ سب نے کہا کہ ہم اللہ ہی پہ بھروسہ کرتے ہیں اور سب نے…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ اس آیت میں اللہ پر توکل کو ایمان اور اسلام کا لازمی نتیجہ قرار دیا گیا ہے جیسا کہ دوسری آیات میں ایمان اور توکل یا عبادت اور توکل کو ایک ساتھ بیان فرمایا ہے۔ (دیکھئے ہود آیت 32 سورة ملک آیت 92 اور سورة فاتحہ آیت 4) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
(10:84) یقوم۔ اے میری قوم۔ یہاں قوم سے مراد وہ نوجوان ہیں جو آیۃ ماقبل میں بالفاظ ذریۃ من قومہ مذکور ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 82
استکبروا (انہوں نے تکبر کیا، بڑائی کی) اجئتنا (کیا تو آیا ہے ہمارے پاس) لتلفتنا (تاکہ تو ہمیں ہٹا دے) الکبریاء (بڑائی، حکمرانی) ائتونی (آجائو، لے آئو، میرے پاس) القوا (تم ڈالو، تم پھینکو) سیطلہ (بہت جلد وہ اس کو برباد کر دے گا یحق (وہ ثابت کر دے گا) کرہ (برا سمجھا)
تشریح : آیت نمبر 75 تا 82
مشرکین عرب نے حضور اکرم ﷺ کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو حضرت نوح علیہ اسلام کی قوم نے ان کے ساتھ اور حضرت موسیٰ و حضرت ہارون کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم نے کیا تھا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین عرب کے سامنے ان انبیاء کرام کے واقعات اور جو سلوک ان کی قوم نے کیا تھا سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے جو ایمان لا چکے تھے، یہ کہا کہ جب تم ایمان لا چکے اور مسلمان ہوگئے تو اب خدا ہی پر بھروسہ کرو۔ اور فرعون اور اس کے گروہ کا کوئی خوف نہ کرو۔ ان لوگوں نے کہا کہ ہم نے خدا پر بھروسہ کرلیا اور پھر خدا سے دعا کی :" اے خدا ! ہم کو اس ظالم قوم کے فتنہ سے بچائیو، اور ان کو ہم پر فتح یاب نہ کیجیئو۔ ورنہ فرعون اور اس کی ساری قوم یہی کہے گی کہ ہم حق پر ہیں اور ایسی باتیں دل میں سوچ کر اور زبان سے کہہ کر یہ لوگ فتنہ میں پڑیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
[31] اصل میں لفظ '' ذرّیت '' استعمال ہوا ہے جس کے اصلی معنی کم سن اولاد کے ہیں لیکن نسل اور اولاد کے معنوں میں مطلقاً بھی بولا جاتا ہے۔ یہاں کیونکہ قوم کے ساتھ ذریت کا لفظ آیا ہے اس لئے ضروری ہے لفظی معنی میں آیا ہو، یعنی قوم بنی اسرائیل کے کم سن افراد۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب کبھی مقاصد و عزائم کی راہ میں شدائد و محن کا ساسمنا کرنا پڑتا ہے تو قوم کے بڑے بوڑھوں سے بہت کم امید کی جاسکتی ہے کیونکہ محکومی کی حالت میں رہتے رہتے وہ عافیت کوشی کے عادی ہوجاتے ہیں۔ البتہ نوجوانوں میں نیا دماغ، نیا خون اور نئی امنگیں ہوتی ہیں۔ وہ شدائد و محن سے مرعوب نہیں ہوتے۔ چناچہ وہی سب سے پہلے قدم اٹھاتے ہیں پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
(ف 1) باوجود کامیابی کے پھر بھی ابتدا چند ہی لوگ ایمان لائے کیونکہ ان کے دلوں میں فرعون کا ڈر بےطرح متمکن ہوچکا تھا ، صدیوں کی غلام قومیں جرات وجسارت سے محروم ہوجاتی ہیں ، اور اظہار حق کی قوت ان سے چھن جاتی ہے ، یہ عام قاعدہ ہے ، بنی اسرائیل بھی چار سو سال سے غلام چلے آرہے تھے اس لئے فرعون کے غلبہ سے طبعی طور پر مرعوب ومغلوب تھے ۔
Read the full tafseer →84 اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہو تو تم اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھو اور اسی پر توکل کرو بشرطیکہ تم صحیح مطیع اور فرمانبردار ہو یعنی فرعون اور اپنے حکام سے ڈرو نہیں غیر اللہ کا خوف سچے ایمان کے ساتھ جمع نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–84
ف 4۔ توکل کے لیے یہ لازم ہے کہ خلق پر نظر رہے طمعا یا خوفا پس یہ منافی دعاء کے نہیں۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) کا فرمان کہ اللہ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ تم اللہ پر بھروسہ کرو
116 ؎ فرعونیوں نے جب موسیٰ (علیہ السلام) کو نبی ماننے سے انکار کیا اور سوائے چند معدودے آیتوں کے جو گنتی کے آٹھ دس آدمی ہوتے تھے سب نے منہ پھیر دیا تو موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کو بھی نہایت بری طرح سے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ تو کثرت سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کو مان چکے تھے اگرچہ ان میں سے بعض آپ کا کھلا ساتھ دینے کیلئے تیار نہ تھے اور ایسے مصلحت اندیش لوگ ہر نبی کی قوم میں تھے جن کی پوزیشن درمیان ہی میں لٹکے ہوئوں کی ہوتی ہے اور وہ وہی لوگ تھے جو قوم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–86
It was said in the last verse (64) that, for the friends of Allah, there is the good news in the worldly life and in the Hereafter. As for the good news of the Hereafter, it will come at the time of death when the spirit of the deceased will be taken to Allah. At that time, he will hear the good news of Paradise being for him. Then, on the day of Qiyamah, when he rises from his grave, he will receive the good news of being welcome to Paradise. This is similar to what al-Tabarani has reported from Sayyidna Ibn ` Umar ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ said: ` People who recite: لا إلہ إلا اللہ…
Read the full tafseer →81. Such an address could, obviously, not be directed to a community of unbelievers. The Prophet Moses' statement makes it absolutely clear that the Israelites of those days were believers. Accordingly, Moses; (peace be on him) exhorted them not to be unnerved by Pharaoh's might, that they put their trust in God's power if indeed they were true believers as they claimed,
Read the full tafseer →