بزدلی ایمان کے درمیان دیوار بن گئی
ان زبردست روشن دلیلوں کے اور معجزوں کے باوجود حضرت موسیٰ ؑ پر بہت کم فرعونی ایمان لاسکے۔ کیونکہ ان کے دل میں فرعون کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ یہ خبیث رعب دبدبہ والا بھی تھا اور ترقی پر بھی تھا۔ حق ظاہر ہوگیا تھا لیکن کسی کو اس کی مخالفت کی جرت نہ تھی ہر ایک کا خوف تھا کہ اگر آج میں ایمان لے آیا تو کل اس کی سخت سزاؤں سے مجبور ہو کر دین حق چھوڑنا پڑے گا۔ پس بہت سے ایسے جانباز موحد جنہوں نے اس کی سلطنت اور سزا کی کوئی پرواہ نہ کی اور حق کے سامنے سر جھکا دیا۔ ان میں خصوصیت سے قابل ذکر فرعون کی بیوی تھی اس کی آل کا ایک اور شخص تھا ایک جو فرعون کا خزانچی تھا۔ اس کی…
Read the full tafseer →سورة یُوْنُس 78
متن میں لفظ ذُرِّیَّۃٌ استعمال ہوا ہے جس کے معنی اولاد کے ہیں۔ ہم نے اس کا ترجمہ ”نوجوان“ کیا ہے۔ مگر دراصل اس خاص لفظ کے استعمال سے جو بات قرآن مجید بیان کرنا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ اس پرخطر زمانے میں حق کا ساتھ دینے اور علمبردار حق کو اپنا رہنما تسلیم کرنے کی جرأت چند لڑکوں اور لڑکیوں نے تو کی مگر ماؤں اور باپوں اور قوم کے سن رسیدہ لوگوں کو اس کی توفیق نصیب نہ ہوئی۔ ان پر مصلحت پرستی اور دنیوی اغراض کی بندگی اور عافیت کوشی کچھ اس طرح چھائی رہی کہ وہ ایسے حق کا ساتھ دینے پر آمادہ نہ ہوئے جس کا راستہ ان کو خطرات سے پر نظر آرہا تھا، بلکہ وہ الٹے نوجوانوں ہی کو روکتے رہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
خلاصہ تفسیر
پس (جب عصا کا معجزہ ظاہر ہوا تو) موسیٰ ؑ پر (شروع شروع میں) ان کی قوم میں سے صرف قدرے قلیل آدمی ایمان لائے وہ بھی فرعون سے اور اپنے حکام سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں (ظاہر ہونے پر) ان کو تکلیف (نہ) پہنچاوے اور واقع میں (ڈرنا ان کا بےجا نہ تھا کیونکہ) فرعون اس ملک میں زور (سلطنت) رکھتا تھا اور یہ بھی بات تھی کہ وہ حد (انصاف) سے باہر ہوجاتا تھا (ظلم کرنے لگتا تھا پھر جو شخص حکومت کے ساتھ ظلم کرتا ہو اس سے تو ڈر لگتا ہی ہے) اور موسیٰ ؑ نے (جب ان کو خائف دیکھا تو ان سے) فرمایا اے میری قوم اگر تم (سچے دل سے) اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو (سوچ بچار مت کرو بلکہ) اسی پر توکل کرو اگر تم (اس کی) اطاعت…
Read the full tafseer →فَمَآ اٰمَنَ لِمُوْسٰٓى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰي خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕهِمْ اَنْ يَّفْتِنَھُمْ ۭ وَاِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِي الْاَرْضِ ۚ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِيْنَ۔
حضرت موسیٰ کے ابتدائی ساتھی : " ذریۃ " کا لفظ صرف قلت تعداد کو ظاہر نہیں کرتا، جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ حضرت موسیٰ پر ابتدائی ایمان لانے والے ان کی قوم کے اندر سے صرف تھوڑے سے نوجوان تھے۔ حضرات انبیاء کے معاملے میں سنت الٰہی یہی رہی ہے کہ شروع شروع میں ان کا ساتھ بالعموم نوجوانوں نے ہی دیا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ بھی اسی حقیقت کی شہادت دیتی ہے اور…
Read the full tafseer →83۔ 1 قومہ کے " ہ " ضمیر کے مرجع میں مفسرین کا اختلاف ہے، بعض نے اس کا مرجع حضرت موسیٰ ؑ کو قرار دیا ہے۔ کیونکہ آیت میں ضمیر سے پہلے انہی کا ذکر ہے یعنی فرعون کی قوم میں سے تھوڑے سے لوگ ایمان لائے، ان کی دلیل یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے لوگ تو ایک رسول اور نجات دہندہ کے انتظار میں تھے جو حضرت موسیٰ ؑ کی صورت میں انھیں مل گئے اور اس اعتبار سے سارے بنی اسرائیل (سوائے قارون کے) ان پر ایمان رکھتے تھے۔ اس لئے صحیح بات یہی ہے کہ (ذُ رِیَّۃُ مِنْ قَوْمِہٖ) سے مراد، فرعون کی قوم سے تھوڑے سے لوگ ہیں، جو حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لائے۔ انھیں میں سے اس کی بیوی (حضرت آسیہ) بھی ہیں۔
83۔ 2 قرآن کریم کی یہ صراحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
33: شروع میں حضرت موسیٰ ؑ پر بنو اسرائیل کے کچھ نوجوان ایمان لائے تھے۔ اور وہ بھی فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ڈرتے، اور فرعون کے سرداروں کو ان نوجوانوں کا سردار اس لیے کہا گیا ہے کہ عملاً وہ ان کے حاکم تھے۔
Read the full tafseer →فلما امن لموسی پس موسیٰ کی تصدیق نہیں کی (باوجودیکہ انہوں نے جادوگروں کے جادو کو نابود کردیا ‘ اور صداقت کی نشانیاں پیش کیں) ۔
الا ذریۃ من قومہ مگر موسیٰ کی قوم کے تھوڑے آدمیوں نے۔ مِنْ قَوْمِہٖ کی ضمیر بعض اہل تفسیر کے نزدیک حضرت موسیٰ کی طرف راجع ہے ‘ یعنی صرف وہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ پر ایمان لائے جو مصر میں رہتے تھے اور مصر سے نکلنے کے وقت حضرت موسیٰ کے ساتھ تھے (قبطی ایمان نہ لائے) ۔
مجاہد نے کہا : ایمان لانے والے ان اسرائیلیوں کی اولاد تھے جن کی ہدایت کیلئے حضرت موسیٰ کو بھیجا گیا تھا۔ آباء کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے باقی رہے تھے۔ ذریت سے یہی لوگ مراد ہیں۔
بعض علماء نے کہا : جب فرعون نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
2 " بنی اسرائیل " فرعونیوں کے ہاتھوں سخت مصیبت اور ذلت اٹھا رہے تھے اور پرانی پیشین گوئیوں کے مطابق منتظر تھے کہ فرعون کے مظالم کا خاتمہ کرنے اور اس کی سلطنت کا تختہ الٹنے والا " اسرائیلی " پیغمبر مبعوث ہو۔ موسیٰ (علیہ السلام) ٹھیک اسی شان سے تشریف لائے جس کا انھیں انتظار تھا۔ اس لیے تمام " بنی اسرائیل " قدرتی طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کو نعمت عظمی سمجھتے تھے، وہ دل سے حضرت موسیٰ کو سچا جانتے اور ان کی عزت کرتے تھے۔ مگر اکثر آدمی فرعونی سرداروں سے خوفزدہ تھے، اسی لیے ابتداء میں شرعی طور پر ایمان نہیں لائے وقت کے منتظر رہے کہ جس وقت حق کا غلبہ ہوگا مسلمان ہوجائیں گے۔ بنی اسرائیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
عَلٰی خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَمَلاَءِہِمْ اَنْ یَّفْتِنَہُمْ
اس وقت مصر پر قبطی قوم حکمران تھی ‘ جسے قرآن نے ”آل فرعون“ کہا ہے اور اسرائیلی ان کے محکوم تھے۔ حضرت موسیٰ اپنی قوم بنی اسرائیل کی آزادی کے علمبردار تھے ‘ لیکن اس کے باوجود بنی اسرائیل میں سے بھی صرف چند نوجوان لڑکوں نے ہی آپ کی دعوت پر لبیک کہا تھا۔ دراصل غلام ہونے کی وجہ سے وہ لوگ فرعون اور اس کے سرداروں کے مظالم سے خوف زدہ تھے۔ عام طور پر ہر محکوم قوم کے ساتھ اسی طرح ہوتا ہے کہ اس کے کچھ لوگ اپنی قوم سے غداری کر کے حکمرانوں سے مل جاتے ہیں اور حکمران انہیں مراعات اور خطابات سے نواز کر ان کی وفاداریاں خرید لیتے ہیں۔ چناچہ بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
94 ذریت کے معنی نوجوان جرأ تمند نسل :۔ لفظ ذریت کا لغوی معنی اولاد ہے اور یہاں ذریت سے مراد بنی اسرائیل کی نوجوان نسل ہے ان نوجوانوں میں سے بھی چند آدمیوں نے ہمت کرکے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا اعلان کردیا ورنہ بڑے بوڑھے لوگ تو فرعون کی چیرہ دستیوں سے اس قدر خائف تھے کہ دل سے ایمان لانے کے باوجود اپنے ایمان کا اظہار کرنے میں اپنی موت سمجھتے تھے۔ طویل مدت کی غلامی، بڑھاپے کی کمزوری اور فرعون کے مظالم نے انھیں اتنا پست ہمت بنادیا تھا کہ وہ اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہوئے بھی ڈرتے تھے۔ جادوگروں کے ایمان لانے کے بعد بنی اسرائیل کے یہ چند نوجوان ہی اتنے دلیر ثابت ہوئے کہ انہوں نے پیش…
Read the full tafseer →122۔ (اس لئے لوگوں کا اتنا ڈر بےجا تھا بھی نہیں) (آیت) ” فما امن لموسی “۔ امن “۔ امن کا صلہ یہاں بجائے ب کے ل (مکسور) کے ساتھ آرہا ہے۔ معنی یہ ہے کہ آپ (علیہ السلام) کی بات کی تصدیق نہ کی۔ (آیت) ” ذریۃ “۔ یہاں قلت عدد کے اظہار کے لئے ہے۔ جیسے اردو میں کہتے ہیں کہ بس مٹھی بھر لوگ۔ ھھنا معناھا تقلیل العدد (کبیر) ابن عباس ؓ کا قول منقول ہوا ہے کہ یہ لفظ جب کسی قوم پر بولا جاتا ہے تو مقصود اس کی تحقیر یا تصغیر ہوتی ہے۔ قال ابن عباس لفظ الذریۃ یعبر بہ عن القوم علی وجہ التحقیر والتصغیر (کبیر) اور چونکہ یہاں تحقیر کا کوئی قرینہ ہے نہیں، اس لئے مقصود تصغیر عددی ہی ہے۔ (آیت) ” من قومہ “۔ کی ضمیر نے دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–92
آیت نمبر 83 تا 92
ترجمہ : فرعون کی قوم کے نوجوانوں میں سے ایک مٹھی بھر نوجوانوں کے علاوہ کسی نے فرعون اور اپنے سرداروں کے خوف کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کی بات نہیں مانی کہ وہ ان کو تکلیف دیکر ان کے دین سے پھیر دیں گے اور اس میں شک نہیں کہ فرعون ملک مصر میں (زور وتکبر میں) بہت چڑھا ہوا تھا، اور وہ تھا ہی دعوائے ربوبیت کرکے حد سے تجاوز کرنے والوں میں اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو اگر تم فرمانبردار ہو، انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا اے ہمارے پروردگار تو ہم کو ظالموں کے لئے تختہ مشق نہ بنا یعنی تو ان کو ہم پر…
Read the full tafseer →فلما امن لموسی پس موسیٰ کی تصدیق نہیں کی (باوجودیکہ انہوں نے جادوگروں کے جادو کو نابود کردیا ‘ اور صداقت کی نشانیاں پیش کیں) ۔
الا ذریۃ من قومہ مگر موسیٰ کی قوم کے تھوڑے آدمیوں نے۔ مِنْ قَوْمِہٖ کی ضمیر بعض اہل تفسیر کے نزدیک حضرت موسیٰ کی طرف راجع ہے ‘ یعنی صرف وہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ پر ایمان لائے جو مصر میں رہتے تھے اور مصر سے نکلنے کے وقت حضرت موسیٰ کے ساتھ تھے (قبطی ایمان نہ لائے) ۔
مجاہد نے کہا : ایمان لانے والے ان اسرائیلیوں کی اولاد تھے جن کی ہدایت کیلئے حضرت موسیٰ کو بھیجا گیا تھا۔ آباء کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے باقی رہے تھے۔ ذریت سے یہی لوگ مراد ہیں۔
بعض علماء نے کہا : جب فرعون نے…
Read the full tafseer →(83) حضرت موسیٰ ؑ جس چیز کو لے کر آئے تھے، اس پر فرعون کی قوم میں تھوڑے آدمی جن کے آباء و اجداد قبطی اور ان کی مائیں بنی اسرائیل سے تھیں، موسیٰ ؑ پر ایمان لائے، وہ بھی فرعون سے اور اپنے حکام سے ڈرے رہے کہ کہیں ان کو قتل نہ کردے اور واقعی فرعون دین موسوی کا سخت مخالف اور مشرکوں کا دوست اور ساتھی تھا۔
Read the full tafseer →فَمَآ اٰمَنَ لِمُوْسٰٓى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ۔۔ : اتنے واضح معجزات دیکھنے اور جادوگروں کی شکست اور ان کے ایمان لانے کے باوجود موسیٰ ؑ پر اس کی قوم کے چند لڑکوں کے سوا کوئی ایمان نہ لایا۔ یہاں ”اس کی قوم“ سے کس کی قوم مراد ہے ؟ ابن جریر طبری ؓ کی رائے یہ ہے کہ موسیٰ ؑ کی اپنی قوم بنی اسرائیل کے چند لڑکے لڑکیوں کے سوا کوئی ایمان نہ لایا، وہ بھی فرعون اور اپنے یعنی بنی اسرائیل کے سرداروں کے خوف کے ہوتے ہوئے جو فرعون کے ایجنٹ تھے کہ وہ انھیں ایمان سے ہٹانے کے لیے آزمائشوں اور مصیبتوں میں ڈالیں گے۔ اس تفسیر کا نتیجہ تو یہی ہے کہ فرعون کی قوم میں سے جادوگروں کے سوا اور بنی اسرائیل میں سے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 83
قولہ تعالیٰ : (آیت) فمآامن لموسی الا ذریۃ من قومہ اس میں ہاضمیر موسیٰ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ حضرت مجاہد۔ نے کہا ہے : یعنی ان میں سے کوئی ایمان نہ لایا، بلاشبہ بنی اسرائیل میں سے ان کی اولاد ایمان لائی جن کی طرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجا گیا تھا، طویل وقت گزر گیا آبا و اجداد ہلاک ہوگئے اور بیٹے باقی رہے پس وہ ایمان لائے (1) (تفسیر طبری، سورة یونس، جلد 11، صفحہ 172 (مفہوم ) ۔ اور یہ علامہ طبری کی پسند ہے اور ذریت سے مراد انسان کے پیچھے آنے والی نسل ہے اور کبھی یہ کثیر ہوتی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ذریت سے بنی اسرائیل کے مومن مراد لیے ہیں۔ اور حضرت ابن عباس ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم و ابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فما امن لموسی الا ذریۃ من قومہ “ یعنی ان کی تھوڑی اولاد موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائی۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ذریۃ من قومہ “ یعنی بنی اسرائیل میں۔
3:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فما امن لموسی الا ذریۃ من قومہ “ ان کی اولاد موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائی جس کے طرف آپ کو لمبے زمانہ تک بھیجا گیا تھا اور ان کے آباؤ اجداد مرچکے تھے۔
4:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ…
Read the full tafseer →فَمَآاٰمَنَ [ پس بات نہیں مانی ] لِمُوْسٰٓى [ موسیٰ کی ] اِلَّا [ مگر ] ذُرِّيَّةٌ [ کچھ اولاد (یعنی نوجوانوں ) نے ] مِّنْ قَوْمِهٖ [ ان کی قوم میں سے ] عَلٰي خَوْفٍ [ ایسے خوف کے باوجود ] مِّنْ فِرْعَوْنَ [ فرعون سے ] وَمَلَا۟ىِٕهِمْ [ اور ان کے سرداروں سے ] اَنْ [ کہ ] يَّفْتِنَھُمْ ۭ [ وہ آزمائش میں ڈالیں ان کو ] وَاِنَّ [ اور بیشک ] فِرْعَوْنَ [ فرعون ] لَعَالٍ [ یقینا سرکشی کرنے والا ہے ] فِي الْاَرْضِ ۚ [ زمین میں ] وَاِنَّهٗ [ اور بیشک وہ ] لَمِنَ الْمُسْرِفِيْنَ [ یقینا حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–86
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کی طرف مبعوث ہونا اور ان کے مقابلہ میں جادوگروں کا شکست کھانا
ان آیات میں اول تو اجمالی طور پر ان پیغمبروں کی آمد اور تبلیغ اور قوموں کی تکذیب کا حال بیان فرمایا جو حضرت نوح اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے درمیان تھے۔ جب لوگوں کے پاس حق آیا تو پہلے سے جس کفر پر جمے ہوئے تھے اسی پر جمے رہے اور حق کو قبول نہ کیا ان لوگوں کے عناد کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ لہٰذا حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہ رہی۔
اس کے بعد حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کی بعثت کا تذکرہ فرمایا کہ ان دونوں کو ہم نے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی طرف بھیجا جو ہماری آیات و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
اسباب نجات از فرعون وقوم او
قال اللہ تعالیٰ ٰ فما امن لموسی الا ذریۃ من قومہ۔۔۔ الی۔۔۔ وبشر ال مومن ین
پس باوجود ان زبردست معجزات دیکھنے کے بھی ابتداء میں موسیٰ پر سوائے چند آدمیوں کے جو اس کی قوم سے تھے کوئی ایمان نہ لایا یعنی شروع شروع میں جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے مصر آئے اور حق کی دعوت دینے لگے تو اس وقت ان کی قوم میں سے قدر قلیل لوگ ان پر ایمان لائے اور وہ بھی فرعون اور اپنے سرداروں سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں مبادا فرعون ان کے ایمان کی خبر پا کر ان کو مبتلائے مصیبت نہ کردے یعنی جو قدرے قلیل لوگ موسیٰ (علیہ السلام) پر ابتداء میں ایمان لائے وہ فرعون اور اپنے سرداروں سے ڈرتے ڈرتے ایمان لائے…
Read the full tafseer →99:“ مِنْ قَوْمِهٖ ” کی ضمیر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ فرعون اور اس کی قوم اسرائیلیوں کو ایذائین دیتے تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت بنی اسرائیل کے لیے فرعون کی غلامی سے نجات کا پیغام بھی اپنے اندر رکھتی تھی اس لیے وہ دل سے ان کے حامی تے مگر فرعون اور اس کی قوم کے ڈر سے وہ علانیہ ان کی حمایت نہیں کرسکتے تھے مگر اس کے باوجود کچھ نوجوانوں نے ہمت کر کے ایمان کا اظہار کردیا اور علانیہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دین پر آگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
ربط آیات
سرکش لوگوں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا حال بیان کیا۔ پھر موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کے مخالفین اور متکبرین فرعون اور اس کی قوم کا ذکر کیا۔ دراصل یہ مشرکین عرب اور ان کے بعد آنے والوں کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ اگر وہ بھی سابقہ اقوام کی طرح غرور اور تکبر کو اختیار کریں گے ، حق کے خلاف بغاوت کریں گے تو ان کا انجام بھی فرعون اور اس کے سرداروں سے مختلف نہیں ہوگا۔ فرعون کا واقعہ مختصرا پہلے بیان ہوچکا ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سامنے خدا تعالیٰ کا پیغام پیش کیا تو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے اسے سحر کہہ کر رد کردیا ، اور…
Read the full tafseer →فَمَآ اٰمَنَ لِمُوْسٰٓى اِلَّا ذُرِّيَّۃٌ مِّنْ قَوْمِہٖ عَلٰي خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕہِمْ اَنْ يَّفْتِنَھُمْ 0 ۭ وَاِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِي الْاَرْضِ 0 ۚ وَاِنَّہٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِيْنَ 83
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–89
1 ؎ یعنی تیری اور تیرے بھائی ہارون کی 12 منہ
Read the full tafseer →فَمَآ اٰمَنَ لِمُوْسٰٓی اِلاَّ ذُرِّیَّۃٌ مِّنْ قَوْمِہٖ عَلٰی خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَمَلَا ْ ئِہِمْ اَنْ یَّفْتِنَھُمْ ط وَاِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ ج وَاِنَّہٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ ۔ (یونس : 83)
(پس بات نہ مانی موسیٰ (علیہ السلام) کی مگر اس کی قوم کے تھوڑے سے لوگوں نے ڈرتے ہوئے فرعون اور خود اپنی قوم کے سربرآوردہ لوگوں کے ڈر سے۔ ایسا نہ ہو کہ فرعون ان کو کسی فتنہ میں ڈال دے اور بیشک فرعون زمین میں غالب تھا اور وہ حد سے بڑھ جانے والوں میں سے تھا۔ )
اس آیت کریمہ میں سلسلہ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے چند ایسے اشارات فرمائے گئے ہیں جو اگر ایک طرف نبی کریم ﷺ اور آپ کے متبعین میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
فہم القرآن
ربط کلام : حق ثابت ہونے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے غالب آنے کے باوجود چند نوجوانوں کے سوا باقی لوگ ایمان نہ لائے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات دیکھ کر ملک کے نامی گرامی صاحب علم لاکھوں کے مجمع میں ہزاروں کی تعداد میں بیک وقت ایمان لے آئے، یاد رہے اس وقت مصر میں جادو ہی ترقی یافتہ علم سمجھا جاتا تھا۔
حق ثابت ہونے اور جادوگروں کے ایمان لانے کے باوجود فرعون کے جورو استبداد اور دبدبہ کی وجہ سے چند نوجوانوں کے سوا باقی لوگ ایمان نہ لائے کیونکہ فرعون بہت ظلم کرنے والا تھا۔ فرعون نے اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے ایک دفعہ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں کا قتل عام شروع کیا۔…
Read the full tafseer →قومہ کی ضمیر کا مرجع :
83: فَمَآ اٰمَنَ لِمُوْسٰٓی (پس ایمان نہ لائے موسیٰ پر) ان کے ابتداء بعثت میں اِلَّا ذُرِّیَّۃٌ مِّنْ قَوْمِہٖ عَلٰی خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ (مگر ان کی قوم میں سے بعض اولاد، فرعون کے خطرے کے باوجود) مگر ایک جماعت جنکا تعلق اولاد بنی اسرائیل سے تھا۔ گویا تقدیر کلام یہ ہے الا اولاد من اولاد قومہ مگر کچھ اولاد ان کی قوم کی اولاد میں سے۔ اور اس کا واقعہ یہ ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے بڑوں کو بلایا تو انہوں نے فرعون کے خوف کی وجہ سے کوئی جواب نہ دیا۔ مگر نوجوانوں کی ایک جماعت نے فرعونی خوف کے باوجود آپ کی دعوت پر لبیک کہی (اس قومہٖ کا مرجع موسیٰ علیہ السلام) نمبر 2۔…
Read the full tafseer →83۔ ” فما امن الموسیٰ “ موسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق نہیں ۔ ان آیات کے باوجود جو ہم نے ان کو دی تھیں ۔ ” الا ذریۃ من قومہ “ قومہ کی ھاء کے مرجمع میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف لوٹ رہی ہے اور اس سے بنی اسرائیل کے وہ مؤمنین مراد ہیں جو مصر میں تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ وہاں سے نکلے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ان لوگوں کی اولادیں تھیں جن کی طرف موسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا گیا تھا آباء ہلاک ہوگئے اور اولاد باقی رہ گئی اور دیگر حضرات نے کہا ہے کہ قومہ کی ھاء فرعون کی طرف لوٹ رہی ہے۔ عطیہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ فرعون کی قوم کے چند لوگ ایمان…
Read the full tafseer →83۔ آنحضرت ﷺ کو اس بات کا بھی رنج رہتا تھا کہ نبی ہونے کے بعد تیرہ برس آپ مکہ میں رہے اور صرف کچھ کم سو آدمی مسلمان ہوئے آپ چاہتے تھے کہ اسلام جلدی جلدی زور پکڑے اور جھٹ پٹ مسلمانوں کی ایک بڑی سی جماعت قائم ہوجاوے اللہ تعالیٰ نے اس قصہ سے آپ کی تسکین فرمائی کہ یہ کچھ رنج کرنے کی بات نہیں ہے منکروں کے دل بڑی مشکل سے پھرتے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا ایسا بڑا معجزہ قبطیوں نے دیکھا کہ جادوگر سب ہار گئے مگر قبطیوں میں سے چند ہی آدمی مسلمان ہوئے اگرچہ بعضے مفسروں نے آیت کے یہ معنے کئے ہیں کہ بنی اسرائیل میں سے تھوڑے لوگ مسلمان ہوئے اور حافظ ابو جعفر ابن جریر ؓ نے اپنی تفسیر میں ان ہی معنوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–93
آیت : ( 75-93)
(ثم بعثنا من بعدھم) ” پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا “ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ (موسیٰ ) اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو ‘ جو ایک اولو العزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کئے گئے۔ (وھرون) اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ (الی فرعون وملاۂ ) ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف “ یعنی فرعون ‘ اس کے اکابرین اور رؤسائے سلطنت کی طرف ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–87
حلال و حرام خدا کی طرف سے ہوگا
قول باری ہے قل ارایتم ما انزل اللہ لکم من رزق فعجلتم منہ حراما ً وحلا لا قل اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون ۔ اے نبی ؐ! ان سے کہو تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا ۔ اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حلال اور کسی کو حرام ٹھہرا لیا۔ ان سے پوچھو ” اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو “ اس آیت سے بعض دفعہ کند ذہن قسم کے ایسے لوگ قیاس کے ابطال پر استدلال کرتے ہیں جو اس کے جو از کے قائل نہیں ہیں اس لیے کہ انکے خیال میں قیاس کرنے والا اپنے قیاس کے ذریعے تحلیل و تحریم کرتا رہتا ہے لیکن ان کا یہ قول دراصل ان کی…
Read the full tafseer →138 ۔ پھر بھی ان کی قوم کے کچھ ہی لوگ ایمان لائے : یعنی حق کی اس قدر توضیح کے باوجود ان کی قوم کے کچھ ہی لوگ ایمان لائے۔ یہاں پر (قومہ) کی ضمیر مجرور کے مرجع میں دو احتمال ہیں۔ راجح قول کے مطابق جو کہ جمہور کا قول ہے اور جس کو ابن جریر نے اختیار کیا ہے (قومہ) کی ضمیر کا مرجع حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں کہ وہی اقرب مذکور ہیں۔ اور آپ کی قوم اگرچہ نبیوں کی اولاد میں سے تھی اور وہ فی الجملہ ایمان بھی رکھتی تھی مگر انہوں نے چونکہ آسمانی کتابوں اور اپنے نبیوں کی تعلیمات میں طرح طرح سے تاویلات و تحریفات کرکے ان کو بدل دیا تھا اور انہوں نے اپنے ایمان و عقائد میں طرح طرح کی شرکیات کی آمیزش کردی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–92
سیدنا موسیٰ کی تعلیم، قوم کی گمراہی، تباہی اور عبرت کا سامان
تشریح : ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون کا ذکر اس لحاظ سے کیا گیا ہے کہ کفار کو عبرت دلائی جائے۔ اس سے پہلے قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود بھی نافرمانی کی وجہ سے مختلف عذابوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔ ان آیات میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) ان کی قوم اور فرعون کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی توحید کا سبق دینے پر مامور کیا گیا تھا۔ آپ کی امت زیادہ تھی۔ آپ جہاد پر مامور ہوئے آپ کو حسن تدبر میں کمال حاصل تھا حضرت ہارون (علیہ السلام) آپ کے مددگار بنائے گئے۔ آپ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–92
آیات 83 تا 92
اسرار و معارف
فرعون کے مظالم سے خوفزدہ چندنوجوان ایمان سے مشرف ہوئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی اطاعت اختیار کی کہ فرعون روئے زمین پر بیحد ظالم انسان تھا اور حد سے بڑھ کر زیادتیاں کرتا تھا لہٰذا اس کا اور اس کے امرا کے مظالم کا خوف فطری بات تھی مگر نور ایمان کی تڑپ ان سب باتوں کے باوجود اپنا اثررکھتی ہے ۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ایمان تو اعتبارہی کا نام ہے جب اللہ سے ایمان نصیب ہواتو اسی پر بھروسہ رکھو ، جس کو بچاناچا ہے بھلافرعون اس کا کیا بگاڑلے گا۔
کام کا بیڑہ اٹھانے کے لئے مل کردعا کی جائے
چنانچہ سب نے کہا کہ ہم اللہ ہی پہ بھروسہ کرتے ہیں اور سب نے…
Read the full tafseer →ف 3 ۔ اکثر مفسرین (رح) نے آیت کا یہی مطلب بیان کیا ہے اور ابن جریر نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے ان حضرات کا کہنا ہے کہ یہ کیفیت ابتدائی دور کی ہے۔ بعد میں تو قارون کیس وا سب بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے تھے۔ ” ملئھم “ میں ھم کی ضمیر جمع ہے۔ اس کا مرجع یا تع فرعون ہے (جیسا کہ ترجمہ میں ہے) کیونکہ مصری لوگ فرعون کے لئے بطور تعظیم جمع کی ضمیر استعمال کرتے تھے یا اس کر مرجع بنی اسرائیل کے سردار ہیں۔ یعنی بنی اسرائیل ( علیہ السلام) میں سے جو نوجوان ایمان لائے انہیں ایک طرف فرعون کا ڈر تھا اور دوسری طرف خود اپنے سرداروں کا لیکن حافظ ابن کثیر نے آیات کے اس مطلب کی سخت تردید کی ہے۔ ان…
Read the full tafseer →فما امن۔ ما نافیہ ہے اور امن۔ ایمان سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔
ذریۃ۔ الذریۃ کے اصل معنی چھوٹی اولاد کے ہیں۔ مگر عرف عام میں مطلق اولاد پر یہ لفاظ بولا جاتا ہے اصل میں یہ لفظ جمع ہے لیکن واحد اور جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ کس مادہ سے مشتق ہے اس میں علمائے لغت کا اختلاف ہے۔ ذرر۔ ذرء ۔ ذرو اس کے مصادر بیان کئے گئے ہیں۔ یہاں ذریۃ سے مراد چھوٹی اولاد (نوجوان) لیا گیا ہے۔ اس کی چند وجوہات ہیں۔
بالکل چھوٹے بچوں کا ایمان لانا نہ لانا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ کیونکہ وہ اتنا شعور ہی نہیں رکھتے ۔ نوجوان اس لئے یہاں مراد لیا گیا ہے کہ ان کے اس فعل سے جو دوسری جانب سے ظلم و ستم و عذاب و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 82
استکبروا (انہوں نے تکبر کیا، بڑائی کی) اجئتنا (کیا تو آیا ہے ہمارے پاس) لتلفتنا (تاکہ تو ہمیں ہٹا دے) الکبریاء (بڑائی، حکمرانی) ائتونی (آجائو، لے آئو، میرے پاس) القوا (تم ڈالو، تم پھینکو) سیطلہ (بہت جلد وہ اس کو برباد کر دے گا یحق (وہ ثابت کر دے گا) کرہ (برا سمجھا)
تشریح : آیت نمبر 75 تا 82
مشرکین عرب نے حضور اکرم ﷺ کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو حضرت نوح علیہ اسلام کی قوم نے ان کے ساتھ اور حضرت موسیٰ و حضرت ہارون کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم نے کیا تھا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین عرب کے سامنے ان انبیاء کرام کے واقعات اور جو سلوک ان کی قوم نے کیا تھا سامنے…
Read the full tafseer →آحضرت ﷺ کو اس بات کا بھی رنج رہتا تھا کہ نبی ہونے کے بعد تیرہ برس آپ مکہ میں رہے، اور مکہ میں کچھ کم سو آدمی مسلمان ہوئے۔ آپ چاہتے تھے کہ اسلام جلدی جلدی زور پکڑے اور جھٹ پٹ مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت قائم ہوجاوے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ سے آپ کی تسکین فرمائی کہ یہ رنج کرنے کی بات نہیں ہے، منکروں کے دل بڑی مشکل سے پھرتے ہیں، موسیٰ (علیہ السلام) کا ایسا بڑا معجزہ قبطیوں نے دیکھا کہ جادوگر سب ہار گئے مگر قبطیوں میں سے چند ہی آدمی مسلمان ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
[31] اصل میں لفظ '' ذرّیت '' استعمال ہوا ہے جس کے اصلی معنی کم سن اولاد کے ہیں لیکن نسل اور اولاد کے معنوں میں مطلقاً بھی بولا جاتا ہے۔ یہاں کیونکہ قوم کے ساتھ ذریت کا لفظ آیا ہے اس لئے ضروری ہے لفظی معنی میں آیا ہو، یعنی قوم بنی اسرائیل کے کم سن افراد۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب کبھی مقاصد و عزائم کی راہ میں شدائد و محن کا ساسمنا کرنا پڑتا ہے تو قوم کے بڑے بوڑھوں سے بہت کم امید کی جاسکتی ہے کیونکہ محکومی کی حالت میں رہتے رہتے وہ عافیت کوشی کے عادی ہوجاتے ہیں۔ البتہ نوجوانوں میں نیا دماغ، نیا خون اور نئی امنگیں ہوتی ہیں۔ وہ شدائد و محن سے مرعوب نہیں ہوتے۔ چناچہ وہی سب سے پہلے قدم اٹھاتے ہیں پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
(ف 1) باوجود کامیابی کے پھر بھی ابتدا چند ہی لوگ ایمان لائے کیونکہ ان کے دلوں میں فرعون کا ڈر بےطرح متمکن ہوچکا تھا ، صدیوں کی غلام قومیں جرات وجسارت سے محروم ہوجاتی ہیں ، اور اظہار حق کی قوت ان سے چھن جاتی ہے ، یہ عام قاعدہ ہے ، بنی اسرائیل بھی چار سو سال سے غلام چلے آرہے تھے اس لئے فرعون کے غلبہ سے طبعی طور پر مرعوب ومغلوب تھے ۔
Read the full tafseer →83 بایں ہمہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ان کی قوم کے چند نوجوانوں کے سوا اور کوئی ایمان نہیں لایا وہ بھی فرعون سے اور اپنے احکام سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں فرعون ان کو کسی بلا اور مصیبت میں نہ ڈال دے اور کوئی تکلیف نہ پہنچا دے کیونکہ فرعون اس ملک میں زور والا اور غلبہ والا تھا اور یہ بات بھی تھی کہ وہ انصاف کی حد سے آگے نکل جانیوالوں میں سے تھا یعنی باوجود جادوگروں کی شکست کے پھر بھی بہت تھوڑے اور قدرے قلیل لوگ فرعون کے ڈر سے موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے ذریۃ کے معنی بعض نے نوجوان اور بعض نے تھوڑے سے لوگ کئے ہیں بہرحال ! فرعون ایک ظالم اور ناانصاف بادشاہ تھا اور اس کے حکام اس کو خوش کرنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–84
ف 4۔ توکل کے لیے یہ لازم ہے کہ خلق پر نظر رہے طمعا یا خوفا پس یہ منافی دعاء کے نہیں۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) پر آپ کی قوم کو صرف ایک نوجوان گروہ ہی ایمان لایا تھا
115 ؎ وہ لوگ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی اپنی قوم یعنی قوم بنی اسرائیل سے ایمان لائے تھے وہ وہی تھے جن کو ” ذریۃ من قومہ “ سے تعبیر فرمایا ہے۔ ” ذریۃ “ کے اصلی معنی تو کم سن اولاد کے ہوتے ہیں لیکن نسل و اولاد کے معنوں میں مطلقاً بھی بولا جاتا ہے اس جگہ چونکہ قوم کے ساتھ ذریت کا لفظ آیا ہے اس لئے کہ لغوی معنوں ہی میں آیا ہو یعنی قوم بنی اسرائیل کے کم سن افراد اور اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جب کبھی مقاصد و عزائم کی راہ میں شوائد و محن کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو قوم کے بڑے بوڑھوں سے بہت کم امید کی جاسکتی ہے۔ زیادہ تر نئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–86
It was said in the last verse (64) that, for the friends of Allah, there is the good news in the worldly life and in the Hereafter. As for the good news of the Hereafter, it will come at the time of death when the spirit of the deceased will be taken to Allah. At that time, he will hear the good news of Paradise being for him. Then, on the day of Qiyamah, when he rises from his grave, he will receive the good news of being welcome to Paradise. This is similar to what al-Tabarani has reported from Sayyidna Ibn ` Umar ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ said: ` People who recite: لا إلہ إلا اللہ…
Read the full tafseer →78. The word dhurriyah used in this verse literally means 'offspring'. We have, however, rendered this into English as 'a few youths'. We have preferred this translation because the Qur'an employed this particular expression so as to convey the idea that it was a few youths - male and female - who had the courage of their convictions to embrace and champion the truth in those perilous times whereas their parents and the more elderly members of the community were unable to do so. The older segment of the population was too deeply concerned with its materialistic interests, too engrossed in…
Read the full tafseer →